53.5K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode (Part 1)

,,,(ایک ہفتے بعد ),,,
” نکاح مبارک توفیق ہو …میں آج تم دونوں کے لئے بہت خوش ہوں …تم میری عمارہ کو بہت خوش رکھنا ”
مسز ناز ان دونوں کے قریب ہی بیٹھتی ہوئی بولی ساتھ میں جلال شاہ بھی تھے
‘” یہ کہنے والی بات نہیں ہے اریشہ .. اب سے ساری خوشیوں پہ عمارہ کہ حق ہے …اور ھم دونوں کی خوشی ایک دوسرے سے ہے ”
وہ بہت محبت سے اپنے پہلو میں بیٹھی عمارہ کی طرف دیکھ کر بولے تو عمارہ اپنا چہرہ شرم سے نیچے جھکا گئی تھی
ابھی چند لمحے پہلے ہی تو عمارہ انکے نام لکھ دی گئی تھی انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ انکی شادی اس عمر میں ہوگی
لیکن انہیں اپنی محبت مل گئی تھی یہ انکے لئے کافی تھا
‘” صحیح کہا تم نے اریشہ ..میں بھی بہت خوش ہوں تم دونوں کے لئے ..تم دونوں نے اپنی زندگی کسی اور کے لئے گزار دی لیکن تمھیں اب باقی کی زندگی ایک دوسرے کے لئے گزارنی ہے ایک دوسرے کو خوش رکھ کر ”
اس بار جلال شاہ مسکراتے ہوئے بولے
عمارہ اور توفیق کی وجہ سے ہی آج انکی اریشہ انکے پاس تھی وہ ان سے اس بات کے لئے شکریہ بھی کر چکے تھے
ساتھ ہی انہوں نے اور زیان نے سے سب کے سامنے تبریز سے معافی بھی مانگی تھی
اپنے بیٹے کی وجہ سے وہ کتنا شرمندہ ہوئے تھے سب کے سامنے انکا سر جھکا دیا تھا زیان کی حرکت نے
تبریز جلال شاہ کو معاف کر چکا تھا مگر زیان کو اس شرط پہ معاف کیا کہ وہ دوبارہ ایسے کام نہیں کرے گا
اور اس بار زیان کان پکڑ لئے تھے اور اپنے باپ کے ساتھ بزنس کرنے کا فیصلہ کیا جس پہ سبھی مطمئن ہو گئے
‘” اب تو میں باقی کی زندگی مسز توفیق کے ہی نام کر چکا ہوں میرا آج سے سارا وقت بس ہماری بیگم کا ہوا ”
جلال شاہ کی بات پہ توفیق صاحب شرارتی انداز میں بولے تو انکی بات سن کر اس بار وہ تینوں ہنس پڑے جبکہ عمارہ کا جھکا سر مزید جھک گیا تھا
تبریز جو وہیں کھڑا ان چاروں کی باتیں سن رہا تھا اسکی نظر مشال پہ پڑی جو اس وقت اکیلی کھڑی تھی اسکو اکیلا کھڑا دیکھ کر تبریز اسکی طرف بڑھا تھا
‘” نکاح بھی ہو گیا بیگم اور تم نے ابھی تک میرا منہ میٹھا نہیں کروایا ”
تبریز اسکے مقابل کھڑا ہوتا گہری نظریں اسکے سراپے پہ جمائے بولا جو اس وقت ریڈ کالر کی سوٹ میں کھلتا ہوا گلاب لگ رہی تھی
‘” تو کر لیں منہ میٹھا کس نے منع کیا ہے ”
مشال سامنے ٹیبل پہ رکھی مٹھائی کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی
‘” یہیں کر لوں سب کے سامنے … پھر بعد میں مت بولنا کہ میں بےشرم ہو گیا ہوں ”
وہ اسکے ہونٹوں پہ اپنی نظریں جمائے معنی خیزی سے بولتا مشال کا چہرہ اسکے سوٹ کے جیسا کر گیا تھا
‘” ہمیں بعد میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے ھم ابھی کہہ دیتے ہیں آپ بہت بےشرم ہیں .. کبھی تو جگہ اور وقت کا خیال کر لیا کریں ”
اسکی باتوں کہ مطلب سمجھ کر مشال خفگی سے بولی
‘” تم اس وقت اتنی حسین لگ رہی ہو نہ کہ مجھے کسی چیز کا خیال ہی نہیں رہتا ”
تبریز اسکا رخسار نرمی سے سہلاتا ہوا بولا تو مشال سٹپٹا کر اس سے دور ہوئی تھی
واقعی میں اسے کسی کی موجودگی کا بھی خیال نہیں تھا وہ تو شکر تھا انہیں کسی نے دیکھ نہیں تھا
‘” ہم غلط تھے آپ بےشرم نہیں بہت بدتمیز بھی ہیں ”
وہ اسکو گھورتی ادھر ادھر دیکھتی ہوئی بولی
چاروں بڑے ابھی بھی بیٹھے باتیں کر رہے تھے سکندر کریم اور زیان کے ساتھ بیٹھا ھوا تھا جبکہ مہرہ ملازمہ کے ساتھ مل کر کھانا لگوا رہی تھی
‘” گھر چلو زرا تم … آج تمھیں بتاؤنگا کہ میں اور کیا کیا ہوں .. بہت دن سے بچا رہی ہو تم ”
وہ اسکو دھمکی دے رہا تھا
مشال ابھی اسکے جواب میں کچھ کہتی جب مہرہ کی آواز پہ اسکے پاس چلی گئی
جبکہ تبریز اسکے جانے پہ ٹھنڈی سانس بھرتا اس طرف پلٹا جہاں اب سکندر اکیلا بیٹھا ہوا تھا
‘” تمہارا زخم کیسا ہے اب “‘
وہ اسکے بازو پہ لگے زخم کی بات کر رہا تھا گولی صرف چھو کر گزری تھی مگر اسکا زخم کافی گہرا تھا پہلے وہ درد کی وجہ سے اس ہاتھ سے کام بھی نہیں کر پا رہا تھا مگر اب تھوڑا تھوڑا کر لیتا تھا
‘” اب تو کافی بہتر ہے زخم بھی ٹھیک ہو رہا ہے ”
وہ تبریز کی طرف دیکھ کر مسکرایا تھا
وہ پچھلے پانچ دن سے بہت مصروف رہا تاشا جیسے بڑے گینگسٹر ختم ہو گیا تھا ساتھ ہی اسکی فائل بھی بند ھو چکی تھی زیان کا نام اس فائل میں نہیں تھا اس لئے اسکو بچانا آسان ھو گیا اور شوکت کہاں چلا گیا تھا کسی کو خبر نہیں تھی لیکن جاتے جاتے وہ ایک اچھا کام کر گیا تھا
‘” ابھی دو دن پہلے ہمیں اسی ویران کھنڈر میں ایک لاش ملی ہے ..جہاں تاشا کا گیم ختم ہوا تھا اسکو بلکل اسی طرح سے مارا گیا ہے جس طرح سے تیمور خان کو ختم کیا تھا ھم نے ”
تبریز اسی کے پاس بیٹھتا ہوا بولا نظریں سکندر کے چہرے پہ ہی جمی ہوئی تھی
‘” دلاور شاہ …تیمور خان کا پارٹنر ”
سکندر اسکی طرف دیکھتا ھوا سرد لہجے میں بولا
‘” مطلب .. وہ تم تھے ..”
اب کوئی شق کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی تبریز بےیقینی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا
‘” پر تم نے بولا تھا کہ تم وہ سب کام چھوڑ چکے ہو ”
تبریز نے اسکو اسکی کہی بات یاد دلانا ضروری سمجھا ساتھ اسکو غصّہ بھی آیا تھا
‘” ہاں یاد ہے مجھے اور میں چھوڑ چکا ہوں وہ سب مگر اس شخص کو کیسے چھوڑ دیتا جو میری بیوی کی ڈیل کرنے والا تھا تیمور خان سے …اسکا بھی مرنا ضروری تھا اس لئے مار دیا اسے ”
وہ بڑے آرام سے بیٹھا اپنا کرنامہ بتا رہا تھا
اور تبریز سوچ رہا تھا ایک ہاتھ میں چوٹ ہونے کے باوجود بھی وہ کسی کو اتنی بےرحمی سے مار چکا تھا
سچ میں وہ بہت خطرناک تھا تبھی تو آج تک پولیس اسکے خلاف ثبوت نہیں ڈھونڈھ پائی تھی خود تبریز بھی نہیں
‘” بےفکر رہو ..وہ آخری بار تھا میں سب چھوڑ چکا ہوں اس لئے زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ”
سکندر اسکی پریشانی سمجھ سکتا تھا اس لئے فورا بولا
‘” آ جائیں سب لوگ کھانا لگ چکا ہے ”
اس سے پہلے کہ تبریز اسکی بات کا کوئی جواب دیتا
مہرہ کی آواز پہ خاموشی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر ڈائننگ روم کی طرف بڑھ گیا تھا
‘” تم نہیں آ رہے ہو …یا میں تمہارے لئے یہیں لیکر آؤ ”
سکندر کو یوں ہی بیٹھا دیکھ مہرہ اس سے مخاطب ہوئی جو اسکی موجودگی کو نظرانداز کئے ہوئے بیٹھا تھا
‘” مجھے بھوک نہیں ہے تم کھا لو .. اور اچھے سے کھانا”
