53.5K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

اس نے کسمسا کر آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی پورے جسم میں درد سا محسوس ہوا تھا اٹھ کر بیٹھنے کی ہمّت نہیں ہوئی تو ایسے ہی لیٹی چھت کو گھورتی رہی
رات کا منظر کسی فلم کی طرح اسکی آنکھوں کے سامنے چلنے لگا
تبریز کا اسکو ٹیریس پر بند کرنا
اندھیری رات
تیز بارش
وہ پوری طرح سے بھیگ چکی اسکے بعد کیا ہوا اسکو کچھ یاد نہیں آ رہا تھا
مشال یکدم جھٹکے سے اٹھ بیٹھی
اس نے اپنے اوپر سے کمفرٹر ہٹا کر اپنے اطراف کا جائزہ لینے لگی
مگر اسکی نظر جیسے ہی اپنے کپڑوں پر پڑی تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی
اس وقت وہ تبریز کی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں مبلوس تھی
اسکو یاد بھی نہیں تھا اس نے اپنے کپڑے کب تبدیل کئے تھے
‘” میں نے چینج کئے ہے تمہارے کپڑے رات تم بارش میں گیلی ہو گئی تھی اور بیہوش بھی ”
تبریز جو سامنے صوفہ پر بیٹھا اسکے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا
اسکی آنکھوں میں سوال پڑھکر اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا اسکے قریب آیا
مشال جو پریشان سی بیٹھی تھی تبریز کی آواز پر اسکی طرف موتجہ ہوئی
اسکی بات سن کر اب اسکے چہرے پر پریشانی کی جگہ غصّے اور شرم نے لے لی تھی
‘” رات ہمارے ساتھ اتنا برا کرنے کے بعد آپکو شرم نہیں آئی جو آپ نے ہمارے ”
وہ آگے بول ہی نہیں پائی تھی چہرے کا رنگ مزید لال ہوا تھا یہ سوچ کر ہی کہ اس نے بیہوشی کی حالت میں اسکے .. اسکا چہرہ غصّہ کی وجہ سے لال ہوا تھا شرم سے تبریز سمجھ نہیں پایا
‘” مجھے شرم کیوں آئے گی بیوی ہو تم میری حق رکھتا ہوں تم پر
اور ویسے بھی مسز تبریز رات ہمارے بیچ سارے فاصلے ختم ہو چکے ہے اسلئے اب شرم کیسی ”
وہ چہرے پر معنی خیزی مسکراہٹ لئے اسکی طرف دیکھ رہا تھا
تبریز نے یہ بات اسکو تنگ کرنے کے لئے بولی تھی رات اسکو بیڈروم میں لانے کے بعد اس نے مشال کو ہوش میں لانے کی مگر وہ ہوش میں نہیں آئی ٹھنڈ کی وجہ سے کانپ بھی رہی تھی اس لئے مجبوراً اسکو ہی اسکے کپڑے تبدیل کرنے پڑے
بارش میں بھیگنے کی وجہ سے اسکو بخار بھی ہو گیا تھا
تبریز نے تھوڑی سی کوشش کرکے اسکو دوائی کھلائی ساری رات وہ اسکے لئے پریشان رہا بار بار اسکے بخار کم ہونے کا انتظار کرتا رہا
‘” یہ کیا بکواس کر رہے ہیں آپ ..ایسا کچھ نہیں ہوا ہوگا آپ جھوٹ بول رہے ہیں ”
وہ گھبرائی تھی تبریز کی بات سن کر اور چلاتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے مقابل آ کھڑی ہوئی
جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا
جبکہ تبریز کی نظریں تو اسکے سراپے پہ ہی اٹک کر رہ گئی تھی
اپنے کپڑوں میں دیکھ کر ایک الگ ہی احساس ہو رہا تھا اسکو
