Meri Mohabbat Ho Tum By Iqra Sheikh Readelle50201 Last Episode (Part 2)
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode (Part 2)
🍁🍁🍁🍁
(6 سال بعد )
‘” ارے حدید بیٹا کیا کر رہے ہو رکھو اسے یہ تمہار کھیلنے کی چیز نہیں ہے .. اس سے تمھیں چوٹ لگ سکتی ہے ”
مشال جیسے ہی اپنے بیڈروم میں داخل ہوئی اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ہاتھ میں گم دیکھ کر اسکی طرف لپکی تھی
‘” اور آپ اتنی آرام سے بیٹھے ہوئے اسکو دیکھ رہے ہیں منع نہیں کر سکتے تھے اسے ”
مشال وہ گن دراز میں رکھتی تبریز کی طرف پلٹی جو صوفہ پہ حدید کے قریب بیٹھا کوئی فائل دیکھ رہا تھا
‘” ارے میری نادان بیگم میں تمہاری طرح بیوقوف نہیں ہوں یہ گن بلکل خالی ہے ,, وزن سے محسوس نہیں ہوا تمھیں ”
تبریز فائل سائیڈ پہ رکھتا اب مکمل اسکی طرف موتجہ ہوا اور اپنی بیوی کو دیکھا جو اب کھڑی اسکو گھور رہی تھی
‘” مام آپ کتنی ڈرپوک ہیں میرے اور بابا کی طرح بریو بنے ”
پانچ سالہ حدید اپنی ماں کی مذاق بنا رہا تھا
‘” دیکھا میرا بیٹا شیر ہے ..ایک دن یہ بھی میری طرح پولیس لائن جوائن کرے گا ..بلکل اپنے بابا کی طرح بننا تم ”
تبریز اپنے پاس بیٹھے حدید کو اپنی گود میں بیٹھاتے ہوئے بہت محبت سے بولا
‘” آپکے اسی لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا ہے .. جانتے بھی ہیں آج کیا حرکت کی ہے اس نے اسکول میں ”
وہ ان دونوں کے قریب ہی بیٹھتی ہوئی بولی جبکہ ایک نظر ناراضگی سے تبریز کی گود میں بیٹھے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا
‘” کیوں ایسا کیا کر دیا ہے اس نے جو تم اتنا غصّہ ہو رہی ہو”
وہ جانتا تھا کہ مشال آج پھر اسکی شکایات لیکر اسکے پاس آئی ہے اور وہ ہر بار کی طرح انجان بنکر پوچھ رہا تھا
‘” یہ پوچھو اس نے کیا نہیں کیا ..آج اسکول میں ایک بچے کی پٹائی کر کے آئے ہیں آپکے لاڈلے بیٹے ”
وہ ناراضگی سے تبریز کی طرف دیکھ رہی تھی
گھر میں سبھی حدید کی محبت کرتے تھے مگر اسکو ضدی اور بگاڑنے میں تبریز کا ہاتھ تھا
‘” کیوں بیٹا آپ نے بچے کو کیوں پیٹا یہ تو غلط بات ہے آپکی”
اس بار وہ اپنے بیٹے سے مخاطب ہوا جو خاموشی سے اپنے ماں باپ کی باتیں سن رہا تھا
‘” بابا اس نے ھاد کی پینسل لے لی اور پھر دے نہیں رہا تھا تو میں نے اور ھاد نے مل کر اسکی پٹائی کر دی ..اس نے چوری کی تھی بابا آپ اسکو اپنے ساتھ لیکر جانا ”
وہ بہت معصومیت سے اپنا کارنامہ بتا رہا تھا جبکہ تبریز نے بہت مشکل سے اپنی مسکراہٹ ضبط کی
اسکی اور ھاد کی محبت تو سب جانتے تھے دونوں میں صرف ایک مہینے کا فرق تھا اور محبت اور دوستی اتنی گہری تھی ایک ہی اسکول اور ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے
‘” بیٹا آج تو تم نے اسکو مار دیا مگر آئندہ تم ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے اور نہ ھاد کو کرنے دینا ورنہ بابا تم سے ناراض ہو جائے گے ”
وہ بہت محبت سے اسکو سمجھا رہا تھا
اور مشال جانتی تھی اب تو وہ اپنے باپ کی ناراضگی کے ڈر سے اسکی بات ماں جائے گا مگر بعد میں اس نے ایسی ہی حرکتیں کرنی تھی
‘” اوکے بابا آئندہ ایسا نہیں ہوگا ”
اس نے بہت فرمانبرداری سے گردن ہلائی تو تبریز نے مسکراتے ہوئے اسکی پیشانی پہ اپنے لب رکھ دئے
‘” جاؤ اب بڑے ابو اور بڑی امی تمہارا انتظار کر رہے ہونگے تمہارے سونے کا وقت ہو گیا ہے ”
اس نے حدید کو اپنی گود سے اتارا تو وہ بھاگتا ہوا روم سے نکل گیا
جلال شاہ اور اریشہ میں تو جان تھی اسکی اس لئے رات میں وہ انہیں دونوں کے پاس سوتا تھا
‘” اور تمھیں کتنی بار بولا ہے اس کنڈیشن میں اتنی ٹینشن مت لیا کرو .. ہمارے بےبیز کی صحت پر اثر ہوگا ”
تبریز مشال کا سر اپنے کندھے پہ رکھتا ہوا بولا جبکہ اسکا دوسرا ہاتھ مشال کے پیٹ پہ رکھا ہوا تھا
مشال کچھ نا بولی بس خاموشی سے اسکے کندھے پہ سر رکھے آنکھیں بند کئے بیٹھی رہی
وہ دوسری بار ایکسپیکٹ کر رہی تھی اور اس بار ٹوئنز تھے
‘” اس بار بھی ڈر لگ رہا ہے ”
اس نے مشال کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کے اپنے سامنے کیا
حدید کے ٹائم پر وہ بہت ڈری ہوئی تھی ڈر کی وجہ سے ہسپتال جانے سے بھی منع کر رہی تھی مگر پھر تبریز کے تسلی دینے پہ اس میں کچھ ہمّت آئی تھی
‘” ہاں لگ تو رہا ہے مگر تھوڑا سا ”
وہ بچارگی سے بولی تو تبریز کو اسکی شکل دیکھ کر بہت پیار آیا تھا
‘” ڈرو مت اس بار بھی ڈلیوری کے وقت میں تمہارے قریب رہوں گا ”
وہ مشال کے دونوں ہتیلیوں پہ اپنے لب رکھتا ہوا بولا تو اس نے پھر سے سکون سے آنکھیں بند کر کے تبریز سینے پہ اپنا سر رکھ دیا
اسے اپنے تبریز پہ بھروسہ تھا اس مشکل وقت میں وہ اسکے ساتھ رہے گ جیسے پہلے رہا تھا یہ سوچ کر اسکا ڈر ختم ہو جاتا تھا .
🍁🍁🍁🍁
” امی آپ نے ھاد کو دیکھا ہے کیا .. کب سے آواز دے رہی ہوں مگر مل ہی نہیں رہا ”
مہرہ عمارہ اور توفیق صاحب کے روم میں داخل ہوتی ہوئی ان سے مخاطب ہوئی تھی
لہجے میں پریشانی تھی
‘” ہاں بیٹا ابھی تو وہ یہیں سے گیا ہے شاید لان میں ہوگا کہہ رہا تھا وہاں روز اس وقت بلّی کا بچہ آتا ہے ”
توفیق صاحب مسکراتے ہوئے اسکے باتیں بتا رہے تھے
پانچ سالہ ھاد سب کا لاڈلا تھا مگر مہرہ اس سے کافی پریشان رہتی تھی وجہ اسکی حرکتیں جو بچوں والی بلکل نہیں تھی
“‘ ٹھیک ہے میں اسکو جاکر دیکھتی ہوں اسے تیار بھی کرنا ہے آپ لوگ بھی تیار ہو جائے ..سکندر کے آنے کے بعد فورا چلتے ہیں لیٹ ہو گئے تو مشال نہیں چھوڑے گی ہمیں ”
آج زویا ہر زیان کی بیٹی ھانیہ کا برتھڈے تھا جو آج تین سال کی ہو چکی تھی
مہرہ مسکراتی ہوئی بولی اور ان لوگوں تیار ہونے کا کہتی لان کی طرف بڑھی جہاں اسکا شہزادہ کھیلنے میں مصروف ہوگا
‘” ھاد بیٹا یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے یہ مر جائے گا ”
ابھی اس نے لان میں قدم رکھا ہی تھا جب اسکی نظر ھاد پہ پڑی جو گود میں بلّی کا بچہ لئے بیٹا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسکا گلا دبا رکھا تھا
وہ یہ منظر دیکھ کر مہرہ تیزی سے اسکی طرف بڑھی
‘” مام میں روز پیار سے اسکو اپنے پاس بلاتا ہوں مگر یہ نہیں آتا ”
وہ بڑی معصومیت سے اسکو بتا رہا تھا
‘” تو بیٹا آپ اسکو مار کیوں رہے تھے ..یہ تو بیچارہ معصوم ہے نہ ”
مہرہ نے پیار سے اسکو سمجھایا اور اسکے ہاتھ سے اس بچے کو چھوڑوایا تو وہ بچہ تیزی سے وہاں سے بھاگ چکا تھا
‘” کیونکہ یہ پیار سے بلانے پہ میرے پاس نہیں آیا اس لئے اسکو سزا دے رہا تھا تاکہ یہ آئندہ میری بات کو مان لے ”
اسکی بات پہ مہرہ نے اپنا سر پکڑ لیا تھا
جیسا باپ تھا بیٹا بلکل ویسا ہی تھا بلکہ بڑے ہوکر اس سے بھی آگے نکلنے والا تھا
