53.5K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

                    🍁🍁🍁

‘” ارے سکندر بیٹا تم یہاں کیا کر رہے کچھ چاہئے تو مجھے بتا دو میں بنا دیتی ہوں تمہارے لئے ”
عمارہ جیسے ہی کچن میں داخل ہوئی سکندر کو وہاں کام کرتا دیکھ حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکی تھی
‘” نہیں عمارہ آپ رہنے دیں اگر مجھے آپکی مدد کی ضرورت ہوگی تو میں آپ سے بول دوں گا ”
وہ مصروف سے انداز میں چاپئنگ بورڈ پر سبزی کاٹ رہا تھا
اسکے ہاتھ بہت تیزی سے کام کر رہے تھے
جبکہ سائیڈ پہ کھڑے ملازم اپنے ملک کو دیکھ رہے تھے اس وقت اسکو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی ڈیوڈ ہے جسکا ڈر اور خوف رہتا ہے لوگوں کے دلوں میں
‘” پر تم بنا کیا رہے ہو اور کس کے لئے ?
وہ اسکو کام کرتا دیکھ پریشان ہو رہی تھی زندگی میں پہلی بار وہ اسکو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی
پتہ نہیں کیا بنانے کی کوشش کر رہا تھا
‘” پاستہ بنا رہا ہوں مہرہ کے لئے اسکو پسند ہے ”
اس نے پین میں آئل ڈالتے ہوئے انکو مختصر سا جواب دیا اور اس بار اسکا جواب سن کر عمارہ مسکراتی ہوئی وہاں سے پلٹ گئی
جانتی تھی اب وہ تب تک نہیں ہٹے گا جب تک اپنا کام خود نہیں کر لیتا
‘” تم سے کس نے بولا کہ مجھے پاستہ پسند ہے ”
عمارہ کے جانے کے بعد مہرہ کچن میں داخل ہوئی تھی یقیناً وہ اسکو کچن میں ہونے والی باتیں بتا چکی تھی تبھی وہ یہاں موجود تھی
سکندر جو اپنا اپنی ڈش بنا چکا تھا مہرہ کی آواز پہ اسکی طرف موتجہ ہوا ساتھ ہی وہاں کھڑے ملازم کو باہر جانے کا اشارہ کیا تھا
‘” کل ہی تو تم نے بتایا تھا اپنی پسند کے بارے میں اور آج منع کر رہی ہو ”
وہ آنکھیں سکیڑتا اسکی طرف دیکھ کر بولا
اتنی دیر سے وہ اسکے لئے محنت کر رہا تھا ایک وہ تھی جو اب انکار کر رہی تھی
‘” ہاں بتایا تھا مگر میں نے یہ نہیں بولا تھا کہ تم مجھے خود سے بنا کر دو “
وہ اس وقت اسکو پریشان کرنے کے موڈ میں آخر وہ بھی تو اسکو پریشان کرتا رہتا تھا
اور اگر اسکے خلاف بات کرتی تو الٹا اسکا سزا بھی دیتا
‘” میں نے بہت محبت سے تمہارے لئے بنایا ہے ایک بار ٹیسٹ کرکے دیکھو تعریف کئے بغیر نہیں رہ پاؤ گی ”
وہ پلیٹ میں اسکے لئے پاستا نکالتا ہوا بولا اور اپنے قریب کھڑی مہرہ کو کمر سے پکر کر شیلف پہ بیٹھا دیا
اسکی بات سن کر مہرہ مسکرائی اور پہلا چمچ کھانے کے بعد اس نے سکندر کو دیکھا جو اسکی کو دیکھ رہا تھا
‘” اچھا بنا ہے نہ ?
وہ جوش میں بولا
چہرے پہ ایک الگ ہی خوشی سی تھی
‘” ہاں اچھا بنا ہے …بہت اچھا ”
مہرہ اسکو بمشکل اپنے حلق سے اتارتی ہوئی بولی
اسکا زائکہ اتنا برا تھا کہ مہرہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیسے کھائے گی وہ اسکو
اور دوسرا وہ سچ بول کر سکندر کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی
وہ بیٹھی ایک کے بعد ایک چمچ کھاتی رہی اور سکندر بس اسکے چہرے کے تاثرات کو دیکھتا رہا
وہ مہرہ کے دل کا ہال اسکے چہرے سے پہچان جاتا تھا کچھ سوچ کر اس نے مہرہ منہ میں جاتا چمچ اپنے منہ کی طرف کیا اور پہلا ہی چمچ منہ میں جاتے ہی اس نے برا سا منہ بنایا تھا ‘” کتنا بکواس بنا ہے چھوڑو اسے اس میں تو نمک بھی کافی تیز ہو گیا ہے مجھ سے ”
اس نے مہرہ کے ہاتھ سے پلیٹ لیکر ایک طرف رکھی تھی
مہرہ جو بڑی دیر سے ضبط کئے ہوئے بیٹھی تھی سکندر کی بات پہ اسکا قہقا پورے کچن میں گونج اٹھا تھا
‘” بہت ہنسی آ رہی ہے تمھیں ”
سکندر موضوع خفگی سے اسکو گھورتا ہوا بولا
‘” کیسے کہہ رہے تھے کھا کر اچھا بنا ہے اب معلوم ہو گیا نہ کیسا بنا ہے ”
باوجود کوشش کے وہ جملہ بول کر پھر سے کھلکھلا کر ہنس پڑی
اور اپنی شیلف سے اتری تھی
‘” بہت ہنسی آ رہی ہیں نہ تمھیں رکو ذرا تمھیں ابھی بتاتا ہوں ”
وہ غصّے سے بولتا ہوا اسکے پیچھے لپکا تو مہرہ اسکا ارادہ بھانپ کر تیزی سے کچن سے باہر نکلی تھی
‘” اب بچ کر دکھاؤ تم مجھ سے ”
وہ اسکے پیچھے بھاگتا ہوا بولا مہرہ کو اب اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا
وہ تیزی سے بھاگتی لاؤنج میں موجود صوفہ کے پیچھے آ کھڑی ہوئی تھی
‘” سوری سکندر میں تو بس مذاق کر رہی تھی ”
وہ اسکے ارادے سے ڈر گئی تھی اس لئے فورا سے معافی مانگنے لگی
‘” سزا تو تمھیں ملے گی تمہارے لئے اتنی محنت سے بنایا الٹا تم میرا ہی مذاق بنہ رہی تھی ”
وہ ایک پیر صوفہ پر رکھتا دوسری طرف چھلانگ لگا چکا تھا اس سے پہلے کہ مہرہ وہاں سے بھاگتی سکندر اسکی کلائی تھام چکا تھا
‘” میں سوری کر تو رہی ہوں اب آگے کبھی ایسا نہیں کروں گی ”
اس نے سکندر کی گرفت سے آزاد ہونا چاہا مگر اسکی پکڑ مضبوط تھی
‘” ٹھیک ہے لیکن ایسے سوری نہیں چلے گا میں جیسے بولتا ہوں بلکل ویسے کرو تب معافی ملے گی تمھیں ”
وہ مہرہ کے دونوں ہاتھ اسکی کمر کے پیچھے باندھتا ہوا شرارتی انداز میں بولا تھا
‘” پر مجھے تمہارے انداز میں سوری کہنا نہیں آتا ”
مہرہ مچلی تھی اسکی کافی سے زیادہ سخت ہوتی گرفت میں ‘” کوئی بات نہیں میں سکھا دیتا ہوں تمھیں ”
وہ اپنے ایک ہاتھ سے اسکے دونوں ہاتھوں پہ گرفت سخت کرتا دوسرے ہاتھ سے اسکے رخسار کو سہلاتا ہوا بولا
‘” سکندر کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے کوئی آ جائے گا ”
اسکی خمار آلودہ آنکھوں میں دیکھ کر وہ گھبرائی تھی
جبکہ وہ اسکی بات کو نظرانداز کرتا اسکے کٹاؤدار لب پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
مہرہ کی دھڑکنے بےترتیب ہوئی تھی
وہ بےخود سا اس پر جھکا رہا
اپنی پشت پر اسکے ہاتھوں کا دباؤ بڑھتا ہوا محسوس کر کے مہرہ اسکی پکڑ میں مچل رہی تھی
ہونٹ پر ہونے والی جلن سے مہرہ نے سختی سے اپنی آنکھیں مینچ لی
تبھی سکندر اسکے لبوں کو آزاد کرتا ہوا اس سے دور ہوا اور آنکھوں میں شرارت لئے اسکو دیکھنے لگا
جو اپنے سانس بحال کر رہی تھی
‘” امید ہے تم اب سیکھ گئی ہونگی ..اگر ابھی بھی نہیں سیکھی تو لاؤ میں دبارہ کرکے بتا دیتا ہوں ”
وہ اسکے شرم سے پڑتے لال چہرے کو دیکھتا پھر سے اس پہ جھکا تو مہرہ اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو دور کرتی ہوئی وہاں سے بھاگی تھی
‘” تم بہت بےشرم ہو جاؤ مجھے تم سے بات نہیں کرنی اب ”
وہ خفگی سے اسکی طرف دیکھتی ہوئی لاؤنج سے نکلتی چلی گئی
جبکہ سکندر بس مسکراتی نظروں سے اسکو جاتا دیکھتا رہا
🍁🍁🍁🍁
‘” کیا ہوا ایسے خاموش کیوں کھڑی ہو کیا تمھیں ان میں سے کچھ پسند نہیں آیا ?
مسز ناز آپنے قریب کھڑی مشال سے مخاطب ہوئی مگر اس نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا بس ایک ٹک آپنے سامنے رکھی ڈریس سکو دیکھتی رہی
‘” کیا ہوا بیٹا میں تم سے بات کر رہی ہوں تمہارا دھیان کہاں ہیں ”
اس بار انہوں نے اسکا بازو پکڑ کر ہلایا تھا
مشال جو اپنی سوچوں میں گم مسز ناز کے پھر سے مخاطب کرنے پہ ہوش میں آئی تھی
” بڑی امی ہمارا موڈ نہیں ہے کچھ بھی لینے کا آپکو جو پسند آئے آپ لے لیں ”
وہ بےزاری سے بولی تھی
مسز ناز آج اسکو شاپنگ کے لئے مال لیکر آئی تھی مگر اسکا دھیان تو تبریز پہ تھا جو شاید اب تک اس سے ناراض تھا اور مشال کی سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے
‘” چلو ٹھیک ہے تم یہی بیٹھو میں ذرا دوسری سائیڈ جاکر دیکھتی ہوں یہاں مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا ”
وہ اپنی جگہ سے اٹھتی ہوئی بولی
اس وقت انکا دھیان مشال کے لئے کپڑے پسند کرنے پہ تھا اس لئے وہ اسکی خاموشی کو زیادہ نوٹ نہیں کر پائی تھی
مسز ناز اپنے دھیان میں چلتی دوسری سائیڈ پہ جا رہی تھی جب انکی سامنے سے آتی عورت سے ٹکر ہوئی تھی
‘” معاف کرنا بہن میرا دھیان ..
اس سے پہلے کہ مسز ناز مزید کچھ کہتی جب انکی نظر اپنے سامنے کھڑی عورت پر پڑی تو انکے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے
وہ بےیقینی سے اپنے سامنے کھڑی عمارہ کو دیکھ رہی تھی
وہ اسکو کیسے نہ پہچانتی آج وہ اگر زندہ تھی تو صرف اسی کی وجہ سے
‘” عمارہ ”
وہ آنکھوں میں آنسو لئے آگے بڑھی اور حیران کھڑی عمارہ کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا
کتنا یاد کرتی تھی وہ اسکو اور کتنی دعایں کی تھی عمارہ کی خیریت کے لئے
کتنی ہی دیر دونوں کھڑی آنسو بہاتی رہی تھی ایک دوسرے کو سہی سلامت دیکھ کر دونوں بہت ہی خوش ہوئی تھی
‘” اریشہ..تم کہاں چلی گئی تھی تم جانتی ہو کتنا تلاش کیا تھا توفیق نے تمھیں ”
اس سے الگ ہوتے ہی عمارہ بےچینی سے بولی تھی
آج وہ سکندر کے کہنے پہ مہرہ کے لئے شاپنگ کرنے آئی تھی مگر انکو کیا خبر تھی آج یہاں آکر انہیں اپنی کھوئی ہوئی اریشہ مل جائے گی
‘” تم یہ چھوڑو عمارہ اور مجھے سب سے پہلے یہ بتاؤ میرا بیٹا کہاں ہے کیسا ہے ..وہ زندہ تو ہے نہ کہیں وہ …”
اریشہ نے بات بیچ میں ہی چھوڑی تھی
اسکے انداز میں بےچینی اور امید تھی اپنے بیٹے کی سہی سلامت ہونے کی
اس دن جب تیمور خان اسکے پاس آیا تھا تو اسکا دل تڑپ رہا تھا یہ پوچھنے کے لئے کہ اسکا بیٹا کہاں ہے وہ زندہ بھی ہے یا نہیں
کیونکہ اس دن اسکے پاس سے بتا لے جانے کے بعد سے اریشہ کو لگتا تھا تیمور خان نے عمارہ کے ساتھ اسکو بھی نقصان نہ پہنچا دیا ہوگا
اس لئے لاکھ چاہنے کے بعد بھی وہ تیمور خان سے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھ نہیں سکی تھی
‘” بتاؤ نہ عمارہ میرا بیٹا زندہ بھی ہے یا نہیں پلیز مجھے بتا دو اتنے سال میں اسکے لئے تڑپتی آئی ہوں مجھے بتا دو تاکہ مجھے صبر آ جائے ”
عمارہ کی خاموشی اسکو ڈرا رہی تھی
‘” وہ زندہ ہے …تمہارا بیٹا سکندر زندہ ہے بلکہ شادی بھی کر چکا ہے مگر ..”
وہ ایک پل کے لئے رکی تھی اور اریشہ کہ دل بےچین ہوا تھا انکے رکنے پر
‘” مگر کیا عمارہ خاموش کیوں ہو گئی ..بتاؤ مجھے ”
جہاں اپنے بیٹے کا زندہ ہونے کی خبر سن کر اریشہ کو سکون ملا تھا وہیں عمارہ کے چپ ہونے پر پریشان ہوئی تھی
‘” وہ کچھ کچھ اپنے باپ جیسا بن گیا ہے ..بلکہ یہ کہنا ٹھیک رہے گا کہ اپنے باپ سے بھی زیادہ ظالم اور خطرناک”
عمارہ ایک کے بعد ایک سب کچھ اریشہ کو بتاتی چلی گئی تھی
اور وہ بس سانس روکے اسکو سن رہیں تھی
‘” عمارہ یہ کیا ہو گیا تم نے سکندر کو اسکے باپ کی سچائی کیوں نہیں بتائی وہ اس گھٹیا انسان کو اچھا سمجھتا ہے ”
ساری بات سن لینے کے بعد اریشہ بس اتنا بول پائی تھی
اپنے بیٹے کے غلط کاموں کا سن کر انہیں دکھ ہوا تھا
کیا قسمت تھی انکی ایک بیٹا پولیس تھا جبکہ دوسرا گینگسٹر
‘” میں بتانا چاہتی تھی مگر تیمور خان مجھے دھمکی دیتا رہتا تھا کہ وہ تمھیں تلاش کرکے ختم کر دیگا اور میں نہیں چھاتی تھی کی تیمور خان کی نظر تم پر پڑے اس لئے مجھے خاموش رہنا پڑا اور اب تک خاموش رہتی آئی ہوں ”
وہ بےبسی سے بولی
اریشہ اور اسکے دوسرے بیٹے کو تیمور خان سے بچانے کے لئے عمارہ نے خاموش رہنا بہتر سمجھا تھا
‘” تم مجھے بتاؤ کہاں چلی گئی تھی تم اور تبریز کیسا ہے ٹھیک تو ہے نہ وہ ”
عمارہ کو اب تبریز کا خیال آیا تھا
عمارہ کی بات سن کر اس بار اریشہ اسکو سب بتانے لگی اور اسکی بات سن کے عمارہ کے چہرے پہ سکون سا چھا گیا تھا ”’وہ دیکھو وہ ہے میرے تبریز کی بیوی ”
انہوں نے دور چیئر پہ بیٹھی مشال کی طرف اشارہ کیا جو ابھی بھی اپنی سوچوں میں گم تھی
‘” عمارہ مجھے میرے سکندر کو دیکھنے کا .. اب سب کچھ جاننے کے بعد میری آنکھیں اسکو دیکھنے کے لئے ترس رہی ہے ”
اریشہ نے بےچینی سے عمارہ کا ہاتھ تھام لیا تو اس بار عمارہ مسکرا دی
“” یہ کام تو میں ابھی کر سکتی ہوں ”
انہوں نے اپنے سائیڈ بیگ سے موبائل نکالا اور پھر ایک کے بعد ایک سکندر کی فوٹو انہیں دکھانے لگی
ہائیٹ اور رنگ میں وہ بلکل تبریز جیسا تھا
اریشہ اپنے اندر ایک سکون سا اترتا ہوا محسوس کر رہی تھی
‘” اور یہ ہے تمہارے بیٹے سکندر کی بیوی مہرہ ”
مہرہ کی تصویر دیکھ کر اریشہ حیران ہی تو رہ گئی تھی
مشال کی دوست مہرہ کو وہ اچھے سے جانتی تھی کتنا بڑا اتفاق تھا یہ
انہیں مہرہ کی شادی کے بارے میں مشال نے بتایا تھا مگر انکے بیٹے کی بیوی ہوگی انکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
‘” عمارہ اب بہت ڈر کے رہ لئے اور الگ بھی لیکن اب وقت آ گیا ہے سکندر کو اسکے باپ کا سچ بتانے کا اور تبریز کو اسکے بھائی کے بارے میں بتانے کا ”
” میں اب اپنے دونوں بیٹو کو ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں ”
وہ مظبوط لہجے میں بول رہی تھی
اور عمارہ کو انکی بات بھی سہی لگی
‘” پر تم یہ سب کیسے کرو گی ?
عمارہ تھوڑا پریشانی سے بولی تھی
‘” پتہ نہیں پر اب میں اپنے بیٹو کو الگ نہیں دیکھ سکتی انہیں اب ایک دوسرے کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے اس سے پہلے کہ تبریز تیمور خان کی طرح سکندر کی جان کے پیچھے نہ پڑ جائے ”
اریشہ پرسوچ انداز میں بولی تو عمارہ بس اسکو دیکھ کر رہ گئی تھی
پتہ نہیں ان دونوں بھائی کو ملانا اتنا مشکل کیوں لگ رہا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” اب یہ فائل کہاں گئی یار کل تو میں نے یہیں پہ رکھی تھی ”
وہ اس وقت سخت جھنجھلایا ہوا وارڈراب کے پاس کھڑا اپنی امپورٹنٹ فائل ڈھونڈ رہا تھا
وہ تاشا کے کیس کی بہت ضروری فائل تھی جس میں اسکے اسکے خلاف بہت کچھ موجود تھا
‘” آپ کیا ڈھونڈھ رہے ہیں ہمیں بتائے ہم ڈھونڈھ دیتے ہیں ”
مشال جو ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی اسکو کسی چیز کی تلاش میں مصروف دیکھ کر اسکے پشت پہ آ کھڑی ہوئی تھی
‘” نہیں رہنے دو میں خود ڈھونڈھ لوں گا تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے مجھے ”
وہ اسکی طرف پلٹے بغیر بولا
لہجہ کسی بھی قسم کے جذبات سے خالی تھا
اور مشال جو اسکی مدد کے بہنانے اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی تبریز کے انداز اور لہجے نے اسکو گنگ کر دیا تھا
پچھلے چند دنوں میں وہ کتنا بدل گیا تھا نہ اب اس سے پہلے کی طرح بات کرتا اور نہ اسکو اب پریشان کرتا مشال اسکے رویہ سے الجھا کر ره گئی تھی
وہ جو پہلے اسکے قریب آنے کے بہانے ڈھونڈھتا رہتا تھا اب اسکو نظرانداز کرنے لگا
یکدم سے اسکے قریب آکر پھر سے دور ہو گیا
اور مشال جو اب اسکی باتوں اسکی حرکتوں کی عادی ہو گئی تھی
تبریز کی لاتعلقی اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی وہ جانتی تھی وہ اس سے اب تک ناراض ہے
غلطی اسکی بھی تھی جسکی معافی اس نے اب تک تبریز سے مانگی نہیں تھی
اور اب جب اس سے تبریز کی خاموشی مزید برداشت نہیں ہو پا رہی تھی تو اس نے اس سے بات کرنے کا سوچا
‘” علی سنو وہ تاشا والی فائل تمہارے پاس ہے کیا ?
اسے جب وہ فائل کہیں نہ ملی تو اس نے علی کو فون کرنا بہتر سمجھا تھا
جبکہ مشال ابھی بھی وہیں کھڑی اسکو دیکھ رہی تھی
‘” ہاں میں اپنے ساتھ گھر لایا تھا پر مجھے اب مل نہیں رہی مجھے لگا کہیں میں تمھیں دیکر تو نہیں بھول گیا ”
وہ اپنی بات کہتا جیسے ہی پلٹا تو مشال کو اپنے پیچھے کھڑا دیکھ کر حیران ہوا تھا
‘” ٹھیک ہے میں دوبارہ چیک کرتا ہوں “‘
وہ اسکے سائیڈ سے نکل کر فون کٹ کرتا ڈریسنگ کی دراز میں وہ فائل تلاش کرنے لگا
ابھی وہ دوسری سائیڈ دیکھتا جب مشال نے اسکے سامنے وہ فائل کی تھی
‘” یہ وارڈراب کی اس سائیڈ رکھی ہوئی تھی جہاں آپ دیکھنا بھول گئے تھے ”
مشال وہ فائل ڈریسنگ پر رکھ کر جیسے ہی وہاں سے جانے لگی تبریز اسکی کلائی کو تھام کر اسکے قدم روک چکا تھا
‘” اپنی بات کہے بغیر جا رہی ہو بولو میں سن رہا ہوں ”
وہ اسکو بلکل اپنے سامنے کھڑا کرتا ہوا بولا
نظریں اسکے اترے ہوئے چہرے پہ ہی جمی ہوئی تھی
تاشا کے کیس کی وجہ سے وہ آج کل بہت بیزی رہنے لگا تھا رات میں دیر سے واپسی ہوتی یہی وجہ تھی کہ اسکا دھیان مشال پر سے ہٹا ہوا تھا
ابھی بھی وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اس سے کچھ بات کرنا چاہتی ہے مگر فائل نہ ملنے کی پریشانی میں وہ پھر سے اسکی موجودگی کو نظرانداز کر گیا تھا
‘” بولو میں انتظار کر رہا ہوں ”
اسکو یوں ہی خاموش کھڑا دیکھ کر اس نے پھر سے مشال کو مخاطب کیا تھا
اور مشال جو کشمکش میں تھی کہ بات کیسے کرے تبریز کے پھر سے مخاطب کرنے
جب اسکے کچھ سمجھ نہیں آیا تو اسکے سینے سے آ لگی تھی
جبکہ تبریز جو اسکے بولنے کا انتظار کر رہا تھا مشال کے اس عمل پر حیرت سے اپنے سینے سے لگی مشال سکو دیکھنے لگا
” آئ ایم سوری تبریز… ہمیں معاف کر دیں ھم مانتے ہیں اس دن ہماری ہی غلطی تھی ہمیں آپکی اجازت کے بغیر نہیں جانا چاہئے تھا ”
وہ نم آواز میں بولی اور سختی سے تبریز کی ٹی شرٹ کو اپنی مٹھی میں دبائے اپنے آنسو پہ ضبط کر رہی تھی
اسکو لگ رہا تھا تبریز ابھی بھی اس سے ناراض تھا اور اس بار مشال کو اسکی ناراضگی کی فکر ھو رہی تھی
تبریز جو حیران پریشان سا کھڑا اسکی حرکت کو دیکھ رہا تھا مشال کی بات سن کر اسکے ہونٹ مسکرا اٹھے تھے
‘” پلیز ہمیں معاف کر دیں ”
اس بار ضبط کے باوجود اسکے آنسو تبریز کی ٹی شرٹ کو بھیگو رہے تھے
محبت بھی کیا چیز ہے سزا ملنے کے بعد بھی وہ اس سے معافی مانگ رہی تھی
کیونکہ اسکو تبریز ناراضگی خل رہی تھی جو اس سے برداشت نہیں ھو رہی تھی
“‘ پر میں تو تم سے ناراض نہیں ہوں جو غصّہ تھا وہ تو اسی دن ختم ہو گیا تھا ”
وہ اسکی کمر سہلاتا ہوا بولا
وہ اسکے آنسو کی نمی وہ اپنے کندھے پر محسوس کر رہا تھا جو اسکو تکلیف دے رہی تھی
‘” آپ سچ کہہ رہے ہیں آپ ہم سے ناراض نہیں ہیں ”
تبریز کی بات سن کر وہ یکدم سے اس سے الگ ہوتی اسکی طرف دیکھنے لگی
‘” نہیں میں ناراض نہیں ہوں بلکہ ناراض تو تمھیں مجھ سے ہونا چاہئے میں نے اس دن غلط کیا تھا تمہارے ساتھ ”
اسے تھوڑی شرمندگی ہوئی تھی
اس لئے اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتا ہوا بولا
‘” نہیں اس دن غلطی آپکی بھی نہیں تھی ہم نے غلط کیا تھا آپکی بات نہ مان کر تو آپکو غصّہ آنا تو لازمی تھا ”
تبریز پہلی بار اسکے منہ سے سمجھداری والی بات سن کر حیران ہوا تھا
‘” اسکا مطلب تمھیں اب کوئی اعتراض نہیں ہے اگر میں پھر سے …
اس بار وہ شرارتی انداز میں بولا تو مشال نے شرما کر پھر سے اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپا لیا تو تبریز سختی سے اسکو خود میں بہینچ گیا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” یس ایس پی تبریز سپیکنگ ”
وہ بیٹھا کوئی کلب کی ویڈیو کلپ دیکھ رہا تھا جب اسکے پاس رکھا فون بجا
تو اس نے ویڈیو روک کر فون اٹھایا تھا
‘” میں جانتا ہوں تم ایس پی تبریز بات کر رہے ہو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ”
دوسرے جانب کی بات سن کر تبریز کے ماتھے پہ بل پڑے تھے
‘” کون ہو اور کس سلسلے میں فون کیا ہے ”
اسکے سٹیشن پہ کال آئی تھی اس لئے کال کرنے والے سے اسکے فون کرنے کا مقصد پوچھا تھا
جبکہ اسکی بات پر دوسری طرف قہقا گونج اٹھا
اس بار تبریز نے سختی سے اپنی مٹھی بہینچ لی تھی
“‘ ویسے حیرت کی بات ہے بیٹا اپنے باپ کی آواز نہیں پہچان پا رہا ہے”
تیمور خان کا لہجہ طنزیہ تھا
‘” سیدھی طرح سے بولو ہو کون اور کیوں فون کیا ہے ”
تبریز اب بھی نہیں سمجھ پایا تھا
کیونکہ جہاں تک وہ جانتا تھا تیمور خان اسکے بارے میں ابھی تک انجان تھا
اسکے بیٹا کہنے پہ حیران بھی ہوا تھا
‘” چلو تمہاری پریشانی دور کر دیتا ہوں تیمور خان بات کر رہا ہوں اور تمھیں کس مقصد سے فون کیا ہے وہ بھی جلد بتا دوں گا ”
تیمور خان کی بات پوری ہوتے ہی تبریز کی رگے تن گئی تھی اور ساتھ ہی فون پہ پکڑ مزید سخت کی تھی
یہ پہلی بار وہ اس سے بات کر رہا تھا اس لئے پہچان نہیں پایا دوسرا اسکا دماغ تو اسکے بیٹے کہنے پہ ہی اٹکا ہوا تھا
‘” تم سوچ رہے ہونگے مجھے تمہارے بارے میں کیسے معلوم ہوا تو تم جاکر اپنی ماں سے بات کرکے اپنی حیرانی دور کر سکتے ہو ”
وہ مزید بولا
‘” تمہاری ہمت کیسے ہوئی اپنی زبان سے میری ماں کا نام لینی کی زبان کھینچ لوں گا تمہاری ”
وہ غصّے میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا
‘” آرام سے ایس پی صاحب تم نام لینے کی بات کر رہے ہو میں تو تمہاری ماں سے ایک ملاقات بھی کر آیا ہوں ویسے حیرت کی بات ہے تمہاری ماں نے نہیں بتایا تمھیں ”
وہ اپنی باتوں سے تبریز کا غصّہ بڑھا رہا تھا
تیمور خان کی بات اسکا غصّہ مزید بڑھا گئی تھی وہ اسکے گھر گیا تھا اور اسکی ماں نے اتنی بڑی بات اس سے چھپا کر رکھی ہوئی تھی
‘” تمہاری ماں نے اتنی چھوٹی سی بات چھپائی تم سے تو اتنا غصّہ آ گیا اور ابھی تو بہت کچھ ایسا ہے جو تمہاری ماں نے تم سے آج تک چھپا رکھا ہے ”
تیمور خان اریشہ کی باتوں سے اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ اس نے تبریز کو اسکے دوسرے بھائی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہوا ہے
اس لئے وہ اسکا دھیان خود پہ سے ہٹانے کے لئے یہ سب کر رہا تھا
‘” کیا بکواس کر رہے ہو میری ماں نے مجھ سے کچھ نہیں چھپا ہوا ہے نہ تمہارے بارے میں کچھ چھپایا مجھ سے اور تمھیں مجھ سے اب کوئی نہیں بچا سکتا میری ماں کے ساتھ ہوئے ہر ظلم کا بدلہ لونگا میں تم سے ”
وہ مزید بولا تھا
لہجے میں وارننگ تھی
‘” بدلہ بعد میں لینا پہلے تم اپنی ماں سے وہ پوچھو جو اس نے تم سے چھپایا ہوا ہے جب تمھیں سب معلوم ہوگا تب بات ہوگی ”
اتنا کہہ کر وہ فون رکھ چکا تھا
اسکے فون رکھتے ہی تبریز نے پاس رکھی فائلز پر زور سے ہاتھ مار کر انہیں دور گرایا تھا
وہ شخص اسکے گھر تک آ گیا تھا اور اسکی ماں نے اتنی بڑی بات اس سے چھپا رکھی تھی
وہ غصّے میں اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتا سٹیشن سے باہر نکلا تھا
اسکے سارے سوالوں کے جواب صرف اسکی ماں کے پاس تھے
🍁🍁🍁🍁