No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
” یہ تم کیا کہہ رہے ہو …مہرہ تمہاری سگی بیٹی نہیں ہے ?
توفیق صاحب کی بات سن کر عمارہ بےیقینی سے انکی طرف دیکھتی ہوئی بولی
انہوں نے بات ہی ایسی کہی تھی کہ انہیں سن کر یقین نہیں آیا تھا
‘” ہاں میں سچ کہہ رہا ہوں مہرہ میری سگی بیٹی نہیں ہے لیکن میں نے اسے ہمیشہ اپنی سگی بیٹی کی طرح محبت کی ہے ”
توفیق صاحب کھانے کی ٹرے ایک طرف رکھتے ہوئے بولے
انہیں ہوش آئے ہوئے تین دن ہو گئے تھے اور بس عمارہ تب سے انکا پورا خیال رکھ رہیں تھی
اس دن کے بعد سے سکندر بس ایک بار انکے پاس آیا تھا اور انہیں مہرہ کی خیریت کی خبر بھی دے چکا تھا
توفیق صاحب کو یہ جان کر بہت حیرانی ہوئی تھی کہ مہرہ کی دوست مشال کی بڑی امی کوئی اور نہیں اریشہ ہی تھی
مہرہ اکثر ان سے مشال کی بڑی امی کے بارے میں باتیں کرتی تھی
سکندر نے دونوں کے لئے وہاں سیکورٹی بھی بڑھا دی کیونکہ کہیں نہ کہیں اسے ڈر تھا کہ تیمور خان ان دونوں کو کوئی نقصان نا پہنچا دے
اس لئے وہ پہلے سے سب انتظام کر چکا تھا ویسے بھی آج ان دونوں کی وجہ سے ہی تو اسکی ماں اور بھائی زندہ تھا اگر وہ اسکی ماں کی مدد نہ کرتے تو جانے تیمور خان انکے ساتھ کیا کرتا
اب اسکی باری تھی ان دونوں کی حفاظت کرنے کی
ویسے بھی عمارہ اب اسکی وجہ سے تیمور خان کو دھوکا دے چکی تھی
‘” اور میں اس غلطفہمی میں تھی کہ شاید تم زندگی میں آگے بڑھ چکے تھے …لیکن مجھے دکھ نہیں ہوا تھا کیونکہ سب کو اپنی زندگی جینے کا حق ہے ”
عمارہ کچھ اطمینان سے بولی اور ساتھ ہی اپنی وضاحت دینا بھی ضروری سمجھا
اور یہ سچ بھی تھا انہیں برا نہیں لگا تھا ویسے بھی آج کل کون کسی کا اتنا لمبے عرصے تک انتظار کر سکتا ہے
“‘ میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں عمارہ …وقت بدل گیا ہے مگر میرا دل میرے جذبات نہیں بدلے ..تمہارے بغیر میں نے کبھی آگے بڑھنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں ”
وہ اپنے سامنے بیٹھی عمارہ پہ نظریں جمائے ہوئے بولے انہیں لگ رہا تھا کہ وہ بہت دیر کر چکے ہیں انہیں اب مذید دیر نہیں کرنی چاہئے
ویسے بھی زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں تھا
جبکہ اس وقت وہ بولتے ہوئے عمارہ کو وہ وہی پہلے والے توفیق لگے تھے جس کی آنکھوں میں انکے لئے محبت ہوتی تھی
‘” کیا ہوا خاموش کیوں ھو گئی ہو …کچھ تو بولو ”
توفیق صاحب کو عمارہ کی خاموشی اچھی نہیں لگی تھی کیونکہ انہیں بھی لگتا تھا کہ انکی طرح عمارہ آج بھی انکے انتظار میں تھی
جبکہ عمارہ سوچ رہی تھی کہ کیا انکا انتظار ختم ہونے والا تھا ورنہ انہیں تو لگ رہا تھا کہ انکا یہ انتظار ہمیشہ انتظار ہی رہے گا .