‘” ایسا ہو گیا ہے بیگم جب تم بیہوش میری باہوں میں تھی اور بار بار مجھے اپنے قریب رہنے کے لئے بول رہی تھی بس اور اب تب ہی میں تم پر اپنے پیار کی بارش کرتا گیا ”
وہ چہرے پر سنجیدگی لئے بولا اور مشال کی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسکو اپنے قریب کر چکا تھا
‘” کیا تم خود پر میرا لمس محسوس نہیں کر رہی ہو ”
وہ اسکے گال پر اپنے دہکتے لب رکھتا ہوا بولا
مشال نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کرلی تھی
‘” اپنی سانسوں میں میری خوشبو محسوس نہیں ہو رہی تمھیں ”
وہ اپنی ناک اسکی ناک پر رگڑتا ہوا بولا مشال کو اپنی سانسیں بکھرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
‘” کل رات کے بعد سے تم اور میں ہم بن چکے ہیں ”
وہ بہت محبت سے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیتا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
اور اس بار مشال اسکے سحر سے نکلی اور تڑپ کے اس دور ہوکر بری طرح سے رونے لگی
اسکی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اور نہ کچھ یاد تھا
جبکہ تبریز اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا اسکے روتے ہوئے چہرے کو دیکھتا رہا
جب اس سے برداشت نہیں ہوا تو اسکا قہقہا پورے کمرے میں گونج اٹھا تھا
‘” تبریز کو اپنے جذبات پر کنٹرول کرنا آتا ہے مسز تبریز ورنہ کتنے ہی موقے ملے ہیں مجھے ”
اسکی بات پر مشال کا رونا یکدم سے بند ہوا اور بےیقینی سے اسکی طرف دیکھنے لگی جو اب چہرے پر سنجیدگی لئے اسکی طرف دیکھ رہا تھا
” مطلب آپ جھوٹ بول رہے تھے ”
اس نے اپنے آنسو صاف کئے تھے
‘” آج جھوٹ تھا مگر آئندہ تم نے طلاق کی بات کی تو پھر کچھ جھوٹ نہیں ہوگا یاد رکھنا میری بات ”
وہ اسکو وارن کرتا کمرے سے باہر نکل گیا
اور مشال گہرا سانس لیتی بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی
اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اسکے جھوٹ سے ہی اسکی یہ حالت ہو گئی تھی اگر یہ سب سچ ہوتا تو …
اس نے پہلی بار شرما کر اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا تبریز کی رات والی حرکت پہ اسکو غصّہ آنا چاہیے تھا مگر وہ غصّہ نہیں تھی
اور ایسا کیوں تھا وہ اپنی اس کیفیت کو وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی
🍁🍁🍁🍁
‘” تم مجھے یہاں کیوں لیکر آئے ہو ”
وہ ایک نظر رات میں لائٹ سے چمکتے اس کلب کو دیکھ کر سکندر کی طرف پلٹی جو اسی سکو دیکھ رہا تھا
آج تک وہ کبھی ایسی جگہ پر نہیں آئی تھی اس لئے اسکو یہ جگہ تھوڑی عجیب لگی
‘” معلوم ہو جائے گا ڈارلنگ پہلے اندر تو چلو ”
ووہ اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسکو اپنے ساتھ لئے اندر کی طرف بڑھا
یہ اس شہر کا بہت بڑا کلب تھا جب سکندر نے اسکو تیار ہونے اور باہر لے جانے کی بات کی تو وہ کتنی ہی دیر کھڑی بےیقینی سے اسکی طرف دیکھتی رہی
اسکو یقین نہیں ایا تھا سکندر اسکو کہیں باہر لے جانے کی بات کر رہا تھا
اور اب کلب میں آکر وہ سمجھ نہیں پائی تھی آخر وہ اسکو ایسی جگہ پر کیوں لیکر آیا تھا
‘” دیکھو اگر تم مجھے یہاں لاکر کچھ الٹے سیدھے کام کروانا چاہتے ہو تو میں پہلے ہی کہہ رہی ہوں میں کچھ نہیں کرنے والی ”
کلب میں چلتے تیز میوزک سے اسکا دل گھبرایا تھا اوپر سے اسکا گاؤن جس میں چلتے ہوئے اسکو کافی پریشانی ھو رہی تھی
کم رش والی جگہ پر آکر اس نے بتانا ضروری سمجھا تھا
‘” بےفکر راہو ڈارلنگ اگر مجھے کوئی الٹی سیدھی حرکتیں کرنی ہوتی تو میں بیڈروم میں کر لیتا یہاں ایسا کچھ نہیں ہوگا سو ڈونٹ وری “”
ہمیشہ کی طرح اسکے بےباک الفاظوں سے مہرہ کا چہرہ شرم سے لال ہوا تھا
اور سکندر اسکے چہرے سکو دیکھ کر سوچ رہا تھا اگر وہ یہاں موجود نہ ہوتا تو کوئی ایسی گھستاخی کر کے اسکے چہرے کی لالی کو مزید بڑھا دیتا
‘” تم یہاں بیٹھو میں ابھی آتا ہوں اور ہاں سوفٹ ڈرنک کے علاوہ کچھ اور مت لینا ”
سکندر اسکو ایک جگہ پر بیٹھاتا ہوا وہاں سے بار سائیڈ کی طرف گیا مگر کریم کو مہرہ کے قریب کھڑے رہنے کا اشارہ کرنا نہ بھولا تھا
مہرہ اپنی شال درست کرتی اس سائیڈ دیکھنے لگی جہاں سکندر کھڑا کسی سے بات کر رہا تھا
‘” کریم کیا تم جانتے ہو سکندر مجھے یہاں کیوں لیکر آیا ہے”
وہ اپنے قریب کھڑے کریم سے مخاطب ہوئی عمارہ کے بعد وہ بس کریم سے بات کر لیتی تھی اور سکندر کو بھی اس بات سے کوئی اعتراض نہیں تھا
‘” ویسے سکندر نے مجھے منع کیا تھا مگر میں تمھیں بتا رہا ہوں وہ تمھیں اپنے ڈیڈ سے یہاں ملوانے لایا ہے انہوں نے اسکو یہاں بلایا تھا اسلئے اس نے سوچا کہ تمھیں بھی ساتھ لے چلے ”
کریم نے اسکو ساری بات تفصیل سے بتائی اور مہرہ یہ سوچ کر رہ گئی تھی اسکے ڈیڈ کو اور کوئی جگہ نہیں ملی اسکی بلانے کی
کریم کی بات سن کر مہرہ نے پھر سے اپنی نظریں سکندر کی طرف کی مگر سامنے کا منظر ناگوار گزرا تھا
سکندر کے پاس اب اس آدمی کی جگہ دو لڑکیاں کھڑی ہنس ہنس کر اس سے بات کر رہی تھی
انکے لباس دیکھ کر مہرہ کو شرم محسوس ہوئی
جانے کیا بات کر رہی تھی مہرہ بس سوچ کر رہ گئی
وہ بیٹھی بس ایک ٹک انہیں دیکھنے لگی
اب ان میں سے ایک لڑکی نے سکندر کے بازو پر ہاتھ رکھا تھا اور بس مہرہ کی برداشت یہیں تک تھی
اپنے اندر جلن کے احساس کو کم کرنے کے لئے اس نے ٹیبل پر رکھا گلاس لبوں سے لگا لیا یہ جانے بغیر کی اس میں کیا چیز تھی
اپنے اندر کی کڑواہٹ کی وجہ سے وہ اس ڈرنک کا ٹیسٹ بھی محسوس نہیں کر سکی
‘” ارے یہ کیا کر رہی ہو یہ تمہارے لئے نہیں تھا ”
کریم کی نظر جب اس پر پڑی تو اس نے ٹوکنا چاہا مگر وہ غصّے میں دوسرا گلاس ختم کرتی اپنی جگہ سے کھڑی ہوکر سکندر کی طرف بڑھی
وائن اپنا کام شروع کر چکی تھی اس پر نشہ چڑھنے لگا قدم لڑکھڑا رہے تھے
