125.4K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

وہ گہری نیند میں تھی جب یکدم سے گھبرا کر انکی آنکھ کھلی تھی
وہ برا خواب دیکھا تھا انہوں نے
چہرہ اس وقت پسینے سے تر تھا
انہوں نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ لیمپ آن کیا اور گلاس اٹھا کر پانی پینا چاہا مگر گلاس کے ساتھ جگ بھی خالی تھا
آج وہ شاید پانی رکھنا بھول گئی تھی
وہ بیڈ سے اٹھی اور اپنے روم سے نکل کر کچن میں آکر پانی پیا
رات کے اس وقت گھر بلکل سنسان ہو رہا تھا
وہ کچن کی لائٹ آف کرکے جیسے ہی باہر آئی تو انہیں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا
‘” زیان یہ تم ہو کیا ?
انہیں لگا شاید زیان واپس آ گیا ہے کیونکہ آج اس ن انہیں فون کرکے بتا دیا تھا کہ وہ گھر دیر سے آئے گا دوسرا آج جلال شاہ بھی کسی ضروری میٹنگ کی وجہ سے شہر سے باہر گئے ہوئے تھے
سارے ملازم بھی جا چکے تھے اس لئے انہیں پہلا خیال زیان کا ہی آیا تھا
جب کچھ دیر تک انہیں کوئی جواب نہ ملا تو وہ اس طرف بڑھی جہاں سے انہیں ھلچل محسوس ہوئی
لاؤنج میں آکر انہوں نے سب سے پہلے لائٹ آن کی اندر سے دل ڈر بھی رہا تھا
پھر ہمّت کرتی ہوئی اندر داخل ہوئی مگر سامنے نظر پڑتے ہی انکے قدم اپنی جگہ رکے تھے
کوئی انکی طرف پشت کئے کھڑا تھا
‘” ک …کون ہو تم …اور میرے گھر میں کیا کار رہے ھو ..’
وہ مضبوط لہجے میں بولی
کوٹ پینٹ میں مبلوس وہ شخص انہیں چور کہیں سے بھی نہیں لگا
‘” میں کون ہوں تمہارے لئے یہ جاننا ضروری نہیں ہے میں کیا چاہتا ہوں وہ زیادہ امپورٹنٹ ہے ”
وہ پلٹے بغیر بولا
”میرے پاس برباد کرنے کے لئے زیادہ وقت نہیں ہے بس تمھیں صاف لفظوں میں سمجھانے آیا ہوں اپنے بیٹے اس ایس پی کو اچھے سے سمجھا لو میرے راستے میں آنے کی کوشش نہ کرے ورنہ ”
اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑی تو مسز ناز اب سمجھ گئی تھی یہ شخص تبریز کی وجہ سے یہاں موجود تھا
‘” ورنہ کیا کرو گے تم ”
وہ اس بار بےخوف ہوکر بولی
آخر وہ بھی ایک پولیس والے کی ماں تھی
‘” ورنہ اسکا وہ ہال کروں گا کہ تم ..”
تیمور خان غصّے سے اپنی بات کہتا ہوا جیسے ہی پلٹا اپنے سامنے کھڑی اس عورت کو دیکھ کر اسکے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے
تیس سال پورے تیس سال بعد وہ اسکو دیکھ رہا تھا وہ اتنی بھی نہیں بدلی تھی کہ تیمور خان اسکو پہچان نہ پاتا بس فرق اتنا تھا کہ وہ اب جوان نہیں رہی تھی
‘” اریشہ ”
اسکے ہونٹوں نے بےآواز اسکا نام لیا تھا
جبکہ اریشہ کا حال بھی اس سے مختلف نہ تھا
وہ آج بھی ویسا کا ویسا ہی تھا وقت جیسے بس اسکو چھو کر گزرا ہو
اس شخص کو دیکھ کر اریشہ کے زخم تازہ ھو گئے تھے
‘” اوه ..تو تم نے مجھ سے بدلہ لینے کے لئے اپنے بیٹے کو میرے پیچھے لگایا ہوا ہے ”
اس بار وہ کچھ سنبھال چکا تھا
ورنہ اریشہ کی یہاں موجودگی اسکو حیران کر گئی تھی اسکے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسکی ملاقات اریشہ سے ہوگی وہ بھی تبریز کی ماں کے روپ میں
‘” اگر مجھے تم سے بدلہ لینا ہوتا تو میں بہت سال پہلے آپنا بدلہ لے چکی تھی مگر میں نے سب کچھ اللّه پر چھوڑ کر صبر کر لیا اور آج دیکھو میرا صبر .”
وہ ایک پل کے لئے رکی تھی اور تیمور خان کی طرف دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا
‘” میں نے صبر کیا اور آج دیکھو تمہارا خود کا بیٹا تمہاری جان کے پیچھے پڑا ہوا ہے …انتقام لے رہا ہے وہ تم سے میرے ساتھ ہوئے ہر ظلم کی سزا دیگا تمھیں تمہارا خود کا بیٹا ”
اس وقت اریشہ کے چہرے پہ ایک الگ سا سکون تھا
مطلب انکا بیٹا انکے کہے بغیر اپنی ماں کہ بدلہ لے رہا تھا اس شخص سے جو اسکا باپ تھا
جبکہ اریشہ کی بات سن کر تیمور خان بےیقینی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا
اسے لگا کہ شاید اس نے کچھ غلط سنا تھا
‘” کیا بکواس کر رہی ہو عمر کے ساتھ دماغ بھی کھو بیٹھی ہو اپنا ”
وہ تمسخرانہ اڑاتی نظروں سے اسکو دیکھتا ہوا بولا جبکہ اریشہ کے چہرے کی مسکراہٹ ابھی بھی برکرار تھی
‘” میں نے کچھ نہیں کھویا ہے بلکہ تمہارا وقت آ گیا ہے بہت کچھ کھونے کا ..”
” سوچو کیا منظر ہوگا وہ جب تمہارا بیٹا تمہارے گناہوں کی سزا دیگا تمھیں ”
اریشہ کی چہرے پہ اب وہ تیس سال پہلے والا ڈر کہیں نہیں تھا
‘” تمھیں تو معلوم بھی نہیں چلو میں بتا دیتی ہوں تبریز اور سکندر جڑواں بھائی ہے ایک کو تو تم مجھ سے چھین چکے تھے مگر ایک کو اللّه نے میرے پاس ہی رہنے دیا تاکہ وہ تم سے میرے ساتھ ہوئے ہر ظلم کا بدلہ لے سکے ”
وہ آگے کیا بول رہی تھی تیمور خان تو سن ہی نہیں رہا تھا اسکا دماغ تو بس جڑواں بھائی پر ہی اٹک کر رہ گیا تھا
‘” تمہارا وقت اب ختم ہو چکا ہے تیمور خان اب اپنی الٹی گنتی گننا شروع کر دو تمہاری بربادی تمہارے ہی بیٹے کی ہاتھوں سے ہونی ہے ”
وہ بڑے سکون سے بتاتی تیمور خان کا سکون ختم کر گئیں تھی
‘” تم جھوٹ بول رہی ہو ..بکواس ہے یہ سب ”
اس نے جھوٹلانا چاہا تھا
اسکو اب تک یقین نہیں آ رہا تھا
‘” کیا ہوا اپنے ہونے والے انجام سے ڈر رہے ہو ..ابھی تو یہ شروعات ہے تیمور خان ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی ہے …اور رہی بات جھوٹ کی تو مجھے فرق نہین پڑتا تمہارے یقین نہ کرنے سے سچ نہیں بدل جائے گا ”
وہ مضبوط لہجے میں بولی اور تیمور خان اسکے لہجے کی مضبوطی اور آنکھوں میں موجود سچ کو نظرانداز نہیں کر سکا
اب اس سے یہاں مزید نہیں رکا جا رہا تھا وہ تیزی سے پلٹا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا مگر جاتے جاتے ایک تصویر کو دیکھ کر وہ ٹھٹکا تھا
جبکہ اریشہ اسکے جانے کے بعد گرنے کے انداز میں صوفہ پہ بیٹھی تھی
🍁🍁🍁🍁
صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو اس نے سب سے پہلے گردن موڑ کر اپنے دوسری سائیڈ دیکھا
مگر تبریز کی جگہ خالی دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھی تھی
بیڈروم بلکل خالی تھا اسکا مطلب وہ جا چکا تھا اسکی غیر موجودگی کا سوچ کر مشال کو سکون بھی ملا مگر رات کا منظر یاد کرکے اسکی آنکھیں نم ہوئی وہ مانتی تھی غلطی اسکی تھی اسکو ایسے نہیں جانا چاہئے تھا
اور ویسے بھی اب تو اسکا دل بھی تبریز کی طرف جھکنے لگا تھا وہ جو سوچتی تھی کہ پولیس والے کسی سے محبت نہیں کر سکتے تبریز کی اپنے لئے محبت اور چاہت دیکھ کر اس نے اپنی سوچ بدل لی تھی
اس لئے کل اسکو تبریز کا اس پہ غصّہ کرنا برا نہیں لگا
مگر وہ جو سوچتی تھی کہ تبریز سوفٹ نیچر کا ہے کل رات اسکی اتنی شدّت اور جنون دیکھ کر مشال کے دل میں ایک ڈر سا بیٹھا گیا تھا
اور ساتھ ہی اسے اب تبریز کی ناراضگی کی بھی فکر ہونے لگی پتہ نہیں اب اسکا رویہ کیسا ہوگا اسکے ساتھ
وہ یہی سب سوچتی واشروم کی طرف بڑھی تھی
🍁🍁🍁🍁
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے بیڈروم کی طرف جا رہا تھا مہرہ کی نظر پڑنے سے پہلے اسے اپنے کپڑے تبدیل کرنے تھے جن پہ جگہ جگہ خون لگا ہوا تھا
اگر وہ اسکی شرٹ اور ہاتھ پر خون دیکھ لیتی تو اسکے سوالوں کی بارش شروع ہو جاتی جنکے جواب وہ اسکو نہیں دے سکتا تھا
الٹا وہ غصّے میں اسی کو ہرٹ کر دیتا جو وہ کبھی نہیں کرنا چاہتا تھا
وہ جیسے ہی اپنے بیڈروم میں داخل ہوا تو مہرہ کو روم میں دیکھ کر ایک پل کے لئے اپنی جگہ رکا
مگر شکر تھا وہ نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی
سکندر بغیر آواز کئے واشروم میں جا گھسا
سب سے پہلے اس نے شاور لیا پھر اس شرٹ کو واشروم میں موجود ڈور میں رکھ کے اس ڈور کو لاک کر کیا جسکی کی اسی کی پاس رہتی رہتی تھی
جب سے مہرہ اسکی زندگی میں آئی تھی تب سے اسے احتیاط کرنی پڑ رہی تھی کیونکہ وہ مہرہ اور اپنے رشتے کو ڈیوڈ کے کام کی وجہ سے خراب نہیں کرنا چاہتا تھا
تھوڑی دیر بعد وہ فریش سا واشروم میں نکلا تو مہرہ ہوئی نظر آئی شاید وہ اسکی موجودگی کو محسوس کر چکی تھی
اسکو دیکھ کر سکندر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی وہ ٹاول صوفہ پہ ڈالتا وارڈراب کی طرف بڑھا اور اس میں سے ایک شاپر نکال کر بیڈ پہ بیٹھی مہرہ کے پاس آیا
‘” یہ دیکھ کر بتاؤ کیسا ہے تمہارے لئے لایا ہوں ”
اس نے شاپر مہرہ کی گود مین رکھا تو وہ حیرانی سے اس شاپر کو دیکھنے لگی
‘” کیا ہے اس میں ? ”
اس نے پوچھنا ضروری سمجھا تھا اس شخص کا کوئی بھروسہ نہیں تھا کوئی جانور ہی نہ اٹھا کر لے آیا ہو
مہرہ اتنا تو سمجھ ہی گئی تھی کہ اسکو خطرناک جانور کو پالنے کا بہت شوق تھا
‘” کھول کر دیکھو ڈریس ہے تم اسے ابھی پہن کر آؤ “
