Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
میں کچن میں رات کا کھانا تیار کر رہی تھی جب باد صبا کے جھونکے کی طرح مصطفی کی گھر آمد ہوئی۔۔۔ اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ مجھے خوش ہونا چاہیے کہ نہیں۔۔۔۔ ساری فیملی لاوئنج میں مصطفی کے گرد بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھا۔۔۔ پر میں اسکے سامنے جانے سے کترا رہی تھی ۔۔۔۔ دل تھا کہ کسی طرح سے بھی سکون میں نہیں تھا بس ایک دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہیں اگر مصطفی نے بھی اس بچے کو اپنانے سے انکار کر دیا تو پھر کیا ہوگا۔۔۔۔ بار بار میری زبان سے خدارا رحم کے الفاظ ادا ہو رہے تھے۔۔۔۔
ارے آج تو غضب ہی ہو گیا۔۔۔۔ رات تک میں مصطفی سے چھپتی رہی لیکن آخر کب تک میں اس سے بھی چھپ سکتی تھی۔۔۔۔ پر مصطفی کا رد عمل میری سوچ کے بالکل برعکس تھا انہوں نے نہ صرف میرے سے بے بی کے متعلق باتیں کی بلکہ میرے لئے امریکہ سے تحائف بھی لائے۔۔۔۔ انہوں نے مجھے کل ڈاکٹر کے پاس لیجانے کے لئے تیار رہنے کو بھی بولا۔۔۔۔ یااللہ مجھے یقین نہیں آتا کہ مصطفی اتنا بھی بدل سکتے ہیں ۔۔۔۔ شائید یہ میری آنے والی اولاد کی ہی بدولت ہے۔۔۔۔ میں آج بہت خوش ہوں مجھے لگتا ہے کہ بس میری زندگی کی آزمائش ختم ہونے کو ہے۔۔۔۔۔
آج میں مصطفی کیساتھ ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لئے گئ۔۔۔۔ جاتے ہوئے میں مصطفی کی دلائی ہوئی چادر اور جوتا ہی پہن کر گئ تھی کیونکہ میرے پاس اور تو کوئی چادر یا جوتا تو تھا نہیں۔۔۔۔ خالہ بی کی ہی پرانی اشیاء استعمال کرتی آئی ہوں اب تک۔۔۔۔ پر اب مصطفی کا رویہ میرے ساتھ اسقدر اچھا ہے کہ مجھے اپنی قسمت پر رشک آنے لگا ہے۔۔۔۔ وہ میرا اسقدر خیال رکھتے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہیں میری ہی نظر مجھے نہ لگ جائے۔۔۔۔ بھابھی کی فضول باتوں کی تلوار سر سے اتری تو دل اب خود بخود خوش گمانیون میں گھرنے لگا ہے۔۔۔۔ نئے احساس دل میں گھرنے لگے ہیں۔۔۔ اپنی اندر پلتی زندگی کے حوالے سے خواب دیکھنا مجھے اس وقت دنیا کا پر لطف احساس لگتا ہے۔۔۔۔ اب میں ہر پل اپنے آنے والے بچے کے خیالوں میں کھوئی رہتی ہوں۔۔۔۔ وہ کیسا ہوگا۔۔۔ کیسے مجھے ماما بولے گا۔۔۔۔ افف۔۔۔ لفظ ماما میں ہی کتنی مٹھاس ہے نہ۔۔۔۔ اس مطلبی دنیا میں ہر کوئی میرا ساتھ چھوڑ گیا۔۔۔۔ ہر کسی نے مجھے اپنے مطلب کے لئے استعمال کیا۔۔۔۔ پر اب میرا بے بی آنے والا ہے نہ۔۔۔۔ میری ساری تشنگی دور ہو جائے گئ۔۔۔ وہ ہی میری تنہائی کا ساتھی ہوگا۔۔۔۔ میں اسکے سہارے اپنی ساری زندگی گزار دوں گئ۔۔۔۔
ہادیہ نے ٹیکسی سے اتر کر ایک نظر اپنی سامنے کھڑی اس پر شکوہ عمارت کو دیکھا اور متوازن چال چلتی ہوئی شاہان کے سینڈ کئے گئے ایڈریس پر جانے لگی۔۔۔۔ لفٹ سے اتر کر اسنے ایک نظر سامنے موجود فلیٹ کو دیکھا اور ایڈریس کنفرم کرنے کے لئے ایک بار پھر سے موبائل پر سینڈ کیا شاہان کا ٹیکسٹ دیکھنے لگی۔۔۔۔ مطمعیں ہو کر اسنے فلیٹ کی بیل پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔ پہلی ہی بیل پر دروازہ کھول دیا گیا۔۔۔۔ سامنے ہی نک سک سے تیار خوشبوں میں نہایا ہوا شاہان کھڑا تھا۔۔۔ ہونٹوں پر شریر سی مسکراہٹ سجائے اور آنکھوں میں ایک پر اسرار سی چمک لئے اسنے ہادیہ کا ویلکم کیا تھا۔۔۔۔
وہ آئے ہمارے گھر خوش نصیبی ہے ہماری۔۔۔۔ کبھی ہم انکو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں۔۔۔ اس نے شعر کی اچھی خوصی ٹانگیں توڑ کر اسے پیش کیا۔۔۔۔
افف۔۔۔۔۔ پتہ نہیں خدا کو کیا منظور ہے جو اسقدر نالائق اور بد زوق لوگوں سے پالا پر گیا میرا۔۔۔۔۔ ہادیہ فلیٹ کا چاروں طرف سے جائزہ لیتی اونچی آواز میں بولی۔۔۔ اسکی بات پر شاہان اپنا سر کھجانے
لگا۔۔۔۔ وہ چلتی چلتی لاوئنج تک آ گئ تھی ۔۔۔۔ جس میں جلتی ہوئی فینسی لائٹس وہاں کے اندھیرے کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام تھی۔۔۔۔ پورے لاوئنج کی کلر سکیم وائٹ اور ریڈ تھی اس قدر سحر انگیز ماحول کو دیکھ کر ہادیہ کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔۔۔ متضاد یہ کہ وہ اس کے پیچھے اسقدر قریب کھڑا تھا کہ اگر ہادیہ ذرا سا بھی پلٹتی تو اسکا کندھا شاہان کے کشادہ سینے سے ٹکرا جاتا۔۔۔۔ ہادیہ نے خود کو کمپوز کرتے آگے قدم بڑھائے اور جا کر صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔۔ کچھ پل لگے تھے اسے اپنا اعتماد بحال کرنے میں لیکن وہ کامیاب ٹھہری تھی۔۔۔۔
کیا کھاو گئ ہادیہ تاکہ آرڈر کر سکوں۔۔۔۔ شاہان موبائل ہاتھ میں پکڑے نمبر ڈائل کر رہا تھا جب ہادیہ کی آواز پر چونکا۔۔۔۔ فلحال کچھ نہیں۔۔۔ اور کائنڈلی یہ موبائل سائیڈ پر رکھ دو میں پہلے تم سے کچھ باتیں کلئیر کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔ جی جی ارشاد ارشاد۔۔۔ ہم تو کب سے ہیں تیار۔۔۔۔ وہ اسکے سامنے موجود ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔۔۔ اسکی حرکت پر ہادیہ نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔ نہ کرو یار جب یوں اتنے پیار سے دیکھتی ہو تو دل بے قابو پونے لگتا ہے۔۔۔۔ وہ مسکراہٹ دباتا ہوا بولا۔۔۔ جبکہ ہادیہ کمال مہارت سے اسکی بات نظر انداز کر گئ۔۔۔ یار اب چھوڑو نہ ناراضگی چلو صلح کر لیتے ہیں ۔۔۔ تمہاری بارات والا معاملہ تو حل ہو گیا ہے پھر کیوں نہ جلد از جلد رخصتی کروا لی جائے۔۔۔۔ یار میرا اب بالکل بھی گزارا نہیں ہے تمہارے بنا۔۔۔ وہ ہادیہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے ایک جذب سے بول رہا تھا۔۔۔ کچھ پل کو ہادیہ بھی ان لمحوں کی فسوں خیزی میں جھکڑی گئ۔۔۔۔ لیکن جلد ہی اس نے شعور کی وادی میں قدم رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ اسکے ہاتھوں سے چھڑائے ۔۔۔۔۔ تم یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہو شاہان۔۔۔ آخر کس بل بوتے پر میں رخصتی کے لئے راضی ہو جاوں۔۔۔ تم ہو کیا ایک آوارہ اوباش بدکردار شرابی اور زانی۔۔۔۔ ہادیہ غصے سے بولتے ہوئے کھڑی ہو گئ۔۔۔۔ شاہان حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ سحر انگیز ماحول کی ساری سحر انگیزی ہوا میں تحلیل ہو گئ تھی۔۔۔۔ اگر واقعی تم اس رشتے کے بارے میں سیریس ہو اور رخصتی چاہتے ہو تو پہلے خود کو ثابت کرو۔۔۔۔ یہ سبھی بری خصلتیں چھوڑ دو۔۔۔۔ اپنی ایم بی اے کی ڈگری کلئیر کرو اور کسی مقام تک پہنچو۔۔۔ ابھی تو تم خود پائی پائی کے لئے اپنے باپ کے محتاج ہو میری زمہ داری کیسے اٹھاو گئے۔۔۔۔ جس روز تم میں مجھے ایک نئے شاہان کی جھلک نظر آ گئ۔۔۔ خدا کی قسم میں اسی روز تمہارے ساتھ رخصت ہو کر آ جاوں گئ دوسری صورت نکاح چاہیے ہمارا ہو چکا ہے پر خلع کا اختیار میں بحر حال رکھتی ہوں۔۔۔ شاہان ساکت سا اسے دیکھی جا رہا تھا جو اپنا سارا زہر اگل کر اب واپس اپنے گھر کو چل دی تھی۔۔۔۔
لنچ تو کرتی جاو ہادیہ۔۔۔۔ پیچھے سے شاہان کی تھکی تھکی سی آواز گھونجی۔۔۔۔ ضرور کروں گی۔۔۔۔ پر تب جب میرا شوہر مجھے اپنے زور بازو پر اپنی کمائی سے کھلائے گا۔۔۔۔ جبکہ ابھی تو وہ خود اپنے باپ کا دیا کھاتا ہے۔۔۔ بنا پیچھے کو مڑے وہ جواب دے کر وہاں سے نکلتی چلے گئ۔۔۔۔۔ جبکہ وہ اپنے ذہن میں آگے کا پلان ترتیب دے رہی تھی۔۔۔۔۔
ارحمہ پلیز تم سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔ بہت مجبور ہوں میں ۔۔۔۔ میں نے بہت کوشش کی موم ڈیڈ کو راضی کرنے کی پر وہ نہیں مان رہے۔۔۔ وجہ صرف کلاس ڈفرینس ہیں۔۔۔۔ تم خود ہی بتاو میں کیا کروں۔۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے میں پاگل ہو جاوں گا۔۔۔۔ ارحمہ اپنے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھی دونوں پاوں اوپر کو کئے شہادت کی انگلی کو منہ میں ڈالے ناخن کترتی بہت مضطرب سی بیٹھی موبائل کان سے لگائے اسے سن رہی تھی۔۔۔۔ موم ڈیڈ کے بغیر تمہاری بہن راضی نہیں ہوگئ ارحمہ۔۔۔۔ وہ مزید گویا ہوا۔۔۔۔ ارحمہ نے اپنی آنکھیں زور سے میچ کر کھولی۔۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹپکا تھا۔۔۔ میرے تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی ارسلان۔۔۔۔ وہ ضبط کرتی بولی۔۔۔ میں کب رہ سکتا ہوں ارحمہ۔۔۔۔ اب تو سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔ کیوں میری بات مان نہیں لیتی تم۔۔۔۔ سب کچھ تو تمہارے سامنے ہے یار۔۔۔۔۔ وہ بے چارگی سے بولا۔۔۔۔ بہت مشکل ہے یہ ارسلان۔۔۔۔ پھر کیا تم مجھے بھول جاو گئ۔۔۔۔ اس کے لہجے میں آس تھی۔۔۔۔ نہیں کبھی نہین۔۔۔۔ وہ تڑپ کر بولی۔۔۔۔ کیوں میرے جسم سے روح نکالنے کے در پر ہو ارحمہ۔۔۔۔ نہیں رہ سکتا میں تمہارے بنا ۔۔۔۔ فون کان سے لگائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔۔ کوئی بیچ کی راہ نہیں ہے کہا ارسلان۔۔۔۔ سب کچھ تمہارے سامنے ہی ہے ارحمہ۔۔۔۔ ٹھیک ہے مجھے سوچنے کو کچھ وقت چاہیے۔۔۔۔
کال اٹھاو ورنہ میں تمہارے گھر آ رہا ہوں۔۔۔ شادی کے لئے یونیورسٹی سے لی گئ ہادیہ کی چھٹیاں ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔ اس لئے ابھی تک ہادیہ یونیورسٹی نہیں گئ تھی اور نہ ہی اسنے اس روز کی ملاقات کے بعد اب تک شاہان سے کوئی بات کی تھی۔۔۔۔ بلکہ وہ تو اس کے انے والے تمام میسیجز تک کو اگنور کر رہی تھی۔۔۔۔ یہ دھمکی بہت پرانی ہو گئی مسٹر کوئی نیا بہانہ دھونڈو۔۔۔ تب سے پہلی بار ہادیہ نے اسکے میسج کا رپلائے کیا تھا۔۔۔۔ چیلنج نہیں کرنا مجھے میسیز ورنہ پرابلم ہو جائے گئ۔۔۔ فوراً سے رپلائے آیا تھا۔۔۔۔ ہادیہ نے سر جھٹک کر بنا رپلائے کئے موبائل سائڈ پر رکھا اور پھر سے اپنے کام میں مشغول ہو گئ۔۔۔۔۔
کافی دیر سے دروازے پر دستک ہو رہی تھی ہادیہ اپنے کمرے کی جھار پونجھ کر رہی تھی جبکہ ارحمہ برآمدے میں بیٹھی اپنے ناخنوں پر نیل پالش لگا رہی تھی دروازے
کی دستک کی آواز پر بھی وہ ٹھس بن کر بیٹھی رہی ۔۔۔۔ کافی دیر تک بھی جب ارحمہ نے دروازہ نہ کھولا تو ہادیہ جھنجھلاتی ہوئی اپنا کام چھوڑ کر دروازہ کھولنے چل دی۔۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی سامنے موجود ہستی کو دیکھ کر اسکی آنکھوں کے سامنے زمیں آسمان گھوم گئے وہ ہونق بنی منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اس سے اتنی جرات کی توقع نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔ اس کے مطابق وہ اس سے مذاق کر رہا تھا۔۔۔۔ پر شاید اس نے شاہان کو کافی ہلکا لے لیا تھا۔۔۔۔ وہ مسکراہٹ کو ہونٹوں کے کناروں تلے دابے ایک ائبرو اٹھا کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ انداز ایسا تھا کہ اب بتاو۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہادیہ بوکھلاہٹ میں دروازہ اسکے منہ پر مار کر بند کرتی پیچھے سے امی کی اواز ابھری۔۔۔۔ اے ہادیہ پیچھے ہٹ بچے کو گزرنے کی جگہ دے دیکھائی نہیں دے رہا کہ اس کے ہاتھ میں کتنا سامان پکڑا ہے۔۔۔ اسکی سائید سے امی آگے کو بڑھتی ہوئی بولی۔۔۔ تب سے پہلی بار ہادیہ نے شاہان کے ہاتھوں میں موجود شاپروں پر غور کیا وہ امی کیساتھ شاہان کی موجودگی پر مزید الجھ گئ تھی۔۔۔۔ ارے ارحمہ بچے کے لئے شربت بنا کر لاو۔۔۔ امی نے اپنے ہاتھ میں موجود چیزیں ہادیہ کو تھمائی اور خود بیٹھک میں جا کر پنکھا چلا کر شاہان کو بیٹھنے کو جگہ دی۔۔۔۔ ارے نہیں ۔ آنٹی تکلف کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھ کر مودبانہ بولا۔۔۔۔۔ ارے ایسے کیسے ضرورت نہیں۔۔۔۔ ہادیہ کو تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔ بیٹھو تم میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔ وہ اپنی چادر سمبھالتی باہر نکل گئ۔۔۔۔
کیسا لگا سرپرائز ڈئیر۔۔۔ شاہان نے ایک سائیڈ پر ہونق کھڑی ہادیہ کے چہرے پر جھولتی لٹ کو کھینچتے ہوئے شرارت سے گویا ہوا۔۔ عین اسی
وقت ارحمہ جوس کی ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔
( جاری ہے)
