64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

موبائل کی تیز بجتی ٹیون سے اسکی نیند ٹوٹی تھی۔۔۔۔ اس نے بند آنکھوں سے ہی سرہانے کے ارد گرد ہاتھ مار کر موبائل تلاشنا چاہا پر تب تک موبائل کی بیل بجنا بند ہو چکی تھی نا چار اسے اٹھنا ہی پڑا۔۔۔۔ وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا اٹھا۔۔۔۔ پورے کمرے میں تاریکی کا راج تھا۔۔۔۔ وہ اندازے سے سوئچ بورڈ تک گیا اور سوئچ ٹٹول کر لائٹ جلائی۔۔۔۔ پورا کمرا روشنی سے منور ہو گیا۔۔۔۔ اس نے وال کلاک کی طرف دیکھا جو کہ شام کے پانچ بجے کا اعلان کر رہا تھا۔۔۔۔ ایک پورا دن اور رات کے بعد وہ تھکا ہارا گھر آیا تھا اور آتے ہی ندا کی طبیعت کی خرابی کیوجہ سے ویسے ہی اسے لے کر ہسپتال چلا گیا تھا۔۔۔۔ ہسپتال میں ساری رات گزار کر بچے کی پیدائش کے بعد وہ پراپرٹی کے پیپرز اپنے بیٹے کے نام کروانے گیا تھا اور پھر جب وہ گھر لوٹا تو تھکن سے اسکا برا حال تھا۔۔۔۔ شائید یہ ہی وجہ تھی کہ وہ اتنی دیر تک سوتا رہا تھا۔۔۔۔ اب بھی اسکی آنکھ نہ کھلتی اگر اسکے موبائل پر کال نہ آتئ۔۔۔۔ ابھی وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ بیل ایک بار پھر سے بجنے لگی۔۔۔۔۔ اس نے اٹھ کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔۔۔۔ ہسپتال سے خالہ بی کی کال تھی۔۔۔۔۔ مصطفی نے ایک گہری سانس کھینچ کر کال رسیو کی۔۔۔۔
جی خالہ بی کہیے کیا بات ہے۔۔۔۔ کسی چیز کی ضرورت ہے کیا۔۔۔۔ وہ اپنے اندرونی خلفشار سے چھٹکارا پاتے ہوئے خود کو نارمل پوز کرتا پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔ بیٹا ندا کو ہوش آ گیا ہے اور جب سے اسے ہوش آیا ہے اس نے اپنے بیٹے سے ملنے کی رٹ لگائی ہوئی تھی۔۔۔۔ میں نے بہت کوشش کی اسے ٹالنے کی پر جب بات میرے بس میں نہ رہی تو میں نے اسے تمہارا پیغام دے دیا اور ساتھ میں یہ بھی بتا دیا کہ تم بچے کو اپنے ساتھ لے گئے ہو۔۔۔۔۔ تب سے وہ بن جل مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے بیٹا۔۔۔۔ مجھ سے اسکی تڑپ دیکھی نہیں جا رہی۔۔۔۔۔ خالہ بی کی خود کی آواز میں نمی کی آمیزش تھی۔۔۔۔۔ تم خود اس کی یہ حالت دیکھ لو تو تمہارا کلیجہ منہ کو آ جائے۔۔۔۔ وہ اپنے بیٹے کے فراق میں کوئی اجری ہوئی دیوانی معلوم ہوتی ہے۔۔۔۔ وہ کسی سے سمبھل نہیں رہی تھی۔۔۔۔ اور ڈاکٹر کے مطابق اسکا اسقدر شدید رد عمل اور ہلجل خود اسی کے لئے بہت خطرناک ہے اس لئے انہوں نے پھر سے اسکو سکون آور انجیکشن لگا دیئے ہیں۔۔۔ بیٹا تم ایک بار آ کر اس سے مل لو۔۔۔۔ تم شائید بہتر طریقے سے حالات کو ہینڈل کر سکو۔۔۔۔ مصطفی لب بھینچے خالہ بی کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔ اور اسی ایک لمحے سے تو وہ ڈر رہا تھا۔۔۔۔۔ کہ کیسے ندا کا سامنا کرے گا۔۔۔۔ کیسے اس سے نظریں ملائے گا۔۔۔۔۔ کیا روز محشر اتنی جلدی آ گیا تھا۔۔۔۔ خالہ بی میں آج تو نہیں آ سکتا کچھ کام ہے مجھے۔۔۔ ہاں انشاءاللہ کل ضرور آوں گا۔۔۔ تب تک کے لئے آپ اسے سمبھال لیں۔۔۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ اور فون بند کر کے پھر سے کسی گہری سوچ میں غرق ہو گیا۔۔۔۔۔


جب سے شاہان ہادیہ سے اپنی اسائمنٹ کے پوائنٹس کلئیر کر کے آیا تھا تب سے ہی اسے اپنی اسائمنٹ کی فکر لگی ہوئی تھی۔۔۔۔ تب سے وہ سوچ رہا تھا کہ اب اسائمنٹ کا کیا کیا جائے۔۔۔۔ تبھی اس کی نظر سامنے سے آتے امجد پر پڑی۔۔۔۔ وہ سنگل پسلی آنکھوں پر گول بڑا سا چشمہ لگائے بالوں کو دائیں جانب سیٹ کئے ہاتھوں میں کتابیں اٹھائے جا رہا ہے۔۔۔۔ شاہان بھاگ کر اس کے پاس گیا۔۔۔۔ ارے چشماٹو کیسا ہے تو کہیں دیکھائی ہی نہیں دیتا۔۔۔۔ شاہان نے
نے اسکے بازو پر زور سے دھپ لگاتے اسکے کندھے کے گرد اپنا ہاتھ پھیلا کر کہا۔۔۔۔ اس لڑکے نے چونک کر آواز کی سمت دیکھا اور شاہان کو دیکھ کر مسکرا کر بولا۔۔۔۔ میں بالکل ٹھیک شاہاں بھائی آپ کیسے ہیں۔۔۔ میں بھی بس ٹھیک ہوں۔۔۔۔ اچھا تم یہ بتاو کہ کیا تم نے اپنی مس ہادیہ والی اسائمنٹ مکمل کر لی۔۔۔۔ جی بھائی جی وہ تو میں نے کل جمع بھی کروا دی۔۔۔۔ وہ لڑکا پرجوش سا بولا۔۔۔ ارے ویری گڈ یار۔۔۔۔ اب ایک کام کرو کل تک تم نے میری اسئمنٹ بنانی ہے۔۔۔۔ اس ٹاپک پر اور ساتھ میں اس اسائمنٹ میں یہ پوائنٹس بھی استعمال کرنے ہیں۔۔۔۔ شاہان نے اسے ہادیہ سے کلئیر کروائے گئے پوائنٹس والا صفحہ پکڑایا۔۔۔۔ وہ لڑکا بیچارگی سے شاہان کی شکل دیکھ رہا تھا۔۔۔ کہ شاہان کو نہ کرنے کا مطلب وہ خوب سمجھتا تھا۔۔۔۔ اور یہ رکھ لو یار کچھ کھا پی لینا۔۔۔۔ شاہان نے پانچ ہزار کا کرکراتا نوٹ اس کی جیب میں ڈالا۔۔۔ نوٹ دیکھتے ہی اس لڑکے کی بتیسی نکل آئی۔۔۔۔ پر یاد رکھنا کہ اسائمنٹ زبردست سی ہونی چاہیے۔۔۔۔۔ ارے آپ فکر ہی نہ کریں شاہان بھائی آپکی اسائمنٹ ایک دم پرفیکٹ ہو گئ۔۔۔۔ اس لڑکے کے جانے کے بعد شاہان نے بے فکری سے اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے کہ خس کم جہاں پاک۔۔۔۔۔ تبھی اسے سامنے سے ماورا آتی دیکھائی دی جو اس دیکھ کر زور زور سے اپنے ہاتھ ہلاتی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھی۔۔۔۔ افف یہ مصیبت کہاں سے آگئ۔۔۔ اس سے پہلے کہ ماورا اس تک پہنچتی شاہان دوسری طرف مڑا اور پلک جھپکتے ہی چھلاوے کی طرح غائب ہو گیا۔۔۔۔


ساری رات مصطفی کی آنکھوں میں کٹی تھی۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کل صبح ندا سے جا کر کیا کہے گا کیسے اسکا سامنا کرے گا۔۔۔۔ ساری رات وہ ایک کے بعد ایک سگریٹ پھونکتا رہا تھا۔۔۔۔ وہ دل سے دعا گو تھا کہ اس رات کی کبھی صبح نہ ہو پر وقت بھی کبھی کسی کے لئے رکا ہے ایسے ہی رات اپنے وقت پر گزری تھی اور رات کی ہیبت ناکی کو دن کا اجالا کھا گیا تھا۔۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے سورج سر پر پہنچ گیا تھا اور تبھی بار بار ہسپتال سے خالہ بی کی فون کالز آنا شروع ہو گئ تھیں۔۔۔ چارونا چار اسے اٹھنا ہی پڑا تھا۔۔۔۔۔۔
ہسپتال پہنچ کر وہ کافی دیر تک ندا کے کمرے کے باہر کھڑا اندر جانے کے لئے اپنی ہمت مجتمع کرتا رہا تھا۔۔۔۔ پھر بلآخر کچھ سوچتے ہوئے بھاری ہوتے قدموں کیساتھ وہ کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔۔ سامنے ہی وہ بیڈ پر تکیوں کے سہارے نیم دراز تھی۔۔۔۔ دائیں ہاتھ پر ابھی بھی ڈریپ لگی تھی وہ اجری حالت میں ناک کی سیدھ میں دنیا و مافیہا سے بے خبر دیوار پر کچھ تلاش کر رہی تھی۔۔۔۔ پپٹری زردہ ہونٹ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے زردی مائل رنگت الجھے بکھرے بال۔۔۔۔ یوں بیٹھی ہوئی وہ اسے کوئی دیوانی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ اسے اس حالت میں دیکھ کر مصطفی کا دل کٹنے لگا۔۔۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر ندا نے دروازے کی طرف دیکھا اور وہاں کھڑے مصطفی کو دیکھ کر اس میں ایک بجلی سی بھر گئ۔۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور جھٹکے سے اٹھنے سے اسکے لگے کچے ٹانکوں سے درد کی ٹھیسیں اٹھی تھی اور وہ وہیں کراہ کر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔ لیکن اگلے ہی پل وہ ان درد کی ٹیسوں کو نظر انداز کرتی اٹھی تھی ایک جھتکے سے اس نے اپنے اوپر اوڑاھی سفید چادر کو پھینکا اور ننگے پاوں جا کر مصطفی کے روبرو کھڑی ہو گئ۔۔۔۔
میرا بیٹا کہاں ہے مصطفی۔۔۔۔ مجھے میرا بیٹا چاہیے۔۔۔۔۔ آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔ وہ میرا بیٹا ہے۔۔۔۔ندا اسے اس کے گریبان سے پکڑے جھنجھور کر پوچھ رہی تھی۔۔۔ اور مصطفی وہ بے بس سا لب بھینجے کھڑا اسکے کمزور وار سہہ رہا تھا کہ بحرحال وہ حق پر تھی۔۔۔۔ مجھے میرا بیٹا چاہیے مصطفی۔۔۔۔ دیں مجھے میرا بیٹا ورنہ قسم خدا کی میرا رب آپکو کبھی معاف نہیں کرے گا۔۔۔۔ آہ ہ ہ۔۔۔ میرا بیٹا۔۔۔۔ وہ اب مصطفی کے سینے پر مکے برسانے کے بعد اپنے کمزور سے ہاتھوں سے اسکی گردن پکڑ چکی تھی۔۔۔۔۔ میں زندہ نہیں چھوڑوں گئ آپکو مصطفی مجھے میرا بیٹا دیں۔۔۔۔ ہمیشہ سے چپ چاپ اور دبو سی رہنے والی لڑکی میں اس وقت نجانے اتنی ہمت کیسے آگئ تھی کہ وہ مصطفی کا گریبان پکڑے کھڑی تھی۔۔۔۔ شائید کہ ایک ماں کبھی بھی کمزور نہیں ہو سکتی اس لئے۔۔۔۔ روتے روتے اسکی حالت غیر ہونے لگی تھی وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے درد سے دہری ہوئی جا رہی تھی۔۔۔۔۔ پر ابھی بھی ہمت ہارنے کو تیار نہ تھی۔۔۔۔ مصطفی نے بڑی مشکلوں سے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو پیچھے دھکیلا اور ضبط کی انتہاوں کو چھوتے ہوئے چہرا دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔۔۔ اسکے چہرا دوسری طرف موڑنے سے ندا نے یکدم اسکا بازو کھینچ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔ میری طرف دیکھ کر بات کریں مصطفی۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر سے اپنے درد کو نظر انداز کئے اسکے روبرو تھی۔۔۔۔ وہ آج کسی صورت اسے بخشنے کے موڈ میں نہ تھی۔۔۔۔ ندا وہ میرا بیٹا ہے۔۔۔۔ میں اسکے ساتھ جو مرضی کروں۔۔۔۔ وہ آپکا بیٹا کیسے ہو گیا مصطفی۔۔۔۔ کیسے ہوگیا وہ آپکا بیٹا۔۔۔۔ مصطفی اسے چپ کروانے کی خاطر گرج کر بولا تھا پر ندا اسکی بات کاٹتے ہوئے مزید گرج کر بولی۔۔۔۔ اتنا اونچا بولنے سے یکدم اسے کھانسی کا دورا پڑا تھا۔۔۔۔۔ آپکو تو بامشکل ایک ماہ پہلے معلوم ہوا تھا کہ آپکی کوئی اولاد بھی اس دنیا میں آنے والی ہے۔۔۔۔ آواز میں پہلے سی گرج کی بجائے التجا سمٹ آئی تھی۔۔۔۔۔ وہ وہیں پیٹ پر ہاتھ رکھے درد سے دہری ہوتی بیٹد کی پائنتی کو پکڑے نیچے بیٹھتی چلی گئ۔۔۔۔ آپ نے تو امریکہ جانے کے بعد ایک بار مڑ کر بھی نہ دیکھا تھا مصطفی۔۔۔۔ میں نے اس بچے کو نو ماہ اپنی کوکھ میں پالا ہے۔۔۔۔ ہر دن اسکے تصور کے ساتھ گزارا ہے۔۔۔۔ اور آپ نے اسے میرے لئے ہمیشہ کے لئے ایک تصور ہی بنا دیا۔۔۔ وہ اب بیڈ کے پائیدان کے ساتھ سر ٹکائے سسک رہی تھی۔۔۔۔
جتنی جلدی ممکن ہو سکے اس بات کو قبول کر لو ندا۔۔۔ کہ شائید یہ بچہ تمہاری قسمت میں تھا ہی نہیں۔۔۔۔ مصطفی کی بات سن کر ندا بے بسی سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔ یوں ٹوٹ کر رونے سے اسکی طبیعت مزید خراب ہونے لگی تھی اور روتے روتے وہ وہیں ہوش و خرد سے بہگانہ ہو گئ تھی۔۔۔۔ اسکے ہیہوش ہوتے ہی ایک سائید پر خاموشی سے آنسو بہاتی ان دونوں کی باتیں سنتی خالہ بی دور کر ڈاکٹر کو بلانے گئ تھی۔۔۔۔ ڈاکٹرز نے آتے ہی اسکا ٹریٹمنٹ شروع کر دیا تھا۔۔۔۔ مصطفی بھاری دل کے ساتھ تیز تیز قدم اٹھاتا ہسپتال سے باہر جا رہا تھا۔۔۔۔ آج اس کے دل پر اسقدر بوجھ تھا کہ اسے لگ رہا تھا اسکا دل پھٹ جائے گا۔۔۔۔۔ پارکنگ میں اپنی گاڑی کے پاس آ کر وہ اونچا لمبا مرد اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا اور اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا وہ اونچا لمبا مرد ندا کے دکھ پر بچوں کیطرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔۔۔۔۔۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا ندا خدا کے لئے مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔۔ وہ سٹیرینگ سے سر ٹکائے خود سے پہ بڑبڑا رہا تھا۔۔۔۔۔


( جاری ہے)