64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ہادیہ فریش ہونے کے بعد اپنے باپ کا کھانا لے کر مسکراتی ہوئی باپ کے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔ کیسے ہیں آپ ابا اور کیسا گزرا آپکا آج کا دن۔۔۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ چہکتے ہوئے شروع ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ سارے دن میں صرف تب ہی انہیں اپنے کمرے میں رونق نظر آتی جب ہادیہ انکے کمرے میں آتی کچھ وہ اپنی سناتی کچھ ان سے انکی آج کے دن کے بارے میں سنتی۔۔۔۔ وہ نم آنکھوں سے ہادیہ کو دیکھے گئے۔۔۔۔ اس نے سب سے پہلے کھانا پاس پڑی تپائی پر رکھا اور خود انکے پاس کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ۔۔۔۔۔ بیٹا میں نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے۔۔۔۔۔ وہ جھجھکتے ہوئے بولے۔۔۔۔ جی ابا میں جانتی ہوں۔۔۔۔ ہادیہ کی مسکراہٹ سے انہیں کچھ حوصلہ ملا تھا۔۔۔۔ بیٹا دیکھو میں باپ ہوں تمہارا۔۔۔۔ ماضی میں مجھ سے تمہارے حوالے سے جو بھی غلطیاں ہوئی ہوں پر میں تمہارا برا نہیں چاہ سکتا۔۔۔ وہ اپنی اصل بات پر آنے کے لئے تمہید باندھ رہے تھے۔۔۔۔ بیٹا اس وقت مجھے تمہارے لئے جو سب سے مناسب فیصلہ لگا میں نے وہ تمہارے لئے لیا۔۔۔۔ پتہ نہیں میرا فیصلہ درست ہے یا نہیں پر میں تمہیں اب تمہارے گھر کی ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ جانتا ہوں کہ یہ رشتہ۔۔۔۔ ابا کیا ہو گیا ہے آپکو۔۔۔۔ بات کرتے کرتے انکی آواز بھرانے لگی تھی۔۔۔۔ تبھی ہادیہ نے انکی بات کاٹے ہوئے محبت سے انکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں عقیدت سے پکڑے۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ آپ میرے بارے میں کبھی کوئی غلط فیصلہ نہیں کر سکتے۔۔۔۔ اور یقیناً یہ رشتہ میرے لئے سب سے بہتریں ہو گا کیونکہ ہم جتنی بھی کوشش کر لیں پر نصیب سے بڑھ کر اور وقت سے پہلے کبھی کسی کو کچھ نہیں ملا۔۔۔۔ ہر چیز کا وقت روز اول سے ہی طے ہے۔۔۔ چاہے وہ بچے کی پیدائش ہو۔۔۔۔ کسی کی وفات کا وقت ہو یا پھر کسی کی شادی کا وقت ہو۔۔۔۔ ہم انسان تو صرف تدبیر ہی کر سکتے ہیں قسمت بنانے والا تو وہ کاتب تقدیر ہے نہ جو اوپر بیٹھا ہے۔۔۔۔ جس کے ہر فیصلے میں مصلحت چھپی ہے۔۔۔۔ میری شادی کا یہ ہی وقت لکھا تھا تو پھر جو چیز ہمارے بس میں ہے ہی نہیں اس کے لئے خود کو کوسنے کا فائدہ۔۔۔۔ اور ویسے بھی ابا جوڑیاں تو آسمانوں پر بنتی ہے نہ۔۔۔ اگر میرا جوڑ بھی یہیں لکھا ہے تو پھر یہ تو اللہ کی رضا ہے نہ اور سب سے بڑھ کر میں بہت خوش قسمت ہوں کہ کہ میرے لئے میرے ساتھی کا انتخاب میرے باپ نے کیا ہے اور میرا باپ کبھی میرے لئے کچھ غلط انتخاب نہیں کر سکتا۔۔۔۔ ہادیہ کی باتوں سے اس شخص کے دل پر پڑا ایک بڑا بوجھ سرکا تھا۔۔۔اور وہ نم آنکھوں سے مسکرا دیئے بے شک انکی بیٹی کو دلوں پر راج کرنا آتا تھا۔۔۔۔۔ وہ سچے دل سے اسکی دائمی خوشیوں کے لئے دعا گو تھے۔۔۔۔


وردہ جینز پر شارٹ شرٹ پہنے سر پر حجاب اوڑھے اس غیر ملکی ڈیلیگیشن کو ایئر پورٹ سے ریسیو کر کے لائی تھی۔۔۔۔ یہ وفد دو مردوں اور ایک گوری عورت پر مشتمل تھا۔۔۔۔ حویلی کی روایت کے مطابق ان دونوں مردوں کو مردان خانے میں بھیج دیا گیا ہے جبکہ میرون لمبی سکرٹ اور بلیک سلیولیس شرٹ اور گول سن ہیٹ کو پہنے جینیفر کو وہ بہت عزت اور احترام سے اپنے ساتھ گھر کے اندر لائی تھی۔۔۔۔ گھر آ کر وردہ نے ششتہ انگریزی میں بھابھی اور امی کا تعارف جینیفر سے کروایا۔۔۔۔ وہ جینیفر سے ان دونوں کو ملوا کر اسے لئے ڈرائینگ روم میں لے آئی تھی۔۔۔۔ اسکی کھوجھتی شاطرانہ نظریں چاروں طرف سے گھوم گھوم کر ندا کو دھونڈ رہی ت
تھی۔۔۔۔ ڈرائینگ روم کے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھی وردہ کے ہونٹوں پر ایک پراسرار مسکراہٹ تھی۔۔۔ اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے بھابھی کو آنکھ سے کچھ اشارہ کیا جیسے سمجھتے ہوئے وہ مسکرا کر سر ہلاتی باہر نکل گئ۔۔۔۔۔


بھابھی ڈرائینگ روم سے نکل کر اب چاروں طرف سے ندا کو دھونڈ رہی تھی جو کہ اسے کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔۔۔ انہوں نے سب سے پہلے اسکا کمرا چیک کیا پھر واش روم پھر اسکے بعد اگلا پچھلا سارا لان اور آخر پر چھت بھی پر ندا ندارد۔۔۔۔ اب کے بھابھئ کو جھنجھلاہٹ ہونے لگی تھی۔۔۔ کمینی کہاں دفعہ ہو گئ ہے۔۔۔۔ اس کا ملنا بہت ضروری ہے۔۔۔۔ نہ ملی تو اس کے بغیر ہم اپنا پلان کیسے مکمل کریں گئے۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ ندا بی بی ایک بار ہمارا پلان کامیاب ہو جائے تو یہ دن تمہارا اس گھر میں آخری دن ہوگا۔۔۔۔ بھابھی آسمان کیطرف منہ کئے مسکرا کر کہہ رہی تھی۔۔۔۔ پر جلد ہی انکی مسکراہٹ سمٹی کیونکہ انہیں اپنے پلان کو کامیاب بنانے کے لئے سب سے پہلے ندا کی ضرورت تھی جو کہ ابھی ملی نہیں تھی۔۔۔۔ اس لئے وہ ایک بار پھر سے اسے ڈھونڈنے لگی۔۔۔۔ وہ بہت تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے جا رہی تھی جب کچن کے سامنے سے گزرتے ہوئے اسکی نظر کچن میں پری جہاں ندا کرسی پر بیٹھی آہستہ آہستہ پانی پی رہی تھی۔۔۔ چہرا زردی مائل ہوا پڑا تھا۔۔۔۔ آنکھوں میں اسقدر ویرانی تھی کہ وہاں زندگی کی کوئی چمک دیکھائی نہ دیتی تھی پر پھر بھی اس وقت کچن کے پار کھڑی اس سفاک لڑکی کی آنکھوں میں موجود سفاکیت میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے کچن میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ ارے او بی بی ابھی تک تم یہاں کیا کر رہی ہو تمہیں میں نے اپنا سوٹ استری کرنے کو کہا تھا اور تم ہو کہ ابھی تک یہیں کھڑی ہو۔۔۔۔ کچن میں داخل ہو کر وہ ندا کو نظر انداز کرتی چولہے کے پاس کھڑی چائے کپوں میں انڈیلتی ملازمہ پر گرج کر کہنے لگی۔۔۔۔۔ وہ اسقدر اچانک افتاد پر اتنا بوکھلائی کہ چائے کا کپ اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر ماربل کے فرش پر گر کر پاش پاش ہو گیا۔۔۔۔ وہ بی بی جی میں جا ہی رہی تھی پر وردہ بی بی جی نے اپنے مہمانوں کے لئے جلدی سے چائے لائے کو بولا تھا اس لئے میں پہلے چائے بنانے لگ گی۔۔۔ بس بن گئ ہے جی میں انہیں دے کر ابھی آ کر آپکا سوٹ استری کر دیتی ہوں۔۔۔ بکواس بند کرو اپنی۔۔۔۔۔ اسکی اسقدر لجاہت سے کی جانے والی بات پر وہ نخوت سے بولی۔۔۔۔ ابھی مطلب ابھی۔۔۔۔ یہیں پر سب کچھ چھوڑو اور جا کر سوٹ استری کرو میرا۔۔۔۔۔ پر بی بی جی۔۔۔۔ ملازمہ شش و پنج میں مبتلا ہوئی۔۔۔۔ کوئی پر ور نہیں نکلو ابھی یہاں سے۔۔۔۔ بھابھی نے اس ملازمہ کو ہاتھ کے اشارے سے باہر کا رستہ دیکھایا۔۔۔۔ ملازمہ نے بے بسی سے ایک نظر چائے پر ڈالی اور دوسری بھابھی پر۔۔۔ پاس ہی ٹیبل پر بیٹھی ندا سے اس ملازمہ کی اتنی بے بسی دیکھی نہ گئ۔۔۔۔ کوئی بات نہیں تم جا کر سوٹ استری کرو چائے میں سرو کر آتی ہوں۔۔۔۔ ندا نے ملازمہ کے پاس جا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔ ملازمہ نے احساس تشکر سے ندا کو دیکھا اور کچن سے باہر چلی گئ۔۔۔۔ بھابھی کے چہرے پر ایک شاطرانہ مسکراہٹ رینگ گئ کہ یہ ہی تو وہ چاہتی تھی۔۔۔۔۔


حجاب نے میسج کر کے احد کو کینٹین میں بلایا تھا تبھی کچھ دیر بعد وہ کینٹین میں اسکے روبرو کھڑا تھا۔۔۔۔ جی حجاب خیریت کیسے یاد کیا مجھے۔۔۔۔ اس نے پہلے حجاب کے لئے چیئر کھینچی اور پھر خود دوسری کرسی پر بیٹھا۔۔۔۔ جی وہ دراصل وعدے کے مطابق آپکو اس مہینے کے یہ پیسے دینے تھ تھے۔۔۔۔ حجاب نے اپنے ہینڈ بیگ سے کچھ پیسے نکال کر احد کو تھمائے۔۔۔۔ جیسے کچھ دیر کی سوچ بچار کے بعد احد نے پکڑ ہی لیا۔۔۔۔ پیسے دینے کے بعد حجاب اپنی انگلیوں سے اپنے ہاتھوں کو مسلتی سر جھکائے رشتے والی بات سے انکار کرنے کے لئے لفظ دھونڈ رہی تھی۔۔۔۔ آپ نے میرے لئے اپنا پرپوزل بھیجا تھا احد ۔۔۔۔۔۔ بلآجر اسنے اپنے اندر ہمت مجتمع کرتے بات کا آغاز کیا۔۔۔ جی بلکل ایسے ہی ہے۔۔۔۔ احد کی نظریں حجاب کے چہرے پر ٹکی تھیں جیسے اسکے چہرے کے اتار چڑھاو سے اسکے اندر کا حال جان لے گا۔۔۔۔۔۔ لیکن مجھے اس پرپوزل پر اعتراض ہے۔۔۔۔ مجھے یہ قبول نہیں۔۔۔۔ دل کڑا کر کے بلآخر اسنے کہہ ہی دیا۔۔۔۔ کچھ دیر کے لئے وہاں خاموشی چھا گئ۔۔۔۔ دیکھو حجاب بات کچھ یوں ہے کہ میں نے سیدھے سبھاو سے رشتہ آپکے سرپرست یعنی آپکے ابا اور دادی کے حضور پیش کیا جیسے انہوں نے نہ صرف پسند کیا بلکہ اسے قبولیت کی سند بھی بخشی۔۔۔۔ اب اگر اس رشتے کے حوالے سے آپکو کوئی مسلہ ہے یا۔۔۔۔ اعتراض ہے تو وہ آپ اپنی دادی سے کلئیر کریں یا انہیں منع کریں نہ کہ مجھے۔۔۔۔ کیونکہ مجھے تو وہ زبان دے چکی ہیں۔۔ اور اس جمعہ کو انہوں نے مجھے چند ضروری مہمانوں کیساتھ ہمارے نکاح کے لئے بلایا ہے۔۔۔۔ وہ جو اپنی بات کے جواب میں آحد کیطرف سے کیوں یا پھر رشتے سے جواب کے جواز کو پوچھے جانے کی منتظر تھی۔۔۔ احد کی طرف سے اسقدر غیر متوقع بات سن کر سن ہو گئ۔۔۔۔۔ اور آخری بات نے تو گویا اسکے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔۔ دادی ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔۔۔ وہ بھی اس سے پوچھے بنا۔۔۔ وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔۔۔۔ کوئی بھی تو اسکی بات نہیں سمجھ رہا تھا۔۔۔۔ جب میں آپ کو منع کر رہی ہوں تو آپکو میری بات سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔ مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔ وہ غصے سے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی۔۔۔۔ آپ یہ ہی بات اپنی دادی کو جا کر سمجھائے کیونکہ میں تو جمعہ کے دن آ رہا ہوں اگر یہ بات آپکی دادی کی سمجھ میں آ گئ اور انہوں نے مجھے منع کر دیا تو پھر میں بارات واپس لے آوں گا اسنے کھڑا ہو کر حجاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔ حجاب کا تو خون ہی خول اٹھا یہ ہی وجہ تھی کہ اس جیسی کول مائنڈڈ لڑکی اس وقت اسقدر طیش میں آ گئ تھی۔۔۔۔ آپ ایک نمبر کے گھٹیا اور ذلیل انسان ہیں جیسے کسی کے احساسات کی کوئی پرواہ نہیں۔۔۔۔ حجاب ایک دم اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر پھنکاری تھی۔۔۔۔ اگر یہ بات آپ اپنے تجربے اور تجزئے کی روشنی میں کہہ رہی ہیں تو یقینی بات ہے کہ ایسا ہی ہو گا۔۔۔۔ احد سنجیدگی سے کہتا اپنے سن گلاسز لگاتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔ شٹ حجاب نے زور سے ایک مکہ ٹیبل کی سطح پر رسید کیا۔۔۔


ایک چھوٹی سی گھریلو تقریب میں ہادیہ کی منگی سر انجام پا گئ تھی۔۔۔۔ لڑکے کے گھر سے اسکے چند دور پڑے کے رشتے دار آئے تھے اور ہادیہ کو منگنی کی انگوٹھی پہنا کر شگن کے کچھ پیسے اسے تھما کر ساتھ ہی باہمی مشاورت سے انہوں نے ایک مہینے کے دن بھی رکھ دیئے تھے۔۔۔۔۔
ہادیہ خود ہی اپنی فیلنگز سمجھنے میں ناکام تھی۔۔۔۔۔ یہ وقت شائید ہر لڑکی کے لئے ہی ایسا ہوتا ہے جب اسے اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنے اتنے قریبی رشتوں کو چھوڑ کر بالکل اجنبی لوگوں میں جا کر رہنا ہوتا ہے۔۔۔۔
سنا ہے فیاض صاحب کی دو تین بیٹیاں ہیں ۔۔۔ ویسے آپو آپکو تو اچھا مصرف مل جائے گا نہ شادی کے بعد بیٹیوں کی تربیت کا۔۔۔۔ جو تو خیر آپ ویسے ہی بہت اچھی طرح کر لیں گئ۔۔۔۔ ہادیہ گم صم سی صحن میں بنے تخت تخت پر پاوں لٹکائے بیٹھی تھی جب ارحمہ اسکے پاس آ کر بیٹھ کر کہنے لگی۔۔۔۔ ہادیہ نے خاموشی سے اسے دیکھا اور چپ چاپ وہاں سے اٹھ کر چلے گئ کیونکہ اس وقت وہ ارحمہ سے کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ ہنہ۔۔۔۔ جلدی کہیں یہ ایک مہینہ ختم ہو اور جان چھوٹے۔۔۔۔ وہ نخوت سے کہتی خود بھی تخت سے اٹھ گئ۔۔۔۔۔
( جاری ہے)