53.5K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

” کیا ہوا کن سوچوں میں گم ہو کھانا کھاؤ ورنہ ٹھنڈا ہو جائے گا ”
عمارہ نے اسکی طرف دیکھ کر کہا جو جانے کن سوچوں میں گم تھی جبکہ اسکے سامنے کھانا ایسے ہی رکھا ہوا تھا
عمارہ کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی
‘” عمارہ مجھے ڈر ہے وہ مجھے ڈھونڈھ تو نہیں لیگا نہ میں پھر سے اس حیوان کی قید میں نہیں جانا چاہتی ”
اس وقت وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی اور عمارہ اسکا ڈر اسکی گھبراہٹ کو بہت اچھے سے سمجھ سکتی تھی
‘” تم ڈرو مت وہ تمھیں اب تلاش نہیں کر پاۓ گے بےفکر ہو کر رہو تم یہاں میں ہوں نہ تمہارے ساتھ ”
اس نے تسلی دے کر اریشہ کا ڈر تھوڑا کم کرنا چاہا تھا
اور اسکے جواب پر اریشہ تھوڑا مطمئن ہوئی تھی
‘” عمارہ میں تمہارا جتنا بھی شکریہ کروں اتنا کم ہے تم میرے لئے کسی فرشتے سے کم نہیں ہو آج میں صرف تمہاری وجہ سے ہی وہاں سے نکل پائی ورنہ مجھے لگا تھا میں اس شیطان کا ظلم سہتے سہتے اسی کمرے میں مر جاؤں گی ”
اسکی آنکھوں میں اپنے سامنے بیٹھی عمارہ کے لئے عزت تھی
‘” نہیں اریشہ یہ اکیلے کرنا میرے لئے بھی ممکن نہیں تھا اگر توفیق میرا ساتھ نہ دیتا بلکہ اسکے بنا تو تمہارا وہاں سے نکلنا ناممکن تھا اس شکریہ کا حقدار مجھ سے زیادہ وہ ہے ”
عمارہ اسکی بات پر مسکرائی تھی
یہ سچ تھا توفیق کے بغیر وہ وہاں سے نکل ہی نہیں سکتی تھی اگر نکل بھی جاتی تو اب تک تیمور کے لوگوں کے ہاتھ لگ چکی تھی
مگر توفیق نے اریشہ کو وہاں سے نکالنے کی بعد ایک گھر میں اسکو چھپا کر رکھا ہوا تھا جو اسکے لئے سیف تھا
‘” بس اب تم دعا کرو کہ توفیق تمھیں تمہارے گھر چھوڑنے میں کامیاب ہو جائے تب مجھے سکون ملے گا جب تم اپنے گھر واپس چلی جاؤ گی ”
اسکی خاموشی پر عمارہ پھر سے بولی تو اس بار اریشہ کے چہرے کہ رنگ بدلہ تھا
‘” نہیں عمارہ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے ”
وہ اداسی سے بولی
” کیا آسان نہیں ہوگا میں سمجھی نہیں تمہاری بات ”
اس نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا
‘” تمھیں کیا لگتا ہے عمارہ دو مہینے بعد میں ان لوگوں کے پاس جاؤں گی اور وہ لوگ خوشی خوشی مجھے قبول کر لیں گے نہیں عمارہ مجھے وہ کیسے قبول کر لیں گے جسکے پاس اب کچھ نہیں بچا
ایک لڑکی کے لئے اسکی عزت اسکا سب کچھ ہوتی ہے مگر میں ..
وہ دردناک اذیت یاد کرکے آنکھیں پھر سے گیلی ہوئی تھی یہ تلخ حقیقت تھی اگر وہ واپس چلی بھی جاتی شاید جلال اسکو کبھی قبول نہ کرتا اس لئے وہ کبھی واپس نہیں جانا چاہتی تھی
‘” ایسی سوچ مت رکھو وہ سب تمہارے اپنے ہیں اور اپنے اس طرح درد میں اکیلا نہیں چھوڑتے اچھے کی امید رکھو ”
عمارہ بلکل بڑی بہن کی طرح اسکو سمجھا رہی تھی اس سے پہلے کہ اریشہ کچھ کہتی تبھی دروازے پر دستک ہوئی
‘” توفیق آیا ہوگا میں دیکھتی ہوں ”
وہ اریشہ کے پریشان چہرے کو دیکھتی ہوئی کھڑی ہوئی
اور جب واپس کمرے میں آئی تو توفیق اسکے ساتھ ہی تھا
‘” کیا ہوا کچھ معلوم ہوا میرے گھر کے بارے میں کیسے ہیں سب ?
توفیق کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی لہجے میں بےچینی تھی
جبکہ توفیق نے ایک خاموش نظر عمارہ کی طرف دیکھ کر اریشہ کی طرف دیکھا
‘” مجھے معلوم کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن شوکت نے تیمور خان کے کہنے پر تمہارے گھر پر نظر رکھی ہوئی تھی تو مجھے اس سے پتہ چلا ہے کہ …
وہ ایک پل کے لئے خاموش ہوا
تمہارے گھر والے یہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں اب تمہارے گھر کوئی نہیں رہتا ”
اسکی بات سن کر اریشہ کو اپنا بدن سن ہوتا محسوس ہو رہا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے جسم میں جان ہی نہیں باقی رہی ہو اور اگلے ہی لمحے وہ بےہوش ہوکر زمین پر گر چکی تھی ..
🍁🍁🍁🍁
” اس بار جب آپ آئے گے ڈیڈ تو میرا ایک سرپرائز آپکا انتظار کر رہا ہے ”
وہ خوشدلی سے بولا آنکھوں میں اس وقت ایک الگ ہی چمک تھی
وہ چمک جو مہرہ کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں آتی تھی
‘”: ہاہاہاہا ”’
دوسری طرف کی بات سن کر اسکا قہقا بند ہوا تھا
” اگر میں ابھی بتا دوں گا تو سرپرائز کیسا رہے گا
”آپ آؤ آپکو خود ہی معلوم ہو جایں گا ”
وہ اپنی بات کہتا ہوا پلٹا جب اسکی نظر کمرے میں داخل ہوتی مہرہ پر پڑی
نظریں جھکائے ہاتھوں کو آپس میں مسلتی کچھ کنفیوز سی لگی تھی اسکو
‘” ہاں خاص چیز تو ہے اتنی خاص کہ اسکے لئے میں پوری دنیا سے لڑ سکتا ہوں ”
وہ مہرہ کو گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا
اسکے الفاظ سن کر مہرہ کو اپنی تیز ہوتی دھڑکن سمبھالنا مشکل لگ رہا تھا
‘” ٹھیک ہے آپ جلدی واپس آئے میں انتظار کر رہا ہوں آپکا”
وہ فون کٹ کرتا موبائل بیڈ پر پھینک چکا تھا
‘” کیا ہوا ایسے خاموش کیوں کھڑی ہو کچھ کہنا ہے ?
اسکو یوں ہی کھڑا دیکھ کر وہ اسکو مخاطب کرتا اسکے قریب ہوا
‘” ہاں ..وہ …میری ریکویسٹ ہے ایک تم سے ”
اسکو سمجھ نہیں آ رہا تھا اپنی بات کیسے شروع کرے
‘” ہاں بولو کیسی ریکویسٹ ?
اسکی نظریں مہرہ کے چہرے پر ہی جمی ہوئی تھی
‘” وہ میں …اپنے بابا سے بات کرنا چاہتی ہوں پلیز بس ایک بار میری ان سے بات کروا دو ”
آخر اس نے اپنے آنے کا مقصد بتا ہی دیا ڈر بھی لگ رہا تھا کہیں وہ غصّہ نہ کریں لگ جائے
جبکہ اسکی بات سن کر سکندر کے چہرے کہ رنگ یکدم سے بدلہ تھا
وہ اسکی بات کیسے کرا دیتا توفیق سے جو کومہ میں ہونے کی وجہ سے کسی سے بھی بات کرنے کی حالت میں نہیں تھے
انکے سر پہ بھی بری طرح سے وار کیا گیا تھا جس وجہ سے انکی ایسی حالت ہو گئی تھی
اور اسکی ایسی حالت کب تک رہتی وہ نہیں جانتا تھا اور مہرہ کو بھی اس بارے میں فلحال نہیں بتانا چاہتا تھا
‘” پلیز بس ایک بار ”
اسکی خاموشی پر وہ پھر سے بولی آنکھوں میں التجا تھی
‘” ٹھیک ہے تمہاری بات کروا دونگا مگر اس سے پہلے تمھیں میری ایک بات ماننی پڑے گی ”
اسکو صاف لفظوں میں منع تو نہیں کر سکتا تھا اس لئے دوسرا طریقہ ڈھونڈھا..
‘” کیسی بات ?
مہرہ سکو ڈر لگا تھا اسکی شرط سے
اسکی بات سن کر سکندر ہنسا اور وارڈراب کی طرف بڑھا اس میں سے ایک باکس نکال کر اسکے پاس آیا
‘” میرے لئے یہ ڈریس پہن کر آؤ اسکے بعد میں فورا تمہاری تمہارے بابا سے بات کروا دونگا ”
اس نے وہ باکس مہرہ کی جانب کیا
مہرہ نے کچھ سوچ کر وہ باکس ہاتھ میں لیا اسکو شق تو ہوا تھا اسکے اتنی جلدی مان جانے پر اس لئے جلدی سے اسکو کھول کر دیکھنے لگی
جبکہ سکندر بڑے آرام سے کھڑا اسکو دیکھ رہا تھا
‘” یہ …یہ پہنے کے لئے کہہ رہے ہو تم مجھے ”
ڈریس دیکھ کر مہرہ کا چہرہ شرم سے لال ہوا مطلب اسکا شق صحیح ثابت ہوا تھا
وہ ایک بلیک کلر کی ویسٹرن شارٹ ڈریس تھی جسکو اس نے پہننے کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا
‘” ہاں اس میں سے یہی ڈریس نکلی ہے تو ظاہر سی بات ہے میں تمھیں یہی ڈریس پہننے کے لئے کہہ رہا ہوں ”
وہ محظوظ ہو رہا تھا اسکی گھبراہٹ سے
‘” پر میں ایسے کپڑے نہیں پہن سکتی ”
اس نے ووہ ڈریس واپس اس باکس میں رکھ اسکی طرف بڑہائی
‘” نہیں پہنتی ہونگی پر میں چاہتا ہوں تم اسے مجھے پہن کر دکھاؤ ویسے بھی یہاں میرے علاوہ کوئی اور نہیں ہوگا ”
وہ اس سے ایسے فرمائش کر رہا تھا جو وہ پوری نہیں کر سکتی تھی
‘” میں نہیں پہن سکتی تمہارے سامنے بھی نہیں ”
وہ پریشان ہوئی تھی اسکی بات سے
‘” ٹھیک ہے پھر اپنے بابا سے بات کرنے کے بارے میں بھی بھول جاؤ اگر ان سے بات کرنا چاہتی ھو تو مجھے یہ پہن کر دکھاؤ ابھی اور اسی وقت ”
وہ ضدی لہجے میں بولتا مہرہ کی پریشانی کو بڑھا رہا تھا
‘” تم ہر بار ایسا کیوں کرتے ہو میرے ساتھ جب میں کہہ رہی ہوں میں پہن نہیں سکتی تو نہیں پہن سکتی “
وہ جچ ہوئی تھی اس بار
‘” تم ایک ڈریس پہنتی ہوئی اتنا کیوں ڈر رہی ہو میں پرومس کرتا ہوں صرف تمھیں دیکھوں گا خود پر کنٹرول کرنا مجھے اچھے سے آتا ہے ”
اسکی ذو معنی بات پر مہرہ کا چہرہ سرخ ہوا تھا
وہ سوچ رہی تھی اسکا کنٹرول کرنا بھی اسکے لئے جان لیوا ہی ثابت ہوتا ہے
ابھی تو ڈریس پہننے کے لئے بولا رہا ہے بعد میں پتہ نہیں کیا کیا کرنے کے لئے بولےگا
‘” ہاں میں ڈر رہی ہوں اور تم اپنی ڈریس اپنے پاس رکھو مجھے نہیں کرنی بات اپنے بابا سے بات ”
مہرہ غصّے میں وہ باکس بیڈ پر ڈالتی ہوئی جیسے ہی پلٹی سکندر اسکو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ چکا تھا
‘” ڈارلنگ قسم سے اس بار میرا ارادہ صرف تمھیں دیکھنے کا تھا آج پہن لیتی تو تمہارا ہی فائدہ تھا کیونکہ نیکسٹ ٹائم میرے ارادے اور بھی خطرناک ہو سکتے ہیں جو یقیناً تم سے برداشت نہیں ہونگے ”
اففف …آج تو وہ جیسے اپنی باتوں سے ہی مہرہ کی جان نکالنا چاہ رہا تھا
‘” میرا نیکسٹ ٹائم بھی یہی جواب ہوگا جو اب تھا ”
وہ اسکے چہرے کے طرف دیکھے بغیر بولی
اسکی بات پر سکندر کا قہقا پورے کمرے میں گونجا تھا
‘” ڈارلنگ مجھے تمہارے جواب سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر مجھے تمھیں ڈریس پہنانی ہوگی تو یہ نیک کام میں خود اپنے ہاتھوں سے بھی کر سکتا ہوں اور تم مجھے روک بھی نہیں پاؤ گی ”
وہ اسکے چہرے پر جھکا اور اسکی کان کی لؤ کو اپنے دانتوں میں لیکر ہلکا سا دبایا تو مہرہ کی ریڈ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی تھی
‘” کیا سوچا پھر پہن رہی ہو یا نہیں ”
وہ پھر سے اپنی بات پر آیا تو مہرہ اس سے اپنا بازو آزاد کرواتی دروازے کی طرف لپکی
‘” نہیں بلکل بھی نہیں ”
وہ ان چند لفظ پر اپنی بات ختم کرتی کمرے سے باہر نکل گئی اور اس بار سکندر کھل کر مسکرا دیا شاید زندگی میں پہلی بار..
🍁🍁🍁🍁
‘” تم نے اب تک بات نہیں کی اس سے ?
وہ فون پر مشال سے مخاطب ہوا
آج اتنے دن بعد موقع ملا تھا اسکو اس سے بہت کرنے کا
” کس سے بات نہیں کی?
اور کس بارے میں ?”
اس نے ناسمجھی سے ایک ساتھ دو سوال کر ڈالے تھے اس سے جبکہ زیان کو اسکی ناسمجھی پر غصّہ تو آیا مگر ضبط کر گیا
‘” میں تبریز کی بات کر رہا ہوں تم نے اب تک طلاق کے بارے میں بات نہیں کی اس سے ”
اس بار اس نے کھل کر اپنی بات دوہرائی تو مشال اس بار پوری طرح موتجہ ہوئی تھی
‘” نہیں زیان ہمیں اب تک موقع ہی نہیں ملا ان سے بات کرنے کا ”
وہ سنجیدگی سے بولی اب وہ اسکو کیا بتاتی کہ جب بھی وہ اس سے بات کرنے کو کوشش کرتی ہے اس سے پہلے ہی کچھ نہ کچھ ایسا ہو جاتا کہ اسکو اپنا ارادہ بدلنا پڑتا
جبکہ یہ بات الگ تھی وہ اپنا ارادہ نہیں بلکہ اب اسکا دل بدلنے لگا تھا
جبھی وہ اس بات کو پوری طرح سے بھول چکی تھی
‘” موقع ملتا نہیں مشال موقع خود تلاش کرنا پڑتا ہے تم اس شخص کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہو جس نے تمہارے ساتھ ایسا کیا اور میرے ساتھ بھی ”
وہ پھر سے اسکو اپنی باتوں میں الجھا رہا تھا
جلال شاہ اور مسز ناز اسکو معاف تو کر چکے تھے مگر تبریز سے اپنا بدلہ لینا باقی تھا
‘” آج رات ہی تم اس سے طلاق کے بارے میں بات کروگی مشال اور پھر میں تمہارے ساتھ ہوں مام اور ڈیڈ بھی تمہارا ساتھ دیں گے اس فیصلے میں …
‘” یہ کیا الٹی سیدھی باتیں سکھا رہے ہو تم اسکو دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا ”
اپنے پیچھے مسز ناز کی آواز سن کر وہ یکدم سے پلٹا اور جلدی سے کال بھی کٹ کی تھی
‘” مام وہ اسکے ساتھ خوش نہیں ہے اس لئے میں نے اسکو بولا کہ وہ تبریز سے طلاق لے لے ”
وہ بڑی آرام سے انکو بتا رہا تھا جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو
‘” وہ خوش ہے یا نہیں تمھیں اسکی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تبریز سمجھدار ہے وہ سمبھال لیگا اسکو اس لئے تم انکے معملے میں نہ بولو ”
انہوں نے دو ٹک انداز میں اپنی بات کہی لہجے تھوڑا سخت بھی تھی
‘” آپکے کہنے کا کیا مطلب ہے کیا میں سمجھدار نہیں ہوں کیا میں اسکو سہی بات نہیں بتا سکتا ”
اسکو انہیں تبریز کا سمجھدار کہنا بلکل پسند نہیں آیا تھا
‘” تم اگر سمجھدار ہوتے تو اسکو ایسا مشورہ نہ دیتے تبریز تمہارا بڑا بھائی ہے اور تم اسکا گھر توڑے کی باتیں کر رہے ہو تمھیں شرم نہیں آئی کیسے ..
” وہ اسکا بھائی نہیں ہے اریشہ تمھیں یہ بات کتنی بار بتانی پڑے گی مجھے ”
اس سے پہلے کہ وہ غصّے میں مزید اسکو کچھ کہتیں جلال شاہ کی آواز پر انہوں نے گردن موڑ کر بےیقینی سے جلال شاہ کی طرف دیکھا
آج کتنے سال بعد وہ انہیں اس نام سے پکار رہے تھے جو نام وہ خود ہی بدل چکے تھے
‘” جی ڈیڈ آپ بلکل ٹھیک کھہ رہے ہیں وہ صرف مام کا بیٹا ہے میرا بھائی نہیں ہے اس لئے مجھے اسکے ساتھ کچھ بھی کرتے ہوئے کوئی شرم نہیں آئے گی ”
وہ اپنی بات کہتا اور ایک نظر خاموش کھڑی اپنی ماں کو دیکھتا وہاں سے چلا گیا
‘” صرف تمہاری خوشی کی خاطر میں نے آج تک اسکو اپنے گھر میں برداشت کیا ہے اریشہ اور یہ بات میں تمھیں بہت سال پہلے بول چکا ہوں
” اسکا رشتہ صرف تم سے ہے ہم لوگوں سے نہیں لیکن تم یہ بات نہیں سمجھی اس میں صرف اور صرف تمہاری غلطی ہے'”
وہ انکے خاموش چہرے کو دیکھتے ہوئے بولے انہیں تکلیف تو ہوتی تھی یہ سب کہہ کر مگر انکا ظرف اتنا بڑا نہیں تھا اس لئے آج تک وہ تبریز کو قبول نہیں کر پاۓ تھے
‘” اور رہی بات مشال کی اگر وہ اسکے ساتھ ناخوش ہے تو میں اپنی بیٹی کا ساتھ دوں گا کیونکہ اسکی خوشی میرے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے ”
انہوں نے جیسے اس معملے میں بھی اپنے بیٹے کا ساتھ دیا تھا اور وہ بس اداسی سے اپنے شوہر کی طرف دیکھ کر رہ گئیں تھی
🍁🍁🍁🍁
وہ آج پھر بیڈ پر بیٹھی اسکے فری ہونے کا انتظار کر رہی تھی
مگر اسکی مصروفیت دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے آج اسکا کام پورا نہیں ہوگا
مگر اسکو بات تو کرنی تھی اور بات بھی ایسی تھی جسکو کرتے ہوئے اسکو ڈر بھی لگ رہا تھا
‘” ہمیں آپ سے طلاق چاہئے ”
وہ ایک جھٹکے میں بیڈ سے اٹھی اور مضبوط لہجے میں اس سے مخاطب ہوئی تھی
اسکو اپنے سامنے بیٹھے جلاد سے ڈر بھی لگ رہا تھا مگر کیا کرتی زیان کی باتوں نے اس وقت اسکو الجھا رکھا تھا
تبریز جو اپنی فائل میں گم تھا مشال کی بات پر اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے
‘” کیا کہا تم نے ذرا پھر سے کہنا ”
وہ اپنی فائل ایک سائیڈ پر رکھتا ہوا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا نظریں ہنوز اسی پر تھی
اسکو لگ رہا تھا شاید اس نے غلط سنا ہو
‘” ہمیں آپ سے طلاق چاہئے یہ رشتہ دھوکے سے بنا ہے اسکو ختم ”
اسکے لفظ منہ میں ہی رہ گئے تھے جب تبریز ایک ہی جست میں اس تک آیا اور سختی سے مشال کا جبڑا دبوچ چکا تھا
‘” کس نے بھرا تمہارے دماغ میں یہ گند بولو کس کے الفاظ ہیں یہ ”
اسکی پکڑ میں سختی در آئی تھی
رگے تن گئی
پکڑ کے ساتھ لہجہ بھی سخت ہوا تھا
‘” کسی کے نہیں ہم خود چاہتے ہیں آپ سے طلاق ”
اس بار اس نے مشال کو اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ سیدھا بیڈ پر جا گری تھی
‘” جھوٹ بلکل نہیں مشال جھوٹ سے مجھے سخت نفرت ہے میری بات کا سیدھا سیدھا جواب چاہئے مجھے ”
اس نے مشال کو بازو سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا تھا اسکے اتنی زور سے جھٹکا دینے پر مشال کے بال جوڑے سے کھل کر پوری طرح سے آزاد ہو چکے تھے
اسکے ساتھ رہتے ہوئے تبریز کو اتنا تو انداز ہو گیا تھا اس میں اتنی عقل نہیں ہے اس لئے وہ اتنی بڑی بات خود سے نہیں کہہ سکتی تھی
‘” آپ نے اتنا کچھ غلط کیا ہمارے ساتھ تو زیان کو لگتا ہے ہمیں آپ سے الگ ہو جانا چاہئے اسلئے ”
تبریز کے اتنے شدید ردعمل پر وہ خوفزدہ سی اسکو سب بتاتی چلی گئی
مشال کی بات سن کر تبریز کا دل کیا کہ ایک تھپڑ اسکو لگا دے مگر یہ پاگل لڑکی ایک تھپڑ میں سمجھنے والی نہیں تھی
‘” مشال میں نے تمہاری بیوقوفی بہت برداشت کر لی لگتا ہے اب تمہارا اچھی طرح سے علاج کرنا پڑے گا تاکہ تم پھر سے کسی کی باتوں میں آکر مجھ سے ایسی بکواس نہ کرو ”
وہ خطرناک تیور لئے اسکا بازو پکڑ کر ٹیریس پر لے آیا
جانتا تھا مشال کو بارش اور اندھیرے سے ڈر لگتا ہے اسکو سبق سکھانے کا یہ نیا طریقہ تھا
‘” یہ کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑے ہمیں یہاں کیوں لیکر آئے ہیں ”
وہ اندھیرا دیکھ کر خودزدہ ہوئی تھی اور گھبرا کر تبریز کی طرف دیکھا جو سخت نظروں سے اسکو گھور رہا تھا
‘” آج تم یہیں رات گزارو گی جب تک تمہارے دماغ سے طلاق کا بھوت نہیں اتر جاتا ”
وہ اسکو وہاں دھکا دیتا دروازہ بند کرکے واپس کمرے میں آ چکا تھا
ہر سو اندھیرا اپنے پر پھیلائیں ہوئے تھا اوپر سے بجلی کی چمک اور بادلوں کی آواز نے اسکے ڈر میں مزید اضافہ کیا تھا
‘” پلیز تبریز دروازہ کھولیں ہمیں یہاں ڈر لگ رہا ہے پلیز ہمیں اندر آنے دیں ”
اس نے گھبرا کر دروازہ بجانا شروع کیا مگر وہ ان سنی کئے بیڈ پر لیٹ چکا تھا
مشال پر سختی کرنی ضروری تھی
‘” پلیز ہمیں اندر آنے دیں دیکھنے بارش بھی شروع ہو چکے ہیں ”
وہ اس بار ہچکیاں بھر کر رونے لگی
اب وہ اپنی غلطی پر بری طرح پچھتا رہی تھی
بارش زور سے شروع ہو چکی تھی سردی کی شدّت سے وہ بری طرح کانپنے لگی
مگر وہ تو اج شاید اس پر رحم کرنے کے موڈ میں نہیں تھا
‘” ہم وعدہ کرتے ہیں آج کے بعد کبھی ایسی بات نہیں کریں گے نہ ہی اسکی باتوں میں آئے گے پلیز بس ہمیں اندر آنے دے”
وہ دروازہ بجاتی اسے سے التجا کر رہی تھی مگر تبریز نے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا
کچھ دیر تک کھڑی اسکے جواب کا انتظار کرتی رہی مگر دوسری طرف خاموشی محسوس کر کے وہ وہیں دیوار سے لگ کر روتی ہوئی بیٹھتی چلی گئی اگر اسکو پتہ ہوتا وہ اسکے ساتھ ایسا کرے گا تو وہ کبھی زیان کی بات نہ سنتی
مشال کو ٹیریس پر چھوڑنے کے بعد وہ بیڈ پر لیٹا ادھر سے ادھر کروٹیں بدلتا رہا
چار گھنٹے گزر گئے تھے اسکو ایسے بےچینی میں
نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی اسکا ارادہ ابھی مشال کو ساری رات وہی رکھنے کا تھا
مگر تیز ہوتی بارش نے اسکو اٹھنے پر مجبور کر دیا
ٹیریس کا دروازہ کھولتے ہی اسکو سردی کا شدّت سے احساس ہوا تھا
مگر جیسے ہی اسکی نظر مشال پر پڑی تو وہ تیزی سے اسکی طرف لپکا جو زمین پر بےسود گیلی پڑی تھی
‘” مشال اٹھو ..آنکھیں کھولو اپنی ..
وہ پریشان سا اسکی گال تھپتھپانے لگا مگر وہ بیہوش ھو چکی تھی
تبریز کو خود پر غصّہ بھی آیا مگر کیا کرتا یہ کرنا بھی ضروری تھا
اس نے جلدی سے مشال کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور اندر کمرے میں لے آیا
🍁🍁🍁🍁
‘” عمارہ پلیز میری مدد کرو مجھے اس مشکل سے باہر نکالو مجھ سے یہ نہیں ہوگا ”
وہ تڑپ رہی تھی بری طرح مگر اس بار عمارہ بےبس تھی اسکی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھی
‘” اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں تمہاری مدد ضرور کرتی اریشہ مگر میں تمہاری زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتی تمھیں اس حقیقت کو قبول کرنا ہی ہوگا اور اس …
‘” نہیں عمارہ میں اس بچے کو قبول نہیں کر سکتی مجھے نہیں چاہئے یہ بچہ اس سے چھٹکارا دلا دو پلیز ”
اس نے عمارہ کے آگے ہاتھ جوڑے تھے
یہ خبر اسکے لئے موت سے کم نہیں تھی وہ اس شخص کے بچے کی ماں بننے والی تھی جس نے اسکو کہیں کا نہ چھوڑا تھا
اسکے گھر والے اسکو چھوڑ کر چلے گئے تھے کوئی نہیں رہا تھا اسکا اس شہر میں
اس نے یہ سب سنتے ہی سب سے پہلے اس عذاب کو ختم کرنا چاہا تھا مگر ڈاکٹر کا کہنا تھا اس میں اریشہ کی زندگی کو بھی خطرہ تھا
اور عمارہ ایسا ہرگز نہیں چاہتی تھی کہ اریشہ کو کچھ بھی ہو وہ اور توفیق دونوں پریشان تھے مگر یہ سب قبول کرنے پر مجبور بھی
‘” چپ ہو جو اریشہ رونا تمہاری صحت کے لئے اچھا نہیں ہے تمہاری طبیعت بھی خراب ہو سکتی ہے جہاں تم نے اتنا سب برداشت کر لیا تھوڑا اور کر لو اللّه تمھیں ہمّت دیگا اس سب سے لڑنے کے لیے بس اس پر بھروسہ رکھو ”
وہ اسکے آنسو صاف کرتی ہوئی دلاسا دے رہی تھی اور وہ اب کر بھی کیا سکتی تھی
عمارہ کی بات سن کر وہ خاموش ہوئی تھی
کیونکہ اسکو اپنے اللہ پر بھروسہ تھا جہاں اس نے وہاں سے اسکو نکالنے میں عمارہ کو بھیجا
اب اس مشکل سے نکالنے میں بھی اسکی مدد ضرور کرے گا بےشق اللّه اپنے بندو کے ہمیشہ ساتھ ہے
‘” وہ خاموش ہو گئی تھی کیونکہ اس نے صبر کر لیا تھا وہ ابھی بھی اسی گھر میں رہ رہی تھی جس میں توفیق اسکو چھوڑ کر گیا تھا
عمارہ روز اسکے پاس آ جاتی اسکے لئے کھانا بناتی ہر طرح سے اسکا خیال رکھتی یہ اسکے لئے مشکل کام تھا تیمور خان کی نظروں سے بچ کر اریشہ سے آکر ملنا مگر اریشہ سے اسکو الگ ہی لگاؤ سا محسوس ہوتا تھا
دوسری طرف توفیق بھی اسکا ھر طرح سے خیال رکھتا
توفیق اور عمارہ سے اسکو تیمور خان کے بارے میں بھی معلوم ہوتا رہتا وہ ابھی تک اسکی تلاش میں لگا ہوا تھا
اسکو پھر سی ڈر لگنے لگتا مگر عمارہ اسکا سارا ڈر ختم کرکے جاتی
وقت اپنی رفتار سے گزرتا گیا
اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب گیا جب اس نے جڑوا بچوں کو پیدا کیا
اریشہ جو سوچتی کہ وہ کبھی اپنے بچے سے محبت نہیں کر پاۓ گی انہیں پیدا کرکے خود سے دور کر دیگی مگر جب وہ اسکی گود میں آئے تو وہ جیسے اپنا سارا دکھ تکلیف بھول گئی تھی
اسکو صرف اتنا معلوم تھا یہ اسی کا ایک حصّہ تھے اور وہ ان سے الگ رہنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی
🍁🍁🍁🍁