‘” ڈئیر ہسبنڈ تم اپنی بیوی کو لاکر بھول ہی گئے ہو شاید میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں ”
اس نے سکندر کا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا اور اسکے پاس کھڑی لڑکیوں کو گھورنا نہ بھولی تھی
سکندر جو ان سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا مہرہ کی حالت دیکھ کر اسے لمحہ لگا تھا سمجھنے میں کہ وہ ڈرنک کر چکی ہے
‘” ایسا کیا ہے ان دونوں میں جو تم میری موجودگی کو بھول گئے ”
وہ ناگواری سے ان دونوں لڑکیوں کی طرف دیکھ کر بولی جو سکندر کے اشارہ کرنے پر وہاں سے جا چکی تھی پھر
اس نے غصّے سے کریم کی طرف دیکھ تو وہ بس اپنے کندھے اچکا کر رہ گیا تھا
‘” کچھ نہیں ہی تم چلو ہمیں گھر جانا ہے اب ”
وہ اپنے بازو پر جھولتی مہرہ کو کمر سے پکڑتا آگے بڑھا
اب ایسی حالت میں وہ اپنے ڈیڈ سے اسکو ملوا نہیں سکتا تھا
‘” نہیں مجھے گھر نہیں جانا یہاں بہت اچھا لگ رہا ہے مجھے ”
وہ ضدی لہجے میں بولی آپنا آپ اس سے چھڑانے لگی مگر سکندر کی پکڑ مضبوط تھی
‘” میں نے کہا نہ مجھے نہیں جانا تو نہیں جانا ‘”
وہ چیخی تھی مگر اسکی آواز اتنی تیز نہ تھی وہ یوں ہی اسکو اپنی گرفت میں لئے آگے بڑھا
‘” ہم پھر کبھی آئے گے فلحال گھر چلو تم ”
وہ اسکو اپنے ساتھ کھینچتا ہوا کلب سے باہر نکلا اور اسکو کار میں بیٹھاتا کریم کے پاس آیا جو اسکے پیچھے باہر آ چکا تھا
‘” تم یہیں رہو ڈیڈ سے بول دینا مجھے ضروری کام تھا وہ کل جانے سے پہلے گھر ضرور آئے ”
وہ کریم سکو ہدایت دیتا اپنی کار میں بیٹھ کر کار سٹارٹ کر چکا تھا
اسکا باپ اس بار بھی صرف ایک رات کے لیے اس سے ملنے آیا تھا صبح اسکی واپسی تھی سکندر انکے واپس جانے سے پہلے مہرہ کو اپنے باپ سے ملوانا چاہتا تھا
کار ڈرائیو کرتے ہوئے اس نے ایک نظر مہرہ کو دیکھا جو اپنی شال سے کھیلنے میں مصروف تھی
وہ سر جھٹکتا پھر سے سامنے کی طرف دیکھتا ڈرائیو کرنے لگا
🍁🍁🍁🍁
‘” کیا ہوا میرے بچے کو بھائی کی یاد آ رہی ہے عمارہ خالہ بس آنے ہی والی ہونگی ”
وہ اپنی گود میں موجود اپنے ایک سالہ بیٹے سکندر کو چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی جو چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
تبریز کی کل رات سے ہی بہت طبیعت خراب تھی اور وہ تیمور کے ڈر سے ابھی بھی باہر نکلتے ہوئے ڈرتی تھی اس لئے صبح ہونے تک اس نے عمارہ کا انتظار کیا اور عمارہ آتے ہی اسکو ڈاکٹر کے پاس لیکر چلی گئی
اب وہ اسکی واپسی کا انتظار کر رہی تھی جسکو گئے ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی
بچوں کی پیدائش کے بعد اریشہ کو جیسے ایک نئی زندگی مل گئی تھی
اسکے لئے اسکا سب کچھ تبریز اور سکندر ہی تھے انکے یہ نام عمارہ نے رکھے تھے اور اریشہ کو بھلے کیا اعتراض ہوتا
وہ خوش رہنے لگی تھی اپنے بچوں کے ساتھ
دونوں تھے تو جڑواں مگر بس انکی آنکھوں کا کلر سیم تھا اریشہ کی دنیا تھے اسکے دونوں بیٹے
ایک سال گزر گیا تھا اسکو یہاں رہتے ہوئے اور اب وہ یہاں سے جاتی بھی کہاں اسکا کوئی اور ٹھکانہ بھی تو نہیں تھا مگر عمارہ اور توفیق نے اسکا ہر قدم پہ ساتھ دیا وہ انکا جتنا شکریہ کرتی اتنا کم تھا
‘” دیکھو آ گئی تمہاری خالہ بھائی کو لیکر چلو چل کر دیکھتے ہیں ”
دروازے پر ہونے والی دستک سن کر وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی
جبکہ اسکی گود میں روتا ہوا سکندر بھی اب چپ ہو گیا تھا
‘” کہاں رہ گئی تھی تم عمارہ معلوم ہے سکن”’
اس نے دروازہ کھولتے ہی جیسے بولنا شروع کیا مگر اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے
چہرے پر اب سکون کی جگہ ڈر نے لے لی تھی اس نے پیچھے قدم اٹھاتے ہوئے سکندر کو اپنے سینے سے لگایا تھا
‘” عمارہ نہیں میری جان تیمور خان بولو لگتا ہے جلدی بھول گئی ہو مجھے ”
وہ شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اندر داخل ہوا جبکہ شوکت وہیں دروازے میں رک گیا تھا
‘” دیکھو …دور رہو مجھ سے میرے قریب مت آؤ ”
اس شخص کی شکل دیکھ کر اریشہ کو پھر سے وہ درد بھرے دن یاد آ گئے تھے
چہرہ خوف سے سفید پڑ چکا تھا
جبکہ تیمور خان یوں ہی مسکراتا ہوا اندر بڑھتا گیا
‘” بےفکر رہو میری جان تمہارے قریب آنے کا بلکل ارادہ نہیں ہے میرا کیونکہ تم میں اب وہ بات نہیں رہی ”’
وہی دل جلانے والی مسکراہٹ جو اریشہ کو درد میں مبتلا کر گئی تھی
‘” تو پھر جاؤ یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دو مجھے برباد کرکے تمھیں سکون نہیں ملا “”
تھوڑی ہمّت دکھائی تھی اس نے اور اسکی بات پر تیمور خان زور سے ہنسا
‘” ڈرو مت چلا جاؤں گا مگر اپنی چیز تم سے واپس لے کر ”
اس نے اپنی بات کہہ کر ایک جھٹکے میں اسکی گود سے بچے کو چھین لیا تھا
پچھلے کچھ دن سے وہ عمارہ پر نظر رکھے ہوئے تھا اسکو جب بچے کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے یقین نہیں کیا مگر اریشہ کے گود میں بچہ دیکھ کر اسکو اپنے آدمی کی بات پر یقین آیا تھا
اس لئے فورا اپنے بچے کو لے جانے کا فیصلہ کیا
‘” نہیں چھوڑو میرے بچے کو میرا بچہ مجھے واپس کرو کمینے انسان ”
وہ کسی شیرنی کی طرح اس پہ جھپٹی تھی مگر تیمور خان سکندر کو اسکی پہنچ سے دور کر چکا تھا
‘” تمھیں زندہ چھوڑ رہا ہوں اس بات کا شکر کرو اور یہ تمہارا نہیں میرا بچہ ہے میرا خون تیمور خان کی اولاد ہے اس لئے میں اپنی اولاد کو لیکر جا رہا ہوں بدلے میں تمہاری زندگی بخش دی اب تم آزاد ہو اگر کوئی ہوشیاری کی تو تمہارے لئے اچھا نہیں ہوگا ”
وہ اپنی بات کہتا دروازے کی طرف پلٹا اسکو صرف اپنی اولاد سے مطلب تھا جو اسکو مل چکی تھی
ابھی تو اسکو عمارہ کو بھی سبک سکھانا تھا اتنا بڑا دھوکا جو کر چکی تھی ووہ تیمور خان کے ساتھ ..
اریشہ اسکے پوچھے بھاگی وہ اتنی آسانی سے اپنی اولاد کو جانے نہیں دے سکتی تھی مگر وہ لیکر چلا گیا تھا وہ وہیں سڑک پر روتی ہوئی بیٹھتی چلی گئی اور بس خود سے دور جاتی اسکی کار کو دیکھتی رہی
نا جانے وہ کتنا وقت ایسے ہی بیٹھی رہتی جب عمارہ کی واپسی ہوئی اسکو وہیں سڑک پر بیٹھا دیکھ کر وہ پریشان سی اسکی طرف لپکی
‘” کیا ہوا اریشہ تم اس طرح سے یہاں بیٹھی ہوئی کیوں رو رہی ہو ”
عمارہ کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آئی اور روتی ہوئی اسکے گلے لگی تھی
گود میں تبریز ہونے کی وجہ سے عمارہ کو اسکو سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا
‘” بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے اور کیوں رو رہی ہو سکندر کہاں ہے”
عمارہ کو یکدم سے سکندر کا خیال آیا تو اریشہ اسکو سب بتاتی چلی گئی تھی
اور عمارہ بس خاموشی سے اسکو سنتی رہی جس بات کا ڈر تھا وہ اسکے سامنے آ گیا تھا
‘” عمارہ پلیز اس سے میرا بچہ لا دو میں مر جاؤں گی اسکے بغیر پلیز ….
ووہ تڑپ رہی تھی اپنے بیٹے کے بارے میں سوچ کر
جبکہ عمارہ بےبسی سے اسکو روتا دیکھ رہی تھی وہ اب اریشہ کے لئے کچھ نہیں کر سکتی تھی
تیمور خان اپنی اولاد اسکو کبھی نہ دیتا کبھی بھی نہیں
🍁🍁🍁🍁
سارا راستہ وہ نشے میں پتہ نہیں کیا کیا بولتی آئی تھی سکندر کو اسکی حالت دیکھ کر بہت غصّہ آ رہا تھا مگر ضبط کرتا رہا
اتنے برے کام کرنے کے باوجود اس نے کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا پر اس وقت اسکی بیوی پوری نشے میں تھی
خاموش رہنے والی مہرہ اب چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی
کار پورچ میں روک کر وہ اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولتا وہ مہرہ کی سائیڈ پہ آیا
‘” چلو مہرہ نیچے اترو گھر آ گیا ”
اسکی سائیڈ کا دروازہ کھولتا اس سے مخاطب ہوا غصّے میں ہونے کی وجہ سے لہجہ سخت تھا
‘” کس کا گھر آ گیا میرا یا تمہارا ”
اپنی بات کہہ کر وہ زور سے ہنسی تو وہ اپنے غصّے پہ کنٹرول کرتا جھکا اور اسکو بازو سے پکڑ کر کار سے باہر نکالا
‘” ہمارا گھر آ گیا ہے اب چلو اندر ”
وہ اس وقت سکندر کے سہارے پہ ہی کھڑی تھی اگر وہ اسکو چھوڑ دیتا تو یقیناً زمین پر گر جاتی اس لئے اس نے فورا اسکو اپنی باہوں میں اٹھا کر اندر کی جانب بڑھا
مہرہ کی شال اسکے کندھے سے پھسل وہیں گر چکی تھی
‘” مجھے نیچے اتارو میں چل سکتی ہوں ”
وہ اسکا کلر پکڑتی ہوئی بولی
‘” تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لئے تمھیں ایسے لیکر جا رہا ہوں ”
وہ اسکو جواب دیتا اپنے بیڈروم میں لے آیا اور آرام سے اسکو بیڈ پڑ بیٹھا چکا تھا
‘” اگر تمھیں میری اتنی ہی فکر ہے تو تم ان لڑکیوں سے کیوں بات کر رہے تھے ”
وہ اسکو بیڈ پر لیٹا رہا تھا جب وہ یکدم سے اٹھی اور بیڈ پر کھڑی ہو گئی تھی
جبکہ نشے میں ہونے کی وجہ سے وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی
‘” ہم اس بارے میں صبح بات کریں گے تم سو جاؤ تمھیں نیند کی سخت ضرورت ہے ”
وہ اس بار نرمی سے بولا جو اسکے مزاج کا حصّہ نہیں تھی
‘” نہیں مجھے ابھی جاننا ہے تم مجھے وہاں لے جاکر انکے پاس کیوں گئے ..جواب دو ”
وہ اسکا کلر اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتی ہوئی اس پر جھکی تھی
پہلی بار ڈرنک کرنے کی وجہ سے اسکی ایسی حالت ہو گئی تھی
‘” کیوں تمھیں برا لگا میرا ان لڑکیوں سے بات کرنا ?
سکندر کی آنکھوں کہ رنگ یکدم سے بدلہ تھا نشے میں ہونے کی وجہ سے وہ اسکے دل کی بات جاننا چاہ رہا تھا
‘” ہاں مجھے بہت برا بہت زیادہ وہ اچھی لڑکیاں نہیں ہیں تم دور رہو ان سے ”
اس وقت وہ بولتی ہوئی سکندر کو بہت معصوم لگ رہی تھی بلکل کسی چھوٹے بچے کی ترح
‘” میں کسی سے بھی بات کروں تمھیں فرق کیوں پڑ رہا ہے جبکہ تم مجھے پسند بھی نہیں کرتی ”
اس نے اپنے کلر پر رکھے مہرہ کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر اسکے مزید قریب ہوا
اس وقت وہ بیڈ سے نیچے کھڑا تھا جبکہ مہرہ بیڈ پر کھڑی اسکے اوپر جھکی ہوئی تھی
‘” مجھے فرق پڑتا ہے کیونکہ تم میرے ہو صرف میرے سن رہے ہو نہ تم ”
اس نے اپنی پیشانی سکندر کی پیشانی سے ٹکرائی اسکی نظریں سکندر کے چہرے پر ہی جمی ہوئی تھی
‘” You Are Mine Only Mine”
وہ بولتی ہوئی اسکے چہرے پر جھکی اور اپنے نرم لبوں کا لمس اسکے ہونٹوں پر چھوڑ چکی تھی
اس وقت وہ اپنے حواسوں میں نہیں تھی
سکندر کو اسکا یہ انداز بہت پسند آیا تھا مطلب وہ بھی اتنی شدّت سے اسکو چاہنے لگی تھی جتنا وہ اسکو چاہتا تھا
وہ اسکی ایک ایک حرکت کو غور سے دکھ رہا تھا مطلب اس نے جب اسکو ان لڑکیوں سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تب جلن میں اس نے ڈرنک کی
‘” میرے علاوہ کسی کو حق نہیں ہے تمھیں اس طرح سے دیکھنے کا تم میرے ھو سمجھ رہے ہو نہ صرف میرے ہو تم اور میں تمھیں کسی کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتی ”
اس بار اپنی بات کہہ کر وہ خود کو ہوش میں نہیں رکھ پائی اور بیہوش ہوکر سکندر کی باہوں میں جھول گئی تھی
اسکو بیڈ پر لیٹا کر اس نے مہرہ کی نبض چیک کی جو بہت سست تھی
اسکے بالوں کی لٹیں اسکے چہرے پر پھیل گئی تھی سکندر کو وہ کوئی اپسرہ کی مانند لگی
اسکے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے اسکا دل بےقابو ہو رہا تھا وہ اس سے اپنی محبت کا اظھار کر چکی تھی مگر نشے میں
سکندر کو اسکے شراب پینے پر ابھی بھی بہت غصّہ تھا
‘”میرے منع کرنے کے باوجود بھی تم نے میری بات نہیں مانی تمھیں میری بات نہ ماننے کی سزا تو ملے گی ڈارلنگ ضرور ملے گی ”
وہ اسکے پیروں سے ہیلز نکلتا ہوا بولا اور اسکے اوپر کمفرٹر اچھی طرح سے درست کرتا واشروم میں گھس گیا تھا
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )