No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
(ماضی )
” امی اور کتنی شاپنگ باقی رہ گئی ہے ”
اریشہ بےزاری سے اپنے آگے چلتی نور بیگم سے مخاطب ہوئی تھی
جو پچھلے دو گھنٹے سے اسکو اپنے پیچھے گھوما رہی تھی کبھی اس شاپ میں جاتی تو کبھی دوسری شاپ میں
‘” بیٹا ابھی تو بہت ساری چیزے لینا باقی ہیں ابھی تو کچھ خریدا بھی نہیں ہے میں نے ٹھیک سے ‘”
وہ اسکی جانب پلٹی تھی جسکے چہرے پر اس وقت صرف تھکن اور گھر جانے کی جلدی تھی
‘” امی پلیز اب مجھ سے اور نہیں چلا جائے گا میں ڈرائیور کے ساتھ گھر جا رہی ہوں باقی کی شاپنگ آپ خود کر لیں ‘”
وہ ان سے اجازت مانگ رہی تھی
آج نور بیگم اسکو زبردستی اپنے ساتھ شاپنگ کے لئے لیکر آ گئی تھی پہلے تو اس نے سنتے ہی انکار کر دیا تھا مگر انکے اسرار کرنے پر وہ انکے ساتھ آ گئی مگر اب یہاں آکر بری طرح پچھتا رہی تھی
وہ الگ ہی دنیا کی لڑکی تھی جو شاپنگ کرتے ہوئے گھبراتی تھی
‘” نہیں تم تب تک نہیں جاؤ گی جب تک میری شاپنگ پوری نہیں ہو جاتی
اور کیسی لڑکی ہو تم تمہاری شادی کی ہی شاپنگ ھو رہی لڑکیاں تو خوشی خوشی کرتی ہے اور ایک تم ہو “
وہ اسکی طرف دیکھ کر مضوعی خفگی سے بولی مگر اس پر اثر کہاں ہونا تھا
‘” آپ جانتی ہے مجھے امی مجھے شروع سے ہی دلچسپی نہیں ہے گھومنے میں اور پھر آپنے میری اس عادت کو مزید بگاڑ دیا ہے ”
وہ انکی طرف دیکھتی مسکرا کر بولی تو نور بیگم بھی اسکی بات پر مسکرا دی تھی
“چلو اب اس شاپ پر چلتے ہیں یہاں سے مجھے تمہارے لئے سوٹ لینے ہے ”
وہ ایک شاپ کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی اور آگے بڑھ گئی تو اریشہ کو بھی مجبورن انکے پیچھے جانا پڑا اس بات سے بےخبر کے کوئی تھا جو اس رش والی جگہ میں اس پر اپنی نظریں جمائے کھڑا تھا
‘” تیمور یہ اس لڑکی کی دوست ہے اور اس لڑکی نے ہی تمہارے خلاف رپورٹ کی ہے ‘”
اسکا خاص آدمی اسکے قریب آتا سرگوشی کے انداز میں بولا تھا جبکہ اسکی نظریں ابھی بھی وہیں پر جہاں وہ کچھ دیر پہلے کھڑی تھی
‘” تم پولیس کی فکر نہ کرو انہیں توفیق سمبھال لیگا تم بس حکم دو اس لڑکی کا کیا کرنا ہے ‘”
وہ اسکی طرف دیکھ رہا تھا
‘” کیا نام بتایا تم نے اس لڑکی کا ?
وہ اپنے آدمی کی بات کو نظرانداز کرتا سوال کر رہا تھا
‘” اریشہ شاہ ماں باپ ہے نہیں باپ کے دوست کی بیوی نے پالا اور تین دیں بعد شادی بھی ہے اسکی ”
وہ اسکی ساری معلومات حاصل کر چکا تھا آخر تیمور خان کے خلاف کوئی کام کر رہی تھی
‘” شوکت مجھے کل یہ لڑکی میرے بیڈروم میں چاہئے ..
سمجھ گئے نہ تم کل مطلب کل ہی “
اسکی آنکھوں میں اس وقت ایک الگ ہی چمک تھی جبکہ جو شوکت بہت اچھے سے محسوس کر سکتا تھا
‘” ٹھیک ہے کام ہو جائے گا “
وہ اسی انداز میں بولتا اپنی کار کی طرف بڑھا تھا اسکو بلکل حیرانی نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ بہت اچھے سے جانتا تھا اپنے باس کی عادت کی بارے میں اسکی پسند پل میں بدلتی تھی
”تیمور خان دنیا کے سامنے تو اس شہر کا بہت بڑا بزنس مین تھا مگر اس بزنس کے پیچھے وہ کرتا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا اسکے آگے پیچھے کوئی نہیں تھا نہ ماں نہ باپ
وہ خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ عیاش قسم کا آدمی تھا اس نے حسین چہرے تو بہت دیکھے تھے بلکہ وہ خوبصورتی کا دیوانہ تھا
جو بھی خوبصورت چیز پر اسکی نظر پڑ جاتی اسکو حاصل کرکے ہی اسکو سکون ملتا تھا جیسے اسکی نظر صبا پر پڑی تھی مگر اس لڑکی کے آگے صبا کچھ بھی نہیں تھی
اور اب وہ اسکو حاصل کرنا چاہتا تھا جو اسکے لیے مشکل بھی نہیں تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” اس وقت کار کی خاموشی میں اسکی سسکیوں کی آوازیں آ رہی تھی
ڈرائیونگ کرتے سکندر کا سارا دھیان صرف اس پر تھا وہ گردن گھما کر بار بار اسکی طرف دیکھ رہا تھا
پھر سامنے دیکھنے لگتا
اس وقت اسکے اندر کا غصّہ کار کی بڑھی ہوئی سپیڈ بٹ رہی تھی
” اگر اب تم نے اپنا رونا بند نہیں کیا تو میں تمھیں اس کار سے باہر پھینک دوں گا ‘”
اس بار جب اس سے برداشت نہ ہوا تو اسکی سخت اور رعبدار آواز کار میں گونجی تھی
مہرہ جو رونے میں مصروف تھی سکندر کی بات پر زخمی نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی
‘” پھینک دے مجھے پرواہ نہیں ہے کم از کم تم سے تو سے چھٹکارا تو مل جائے گا مجھے ”
وہ بےدردی سے اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی تو سکندر کے ہونٹ مسکرا دئے تھے اور یہ دوسری بار تھا جب وہ اسکے لئے مسکرایا تھا
‘” اگر تمہارا یہ رونا بند کرنے کے لئے مجھے تمھیں زخمی بھی کرنا پڑے تو ڈارلنگ مجھے بلکل بھی افسوس نہیں ہوگا اور یہ غلطفہمی اپنے دماغ سے نکال دو کہ تمہاری جان اب مجسے چھوٹنے والی ہے ‘”
وہ اسکی بھیگی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تو اسکے الفاظ مہرہ کو اور رونا آنے لگا
وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اب ساری زندگی اسکو اس شخص کے ساتھ گزارنی تھی جو زبردستی اسکا شوہر بن گیا تھا
اسکے اس طرح سے رونے پر سکندر سخت جھنجھلاہٹ کا شکار ہوا تھا اس نے ایک جھٹکے میں اپنی کار روکی اور مہرہ کا بازو پکڑ کر اسکو اپنے قریب کھینچ چکا تھا
‘” ایک بات سمجھ نہیں آتی تمھیں جب کہہ چکا ہوں چپ تو چپ ھو جاؤ ورنہ جو کام میں نے بیڈروم میں نہیں کیا اسکو یہاں کرنے میں مجھے کوئی پرابلم نہیں ہوگی “‘
اسکے لہجے میں چھپی دھمکی کو محسوس کر کے مہرہ کا رونا یکدم سے بند ہوا اور وہ جھٹکے میں اپنا بازو آزاد کراکر اس سے دور ہوئی تھی
سکندر اک نظر اسکو دیکھتا پھر سے کار سٹارٹ کر چکا تھا اس بار سارا راستہ خاموشی سے کٹا مگر جب انکو کار مہرہ کی گھر کے آگے رکی تو وہ بےیقینی سے کبھی اسکو دیکھتی تو کبھی اپنے گھر کو
‘” باہر نکلو ڈارلنگ سسر صاحب کو خوش خبری دیتے ہیں چل کر ”
وہ اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولتا باہر نکلا اور اسکو بھی باہر آنے کا حکم دیا
مہرہ اپنا کانپتا وجود سمبھالتی کار سے نکلی آنکھوں میں پھر سے پانی بھر آیا تھا
سکندر اسکے پیچھے ہی چل رہا تھا
