Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 42
No Download Link
Rate this Novel
Episode 42
ارسلان کھٹکے کی آواز پر سیکنڈ کے ہزارویں حصے پر کمرے سے باہر آیا تھا۔ ۔۔۔۔ باہر آ کر اسنے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ ۔۔۔۔
وہ دائیں اور بائیں دونوں سائیدوں پر راہداری کے اختتام تک چکر لگا کر آیا پر وہاں دور دور تک کوئی نہ تھا۔ ۔۔۔ ہر طرف سے مطمیعن ہو کر ارسلان آگے بڑھ گیا۔ ۔۔۔ جبکہ دوسرے کمرے کے دروازے کے پیچھے سانس روک کر کھڑی ارحمہ نے خدا کا شکر ادا کیا۔ ۔۔۔۔
وہ گلدان کے ٹوٹنے سے ہی بہت خوفزدہ ہو گئ تھی۔ ۔۔۔اس لئے بنا سوچے سمجھے جو پہلا دروازہ نظر آیا اس میں جا کر چھپ گئ۔ ۔۔۔۔
وہ مسلسل یا اللہ ہو یا رحمان کا ورد کر رہی تھی۔ ۔۔۔۔اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ اس نے پہلے کب اتنے دل سے اپنے رب کو پکارا تھا۔ ۔۔۔ پر آج وہ دل کی اٹھاہ گہرائیوں سے اپنے رب سے رجوع کر رہی تھی۔ ۔۔۔۔
اس نے ہادیہ سے سنا تھا کہ سچے دل سے رب کو پکارو تو وہ کیسے نہیں آپکی پکار سنتا۔ ۔۔۔۔
اسے اور کچھ سوجھ ہی نہیں رہا تھا وہ مسلسل اپنے رب کو یاد کر رہی تھی۔ ۔۔۔
یا اللہ بس ایک بار ایک بار رسوا ہونے سے بچالے دوبارہ کبھی تیری نافرمانی نہیں کروں گئ۔ ۔۔۔
اسکی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھیں۔ ۔۔ بصارت دھندلا رہی تھی۔ ۔۔۔۔ اسکا دماغ تیزی سے کچھ سوچ رہا تھا۔ ۔۔۔۔
وہ گیٹ سے باہر نہیں نکل سکتی تھی ایسے میں وہ ارسلان کی نظروں میں آ جاتی۔ ۔۔۔ اور گیٹ پر چوکیدار بھی تھا۔ ۔۔۔ پھر کیا کرے وہ۔ ۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔۔ چلتے چلتے وہ ایک کمرے کے باہر رکی۔ ۔۔۔ اندر سے کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ۔۔۔
اس نے اندر جھانک کر دیکھا وہ غالباں کچن تھا اور اس میں وہی عورت کچھ بنا رہی تھی جو پہلے اس کے لئے جوس لائی تھی۔ ۔۔۔اس عورت کی موجودگی سے اسے کچھ دھارد ملی تھی۔ ۔۔۔
کچھ سوچتے ہوئے وہ اندر چلی گئ۔ ۔۔۔۔
کچھ چاہیے تمہیں۔ ۔۔۔ وہ عورت سپاٹ سے لہجے میں بولی۔ ۔۔۔
خالہ ایک بات پوچھوں سچ سچ بتائیں گئیں۔ ۔۔۔۔ پوچھو۔ ۔۔۔ وہ عورت مصروف سے انداز میں پتیلے میں چمچ چلاتے ہوئے بولی۔ ۔۔۔۔
کیا مجھ سے پہلے بھی یہاں کوئی لڑکی آئی تھی۔ ۔۔۔ اسکی جانچتی نظریں اس عورت کے چہرے پر ٹکی تھی جو کہ ہر جذبے سے عاری تھا۔ ۔۔۔۔
ہر ہفتے آتی ہے۔ ۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی۔ ۔۔۔ اور پھر ایسے ہی عربیوں کے ہاتھوں بیچ دی جاتی ہیں۔ ۔۔۔۔وہ عورت اب کٹر بورڈ پر تیز تیز ہاتھ چلاتے سبزیاں کاٹ رہی تھی۔ ۔۔۔۔
ارحمہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔ ۔۔۔۔ اسنے گرنے سے بچنے کے لئے شیلف کا سہارا لیا۔ ۔۔۔۔
اس عورت نے جلدی سے آگے بڑھ کر ارحمہ کو پکڑا اور اور پاس پڑی کرسی پر بیٹھایا۔ ۔۔۔۔
خالہ خدا کے لئے۔ ۔۔۔ خدا کے لئے میری مدد کر دیں ۔۔۔۔ مجھے رسوا ہونے سے بچا لیں۔ ۔۔۔۔مجھے یہاں سے باہر نکلنے کا کوئی طریقہ بتا دیں۔ ۔۔
ارحمہ اس عورت کے دونوں ہاتھوں کو جھکڑ کر سسک اٹھی۔ ۔۔۔۔
دیکھو لڑکی یہ ڈرامہ بند کرو۔ ۔۔۔ اگر تم اتنی ہی پارسا ہوتی نہ تو اس وقت اس حالت میں یہاں پر موجود نہ ہوتی۔ ۔۔۔۔
وہ عورت اسکے نیم برہنہ جسم کی طرف اشارہ کرتی بولی۔ ۔۔۔
ارحمہ اس وقت شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی کہ بحر حال وہ عورت جو بھی کہہ رہی تھی سچ تھا۔ ۔۔۔
میں صرف تمہاری اتنی مدد کر سکتی ہوں کہ تمہیں یہاں سے نکلنے کا راستہ بتادوں باقی تم نکلنے میں کامیاب ہو پاتی ہو یا نہیں یہ تمہاری قسمت۔ ۔۔۔
وہ عورت اسے ندامت میں گرا پا کر گویا ہوئی۔ ۔۔۔ اور ارحمہ وہ اتنے سے بھی کھل اٹھی تھی۔ ۔۔۔۔۔
جس کمرے میں تم رکی ہوئی ہو اس کمرے کے ساتھ والا کمرا ارسلان صاحب کا ہے۔ ۔۔۔ اس کمرے کی دیوار گیر الماری کے آخری دروازے کو کھولو تو وہاں پر نیچے تہہ خانے کی سیرھیاں ہیں تہہ خانے کے اختتام پر ایک دروازہ ہے جو کہ باہر سڑک پر کھلتا ہے۔ ۔۔۔۔۔ یہ لوگ لڑکیاں سمگلر اسی راستے سے کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔ اگر خدا نے چاہا تو تم اس راستے سے نکل جاو گئ۔ ۔۔۔۔ الماری کے اس دروازے کی چابیاں اسی کمرے کے کسی دراز میں موجود ہیں۔ ۔۔۔
تمہارے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہے کیونکہ ٹھیک چار بجے تمہارے خریدار یہاں پہنچ جائیں گئے۔ ۔۔۔
آاہستہ آہستہ وہ عورت اسے سب کچھ سمجھا رہی تھی۔ ۔۔۔
لفظ خریدار پر ارحمہ کے دل پر ایک گھونسہ پڑا۔ ۔۔۔۔
تو مطلب اگر وہ یہاں سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو پائی تو وہ کسی کی زر خرید ہو گئ۔ ۔۔۔۔۔۔آنکھوں میں ایک بار پھر سے ساون کی جھری لگ گئ تھی۔۔۔۔
یہ کیسی محبت تھی جو اسے اس مقام پر لے آئی تھی۔ ۔۔۔
اس وقت اسے ہادیہ کی ایک ایک بات سچ لگ رہی تھی۔ ۔۔۔ آپو اپنی ارحمہ کو بچا لیں ۔۔۔ پلیز آپو۔ ۔۔۔وہ سسکتے ہوئے خود سے ہی مخاطب تھی۔ ۔۔۔۔
اس کے پاس وقت کم تھا اور کام زیادہ۔ ۔۔۔۔۔۔
وہ ایک آخری بار کوشش کر کے دیکھنا چاہتی تھی۔ ۔۔ کیا پتہ خدا اسکی سن لیتا۔ ۔۔۔۔
اسلام و علیکم
احد دروازہ کھول کر شاہان کو لئے احمد ماموں کے کیبن میں داخل ہوا تو شاہان نے احمد ماموں کے روبرو جاتے ہی انہيں سلام کیا۔۔۔۔
احمد ایک ٹرانس کی کیفیت میں کھڑے ہوۓ تھے اور وہ یک ٹک شاہان کو دیکھے جا
رہے تھے یہاں تک کہ وہ احد کیساتھ قدم قدم چلتا ہوا بالکل ان کے مقابل آ کر شیشے کی ٹیبل کے اس پار کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ احمد صاحب قدم قدم چلتے ہوۓ اسکے روبرو جا کر کھڑے ہو ئے شاہان نے مصافحے کے لۓ انکی طرف ہاتھ بڑھایا جیسے انہوں نے نظر انداز کر کے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔ ۔۔۔
اپنائیت کے اس قدر مظاہرے پر شاہان ساکت کھڑا رہ گیا۔۔۔۔ اس قدر محبت سے تو اسے کبھی اسکا باپ بھی نہ ملا تھا۔۔۔۔ کیسے ہو بیٹا۔۔۔۔ وہ اس سے الگ ہو کر اسکی کمر تھپتھپاتے ہوئے گویا ہوئے۔۔۔۔ اور شاہان وہ زندگی میں پہلی بار کنفیوز ہو رہا تھا۔۔۔۔ اپنائیت کے اسقدر مظاہرے پر اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرے۔
ٹھیک۔۔۔۔ بمشکل سر ہلا کر وہ یک لفظی جواب دے پایا۔۔۔۔
ارے بیٹھو بیٹا۔۔۔۔ انہوں نےخود آگے بڑھ کر اسکے لئے کرسی کھینچی اور خود گھوم کر دوسری طرف سے سربراہی کرسی پر بیٹھ گئے۔۔۔۔ تب تک احد بھی مسکراتے ہوے شاہان کے ساتھ والی کرسی سمبھال چکا تھا۔۔۔۔۔
بیٹا یہ تمہاری اپنی ہی کمپنی ہے۔۔۔۔۔ جیسے چاہو یہاں پر کام کرو۔۔۔۔۔ ابھی تمہاری اس فیلڈ میں پریکٹیکلی ابتدا ہے اس لئے ابھی تم کچھ دن احد کے انڈر کام کر کے تھوڑ ا بہت تجربہ حاصل کر لو۔۔۔ اگلے ماہ سے ہماری کمپنی ایک نئے پراجیکٹ پر کام کرنے والی ہے تو اس پراجیکٹ کو تم اور احد مل کر ہینڈل کرنا۔۔۔۔ اس بیچ اگر تمہیں کسی چیز کی سمجھ نہ لگے یا کوئی پوائنٹ کلئیر نہ ہو تو تم ڈائریکٙٹ میرے پاس بھی آ سکتے ہو۔۔۔۔۔
ابھی چونکے تم یونیورسٹی بھی جا رہے ہو تو فلحال تم پر وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے تم اپنی سہولت کے حساب سے آفس آ سکتے ہو۔۔۔ احد کیطرح۔۔۔۔ اپنا ٹائم آپ دونوں سیٹ کر لینا۔۔۔۔ پر اپنے پیپرز کے بعد آپ لوگوں کو باقاعدہ وقت پر آفس آنا پڑے گا۔۔۔۔
وہ تو بالا ہی بالا سب طے کئے بیٹھے تھے۔۔۔۔ شاہان جو اپنے طور ایک لمبا سوال نامہ تیار کئے بیٹھا تھا کہ وہاں جا کر اس سے یہ یہ کچھ پوچھا جائے گا اس نئ صورتحال کو سمجھنے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
ارے یہ کیا ماموں نہ کوئی سوال کیا اور نہ ہی انٹرویو۔۔۔ ڈائریکٹ سیٹ پکی۔۔۔۔ ناٹ فیئر ماموں۔۔۔۔
احد آنکھوں میں شرارت سموئے مسکراتا ہوا ان سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
بہت بولنے لگے ہو احد۔۔۔۔ انہوں نے ہلکا سا مسکرا کر سر جھٹکا۔۔۔
چلو آو میں شاہان کا تعارف سٹاف سے کرواوں۔۔۔۔ وہ ان دونوں سے مخاطب ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔
ان دونوں نے بھی انکی تقلید کی۔۔۔۔
یہ ہیں مسٹر شاہان اور میرے بعد اس کمپنی کے اونر۔۔۔۔
احمد صاحب لابی میں کھڑے تمام سٹاف ممبرز کے سامنے شاہان کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسکا تعارف کروا رہے تھے۔۔۔۔
اور شاہان وہ حق دق سا احمد صاحب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسقدر مان۔۔۔۔ باپ نے تو کمپنی میں گھسنے تک نہ دیا اورا وہ ماموں ہو کر اسے کمپنی کا مالک گردان رہا تھا۔۔۔۔
احد بھی سائید پر مسکراتا ہوا کھڑا تھا شاہان کے لئے احمد صاحب کی دیوانگی سے وہ واقف تھا۔۔۔ وہ بھلے ہی شاہان سے ملتے نہ ہوں۔۔۔ پر وہ شاہان کے ایک ایک پل کی رپوڑٹ احد سے لیتے تھے۔۔۔۔ وہ کبھی بھی اس کے بارے میں بے خبر نہیں رہے تھے۔۔۔ بلکہ اگر شاہان کو کوئی مسلہ درپیش ہوتا تو وہ احد کے ذریعے ہی بغیر منظر عام پر آئے اسکی مدد کرتے تھے۔۔۔۔
آپ سب کو شاہان کے حساب سے کام۔۔۔کرنا ہوگا کیونکہ میرا بیٹا تھوڑا موڈی ہے وہ شاہان کے شانے کے گرد ہاتھ رکھے محبت سے اپنے سٹاف سے مخاطب تھے۔۔۔۔ انکے لہجے میں شاہان کے لئے محبت ہی محبت تھی۔۔۔
امید ہے کہ آپ سب مجھے شکایت کا موقع نہیں دیں گئے۔۔۔۔
وہ سٹاف سے بات کر کے شاہان کا کندھا تھپتھپا کر واپس اپنے کیبن میں چلے گئے۔۔۔۔
شاہان اس وقت اپنی ہی فیلنگز سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔
ارحمہ بڑی ہمت کر کے چور نظروں س چاروں طرف دیکھتی ہوئی ارسلان کے کمرے کیطرف بڑھ رہی تھی ارسلان کمرے میں نہیں تھا اس طرف سے اسے اطمیعنان تھا کیونکہ وہ ابھی ابھی اسے باہر نکلتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔۔۔ اب وہ باہر کتنی دیر کے لئے گیا تھا وہ یہ نہیں جانتی تھی تھا تو یہ ایک بہت ہی رسکی کام پر اب اسے کئے بنا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔۔۔۔
دل الگ ایک سو بیس کی رفتار سے ڈھرک رہا تھا کہ اگر پکڑی گئ تو ارسلان اسکا کیا حشر کرے گا۔۔۔۔۔
خدا کا نام لے کر اس نے دروازے کا ہینڈل گھمایا۔۔۔۔ صد شکر کہ دروازہ لاک نہیں تٙھا۔۔۔۔ چڑررر کی آواز سے دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔۔۔ اسکے ہاتھ بڑی طرح سے کپکپا رہے تھے جسم پر الگ لرزہ طاری تھی۔۔۔ تھوک نگل کر اسنے زبان اپنے خشک پڑتے لبوں پر پھیری اور ایک چور نظر پھر سے ارد گرد ڈالی۔۔۔ اور جلدی سے دروازہ بند کر کے اندر آ گئ۔۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ چابی تلاش کرنا کہاں سے شروع کرے۔۔۔۔۔ بار بار وہ ڈھرکتے دل کے ساتھ دیوار پر لٹکتی گھڑی کہ طرف دیکھتی۔۔۔۔
جلدی سے اس نے کمرے کے ایک سرے سے چابی تلاشنی شروع کی۔۔۔۔ سب سے پہلے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل ۔کے دراز شروع کئے۔۔۔
بوکھلاہٹ میں اسکے ہاتھ سے چیزیں چھوٹی جا رہی تھیں۔۔۔۔ اے سی کی کولنگ کے باوجود اسکے ماتھے پر پسینے کے ننھنے ننھنے قطرے نمودار ہو رہے تھے۔۔۔۔ ایک کے بعد دوسرا اور پھر دوسرے کے بعد تیسرا دراز بھی دیکھ لینے کے بعد اس پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی۔۔۔۔ خ
یا اللہ مدد کردے میرے مالک۔۔۔ اسکا ننھنا سا دل کپکپا رہا تھا۔۔۔۔۔
اب وہ باری باری کبڈ کی تینوں سائیدز چیک کرنے لگی۔۔۔۔ اسکے تینوں پٹ بغیر تالے کے کھلے تھے۔۔۔ سوائے چوتھے پٹ کے۔۔۔۔ وہ پٹ لاک تھا اور وہی دروازہ نیچے تہہ خانے میں جاتا تھا۔۔۔۔
وہ اب کمرے کے بیچ و بیچ ایک ہاتھ کمرے پر رکھے دوسرے ہاتھ کو سر پر رکھے ہونٹ چباتی ہوئی کمرے کا طائرانہ جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔ چابی اگر اسی کمرے میں موجود ہے تو پھر کہاں ہو سکتی ہے۔۔۔۔ وہ اب ایک ایک چیز پر غور کر رہی تھی کیونکہ یہ تو تہہ تھا کہ یہاں سے فرار کا ایک یہ ہی راستہ ہے۔۔۔۔
کچھ سوچ کر اس نے بیڈ کا سارا میٹرس ایک جھٹکے سے اٹھا دیا پر نیچے کچھ بھی نہ تھا انتہائی مایوسی کے عالم میں اس نے وہ میٹرس واپس بیڈ پر سیٹ کیا۔۔۔ ایک سائیڈ سے وہ میٹرس سیٹ کرنے والی تھی کہ اسے وہاں بیڈ کی پائنتی کی جانب ایک چھوٹا سا چوکور دراز بنا دیکھائی دیا۔۔۔۔
ارحمہ نے جلدی سے دراز کھولا۔۔۔۔
باہر سے کوئی کمرے کی جانب آ رہا تھا۔۔۔ قدموں کی آواز قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔ ارحمہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔۔ اس نے ہربرا کر دروازے کی جانب دیکھا اور اتنی ہی تیزی سے واپس دراز کی جانب۔۔۔۔ دراز میں سامنے ہی وہ چابی پڑی تھی نیلے رنگ کے مور پنکھ کے کی رنگ میں موجود۔۔۔ بالکل ویسی ہی جیسی اسکی نشانی اس عورت نے بتائی تھی ۔۔۔ ارحمہ نے چیل کی سی تیزی سے وہ چابی اٹھائی اور میٹرس درست کر کے کھًڑی ہوئی ارادہ اب کہیں چھپنے کا تھا ۔۔۔۔ لیکن عین اسی وقت دروازہ کلک کی آواز سے کھلا ارحمہ اچھل کر پلٹی بوکھلاہٹ میں چابی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر عین دروازے کے سامنے جا گری۔۔۔ تبھی دروازے میں ارسلان نمودار ہوا غصے سے اسے گھورتا ہوا۔۔۔۔ ارحمہ کی جان ہوا ہونے لگی۔۔۔۔
ارحمہ نے شدت سے دعا کی تھی کہ کاش کہ ارسلان کے اس تک پہنچنے سے پہلے موت کا فرشتہ اس تک پہنچ جائے۔۔۔۔