‘” آپ نے اسے جس طرح سے سزا دی ہے نہ بیٹا اب یہ کبھی یہاں نہیں آئے گا ”
وہ اسکو اپنی گود میں اٹھاتی اندر کی جانب بڑھی ساتھ ہی اسکو سمجھا بھی رہی تھی
‘” کوئی بات نہیں میں ڈیڈ سے بول دونگا تو وہ مجھے ایسے بہت سارے بچے لاکر دے دیں گے ”
وہ بہت مطمئن انداز میں بولا مہرہ بس اسکو دیکھ کر رہ گئی تھی
اسکو تیار کرتے ہوئے وہ اسکو پیار سے سمجھاتی رہی مگر وہ سکندر کا بیٹا تھا مجال ہے جو اسکی بات سن لیتا تھک ہار کر مہرہ خاموشی سے اسکو تیار کر کے اسے عمارہ اور توفیق صاحب کے پاس چھوڑ کر اپنے بیڈروم میں داخل ہوئی
اس نے اپنے بیڈروم میں قدم رکھا تھا جب اسکی نظر صوفہ پہ نیم دراز سکندر پہ پڑی
مہرہ دروازہ بند کرتی اسکے قریب آئی اور جھک کر اسکی پیشانی پہ اپنے لب رکھ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا تو سکندر نے آنکھیں کھول کر اسکو دیکھا پھر اسکا بازو پکڑ کر صوفہ پہ اپنے قریب بیٹھا لیا
‘” آج کافی تھکے ہوئے لگ رہے ہو ”
مہرہ اسکآ چہرا دکھ کر وہ اسکی تھکن کا اندازہ لگا سکتی تھی ان چند سال میں وہ بزنس میں اپنا ایک نام بنا چکا تھا اب اسکا نام شہر کے بڑے بزنس مین میں شمار ہوتا کام کے ساتھ اسکی مصروفیت کافی بڑھ چکی تھی
کریم آج بھی اسکے ساتھ تھا بلکہ اسکی بھی شادی سکندر نے کروائی اور آج وہ بھی ایک بیٹی کا باپ بن چکا تھا
سکندر نے آپنا وعدہ پورا کیا وہ بدل چکا تھا پوری طرح سے
‘” ہاں کام زیادہ ہے آج کل اور دو میٹنگ بھی تھی اس لئے بہت زیادہ تھک گیا ہوں ”
وہ مہرہ کا سر اپنے سینے پہ رکھتا ہوا بولا جبکہ ایک ہاتھ سے نرمی سے مہرہ رخسار سہلا رہا تھا
‘” لیکن ہر بار میری تھکن تمہارے چہرے کو دیکھ کر ختم ہو جاتی ہے .. میرا بس چلے تو تمھیں آفس اپنے ساتھ لیکر چلا جاؤں ”
اسکی پیشانی پہ آپنا نرم گرم لمس چھوڑتا وہ اسکا چہرہ اپنے سامنے کر چکا تھا
‘” اور تمہارے بیٹے کا دھیان کون رکھے گا کیا اسے بھی آفس لے جانے کا ارادہ ہے تمہارا ”
وہ اس بار تھوڑا شرارت سے بولی
‘” اسکا خیال رکھنے کے لئے عمارہ اور توفیق ہے نہ اور میرا خیال رکھنے کے لئے تم ”
وہ اسکے ہونٹ کے نیچے موجود اس تل کو سہلاتا ہوا بولا جسکا آج تک وہ دیوانہ تھا
جبکہ اسکے عمارہ اور توفیق کہنے پہ مہرہ نے اسکو گھورا وہ اسکو کتنی بار کہہ چکی تھی کہ وہ انہیں امی بابا بولے مگر وہ ہمیشہ انہیں نام سے مخاطب کرتا تھا
‘” سکندر مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی ”
ھاد کا ذکر آتے ہی اسے فورا خیال آیا وہ اس بارے میں اس سے بہت دنوں سے بات کرنا چاہتی تھی
‘” ہاں بولو میں سن رہا ہوں ”
وہ اسکے بالوں کی خوشبو کو خود میں اتارتا بولا
‘” ھاد اپنی عمر کے بچوں جیسا نہیں ہے … اسکی آنکھوں میں ایک الگ سے جنون ہے ..بلکل تمہاری طرح ہے جیسے تم تھے ,, اسکی باتیں ..حرکتیں ..سب کچھ ”
وہ تھوڑا فکرمندی سے بولی جبکہ سکندر یوں ہی آرام سے بیٹھا سنتا رہا
‘” تو اس میں برا کیا ہے ہمارا بیٹا سمارٹ ہے اور بچوں سے بلکل الگ یہ تو اچھی بات ہے ”
اسکا انداز نارمل تھا
‘” جانتے ہو اسکول سے اسکی اس مہینے میں چار بار شکایات آ چکی ہے ..ادھر ھاد نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے ادھر حدید نے مشال کو دونوں ایک جیسے ہیں .. اگر انہیں اسکول سے نکال دیا تو کیا کریں گے ہم ..”
سکندر کا سکون اسے غصّہ دلا گیا
‘” کوئی بات نہیں میں وہ اسکول خرید لونگا تمھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں پھر کوئی شکایات نہیں آئے گی ”
سکندر نے جیسے بات ہی ختم کی تھی جبکہ مہرہ منہ کھولے اسکو دیکھتی رہی
‘” ڈارلنگ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پہ ٹینشن مت لیا کرو وہ ابھی چھوٹا ہے بچوں کی ایسی حرکتیں کرنا نارمل ہے …”
وہ اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسے اپنے قریب کرتا ہوا بولا
‘” ہاں تمہاری حرکتیں بھی کچھ کم نہیں تھی یہ میں کیسے بھول سکتی ہوں ”
اس نے خفگی سے کہتے ہوئے اس سے اپنا آپ آزاد کروانا چاہا مگر سکندر نے اپنی گرفت مضبوط ہی رکھی
‘” ڈارلنگ میں تمھیں بھولنے بھی نہیں دونگا اس لئے وقت وقت پر یاد کروانا میرا کام ہے ”
وہ اسکو صوفہ پر گرا کر اس پہ جھکا اور مہرہ کی ہاتھوں کو تھام کر ان پہ اپنے لب رکھ دئے
‘” ہاں جنتی ہوں تمہارے کام کو میں لیکن فلحال ہٹو پیچھے ہمیں تیار ہونا ہے ورنہ پارٹی کے لئے لیٹ ہو جائے گے ”
اسکی بات مطلب سمجھ کر مہرہ نے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اپنے اور اسکے درمیان فاصلہ قائم کیا تھا
‘” کونسی پارٹی یار… میرا فلحال کسی پارٹی میں جانے کا موڈ نہیں ہے …آج ہم گھر میں ہی پارٹی کرتے ہیں ”
سکندر اسکے اٹھنے کی کوشش کو ناکام بناتا پھر سے اس پہ جھکا اور اپنے لب اسکی ٹھوڈی پہ رکھ دئے
‘”بھول گئے صبح ہی تو بتایا تھا تمھیں ھانیہ کی سالگرہ کی پارٹی دی ہے زیان نے .. اگر تم نہیں گئے نہ تو تبریز بھائی اور مشال کا موڈ خراب ہو جائے گا صبح سے کئی بار فون آ چکے ہیں مشال کے… اس لئے ہٹو اور جلدی سے تیار ہو جاؤ”
اسکی بڑھتی گستاخی کو روکنے کے لئے مہرہ اسکو خود سے دور دھکیلتی اٹھ بیٹھی تھی
‘” ابے یار ..میں تو بھول ہی گیا تھا ”
مہرہ کے اٹھتے ہی وہ بھی اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اٹھ کھڑا ہوا
وہ اپنی تھکن کی وجہ سے اپنے بھائی کا موڈ ہرگز خراب نہیں کر سکتا تھا اس لئے ناچاہتے ہوئے بھی واشروم میں جا گھسا اور مہرہ مسکراتی اسکے اور اپنے لئے کپڑے نکالنے کے لئے وارڈراب کی طرف بڑھ گئی تھی ..
🍁🍁🍁🍁
‘” ارے مشال تم اب تک تیار نہیں ہوئی جلدی کرو مہمان بھی آنا شروع ہو جائے گے کچھ دیر میں ”
ذویا اریشہ بیگم کے روم سے نکلتی مشال سے مخاطب ہوئی جو اپنے بیڈروم کی طرف جا رہی تھی
جلال شاہ کے معافی مانگنے کے بعد وہ تبریز کو زبردستی اپنے پورشن میں لے آئے تھے
کیونکہ وہ اب ایک فیملی کی طرح رہنا چاہتے تھے اور پھر مشال اور تبریز انکی بات سے انکار نہیں کر سکے
بلکہ وہ تو اپنی آدھی پراپرٹی تبریز اور سکندر کے نام کر چکے تھے جسے وں دونوں بھائی نے یہ کہہ کر انہیں واپس کر دی کی اس پراپرٹی پہ زیان کا حق ہے مگر جلال شاہ اور زیان نے بہت اسرار کیا مگر وہ دونوں نہیں مانے پھر جلال شاہ کو ہی انکی بات ماننی پڑی تھی
‘” تم تو ہم سے بھی پہلے تیار ہو چکی ہو بلکہ بہت اچھی اچھی بھی لگ رہی ہو .. ”
مشال زویا کو دیکھتی ہوئی خوشدلی سے بولی
ذویا شکل صورت کے عادت اور مجاز میں بھی کافی اچھی تھی وہ مشال کے ساتھ بلکل بہنو کی طرح رہتی تھی اور مہرہ کے ساتھ بھی اسکی کافی اچھی دوستی تھی
‘” بس تم سے تو کم ہی لگتی ہوں جناب …اور بس جلدی تیار ہوکر آؤ میں ھانیہ کو دیکھتی ہوں کب سے زیان نے سنبھالا ہوا ہے اسکو ”
ذویا مسکراتی ہوئی اپنے روم کی طرف بڑھی تو مشال بھی اپنے بیڈروم میں آ گئی تیار تو اسکو بھی ہونا تھا
‘” یہ کیا تب ریز آپ ابھی تک ایسے ہی لیٹے ہوئے ہیں مجھے لگا آپ اب تک ریڈی بھی ہو چکے ہونگے ”
مشال نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا تبریز کو بیڈ پر لیٹا دیکھ کر حیران ہوئی تھی
‘” میری بیوی کو سب سے فرصت ملے تو ذرا اسے اپنے شوہر کا بھی خیال آ جائے کہ اسکا شوہر کب سے اسکے انتظار میں بیٹھا ہے کہ اسکی بیوی آکر اسکے لئے کپڑے نکالے گی”
وہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے مقابل آ کھڑا ہوا
نظریں مشال کے سراپے پہ ہی جمی ہوئی تھی اس کنڈیشن میں بھی وہ اسکو اور حسین لگ رہی تھی
‘” کم از کم آپ یہ کام تو آپ خود کر لیا کریں اس میں بھی آپکو ہماری ہی ضرورت پڑتی ہے ”
مشال ناراضگی سے کہتی وارڈراب کی طرف بڑھی مگر تبریز اسکو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کر چکا تھا
‘” اب کیا کروں یار تم نے اپنی ایسی عادت ڈالی ہوئی ہے کہ تمہارے بغیر میرا کوئی کام ہی نہیں ہوتا ہے ”
وہ محبت سے اسکی پیشانی چومتا ہوا بولا
گزرتے وقت کے ساتھ وہ ایک بہت اچھا شوہر ثابت ہوا تھا اسکی مشال کے لئے محبت ہر روز گہری ہوتی جا رہی تھی
‘” اب آپکو اپنی عادتیں بدلنی ہوگی کیونکہ ہماری مصروفیت مزید بڑھنے والی ہے ”
وہ شرارت سے اسکی طرف دیکھتی اسکو آگاہ کر رہی تھی
‘” کوئی بات نہیں میں تمہاری مصروفیت میں سے اپنے لئے وقت نکال لیا کروں گا ”
وہ اسکی چھوٹی سی ناک کو چومتا ہوا بولا مشال کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
‘” اچھا مگر کیسے ”
اس نے جاننا چاہا جبکہ اسکی بات پہ تبریز دلکشی سے مسکرایا نظریں اسکے گلابی لبوں پہ جمی ہوئی تھی
‘” ابھی بتا دیتا ہوں کیسے ”
اپنی بات کہتا وہ اسکے لبوں پہ جھکتا اسکی سانسوں کو خود میں اتارنے لگا
اسکی اس گستاخی پہ مشال سختی سے اسکے دونوں بازو تھام گئی تھی
‘” اگر دن میں تم ایسی تین چار کس مجھے دے دو تو مجھے کوئی پرابلم نہیں ہوگی تمہاری مصروفیت سے ”
تبریز اسکی بند آنکھوں کو دیکھتا ہوا شرارت سے بولا تو اسکی بات سن کر مشال نے یکدم سے اپنی آنکھیں کھولی تھی
‘” تھوڑا سدھر جائے آپ …باپ بننے کے بعد بھی آپکی حرکتیں نہیں بدلی ”
مشال نے خفگی سے اسکے سینے پہ مکا مارا تھا
‘” کیا کروں یار تمہارے سامنے ساری شرافت ختم ہو جاتی ہے میری ”
تبریز آنکھ دباتا پھر سے اس پہ جھکنے لگا جب حدید تیزی سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تو تبریز پل میں اس سے فاصلے پہ ہوا
‘” مام ..بابا .. آپ لوگ تو کہہ رہے تھے ھاد آج ہمارے گھر آئے گا مگر دیکھیں نہ اب تک نہیں آیا میں کب سے انتظار کر رہا ہوں اسکا ”
اسکے معصوم چہرے پہ ناراضگی تھی تبریز نے آگے بڑھ کر اسکو گود میں اٹھا لیا
‘” میری جان ابھی بابا نے ھاد کے ڈیڈ سے بات کی وہ لوگ بس تھوڑی دیر میں آ جائے گے ”
تبریز اسکو لئے صوفہ پہ آ بیٹھا اور مشال تبریز کے کپڑے نکال کر خود تیار ہونے چل دی جانتی تھی وں دونوں باپ بیٹے کی میٹنگ لمبی چلنے والی تھی
🍁🍁🍁🍁
‘” ویسے زیان یہ تم نے بہت اچھا کیا اپنی بیٹی کی سالگرہ سلیبریٹ کر کے ورنہ بات تو روز ہو جاتی ہے مگر مصروفیت کی وجہ سے ملنا نہیں ہوتا ہے”
سکندر ایک نظر پورے لان پر ڈالتا ہوا زیان سے مخاطب جو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا
تبریز کو بھی اسکی بات پسند آئی تھی
زیان نے اپنے کچھ بزنس پارٹنر اور کچھ خاص دوست کو انوائٹ کیا ہوا تھا
اس وقت وہ تینوں ایک ساتھ باتیں کر رہے تھے جبکہ دوسری سائیڈ پہ ان تینوں کی بیویاں کھڑی تھی
حدید اور ھاد اپنی شیطانیاں شروع کر چکے تھے وہ دونوں جب بھی ساتھ ہوتے تو انکو روکنا مشکل ہو جاتا تھا
‘” ہاں زویا اور میں نے اس لئے پارٹی کے بارے میں سوچا کافی عرصے سے کوئی فنکشن بھی نہیں ہوا تھا گھر میں ”
زیان اسکی بات سن کر مسکرایا تھا
‘” اچھا سوچا تم نے ”
سکندر اس بار تبریز کی طرف دیکھتا ہوا بولا تو دونوں بھائی مسکرا دئے
پاس ہی کھڑی اریشہ بیگم نے دل میں اپنے تینوں بیٹوں کی نظر اتاری تھی
انکی دنیا تھے انکے بیٹے
‘” اچھا تم دونوں باتیں میں ابھی آتا ہوں ”
زیان اپنے بزنس پارٹنر کو آتا دیکھ ان سے اجازت لیتا وہاں سے چلا گیا تو اب وہ دونوں وہاں اکیلے رہ گئے تھے
‘” اور تمہارا بزنس کیسا چل رہا ہے ”
زیان کے جاتے ہی تبریز سکندر سے مخاطب ہوا جو سامنے کھلتے ھاد اور حدید کو دیکھ رہا تھا
‘” بس دعا ہے تمہاری .. پوری کوشش کر رہا ہوں اپنا کام اچھے سے کروں ”
سکندر اس انداز میں بولا کہ تبریز نے ہنستے ہوئے ایک پنچ اسکے سینے میں مارنا چاہا جسے سکندر نے تیزی سے پکڑ لیا اور پھر مسکراتے ہوئے تبریز کو اپنے سینے سے لگا چکا تھا ہر گزرتے دن کے ساتھ ان دونوں بھائی میں محبت بڑھتی جا رہی تھی
کبھی کبھی تو دونوں سوچتے تھے کہ اگر وہ ساتھ بڑے ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا آخر جڑواں تھے بغیر کہے ایک دوسرے کی پریشانی سمجھنے لگے تھے
‘” میں ھاد اور حدید کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہوں کیونکہ ہمارا بچپن تو ساتھ گزرا نہیں لیکن ہمارے بچیں ساتھ ہیں اور دونوں میں گہری محبت بھی ہے ”
اب دونوں کھڑے اپنے بیٹوں کو دیکھنے لگے جہاں مہرہ اور مشال کھڑی دونوں کو ڈانٹ رہی تھی کیونکہ وہ یہاں بھی ایک بچے کو رلا چکے تھے
‘” لیکن ان دونوں شیطانوں کا ساتھ رہنا دوسرے بچوں کے لئے خطرناک ہوتا ہے ”
سکندر ہنستا ہوا بولا
وہ دونوں آج پھر اپنی ماں کو شرمندہ کروا چکے تھے
‘” چلو دیکھتے ہیں انہیں بھی ورنہ اس بات کا ہم پر ہی الزام آئے گا کہ ہم اپنے بیٹوں کا خیال نہیں رکھتے ”
تبریز اس طرف بڑھتا ہوا بولا تو سکندر بھی اسکے پیچھے چل دیا
دونوں دور سے ہی اپنی بیویوں کے چہرے پہ غصّہ دیکھ سکتے جو اب کھڑی دونوں کو ڈانٹ رہی تھی
اب انہیں اپنی اپنی بیوی کا غصّہ ٹھنڈا کرنا تھا تاکہ وہ انکے بچوں کی جان چھوڑ دیں
اور دونوں کو اپنی بیویوں کے غصّے کو بہت اچھے سے ختم کرنا آتا تھا ..
🍁🍁🍁🍁
وہ ھاد کو عمارہ اور توفیق صاحب کے پاس لیٹا کر اپنے بیڈروم میں داخل ہوئی اسکا ارادہ اب اپنے کپڑے تبدیل کرنے کا تھا ویسے بھی اس ساری میں اسکو کافی الجھن ہو رہی تھی
ڈریسنگ کے پاس آکر وہ پہلے اپنی جیولری اتارنے لگی آج کی پارٹی کافی اچھی رہی ان لوگوں نے بہت وقت بعد اتنا انجوۓ کیا ساتھ میں ورنہ مصروفیت کی وجہ سے وقت ہی نہیں ملتا تھا ایک ساتھ کہیں جانے کا
کچھ مشال کی حالت کی وجہ سے وہ لوگ فلحال کہیں جا نہیں پا رہے تھے
مشال کا خیال آتے ہی اسکے ہاتھ یکدم سے رکے اب وہ بھی دوبارہ سے ماں بننے والی تھی اور ایک وہ تھی
‘” اتنی بھی کیا جلدی ہے ڈارلنگ سب اتارنے کی کم از کم میرا تو انتظار کر لیتی .. میں نے ابھی جی بھر کے دیکھا بھی نہیں تھا تمھیں ”
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب سکندر پیچھے سے اسکو اپنے حصار میں لیتا اسکی کان کی لؤ کو چومتا ہوا بولا
سکندر کی خود پہ پکڑ اور نرم گرم لمس سے مہرہ اسکی طرف موتجہ ہوئی تھی
‘” یہ بات ان سے بولو جو تمھیں جانتے نہیں .. اپنی نظروں کے سامنے سے ہٹنے تو دیا نہیں مجھے ,, اور کتنا جی بھر کے دیکھنا ہے ”
مہرہ اپنی چوڑیاں اتانے ہی والی تھی جب سکندر اسکے ہاتھ تھام کر اسکا رخ اپنی طرف پلٹ چکا تھا
“” جب جانتی ہو تو پھر میرے آنے سے پہلے سب اتارنے کی گستاخی کیوں کر رہی تھی ”
وہ گہری نظروں سے اسکے چہرے کو دیکھتا اسکے لبوں پہ جھکنے لگا تھا جب مہرہ نے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کیا تھا
‘” کیا ہوا ڈارلنگ موڈ کیوں آف ہے تمہارا ”
سکندر کو مہرہ کی یہ حرکت بری نہیں لگی کیونکہ وہ اسکا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ وہ کسی بات کو لیکر پریشان ہے
‘” مشال اور تبریز کے یہاں دو اور فرد کا اضافہ ہونے والا ہے اور ہمیں دیکھو ”
اسکے چہرے پہ اداسی تھی
“” کیوں ہمارے پاس ھاد ہے نہ وہ دس سے کم نہیں ہے ہمارے لئے ”
سکندر کا انداز نارمل تھا جبکہ مہرہ کو اسکی بات پسند نہیں آئی
‘” اور تمہاری وہ چار پانچ بیٹیوں والی فرمائش کا کیا ہوا .. اب بیٹی پسند نہیں ہے تمھیں ”
مہرہ ہر بار کی طرح پھر سے اپنی بات منوانے کی کوشش میں لگ چکی تھی جبکہ سکندر اسکی سننے والا نہیں تھا
‘” مجھے بیٹیاں ابھی بھی پسند ہے ..لیکن میں تمہاری زندگی خطرے میں ڈال کر اپنی خوائش پوری نہیں کر سکتا”
اس نے جیسے بات ختم کرنی چاہی تھی
وہ مہرہ کے اس وقت کی تکلیف اب تک نہیں بھولا تھا اور پھر جب ھاد کی ڈلیوری کے بعد ڈاکٹر نے اسکو بتایا کہ دوسری بار کی پریگننسی اسکی جان کے لئے رسکی ہو سکتی ہے تو سکندر نے اپنا ارادہ پختہ کر لیا وہ اپنی خوائش کے لئے اسکی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا
‘” اور ویسے بھی ڈارلنگ اگر اتنی ساری بیٹیاں ہو جاتی تو میری توجہ تم پر سے کم ہو جاتی جو میں بلکل نہیں چاہتا”
اس بار وہ اسکو کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کر چکا تھا
“‘ پر سکندر میں چاہتی ہوں ہماری فیملی کمپلیٹ ہو .. پلیز میری بات مان لو ”
وہ بضد تھی اپنی بات پہ ہمیشہ کی طرح
‘” مہرہ تم جانتی ہو میں نے تم سے وہ محبت کی جسکی کوئی حد نہیں ہے.. اور جس دن ھاد کو پہلی بار میں نے اپنی گود میں لیا اس دن میں محبت سے عشق کی منزل پہ آ گیا…میری زندگی ..میری فیملی تم سے کمپلیٹ ہے ”
وہ بہت نرمی سے اسکے لبوں کو چھوتا ہوا بولا
اور ہر بار کی طرح اس بار بھی سکندر کا ایک ایک لفظ اسکو خاموش کروا گیا تھا
یہ سچ تھا وہ اسکی زندگی کے لئے اپنی خوائش کو ختم کر چکا تھا تو کیا وہ اسکے لئے اپنی اداسی خطم نہیں کر سکتی ہے
ہاں وہ کر سکتی تھی اپنے سکندر کے لئے کچھ بھی کر سکتی تھی
“” اب ڈارلنگ یہ باتیں چھوڑو اور مجھ پہ تھوڑی توجہ دے لو جب سے آفس سے آیا ہوں یا تو ھاد میں مصروف ہو یا پھر مجھے پارٹی میں لیکر چلی گئی ”
وہ اب پھر سے اپنے پہلے والے موڈ میں آ چکا تھا
“” نہیں فلحال مجھے چینج کرنا ہے اسکے بعد میرا سونے کا ارادہ ہے بہت تھک چکی ہوں میں آج ”
وہ اپنے گرد بندھے اسکے ہاتھ ہٹاتی چینج کرنے کے لئے واشروم کی طرف بڑھی تھی
‘” چلو ٹھیک ہے آج میں تمہاری چینج کرنے میں ہیلپ کر دیتا ہوں ”
وہ آگے بڑھی ہی تھی جب وہ اسکا پلو تھام چکا تھا جو مہرہ کے بڑھتے قدموں کو روک گیا
‘” سکندر پلیز پریشان مت کریں نہ … چھوڑے ہمیں ھاد کو بھی دیکھنا ہے جاکر ”
وہ اسکی پکڑ سے اپنا پلو چھوڑانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ اسکو مزید اپنی طرف کھینچنے لگا
‘” ھاد کو تم سارا دن دیکھتی ہو اب تھوڑا مجھے دیکھ لو .. میں تمہاری توجہ کا منتظر ہوں ”
اسنے ایک جھٹکے میں مہرہ کی ساڑی کا پلو کھینچا تو مہرہ سیدھا اسکے سینے سے آ لگی تھی
“‘ تم دونوں باپ بیٹے مجھے پریشان کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے .. سارا دن وہ پریشان کرنے کے لئے کم ہے جو تم شروع ہو جاتے ہو ”
وہ مچلی تھی اسکو سخت ہوتی گرفت میں ایک بچے کا باپ بننے کے بعد وہ نرم ہونے کی جگہ مزید جنگلی بن گیا تھا جس سے مہرہ کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا تھا
‘” تو ڈارلنگ اس میں برا کیا ہے دن میں وہ کرتا ہے اور رات میری ہے ”
وہ معنی خیزی سے کہتا اسکے کندھے سے بلاؤز ہٹا کر وہاں اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
اسکی اس گستاخی پہ مہرہ نے اپنے ہاتھ اسکے سینے پہ رکھ دئے اسکے ہونٹوں کے ساتھ اب اسکے ہاتھ بھی گستاخی کرنا شروع کر چکے تھے
‘” سکندر پلیز ..میں بہت تھکی ہوئی ہوں ”
اسکے ہاتھوں کا لمس اپنے کمر پہ موجود ڈوری پہ محسوس کر کے مہرہ نے احتجاج کرنا چاہا تھا
مگر وہ اسکی بات ان سنی کرتا پھر سے اسکے ہونٹوں پہ جھک گیا مطلب صاف تھا وہ فلحال اسکا کوئی بہانا نہیں سننے والا کتنے ہی دیر وہ دونوں یوں ہی سحر انگیز لمحات میں کھوئے رہے تھے جب سکندر کے کوٹ میں موجود موبائل بجا تھا
وہ مہرہ سے جدا ہوتا اپنے موبائل کی طرف موتجہ ہوا جس پہ کریم کی کال آ رہی تھی
‘” میں ابھی پانچ منٹ میں آتا ہوں تم سونا مت ”
وہ مہرہ کی ہدایت دیتا تیزی سے روم سے نکلا جبکہ مہرہ بغیر وقت ضائع کئے تیزی سے چینج کرنے کے لئے واشروم میں گھس گئی
‘” ہاں بولو کریم کیا بات ہے ”
وہ اپنے کمرے سے باہر آ چکا تھا
‘” ہممم … ٹھیک ہے وقت آ گیا تھا اسکے پر کاٹنے کا بہت ہوا میں اڑ رہا ہے نہ .. مجھے ایڈریس سینڈ کر دینے میں پہنچ جاؤں گا ”
کریم سے بات کرتے وقت اسکے چہرے پہ وہ نرم تاثرات پتھر میں تبدیل ہو گئے تھے
وہ اپنی فیملی کی نظر میں بدل چکا تھا مگر آج بھی وہ ڈیوڈ تھا
لیکن پہلے والے ڈیوڈ اور آج والے ڈیوڈ میں بہت فرق تھا آج والا ڈیوڈ صرف تیمور خان جیسے لوگوں کو ختم کرتا تھا جو غیر کانونی کام کرتے تھے اور پھر سے کسی اریشہ کے ساتھ غلط نہ ہو
کریم سے مزید بات کرنے کے بعد وہ اپنے بیڈروم کی طرف بڑھا ابھی اس نے اندر قدم ہی رکھا تھا جب ھاد کی آواز اسکے کانوں میں پڑی
سکندر نے دیکھا مہرہ اپنے کپڑے تبدیل کئے بیڈ پہ بیٹھی ہوئی تھی جبکہ اسکا بیٹا لیٹا اس سے کچھ کہہ رہا تھا
یقیناً آج وہ اسکے ارادوں پہ پانی ڈال چکا تھا وہ بس ایک ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا
وہ اپنے ایک ہی بیٹے سے اتنا پریشان ہو گیا تھا جبکہ تبریز تو اب تین بچوں کا باپ بننے والا تھا اسکی حالت سوچ کر سکندر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
‘” ڈیڈ یہاں آئے نہ مجھے آپ سے امپورٹنٹ بات کرنی ہے ”
اسکی نظر جب اپنے باپ پہ پڑی تو فورا بولا جبکہ مہرہ اپنی ہنسی دبائے اسی کو دیکھ رہی تھی
وہ جانتی تھی اسکا بیٹا یقیناً اس سے بلّی کے بچے کو لیکر فرمائش کرنے والا ہے اور سکندر نے صبح تک اسکی اس فرمائش کو پر کر دینا تھا
‘” آ رہا ہوں بیٹا ”
وہ مسکراتا ہوا اپنے بیٹے کی طرف بڑھا جانے کیا امپورٹنٹ بات کرنے والا تھا اس سے
‘” تم زیادہ خوش مت ہو ..ھاد کے بعد تمہارا ہی نمبر ہے..اسکو سلا کر ہم پھر وہیں سے کنٹنیو کریں گے ”
اپنے بیٹے کے پاس لیٹنے سے پہلے وہ اسکو وارن کرنا نہ بھولا تھا جبکہ مہرہ مسکراتی ہوئی اپنی جگہ پہ لیٹ کر ان دونوں باپ بیٹوں کو بات کرتا ھوا دیکھنے لگی
سچ کہا تھا سکندر نے اسکی فیملی کمپلیٹ تھی
وہ تینوں ایک دوسرے کو مکمل کرتے تھے
..سکندر کی مہرہ..
..مہرہ کا سکندر ..
..اور مہرہ سکندر کا ھاد ..
🍁🍁🍁🍁
“”””ختم شد “””
