Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 39
No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
ارحمہ نے ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھا جو کہ صبح کے دس بجا رہی تھی۔۔۔۔ ہادیہ یونیورسٹی جا چکی تھی۔۔۔۔ احمد بھی سکول چلاگیا تھا۔۔۔ امی کسی عزیز کے ہاں عیادت کو گئی تھی۔۔۔ ابا اندر آرام کر رہے تھے۔۔۔
ایک نظر پورے گھر کو دیکھ کر مطمئن ہونے کے بعد اس نے ارسلان کو میسج کیا تھا اور اس کے جواب کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
جونہی میسج ٹون بجی اس نے جھٹ سے میسج کھولا پڑھنے کے بعد اپنا چھوٹا سا تیار کردہ سفری بیگ اٹھایا ایک الوداعی نظر گھر پر ڈال کر آنکھوں میں پر آسائش زندگی کی امید لیے وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔ باپ کی دہلیز پار کرتے ہوئے اس بے رحم لڑکی کا دل ایک دفعہ بھی نہ کانپا تھا۔۔۔۔
ارسلان سامنے ہی اپنی مرسڈیز میں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ ارحمہ نے تیز قدموں سے درمیانی فاصلہ طے کیا تھا۔۔۔ پاس پہنچتے ہی اپنا بیگ پچھلی سیٹ پر پھینک کر خود فرنٹ سیٹ پر گئی۔۔۔۔ اس کے بیٹھتے ہی گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی تھی۔۔۔۔
حجاب اپنی کلاس لے کر نکل رہی تھی مگر راستے میں احد کو حائل کھڑا دیکھ کترا کر دوسرے راستے سے چلی گئی۔۔۔۔ احد کن اکھیوں سے یہ سب نوٹ کر رہا تھا۔۔۔۔ وہ اپنے تعیں حجاب سے ناراض تھا اور سوچ رہا تھا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کر کے اس سے معافی مانگے گی سب الٹا ہوتے دیکھ حیران ہی رہ گیا تھا۔۔۔۔
پہلے تو اک آس تھی کہ مہینے کی پہلی تاریخوں میں وہ لی گئی رقم لوٹانے کے لیے اس سے ملے گی۔۔۔ پر جب سے وہ رقم لینے سے انکار کر چکا تھا وہ اسے بالکل ہی ان دیکھا کر کے نکل جاتی۔۔۔۔ ایسا نہ تھا کہ حجاب کو اپنی غلطی کا احساس نہیں تھا۔۔۔۔ اسے احساس بھی تھا اور پچھتا بھی رہی تھی اگر کچھ نہیں تھا تو وہ تھا معافی مانگنے کا حوصلہ۔۔۔
معافی مانگنے میں آڑے انا نہیں بلکہ وہ شرمندگی آرہی تھی جس کی وجہ سے وہ احد سے نظر تک نہیں ملا رہی تھی۔۔۔۔ اسلئے اسے دیکھتے ہی چھپ جاتی۔۔۔۔
اس نے کئی بار سوچا کہ ایک دفعہ احد سے معافی مانگ لے مگر ہر دفعہ یہی دھڑکا لگا رہتا کہ اگر اس نے معاف نہ کیا تو۔۔۔ اگر اس نے دھتکار دیا تو۔۔۔۔ اس سے آگے وہ سوچ ہی نہ پاتی یا سوچنا نہ چاہتی تھی اور ہمت ہار جاتی تھی۔۔۔۔ شاید لاشعوری طور پر وہ احد کی پہل کی منتظر تھی ۔۔۔۔
آ ہ ہ ہ۔۔۔ بہت کرلی تم نے اپنی من مانی مسز حجاب اب تمہارا کوئی نہ کوئی سدباب کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔ احد نے دور جاتی حجاب کو دیکھ کر خود کلامی کی تھی۔۔۔۔۔
آج خلاف معمول ناشتے کی ٹیبل پر شاہان کی پوری فیملی موجود تھی۔۔۔
مسز خان ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر بیٹھی جوس پی رہی تھی۔۔۔۔ سربراہی کرسی پر مسٹر خان جبکہ بائیں جانب کی پہلی کرسی پر باپ کی موجودگی کے باعث مودب سا بیٹھا ازہان اور اس کے ساتھ ہی شاہان بیٹھا تھا۔۔۔۔
