Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
بیٹھ کر کپکپاتے ہاتھوں سے سوکھی روٹی کے نوالے توڑ کر فرش پر بکھری دال کو اکٹھا کر کے کھانے لگی۔۔۔۔ اسکے کھانے کی سپیڈ بتا رہی تھی کہ وہ واقعی بھوکی ہے۔۔۔۔ مصطفی کو تاسف گھیرنے لگا۔۔۔۔ کیا تھا کہ اگر وہ یہ ہی کھانا اسے ٹرے میں ہی دے دیتا۔۔۔ شرمندگی کے باعث اس سے یہ منظر مزید دیکھا نہ گیا اور وہ خود کو گھسیٹتا بالکونی میں چلا گیا۔۔۔ کچھ دیر بعد جب وہ واپس آیا تو فرش بالکل صاف تھا۔۔۔۔ غالباً وہ کھانا کھانے کے بعد فرش صاف کر چکی تھی۔۔۔۔ وہ گم صم سا آکر بیڈ کے کنارے پر لیٹ گیا۔۔۔۔ تم وہاں اس کونے میں اپنا بستر لگا لو۔۔۔ مصطفی نے کونے میں دبکی بیٹھی اس لڑکی کو اپنے دائیں جانب فرش کیطرف اشارہ کر کے گویا اسے اسکی آج کی ڈیوٹی سے چھٹی دی تھی۔۔۔۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر اس کونے میں جا کر لیٹ گئ۔۔۔ مصطفی نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ بجا دیا اور خود آنکھوں پر بازو رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگا
وہ اپنے دھیان میں ہاتھ میں نوٹس کھولے صفحے آگے پیچھے پلٹتا کوئی پوائنٹ ڈھونڈتا ہوا تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک کسی نازک وجود سے تصادم کے نتیجے میں اسکے نوٹس ہاتھ سے چھوٹے اور جا بجا ادھر ادھر بکھر گئے۔۔۔۔۔ سامنے موجود وہ نازک وجود بھی تصادم کی وجہ سے سر جھکائے اپنا ماتھا سہلا رہی تھی۔۔۔ اسکے اوپر منہ اٹھا کر نوارد کی طرف دیکھنے سے جہاں احد کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق ظاہر ہوئی وہیں پر سامنے موجود لڑکی کے چہرے پر خوف کے سائے لہرانے لگے۔۔۔۔ اس نے ایک نظر احد کی طرف دیکھا اور دوسری نظر نیچے بکھرے جابجا نوٹس کی طرف بجائے اس کے کہ وہ وہاں پر احد کی نوٹس اکھٹا کرنے میں مدد کرتی وہ سائید سے گزر کر فرار ہونے لگی۔۔۔ لیکن اسکی یہ حرکت احد کی نظروں سے اوجھل نہ رہ سکی۔۔۔۔ ایکسکیوز می مس۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ وہان سے بھاگ جاتی احد نے اسے آواز دے کر روکا۔۔۔۔ آپ وہی ہیں نہ۔۔۔۔ اس نے انگلی اٹھا کر پوچھا جیسے اپنے شک پر تصدیق کی مہر ثبت کرنا چاہتا ہو۔۔۔۔ احد کی بات پر اس لڑکی نے بنا کچھ بولے آنکھوں کی چلمن گرا دی گویا اسکے شک پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہو۔۔۔۔
دیکھیں مس میں اپنے اور اپنے گروپ کے اس روز کے رویے کی آپ سے معافی چاہتا ہوں۔۔۔۔ دراصل ہمارا وہ مقصد نہ تھا ہم تو بس فریشر سے ریکنگ کر رہے تھے۔۔۔۔۔ پر اس روز شائید مذاق تھوڑا زیادہ ہو گیا تھا۔۔۔۔ وہ انگلیاں چٹخاتی سر جھکائے اسکی بات سن رہی تھی۔۔۔ اٹس اوکے۔۔۔۔ وہ نظریں جھکائے ہی بولی اور بنا اسکی طرف دیکھے سائید سے ہوتی ہوئی آگے چلے گئ۔۔۔ اور احد ابھی تک اسکے نظریں جھکائے کنفیوز سے وجود میں ہی کھویا رہ گیا۔۔۔ وہ تو شاہان کے فریشرز کیساتھ ریکنگ کرنے کے بھی خلاف تھا پر ہمیشہ کی طرح آج بھی شاہان نے اپنی ہی چلائی تھی اور پھر اس معصوم سی لڑکی کا ڈرنا اور یوں رو دینا اسے بے چین کر گیا تھا۔۔۔۔ بار بار اسکی خوفزدہ ہرنی کی مانند غزالئ آنکھیں اسکی نظروں کیسامنے آتیں اور اسے بے چین کر جاتی وہ تب سے اس لڑکی کو اس سے ایکسکیوز کرنے کے لئے ڈھونڈ رہا تھا اور آج قسمت نے اسے بلآخر موقع دے ہی دیا تھا پر اس سے ایکسکیوز کرنے کے بعد دل سے بوجھ تو کیا ہٹتا پر اسے لگ رہا تھا کہ جیسے اسکے جانے کے بعد دل جیسے بالکل خالی ہو گیا ہو۔۔۔۔۔ وہ اپنے بالوں پر ہاتھ چلا کر جیسے خود پر ہی ہنسا تھا۔۔۔ جتنی ٹف لائف اسنے خود کو سیٹل کرنے کے لئے گزاری تھی اسکے بعد بھلا ایسی خرافات کی اسکی زندگی میں کیا گنجائش رہتی تھی۔۔۔۔۔ وہ بس اس لڑکی سے شرمندہ تھا اس لئے اسکا اسکا دل اسے سرزنش کر رہا تھا۔۔۔ وہ خود کو تاویلیں دے کر بہلانے کی کوشش کر رہا تھا جب اچانک اسکی نظر اپنے قدموں کے پاس گرے آئی ڈی کارڈ پر پڑی۔۔۔۔ اس نے جھک کر کارڈ اٹھایا۔۔۔۔ حجاب علی۔۔۔۔ اوہ تو تمہارا نام حجاب ہے وہ آئی ڈی کارڈ سے اسکا نام پڑھ کر بڑبڑایا۔۔۔۔ تو قسمت نے تم سے مزید ایک ملاقات کرنے کا موقع فراہم کر ہی دیا مس حجاب وہ زیرلب بڑبڑاتا آئی دی کارڈ جیب میں رکھتا اپنے نوٹس اکھٹے کرنے لگا جو کے اسکی بے توجہی کے باعث دور ہوا کے دوش کے سنگ آگے تک جا چکے تھے۔۔۔۔
آج پہلی بار شاہان کی موجودگی میں کلاس میں خاموشی تھی اور ہادیہ سکون سے اپنا لیکچر دے رہی تھی پر شاہان کی چمکتی آنکھیں کچھ اور ہی کہانی سنا رہی تھی جیسے وہ کچھ اور ہی سوچ رہا ہو۔۔۔۔ کچھ ایسا جو اس مس بلیک بیوٹی کو اندر سے ہرٹ کر دے۔۔۔۔ وہ جتنا اسے تنگ کرتا تھا ہادیا اتنا ہی اسے اگنور کرتی تھی۔۔۔ اور یہ ہی چیز ہادیہ کو اسکے لئے ایک چیلنج بناتی جارہی تھی۔۔۔۔ وہ اس لڑکی کی آنکھوں میں بے بسی کی انتہا دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ ان دونوں کا کوئی جوڑ نہیں تھا وہ کم از کم بھی شاہان سے گیارہ بارہ سال بڑی تھی اوپر سے تھی بھی اسکی ٹیچر۔۔۔۔۔ اسکا احترام لازم تھا شاہان پر۔۔۔۔ پر شاہان نے تو کبھی اپنے باپ کا احترام نہ کیا تھا تو پھر ہادیہ کیا چیز تھی۔۔۔۔
ایکسکیوزمی مس مجھے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔۔ وہ یکدم سے لیکچر کے دوران کھڑا ہو کر یوں بولا جیسے ٹاپک سے ریلیٹڈ بہت ضروری بات ہو۔۔۔۔۔۔ جی پوچھیں۔۔۔۔ ہادیہ پوری طرح اسکی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔ پوری کلاس اپنی اپنی سرگرمیاں ترک کئے ان دونوں کو سن رہی تھی۔۔۔۔۔ دراصل میرا سوال یہ ہے مس وہ ٹھوڑی کھجاتا ہوا مسکرا کر پوچھ رہا تھا کہ اللہ نے مڈل کلاس لوگوں کو اتنا معمولی کیوں بنایا ہے مطلب شکل و صورت کے حساب سے سانولی رنگت معمولی نین نقوش کہ کوئی ایک کے بعد دوسری نظر تک نہ ڈالے ان پر۔۔۔۔بالخصوص لڑکیوں کو۔۔۔۔ اس کی بات پر ہادیہ دھک سے رہ گئ ایک پل میں چہرے کی رنگت متغیر ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ لڑکا بھری کلاس میں ڈائریکٹ اسکی ذات پر اسکی شکل و صورت پر حملہ آور ہوا تھا۔۔۔۔ شاہان کی نظریں اسکے پل پل متغیر ہوتی رنگت پر تھی۔۔۔۔ اسکی حالت سے شاہان لطف اٹھا رہا تھا۔۔۔۔ نہیں مطلب کہ اگر ایسی کوئی خامیاں خدا ہماری کلاس کی لڑکیوں میں چھوڑے تو سمجھ بھی آتا ہے کیونکہ ان میں اتنی سینس ہوتی ہے اور ریسورسز بھی کہ وہ سیلونز کے چکر لگا لگا کر یا دوسری بہت سی وجوہات کی بنا پر اپنی ایسی خامیاں کور کر لیتی ہیں پر مڈل کلاس لڑکیاں تو سیزن کے سیزن کپڑے بمشکل لے پاتی ہیں ان کے لئے بڑا افسوس ہے مجھے۔۔۔۔ وہ اب سر نفی میں ہلاتا لطف لینے والے انداز میں مسکرا کر کہہ رہا تھا۔۔۔۔ چند ایک منٹس لگے تھے ہادیہ کو اپنی حالت پر قابو پانے کے لئے لیکن وہ جلد ہی سمبھل گئ تھی۔۔۔۔
آپ کو ایک واقعہ سناتی ہوں مسٹر شاہان وہ گلا کنھگار کر گویا ہوئی۔۔۔۔۔ ایک دفعہ ایک آدمی نے غریبوں میں کھانا بٹوایا اور تقسیم کے لئے اپنے ایک دوست سے کہا کہ وہ کھانا ان لوگوں میں تقسیم کرے۔۔۔۔ دوست نے اس سے پوچھا کہ تم کیسی تقسیم چاہتے ہو خدا جیسی تقسیم کہ آخری نبی ازماں محمد جیسی تقسیم۔۔۔۔ ساری کلاس دم سادے ہادیہ کو سن رہی تھی۔۔۔۔۔ یہ سن کر وہ آدمی شش و پنج میں مبتلا ہو گیا اور کچھ دیر تک سوچنے کے بعد گویا ہوا کہ اللہ جیسی تقسیم ٹھیک ہے۔۔۔۔ اس شخص نے کھانا تقسیم کرنا شروع کیا۔۔۔۔ اسنے ایک شخص کو ایک روٹی دی دوسرے کو چار روٹیاں دی اور کسی کو
کسی کو کچھ بھی نہ دیا۔۔۔۔ یہ دیکھ اس شخص کو بڑی حیرانی ہوئی اسنے اپنے دوست سے کہا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو تو اسکا دوست مسکراتے ہوئے بولا کہ یہ ہی اللہ کی تقسیم ہے کہ وہ جیسے چاہتا ہے نوازتا ہے جیسے چاہتا ہے نہیں نوازتا۔۔۔۔
اب آتے ہیں آپکے سوال کی طرف اسنے ایک منٹ کا توقف دیا اور پھر سے گویا ہوئی۔۔۔۔ اللہ نے اس دنیا میں دو طرح کے لوگ بنائے کچھ خوبصورت کچھ خوبسیرت کچھ کو یہ دونوں کوالٹیز عطا کی اور کچھ کو ان دونوں سے محروم رکھا۔۔۔۔ پر اسکے ساتھ ایک اور کام جو اللہ نے کیا وہ یہ کہ اس نے انسان کو ایک انمول چیز عطا کی جیسے حرف عام میں عقل کے نام سے جانا جاتا ہے۔۔۔۔۔ عقل ہوتی سب کے پاس سے لیکن اسے استعمال بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ ۔ جیسے صاف شفاف پانی بھی ایک جگہ پر ٹھہرا رہے تو اسے کائی لگ جاتی ہے مطلب تبدیلی کائنات کا معمور ہے بالکل اسی طرح اگر عقل کو مثبت کاموں اور مثبت سوچ کے لئے استعمال کرتے رہو تو ٹھیک ورنہ اسے بھی کائی لگنا شروع ہو جاتی ہے جو آپکی سوچنے سمجھنے اور دیکھنے کی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتی ہے۔۔۔۔ پھر اس کائی زدہ عقل کو آپ اتنا ہی استعمال کرتے ہو جتنا وہ آپکو خود کو استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔۔۔۔ آپ پھر وہیں تک دیکھ سکتے ہو جہاں تک اس دھندلے منظر کی حد بصارت ہوتی ہے یعنی آپکو صرف ظاہری خوبصورت چہرے دکھتے ہیں اور بس اس سے زیادہ آپ دیکھنے یا سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کیونکہ وہ کائی زدہ عقل آپکو اسکی اجازت نہیں دیتی۔۔۔۔ اللہ تعالٰی نے اس دنیا میں ہر انسان کو ایک خاص مقصد کے تحت بھیجا ہے اپنے اصل کی کھوج لگانے جستجو کا سفر طے کرنے۔۔۔۔ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے فرض کریں کہ آپ کمرہ امتحان میں بیٹھے ہیں آپ کا پرچہ آپ کے ہاتھ میں ہے اور آپ بجائے اپنا پرچہ حل کرنے کے کمرہ امتحان میں بیٹھے دوسرے لوگوں کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں انکی خوبصورتی بدصورتی اور انکے کپڑے جوتوں پر فوکس کئے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔۔۔۔ مطلب آپ اپنے اصل سے ہٹ گئے۔۔۔۔ نتیجہ کیا نکلے گا آپ اس امتحان میں فیل ہو جائیں گے۔۔۔۔ اور بقول آپکے آپکی کلاس کی لڑکیاں اور عورتیں اپنے پیسے کے بل پر اپنی خامیوں کو کور کر لیتی ہیں لیکن کیا دنیا میں آنے کا ایک یہ ہی مقصد رہ گیا ہے۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ اپر کلاس کی لڑکیوں اور عورتوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔۔۔۔آئے دن سیلونز کے چکر فلنگز سرجریز سکین ٹائیٹینگ اور ینگ رہنے کی کئ ادویات جو انہیں اپنی عمر سے کئ گنا کم دیکھاتی ہیں۔۔۔۔ پر ابھی بھی میرا سوال وہیں ہے کہ انکی عقل صرف انہیں چیزوں کے گرد گھوم گھوم کر کائی زدہ ہو جاتی ہے جو انہیں اس سے زیادہ سوچنے کی اجازت نہیں دیتی۔۔۔ پارٹیز گیٹ ٹو گیڈرز ڈیزائنر ڈریسز جیولری اور اپنی فٹنیس۔۔ پر سب سے اہم بات کہ کب تک۔۔۔۔ آخر کب تک وہ یوں اپنی فٹنیس مینٹین رکھ سکتی ہیں۔۔۔ چالیس سال پچاس سال ساتھ سال یا زیادہ سے زیادہ اسی سال۔۔۔۔ اسکے بعد۔۔۔۔ آگے کیا۔۔۔۔ وہ کائی زدہ عقل انہیں اس مقام تک پہنچنے کیوں نہیں دیتی کہ اسکے بعد کیا۔۔۔۔ کیا وہ رہتی دنیا تک یوں اپنے مقصد سے پھر کر صرف ینگ اور فٹ رہ سکتی ہیں۔۔۔۔ ظاہری بات ہے کہ نہیں۔۔۔۔ مٹی کے انسان نے مٹی میں ملنا ہے۔۔۔۔ ہر جاندار انسان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی۔۔۔۔ کلاس میں پن ڈراپ سائیلنس تھا۔۔۔۔ خوبصورت ہو یا قبول صورت سب نے ایک ہی جگہ جانا ہے کیونکہ یہ دنیا ایک خوبصورت دھوکہ ہے۔۔۔۔ اس کی شہرت بھی دھوکا ہے اس کی
کی جوانی بھی دھوکہ ہے اس کی دولت بھی دھوکہ ہے۔۔۔۔ کیونکہ اس دنیا میں سب کچھ فانی ہے۔۔۔۔ اس کلاس میں بہت سے خود سر اور مغرور لوگ موجود ہیں۔۔۔۔ مگر وہ کچھ بھی نہیں۔۔ آپ سب بتائیں کہ کیا فرعون سے زیادہ خود سر اور مغرور بھی کوئی تھا۔۔۔۔۔ فرعون سے زیادہ بھی دولت مند کوئی تھا اس سے زیادہ تکبر اور حماقت بھی کسی میں پائی جا سکتی ہے کہ جس نے اکھٹا خدائی کا ہی دعوا کر دیا۔۔۔۔ پر آج وہ کہاں ہے کیا ہے۔۔۔۔ وہ رہتی دنیا تک کے لئے مقام عبرت ہے اور ہمیں اس سے عبرت پکڑنی چاہیے کیونکہ جو لوگ گزرے ہوئے لوگوں سے عبرت نہیں پکڑتے وہ رہتی دنیا تک کے لئے عبرت بن جاتے ہیں۔۔۔ امید ہے مسٹر شاہان کہ اب آپکو میری بات سمجھ آگئ ہو گئ اور آپکو آپکے سوال کا جواب مل گیا ہوگا۔۔۔۔ اپنی بات ختم کرتی وہ اپنی چیزیں سمیٹتی مضبوط چال چلتی کلاس روم سے باہر چلے گئ۔۔۔۔
تمہاری یہ جرات کہ تم مجھے فرعون سے ملاو۔۔۔۔ شاہان نے زور سے ہاتھ کا مکہ ڈیسک پر مارا۔۔۔۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اسکی بات پر یوں بھری کلاس میں بھگو بھگو کر اسے جوتے مار کر چلی جائے گئ۔۔۔۔ اسکے خیال میں تو ہادیہ کو اسکا طنز سمجھتے ہوئے سر جھکا کر کلاس سے واک آوٹ کر جانا چاہیے تھا پر وہ تو اسکی سوچ سے بھی چار ہاتھ آگے نکلی تھی۔۔۔۔ مس ہادیہ اب میں تمہیں فرعون بن کر دیکھاوں گا۔۔۔۔ بچ سکتی ہو تو بچ جاو۔۔۔۔ وہ غصے سے پہچ و تاب کھاتا آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے لگا تھا۔۔۔۔
(جاری ہے)