وہ بولتا ہوا اسکے برابر ہی بیٹھ چکا تھا
‘” اگر اس دن جیسی ڈریس ہے تو میں اسے بلکل نہیں پہننے والی ہوں ”’
وہ آنکھیں سکیڑتی اسکی طرف دیکھنے لگی
‘” یار ایک بار دیکھ تو لو یہ اس سے بھی زیادہ اچھی ہے اور میں تمھیں ایسی ڈریس میں دیکھنے کے لئے بےتاب ہوں ”
وہ اسکے بازو پہ اپنی انگلی پھیرتا ہوا بولہ تو مہرہ نے جلدی سے شاپر کھولا
اسے لگا تھا واقعی وہ کوئی اچھی سی ڈریس لایا ہوگا اسکے لئے
مگر جیسے ہی اس نے شاپر میں موجود باکس کو کھولا تو اسکے اندر رکھی نائٹی کو دیکھ کر وہ غصّے میں اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی
‘” میں ہی پاگل ہوں جو تم سے کسی اچھی چیز کی امید کر سکتی ہوں یہ بیکر سی ڈریس تم اپنے پاس ہی رکھو ”
اس نے اس نائٹی کو بیڈ پر اسکے قریب ہی پھینکا تھا
‘” ڈارلنگ اتنی اچھی ڈریس کو تم بیکر کھہ رہی ہو ایک بار پہن کے آؤ نہ میری خوائش ہے تمھیں اس طرح کی ڈریس میں دیکھنی کی ”
وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا اسکے مقابل آ کھڑا ہوا تھا
‘” تمھیں معلوم بھی ہے کتنی ہی لڑکیاں میری خوائش کو پوری کرنے کے لئے بےتاب رہتی ہیں اور ایک تم ہو ”
وہ اسکو جلانے کے لئے بولا
‘” تو میرے پاس کیوں آئے ہو جاؤ جاکر ان سے بولو جو تمہارے لئے کچھ بھی کر سکتی ہیں ”
سکندر کی بات اسکے تن بدن میں آگ لگا گئی تھی وہ غصّے سے کہتی وہاں سے جانے لگی جب وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسکی پشت اپنے سینے سے لگا چکا تھا
‘” کیونکہ تمہارے پاس وہ ہے ڈارلنگ جو مجھے کسی میں نظر نہیں آتا تمھیں دیکھنے کے بعد اب کسی اور کو دیکھنے کی خوائش ہی نہیں رہی ہے ”
وہ اسکی خوشبو اپنے اندر اتارتا ہوا بولا
مگر مہرہ تو اسکی بات سن ہی نہیں رہی تھی اسکا دماغ تو ابھی بھی سکندر کی اسی بات پہ اٹکا ہوا تھا
‘” تو ٹھیک ہے میں تم سے دور چلی جاتی ہوں تب تمھیں سب نظر …”
اس سے پہلے کے وہ غصّے میں مزید کچھ الٹا سیدھا بولتی سکندر نے سختی سے اسکا جبڑا پکڑ کر اسکا رکھ اپنی جانب کیا تھا
اسکی پکڑ میں اتنی سختی تھی کہ مہرہ تڑپ اٹھی تھی
‘” کیا بکواس کی تم نے …مجھے چھوڑ کر جاؤ گی ..مجھ سے دور ”
وہ رک رک کر رہتا اسکے چہرے پہ اپنی پکڑ سخت کرتا جا رہا تھا
تکلیف کی وجہ سے مہرہ کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے تھے
‘” سکندر یو ہرٹینگ می…چھوڑو مجھے ”
اس نے اسکی پکڑ سے اپنا چہرہ آزاد کروانا چاہا مگر اسکی پکڑ مضبوط تھی
‘” اگر آئندہ تم نے ایسے الفاظ اپنے منہ سے نکالے تو تمہاری زبان کاٹ کر پھینک دونگا ..پھر تم ایسی بکواس باتیں نہیں کر پاؤ گی .”
اسکا لہجہ سخت تھا
اس وقت اس پہ ایک جنون سا سوار تھا جسے دیکھ کر مہرہ خوفزدہ ہوئی تھی
وہ ڈری سہمی کھڑی اسکو دیکھنے لگی جو بار بار اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنے غصّے کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا
‘” آئ ایم سوری سکندر …میں تو بس مذاق کر رہی تھی میرا ہرگز وہ مطلب نہیں تھا ”
وہ جانتی تھی اسکے الفاظ سے سکندر کو تکلیف ہوئی ہوگی اس سے دور ہونے کے بارے میں وہ خود بھی نہیں سوچ سکتی تھی
سکندر جو ادھر سے ادھر ٹہلتا اپنا غصّہ کم کر رہا تھا مہرہ کی بات پہ فورا اسکی طرف آیا اور اسکو اپنی باہوں میں بھر کے زمین سے کچھ انچ اونچا اٹھا چکا تھا
‘” تم آئندہ ایسی بات کبھی نہیں کروگی …کبھی بھی نہیں”
وہ بےچینی سے بولا اور اسکا چہرہ اپنے سامنے سامنے کرکے دیوانہ وار اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو چومنے لگا
مہرہ کا سانس رکنے لگا تھا مگر وہ اسکو خود سے دور نہیں کرنا چاہتی تھی
سکندر اپنے ہاتھوں اور ہونٹوں سے اسکو چھو کر خود کو اس بات کا یقین دلا رہا تھا کہ وہ اسکے پاس ہی ہے اسکے بےحد قریب
‘” نہیں کروں گی کیونکہ سکندر کے بغیر مہرہ بلکل ادھوری ہے ”
” تمہارے بغیر میرا کوئی وجود نہیں ہے ”
جب اس نے مہرہ کی پیشانی اپنی پیشانی سے ٹکرائی تو وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے اسکی دل کی دھڑکنوں کو محسوس کرتی ہوئی بولی
جو معمول سے زیادہ تیز تھی
کچھ دیر وہ دونوں یوں ہی کھڑے ایک دوسرے کو محسوس کرتے رہے
دونوں کی سانسیں آپس میں الجھ رہی تھی
‘” تو پھر کیا خیال ہے اس نائٹی کو پہننے میں ..میں تمہاری مدد کروں ..اب تم ڈسائڈ کرو پہننے میں میری مدد چاہئے یا پھر اسکو …”
اس خاموشی سکندر کو شرارتی آواز نے توڑا تھا
اسکی بات کا مطلب سمجھ کر مہرہ فورا اس سے الگ ہوئی تھی
‘” دونوں میں نہیں ”
وہ اسکو گھورتی ہوئی پھر سے وہاں سے جانے لگی مگر اس بار سکندر اسکو اپنی گود میں اٹھا چکا تھا
‘”لیکن ڈارلنگ مجھے تو تمہاری مدد کرنی ہے نائٹی نہ سہی”
وہ گہری نظروں سے اسکو دیکھتا ہوا بولا تو مہرہ نے شرما کر اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپا لیا
🍁🍁🍁🍁
سب کام سے فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے بیڈروم میں آئی اسکا ارادہ تھوڑی دیر آرام کرنے کا تھا
دماغ کو فالتو سوچوں سے بچانے کے لئے اس نے صبح سے خود کو کام میں مصروف رکھا
آج تبریز بھی اب تک ڈیوٹی سے واپس نہیں آیا تھا شاید آج اسکی لیٹ نائٹ ڈیوٹی تھی اس لئے وہ بیڈ پر آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی
کچھ دیر ایسے ہی لیٹی رہی پھر کب نیند اس پہ مہربان ہو گئی اسے خبر نہیں ہوئی
شاید تھکن زیادہ تھی
ابھی اسے لیٹے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ کسی نے اسے بری طرح جھنجھوڑا تھا
گہری نیند میں ہونے کی وجہ سے پہلے تو وہ سمجھی نہیں پھر جب تبریز کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تو نیند یکدم سے غائب ہوئی تھی
‘” اٹھو …صبح سے آرام ہی کر رہی ہو اٹھ کر مجھے کھانا دو سخت بھوک لگی ہے ”
وہ تھوڑا سخت لہجے میں اس سے مخاطب ہوا تھا چہرے کے تاثرات ابھی بھی تنے ہوئے تھے
اسکی بات سن کر مشال فورا بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی
” ‘ آپ فریش ہوکر آ جایں ہم کھانا لگاتے ہیں ”
وہ نظریں نیچے کئے اس سے بولی تھی جانے کیوں آج وہ تبریز سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی
‘” کھانا یہیں بیڈروم میں لے آؤ …اور ہاں پلیز جلدی آنا .”
وہ اسکے چہرے پہ نظریں جمائے ہوئے بولا تو مشال اسکی بات سنتی تیزی سے روم سے نکل گئی
جبکہ تبریز اسکی پشت دیکھتا رہا
وہ مانتا تھا اس نے کل رات مشال کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور اپنی اس حرکت پہ آج وہ سارا دن شرمندہ رہا تھا
مگر واپسی پہ جب علی نے اسکو بتایا کہ زیان مشال کو لیکر اپنی ڈیل کی وجہ سے گیا تھا تو یہ سب سن کر اسکی ساری شرمندگی یکدم سے ختم ہوئی تھی
اسکو مشال کی بیوقوفی پہ پھر سے غصّہ آنے لگا اگر تاشا کے آدمی کی نظر اس پہ پڑ جاتی یا انہیں معلوم ہو جاتا کہ وہ پولیس والے کی بیوی ہے تو وہ یقیناً مشال کے پیچھے پڑ جاتے
وہ جو سوچ رہا تھا مشال سے اپنے رویہ کی معافی مانگے گا مگر اب اپنا ارادہ بدل چکا تھا اسکو اب لگ رہا تھا اس نے جو کیا وہ بلکل ٹھیک تھا
مشال کو سبک سکھانا ضروری تھا اب وہ زیان کے ساتھ جانے کے بارے میں سوچے گی بھی نہیں
اس لئے اپنا رویہ سخت رکھے ہوئے تھا
تھوڑی دیر بعد مشال کھانے کے ٹرے لئے کمرے میں داخل ہوئی اس بیچ وہ اپنی یونیفارم چینج کرکے ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں ایزی ہوکر صوفہ پہ بیٹھا اسکو اپنے قریب آتا دیکھتا رہا
وہ نوٹ کر رہا تھا مشال کافی خاموش تھی اور اسکی خاموشی کی وجہ اسکو معلوم تھی
‘” تم کہاں جا رہی ہو کیا تمھیں کھانا نہیں کھانا ”
جب وہ اسکے سامنے ٹیبل پر کھانا رکھ کر پلٹنے لگی تو تبریز نے اسکو اپنی طرف موتجہ کیا تھا
‘” نہیں ہمیں بھوک نہیں ہے آپ کھا لیں ”
جانے کیوں تبریز کے پوچھنے پہ اسکو رونا آنے لگا تھا مگر خود پہ ضبط کئے کھڑی رہی
‘” کس بات کا سوگ منا رہی ہو جو بھوک نہیں لگ رہی چپ چاپ یہاں آکر بیٹھو اور کھانا کھاؤ ”
وہ جانتا تھا اس نے بھی کھانا نہیں کھایا ہوگا تو وہ کیسے کھا لیتا
اسلئے تھوڑا سختی سے بولا کیونکہ مشال بی بی کو بات تھوڑا سختی سے ہی سمجھ آتی تھی
اور ایسا ہوا بھی وہ اسکے سخت انداز پہ صوفہ پہ اس سے ذرا فاصلے پہ آ بیٹھی
اسکے بیٹھتے ہی تبریز اپنا کھانا شروع کر چکا تو وہ بھی آہستہ آہستہ سے چاول اپنے حلق سے نیچے اتارنے لگی
دل تو نہیں تھا پر کیا کرتی انکار کی سورت میں پتہ نہیں کیا کرتا وہ اسکے ساتھ
‘” ٹھیک سے کھاؤ نہ کیسے کھا رہی ہو ”
وہ اپنا کھانا چھوڑ کر اسکی طرف دیکھ کر بولا
مشال جو آہستہ سے کھا رہی تھی تبریز کے ٹوکنے پر زور سے کھانسی اٹھی
کھانستے کھانستے اسکی بری حالت ہو گئی تھی تبریز نے جلدی سے پانی کا گلاس اسکے لبوں سے لگایا
پانی پینے کے بعد بھی اسکو جب سکون نہ ملا تو وہ اسکو خود سے لگا کر مشال کی پشت کو سہلانے لگا
وہ گہرے گہرے سانس لیتی خود کو نارمل کرنے لگی جب کچھ سکون ملا تو خود کو تبریز کے اتنے قریب پاکر بوکھلا کر جلدی سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکلنے لگی تھی جب تبریز پیچھے سے اسکی کلائی تھام گیا تھا