وہ اسکی طرف دیکھ بغیر بولا اور سامنے ٹیبل پہ رکھا نیوز پیپر اٹھا کر دیکھنے لگا
‘” پر تمھیں دوائی بھی لینی ہے اس لئے تھوڑا تو کھا لو ”
اس دن کے بعد سے وہ مہرہ سے ایسے ہی بات کرتا تھا اسکی بات کا جواب صرف ہاں نہ میں دیتا جس سے مہرہ کو تکلیف ہوتی تھی
وہ جانتی تھی وہ اس سے ناراض ہے اور وہ اسکی ناراضگی کی وجہ بھی جانتی تھی شادی کی تیاریوں میں وہ اتنا مصروف ہو گئی تھی کہ اس سے بات بھی نہیں ہو پا رہی تھی
‘” میں کہہ چکا ہوں مہرہ مجھے بھوک نہیں ہے اگر مجھے کھانا ہوگا میں خود مانگ لونگا تم جاکر کھا لو ”
وہ دو ٹوک انداز میں کہتا اپنی بات ختم کر چکا تھا جبکہ مہرہ کچھ دیر تو کھڑی اسکا دیکھتی رہی پھر اپنے آنسو ضبط کرتی وہاں سے چلی گئی تھی
اور سکندر وہی بیٹھا اسکی پشت کو دیکھتا رہا
🍁🍁🍁🍁
‘” کتنا مزا آ رہا تھا وہاں سب کے ساتھ اور آپ ہمیں اتنی جلدی وہاں سے لے آئے ..سب کیا سوچ رہے ہونگے ہمرے بارے میں ”
مشال کار ڈرائیو کرتے تبریز کی طرف دیکھتی ہوئی ناراضگی سے بولی
ابھی تو مسز ناز جلال شاہ وہیں پر موجود تھے اور وہ اسکو وہاں سے لے آیا وہ آنا تو نہیں چاہتی تھی مگر اسکی گھوری کو نظرانداز نہ کر سکی تھی
‘” تمھیں اپنے مزے کی پڑی ہوئی ہے …اور مجھے اتنی دیر سے جو بےکرار کیا ہوا ہے اسکا کیا ”
وہ گہری نظروں سے اسکی طرف دیکھتا اسکی ہتھیلی پہ اپنے لب رکھتا ہوا مسکرایا تھا
‘” اور بےفکر رہو کوئی کچھ نہیں سوچ رہا ہوگا سب میرے جذبات کو سمجھتے ہیں … کیونکہ آج تو فرصت ملی ہے مجھے تمہارے اور اپنے بےبی کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنے کی”
وہ اپنا ایک ہاتھ اسکے پیٹ پہ رکھتا ہوا بولا جبکہ دوسرے ہاتھ سے ڈرائیونگ کر رہا تھا
‘” اپنے ان بےوقت کے جذبات کو قابو کرنا سیکھ لیں ایس پی صاحب ورنہ آپکی حرکتوں نے ایک دن ہمیں سب کے سامنے شرمندہ ضرور کروا دینا ہے ‘”
وہ اسکی سکندر کے گھر والی حرکت یاد کرواتی ہوئی بولی اور ساتھ ہی اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کروانا چاہا مگر اس بار وہ اسکی نازک انگلیوں کو چومنے لگا
‘” وہاں اتنی دیر سے ضبط ہی کئے ہوئے تھا اب گھر جاکر مجھ سے بلکل امید مت رکھنا …آج رات میرا اپنے بابا بننے کی خوشی سلیبریٹ کرنے کا ارادہ ہے ”
وہ اسکی طرف دیکھتا ہوا اسکو اپنا پلان بتا رہا تھا
‘” اگر گھر صحیح سلامت جانا ہے تو پلیز ڈرائیونگ پہ دھیان دیں لیں اپنے پلانز بعد میں بتا دینا ”
وہ اسکو گھورتی اپنا ہاتھ آزاد کرواتی ہوئی بولی تو اس بار تبریز مسکراتا ہوا ڈرائیونگ کرنے لگا
مشال کار کی سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گئی وہ لوگ کب گھر پہنچ گئے اسے خبر تک نہیں ہوئی تھی
اسکی آنکھ تبریز کے اسکو اپنی باہوں میں اٹھانے پہ کھلی جو اب اسکو لئے اپنے پورشن کی طرف بڑھ رہا تھا
‘” چلو اچھا ہے تم خود ہی اٹھ گئی ورنہ میں تمھیں اپنے طریقے سے اٹھاتا ”
اسکو جاگتا دیکھ وہ شرارت سے بولا اور اپنے پیر کی مدد سے بیڈروم کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تھا
ابھی اس نے مشال کو نیچے اتارا ہی تھا جب وہ اپنے بیڈروم کی حالت دیکھ کر حیران ہوئی تھی
‘” یہ سب کب کیا آپ نے ..اور کیوں ..”