ڈیڈ میں آفس جوائن کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ بریڈ پر جیم لگاتے شاہان نے گویا چھوٹا سا دھماکا کیا تھا۔۔۔۔
مسٹر خان کو چائے پیتے ہوئے اسکی بات پر اچھولگا۔۔۔
واہ۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔۔ عیاشی سے فرصت نہیں صاحب زادے کو اور چلے ہیں بزنس جوائن کرنے ۔۔۔۔۔ شاہان کی بات نے گویا ان کا دماغ ہی گھما ڈالا تھا۔۔۔
چلیں دیر آئے درست آئے۔۔۔۔۔ مسز خان نے مداخلت کی۔۔۔
مسٹر خان کی بات پر شاہان کو غصہ تو بہت آیا وہ کہنا بھی بہت کچھ چاہتا تھا کہ تب تو آپ نے نہ روکا جب میں ان عیاشیوں میں پڑا۔۔۔۔ تب تو سب جانتے بوجھتے آنکھیں بند کر رکھی تھی۔۔۔۔تو اب ایک دم سے کیونکر یاد آیا آپ کو۔۔۔۔
سر جتھک کر اس نے فضول سوچوں سے چٹھکارا پایا تھا۔۔۔۔
مسز خان نے ایک نظر بیٹے پر جبکہ دوسری نظر شوہر پر ڈالی کیوں کی وہ جان گئی تھی کہ اب یہاں پانی پت کی جنگ چھڑنے میں ذیادہ وقت نہیں لگے گا۔۔۔۔۔ ازلان بھی دم سادھے ہونق بنا بیٹھا تھا۔۔۔۔
میں اپنی دن رات کی محنت سے کھڑی کی ساخت کو کسی کے مخص تجربے کے نظر نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔ وہ مزید کہہ رہے تھے۔۔۔۔
ویسے بھی تمہیں کس چیز کی کمی ہے جو تم ان جھمیلوں میں پڑنا چاہتے ہو۔۔۔۔ سب کچھ تو تمہیں بغیر کہے مل رہا ہے۔۔۔۔ ہر ماہ لاکھوں کے حساب سے پیسے تمہارے اکاونٹ میں ٹرانسفر کیے جاتے ہیں ۔۔۔۔ اب تم اور کیا چاہتے ہو۔۔۔۔
اگر رقم کم ہے تو اس ماہ سے رقم میں اضافہ کر دیا جائے گا۔۔۔۔ اب وہ اسے نرمی سے سمجھا رہے تھے۔۔۔
مجھے اب آپ کی رقم نہیں خود اپنی محنت سے حاصل کی رقم چاہیے۔۔۔ میں خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔۔۔ وہ ٹھہرے لہجے میں بولا تھا۔۔۔
یہ اچانک تمہارے دماغ میں یہ خناس کس نے بھر دیا ہے۔۔۔
وہ تلخ ہوئے۔۔۔
جس نے بھی بھرا ہوں آپ سے مطلب۔۔۔ وہ بھی ماتھے بل
ڈالے ان کے روبرو ہوا۔۔۔۔
ٹھیک۔۔۔۔ جب مجھ سے مطلب ہی نہیں تو اس ساری بکواس کا مقصد۔۔۔ خود کو ثابت کرنا ہے نا۔۔۔ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے نا۔۔۔ جاو کرو نوکری کرو خود کو ثابت۔۔ چار دن دھکے کھائے نا تو دماغ سیٹ ہو جائے گ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا بھوت خودبخود اتر جائے گا۔۔۔۔۔ جب لوگوں کی چاکری کرنی پڑی تو لگ پتہ جائے گا۔۔۔ باپ کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔۔ وہ سرد لہجے میں بولے۔۔۔
مطلب آپ نہ ہی میری مدد کرے گے اور نہ ہی آفس جوائن کرنے دے گے۔۔۔۔۔
بالکل۔۔۔ ایک لفظی جواب حاضر تھا۔۔۔
آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔ شاہان نے غصے سے اپنا دایاں ہاتھ ٹیبل پر مارا جس سے کئی ایک برتن زمین پر گر کہ اپنی ناقدری پر شور مچانے لگے۔۔۔
مسز خان ایک دم ڈر کے کرسی کو دھکیلتے ہوئے اٹھی تھی۔۔۔
اپنے قدموں پر کھڑا ہو کر دکھاؤ گا اب آپ کو میں۔۔۔۔غصے میں پھنکارتا انگلی اٹھائے وارن کرتا کرسی کو ٹھوکر مارتا باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
مسٹر خان سر جٹھک کر رہ گئے۔۔۔۔ جبکہ مسز خان باپ بیٹے کی چپقلش دیکھ سر پکڑ کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
چاچو۔۔۔۔ صبح سے شام ہونے کو آئی تھی مگر مصطفی ابھی تک وہیں ندا کی قبر کے پاس بیٹھا ایوانوں کی طرح اس کی قبر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔ جب علی اکبر نےاسے پکارا ۔۔۔۔
پکار پر بھی مصطفی اسکی جانب متوجہ نہ ہوا۔۔۔ تو علی اکبر وہیں اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔
چاچو آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔ دیکھیں کتنی رات ہو گئی ہے۔۔۔۔ گھر میں سبھی آپ کا انتظار کر رہیں ہیں۔۔۔۔ اور آپ ہیں کہ یہاں۔۔۔۔ چلیں اٹھیں گھر چلیں ۔۔۔۔ علی اکبر نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھانا چاہا مگر مصطفی نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔۔۔
نہیں یار۔۔۔۔ دیکھو کتنی لمبی کالی رات ہے کیسے ندا کو یہاں اکیلا چھوڑ جاون۔۔۔ دیکھوں نا رات کو یہ جگہ کتنی ویران لگ رہی ہے۔۔۔۔اگر وہ ڈر گئی تو ۔۔۔۔۔ نہیں نہیں میں اسے چھوڑ کر نہیں جاو گا۔۔۔ علی اکبر کو مصطفی کی ذہنی حالت کی درستگی پر شبہ ہونے لگا۔۔۔۔ مصطفی کے کہنے پر اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔۔۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔۔۔۔ اندھیرا اس قدر تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہ دیتا تھا۔۔۔۔
قطار در قطار قبریں اس جگہ کی ہئیت ناکی میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔۔۔
اتنی جلدی وہ کیسے چلی گئی علی۔۔۔۔ مجھے معافی مانگنے کا موقع دیئے بغیر۔۔۔ یوں چپ چاپ بنہ کوئی حرف شکایت لب پہ لائے۔۔۔ سہتے سہتے صبر کرتے کرتے اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔۔۔
علی۔۔۔ کہاں سے لاتی تھی وہ اتنا حوصلہ۔۔۔۔ اتنا صبر۔۔۔ ہر کسی کی باتیں سنتی تھی۔۔۔ سب نے اس کے ساتھ غلط کیا۔۔۔ ذیادتی کی۔۔۔اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔۔۔ یہاں تک کے میں نے بھی۔۔۔۔ بات کرتے کرتے وہ ہچکیوں میں رو پڑا۔۔۔۔۔
بہت برا کیا میں نے اس کے ساتھ بہت غلط کیا۔۔۔ ہاتھ بھی اٹھایا اس پر۔۔۔کیسے سہتی تھی وہ علی کیسے۔۔۔۔۔۔
وہ عورت ہو کر سہتی رہی اور میں مرد ہو کر نہیں سہہ پا رہا۔۔۔۔ میرا دل پھٹ رہا ہے روح کر لا رہی ہے۔۔۔۔
ابھی تو مجھے اس سے معافی مانگنی تھی۔۔۔۔ اس کے غم چننے تھے۔۔۔ اس کے دکھوں کا مداوا کرنا تھا۔۔۔ اسے ایک پر آسائش زندگی دینی تھی۔۔۔۔
پر وہ۔۔۔ اسکی زندگی نے مہلت ہی نہ دی۔۔۔۔ مصطفی علی اکبر کے کندھے سے لگ سسکتےہوئے ندا کی کہانی سنا رہا تھا۔۔۔
مصطفی کی باتیں سن کر علی کو اس معصوم سی لڑکی پر ترس آیا جسے وہ خود بھی جانے انجانے تنگ کر دیا کرتا تھا۔۔۔۔ دیکھیں چاچا۔۔۔ خاموش ہو جائیں مت خود کو اس قدر اذیت سے دو چار کریں۔۔۔۔ علی نے مصطفی کے آنسو صاف کیے۔۔۔۔
کیسی اذیت یار۔۔۔ اذیت تو وہ تھی جو میں اسے دیتا رہا۔۔۔ تو ازالہ کریں نا چچا۔۔۔۔ اس سے اپنے چچا کی یہ حالت دیکھی نہ جا رہی تھی۔۔۔
کیا ابھی بھی یہ ممکن ہے علی۔۔۔۔ وہ بے بسی کی انتہا پر تھا۔۔۔۔
بالکل چچا۔۔۔ مگر کیسے۔۔۔۔ آنکھوں میں امید کی موہوم سی کرن جاگی۔۔۔۔
آپ اسکے دکھوں کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔اسکی اذیتوں کا مداوا کر کے اسے ایک پر آسائش زندگی دینا چاہتے ہیں نا۔۔۔۔ وہ مصطفی کا رخ اپنی جانب موڑے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے استفسار کر رہا تھا۔۔۔۔ ہاں مصطفی نے کسی ننھے بچے کی طرح ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
تو یہ سب اب بھی ممکن ہے چچا۔۔۔ آپ کو پتہ ہے نا چچا۔۔۔ جو اس دنیا سے چلا جائے تو وہ آپکی فاتحہ کا بھی محتاج ہو جاتا ہے۔۔۔ یوں ان کی قبر کے پاس بیٹھے رہنے سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ ۔۔
آپ اٹھیں گھر چل کر نماز ادا کریں اور ان کی مغفرت کی دعا کریں۔۔۔ عشاء کی نماز کے بعد سورہ ملک پڑھ کر بخشنے سے مرنے والے سے قبر کا عذاب اٹھا لیا جاتا ہے۔۔۔۔۔اور اب بھی تو عشاء کا وقت ہے نا۔۔۔
چلیں اٹھیں گھر چلیں۔۔۔ آپ کا تڑپنا رونا بلگنا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا۔۔۔ اگر واقعی انھیں خوش و خرم دیکھنا چاہتے ہیں تو ان کی آگے کی منزلیں آسانی سے طے ہو تو اس کے لیے دعا کریں۔۔۔۔ انھیں پڑھ کر بخشیں ۔۔۔۔ تا کہ انھیں بھی پتہ ہو کہ کوئی ان کے پیچھے بھی ہے جسے میری فکر ہے۔۔۔۔ جس طرح کھانا زندگی کے لیے نہایت ضروری اس طرح اس چیز کو اپنی زندگی کا لازمی جز بنا لیں اس سے رو گردانی نہ کریں آپ خود دیکھیں گے کہ وہ وہاں کس قدر مطمئن ہیں۔۔۔۔
علی اکبر کی باتیں مصطفی کے دل کو لگی تھی۔۔۔ وہ آنسو صاف کرتے ہوئے ایک الوداعی نظر قبر پر ڈالتے ہوئے علی کے ساتھ چل پڑا۔۔۔۔
ندا تم یہاں۔۔۔
یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔
وہ ایک بڑی سی چھت تھی جس کی سب سے اونچی جگہ پر وہ ایک سفید بے داغ لباس پہنے کھڑی تھی۔۔۔۔ڈوپٹہ سامنے دونوں بازوں پر پھیلا رکھا تھا۔۔۔۔ نورانی چہرا کسی بھی آرائش سے مبرا جگمگا رہا تھا۔۔۔۔کھلے بال پشت پر بکھرے تھے جو ہوا کے ساتھ اڑ رہے تھے۔۔۔۔ چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ مسکرانے سے آنکھوں کی چمک کئی گنا بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ واپس پلٹی تھی اور آنکھوں سے اوجھل ہو گئی تھی۔۔۔۔
ندااااااا۔۔۔
مصطفی ایک چینخ مارتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے چمک رہے تھے۔۔۔
رات عشاء کی نماز کے بعد سورہ ملک کی تلاوت کر کے وہ کتنی ہی دیر تک خدا کے حضور اس کی مغفرت کی دعا کرتا رہا تھا اور پھر وہیں درود شریف پڑھتے اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔
ایک بار پھر اسکی آنکھیں برسنے لگی تھی۔۔۔۔
خدا تمھاری آگے کی منزلیں آسان فرمائے۔۔۔۔
مصطفی نے سر دیوار سے ٹکائے اس کے لئے صدق دل سے دعا مانگی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