‘” کیا میں نے تمھیں اجازت دی روم سے جانے کی “
وہ ایک جھٹکے میں اسکا رخ موڑتا اسکو دیوار سے لگا چکا تھا
مشال پریشانی میں اپنے لب کاٹنے لگی آج پہلی بار وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی اسکے سامنے
‘” وہ…ہم …ہم آپکے لئے چاۓ بنانے جا رہے تھے ”
اس نے فورا سے بہانا بنایا
ورنہ تبریز کا جب دل کرتا تو وہ خود اس سے کہتا تھا
‘” لیکن مجھے آج چاۓ کی طلب نہیں ہو رہی ..میری طلب تو کچھ اور ہے ”
وہ اسکے ہونٹ کو نرمی سے سہلاتا ہوا بولا جو وہ اپنے دانتوں میں دبا کر لال کر چکی تھی
جبکہ مشال تو پزل سی کھڑی اسکے ہاتوں کے لمس کو محسوس کرتی رہی جو اب اسکے ہونٹ سے سفر طے کرتا اسکی گردن کو چھو رہا تھا
‘” مجھے امید ہے کل کے بعد سے تم اچھی طرح سمجھ گئی ہونگی..
” اور اب سے تمہارے لئے میری اجازت سب زیادہ ضروری ہوگی ”
اسکا ہاتھ اسکی گردن سے صفر طے کرتا کندھے تک آ رکا اور اگلے ہی لمحے اس نے مشال کی قمیض کندھے سے ہٹائی تھی
مشال جو سانس روکے اسکے بات سن رہی تھی تبریز کی اس حرکت پہ مشال پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگی جانے اب وہ کیا کرنے والا تھا اسکے ساتھ
تبریز ایک نظر اسکی طرف دیکھتا اسکے اوپر جھکا اور اپنے دہکتے لب اسکے کندھے پر موجود اس نشان پر رکھ دئے جو وہ کل رات اپنے جنونی انداز میں اسکو دے چکا تھا
اسکے ہونٹوں کا لمس اپنے کندھے پہ محسوس کر کے مشال نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر لی
ابکہ بار وہ اسکے دوسرے کندھے سے شرٹ ہٹا کر پھر سے اسکے اوپر جھکا گیا
اور اس بار مشال اسکی ٹی شرٹ کو سختی سے اپنی مٹھی میں بہینچ چکی تھی
اس ظالم کی قربت جان لیوا ہی ثابت ہوتی تھی اسکے لئے ابھی بھی اسکا تنفس بگڑنے لگا سانس بری طرح پھول چکا تھا
اسکے زخم پہ مرہم لگا کر اس نے اپنا چہرہ اوپر کرکے مشال کی طرف دیکھا
جو آنکھیں بند کئے کھڑی تھی لبوں کی کپکپاہٹ واضح طور پہ دکھائی دے رہی تھی
ایک لمحے کے لئے تبریز کو اس پر رحم آیا اپنے شور مچاتے جذبات پر قابو کرتا وہ اسکی شرٹ صحیح کرتا پل میں اس سے دور ہوا
‘” جاؤ جاکر چاۓ ہی لے آؤ اج لگتا ہے اسی سے کام چلانا پڑے گا ”
وہ معنی خیزی سے بولتا صوفے کی طرف بڑھا
اور مشال جو یہاں سے غائب ہو جانا چاہتی تھی تبریز کی بات سنتے ہی بغیر اسکی طرف دیکھے روم سے بھاگنے کے انداز میں نکلی
اور اسکے اس طرح سے جانے پہ ناچاہتے ہوئے بھی تبریز کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آئی تھی
🍁🍁🍁🍁
‘” تیری اتنی ہمّت کہ تو نے تیمور خان سے جھوٹ بولا ”
اس نے غصّے میں عمارہ کی گردن پہ اپنی پکڑ سخت تھی
اسکی سخت پکڑ میں عمارہ تڑپنے لگی آنکھیں باہر نکل آئی تھی
تاشا چھوڑ دو اسے وہ مر جائے گی اور اگر اسے کچھ ہو گیا تو تو تم سچ سے انجان ہی رہو گے
عمارہ کی حالت دیکھ کر خاموش کھڑا شوکت یکدم سے آگے بڑھا تھا
وہ چاہے کتنا بھی ظالم بن جاتا مگر عمارہ اور توفیق کے لئے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ محسوس کرتا تھا
‘” چھوڑ دوں گا مگر مجھے سچ سننا ہے اگر اس بار جھوٹ بولنے کی کوشش کی تو وہ حشر کروں گا کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں رہے گی ”
اس سے تڑپتی ہوئی عمارہ کو ایک نظر دیکھا اور زور سے دھکا دیکر زمین پہ گرایا تھا
جب سے وہ اریشہ کے پاس سے آیا تھا اسکا دماغ خراب ہوا تھا
آخر اتنے بڑے سچ سے وہ آج تک انجان کیسے رہا
پچھلے دو دن سے سوچ سوچ کر اسکا برا حال ھو رہا تھا
جب اسکو عمارہ کا خیال آیا تو اس نے فورا عمارہ کو اپنے پاس بلایا کیونکہ اسکے علاوہ اور کوئی نہیں نہیں بتا سکتا تھا کہ اریشہ سچ کہہ رہی تھی یا نہیں
‘” کیا اس دن اریشہ کو جڑواں بیٹے ہوئے تھے ?
مجھے جواب صرف ہاں نا میں چاہئے ”
وہ دھاڑا تھا
اسکی دھاڑ سے عمارہ آج بھی کانپ جاتی تھی
‘” جی …سکندر کا ایک اور جڑواں بھائی ہے جسکو اریشہ لیکر چلی گئی تھی مجھے ڈر تھا تم اسکو بھی اریشہ سے چھین نا لو اسلئے نہیں بتایا ”
عمارہ ڈرتے ڈرتے بولی
ایک نہ ایک دن اسکو سچ معلوم ہونا ہی تھا
جبکہ اسکی بات سن کر تیمور خان کی نظروں کے سامنے اریشہ کا چہرہ گھوم گیا
اسکا مضبوط لہجہ
‘” دفا ھو جا میری نظروں کے سامنے سے اس سے پہلے کہ میں تجھے ختم کر دوں ”
اسکا حکم ملتے ہی عمارہ وہاں سے نکل گئی تھی
‘” اب کیا سوچا ہے تم نے تاشا وہ تمہارا ہی بیٹا ہے کیا تم ابھی بھی ”
شوکت کو لگا تھا شاید سچ جاننے کے بعد وہ اپنا ارادہ بدل لے
‘” سوچنا کیا ہے اگر وہ یہ جاننے کے بعد بھی کہ میں اسکا باپ ہوں مجھے برباد ختم کرنا چاہتا ہے
تو میرے بھی ارادے بدلے نہیں ہے وہ ابھی بھی میرے لئے کسی دشمن سے کم نہیں ہے ”
اسکی بات سن کر آج پہلی بار شوکت کو افسوس ہوا تھا کیسا باپ تھا وہ یا وہ باپ کہنے کے لائق ہی نہیں تھا
‘” اور ہاں سنو اس زین پہ نظر رکھو مجھے لگتا ہے وہ اس ایس پی کے ساتھ ملا ہوا ہے آخر بھائی جو ہے اسکا ”
تیمور خان پرسوچ انداز میں بولا اس دن اریشہ کے ساتھ زین کی تصویر دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا
وہ بھی شاید اسی کا بیٹا ہے پھر اس نے ساری معلومات کرائی تو اسکا شق یقین میں بدل گیا تھا
‘” پہلے مجھے اس مہرہ کا کچھ کرنا ہے پھر اسکے بعد اس ایس پی کا نمبر آئے گا ”
وہ اپنی بات کہتا شیطانی ہنسی ہنسا تو شوکت بس افسوس بھری نظروں سے اسکو دیکھتا رہا
🍁🍁🍁🍁