اسکا روم بہت ہی اچھے سے ڈیکوریٹ کیا ہوا تھا وائٹ اور ریڈ پھولو کی پتی بیڈشیٹ پہ بکھری ہوئی تھی
مشال مسکراتی ہوئی ایک ایک چیز کو دیکھنے لگی
‘” یہ سب تمہارے لئے … ہمارے بےبی کے لئے ..”
وہ دروازہ لاک کرتا پیچھے سے اسکو اپنے حصار میں لیتا ہوا بولا اپنی ٹھوڈی اس نے مشال کے کندھے پہ ٹکا دی تھی
‘” جانتی ہو مشال مجھے اس پل کا کتنی شدّت سے انتظار تھا مگر جب مجھے یہ نیوز ملی اس وقت حالات الگ تھے میں اس دن سہی سے خوش بھی نہیں ہو پایا مگر آج میں اس دن کا ہر لمحہ جینا چاہتا ہوں ”
وہ مشال کے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولتا اسکے بال ایک سائیڈ پہ کرتا اسکے کندھے پہ اپنے لب رکھ چکا تھا
‘” آپ اس دن یہ سب کرنا چاہتے تھے ”
وہ اپنا آپ اس سے آزاد کرواتی ہوئی بولی لہجے میں شرارت تھی
‘” اس دن تو تم بیہوش تھی اگر تم ہوش منہ ہوتی اور حالات کچھ اور ہوتے تو میں بہت کچھ کرنے کہ ارادہ رکھتا تھا ”
وہ پل میں اسکا رخ اپنی طرف کرتا اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام چکا تھا
‘” لیکن جیسا میں کہہ چکا آج میں وہ سب کرونگا جو اس دن کرنا چاہتا تھا جو میرا دل کر رہا تھا ”
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اسکے کٹاؤدار ریڈ لپ اسٹک سے سجے لبوں پہ اپنے لب رکھ چکا تھا
مشال جو اسکے اس عمل کے لئے تیار نہ تھی تبریز کی اس گستاخی پہ سختی سے اسکا کالر دبوچ گئی تھی
کتنے ہی لمحے دونوں کے بیچ یوں ہی خاموشی چھائی رہی وہ اس پہ جھکا اسکی خوشبو کو خود میں اتارتا رہا
اسکی بڑھتی شدّت سے مشال کا تنفس بگڑنے لگا تو وہ اس سے جدا ہوا
‘” بہت مس کیا تمھیں مشال .. بہت زیادہ ”
وہ اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو چومتا ہوا بولا وہ اپنے پیچھے پانچ دن کی مصروفیت کی بےچینی اسکو بتا رہا تھا ہر لمحہ اسکا دل مشال کے پاس آنے کو کرتا تھا
‘” ہم نے بھی آپکو بہت مس کیا تبریز.. ہم سوچتے تھے کب آپکی مصروفیت ختم ہو اور آپ ہمارے ساتھ ٹائم سپینڈ کریں”
اس نے اپنے نازک ہاتھوں سے اسکا چہرہ چھوا تھا مشال کی
سانس ابھی بھی بگڑی ہوئی تھی دھڑکنے بےترتیب ہو چکی تھی
‘” میں نے تو اب تک اسکو بھی اچھے سے محسوس نہیں کیا.. تم نے مجھے بہت بڑی خوشی دی مشال بہت بڑی اور میں اتنا خوش ہوں کہ اپنی یہ خوشی بیان نہیں کر سکتا ”
وہ ایک ہاتھ سے اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا ہوا بولا جبکہ دوسرا ہاتھ اسکا مشال کے پیٹ پہ رکھا ہوا تھا ہونٹوں پہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ تھی
‘” ہم بھی بہت خوش ہیں تبریز ”
اس نے تبریز کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا
” اسے دیکھ کر تم اور خوش ہو جاؤ گی ”
اسکو مسکراتا دیکھ تبریز نے اپنے کوٹ کی پاکٹ سے ایک خوبصورت سا پینڈنٹ نکالتا ہوا بولا اور جھک کر مشال کی گردن میں پہنانے لگا
‘” یہ تو بہت خوبصورت ہے تبریز ”
وہ خوش ہوتی ہوئی اپنے گلے میں موجود اس پینڈنٹ کو چھوتی ہوئی بولی
اسکی آنکھوں میں ایک چمک سی تھی
‘” دیکھا کہا تھا نہ میں نے تم خوش ہو جاؤ گی .. بس اگر تم اسی طرح ہر سال مجھے ایسی گڈ نیوز دیتی رہو گی تو میں ایسے توہفے دیکر تمہاری خوشی بڑھاتا رہوں گا ”
وہ شرارت سے کہتا اس پہ جھکا اور اپنے لب اسکے گلے میں موجود اس پینڈنٹ پہ رکھ دئے تھے
‘” ہر سال ..یہ ہم سے نہیں ہوگا ”
اسکی بات سن کر مشال اس خود سے دور کرکے حیرانی سے اسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی
جبکہ اسکی شکل دیکھ کر تبریز مسکراتا ہوا اسکو اپنی باہوں میں اٹھا چکا تھا
‘” سب ہوگا بس تمھیں میرا ساتھ دینا ہے اس نیک کام میں”
وہ معنی خیزی سے کہتا اسکی طرف ایک آنکھ دباتا ہوا بولا تو مشال شرما کر اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپا گئی تھی ..
🍁🍁🍁🍁
‘” کتنا اچھا دن تھا نہ آج جلال … سب کتنے خوش تھے عمارہ توفیق میرے بیٹے سکندر اور تبریز میری پوری فیملی مجھے مل گئی ”
مسز ناز جلال شاہ کے پاس صوفہ پہ بیٹھتی ہوئی بولی اس وقت انکا چہرہ خوشی سے کھل رہا تھا
اتنے سالوں بعد آج وہ انہیں اتنا خوش دیکھ رہے تھے
‘” وہ صرف تمہارے بیٹے نہیں ہے اریشہ ..سکندر اور تبریز ہمارے بیٹے ہیں … ہماری فیملی ”
جلال شاہ انکے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے بولے جبکہ اریشہ بےیقینی سے انکی طرف دکھ رہی تھی
کتنا چاہتی تھی وہ کہ جلال شاہ تبریز کو اپنا بیٹا بولے اسے بھی اپنے گھر کہ فرد سمجھے اور آج انکا یہ خواب پورا ہو گیا تھا
‘” میں تمہاری اس حیرانی کی وجہ سمجھ سکتا ہوں .. لیکن میں بہت غلط تھا اریشہ میں سوچتا تھا کہ ایک گینگسٹر کا بیٹا ایک گینگسٹر ہی ہو سکتا ہے ..لیکن تبریز بلکل الگ نکلا مجھے اسکے ایسا ہونے سے چیڑ ہونے لگی میں ہمیشہ اسے تیمور خان کا بیٹا سمجھتا تھا کبھی اسے تمہارا بیٹے سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی ”
وہ آج اپنی ایک ایک غلطی کہ اعتراف کر رہے تھے
انکی زندگی میں کبھی ایسا وقت آئے گا انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا
‘” میں جو سوچتا تھا میرے بیٹا تبریز سے بہتر ہے کیونکہ وہ ایک شریف باپ کی اولاد ہے مگر دیکھو میرا اللّه نے مجھے غلط ثابت کر دیا …اس دن میرا غرور ٹوٹ گیا مجھے احساس ہو گیا کہ ضروری نہیں غلط باپ کی اولاد غلط ہی ہوگی غلط تو انسان کی سوچ ہوتی ہے جو زیان کی تھی ”
اس وقت وہ بہت شرمندہ لگ رہے تھے جو اریشہ کو بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا
انہوں نے جلال شاہ کو بیچ میں روکنا چاہا مگر وہ ہاتھ سے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کر چکے تھے
‘” تبریز تیمور خان کا نہیں تمہارا بیٹا تھا جبھی وہ اتنا اچھا انسان بنا ..اور سکندر ایک گینگسٹر ہونے کے بعد بھی تیمور خان جیسا نہیں تھا جانتی ہوں کیوں …'”
اس بار وہ اک پل کے لئے رکے تھے
‘” کیونکہ انکی ماں تم تھی اور اللہ کو تمہارا صبر پسند آیا جبھی تمہارے دونوں بیٹوں کو ایک اچھا انسان بنایا ..تبریز نے میری اور زیان کی اتنی سال ناپسندیگی برداشت کرنے کے بعد بھی اس نے زیان کی مدد کی …اور سکندر اسکی بیوی کو کڈنیپ کروانے میں زیان کا ہاتھ تھا پھر بھی اس نے زیان کو معاف کر دیا …اریشہ تمہارے بیٹے سب سے بہتر ہیں ”’
جلال شاہ کی بات انکی آنکھیں نم کر گئی تھی
” آپ یہ سب باتیں کیوں کر رہے ہیں ..اب تو سب ٹھیک ہو گیا نہ ہمارا زیان واپس لوٹ آیا ہمیں اب سب بھول جانا چاہئے اور زیان کی شادی کے بارے میں سوچنا چاہئے ”
ابکہ بار وہ تھوڑا ہلکے پھلکے انداز میں بولی یہ سب باتیں کر کے وہ جلال شاہ کو مزید شرمندہ نہیں دیکھ سکتی تھی
‘” ارے ہاں یہ اچھا یاد دلایا تم نے میں تم سے زیان کی شادی کے بارے میں ہی بات کرنے والا تھا ”
مسز ناز کے یاد دلانے پہ وہ اس بار کچھ پرسوچ انداز میں بولے
‘” اچھا تو کیا آپ نے زیان کے لئے کوئی لڑکی پسند کر لی ہے ”
وہ اس بار مسکرائی تھی
‘” ہاں ایسا ہی سمجھ لو ..میرے بزنس پارٹنر ہے نہ ساجد صاحب انکی بیٹی ہے زویا ایک پارٹی میں ملاقات ہوئی تھی اس سے مجھے زیان کے لئے بہت پسند آئی ہے وہ ”
انہوں نے اپنے دوست کی بیٹی کا ذکر کیا تھا
‘” یہ تو اچھی بات ہے ..ایک بار میں زیان سے بات کر لوں پھر آگے بات چلاتے ہیں ”
مسز ناز اس بار خوش ہوئی تھی انکا بس اب زیان ہی ره گیا تھا شادی سے
‘” تم اسکی فکر نہ کرو اسکو ہمارے فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ”
جلال شاہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے بولے تو مسز ناز انکی بات سن کر مطمئن ہو گئی کیونکہ یہ سچ بھی تھا زیان نے اب اپنے ہر فیصلے کا حق انہیں دے دیا تھا
🍁🍁🍁🍁
مشال اور تبریز کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی مسز جلال شاہ اور زیان بھی چلا گیا
وہ عمارہ کو توفیق صاحب کے کمرے میں چھوڑ کر باقی کا سارا کام خم کرنے کے بعد اپنے بیڈروم کی طرف بڑھی اسکا ارادہ آج سکندر سے بات کرنے کا تھا
یہ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ سکندر اس سے ناراض تھا اور اب مہرہ سے اسکی خاموشی برداشت نہیں ہو رہی تھی
وہ بیڈروم میں داخل ہوتے ہوئے دعا کر رہی تھی کہ وہ سویا ہوا نہ ہو سکندر کو ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑا دیکھ کر مہرہ خوش ہوئی جو ایک ہاتھ سے اپنی شرٹ کے بٹنز کھولنے کی کوشش کر رہا تھا
‘” لاؤ میں تمہاری ہیلپ کر دیتی ہوں ”
مہرہ دروازہ لاک کرتی اسکے قریب آئی اور اسکا شرٹ سے ہٹانے لگی
‘” نہیں رہنے دو ..جس طرح سے شرٹ پہنی تھی اسی طرح سے اتار بھی لوں گا ”
وہ بےرخی سے کہتا اسکا ہاتھ جھٹک چکا تھا مگر مہرہ کو اسکا ہاتھ جھٹکنا بلکل برا نہیں لگا کیونکہ وہ اسکے لئے اتنا بڑا فیصلہ لے چکا تھا
اسکے لئے وہ اسکی بےرخی بھی برداشت کر سکتی تھی کیونکہ مہرہ جانتی تھی وہ کس وجہ سے اس سے ناراض ہے اور اب اسے اپنے شوہر کو منانا تھا
‘” میں جانتی ہوں تمھیں کسی کی ضرورت نہیں ہے تم اپنا کام خود کر سکتے ہو مگر میں تمہاری ضرورت بننا چاہتی ہوں..تمہاری وہ عادت جو کبھی چھوٹ نہیں سکتی ..مرتے دم تک بھی نہیں ”
وہ اسکو اپنی باتوں میں الجھا کر اسکی شرٹ کے بٹنز کھول چکی تھی جبکہ نظریں سکندر کے چہرے پہ ہی جمی ہوئی تھی
‘” اس لئے تم اس دن مرنے چلی گئی تھی …میری اجازت کے بغیر گھر سے نکل کر ”
سکندر کو جب اس بات کہ احساس ہوا تو وہ پھر سے مہرہ کے ہاتھ جھٹک چکا تھا
‘” میں مانتی ہوں اس دن میری غلطی تھی ..اور اس وقت میں تم سے غصّہ تھی اس لئے بغیر سوچے سمجھے بس گھر سے نکل گئی ”
مہرہ شرمندہ ہوئی تھی
‘” تمہارے اس غصّے اور غلطی کی وجہ سے تم نے اپنی ہی نہیں ہمارے بچے کی جان بھی خطرے میں ڈالی تھی …اگر اس دن تم دونوں میں سے کسی کو بھی کوئی نقصان ہوتا نہ مہرہ تو میں تمھیں کبھی معاف نہ کرتا ”
وہ سخت لہجے میں کہتا وہاں سے جانے لگا جب مہرہ اسکو دونوں بازو سے پکڑ کر روک چکی تھی
‘” مجھے معاف کر دو .. آئندہ تمہاری اجازت کے بغیر اس کمرے سے بھی باہر نہیں نکلوں گی ”
وہ اسکی شرٹ کے بٹنز سے کھیلتی اسکو منا رہی تھی
‘” ہٹو مہرہ میرا غصّہ کم نہیں ہونے والا ”
وہ مہرہ کے ہاتھ اپنے سینے سے ہٹاکر ایک ہاتھ سے اپنی شرٹ اتارنے لگا
‘” کہہ تو رہی ہوں نہ آگے سے کبھی ایسا نہیں ہوگا اب مان جاؤ ”
وہ تھوڑا سا اونچا ہوکر اسکی گردن کے گرد اپنی باہیں ڈالتی ہوئی بولی اسکی اس حرکت پہ سکندر کا ہاتھ رکا تھا
‘” اور میں کہہ چکا ہوں پیچھے ہٹو تو ہٹ جاؤ ”
اس نے مہرہ کو کمر سے پکڑ کر دور کرنا چاہا مگر اس نے سکندر پہ اپنی پکڑ مزید سخت کی تھی
اپنے اس عمل میں وہ اسکے بہت قریب آ چکی تھی
‘” میں آج تمھیں منا کر ہی رہوں گی ”
وہ ضدی لہجے میں بولتی اسکے رخسار پہ اپنے لب رکھ چکی تھی پھر اسی طرح اسکے دوسرے رخسار کو چومنے لگی
‘” میری ناراضگی ابھی بھی ختم نہیں ہوئی ہے ”
اسکے اس انداز پہ سکندر بمشکل اپنی مسکراہٹ روکتا ہوا بولا اس لڑکی سے وہ زیادہ دن تک ناراض بھی نہیں رہ سکتا تھا
” میری کوشش ابھی بھی جاری ہے ”
وہ اس بار اسکے رخسار سے اپنا رخسار رگڑتی ہوئی بولی اسکی بڑھی ہوئی شیو کی چبھن ایک الگ سکون دی رہی تھی اسکو
‘” اپنی کوشش جاری رکھو کیونکہ ابھی بھی تمہاری بات نہیں بنی ”
وہ اسکو مزید کچھ اور کرنے پہ اکسا رہا تھا
جبکہ اسکی بات سن کر اس بار مہرہ اسکے چہرے کو دیکھنے لگی اور سکندر اپنا چہرہ پھیرے اسکے اگلے عمل کا انتظار کرنے لگا
جب کچھ دیر اس نے کچھ نہیں کیا تو سکندر نے اپنے چہرے کا رخ اسکی طرف کیا مہرہ کی چہرے کو دیکھا تو اسکے چہرے پہ تکلیف کے تاثرات دیکھ کر وہ یکدم سے پریشان ہوا تھا
‘” کیا ہوا مہرہ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ”
اسکے لہجے میں فکرمندی تھی
‘” آہ …سکندر ..بہت درد ہو رہا ہے ”
مہرہ اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھتی تھوڑا سا جھکی تھی
‘” کہاں درد ہو رہا ہے مہرہ ..پیٹ میں درد ہو رہا ہے ”
اسکی ناراضگی پل میں ہوا ہوئی وہ بےچینی سے اسکے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کر پوچھ رہا تھا
‘” ہاں بہت درد ھو رہا ہے ..پلیز کچھ کرو ..ہمارے بچے کو کچھ نہیں ہونا چاہئے.. ”
وہ تکلیف کی وجہ سے زمین پہ بیٹھتی جا رہی تھی ساتھ ہی سکندر بھی اسکے ساتھ بیٹھ چکا تھا
‘” کچھ نہیں ہوگا تمھیں .. اور نہ ہمارے بچے کو .. چلو ھم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ..اٹھو شاباش ”
وہ اسکو ابھی اپنی باہوں میں اٹھانے ہی والا تھا مہرہ جو کب سے اپنی ہنسی ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی اس بار ضبط نہ کر اور اسکا قہقا پورے کمرے میں گونج اٹھا تھا
جبکہ سکندر جو ابھی فکرمند سا تھا اب حیران سا کھڑا اسکو یوں ہنستے ہوئے دکھ رہا تھا
‘” اب بھی بولو گے ناراض ہو مجھ سے … سچ میں تمہارا چہرہ دیکھنے لائق تھا ”
وہ بڑے مزے سے اسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی جو اب اسکی شرارت سمجھ کر اسکو آنکھیں سکیڑے دیکھ رہا تھا
‘” بہت کہہ رہے تھے نہ ناراض ہوں ناراض ہوں ..دیکھا ایک لمحہ لگا مجھے تمہاری دھڑکنے تیز کرنے کے لئے ”
اس بار وہ مسکراتی ہوئی اسکی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ آنکھوں میں ابھی بھی شرارت تھی
‘” اور میں ایک لمحے میں تمہاری اس سے بھی زیادہ حالت خراب کر سکتا ہوں ”
وہ اپنی بات کہتا تیزی سے اسکی طرف بڑھا
مہرہ اسکا ارادہ بھانپ کر جلدی سے وہاں سے جانے ہی لگی تھی جب سکندر اسکو کمر سے پکڑ اپنے قریب کر چکا تھا
اور بغیر اسکو کوئی بھی موقع دئے اسکے چہرے پہ جھکتا اپنے ہونٹ اسکے لبوں پہ رکھ دئے
اسکے اس اچانک حملے پہ مہرہ کی دھڑکنے تیز ہوئی تھی اس نے سکندر کو خود سے دور کرنا چاہا مگر وہ اسکی کلائیوں کو بھی اپنی گرفت میں لے چکا تھا
اپنی بات پوری کرنے میں اسے ایک ہی لمحہ لگا تھا اسکی سخت گرفت میں مہرہ کی حالت خراب ہو چکی تھی مگر وہ یوں ہی بےخود سا اس پہ جھکا رہا
کچھ پل بعد جب اسکو مہرہ پہ رحم آیا تو وہ اسکے لبوں کو آزاد کرتا اس سے دور ہوا اور مسکراتی نظروں سے اسکو دیکھنے لگا
‘” اب کہو دھڑکنوں کے ساتھ سانسیں بھی بند ہوئی یا نہیں”
اسکے لہجے میں شرارت تھی جبکہ مہرہ خفگی سے اسکی طرف دیکھتی اسکے سینے سے آ لگی
‘” اس معملے میں تم کبھی نہیں بدلنے والے ”
وہ اسکے سینے میں چہرہ چھپائے بولی سکندر کو اسکی آواز اپنے اندر سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
‘” تمہارے معملے میں تو کبھی نہیں … بلکہ میرے جذبات اور محبت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت مزید بڑھتی جا رہی ہے ”
وہ اسکے گرد اپنے بازو حائل کرتا ہوا بولا
‘” سچ بتانا تم ڈر گئے تھے نہ ”
مہرہ کو پھر سے سکندر کے چہرے کے تاثرات یاد آئے تھے
‘” ہاں بہت زیادہ …لیکن آج تم نے بہت ڈرا دیا جسکی سزا تمھیں ضرور ملے گی ”
وہ اسکو اپنی باہوں میں اٹھاتا ہوا معنے خیزی سے بولا
‘” مجھے اتارو تمہارے ہاتھ میں تکلیف ہو رہی ہوگی ”
اسے سکندر کا بازو پہ موجود زخم یاد آیا تو وہ فکرمندی سے بولی
‘” تم قریب رہو گی تو اس زخم کی تکلیف بھی محسوس نہیں ہوگی ”
وہ اسکو گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا تو مہرہ اسکے اپنی آنکھیں بند کرکے اسکے سینے پہ اپنا سر رکھ گئی تھی
وہ تو خود بھی اب اس سے الگ نہیں ہونا چاہتی تھی اتنی مشکلوں کے بعد تو انکی زندگی میں سکون کے پل آئے تھے جنہیں وہ صرف اور صرف سکندر کے قریب رہ کر گزارنا چاہتی تھی …
🍁🍁🍁🍁
,,,,,,,,,,(جاری ہے ),,,,,,,,,,