اس نے جیسے ہی دروازہ ناک کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا دروازہ خود ہی کھلا تھا
توفیق صاحب جو پھر سے مہرہ کی تلاش میں نکل رہے تھے اسکو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر اپنی جگہ رک سے گئے تھے
صبح سے کتنا پریشان تھے وہ اسکے لئے انہیں لگ رہا تھا کہ کسی نے انکے جسم سے جان ہی نکال دی ہو مگر اب اسکو اپنے سامنے دیکھ کر انہیں سکون ملا تھا
‘” مہرہ بیٹا کہاں چلی گئی تھی تم تمھیں پتہ بھی ہے میں کتنا “”
وہ بولتے ہوئے اسکی طرف بڑھے مگر مہرہ کے پیچھے کھڑے سکندر کو دیکھ کر انکے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے
انہیں لگا کہ اب کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے مہرہ کا چہرہ اور سکندر کی موجودگی انہیں سب سمجھا گئی تھی
‘” چپ کیوں ہو گئے توفیق اس سے ملو یہ ہے مہرہ سکندر خان ”
اسکے الفاظ نے توفیق صاحب کے پیروں کے نیچے سے زمین ہی کھینچ لی تھی
سکندر کی آواز پر مہرہ ہوش میں آئی اور تیزی سے اپنے باپ کے سینے سے جا لگی
رکے ہوئے آنسو پھر سے بہنا شروع ہو گئے تھے
‘” تمھیں میں نے پورا ایک دیں دیا تھا توفیق مگر تم نے میری نہیں سنی
جو کام آرام سے ہو سکتا تھا تم نے اسے غلط طریقے سے کرنے پر مجبور کر دیا ‘”
مہرہ جو اپنے باپ کے سینے سی لگی آنسو بہا رہی تھی سکندر کی بات پر حیرانی سے آپنے باپ کی شکل دیکھنے لگی مطلب وہ اس وجہ سے اسکو اپنے ساتھ ملک سے باہر لے جا رہے تھے
تو کیا اسکے بابا پہلے سے جانتے تھے اس سب کے بارے میں یا سکندر کی فلحال ہی ملاقات ہوئی ان سے یہ دو سوال اسکے دماغ میں تیزی سے چلے تھے
‘” تم نے اچھا نہیں کیا ہے یہ سب کرکے میری بیٹی بہت معصوم ہے ‘”
توفیق صاحب کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تھا
‘” اسکی یہی معصومیت اسکے لئے مہنگی ثابت ہوئی ہے کہا تھا نہ مجھے جو چاہئے اسکو میں حاصل کرکے ہی رہتا ہوں ”
وہ مہرہ کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا مہرہ نے احتجاج کرنا چاہا مگر کر نہیں پائی
‘” یہ اس دنیا سے نہیں ہے جس دنیا سے تمہارا تعلق ہے نہ ہی یہ اس سب کے بارے میں جانتی ہے ”
وہ بےبس تھے اسکے آگے اب کچھ حق بھی تو نہیں رہا تھا اپنی بیٹی پر
‘” میرے ساتھ تعلق بن گیا ہے اتنا بہت ہے میری اس دنیا سے دور ہی رہے گی “
جانے کیوں وہ انکو تسلی دے رہا تھا وہ خود بھی سمجھ نہیں پایا
اسکی بات سن کر توفیق صاحب خاموشی سے اسکو دیکھنے لگے
اس نے مہرہ سے نکاح کیا تھا تو کیا وہ تاشا سے اسکی حفاظت کر سکتا تھا
ہاں وہ کر سکتا تھا
وہ کھڑے سوچ رہے تھے اور سکندر کو انکی خاموشی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی اسکو لگا تھا کہ وہ شور مچائے گے اسکو کچھ کچھ بولیں گے مگر ایسا نہیں ہوا تھا
‘” میرا خیال ہے اتنی ملاقات کافی ہے اب چلنا چاہیے”
وہ مہرہ کو بازو سے پکڑ کر اپنی کار کی طرف بڑھا تھا اور توفیق صاحب بس اسکو ڈور جاتا دیکھتے رہے
🍁🍁🍁🍁
‘” اس نے جیسے ہی اپنے کمرے میں قدم رکھا تو ایک پل کے لئے حیران رہ گیا تھا
یہ کمرے کہیں سے بھی اسکو اپنا کمرہ نہیں لگ رہا
بیڈ پر شاپنگ بیگز پڑے ہوئے تھے اور کچھ صوفہ پر
اسکی نظر مشال پر پڑی جو ایک ایک چیز نکال کر سائیڈ پر رکھ رہی تھی
‘” تم شاپنگ کرکے آئی ہو یا پوری دکان اٹھا کر لے آئی ہو “
وہ حیران سے اسکی طرف بڑھا
‘” اس میں کچھ فالتو نہیں ہے سب ہماری ضرورت کی چیزے ہیں “
وہ اسکی طرف پلٹے بغیر بولی اور بیڈ سے اٹھا کا شاپر صوفہ پر رکھنے لگی
‘” پر میں تو تمہارے لئے اپنی پسند کے کپڑے لیکر آیا تھا ان سب کا کیا ?
اسکے ہاتھ میں خوبصورت سے سوٹ دیکھ کر وہ سوال کر رہا تھا
‘” نہ ہمیں آپ پسند ہیں اور نہ آپکی لائی ہوئی چیزے اس لئے ہم خود اپنی پسند سے لیکر آئے ہیں انکو تو میں ملازمہ کے ہاتھ غریب کو دے دئے ”
“‘ اور ہاں بےفکر رہیں پیسے آپکے ہی استمال کئے ہیں وہ اپنے ہینڈ بیگ سے اسکا کریڈٹ کارڈ اسکو دکھاتی ہوئی بولی”‘
اصل مزا تو اسکو اب آ رہا تھا تبریز کی شکل دیکھ کر
اپنا حق بہت جتاتے ہیں نہ تو اب بھگتو
وہ دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھی اسکا اتنا خرچہ کر کے
”’ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کس سے پوچھ کر تم نے میرا کریڈٹ کارڈ یوز کیا ”
اسکو غصّہ آیا تھا مشال کی حرکت پر مطلب اسکی لائی ہوئی چیزو کی بلکل قدر نہیں تھی
‘” اتنا غصّہ کیوں کرتے ہو ڈیر ہسبنڈ ویسے بھی یہ تو ہمارا حق ہے آخر بیوی ہوں آپکی ‘”
وہ آنکھیں مٹکاتی ہوئی کہنے لگی تبریز کی شکل اسکے دل کو سکون پہنچا رہی تھی
اسکی بات سن کر تب ریز کو غصّہ تو بہت آیا مگر کچھ سوچ کر اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی
” حق کی بات کر رہی ہو تم ?
وہ سوال کر رہا تھا
‘” جی بلکل حق کی ہی بات کار رہی ہوں میں ‘”
مشال اسکو جواب دیتی بیڈ کی طرف بڑھی تھی
‘” گڈ اگر حق کی بات ہو رہی ہے تو میرے بھی کچھ بنتے ہیں ‘”
اسکے لہجے نے مشال کو اپنی طرح موتجہ کیا تھا
تبریز اپنی گن اور والیٹ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتا اسکی طرف بڑھنے لگا تو مشال بوکھلاتی ہوئی اپنے قدم پیچھے کی طرف اٹھانے لگی
‘” آج تم اپنا حق لے چکی ہو تو اب میں بھی تم سے اپنا حق وصول کروں گا ‘”
وہ ذو معنی طریقے سے کہتا اسکی طرف بڑھنے لگا
مشال اپنی گھبراہٹ میں دیکھ نہ پائی تھی کہ پیچھے بیڈ ہے اور اپنے پیچھے بیڈ ا جانے کی وجہ سے وہ سیدھی اس پر گری تھی
اس سے پہلے کہ مشال اٹھ کھڑی ہوتی تبریز اسکے سامنے کھڑا ہوکر اپنی شرٹ کی بٹنز کھولنے لگا تھا
‘” دیکھو دور رہو تم غلط کر رہے ہو “
مشال کو اب اپنی غلطی کا احساس ھو رہا تھا
‘” اب جو ہم دونوں کے بیچ ہوگا وہ غلط نہیں ہوگا جائز ہو تم مجھ پر “
وہ اس پر جھکا تو مشال اپنے ہاتھ کی مدد سے بیڈ کے اوپر کو ہوکر اس سے دور ہوئی
‘” ہم شور مچائے گے ‘”
اس نے جلدی سے بیڈ سے اترنا چاہا مگر تبریز اسکی ٹانگ پکڑ کر مشال کو اپنے قریب کر چکا تھا
مشال اپنی پوری طاقت لگا کر اس سے نجات حاصل کرنا چاہ رہی تھی مگر تبریز اسکو اپنے وجود سے ڈھک چکا تھا
‘” لیکن آپ ہمارے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ”
مشال کو اب اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا کہ کیوں اس نے شیر کو جگایا
‘” مجھے فرق نہیں پڑتا ‘”
اپنی بات کہہ کر وہ اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا مشال کی جان جیسے حلق کو آ گئی تھی
وہ اسکے مضبوط بازو پر مکے مارنے لگی مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ وہ اسکی دونوں کلائی کو تھامتا اسکی شہ رگ کو چومنے لگا
اسکے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن اور کندھے پر محسوس کر کے مشال بےبسی سے رونے لگی
اسکے رونے کی آواز تبریز کے کانو میں پڑی تو وہ پل میں اس سے دور ہوا تھا
‘” اپنا یہ رونا بند کرو کچھ نہیں کر رہا میں یہ چھوٹی سی سزا تھی میرے لاۓ ہوئے کپڑے کسی اور کو دینے کی آئندہ اگر ایسا کیا تو میرا جنونی انداز دیکھو گی تم ”
وہ صاف اسکو وارننگ دے رہا تھا اور مشال دل میں کتنی ہی بار توبہ کر چکی تھی ایسا کرنے سے
‘”اب اٹھاؤ یہ سامان اور کمرہ صاف کرو آگر میرے سامنے ایسے ہی لیٹی رہی تو اس بار مجھے خود کو روکنا مشکل ہو جائے گا ”
اسکو یوں ہی لیٹا دیکھ کر اس بار سخت انداز میں کہا گیا تو مشال تیزی سے بیڈ سے اٹھی اور اپنا بکھرا سامان سمیٹنے لگی
جبکہ اسکی حالت اور تیزی پر تبریز اپنی مسکراہٹ ضبط کرکے رہ گیا تھا اسکو سبق سیکھانا ضروری تھا تاکہ آئندہ وہ اسکی لائی چیزو کے ساتھ ایسا نہ کرے ‘
🍁🍁🍁🍁
‘” وہ بیڈ پر سیدھی لیٹی بس ایک ٹک چھت کو گھور رہی تھی وہ اس وقت دیکھنے میں جتنی پرسکون لاگ رہی تھی اندر اسکے ایک شور سا مچا ہوا تھا
اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ چیخ مار مار کر روۓ مگر آواز جیسے اندر ہی کہیں دب گئی تھی
اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ اپنے بابا کے پاس چلی جاۓ مگر بےبس تھی کل سے اب تک ایک پل بھی سکون نہیں مل رہا تھا اسکو
دروازے پر ہونے والی دستک نے اسکی سوچوں کا سلسلا توڑا تھا
کوئی اسکے کمرے کا دروازہ ناک کرتا اندر داخل ہوا تھا
‘” بیٹا مہرہ آپکو سکندر نے بلایا ہے “
عمارہ اسکے بیڈ کے قریب آکر بولی تو مہرہ یکدم سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی جانتی تھی انکار کی سورت میں وہ یہاں ہوتا عمارہ کو اس لڑکی پر ترس تو آیا مگر سکندر کے سامنے خاموش تھی بلکل
وہ عمارہ کے ساتھ اس کمرے میں داخل ہوئی جہاں سکندر صوفہ پر بیٹھا ہوا تھا شاید کسی سے فون پر بات کر رہا تھا مگر اسکی نظریں مہرہ پر ہی جمی ہوئی تھی
‘ اس نے ہاتھ کی اشارے سے اسکو اپنے قریب بلایا مہرہ کا حلق یکدم خشک ہوا تھا اس نے گردن موڑ کر دیکھا مگر اب وہاں عمارہ موجود نہیں تھی
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی اسکے قریب آئی تو سکندر نے اسکی کلائی پکڑ کر ایک جھٹکے میں اسکو اپنے قریب بیٹھا لیا
مہرہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا ٹو سیٹر صوفہ پر وہ پوری طرح سے پھیل کر بیٹھا ہوا تھا اسلئے مہرہ کے لئے جگہ نہ کے برابر تھی
‘” تم اپنا کام مکمل کر لو پہلے پھر مجھے ڈیٹیل میں سب بتا دینا ”
دوسری طرف کریم تھا جسکو وہ ہدایت دیتا فون رکھ چکا تھا مگر نظریں ابھی بھی مہرہ پر تھی جو اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو موڑ رہی تھی
وہ صوفہ کی پشت سے اپنا ہاتھ ہٹا کر اسکے ملائم گال کو چھونے لگا
اسکے لمس سے مہرہ کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوا تھا
اسکا ہاتھ مہرہ کے رخسار اسکی گردن تک کا سفر طے کرنے لگا
‘” تم نے مجھ سے اس تھپڑ کی وجہ سے شادی کی ہے نہ “
کانپتی آواز میں سوال پوچھا گیا تھا
‘” مجھے اس تھپڑ کا بدلہ لینا ہوتا تو تم کل اپنے باپ کے سامنے نظریں ملانے کے قابل نا رہتی “
وہ اسکا چہرہ اپنی جانب کرتا ہوا بولا اسکی نظریں بھٹک رہی تھی
سکندر خان کو اگر کوئی چیز پسند آ جاۓ تو وہ اسکو حاصل کرکے ہی رہتا ہے جیسے تمھیں کر لیا “
وہ اپنی بات کہتا ایک جھٹکے میں اسکو اپنی گود میں گرا چکا تھا
مہرہ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اٹھ جاتی اسکی آنکھ سے آنسو بہ کر اسکی پینٹ بھیگو رہے تھے
‘” آئندہ یہ آنسو میرے سامنے مت بہانا یہ انسان کو صرف کمزور کرتے ہیں “
اسکے آنسو کی نمی محسوس کرکے مہرہ کے آنسو بےدردی سے صاف کرتا ہوا بولا
یہ لڑکی کب اسکی ضد بن گئی اسکو خبر نہیں ہوئی اور اب وہ اسکو اپنی بیوی بنا چکا تھا
اسکے انداز اور اسکی بات پر مہرہ نے یکدم نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا اور مہرہ کو وہ کسی اور کی یاد دلا گیا تھا
مہرہ کے اس طرح دیکھنے پر وہ اس پر جھکا اتنا کہ اب ان دونوں کی سانسیں الجھ رہی تھی
اسکے جھکنے پر مہرہ نے تیزی سے اٹھانا چاہا مگر رک گئی اٹھنے کی سورت میں یقیناً انکی کس ہو جاتی
وہ کسی گڑیا کی طرح اسکی گود میں لیٹی ہوئی تھی
‘” تمھیں کیا لگتا ہے تم رک گئی ہو میں بھی رک جاؤں گا “
وہ محظوظ ہو رہا تھا اسکی حالت سے
وہ اپنی بات پوری کرنے کے لئے اس پر مزید جھکا اور باقی کا فاصلہ بھی مٹاتا اپنے ہونٹ اسکی تھوڈی پر رکھ چکا تھا
اسکے انداز پر کانپ کر رہ گئی تھی ہاتھ پیر میں جیسے جان ہی باقی نہ ہو
‘”” اتنا تو مجھے تم سمجھ ہی گئی ہونگی کہ مجھے جو چاہئے اسکے لئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ”
وہ اپنا چہرہ اوپر کرتا اسکی طرف دیکھنے لگا اسکی گرم سانسیں اور ذو معنی لہجہ مہرہ کا چہرہ سرخ کر گیا تھا
اور بس یہی موقع تھا جب مہرہ پل میں سیدھی ھو بیٹھی
جبکہ سکندر کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے اس نے ایک جھٹکے میں اسکا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
‘” جب تک میں نہ بولو تب تک تمھیں مجھ سے دور جانے کی اجازت بلکل نہیں ہے
یہ بات اپنے دماغ میں بیٹھا لو آگے سے میں ایسی حرکت برداشت نہیں کروں گا ”
وہ ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا اور صوفہ سے اٹھا کھڑا ہوا اور عمارہ کو آواز دے تھی
اسکی ایک آواز پر وہ کمرے میں داخل ہوئی
‘” کریم جو مہرہ کا سامان لیکر آیا ہے اسے میرے کمرے میں سیٹ کرو اور تم ”
وہ عمارہ کو حکم دیتا اسکی طرف پلٹا
” جاؤ جاکر اپنی ڈریس چینج کرو ‘
ایک اور حکم دیا گیا تھا کل سے وہ اسکو اسی سوٹ میں دیکھ رہا تھا
اسکی اجازت ملنے کی دیر تھی مہرہ تیزی سے عمارہ کی ساتھ کمرے سے نکل گئی تھی
🍁🍁🍁🍁