‘” اگر میں تم سے پوچھو کی باقی کی زندگی تم میرے ساتھ گزارنا چاہو گی تو کیا تمہارا جواب ابھی بھی وہی ہوگا جو سالوں پہلے تھا ”
انکی خاموشی پہ وہ مزید بولے تو اس بار عمارہ نے بھیگی پلکیں اٹھا کر توفیق صاحب کی طرف دیکھا تھا
‘” میرا جواب آج بھی وہی ہے توفیق ..اور ہمیشہ وہی رہے گا”
وہ اپنی بات کہتی وہاں رکی نہیں تھی تیزی سے روم سے نکلتی چلی گئی
جبکہ انکے جواب پہ توفیق صاحب کے اندر ایک سکون سا اترا تھا
🍁🍁🍁🍁
وہ لاؤنج میں بیٹھی تھی جب دروازے پہ بیل ہوئی شام کا وقت تھا سب ہی ملازم اپنا اپنا کام کر رہے تھے اس لئے مسز ناز کو خود ہی اٹھنا پڑا
وہ اپنے ہاتھ میں موجود چاۓ کا کپ ٹیبل پہ رکھتی دروازے کی طرف بڑھی
انہوں نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ اپنی پلکیں تک جھپکانا بھول گئی تھی
انہیں لگ رہا تھا کہ وہ شاید کوئی خواب دیکھ رہی ہو
‘” کیا میں اندر آ سکتا ہوں …یقین مانے اس بار کوئی لڑائی نہیں کرنے آیا ”
مسز ناز کو یوں ہی کھڑا دیکھ سکندر کو انہیں مخاطب کرنا پڑا
مسز ناز جو اسکو دیکھتی ہوئی اپنی نظروں کی پیاس بھوجا رہی تھی سکندر کی آواز پہ جیسے ہوش میں آئی تھی
‘” ارے …ہاں ..ہاں ..آؤ نہ اجازت کی ضرورت نہیں ہے یہ بھی تمہارا ہی گھر ہے ”
مسز ناز تو خوشی سے کھل ہی اٹھی تھی اس دن کے بعد سے جب وہ پلٹ کر واپس نہیں آیا تو انہیں بہت دکھ ہوا تھا مگر آج اسے اپنے سامنے دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہوئی تھی
وہ اسکو اپنے ساتھ لاؤنج میں لیکر آئی اسکو بیٹھنے کا اشارہ کرکے خود بھی اسی کے سامنے والے صوفہ پہ آ بیٹھی
دونوں ہی اپنی جگہ خاموش تھے ماں بیٹے کے بیچ ایک اجنبیت کی دیوار سی تھی
‘” میں بچپن سے آج تک اپنی ماں سے نفرت کرتا آیا تھا یہ سوچ کر کہ وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی ..”
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولا
لہجہ بہت نرم تھا جو صرف مہرہ کے ساتھ بات کرتے وقت ہوتا تھا
‘” اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے ..تم سچائی سے ناواقف تھے ”
مسز ناز نے اسکی شرمندگی کم کرنی چاہی
وہ اسکی حالت سمجھ سکتی تھی
‘” لیکن مجھے آج اپنے آپ پہ غصّہ ہے کہ میں نے کبھی آپکے بارے میں جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی ..اگر کرتا تو بہت پہلے سب جان چکا ہوتا ..اور آج تک اس شخص کے ساتھ نہ رہتا جو صرف نفرت اور موت کے لائق ہے ”
تیمور خان کا خیال آتے ہی اسکی آنکھوں کا رنگ یکدم بدلا تھا
‘” لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ..صحیح وقت پہ تمھیں سب معلوم ہو گیا ہے ”
مسز ناز کو اس وقت اپنے بیٹے سے بات کرتے وقت اتنا اچھا لگ رہا تھا وہ اپنی خوشی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی تھی
انکی بات سن کر سکندر اپنی جگہ سے اٹھا اور انکے قریب ہی صوفہ پہ آ بیٹھا
وہ حیران ہوئی تھی اسکے اس عمل سے
‘” ماں کی محبت کیا ہوتی ہے مجھے نہیں معلوم ..میں نے آج تک صرف باپ کی محبت دیکھی ہے ..جھوٹی محبت ..کیا آپ مجھے تبریز کی طرح ہی محبت کرتی ہیں ..وہ محبت جس میں کوئی دھوکا نہیں کوئی جھوٹ نہیں ”
سکندر خود بھی نہیں جانتا تھا وہ یہ سب کیا کھہ رہا ہے لیکن اسے ماں کی محبت کو بھی محسوس کرنا تھا جسکی کمی اسے آج تک محسوس ہوتی تھی
پورے دو دن وہ بس اسی بارے میں سوچتا رہا اور آج مجبور ہوکر اپنی ماں سے ملنے چلا آیا
‘” تم اور تبریز میرے لئے برابر ہو ..اور ماں کی محبت کبھی جھوٹی نہیں ہوتی ”
انہوں نے بہت محبت سے اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا
انکا لمس محسوس کر کے ایک سکون سا اترا تھا سکندر کے اندر
‘” تم اس دن کہاں چلے گئے تھے ..کیا تیمور نے تمھیں سب خود بتایا ”
یہ سوال ابھی بھی انکے من میں چل رہا تھا
‘” میں عمارہ کے پاس گیا تھا .پھر وہاں توفیق اور عمارہ سے مجھے سب معلوم ہوتا چلا گیا …یہ بھی کہ تیمور خان کا اصل روپ کیا ہے ”
اسکے لہجے میں تیمور خان کے لئے نفرت تھی
‘” تم توفیق کو جانتے ہو ..وہ کہاں ملے تمھیں ”
توفیق کا نام سن کر مسز ناز کو خوشی ہوئی تھی وہ اس شخص کو کیسے بھول سکتی تھی
‘” آپ نہیں جانتی انہیں ..وہ مہرہ کے بابا ہیں ”
وہ انکی حالت سمجھ سکتا تھا کیونکہ توفیق کا بھی یہی ری ایکشن تھا سب جاننے کے بعد
جبکہ مسز ناز اتنے بڑے اتفاق پہ حیران سی بیٹھی رہ گئی انہوں نے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی تھی کہ مہرہ کے بابا کون ہیں ..وہ ہمیشہ سے انکے قریب تھے اور وہ اس بات سے ناواقف رہی
‘” اچھا اب میں چلتا ہوں ..آپکا زیادہ وقت نہیں لینے آیا تھا”
وہ یکدم سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا جبکہ مسز ناز حیران ہوئی تھی کیونکہ وہ مہرہ سے ملے بغیر جا رہا تھا تو کیا اسے ابھی بھی معلوم نہیں ہوا تھا کہ مہرہ انکے پاس ہے یا پھر وہ جان کر انجان بن رہا تھا
‘” مجھے معلوم ہے میری بیوی اسی گھر میں موجود ہے لیکن میں اس وقت صرف آپ سے ملنے آیا تھا ”
وہ انکے چہرے کی حیرانی بھانپ چکا تھا
‘”تم باپ بننے والے ہو … یہ جاننے کے بعد بھی تم اس سے بغیر ملے چلے جاؤ گے ”
مسز ناز کی بات نے اسکے بڑھتے قدموں کو روکا تھا
وہ مہرہ سے ناراض تھے وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کب تک اسکے بغیر رہ سکتی ہے
مگر اس خبر نے اسکے دل میں حلچل سی مچا دی تھی
‘” آپ سچ کہہ رہی ہیں ”
وہ پرجوش انداز میں بولا اسکے لہجے میں کچھ دیر پہلے والی اجنبیت کہیں بھی نہیں تھی
‘” یہ تو تم اب اپنی بیوی سے پوچھو ”
وہ ہولے سے مسکرائی
‘” اب تو اس سے ملنا ہی پڑے گا ”
وہ اپنی بات کہتا وہاں سے پلٹ گیا مسز ناز مسکراتی نظروں سے اسکو دور جاتا دیکھتی رہی
آج انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا کی ہر خوشی مل گئی ہو انکے صبر کا پھل انہیں مل گیا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” کیا ہوا مہرہ تمہارا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے کوئی پریشانی ہے کیا ”
مشال فکرمندی سے مہرہ کے چہرے کو دیکھتی ہوئی بولی جسکے چہرے پہ پریشانی صاف ظاہر ہو رہی تھی
‘” مشال پتہ نہیں مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس کمرے میں میرے علاوہ بھی کوئی اور ہوتا ہے روز رات کو ..نیند میں بہت بار مجھے احساس ہوتا ہے ”
وہ اس وقت خوفزدہ سی لگ رہی تھی
اسکو آج یہاں تیسری رات تھی اور پچھلی دو راتوں سے اسے ایسا ہی محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی اس پہ نظر رکھے ہوئے ہو
خود کو وہ کیسی کی نظروں کے حصار میں محسوس کرتی رہتی تھی
‘” یہ سب تمہارا وہم ہوگا …ایسی کنڈیشن میں ایسے عجیب سے خیال آنا نارمل بات ہے …تم زیادہ سوچتی ہو نہ اسلئے ایسا ہو رہا ہے ”
مشال اسکو تسلی دلانے والے انداز میں بولی
مہرہ جب سے یہاں رہ رہی تھی وہ بلکل بہنوں کی طرح اسکا خیال رکھ رہی تھی
یہاں آکر مہرہ کچھ سنبھال گئی تھی مگر سکندر کا خیال ہر وقت اسکے دماغ میں رہتا وہ اسکے پاس جانا چاہتی تھی مگر اسکو غصّہ آنے لگتا کہ وہ تو اسکو بھول ہی چکا تھا کیونکہ اسکی یہاں موجوگی کے بارے میں یقیناً اسے معلوم تھا مگر پھر بھی ایک بار بھی اسکے پاس نہیں آیا
‘” تمھیں بہت معلوم ہے اس سب کے بارے میں کہیں تم بھی..”
مہرہ اپنی بات بیچ میں چھوڑ کر معنی خیزی سے اسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی
آنکھوں میں شرارت صاف ظاہر تھی
‘” نہیں ایسا کچھ نہیں ہے …ہم تو بس ایسے ہی تمہاری ٹینشن کم کرنے کے لئے بول رہے تھے ”
مہرہ کی بات سن کر اسکا چہرہ شرم سے سرخ ہوا تھا ہونٹوں پہ شرمیلی مسکراہٹ لئے وہ اس وقت مہرہ کو زور سے ہنسنے پہ مجبور کر گئی تھی
‘” ویسے یہ بتاؤ تم کب سنا رہی ہو گڈ نیوز …”
مہرہ اب اپنا ڈر بھلائے اسکو تنگ کرنے لگی
مشال کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اسے مزا آ رہا تھا
‘” ہمیں نہیں معلوم …ہم جا رہے ہیں سونے اور تم بھی آرام کرو ”
اسکے شرارت بڑھتا دیکھ مشال بات ختم کرتی دروازے کی طرف بڑھی تھی
‘” ارے یار بتاتی تو جاؤ نہ …مجھے بہت انتظار ہے اس دن کا”
مہرہ مزید بولی مگر وہ اسکی بات ان سنی کرتی روم سے نکل گئی جبکہ چہرے پہ ابھی بھی وہی شرمیلی سی مسکراہٹ
تھی
🍁🍁🍁🍁
وہ آئنے کے سامنے کھڑی اپنے بال سلجھا رہی تھی مگر اسکی سوچوں کہ رخ مہرہ کی طرف ہی تھا
اسکی آج کی باتیں یاد کر کے بار بار اسکے ہونٹ مسکرا رہے تھے
چہرہ خودبخود شرم سے لال ہو جاتا
‘” ایسا کن سوچوں میں گم ہو بیوی کہ تمھیں اپنے شوہر کے آنے کی بھی خبر نہیں ہوئی ”
وہ کھڑی ابھی وہ مسکرا رہی تھی جب تبریز پیچھے سے اسکو اپنے حصار میں لیتا ہوا بولا
لہجے میں ہلکا سا شکوہ تھا
‘” نہیں ..ہم تو بس مہرہ کے بارے میں سوچ رہے تھے ”
تبریز کی آواز پہ وہ یکدم سے اپنے خیالوں سے باہر نکلی تھی واقعی وہ کب بیڈروم میں آیا تھا اسے خبر ہی نہیں ہوئی تھی
‘” ویسے بیوی تمہاری بہت غلط بات ہے جب سے تمہاری دوست یہاں آئی ہے تم تو مجھے بلکل ہی بھول چکی ہو ..ان دو دنوں میں تم نے مجھ پہ بلکل توجہ نہیں دی ”
وہ اس پہ اپنی پکڑ تھوڑی سخت کرتا اپنی تھوڈی اسکے کندھے پہ رکھتا ہوا بہت معصومیت سے بولا
جبکہ اسکی بات سن کر مشال نے اپنی ہنسی کو دبایا تو جناب کو انکی دوست سے جلن ہو رہی تھی
‘”اپنے کیس کی وجہ سے آپ جو ہم پر توجہ نہیں دیتے اسکا کیا …ہم نے تو کبھی شکایات نہیں کی آپ سے ..ڈیوٹی سے لیٹ آپ آتے ہیں ..کام میں آپ بیزی رہتے ہیں ”
وہ اسکی مصروفیت یاد دلا رہی تھی
خود بیزی رہتا تھا اور شکایات اس سے کر رہا تھا کہ وہ اس پہ توجہ نہیں دیتی
‘” اگر میں بیزی رہتا ہوں تو یہ تمہارا کام ہے نہ مجھے اپنی موجودگی کا احساس کروانے کا تاکہ میں اپنی مصروفیت میں تمھیں نا بھولوں اور میری تم پہ توجہ بنی رہے ”
اسکا ہاتھ مشال کی نائٹی کی ڈوری کو کھولنے لگا تو مشال نے گھبرا کر اسکے ہاتھ پہ آپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
‘” آپ ہٹے پیچھے ہمیں نہیں دلوانا کچھ بھی ..آپکو خود بھی تو ہمارا خیال آنا چاہئے ”
اسکی باتوں کا مطلب سمجھ کر مشال فورا بولی اور اپنے گرد مضبوطی سے بندھے اسکے ہاتھوں کو ہٹانا چاہا تو وہ ایک جھٹکے میں اسکا رخ اپنی جانب کر گیا تھا
”” تمہارا ہی خیال ہے بیوی …تمہارے علاوہ کسی اور کا خیال کہاں آتا ہے ”
وہ اسکی ناک میں چمکتی لونگ کو چومتا ہوا بولا
‘” ویسے تمہارا کیا خیال ہے بیوی ”
اس بار نرمی سے اسکے رخسار پہ اپنے لب رکھتا ہوا بولا تھا
‘” کس بارے میں ”
اسکی قربت سے مشال کا سانس پھولنے لگتا تھا
‘” گڈ نیوز کے بارے میں … ”
وہ اسکو اپنی باتوں میں الجھا کر اسکی نائٹی کے کوٹ کی ڈوری کھول چکا تھا
جبکہ مشال اس بات سے بےخبر اسکو حیرانی سے دیکھ رہی تھی
‘” مطلب آپ ہماری چھپ کر ہماری باتیں سن رہے تھے ”
اسکی بات سن کر مشال کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی وہ کس بارے میں بات کر رہا تھا
‘” ہاں تو اپنی بیوی کی بات سننے میں کیا برائی ہے ”
وہ بڑے مزے سے اسکو جواب دیتا مشال کی کمر کے گرد بازو حائل کرکے اسے اپنے مزید قریب کر چکا تھا
‘” آپکی بات غلط بات ہے کسی کی چھپ کر باتیں سننا ”
مشال مزید کچھ کہتی جب وہ اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھ کر اسکی بولتی بند کر چکا تھا
اسکی اس گستاخی پہ مشال سختی سے اپنی آنکھیں بند کر گئی اور تبریز کے کندھے پر سے اسکی شرٹ کو سختی سے اپنی مٹھی میں دبوچ لیا
کتنے ہی پل وہ یوں ہی خاموشی سے اسکی سانسوں کو خود کو اتارتا رہا
‘” ویسے میرا خیال ہے مہرہ ٹھیک کہہ رہی تھی اب ہمیں بھی سب کو گڈ دے دینی چاہئے ”
اس سے جدا ہوتا وہ اسکی بند آنکھوں پہ اپنے لب رکھتا ہوا بولا تو مشال نے شرما کر اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپا لیا تھا
‘” ہمیں نہیں پتہ کچھ ”
شرم کی وجہ سے وہ اس سے نظریں بھی نہیں ملا رہی تھی
‘” پر مجھے تو پتہ ہے …اور میں چاہتا ہوں تم جلد ہی مہرہ کو یہ نیوز دو جاکر ”
وہ اسکے شرمانے کو نظرانداز کرتا اسے اپنی باہوں میں اٹھا چکا تھا
مشال کی اب شرم کی جگہ گھبراہٹ نے لے لی تھی
‘” تبریز ..پلیز ..نہیں ”
وہ اسکو بیڈ پہ لیٹا ہوا اس پہ جھکا تھا اس نے احتجاج کرنا چاہا
‘” اے کیا نہیں …دو دن سے چھوڑ رہا ہوں لیکن آج نہیں ”
وہ موضوع ناراضگی سے کہتا لائٹ آف کرتا پھر سے اسکے قریب ہوا تھا
اور اس بار مشال کوئی احتجاج نہ کر پائی
🍁🍁🍁🍁
وہ آہستہ سے دروازہ لاک کرتا اندر داخل ہوا نائٹ بلب کی روشنی میں وہ بیڈ پہ لیٹی مہرہ کو آسانی سے دیکھ سکتا تھا
اسکو سوتا دیکھ کر سکندر کے چہرے پہ سکون سا آیا تھا
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا بیڈ کے قریب آ کھڑا ہوا نظریں اسی پہ جمی ہوئی تھی
وہ اسکے اس طرح سے گھر سے نکل جانے ناراض تھا بہت ناراض
اگر وہ اسکے باپ کے ہاتھ لگ جاتی تو نہ جانے وہ اسکے ساتھ کیا کرتا یہی سوچ آتے ہی اسے مہرہ پہ غصّہ آنے لگتا
اور اپنے اس غصّے میں وہ اب تک اسے لینے بھی نہیں آیا تھا ورنہ یہاں کون تھا جو اسکو روک لیتا
مگر اپنے اس غصّے اور ناراضگی میں بھی پچھلے دو دن سے وہ رات کو اسکے کمرے میں آتا اور دیر تک اسکو یوں ہی سوتا ہوا دیکھتا رہتا
پر آج جو خبر اسے ملی تھی اس نے سکندر کو اپنا غصّہ بھلانے پہ مجبور کر دیا تھا
وہ بہت ہی آرام سے اسکے برابر بیٹھ گیا اور اسکے چہرے پہ آئے بالوں کو پیچھے کیا
اسکا ہاتھ مہرہ کے چہرے سے سفر طے کرتا اسکے پیٹ پہ آ رکا
وہ باپ بننے والا تھا یہ خوشی اسکے لئے ہر خوشی سے بڑھ کر تھی
اسکے پیٹ پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکے ہونٹ مسکرا رہے تھے
کچھ سوچ کر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی وہ جھکا اور اپنے اپنے لب اسکے پیٹ پہ رکھ دئے
مہرہ جو گہری نیند میں تھی ایک عجیب سے احساس سے اسکی آنکھ کھلی
اسکو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی چیز اسکے پیٹ پہ چل رہی ہو
اس نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ لیمپ آن کیا مگر جیسے ہی سکندر پہ نظر پڑی تو وہ ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھی تھی
‘” تم ..یہاں ..
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )
