125.4K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

                   🍁🍁🍁🍁

وہ صوفہ پر بیٹھا بس ایک ٹک اپنے سامنے بیڈ پر لیٹی اریشہ کو دیکھ رہا تھا
وہ اسکے سامنے اسکے پاس
اس بات پر اسکو یقین نہیں آ رہا تھا کتنا تلاش کیا تھا ان دو سالوں میں اسکو اور آج جاکر اسکی تلاش ختم ہوئی
آج جب وہ اپنے آفس سے واپس گھر آ رہا تھا تب اچانک ہی اسکی کار کے سامنے کوئی لڑکی ٹکرائی اور وہیں بےہوش ہوکر گر گئی وہ تو شکر تھا اسکو کوئی چوٹ نہیں لگی تھی
جلال جیسے ہی کار سے باہر نکل کر
اسکو دیکھنے کے لئے آگے بڑھا اس لڑکی پر نظر پڑتے ہی اپنی جگہ جم سا گیا تھا
وہ لڑکی کوئی اور نہیں اسکی اریشہ تھی جسکی تلاش اسکو آج تک تھی
وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اسکو اور اسکی گود میں موجود بچے کو اپنی کار میں ڈال کر گھر لے آیا تھا
وہ کہاں تھی
بچہ کس کا تھا
اسکے سارے سوالوں کے جواب اریشہ کے پاس تھے
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا آگے بڑھا اور اسکے قریب ہی بیٹھ گیا
اسکی پلکوں کی کپکپاہٹ اس بات کا پتا دے رہی تھی کہ وہ ہوش میں آ رہی تھی
‘” اریشہ آنکھیں کھولو دیکھو یہ میں ہوں ”
اس نے بہت محبت سے اسکے گال پر اپنا ہاتھ رکھا
اسکے لہجے میں تڑپ تھی بےچینی تھی
وہ ہوش میں آ رہی تھی اسکو اپنے بہت ہی قریب جانی پہچانی آواز سنائی دی
وہ آواز جسکو وہ آج تک نہیں بھولی تھی
‘” اٹھو دیکھو تمہارا جلال تمہارے سامنے ہے ایک بار آنکھیں کھولو اپنی ”
وہ اسکے ہاتھ تھام چکا تھا
اور اس بار اسکے لہجے میں تڑپ کو محسوس کر کے اس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی
اور جو چہرہ اسکو نظر آیا اسکو دیکھتے ہی وہ یکدم سے اٹھا بیٹھی اور بےیقینی سے اپنے سامنے بیٹھے جلال کو دیکھنے لگی
یہ کوئی خواب نہیں تھا …وہ سچ میں جلال تھا اسکے پاس مطلب وہ اپنے گھر آ چکی تھی
‘” جلال آپ …آپنے مجھے ڈھونڈھ لیا ”
آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے اسکے
آج صبح جب تیمور خان اسکے بچے کو لیکر چلا گیا تو اریشہ کو لگا کہ کہیں وہ واپس آکر اسکے دوسرے بیٹے کو بھی اس سے نہ چھین لے اسلئے وہ وہاں سے نکل گئی تھی
اسکو نہیں پتہ تھا کہ وہ کہاں جایں گی بس اسکو تیمور خان کی پہنچ سے دور جانا تھا
اسکو بس اتنا یاد تھا کہ چلتے ہوئے اسکو ذور کا چکر آیا اور وہ بیہوش ہو گئی تھی
اور اب آنکھ کھلی تو جلال اسکے سامنے تھا
‘” کہاں چلی گئی تھی تم اریشہ جانتی ہو کتنا تلاش کیا میں نے تمھیں تمہاری دوست سے بھی معلوم کیا مگر کچھ پتہ نہیں چلا تھا ”
وہ بےچینی سے اسکی طرف دیکھتا ہوا پوچھ رہا تھا اور اریشہ کو اسکے سوال کرنے پر یکدم سب یاد آتا چلا گیا
وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی اسکو سب بتاتی چلی گئی
اتنے دنوں بعد آج کوئی اپنا ملا تھا اسکو
وہ روتی ہوئی اسکو سب بٹ رہی تھی اور اب جلال کی آنکھوں میں غصّہ اترتا جا رہا تھا
اتنا کچھ ہو گیا تھا اسکی اریشہ کی ساتھ اسکو کچھ خبر نہیں تھی
‘” کون تھا وہ اریشہ مجھ بتاؤ اسکو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا بتاؤ مجھے ”
وہ غصّے سے کہتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تو اریشہ ایک پل کے لئے ڈر گئی تھی اسکی لال آنکھیں دیکھ کر
‘” میں نہیں جانتی جلال اور نا مجھے اب جاننا ہے بہت مشکل سے میں نے صبر کیا ہے اسکے بارے میں پوچھ کر میرے زخم ہرے مت کرو “‘
اسکے انداز میں التجا تھی وہ اب اس شخص کے بارے میں بات تک نہیں کرنا چاہتی تھی اسکو ڈر تھا کہیں وہ اسکا بیٹا نا لے جایں جو اسکے لئے اب سب کچھ تھا
ویسے بھی اسکی پاور دیکھ کر وہ اتنا انداز لگا چکی تھی کہ وہ لوگ اس کہ کچھ نہیں بگاڑ پاۓ گے
‘” تم اپنے گناہگار سکو سزا نہین دلوانا چاہتی ?
اریشہ کی بات پر اس نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا
‘” نہیں میرا اللّه سزا دیگا اسکو میں صبر کر چکی ہوں ”
وہ بہت اطمینان سے بولی ہر جلال بس اسکو دیکھ کر رہ گیا تھا
‘” اور یہ بچہ تم نے اسکو اتنی آسانی سے کیسے قبول کر لیا کیا اسکو دیکھ کر تمھیں تکلیف نہیں ہوگی ”
وہ بیڈ پر لیٹے ہوئے بچے کی طرف دیکھ کر بولا
‘” یہ میرے وجود کا ہی حصّہ ہے جلال اسکو میں کیسے قبول نہ کرتی اس میں اس معصوم کا کیا قصور ”
اسکی اس بات نے جلال کو مزید کوئی سوال کرنے سی روک دیا تھا
‘” جلال امی ارمان کہاں ہی مجھے ان سے ملنا ہے میں بہت تڑپی ہوں سب سکو دیکھنے کے لئے ملنے کے لئے ”
اس نے جلال کی طرف دیکھ کر کہا جو اسکی بات سن کر ایک گہرا سانس بھرا تھا
‘” جب تم چلی گئی تو امی تمہاری جدائی برداشت نہیں کر سکی اور وہ بھی ہمیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر یس دنیا سے رخصت ہو گئی اور ارمان پڑھائی کے سلسلے میں ملک سے باہر ہے ”
کوئی بم تھا جو اریشہ کے سر پہ گرا تھا ابھی تو وہ ٹھیک سے خوش بھی نہیں ہوئی تھی اور یہ کیسی خبر سنائی تھی جلال نے اسکو
‘” نہیں ایسا نہیں ہو سکتا …نہیں …”
صدمہ اتنا گہرا تھا کہ وہ چیختی ہوئی پھر سے بےہوش ہو چکی تھی
اسکو زمین پر گرتا دیکھ جلال تیزی سے اسکی طرف لپکا
🍁🍁🍁🍁
وہ نیند میں تھی جب اسکو اپنے ہاتھ پر کسی چیز کی چبھن کا احساس ہوا
جیسے کوئی چیز اسکے ہاتھ پر چل رہی ہو
اسکا دماغ نیند سے بےدار ہوا
مگر سر ہوتے شدید درد کی وجہ سے وہ اپنی آنکھیں نہیں کھول پائی تھی
وہ آنکھیں بند کئے لیٹی رہی جب اسکو لگا وہ چیز اسکے ہاتھ سے چل کر بازو تک آ گئی ہو
اس بار اس نے ہمّت کرکے آنکھیں کھولی اس چیز کو دیکھنا چاہا جو اسکو پریشان کر رہی تھی
مہرہ کی نظر جیسے ہی اپنے بازو پہ پڑی وہ چیخ مارتی ہوئی بیڈ سے کھڑی ہوئی
سر درد کے ساتھ ساتھ نیند بھی یکدم سے اڑ گئی تھی
وہ بچھو اسکے بازو پر چلتا کندھے تک آ پہنچا
مہرہ ڈر کی وجہ سے اسکو خود پہ سے ہٹا بھی نہیں پا رہی تھی
‘” ڈرو مت یہ تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ”
سکندر جو صوفہ پہ بیٹھا ہوا اسکو دیکھ رہا تھا اسکے چیخ مارنے پر اسکے قریب آتا ہوا بولا
چہرے پر گہری سنجیدگی تھی
‘” پلیز سکندر اسے مجھ پر سے ہٹاؤ ورنہ یہ مجھے کاٹ لے گا ”
سکندر کی آواز سن کر مہرہ اسکی جانب پلٹی اور روتی ہوئی اس سے التجا کرنے لگی
اسکا پورا جسم ڈر کی وجہ سے کانپ رہا تھا
‘” کل میں نے تمھیں منع کیا تھا نہ کہ تم سوفٹ ڈرنک کے علاوہ اور کچھ نہیں لوگی تو ڈرنک کیوں کی تم نے ”
وہ اسکے رونے اور ڈر کو نظرانداز کرتا ہوا اس سے پوچھ رہا تھا کیونکہ اسکو لگ رہا تھا مہرہ نے جان بوجھ کر ڈرنک کی تھی اس لئے یہ چھوٹی سی سزا چنی تھی اسکے لئے
‘” پہلے تم اسے ہٹاو اگر اس نے مجھے کاٹ لیا تو میں مر جاؤں گی ”
وہ خوفزدہ نظروں سے اس بچھو کو دیکھ رہی تھی جو اسکے کندھے پر بیٹھ چکا تھا
‘” پہلے مجھے میری بات کا جواب چاہئے ”
لہجے میں سختی در آئی تھی
‘”میں نے جان کر نہیں پی تم جب ان لڑکیوں سے بات کر رہے تھے تو میں نے غصّے میں کچھ پی لیا مجھے معلوم نہیں تھا وہ کیا تھا ”
جو اسکو یاد تھا وہ اسکو جلدی جلدی سب بتانے لگی
جبکہ اسکا جواب سن کر سکندر کو سکون ملا مطلب اس نے جلن میں ایسا کیا تھا
وہ آگے بڑھا اور آرام سے مہرہ کے کندھے پر بیٹھے اس بچھو کو اٹھا کر ڈریسنگ پہ رکھے باکس میں رکھ دیا
اس بچھو کو اٹھا لینے کے بعد مہرہ کی جیسے جان میں جان آئی تھی
اور وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی
سکندر اسکی طرف دیکھ کر مسکرایا اور آگے بڑھ کر مہرہ کو اپنے سینے سے لگا کر خود میں بھینچ لیا
مہرہ کی تیزی سے چلتی سانسیں اب درست ھو چکی تھی ایک سکون سا مل رہا تھا اسکو سکندر کی باہوں میں
وہ اسکی کمر کو سہلاتا اسکے ڈر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا
اسکے جسم سے آتی مردانہ پرفیوم کی خوشبو مہرہ کے حواسوں پہ سوار ہونے لگی تھی
‘” ویسے تم ہوش سے زیادہ نشے میں بہت معصوم لگی مجھے اور جس طرح سے تم نے اپنی محبت کا اظھار کیا وہ اظھار تو میں زندگی میں کبھی بھول نہیں پاؤں گا ”
وہ اسکا چہرہ اپنے سامنے کرتا ہوا بولا تو اسکی بات پہ مہرہ حیرانی سے اسکی طرف دیکھنے لگی
اس نے کب کیا اسکو کچھ بھی یاد نہیں تھا
‘” تم جھوٹ بول رہے ہو میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ”
اس نے اپنے چہرے سے اسکے ہاتھ ہٹائے اور چند قدم اس سے دور ہوئی تھی
‘” نشے میں انسان جو کچھ بھی کرتا ہے اسکو کچھ یاد نہیں رہتا تمھیں تو یہ بھی یاد نہیں ہوگا کہ تم نے مجھے کس کی تھی وہ بھی ڈیپ کس ”
وہ اسکے پریشان سے چہرے سکو دیکھتا ہوا بولا رات والی مہرہ سے وہ کتنی الگ تھی
رات وہ اس پر حق جتا رہی تھی اور اب اس بات کو ماننے سے انکاری تھی
‘” اب تو تم پکّا جھوٹ بول رہے ھو میں ایسا کر ہی نہیں سکتی ”
وہ اپنے خشک پڑتے لبوں کو تر کرتی ہوئی بولی جبکہ گھبراہٹ میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو چٹخا رہی تھی
‘” کوئی بات نہیں ہم رات والا سین پھر سے کرتے ہیں شاید تمھیں سب یاد آ جائے ”
وہ اپنی بات کہتا آگے بڑھا اور اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اپنے قریب کھینچ چکا تھا
‘” میں نہیں کروں گی کچھ بھی ”
اس نے احتجاج کرنا چاہا مگر سکندر اسکے احتجاج کو نظرانداز کرتا اسکے لبوں پہ جھک کر اسکی سانسوں کو خود میں قید کر چکا تھا
اسکے عمل میں شدت نہیں بلکہ نرمی تھی
وہ مہرہ کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھا
اور اس بار مہرہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی کیونکہ جانتی تھی وہ اسکو اتنی آسانی سے نہیں چھوڑتا
‘” رات مجھے بلکل ایسا محسوس ہوا جیسا تم اب محسوس کر رہی ہو ”
وہ اسکے لبوں کو آزاد کرتا خمار آلودہ لہجے میں بولا
اس وقت دونوں کا سانس بری طرح سے پھول چکا تھا
مہرہ بس اپنی آنکھیں بند کئے اسکی سانسوں کی گرمائش اپنے چہرے پہ محسوس کر رہی تھی
‘” اتنا پیار کب کرنے لگی مجھ سے کہ تم اب میرے قریب کسی اور کو برداشت نہیں کر سکتی ‘”
وہ اسکی براؤن آنکھوں میں جھاک رہا تھا اور مہرہ کو اب اس سے نظریں ملانے مشکل لگنے لگا
کل جس طرح وہ سکندر کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر اتنا جل گئی تھی یقیناً نشے میں الٹی سیدھی حرکتیں بھی کر گئی ہوگی
‘” جیسے تم نہیں چاہتے میں تیار ہوکر یونی نہ جاؤں یا کسی کو میں خوبصورت نہ لگوں تو بلکل اسی طرح میں بھی نہیں چاہتی کہ کوئی میری چیز کو غلط نظروں سے دیکھے یا اسکو ٹچ بھی کرے ”
اسکا یہ انداز سکندر کی مسکراہٹ کو مزید گہری کر گیا تھا
“‘ مطلب مسز سکندر خان کو اپنے شوہر سے محبت ہو گئی ہے ”
اس نے اپنی پیشانی مہرہ کی پیشانی سے ٹکا دی
ایک سکون سا اسکو اپنے اندر اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
‘” سکندر وہ بچھو کہاں سے آیا تھا ”
مہرہ کی نظر جب سامنے ڈریسنگ پر پڑی تو اسکو یکدم سے اس بچھو کا خیال آیا تو وہ پوچھ بیٹھی
اس گھر میں بچھو کا آنا پاسیبل نہیں تھا
‘” وہ میں نے رکھا تھا تمہارے ہاتھ پہ جب تم سو رہی تھی”
وہ ایسے ہی کھڑا بڑے آرام سے اسکو اپنا کارنامہ بتا رہا تھا جبکہ اسکی بات سن کر مہرہ ایک جھٹکے میں اس سے دور ہوئی تھی
‘” تم نے رکھا مگر کیوں کیا ملتا ہے تمھیں مجھے پریشان کر کے ”
وہ جو سوچ رہی تھی کہ سکندر نے اسکو بچھو سے بچایا ہے مگر اسکے اوپر رکھنے والا بھی بھی وہی تھی
‘” کچھ نہیں بس تمہاری برداشت دیکھنا چاہتا تھا مگر افسوس سکندر خان کی بیوی ہوکر ایک چھوٹے سے جانور سے ڈر گئی ”
اپنی بات کہتا وہ پھر سے اسکے قریب ہوا مگر مہرہ اسکو خود سے دور دھکا دیتی ہوئی چیخی تھی
‘” دور رہو تم بہت برے ہو اب میرے قریب آنے کی کوشش بھی مت کرنا ”
وہ غصّے سے کہتی واشروم میں جا گھسی اور سکندر بس اسکی پشت دیکھتا رہ گیا
وہ اسکو نہ بتاتا تو ہی اچھا رہتا کم از کم وہ قریب تو رہتی اسکے
🍁🍁🍁🍁
‘” کب کی ہے اسکی میٹنگ اور کون سے ہوٹل میں ?
دوسری طرف علی کی بات سن کر وہ یکدم سے بولا اور اپنے بیڈروم کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا
‘” پرسو ?
اس نے ایک نظر کمرے میں دیکھا مشال اسکو کہیں نظر نہیں آئی
وہ اپنا والیٹ اور کیز ڈریسنگ پہ رکھ چکا تھا فون ابھی بھی کان سے لگا ہوا تھا
‘” پرسو تو شاید مجھے شہر سے باہر جانا پڑ سکتا ہے ایک ضروری کام سے ایسا کرو تم اس کام کو خود کرو ”
وہ پرسوچ انداز میں بولتا علی کو ہدایت دینے لگا اور اپنی گں نکال کر دراز میں رکھی
‘” تمھیں صرف اسکی کچھ فوٹوز لینی ہے ثبوت کے طور پہ اور اس شخص کی بھی جسکے ساتھ اسکی میٹنگ ہے ”
وہ اسکو تفصیل سے سمجھانے لگا جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ اپنی شرٹ کے بٹنز کھول چکا تھا
‘” یاد رہے علی تم اسکو نظر نہیں آنے چاہئے ورنہ اسکو شق ہو سکتا ہے ”
وارننگ دینا ضروری سمجھا
‘” ٹھیک ہے پھر کل سٹیشن آکر میں تمھیں پورا پلان سمجھا دونگا ”
وہ اپنی بات ختم کرتا اب فون بھی ڈریسنگ پہ رکھتا اپنے شرٹ اتار کر اسکو صوفہ پر ڈالی
اس وقت وہ بہت تھکا ہوا تھا اسلئے شاور لینے کا ارادہ کرتا واشروم کی طرف بڑھا
مگر دروازہ اندر سے لاک تھا یقیناً مشال اندر موجود تھی
‘” مشال جلدی باہر آؤ میں انتظار کر رہا ہوں ”
وہ دروازے پر زور سے ہاتھ مارتا ہوا بولا مشال کے یوں بےوقت نہانے پر وہ جھنجھلایا تھا
‘”آپ انتظار کریں کیونکہ ہمیں ابھی ٹائم لگے گا ”
اففف یہ لڑکی مجھے پریشان کرنے کا موقع کبھی نہیں چھوڑتی
وہ جچ ہوا تھا اسکا جواب سن کر
‘” دیکھو مشال میں اس وقت بہت تھکا ہوا ہوں اس لئے پریشان مت کرو اور جلدی باہر آؤ ”
وہ پھر سے اسکو مخاطب کرتا بیڈ پر آ بیٹھا اور اپنا بنیان اتار کر صوفہ پر پھینک دیا
مگر اس بار مشال نے کوئی جواب نہیں دیا
پانچ منٹ کے بعد دس منٹ گزر گئی مگر وہ باہر نہیں آئی تبریز سمجھ گیا تھا وہ یقیناً اسکو پریشان کرنے کے لئے باہر نہیں آ رہی تھی
‘” دیکھو مشال اگر تم باہر نہیں آئی تو میں خود اندر آ جاؤں گا اور تم اچھے سے جانتی ہو میں یہ بہت آرام سے کر سکتا ہوں”
سخت لہجے میں اسکو وارننگ دی گئی تھی
‘” کوشش کر لو اس بار تم کر نہیں سکتے “
اندر سے اسکی چہکتی ہوئی آواز آئی یقیناً دوسری کی بھی اسکے پاس موجود تھی
اسکا جواب سن کر تبریز گہرا سانس بھرتا وارڈراب کی طرف بڑھتا اسکا ارادہ دوسرے روم کا واشروم یوز کرنے کا تھا
مگر یکدم سے کچھ سوچ کر اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی اور وہ واپس واشروم کے دروازے کے پاس آ کھڑا ہوا
‘” ارے یہ کیا دو چھپکلی ایک ساتھ واشروم کی ونڈو کے پاس یقیناً یہ واشروم میں جانا چاہ رہی ہونگی ”
وہ بلند آواز میں بولا
چہرے پر شرارتی مسکراہٹ تھی
ابھی اس نے اپنی بات مکمل ہی کی تھی جب مشال اپنے گرد ٹاول لپیٹے آندھی طوفان کی طرح واشروم سے چیخ مارتی ہوئی باہر نکلی دروازے کے قریب ہی کھڑے تبریز کے سینے سے آ لگی تھی
‘” پلیز تبریز اسے بھگا دیں ہمیں بہت ڈر لگتا ہے اس ”
وہ اسکے سینے سے چپکی بری طرح کانپ رہی تھی جبکہ تبریز نے اپنا بمشکل اپنے قہقے کو دبایا ہوا تھا
مشال اس وقت اتنا ڈری ہوئی تھی کہ اسکو نہ اپنے حلیے کا احساس تھا اور نہ تبریز کے جو اس وقت بغیر شرٹ کے تھا اور وہ خود اسکے سینے سے لگی کھڑی تھی
‘” ویسے یہ بہت اچھا طریقہ ہے اب جب بھی میرا دل تمھیں ٹاول میں دیکھنے کا کرے گا میں تمھیں ایسے ہی ڈرا کر باہر نکال دیا کرونگا ”
وہ شرارتی انداز میں بولتا اس پہ اپنا گھیرا مزید تنگ کر چکا تھا
مشال جو اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپائے کھڑی تھی تبریز کی بات پہ اپنا چہرہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا جو آنکھوں میں شرارت لئے اسی کو دیکھ رہا تھا
‘”مطلب آپ نے ہم سے جھوٹ بولا ”
اپنی پوزیشن کا خیال آتے ہی اس نے تبریز سے دور ہونا چاہا مگر وہ تو اب اسکو اپنی باہوں کے حصار میں لے چکا تھا
اسکی خود پر جمی گہری نظروں سے اسکا چہرہ اب شرم سے بری طرح لال ٹماٹر جیسا ہو گیا تھا
‘” تم نے مجھے چیلنج کیا تھا اور ایس پی تبریز ہر چیلنج کو پورا کرتا ہے ”
اسکے ہاتھوں کا لمس اپنی کمر پہ محسوس کر کے مشال گھبرائی تھی
‘” آپ بہت بدتمیز انسان ہیں ایسے چیلنج پورے کرتے ہوئے آپکو شرم نہیں آتی.. چھوڑے ہمیں ”
اسکی نظریں ہی نہیں اب اسکے ہاتھ بھی مشال کو پریشان کر رہے تھے
جو کبھی اسکے بازو کو چھو رہے تھے تو کبھی اسکی گردن کو
‘” اس میں شرم کیسی تمھیں ہر لباس میں دیکھنے کہ حق رکھتا ہوں میں پھر چاہے وہ یہ چھوٹا سا ٹاول ہی کیوں نہ ہو”
اسکا ہاتھ اب مشال کے ٹاول پہ آکر روکا تو وہ اپنا سانس روک گئی تھی اسکے اگلے عمل کا سوچ کر
‘” قسم سے تم اس ٹاول میں اپنے کپڑوں سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو میرا دل کر رہا ہے تمہارے لئے ہر رنگ کا ٹاول لے آؤ اور تم میرے سامنے بس انہیں ہی پہنو ”’
وہ اپنی بات کہتا ہوا اس پہ جھکا اور اپنے لب اسکے کندھے پر رکھ دئے
اسکی شیو کی چبھن سے مشال کو اپنی سانسیں بھکرتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
اسکی حد سے زیادہ بڑھتی گھستاخی پر مشال کو اب اپنے قدموں پہ کھڑے رہنا مشکل لگ رہا تھا
‘” تبریز پلیز ہمیں چینج کرنے دیں ”
وہ اسکی باہوں میں مچلتی منمائی تھی
تبریز جو اس پہ جھکا خود کو سیراب کر رہا تھا مشال کی آواز پہ ہوش میں آیا اور اپنا چہرہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا
‘” مشال کیا تمھیں نہیں لگتا ہمارے بیچ اب فاصلے ختم ہو جانے چاہئے ہر گزرتے دن میرا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے ”
وہ خمار آلودہ لہجے میں کہتا مشال کی دھڑکنوں کو بڑھا گیا تھا
‘” ہمیں نہیں معلوم آپ بس ہمیں جانے دیں ”
اسکی غیر ہوتی حالت کو دیکھ کر تبریز کو اس پہ رحم آ گیا
وہ اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کرتا دور ہوا
‘” تمھیں نہیں معلوم تو کوئی بات نہیں پر مجھے معلوم ہے اور میں بہت جلد ہمارے درمیان فاصلوں کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں”
اسکی بات سے مشال کی ریڈ کی ہڈی میں سنسناہٹ ڈور گئی تھی
”اسلئے آج تو تمھیں چھوڑ دیا مگر اس دن مجھ سے کوئی امید مت رکھنا کہ میں تم پہ رحم کر لونگا ”
وہ اپنے انگوٹھے سے اسکا لبوں سکو سہلاتا ہوا بولا
اور مشال سے اب مزید وہاں روکا نہیں گیا وہ جتنی تیزی سے باہر نکلی تھی اتنی ہی تیزی سے پھر سے واشروم میں جا گھسی اور اس بار تبریز کا قہقہا پورے کمرے میں گونج اٹھا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” میں جا رہا ہوں عمارہ کل رات کی میری فلائٹ ہے بس آخری بار تم سے ملنا چاہتا تھا ”
وہ اپنے سامنے کھڑی عمارہ کی طرف دیکھ کر بولا جو حیران پریشان سی اسکی طرف دیکھ رہی تھی
‘” ایسے اچانک تم کہاں جا رہے ہو کبھی تم نے اس بات کا ذکر بھی نہیں کیا ”
عمارہ کو لگا تھا کہ وہ آب رو دیگی مگر خود کو سنبھالنا ضروری تھا
‘” اچانک نہیں بہت پہلے سے جانے کا پروگرام تھا بس کل کنفرم ہوا ہے اس لئے سوچا جانے سے پہلے آخری بار تم سے مل لوں ..تم اپنا خیال رکھنا اور ساتھ میں سکندر کا بھی ”
وہ اسکی محبت تھی اور آج تک وہ اپنے جذبات اس سے چھپاتا آیا تھا
شاید انکی قسمت میں کبھی ملنا لکھا ہی نہیں تھا
‘” آخری بار مطلب میں سمجھی نہیں کتنے دنوں کے لئے جا رہے ہو تم ”
اس نے ناسمجھی سے توفیق کی طرف دیکھا
آج وہ کیسی باتیں کر رہا تھا اس سے
‘” مجھے معلوم نہیں کتنے دن مہینے اور کتنے سال لگ سکتے ہیں یا شاید میں اب وہیں رہوں تیمور خان کا حکم ہے جو مجھے ماننا ہوگا ”
اسکا لہجہ کسی بھی قسم کے جذبات سے خالی تھا
تیمور خان کے اپنے بزنس کے ساتھ ساتھ بہت سے غیر کانونی کام تھے
اب تو پولیس کو بھی اس پہ شق ہونے لگا تھا اس لئے وہ سارا بزنس دوسرے ملک شفٹ کر رہا تھا تاکہ دنیا کو لگے تیمور خان ملک چھوڑ کر جا چکا ہے اور اسلئے توفیق کو وہاں سب سنبھالنے کے لئے بھیج رہا تھا
اسکے بزنس میں لوگ اسے تیمور خان کے نام سے جانتے جبکہ وہ اپنے غیر کانونی کاموں میں تاشا کے نام سے جانا جاتا
‘” پر تم چلے جاؤ گی تم میں اکیلے کیسے سب سنبھالو گی”
اسکا دل بھر آیا تھا اسکے جانے کا سنکر
مانا وہ لوگ روز نہیں ملتے تھے پر دو تین مہینے میں انکی ملاقات ہوتی رہتی یا کبھی سال لگ جاتا تھا
‘” تم دس سال سے اکیلے ہی سب کرتی آ رہی ہی اب آگے بھی تمھیں اکیلے ہی سنبھالنا ہوگا ”
وہ اسکو سمجھا رہا تھا
دس سال گزر گئے تھے سکندر اب گیارہ سال کا ہو گیا تھا اس دن اریشہ کے پاس سے سکندر کو لاکر تیمور خان نے عمارہ کی گود مین ڈال دیا تھا
اور اسکی جان یہ کہہ کر بخش دی کہ آج سے وہ اسکی دیکھ بھال کریگی نہ کبھی اسکی ماں کی بارے میں اسکو بتایں گی اور عمارہ تو تھی اسکی غلام اسکی بات پر سر جھکا گئی پر ایک بات کا سکون تھا کہ سکندر اسکے پاس تھا
اس دن کے بعد توفیق اور عمارہ کو کچھ نہیں پتہ چلا اریشہ کہاں چلی گئی پر اسکی ایک چیز عمارہ نے سینے سے لگا لی
تیمور خان کو اپنے بیٹے سے بہت محبت تھی وہ شادی تو وہ پہلے بھی نہیں کرنا چاہتا تھا بیٹا ملنے کے بعد اس نے کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں
توفیق تیمور خان کے ساتھ مصروف رہنا لگا اور عمارہ سکندر کے ساتھ بس کبھی کبھی وہ صرف عمارہ سے ملنے آتا وہ بھی صرف چند منٹ کے لئے
زندگی اپنی رفتار سے گزر رہی تھی
‘” ہاں سہی کہا تم نے اکیلے ہی سب کرنا ہے لیکن میں بس تم سے ایک بات کہنا چاہوں گی تمہاری کبھی بھی واپسی ہو تم مجھے اپنا منتظر پاؤ گے ”
یہ اسکا کھلے لفظوں میں اظھار تھا
مگر توفیق خاموش ہی رہا وہ اسے کوئی جھوٹی امید نہیں دلانا چاہتا تھا
کچھ دیر رکنے کے بعد وہ چلا گیا تھا بغیر کچھ کہے اور عمارہ بس اسکو جاتا دیکھتی رہی
جہاں ایک کا پیار ادھورا رہ گیا تھا وہیں دوسری طرف جلال کو اپنی محبت مل گئی تھی
اسکو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا اریشہ کے ساتھ کیا ہوا اسکو بس اتنا معلوم تھا وہ اسکی محبت تھی اور اب اسکو ہی اریشہ کو سنبھالنا تھا
اریشہ کو راضی کرنے میں اسکو مشکل تو بہت ہوئی مگر جلال نے اپنی محبت سے اسکو راضی کر لیا
گیارہ سالہ تبریز سات سالہ زیان اور ایک سالہ مشال ان تین بچوں نے اسکی دنیا مکمل کر دی تھی
مشال ارمان کی بیٹی تھی ایک ایکسیڈنٹ میں اسکے ماں باپ کے مرنے کے اب اریشہ کی گود میں آ گئی تھی
پر جلال تبریز کو کبھی قبول نہیں کر پایا کیونکہ وہ اس انسان کی اولاد تھا جو اسکی اریشہ کا گناہگار تھا وہ بس اریشہ کے لئے اسکو اپنے گھر میں برداشت کرتا تھا
اور یہ بات اریشہ بہت اچھے سے جانتی تھی مگر وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ جلال بھی اسکو اپنی اولاد کی طرح سمجھے مگر ایسا نہیں تھا
اریشہ کو سکندر کی کمی بھی محسوس ہوتی مگر پھر صبر کرکے رہ جاتی
وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے جو اریشہ کے لئے ثابت ہوا تھا
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )