No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
(ماضی )
” بھائی کیا ہوا کچھ معلوم ہوا اریشہ کے بارے میں ?
وہ جیسے ہی تھکا ہارا گھر واپس لوٹا تو اسکو دیکھتے ہی ارمان تیزی سے اسکے پاس آیا
لہجے میں ہمیشہ کی طرف بےچینی تھی
” ارمان کی بات پر جلال نے سرف ایک نظر اپنے بھائی کی طرف دیکھا تھا
کیا کچھ نہیں تھا اس اک نظر میں
”بےبسی ”
” تڑپ ”
” مایوسی ”
انکی خاموشی پر ارمان کو اپنا جواب مل گیا تھا
‘” بھائی کہیں ایسا تو نہیں کہ امی کی طرح سے اریشہ بھی ہمیں ”
ارمان کی بات ابھی پوری ہی نہیں ہوئی تھی جب جلال ایکدم سے چیخ پڑا تھا
‘” نہیں ارمان میری اریشہ کو کچھ نہیں ہوا ہے وہ جہاں بھی ہے بلکل ٹھیک ہوگی تم دیکھنا میں اسکو ڈھونڈھ لونگا
وہ امی کی طرح ہمیں چھوڑ کر نہیں گئی ہے ”
اس وقت جلال شاہ کے لہجے میں یقین تھا اپنی محبت کے ہونے کا
جبکہ اپنے بھائی کی بات پر ارمان بس انکو دیکھ کر رہ گیا تھا پندرہ دن ہو گئے تھے اریشہ کو غائب ہوئے
اور ان پندرہ دنوں میں کیا کیا قیامت آئی تھی ان لوگوں پر اریشہ کے اس طرح سے غائب ہو جانے اور پھر اسکی تلاش نہ ہونے پر نور بیگم کو ایک صدمہ سا لگا گیا تھا پولیس بھی کچھ نہیں کر پا رہی تھی
کتنا خوش تھے وہ لوگ دو دن بعد جلال اور اریشہ کا نکاح تھا مگر انکی خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی تھی
وہ اریشہ کو اپنی بیٹی ہی سمجھتی تھی اور وہ یہ دکھ برداشت نہیں کر پائی اور ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے رخصت ہو گئی
شاہ ولا میں ماتم سا مچ گیا تھا پہلے اریشہ کا غائب ہونا پھر نور بیگم کی موت ارمان اور جلال شاہ جیسے ٹوٹ سے گئے تھے
مگر انہیں سمبھلنا تھا اپنے بھائی کے لئے اریشہ کو تلاش کرنے کے لئے
اتنے دن میں انکے دل میں اریشہ کے لئے کوئی غلط خیال بھی نہیں آیا تھا کیونکہ وہ اس پر پورا بھروسہ کرتے تھے انکا بچپن ساتھ گزرا تھا
جلال شاہ کو یہ کسی گینگ کا کام لگتا تھا
مگر وہ لوگ کون تھے ابھی تک وہ اس بارے میں پتہ نہیں لگا پاۓ تھے
‘” میں آپکی بات سمجھتا ہوں بھائی مگر آپ خود ہی سوچیں نہ کتنا وقت ہو گیا ہے ہم اریشہ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں لگا پاۓ اور نہ پولیس
جن لوگوں نے اریشہ کو کڈنیپ کیا ہے نہ ان لوگوں نے ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اسکا تو یہی مطلب ہوا نہ شاید ہم اریشہ کو بھی امی کی طرح کھو چکے ہیں “
ارمان کس دل سے یہ سب کہہ رہا تھا بس وہی جانتا تھا
ہر گزرتے دن کے ساتھ اسکی اب امید ٹوٹنے لگی تھی
وہ اپنے بھائی کو ہر صبح ایک نئی امید کے ساتھ گھر سے نکلتا ہوا دیکھتا مگر واپسی پر انکے چہرے پر بس مایوسی ہی ہوتی تھی
جلال شاہ کی محبت اریشہ کے لئے بےانتہا تھی جبھی وہ ہر دن اس یقین سے اٹھتے کہ شاید آج انہیں انکی اریشہ مل جائے
‘” تم کچھ بھی بولو ارمان لیکن میرا دل نہیں مانتا میری اریشہ کو کچھ نہیں ہوا ہے وہ واپس ضرور آئے گی ”
اس بار وہ مضبوط لہجے میں بولے تو ارمان بس انکو خاموشی سے دیکھتا رہا
کیا کہتا وہ بھی تو یہی چاہتا تھا انکی اریشہ انہیں مل جائے مگر امید کم تھی
‘” بھائی میری چار دن بعد میری فلائٹ ہے اگر آپ چاہو تو میں کینسل کر دیتا ہوں کیونکہ اس وقت آپکو میری ضرورت ہے “
کچھ یاد آنے پر ارمان یکدم سے بولا
اسکا ہمیشہ سے خواب تھا باہر ملک جاکر پڑھنے کا اور نور بیگم اور جلال کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا مگر اب حالات کچھ اور تھے
‘” نہیں تم جاؤ ارمان پہلے ہی تم میری وجہ سے کافی رک چکے ہو تم جاکر اپنی اسٹڈی مکمل کرو اگر مجھے تمہاری ضرورت ہوگی تو میں تمھیں فورا بلا لونگا ”
وہ جانتا تھا جب تک وہ نہیں بولے گا تب تک ارمان جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اور وہ اسکا کیریئر خراب نہیں کرنا چاہتا تھا
‘” پر بھائی میں آپکو ایسے میں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا”
وہ پریشانی سے بولا
‘” نہیں ارمان میں نے کہہ دیا تو بس کہہ دیا تم جاؤ گے اور میں اس بارے میں بحس نہیں چاہتا تمہارے مستقبل کا سوال ہے اور میں نہیں چاہتا میری وجہ سے تمہارا مستقبل خراب ہو'”
وہ دو ٹک انداز میں بولے تو ارمان خاموش ہو گیا تھا جانتا تھا
اسکا بھائی اسکی ایک نہیں سنے گا اسکا بولنا بےکار تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” وہ سب کام سے فارغ ہوکر جیسے ہی بیڈروم میں داخل ہوئی تو وہ تبریز صوفہ پر بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ اور فائل میں مصروف نظر آیا
وہ بس ایک گہرا سانس بھر کر رہ گئی تھی
زیان کی باتیں اسکے ذہن میں گھوم رہی تھی وہ اس سے صاف صاف بات کرنا چاہتی تھی مگر اسکے ماتھے پر پڑے بل مشال کو کچھ بھی بولنے سے روک رہے تھے
کھانے کھاتے وقت بھی اس نے اس شیر کو چھیڑنا مناصب نہیں سمجھا
پھر سوچا بیڈروم میں بات کریگی مگر موصوف مصروف نظر آ رہے تھے
” ہمیں آپ سے بات کرنی ہے کچھ سوال ہیں جنکے جواب چاہئے ابھی اور اسی وقت ”
وہ سیدھا اسکے سر پر جا کھڑی ہوئی لہجے کو تھوڑا مضبوط بنایا گیا تھا
جبکہ مقابل نے اسکی بات سنی ہی نہیں تھی وہ ایسے ہی اپنے کام میں مصروف رہا
‘” آپ نے سنا نہیں شاید ہم آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں “
مشال نے اس بہار اپنی آواز ونچی کی تھی اسکو اپنی طرف موتجہ کرنے کے لئے
‘” میں نے سنا نہیں اور تمھیں نظر نہیں آ رہا ہے میں ابھی مصروف ہوں تمہاری باتوں کے لئے فلحال میرے پاس وقت نہیں ہے ”
وہ فائل پر سے بغیر نظریں ہٹایں بولا
آج اسے تاشا کے خلاف کچھ فائلز ملی تھی جو بہت امپورٹنٹ تھی اس کیس کے لئے
اسکا جواب سن کر مشال کا منہ کھلا کہ کھلا رہ گیا تھا مطلب اسکو اسکی باتیں فالتو لگتی تھی وہ سخت نظروں سے اسکو گھورنے لگی
” جب تک آپ ہماری بات نہیں سن لیتے ہم بھی آپکو کوئی کام نہیں کرنے دیں گے ”
وہ تھوڑا سا جھکی اور تبریز کے ہاتھ سے فائل جھپٹنے کے انداز میں چھین کر بیڈ کی طرف اچھالی تھی
اسکی اس حرکت پر تبریز کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے وہ غصّے میں اپنی جگہ سے اٹھا
‘” یہ کیا بدتمیزی ہے مشال جانتی بھی ہو یہ کتنی امپورٹنٹ فائل ہے اگر تمہاری وجہ سے اسکو کچھ نقصان ہوتا تو تمہارے ہاتھ کاٹ دیتا میں ”’
وہ لال آنکھیں لئے اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا مشال ڈری تھی اسکے سخت لہجے سے
‘” اور آپ نے جو کیا وہ کیا تھا زیان کو کڈنیپ کروا کر ہم سے نکاح کر لیا سب کی نظروں میں اچھے بن گئے
اپنی اس حرکت کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے ”
مشال کا صبح والا غصّہ اب اسکے سامنے نکلنے لگا تھا
جبکہ اسکے منہ سے یہ سب سن کر تبریز ایک لمحے کو حیران ہوا تھا
‘” کہاں سے معلوم ہوا تمھیں یہ سب کس نے بتایا ”
وہ اسکا بازو دبوچتا سوال کر رہا تھا پکڑ میں سختی در آئی تھی
” ہمیں کسی نے بھی بتایا ہو آپکے انداز سے تو یہی لگ رہا ہے کہ جو بھی ہم نے بولا سچ تھا
اتنا گھٹیا حرکت کرتے ہوئے آپکو ایک لمحے کے لئے بھی شرم نہیں آئی”
وہ بھی کہاں چپ رہنے والی تھی
‘” زیان سے ملی تم اس نے بتایا تمکو یہ سب ”
اسکے بغیر بتاۓ بھی وہ سمجھ چکا تھا یقیناً یہ اس زیان کا ہی کیا ہوا ہے
‘” ہاں ملے تھے ہم اس سے اسی نے ہماری آنکھیں کھولی ہیں کہ آپ کتنے گرے ”
اسکا جملہ منہ میں رہ گیا جب تبریز نے سختی سے اسکے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑا تھا
تکلیف کی وجہ سے مشال کی چیخ نکل گئی تھی
” بس مشال اتنا بولو کہ بعد میں تمھیں اپنے کہے لفظوں پر پچھتانا نہ پڑے ”
اس نے مشال کی بالوں پر اپنی پکڑ مزید سخت کرتا اسکا چہرہ اوپر کر چکا تھا
درد کی وجہ سے مشال کی آنکھیں نم ہو گئی تھی اس نے اپنے بال اسکی گرفت سے آزاد کروانے چاہے تھے مگر کروا نہ سکی
‘” چھوڑو ہمارے بال ہمیں تکلیف ہو رہی ہے”
مشال نے اسکا ہاتھ ہٹانا چاہا مگر تبریز اسکی کلائی کو اپنی گرفت میں لیتا اسکی کمر کے پیچھے لے جا کر موڑ چکا تھا
‘” اور شاید تم بھول گئی ہو میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ شادی سے انکار کر دو مگر تم نے نہیں کیا تمھیں پانے کے لئے میں نے وہی کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا ”
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا
مشال جو سوچ رہی تھی اس سے طلاق کی بات کرے گی تبریز کے اس قدر شدید ردعمل پر بس اپنی جان چھوٹنے کی دعا مانگ رہی تھی
‘” دیکھیں ہمیں چھوڑ دیں ورنہ ہم بڑی امی اور بڑے بابا کو سب بتا دیں گے کہ آپ نے کیا حرکت کی ہمارے اور زیان کے ساتھ ”
اپنی طرف سے دھمکی دی گئی تھی جسے سن کر تبریز استہزیہ مسکرایا
‘” بتا دو تمھیں کیا لگتا ہے وہ تمہاری بات پر یقین کر لیں گے کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کہ میں نے یہ سب کیا ہے نہ اس زیان کے پاس کوئی ثبوت ہے “
وہ صاف اسکا مذاق بنا رہا تھا
‘” بہت برے ہیں آپ اس لئے ہمیں پسند نہیں اور نہ آپکی حرکتیں ‘”
اسکے اس معصوم انداز پر تبریز کا غصّہ پل میں ہوا ہوا آنکھوں میں اب غصّے کی جگہ جذبات نے لے لی تھی
‘” اچھا کون سی حرکت تمھیں پسند نہیں آئی میری ”
وہ اپنی پکڑ سے اسکے بالوں کو آزاد کرتا اب اسکے رخسار کو نرمی سے سہلاتا ہوا بولا
اس بار لہجے میں تپیش تھی
اسکا بدلہ ہوا انداز اسکی نظروں سے مشال بوکھلائی تھی
‘” کوئی سی بھی نہیں آپ گھٹیا پولیس والے ہیں اور ایسی ہی آپکی حرکتیں بھی ”
اس بےدردی سے تبریز کا ہاتھ جھٹکا تو وہ ہنس پڑا
‘” تم مجھے موقع تو دو میں اچھی والی حرکتیں بھی کر کے دیکھا دوں گا یقیناً وہ تمھیں ضرور پسند آئے گی ”
وہ اس پر جھکنے لگا تھا اسکی مشال کی کلائی پر پکڑ ڈھیلی پڑی تو وہ موقع دیکھ کر پل میں اس سے دور ہوئی
ایسا مشال کو لگا تھا جبکہ تبریز نے اسکو چھوڑا تھا کیونکہ اسکو ابھی بہت سارا کام کرنا تھا اس فائل پر
”” سنو اگر تم نہیں چاہتی کہ میں تمھیں اس گھر سے دور نہ لیکر جاؤں اور تم اپنی بڑی امی اور بڑے بابا کی شکل تک دیکھنے کے لئے ترس جاؤ تو اس زیان سے دور ہی رہنا یہ میری لاسٹ وارننگ سمجھنا ”
اسکو دروازے کی طرف بڑھتا دیکھ اپنی بات کہنا نہ بھولا تھا اور مشال ہر بار کی طرح برا سا منہ بنا کر رہ گئی تھی
اس شخص سے وہ کبھی جیت نہیں سکتی تھی ‘
🍁🍁🍁🍁
‘” عمارہ پلیز میری ایک ریکویسٹ ہے آپ سے بس ایک بار بات کریں دے مجھے ”
” پلیزز ”
وہ اپنے سامنے بیٹھی عمارہ سے التجا کر رہی تھی اپنے بابا سے بات کرنے کے لئے
” بیٹا میری بات سمجھنے کی کوشش کرو میں تمھیں نہ اس بات کی اجازت دے سکتی ہوں نہ ہی تمہاری اس معملے میں کوئی مدد کر سکتی
” مجھے معاف کر دو میں مجبور ہوں ”
انہیں مہرہ پر ترس تو آ رہا تھا مگر وہ اسکی بات مان کر سکندر کو ناراض نہیں کر سکتی تھی
وہ جانتی تھی سکندر اسکے ساتھ غلط کر رہا ہے مگر انہیں سکندر کے معملوں میں بولنا اچھا نہیں لگتا تھا
‘” پلیز عمارہ ایسا نہ بولے صرف ایک بار مجھے میرے بابا سے بات کرنے دیں میں پرومیس کرتی ہوں آئندہ آپکو کبھی نہیں بولو گی بس ایک بار ”
اس بار اسکا گلا رندہ گیا تھا آنکھیں نم ہوئی تھی
اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب عمارہ کو اس معصوم سے لڑکی پر ترس آ گیا تھا
” یہ پہلی اور آخری بار ہے اسکے بعد میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکو گی ”
وہ اسکو موبائل دیتی کمرے سے نکل گئی تھی تاکہ وہ آرام سے بات کر سکے
اور مہرہ کو لگ رہا تھا کہ بس ایک بار بات کرکے اسکو سکون مل جائے گا
اس نے جلدی سے نمبر ڈائل کرکے فون کان سے لگایا تھا
‘” اتنی بھی کیا جلدی ہے ڈارلنگ سسر صاحب سے بات کرنے کی سہی وقت آنے پر کر لینا ”
سکندر اسکے ہاتھ سے موبائل لیتا کال کٹ کر چکا تھا بیڈروم میں آتے وقت وہ اسکی اور عمارہ کی ساری باتیں سن چکا تھا اسے عمارہ پر غصّہ تو بہت آیا مگر ضبط کر گیا
اپنے باپ سے بات کرنے کی جو خوشی اسکے اندر تھی سکندر کی آمد سے جیسے کہیں غائب ہو گئ تھی
‘” پلیز مجھے موبائل دے دو صرف ایک بار بات کرونگی اسکے بعد نہیں بولوں گی ”
وہ روتی ہوئی اس سے موبائل لینے کی کوشش کرنے لگی مگر سکندر موبائل اسکی پہنچ سے دور کر چکا تھا
” ٹھیک ہے یہ موبائل لو اور بات کر لو اپنے بابا سے ”
وہ اپنا ہاتھ اونچا کرتا ہوا بولا
شاید اسکا یہ نیا طریقہ تھا اسکو تنگ کرنے کا
مہرہ اسکے مضبوط کندھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام کر تھوڑا سا اونچا ہوکر اس سے موبائل لینے کی کوشش کرنے لگی
جو ناممکن سا لگ رہا تھا
وہ اتنا لمبا اور وہ بمشکل اسکے کندھے تک آتی تھی
مگر اسکو کوشش تو کرنی تھی
اپنی اس کوشش میں وہ اسکے بہت قریب آ چکی تھی جسکا اسکو احساس نہ تھا اسے تو بس وہ موبائل چاہئے تھا اپنے بابا سے بات کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی
‘” آخر آپ چاہتے کیا مجھ سے کیوں پریشان کر رہے ہیں
میرے سے رشتہ بنا کر بھی تمھیں سکون نہیں ملا جو اس طرح سے پریشان کر رہے ہیں ”
وہ سخت جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی
جبکہ وہ محظوظ ہو رہا تھا اسکو مزا آ رہا تھا انجانے میں ہی سہی وہ اسکے بہت قریب آ چکی تھی
‘” پلیز مجھے میرے بابا سے بات کرنے دو تم جو بولو گے میں وہ کروں گی ”
” پر پلیز دے دو موبائل ”
اسکو جب لگا کہ وہ موبائل تک نہیں پہنچ سکتی تو اسکے انداز میں التجا تھی
اسکی بات پر سکندر کی آنکھوں کہ رنگ یکدم سے بدلہ تھا ہونٹ مسکرائے تھے
‘” جو کہو گا وہ کرو گی ?
اسکے لبوں پر نظریں جمائے وہ معنی خیزی سے بولا
اسکے بدلے ہوئے انداز پر مہرہ کا رونا یکدم سے بند ہوا تھا اسکی گہری نظروں سے اسکا حلق خشک ہوا تھا
‘” نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا ”
وہ اپنے لب تر کرتی ہوئی بولی مگر سکندر اسکی بات کو نظرانداز کرتا اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسکو اپنے قریب کرتا اسکے لبوں پر جھکا تھا
اسکو خود پر جھکتا دیکھ مہرہ کوئی مزاحمت کرتی وہ اسکے گلابی کانپتے لبوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا
اسکے لمس سے مہرہ کا پورا جسم کانپ اٹھا تھا
دھڑکنے بےقابو ہونے لگی
وہ اسکی پکڑ سے خود کو آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ کسی چٹان کی طرح اس پر حاوی تھا
ایک نشہ سا تھا مہرہ کے اندر جو سکندر کو مدہوش کر رہا تھا
جتنا مہرہ اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتی سکندر کے عمل میں اتنی ہی سختی بڑھتی جاتی
کچھ لمحوں بعد جب اسے مہرہ پر رحم آیا تو وہ اسکو جھٹکے سے چھوڑتا دور ہوا اور اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر اسکو دیکھنے لگا جو اپنی سانسیں درست کرنے کی کوشش کر رہی تھی
‘” مجھے پہلے ہی دن لگا تھا کچھ تو ایسا ہے تم میں جو مجھے اپنی جانب کھینچتا ہے اور آج محسوس بھی کر لیا ”
وہ ذو معنی لہجے میں بولا تو مہرہ کا چہرہ شرم سے لال ہوا تھا
‘” تم جیسا انسان میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا”
وہ روئی تھی اپنی بات کہہ کر
‘” مجھے دیکھ لیا اب تمھیں کسی اور کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ میں تمھیں اب کسی اور کو دیکھنے کی اجازت دونگا ”
وہ اس پر حق جتا رہا تھا
‘” اب یہ فضول میں رونا دھونا بند کرو اور اپنا حلیہ درست کرکے آؤ تمھیں یونی چھوڑ کر آتا ہوں تمہارے امتحان شروع ہونے والے ہیں اسکے بعد تم صرف گھر مین رہ کر پڑھائی کروگی ”
”اور رہی تمہارے بابا سے بات تو وہ بھی کروا دوں گا مگر فلحال نہیں ”
اسکی بات پر مہرہ بےیقینی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی جیسے اس نے جو کچھ سنا وہ غلط ہو
‘” تمھیں وہاں جانے کی اجازت دی ہے مگر کوئی ہوشیاری مت کرنا میری نظر ہمیشہ تم پر ہی رہے گی ”
‘” اس لئے ڈارلنگ جاؤ جلدی کرو ہمیں دیر ہو رہی ہے ”
وہ اسکا بازو پکڑ کر واشروم کی طرف لے جاتا ہوا اور خود ہی دروازہ بند کرتا اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا
🍁🍁🍁🍁
” مجھے وہ لڑکی چاہئے شوکت ”
” کسی بھی حال میں ”
وہ تیز آواز میں دھاڑا تھا
اسکی دھاڑ پر ایک پل کے لئے شوکت بھی ڈر گیا تھا
کبھی ایسا وقت ہوتا تھا جب اسکو کسی بات پر اتنا غصّہ آتا تھا اور جب غصّہ آتا تو کسی میں ہمّت نہیں ہوتی تھی اسکے سامنے بولنے کی
‘” تم سن رہے ہو نہ شوکت وہ لڑکی لاکر دو مجھے ورنہ تم میرے قہر کو اچھی طرح جانتے ہو اس میں نقصان تمہارا ہی ہے ”
اس بار وہ شوکت کی جانب پلٹا اور سخت نظروں سے اسکو دیکھتا ہوا بولا
شوکت نے اپنا خشک حلق تر کیا تھا
” میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں تاشا لیکن ”
اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی جب وہ پھر سے دھاڑا تھا
” لیکن کیا شوکت ”
” کیا لیکن ?
اسکی آواز اتنی تیز ہو گئی تھی کہ وہاں پنجرے میں موجود وہ چھوٹا سا جانور اب پریشان ہوکر ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگا تھا
‘” کہا تھا میں نے تم سے کہ اس لڑکی کی حرکت پر پل پل نظر رکھو ”
” کہاں جاتی ہے کس سے ملتی ہے اسکے دوست کون ہے
” مگر تم سے اتنا آسان کام نہیں ہوا ”
شوکت بیچارہ اس وقت خود کو بہت مشکل میں پھنسا ہوا محسوس کر رہا تھا
وہ جانتا تھا تاشا کے لئے وہ لڑکی کتنی ضروری ہے
‘” میں نے اپنی ہر ممکن کوشش کی اس پر نظر رکھنے کی اور اب تک ہماری اس پر پوری نظر تھی مگر اچانک سے توفیق نے اسے جانے کہاں غائب کر دیا کہیں نظر نہیں آتی ”
اور یہی بات شوکت کو پریشان کر رہی تھی مہرہ کا اس طرح سے اچانک غائب ہو جانا اسکو حیران کرنے کے لئے کافی تھا
‘” وہ غائب ہو گئی ہے تو اسکو تلاش کرو شوکت یہاں میرے پاس آکر باتیں بنانے سے کچھ نہیں ہوگا ”
” جس طرح تم نے ہر ممکن کوشش کی اس پر نظر رکھنے کی اب اسکو تلاش کرنے کے لئے بھی اپنی پوری کوشش لگا دو لیکن مجھے وہ لڑکی چاہئے ہر قیمت پر “
اس نے ٹیبل پر رکھا اپنا سگار اٹھا کر اسکو سلگایا تھا
‘” تاشا تم بےفکر رہو میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں اور اس کام میں میں نے زین کو بھی شامل کیا ہے وہ لڑکی ہمارے پاس ہوگی بس کچھ وقت انتظار کرو ”
اس نے تاشا کا غصّہ کم کرنا چاہا تھا
‘” تم کچھ بھی کرو کسی کو بھی اپنے ساتھ شامل کرو اگر تب بھی کچھ نہیں معلوم ہوتا تو سیدھا اس توفیق سے بات کرو اپنے انداز میں ”
” اگر وہ نہ مانے تو تم اچھی طرح جانتے ہو تمھیں کیا کرنا ہے ”
اس بار وہ زہر خند لہجے میں بولا جبکہ شوکت تھوڑا حیران ہوا تھا اسکی بات سے
‘” مطلب توفیق کو ”
اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑی تھی
‘” ہاں سہی سمجھے تم بہت ہوشیار بنتا ہے نہ وہ اسکو کیا لگتا ہے اپنی بیٹی کو مجھ سے چھپا لیگا اور میں خاموش بیٹھا رہوں گا
‘” اگر وہ سیدھی طرح سے بات نہ سنے تو اپنی حالت کا وہ خود ذمہ دار ہوگا ”
اب وہ آرام سے صوفہ پر آ بیٹھا اور شوکت کے چہرے کے تاثرات کو دیکھنے لگا
‘” اب جاؤ اور اپنا کام شروع کرو اور یاد رہے میرے پاس واپس آؤ یا وہ لڑکی ہونی چاہئے تمہارے ساتھ یا پھر اسکے بارے میں کوئی معلومات کہاں ہے اور کس کے پاس ہے
” بغیر کسی معلومات کے میرے پاس آنے کی کوشش مت کرنا ورنہ تمہارے ساتھ جو کروں گا اسکے بارے میں تم نے سوچا نہیں ہوگا ”
اس بار شوکت کو دھمکی دی گئی تو وہ صرف اپنی گردن ہلا کر رہ گیا تھا
اب تو اسے ہر حال میں اسکے لڑکی تک پہنچنا تھا ورنہ اسکے ساتھ تاشا کیا کر سکتا تھا اسے اندازہ تھا اس بات کا جب وہ توفیق کے ساتھ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ سکتا تھا تو وہ بھی تھی اسکے لئے توفیق کی طرح ہی تھا
‘” ہیلو ہاں زین کچھ پتہ چلا اس لڑکی کے بارے میں ?
تاشا کے آفس سے نکل کر اس نے فورا زین کو فون کیا تھا ” تم کنفرم ہو دیکھو مجھے اس معملے میں کوئی غلطی نہیں چاہئے ”
سامنے والے کی بات سن کر وہ فورا بولا ویسے بھی آج تاشا کی بہت ڈانٹ سن چکا تھا
” ٹھیک ہے تم وہیں رکو میں آتا ہوں تمہارے پاس ”
وہ کال کٹ کرتا اپنی کار کی طرف بڑھا تھا
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )
