53.5K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

(ماضی )
” اس نے جیسے ہی اپنی اپنی آنکھیں کھولی تو سر میں درد کی شدید لہر دوڑی تو تکلیف کی وجہ سے وہ اپنی آنکھیں پھر سے بند کر گئی تھی
کچھ دیر ایسے ہی آنکھیں بند کیے لیٹی رہی
مگر جیسے ہی دماغ نیند سے بےدار ہوا تو وہ یکدم جھٹکے سے اٹھ بیٹھی
اور اپنے اطراف کا جائزہ لینے لگی
وہ اس وقت عالیشان کمرے میں کنگ سائز بیڈ پر موجود تھی یہ اسکا کمرہ نہیں تھا اور نہ وہ کبھی یہاں آئی
اسکو جیسے اب سب یاد آنے لگا وہ صبا کے گھر جا رہی تھی راستے میں اسکے سامنے ایک کار آکر رکی اور پھر اسکے بعد کیا ہوا اسکو کچھ یاد نہیں تھا
تو کیا اسکو کڈنیپ کیا گیا تھا ?
یہ خیال آتے ہی اسکے پورے بدن میں کپکپاہٹ دوڑ گئی تھی چہرہ خوف سے سفید پڑ گیا تھا
‘” کوئی ہے ?
”کوئی مجھے یہاں سے باہر نکالو ”
وہ بیڈ سے اٹھ کر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی مگر کوئی فائدہ نہیں
اس نے ڈرتے ڈرتے پورے کمرے میں دیکھ لیا مگر کوئی راستہ فرار کے لئے نہیں ملا
‘” امی ” جلال ” ارمان ”
“‘مجھے بچاؤ ”
وہ کمرے کے بیچ و بیچ کارپیٹ پر بیٹھی ان لوگوں کو یاد کرنے لگی جو اسکے اپنے تھے
اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے کس نے اسکو کڈنیپ کیا ہے ان لوگوں کی تو کسی سے دشمنی بھی نہیں تھی
”اللہ میری مدد فرما ”
” کہاں ہوں میں کن لوگوں نے کڈنیپ کیا ہے مقصد کیا ہے انکا ”
وہ گھٹنوں میں منہ چھپائے بیٹھی سیسک رہی تھی اسکا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا
جانے وہ کتنا ہی وقت ایسے روتے رہتی جب کمرے کا دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا اور اپنے بھاری قدم اٹھاتا اسکے سامنے آ رکا
اریشہ جو رونے جا رہی تھی اپنے پاس کسی کی موجودگی کو محسوس کر کے اسکے رونے کو یکدم بریک لگا اور جھٹکے سے سر اٹھا کر سامنے دیکھا
تیمور خان بڑی دلچسپی سے کھڑا اسکو تک رہا تھا اسکی آنکھوں میں اس وقت جیت کی خوشی تھی
جبکہ اریشہ اس شخص کو دیکھ رہی تھی جسے اس نے زندگی میں پہلی بہار دیکھا تھا
‘” ک..کو…کون …ہو تم او …اور ..مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے ”
ڈر کے مارے اریشہ کے منہ سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ھو رہے تھے
وہ کھڑی ہوکر اپنے قدم پیچھے کی طرف اٹھانے لگی
اسکو اپنے سامنے کھڑے شخص سے خوف سا محسوس ہو رہا تھا جسکی آنکھیں اسی پر جمی ہوئی تھی
‘” کمال ہے میرے خلاف رپورٹ کرنے کے بعد اتنی جلدی بھول گئی کہ میں کون ”
اس وقت تیمور کے ہونٹوں پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی
جبکہ اسکا جواب سن کر اریشہ کو ساری بات سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی
وہ یہ کیوں بھول گئی تھی جو شخص اسکی دوست کو اسکے گھر جاکر دھمکی دے سکتا ہے پھر تو وہ اسکے خلاف پولیس میں کمپلین کر چکی تھی اسکے ساتھ کیا نہیں کر سکتا تھا
” ویسے بہت ہی خوبصورت چیز ہو تم تمھیں بلکل اندازہ نہیں ہے اپنی خوبصورتی کا
” تمہاری یہ قتل آنکھیں کسی کی جان لینے کے لئے کافی ہے ”
وہ کمینگی سے بولا اور اسکو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ چکا تھا
اریشہ کی چیخ نکلی تھی مگر سننے والا کوئی نہ تھا
‘”” چھوڑو مجھے ذلیل انسان دور رہو مجھ سے ”
وہ اسکی گرفت میں بری طرح سے مچل رہی تھی
خود پر پڑتی اس شخص کی نظریں اریشہ کو اپنے جسم میں چھبتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
”” اففففف ..یہ انداز …
” یوں ہی تو نہیں تیمور خان فدا ہو گیا تم پر پہلی ہی نظر میں'”
اسکا لہجے سے اریشہ کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹی بجتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
‘” دیکھو مجھے جانے دو نہیں تو میں شور مچاوں گی اور پھر جلال کو معلوم ہو جائے کہ تم نے مجھے کڈنیپ کیا ہے تو وہ تمہارا حشر بگاڑ دیں گے ”
وہ اپنے لہجے کو مضبوط بناتی ہوئی بولی مگر اسکی بات پر تیمور خان زور سے ہنسا شیطانی ہنسی
اور پھر اپنی پکڑ میں مچلتی اریشہ کو بیڈ پر ڈال چکا تھا
‘”” جتنا ہو سکے اتنا شور مچاو اور رہی بات تمہارے جلال کی تو ساری عمر بھی لگ جائے تب بھی وہ تمھیں تلاش نہیں کر سکے گے ‘”
وہ اپنی بات کہتا اس پر جھکا تو اریشہ بدک کر دور ہوئی
‘ ” یہ ..یہ ..کیا کر رہے ہو تم دور رہو مجھ سے “
اسکو اس شخص کے ارادے نیک نہیں لگ رہے تھے
‘” اب میں وہ کروں گا جسکے لئے تمھیں یہاں لایا گیا ہے ”
وہ اسکے دونوں ہاتھوں کو تھامتا اریشہ کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا
وہ اسکی پکڑ میں تڑپ رہی تھی اپنی عزت کو بچانے کی پوری کوشش کر رہی تھی مگر وہ حیوان تھا اسکی عزت کا لٹيرا
اریشہ کا رونا ۔
اسکی کوشش۔
اسکی چیخے ۔
کچھ کام نہیں آئی وہ درندہ اپنی حوس کو مٹانے کے لئے اسکو بےعبرو کر چکا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” وہ کب سے بیٹھی مہرہ کا نمبر ٹرائ کر رہی تھی مگر ہر بار اسکا نمبر بند جا رہا تھا
جب سے اسکی شادی ہوئی تھی اسکے بعد بس ایک دو بار اسکی مہرہ سے بات ہو پائی تھی
وہ یونی بھی نہیں جا پا رہی تھی کیونکہ تبریز نے فلحال اسکو پرمیشن نہیں دی تھی
آج مہرہ کی یاد آئی تو اسکو کال کرنے کا سوچا مگر اسکا نمبر بند تھا اور مشال کے پاس اسکے بابا کا بھی نمبر موجود نہیں تھا
‘” یار مہرہ کہاں ہو تم کم از کم تم ہی ہمیں کال بیک کر لو'”
وہ فون صوفہ پر ڈالتی اپنے خیال میں اس سے مخاطب ہوئی
‘” اور ایک ان پولیس والے نے دماغ خراب کیا ہوا ہے اب تک نہیں آئے یہاں ہماری بھوک سے جان نکل رہی ہے ‘”
وہ گھڑی میں ٹائم دیکھتی ہوئی بولی جو اس وقت دس بجا رہی تھی
یہ بھی تبریز کا ہی حکم تھا کہ وہ رات کے کھانے پر اسکا انتظار کیا کرے ورنہ دوسری سورت میں اسکو دھمکی دے چکا تھا
وہ اٹھ کر کچن کی جانب بڑھی تھی جب تبریز اسکو سامنے سے آتا ہوا نظر آیا
اسکو دیکھ کر مشال نے شکر کا سانس لیا تھا
‘” جلدی کھانا لگاؤ میں فریش ہوکر آتا ہوں آج شدید بھوک لگی ہے ‘”
وہ اسکو آرڈر دیتا اپنے بیڈروم کی طرف بڑھا تو مشال اسکی پشت کو دیکھ کر منہ چیڑھاتی کچن کی طرف بڑھی تھی
”” آرڈر تو ایسے دیکر گئے ہیں جیسے ہم انکی ملازمہ ہی
“کھانا لگاؤ سخت بھوک لگی ہے ”
” مشال اسکی نقل اتارتی ہوئی ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی
فرائیڈ رائس اتارتے ہوئے اسکے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ آئی تھی
یہ تبریز کی پسندیدہ ڈش تھی جو آج اس نے خاص فون کرکے اس سے بنوائی تھی
‘” سخت بھوک لگی ہے نہ آپکو اب دیکھتے ہیں کیسے آپکی یہ بھوک ختم ہوتی ہے ”
تبریز کی کل والی حرکت سے وہ اب بھی غصّہ تھی اس لئے اپنا بدلہ لینے کے لئے اس نے پہلے سے ہی انتظام کیا ہوا تھا
تھوڑی دیر بعد وہ فریش سا ڈائننگ حال میں داخل ہوا
وائٹ ٹی شرٹ جسکے ہالف بازو سے جھانکتے اسکے مسلز بلیک ٹراؤزر گھر کے سادہ سے حلیے میں بھی وہ شاندار لگ رہا تھا
ایک پل کے لئے مشال کو اپنی نظریں ہٹانا مشکل لگا مگر اگلے ہی لمحے خود کو ڈپتی ہوئی اپنی چیئر پر بیٹھ چکی تھی
‘” کھانا اتارو میرے لئے ”
رعبدار آواز میں حکم دیا گیا تھا مشال آنکھیں مٹکاٹی اسکے حکم کی تعمیل کرنے لگی
مشال اپنے لئے بھی کھانا اتار کر اسکے تاثرات کا جائزہ لینے لگی جو اپنا کھانا شروع کر چکا تھا
وہ جانتی تھی پہلے ہی چمچ پر وہ چیخ اٹھے گا کیونکہ جس حساب سے اس نے میں مرچے ڈالی ہوئی تھی وہ یہی اندازہ لگا سکتی تھی
مگر اسے حیرت کا جھٹکا تب لگا جب وہ ایک کے بعد ایک چمچ کھاتا گیا وہ اتنے آرام سے کھا رہا تھا جیسے اتنی مرچی نارمل ہو اسکے لئے
مشال بس ایک ٹک اسکو دیکھ رہی تھی یہاں تک کہ وہ اپنا کھانا بھی بھول چکی تھی
جبکہ تبریز نارملی بیٹھا کھا رہا تھا مگر اسکی آنکھوں کے ساتھ ساتھ ہونٹ بھی جلن کی وجہ سے سرخ ہو چکے تھے
کھاتے وقت اسکی نظریں مشال پر ہی تھی
اسکی حالت دیکھ کر مشال کو دکھ کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر بھی خطرہ محسوس ہونے لگا وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی
‘” وہ میں کھیر کچن میں ہی بھول آئی ہوں ابھی لیکر آتی ہوں ‘”
تبریز کا اطمینان اسے ڈرا رہا تھا
اپنی بات کہہ کر اس نے ابھی ایک قدم آگے بڑھایا ہی تھا جب وہ اسکی نازک کلائی کو اپنی گرفت میں لیتا ایک جھٹکے میں مشال کو اپنی گود میں بیٹھا چکا تھا
یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ مشال کو سمبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا
‘” یہ ..یہ …کیا حرکت ہے چھوڑو ہمیں ”
اسکا ایک ہاتھ اپنی کمر کے گرد حائل ہوتا دیکھ مشال بوکھلا سی گئی تھی
‘” اچھی کوشش تھی بدلہ لینے کی ”
”But Next Time Try Something New janan Beacuase”
وہ اسکی کمر پر دباؤ ڈالتا ہوا اسکے وجود کو خود پر جھکا گیا
تو مشال نے اپنے اور اسکے درمیان فاصلہ قائم رکھنے کے لئے تبریز کے کندھے پر اپنا نازک ہاتھ رکھ دیا
‘” یہ معمولی سا ٹارچر ایس پی تبریز کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا”
اس بار اس نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اسکی کمر پر دباؤ ڈالا تو مشال اسکے مزید قریب ہوئی اتنا کہ اب دونوں کی پیشانی آپس میں ٹچ ہو رہی تھی
‘” لیکن اتنا یاد رکھنا کہ اگر میں نے اپنا بدلہ لینے کی کوشش کی تو تمھیں مجھ سے نہ یہ چار دیواریں بچا سکتی ہیں اور نہ تمہارے آنسو “
اسکی گرم سانسیں مشال کا چہرہ پڑ رہی تھی اس شخص کی قربت ہمیشہ اسکی بولتی ببند کر دیتی تھی جیسے اب کی ہوئی تھی
‘” ہم نے کچھ نہیں کیا شاید غلطی سے مرچ زیادہ ڈل گئی ہم سے ”
فورا سے جھوٹ نکلا تھا
اپنی بات کہہ کر دور ہونا بھی چاہا مگر مقابل کی پکڑ سخت تھی
جبکہ تبریز اسکی بات سن کر دلکشی سے مسکرایا اور تھوڑا سا انچا ہوکر اسکی ستوا ناک کو اپنے دانتوں میں دبا چکا تھا
تکلیف کی وجہ سے مشال کی چیخ نکل گئی
‘” سوری میں نے کچھ نہیں کیا مجھ سے غلطی سے ہو گیا شاید “
وہ اسکی بات اسی کو لوٹا ہوا اسکو اپنی گود سے اٹھاتا چیئر سے کھڑا ہوا تھا
جبکہ ہونٹوں کی مسکراہٹ صاف بتا رہی تھی کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے
‘” میرے لئے سٹرونگ سی چاۓ لیکر آؤ بیڈروم میں پانچ منٹ سے ایک منٹ بھی اوپر نیچے نہیں ہونا چاہئے ”
وہ اسکی لال ناک کو دیکھتا وہاں سے چلا گیا اور مشال بس اسکی پشت کو گھورتی رہ گئی تھی .
‘” بدتمیز انسان”
گھٹیا پولیس والا ”
ٹیبل صاف کرتی جانے وہ اسکو کتنے ہی نام سے نواز چکی تھی
“”نیکسٹ ٹائم ڈفرینٹ ہوگا دیکھ لینا ”
وہ پھر سے بدلہ لینے کا سوچ چکی تھی
🍁🍁🍁🍁
‘ زین ”
” زین نام ہے اسکا تاشا کے لیفٹ ہینڈ شوکت کے کہنے پر کام کرتا ہے
لڑکا بہت تیز ہے پولیس کی ناک کے نیچے سے نکل کر اپنا کام آسانی سے کر لیتا ہے ”
کریم بول رہا تھا مگر اسکی اسکی نظریں تیز دھار والے چاکو پر تھی جو خون سے رنگا ہوا تھا
‘” وقت اور ضرورت سے زیادہ اپنی سپیڈ بڑھا لی ہے اس نے لیکن چیز ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو نقصان پہنچا دیتی ہے”
وہ اپنی سامنے بےجان پڑے وجود پر نظر ڈالتا ہوا بولا
جسکا وہ برا حشر کر چکا تھا
‘” تو پھر کیا کرنا ہے اسکا ?
سوال پوچھا گیا تھا
‘” اسکو دوڑنے آرام سے جب اسکی سپیڈ فاسٹ ہوگی تب اسکو روکنے میں مزا آئے گا ”
اسکے چہرے پر استہزیہ مسکراہٹ تھی
” اور ہاں اس تاشا پر بھی نظر رکھو اس بار ملک سے باہر نہیں جانا چاہئے ”
تاشا اپنے کام میں کمزورو کو بھی نہیں بخشتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ڈیوڈ کو وہ پسند نہیں تھا
کیونکہ اسکے کام کے کچھ اصول تھے وہ کبھی کمزورو کو نشانہ نہیں بنتا اور نہ عورتوں کو
‘” ڈونٹ وری اس بار ایسا ہی ہوگا ”
کریم اسکو جواب دیتا اس لاش کی طرف بڑھا تو وہ بھی رومال سے چاکو پر لگا خون صاف کرتا اس کمرے سے نکل گیا
اسکا ارادہ اپنے بیڈروم میں جاکر فریش ہونے کا تھا جب جب اسکی نظر لاؤنج میں عمارہ کے ساتھ بیٹھی مہرہ پر پڑی
اسکو دیکھتے ہی سکندر کی آنکھوں سے سرد پن یکدم سے غائب ہوا اور ایک الگ ہی چمک نے اپنی جگہ لی تھی
اور اب وہ ڈیوڈ سے سکندر بن چکا تھا
وہ بھاری قدم اٹھاتا انکی طرف بڑھا عمارہ جو بیٹھی مہرہ سے بات کر رہی تھی اسکو اپنی طرف آتا دیکھ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تو انکے اٹھنے پر مہرہ بھی کھڑی ہو گئی
‘” تم کہاں جا رہی ہو کیا میں نے تمھیں یہاں سے جانے کی اجازت دی ?
اسکو عمارہ کے پیچھے جاتا دیکھ اسکو بازو سے پکڑ کر سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
مہرہ بس اپنے لب چباتی رہ گئی تھی
اسکے ہاتھ میں موجود چاکو اسکے خوف میں اضافہ کر رہا تھا
” تم کیا ہو ..کیا کرتے ہو ?
جانے کیوں مہرہ بےساختہ بول اٹھی تھی اسکے دماغ میں چلتا یہ سوال اسکو پریشان کر رہا تھا
مہرہ کی بات سن کر سکندر اس بار کھل کر مسکرایا تھا اور وہ شاید پہلی بار اسکو ہنستے ہوئے دیکھ رہی تھی
کوئی ہنستے ہوئے اتنا دلکش لگ سکتا ہے یہ بس سوچ کر ہی رہ گئی تھی
‘” تمھیں کیا لگتا ہے کیا ہوں میں “
اپنی کالی آنکھیں اسکی براؤن آنکھوں میں ڈال کر سوال پوچھا گیا
اسکے بازو پر پکڑ ہنوز تھی
‘” مجھے …ت..تم …غن..”
وہ اپنا جملہ مکمل بھی نہیں کر پائی تھی جب وہ تیز دھار چاکو اسکے چہرے کے قریب لے آیا تھا
مہرہ وحشت زدہ نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی جسکے لب کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی مسکرا رہی تھی
‘” میں کیا کرتا ہوں کیا نہیں تمھیں اسکی فکر نہیں کرنی چاہئے بلکہ تمھیں اس وقت اپنی فکر کرنی چاہئے کیونکہ ”
وہ اس چاکو کی نوک اسکے لبوں کے پاس لاکر روک چکا تھا مہرہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکے اگلے عمل کے انتظار میں تھی
‘” مجھے اس وقت تمہارا سوال کرنا اتنا ہی برا لگ رہا ہے جتنا برا مجھے تمہارا یہ تل لگتا ہے ”
نوک اب اسکے نیچلے ہونٹ کے نیچے موجود تل پر آکر رکی اسکے ہلکے سے دباؤ سے یقیناً کٹ لگ سکتا تھا
‘”یہ غلط جگہ پر موجود ہے اسکی جگہ یہاں نہیں ہونی چاہئے تھی ”
اسکے لہجے میں ایک جلن سی تھی جیسے یہ تل ناگوار لگتا ہو اسکو
‘” پلیز مت کرو مجھے تکلیف ہو رہی ہے ”
اس چاکو کی نوک نے اپنا کام کر دیا تھا ہکلے سے کٹ اور جلن سے مہرہ کو تکلیف ہوئی تھی
خون کی ننھی بوند تبریز کی نظر میں تھی
‘” تو پھر آئندہ مجھ سے ایسے سوال مت کرنا جسکے جواب میں تمھیں صرف تکلیف ملے ”
لہجے میں وارننگ تھی
‘” کیا مجھے کوئی حق نہیں ہے سوال کرنے کا یہ میری زندگی ہے تم ایسے برباد نہیں کر سکتے ”
وہ کمزور سی آواز میں چیخی تھی اس شخص نے قید کرکے رکھ لیا تھا اسکو
صبر کیسے آتا برداشت کیسے کرتی
‘” تمہارا اب اپنی سانسوں پر بھی کوئی حق نہیں رہا یہ میرے نام ہو چکی ہیں سکندر خان کے
تمہارے ساتھ اب وہی ہوگا جو میں چاہوں گا وہی کروگی جو میں بولوں گا ”
وہ جنونی انداز میں بولا
‘” تم پر ”
” تمہاری روح پر ”
” تمہارے جسم پر صرف میرا حق ہے ”
وہ اپنے انگوٹھے کی مدد سے اسکے ہونٹ کے نیچے خون کی بوند کو صاف کرتا اسکے زخم پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
مہرہ جو اسکے لفظوں میں کہیں کھو سی گئی تھی سکندر کی اس حرکت پر اسکے جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا
گال الگ دھک اٹھے تھے
‘” چھوڑو مجھے آئندہ میرے قریب آنے کی کوشش بھی مت کرنا ”
وہ اپنی بےقابو ہوتی دھڑکنو کو سمبھالتی ایک جھٹکے میں اس سے دور ہوئی تھی
‘” نہیں ہے تمہارا کوئی حق یہ زبردستی کا رشتہ ہے گن پائنٹ کی نوک پر بنے رشتوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا ”
پتہ نہیں کہاں سے اس میں اتنی ہمت آئی تھی بولنے کی
سکندر جو اسکا غصّے سے لال چہرہ دیکھ رہا تھا اسکی آخری بات پر اسکی رگے تنی تھی ایک جھٹکے میں اسکو کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کیا تھا
” آج تو یہ بکواس کر لی اگر آئندہ تمہارے منہ سے یہ الفاظ نکلے تو ڈارلنگ ”
اس نے ایک ہاتھ سے اسکا جبڑا دبوچا تھا
”” تمہارے اس نازک سے جسم سے تمہاری روح نکالنے میں مجھے بلکل وقت نہیں لگے گا ”
اسکے لہجے میں اب پہلے والے جذبات کہیں نہ تھے
” It’s my Last warning so Be Careful..
قہر آلودہ نظروں سے اسکی طرف دیکھتا اسکو صوفہ پر ڈالتاو ہوا اپنے بیڈروم کی طرف بڑھا تھا مہرہ تو اسکے لہجے سے ہی خوفزدہ ہو گئی تھی
وہیں بیٹھی بس اسکی پشت کو دیکھتی رہی جتنا سوچتی تھی وہ اس سے بھی خطرناک تھا
🍁🍁🍁🍁
” یہ کیا کہہ رہے ہو تم زیان ایسا کیسے ممکن ہے ”
مشال اسکی بات پر بےیقینی سے زیان کی طرف دیکھ رہی تھی
‘” ممکن ہے مشال اسکے لئے کچھ بھی ممکن ہے میں جانتا ہوں مام ڈیڈ میں سے کوئی بھی میری بات کا یقین نہیں کرے گا کیونکہ اس وقت وہ لوگ مجھ سے ناراض ہیں ”
وہ بولتے بولتے یکدم سے رکا اور مشال کی طرف دیکھا جو اسی کو دیکھ رہی تھی
“‘ مگر مشال مجھے پورا یقین ہے تم میری بات ضرور سمجھو گی ”
وہ اپنی بات کہہ کر اسکے ہاتھ تھام چکا تو مشال نے اپنے ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کرا لئے تھے
تبریز یہاں نہیں تھا مگر اسکا ڈر مشال کے دل میں تھا جبھی تو وہ ہمیشہ اسکے ڈیوٹی جانے کے بعد ہی اس پورشن میں آتی تھی
‘” پر زیان تمھیں تو کڈنیپ کیا تھا کسی نے اس میں تبریز کا ہاتھ کیسے ?
وہ ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی
‘” کیوں نہیں ہو سکتا مشال بلکہ اس سب کے پیچھے تبریز کا ہی ہاتھ ہے
” تم خود ہی سوچو نکاح سے چند منٹ پہلے میرا کڈنیپ ہونا اور پھر تبریز کی اچانک آمد
تمھیں دنیا کی رسوائی سے بچانے کے لئے نکاح کرنا
”مشال وہ سب اس ایس پی کا پورا پورا پلان تھا
وہ ہم سب سے کھیل رہا تھا اور ہم انجان تھے اسکے کھیل سے ”
زیان بول رہا تھا مشال بس سانس روکے اسکو سن رہی تھی سب کچھ اتنا جلدی ہوا کہ اسکو اس سب کے بارے میں سوچنے کا موقع تک نہیں ملا
زیان کی باتوں نے اسے جیسے نیند سے جگایا تھا
زیان پیچھے دو دن سے اسی بارے میں سوچ رہا تھا کڑی سے کڑی جڑتی گئی اور جواب اسکے سامنے موجود تھا
ورنہ اسکا کڈنیپ ہونا اور پھر چھوڑ دینا اسکے لئے حیران کن تھا
‘” زیان تم بلکل ٹھیک کہہ رہے ہو ہمارا دھیان تو گیا ہی نہیں اس بارے میں کتنا بڑا دھوکا ہوا ہے ہمارے ساتھ ‘”
مشال کو اب تبریز کی دھمکی یاد آ رہی تھی جو وہ شادی سے پہلے اسکو دے چکا تھا
مطلب صاف تھا زیان کی کہی ھر بات سچی تھی
‘” مجھے معلوم تھا مشال تم میری بات ضرور سمجھو گی ورنہ مام ڈیڈ نے تو مجھ سے بات نہ کرنے کی قسم ہی کھائی ہوئی ہے ”
اسکا کام ہو چکا تھا مشال اسکی باتوں میں آ گئی تھی
وہ تبریز کی آنکھیں میں مشال کے لئے پسندیدگی بہت پہلے ہی دیکھ چکا تھا اور پھر شادی والے دن یہ سب ہونا اسکو بہت کچھ سمجھا گیا تھا
اس لئے اسکا اب صرف ایک ہی مقصد تھا مشال کو تبریز سے الگ کرنا
‘” تم فکر مت کرو زیان ہم بڑی امی اور بابا کو منانے میں تمہاری مدد کریں گے
لیکن ہمارا کیا زیان کتنا غلط ہوا ہے ہمارے ساتھ انہوں نے دھوکے سے شادی کی اور سب کی نظر میں اچھے بن گئے “
مشال کو رونا آ گیا تھا اتنی بڑی سچائی جان کر
تبریز اتنا بھی گر سکتا ہے اسکو بلکل اندازہ نہیں تھا کہ اپنے ہی بھائی کو کڈنیپ کروا لیا
‘” تو تم اسکو اچھا مت بننے دو طلاق لے لو ویسے بھی یہ شادی تمہاری مرضی کی نہیں تھی
کب تک اس شخص کے ساتھ رہو گی جو تمھیں بلکل پسند نہیں ”
وہ اپنی طرف سے نارمل انداز میں اسکی پرابلم کا سلیوشن دے رہا تھا جو اسکی نظر میں معمولی تھا
‘” زیان یہ تم کیا کہہ رہے ہو ہم کیسے ”
اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا بولے اس نے کبھی اس بارے میں نہیں سوچا تھا
‘” کیسے کیا بہت آسان ہے مشال
تم لڑو اس سے جاکر آخر اس ایس پی کو بھی تو پتہ چلے کہ تم سب سچ جان گئی ہو
اسکو دھمکی دو کہ وہ تمھیں آرام سے طلاق دے ورنہ تم اسکی کرتوت سبکے سامنے بتا دوگی ”
اس معملے میں زیان کا دماغ بہت ہی سپیڈ پر کام کرتا تھا
‘” ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو ہم لڑیں گے ان سے آخر وہ ہوتے کون ہیں ہماری زندگی سے کھیلنے والے
کس نے حق دیا انکو ”
مشال کو غصّہ آیا تھا اس بار
‘” اچھا مشال میں ابھی تم سے آکر بات کرتا ہوں میری امپورٹنٹ کال آ رہی ہے ”
اپنے موبائل پر کال آتے دیکھ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور لاؤنج سے باہر نکلتا چلا گیا تھا
‘” ارے مشال بیٹا تم کب آئی ?
ناز بیگم جو ابھی لاؤنج میں داخل ہوئی تھی صوفہ پر بیٹھی مشال کو دیکھ کر انکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا
مشال جو اپنی سوچوں میں گم تھی مسز ناز کی آواز پر انکی طرف موتجہ ہوئی
‘” ہم ابھی آئے تھے زیان مل گیا تو اس سے باتیں کرنے لگے میں آپکے پاس جانے کا سوچ ہی رہی تھی آپ یہیں آ گئی ”
انکی طرف دیکھتی وہ خوشدلی سے بولی
ایک گھر میں رہتے ہوئے انکی اب مشال سے کم ہی ملاقات ہوتی تھی
وجہ تبریز کا آرڈر
‘” یہ تو اچھا ہوا میں آج تمہارے پاس ہی آنا چاہ رہی تھی مگر تم آ گئی ”
وہ اسی کے ساتھ صوفہ پر آ بیٹھی
اور پھر کتنی ہی ہی دیر بیٹھی باتیں کرتی رہی مگر مشال کا دھیان انکی باتوں پر تھا ہی نہیں وہ یہ سوچ رہی تھی کہ اس کھڑوس سے بات کیسے کرے گی
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )
“”””””