53.5K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

وہ آج کافی دیر سے گھر واپس لوٹا تھا ویسے بھی وہ آج کل اپنے باپ کی ہر ایک حرکت پہ نظر رکھے ہوئے تھے
اسکو اتنا تو معلوم ہو گیا تھا کہ اسکا باپ مہرہ کے پیچھے ہے پر وہ اپنے کس پارٹنر سے اسکی ڈیل کرنا چاہتا تھا وہ ابھی تک جان نہیں پایا تھا
اگر وہ ڈیوڈ کو مل جاتا تو آج یقیناً وہ زندہ نہ ہوتا
گھر کی ساری لائٹس آف تھی مطلب آج بھی وہ اپنے کام کی وجہ سے دیر کر چکا تھا کل ہی تو اسکی اور مہرہ کی اس بات پہ بحس ہوئی تھی
‘” سکندر بیٹا تیار رہنا تمہاری ڈارلنگ آج بھی خراب موڈ میں ملے گی”
وہ خود سے کہتا اپنے بیڈروم میں داخل ہوا تھا نظروں کے سامنے مہرہ کا غصّے سے لال چہرہ گھوم گیا تھا
اس نے جیسے ہی روم میں قدم رکھا تو بیڈروم کی لائٹ آن دیکھ کر حیران بلکل نہیں ہوا تھا کیونکہ مہرہ اسکے آنے تک جاگتی رہتی تھی
پر جیسے ہی اسکی نظر ڈریسنگ کے پاس کھڑی مہرہ پہ پڑی تو وہ اپنی جگہ ٹھٹکا تھا
وہ اس وقت اسی نائٹی میں مبلوس تھی جو وہ اسکے لئے اس دن لیکر آیا تھا
گھٹنوں تک آتی اس بلیک کلر نائٹی میں اسکا حسن دہک رہا تھا سلیو لیس ہونے کی وجہ سے اس نے اوپر کا کوٹ پہنا ہوا تھا
‘” کیا بات ہے ڈارلنگ میں لوگوں کی جان لیتا ہوں آج میری جان لینے کا ارادہ ہے کیا تمہارا ”
وہ معنی خیزی سے اسکے ساراپے پہ نظریں جمائے دروازہ بند کرتا اسکی طرف بڑھا تھا
‘” تمہاری جان نہیں لینی …بس تمھیں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ مہرہ سکندر کی محبت میں اسکے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے”
وہ محبت سے اسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی تھی
آج اسکا یہ انداز سکندر کو بار بار ٹھٹھکنے پہ مجبور کر رہا تھا پہلے تو وہ اسکے دیر سے آنے پر ناراض نہیں تھی دوسرا اسکے لئے اسکی پسند کی ڈریس میں موجود تھی
‘” اگر مہرہ سکندر کی محبت میں اسکے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے تو سکندر اسکے لئے اپنی جان بھی دے سکتا ہے ”
وہ اسکو اپنی باہوں میں اٹھاتا سنجیدگی سے بولا
مہرہ کے لئے وہ اپنی تو کیا کسی کی جان بھی لے سکتا تھا
‘” اتنی محبت کرتے ھو مجھ سے ”
مہرہ جانتی تھی اسکا کہا ہر ایک لفظ سچا ہے مگر وہ پھر بھی اسکے منہ سے سننا چاہتی تھی
‘” اپنی محبت کا ثبوت تو میں تمھیں روز ہی دیتا ہوں کہو تو اب بھی دے دوں ”
وہ مہرہ کو نیچے اتارتا اسکو اپنے ساتھ لئے بیڈ پہ گرا تھا
‘” اگر آج میں کہوں کہ مجھے تمہاری اس محبت کا دوسرا ثبوت چاہئے تو کیا مجھے دو گے ”
وہ سکندر کے بالوں میں آہستہ سے ہاتھ چلاتی ہوئی بولی
اس وقت وہ دونوں بیڈ پہ اس انداز میں لیٹے ہوئے تھے کہ انکی ٹانگے بیڈ سے نیچے لٹک رہی تھی
مہرہ کے اس طرح سے کرنے پہ سکندر کو اپنے اندر ایک سکون سا اتارتا ہوا محسوس ہو رہا تھا جیسے ساری تھکن پل میں غائب ھو گئی ہو
‘” ہاں تم ایک بار بولو تو سہی تمہارے لئے سب کچھ کر سکتا ہوں ”
وہ اسکے ہاتھ کو اپنے بالوں سے ہٹا کر اپنے لبوں سے لگاتا ہوا بولا
‘” تم یہ سب کچھ چھوڑ دو سکندر میں ایک نارمل لائف جینا چاہتی ہوں تمہارے ساتھ ”
وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتی اسکی اوپر جھکی تھی لہجے میں ریکویسٹ تھی
‘” تم ایک نارمل ہی لائف جی رہی ہو مہرہ ”
اسکا لہجہ پل میں بدلا تھا جبکہ نظریں ہنوز اسکے چہرے پر تھی
‘” یہ نارمل لائف نہیں ہے سکندر …نارمل لائف میں کوئی ایسے ڈر کر نہیں رہتا …کیا تم میرے لئے ..ہمارے بچے کے لئے یہ سب نہیں چھوڑ سکتے ”
مہرہ کو لگ رہا تھا کہ شاید تھوڑا پیار سے وہ اسکی بات سمجھ جائے گا اس لئے آج اسنے اپنی بات منوانے کا یہ طریقہ تلاش کیا تھا
جبکہ اسکی بات سن کر سکندر اسے خود سے دور کرتا بیڈ سے اٹھا تھا
‘”میں یہ سب کچھ نہیں چھوڑ سکتا مہرہ اور میرے ہوتے ہوئے تمھیں کیا ڈر ہے …
کوئی تمھیں ہاتھ تو لگا کر دیکھے اسکے جسم سے وہ ہاتھ ہی کاٹ کر الگ کر دوں گا ”
وہ ماتھے پہ بل ڈالے اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا یہ لڑکی اسکی موڈ کو پوری طرح سے خراب کر چکی تھی
‘” مجھے اپنا ڈر نہیں ہے تمہارا لئے ڈر لگتا ہے …ہر پل بس یہ سوچ کر ڈر لگتا ہے کہ کہیں آج تمھیں کسی کی گولی نہ لگ جائے ..یا کوئی تمھیں چوٹ نا پہنچا دے …میں روز اسی ڈر میں نہیں جینا چاہتی اس لئے پلیز چھوڑ دو یہ سب ”
وہ بیڈ سے کھڑی ہوتی اسکے مقابل آ کھڑی ہوئی
اب آنکھیں آنسو سے بھر چکی تھی جو سکندر کا غصّہ مزید بڑھا رہی تھی
‘” میں نے کہہ دیا نہ مہرہ یہ سب چھوڑنا میرے لئے ناممکن ہے اب ..اور رہی بات تمہارے ڈر کی تو عادت ڈال لو ..لیکن ڈرنے سے پہلے اتنا یاد رکھنا کہ سکندر کو نقصان پہنچانا اتنا آسان نہیں ہے ”
اس نے جیسے بات ہی ختم کی تھی
‘” ٹھیک ہے میں عادت ڈال لوں گی ..مر مر کے جی لونگی ..مگر اپنی اولاد کے بارے میں سوچا ہے تم نے ..جب وہ بڑا ہوگا تو میں اسکو کیا بولوں گی کہ اسکا باپ کیا کرتا ہے..بتاؤ ہے جواب تمہارے پاس ”
آج وہ مضبوط بنی ہوئی تھی اتنی آسانی سے اپنی بات کو رد نہیں ہونے دینا چاہتی تھی
‘” ایسی بکواس باتیں تمہارے دماغ میں آ کہاں سے رہی ہیں..جب کہہ چکا ہوں کہ یہ ناممکن ہے تو ایک بار میں بات سمجھ نہیں آتی تمہارے ”
وہ جتنا اس پر غصّہ کم کرنا چاہتا تھا وہ آج اتنا ہی غصّہ دلا رہی تھی
اگر وہ کچھ اور بھی مانگتی تو ضرور کر دیتا مگر یہ اسکے لئے ناممکن تھا
‘” ٹھیک ہے جب تم یہ سب نہیں چھوڑ سکتے تو مجھے چھوڑ دو ”
وہ بےدردی سے اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی
جبکہ اسکی بات پر سکندر نے مشکل سے خود پہ ضبط کیا تھا ‘” تم میری وہ عادت ہو مہرہ جسے میں مر کے بھی نہیں چھوڑ سکتا ..اگر مجھے چھوڑ کر جانا چاہتی ہو تو پہلے مجھے ختم کرنا پھر تم اپنی نارمل لائف گزار سکتی ہو ”
وہ سرخ آنکھیں لئے اسکو دیکھ رہا تھا جبکہ اسکے الفاظ سن کر مہرہ گنگ سی کھڑی رہ گئی تھی
‘” تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے ”
وہ آس بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی
‘” ہاں ”
اس نے جیسے ایک لفظ پہ بات ختم کی تھی اسکا جواب سن کر مہرہ کو اب اپنے آنسو پہ ضبط کرنا مشکل ہو گیا تھا وہ تیزی سے واشروم میں جا گھسی جبکہ سکندر نے زور سے سائیڈ ٹیبل پہ لات ماری تھی ..
🍁🍁🍁🍁
‘” بابا یہ تو بہت ہی خوشی کی بات ہے اس سے مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے ”
وہ اپنے جگہ سے اٹھ کر توفیق صاحب کے سینے سے لگتی ہوئی پرجوش انداز میں بولی
ایسا تو وہ ہمیشہ سے سوچی تھی کہ اسکے بابا اکیلے زندگی نہ گزارے انکے پاس بھی کوئی ہو انکا خیال رکھنے والی
دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور ایک دوسرے کا خیال رکھے
‘” اور بیٹا تمھیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے نہ …کیونکہ عمارہ تمہارے لئے بلکل ماں کی طرح ہے اس حساب سے تمہارا جواب میرے لئے بہت ضروری ہے ”
اس بار وہ اپنے سامنے سنگل صوفہ پہ بیٹھے سکندر سے مخاطب ہوئے
اگر عمارہ کا کوئی اپنا کوئی خاص اس دنیا میں تھا تو وہ سکندر ہی تھا اس لئے وہ انکے لئے کوئی بھی فیصلہ لینے کا حق رکھتا تھا
اور عمارہ کو بھی اسکے کوئی بھی فیصلے سے اعتراض نہیں تھا
‘” میں انکار کرنے والا کون ہوتا ہوں …اگر آپ عمارہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں تو یہ تو بہت اچھی بات ہے ..ویسے بھی عمارہ نے اپنی ساری زندگی میرے لئے قربان کر دی اب انکو خوشیاں دینا انکی خوشی کا خیال رکھنا میرا فرض ہے ”
اسکے لہجے میں ہمیشہ کی طرح عمارہ کے لئے محبت تھی عزت تھی جسکی وہ حقدار بھی تھی
بغیر کسی لالچ کسی فائدے کے انہوں نے سکندر کو پالا تھا
اگر وہ انکے لئے اپنی جان بھی دے دیتا تو کم تھا
اسکا جواب سن کر جہاں توفیق صاحب مطمئن ہوئے تھے وہیں مہرہ نے نظر اٹھا کر اس دشمن جان کو دیکھا
آج دو دن ہو گئے تھے انکی لڑائی ہوئے اور اس دوران انکی بات چیت بلکل بند تھی
نہ مہرہ اپنی ضد چھوڑنے کو تیار تھی اور نہ ہی سکندر اپنا فیصلہ بدلنے کے لئے
دونوں کے بیچ خاموشی کی دیوار کھڑی ہو چکی تھی جسے سکندر نے کئی بار توڑنے کی کوشش کی مگر مہرہ اسکی سننے کو تیار نہ تھی
‘” تم دونوں نہیں جانتے تمہارے جواب سن کر مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے …ورنہ مجھے لگ رہا تھا کہ اس عمر میں شادی کرنے پہ تم دونوں انکار کر دوگے مگر ایسا نہیں ہوا …میں بہت خوش ہوں ”
اس وقت توفیق صاحب کے چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی پہلی بار انکی زندگی میں وہ ہو رہا تھا جیسا انہوں نے چاہا تھا
‘” آج تو میں بھی بہت خوش ہوں آخر میرے دو عزیز کو انکی خوشی جو مل ملنے والی ہے ..بےصبری سے انتظار ہے مجھے تم دونوں کے نکاح کا ”
مسز ناز اپنے ساتھ عمارہ کو لئے لاؤنج میں داخل ہوئی تھی جبکہ عمارہ کو شرم محسوس ہو رہی تھی ان سب کے سامنے آتے ہوئے
آج صبح توفیق صاحب کے کہنے پہ سکندر مسز ناز کو اپنے ساتھ گھر لیکر آیا تھا کیونکہ وہ انکے سامنے ہی یہ بات کرنا چاہتے تھے
سکندر ویسے بھی تبریز سے ملنے کا ارادہ رکھتا تھا کیونکہ اسکو تیمور خان کے متعلق کچھ بات کرنی تھی
مگر اسکی تبریز سے ملاقات نہیں ہو پائی تھی
یہاں آکر مسز ناز توفیق صاحب سے مل کر کتنی ہی دیر اپنی خوشی کا اظھار کرتی رہی
انکو دیکھ کر بار بار آنکھیں بھی نم ہو رہی تھی کتنے سالوں بعد آج وہ ایک ساتھ عمارہ اور توفیق صاحب سے مل رہی تھی
‘” آپ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آنٹی ..اب تو مجھ سے بھی صبر نہیں ہو رہا کتنا مزا آئے گا …مجھے امی جو ملنے والی ہیں ”
مہرہ توفیق صاحب کے پاس سے اٹھ کر ان دونوں کے پاس آتے ہوئے بولی
جبکہ اسکی بات سن کر مسز ناز نے اسے خفگی سے دیکھا
‘” تمھیں کتنی بار ییاد دلانا ہوگا مجھے کہ میں اب تمہاری آنٹی نہیں رہی تم مجھے امی بولا کرو ”
انہوں نے مہرہ کو اپنا کہا جملہ یاد کروایا تھا تو وہ مسکراتی ہوئی انکے گلے سے لگ گئی تھی
‘” سوری امی آئندہ نہیں بھولو گی …یہ آخری بار تھا ”
وہ محبت سے باری باری انکے رخسار چومتی ہوئی بولی سکندر کی نظریں بس اسی پہ جمی ہوئی تھی جو اسکی موجودگی کو بلکل نظرانداز کئے ہوئے تھی
‘” میں سوچ رہا ہوں نکاح اس سنڈے کو رکھ لیتے ہیں ..آپ لوگوں کا کیا خیال ہے اس بارے میں ”
اس بار سکندر سب سے مخاطب ہوا مگر نظریں مہرہ کے چہرے پہ ہی تھی
‘” سنڈے مطلب آج سے تین دن بعد …ہاں ٹھیک ہے تبریز کو میں پہلے ہی بول دوں گی تاکہ وہ بھی شامل ہو جائے ”
یہ جواب مسز ناز کی طرف سے آیا تھا
وہ چاہتی تھی اس نکاح میں انکی پوری فیملی شامل ہو
‘” پھر ٹھیک ہے پھر آپ لوگوں باتیں کریں مجھے کچھ کام ہے …آپکو جب جانا ہو مجھے کال کرکے بلا لیجئے گا ”
سکندر اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا مسز ناز سے مخاطب ہوا کیونکہ اسکا کام اب یہاں ختم ہو گیا تھا دوسرا مہرہ کی بےرخی اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی
‘” ٹھیک ہے بیٹا تم جاؤ ”
انہوں مسکرا کر سکندر کو جواب دیا تو وہ ایک نظر مہرہ پہ ڈالتا تیزی سے وہاں سے نکل گیا
جبکہ مہرہ کھڑی اسکی پشت کو دیکھتی رہی
وہ سکندر کو اس طرح ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی مگر یہ سب کرنا بھی بہت ضروری تھا کیونکہ یہ اسکے بچے کے مستقبل کا سوال تھا
اور اسکو لگ رہا تھا شاید اسکے ناراض اور دور رہنے سے سکندر اسکی بات ماننے پہ مجبور ہو جائے
🍁🍁🍁🍁
‘” ہائے …سچی میں تبریز ہمیں تو بہت خوشی ہو رہی ہے کتنا مزا آئے گا نہ ”
مشال پرجوش انداز میں بولتی اس سے مخاطب ہوئی جو اپنے موبائل میں بیٹھا کچھ چیک کر رہا تھا
‘” ہاں مزا تو بہت آئے گا جب وہ تمھیں پریشان کریں گے تب تمہاری شکل دیکھنے والی ہوا کرے گی ”
وہ اپنا موبائل سائیڈ ٹیبل پہ رکھتا مکمل اسکی طرف موتجہ ہوا تھا
‘” آپ کس کی بات کر رہے ہیں …کون پریشان کریگا ہمیں”
مشال ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی جو اب اپنا تکیہ صحیح کرتا بیڈ پر لیٹ چکا تھا
‘” میں ہمارے بچوں کی بات کر رہا ہوں ..انکے علاوہ تمھیں اور کون پریشان کر سکتا ہے مجھے تو تم موقع نہیں دیتی ہو ”
اس نے مشال کی کمر کے گرد بازو حائل کر کے اسے ہلکا سا جھٹکا دیا تھا
مشال جو اسی کی طرف رکھ کئے ہوئے بیٹھی تھی تبریز کے کھینچنے پر سیدھا اسکے سینے پر آ گری تھی
‘” آپ خود کیا کسی بچے سے کم ہیں ہر وقت ہمیں بس پریشان کرتے رہتے ہیں …اور آپکو تو کسی موقے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ”
وہ تھوڑا خفگی سے بولتی تبریز کو مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی
‘”جب ہمارا بےبی آ جائے گا تو میں پرومس کرتا ہوں تمھیں پریشان کرنا کم کر دونگا ”
وہ اسکے شرم سے سرخ ہوتے لال چہرے کو دیکھتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اس پہ اپنی پکڑ مضبوط کی تھی
‘” ٹھیک ہے تب کی تب دیکھنے گے لیکن ہم اس وقت اپنی نہیں کسی اور کی بات کر رہے تھے ”
اسکی سخت ہوتی گرفت سے گھبرا کر مشال نے فورا بات بدلی تھی
مقصد صرف اسکا دھیان خود پر سے ہٹانا تھا
“‘ پر میں تو اپنی ہی بات کر رہا تھا ”
وہ اب اسکو بیڈ پر لٹا کر خود اس پہ جھکاتا ہوا بولا
لہجے میں واضح شرارت تھی
‘” تبریز …پلیز سنے نہ ہماری بات ”
وہ بچارگی سے بولی جو اسکی بات کو سیریسلی نہیں لے رہا تھا
‘” ہاں جاناں سن تو رہا ہوں ..بلکہ تمہارے علاوہ کچھ اور سنائی بھی نہیں دیتا مجھے ”
وہ اسکی آنکھیں پہ اپنے لب رکھتا ہوا گھمبیر لہجے میں بولا
اسکے لہجے کی تپیش اور لمس اسکی سانسوں کی گرماہٹ سے مشال پزل سی ہونے لگی تھی
‘” وہ ہم نہ توفیق انکل کی بات کر رہے تھے …انکا نکاح ہے کتنا مزا آئے گا نہ مہرہ کی زندگی میں اب امی کی کمی بھی دور ہو جائے گے ”
وہ ایک سانس میں بولتی چلی گئی تھی
جب ان سب کو معلوم ہوا مہرہ توفیق کی سگی بیٹی نہیں تھی تب سب حیران ہوئے تھے ساتھ ہی مہرہ کے لئے ہمدردی بھی محسوس ہوئی تھی
‘” ہاں یہ تو بہت اچھی بات ہے …اب عمارہ اور توفیق کا بھی خوشیوں پہ حق ہے ”
اسکو مشال کی بات اچھی لگی تھی
‘” تبریز ہمیں آپ سے پوچھنا تھا کہ کیا ہم کل بڑی امی کے ساتھ شاپنگ کے لئے چلے جائے …وہ عمارہ کے لئے خود شاپنگ کرنا چاہتی ہیں ”
وہ اسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی جو اسکے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے لبوں سے چھو رہا تھا
‘” ٹھیک ہے چلی جانا لیکن تمہارے ساتھ علی بھی جائے گا”
وہ اسکے بالوں سے آتی خوشبو کو اپنے اندر اتارتا ہوا بولا مشال بس لیٹی ہوئی اسکے ہر ایک عمل کو غور سے دیکھ رہی تھی
وہ اسے کوئی دیوانہ ہی تو لگ رہا تھا
اور تھا دیوانہ مشال کا دیوانہ جسکی محبت میں شدّت تھی جنون تھا
‘” علی بھائی کیوں جائے گے ہمارے ساتھ ”
مشال کو عجیب لگا تھا کیونکہ آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا
‘” تم دونوں کی سیفٹی کے لئے ..معلوم تو ہے تمھیں سب کچھ میں تم دونوں کو لیکر کوئی رسک نہیں لے سکتا ”
وہ اسکی سانس کی نلی کو سہلاتا ہوا بولا
وہ چاہتا تو انہیں جانے سے منع کر دیتا مگر اس سے مشال کو برا لگتا اس لئے اس نے علی کو انکے ساتھ بھیجنے کے بارے میں سوچا اس سے وہ تھوڑا مطمئن بھی رہتا اگر اسکی کل میٹنگ نہ ہوتی تو وہ خود انہیں شاپنگ پہ لیکر جاتا
دوسری طرف مشال خوش ہو رہی تھی کہ وہ مکمل اسکا دھیان خود پہ سے ہٹا چکی تھی
‘”تبریز ہم سوچ رہے تھے کہ اپنے لئے بھی کچھ شاپنگ کر لیں ..آپکا کیا خیال ہے اس بارے میں ”
اپنی گردن پہ دہکتا ہوا لمس محسوس کر کے مشال مزید بولی
‘” مرضی ہے تمہاری ..جو پسند آئے لے لینا ”
وہ نرمی سے اسکا رخسار سہلاتا اسکے چہرے پہ جھکا تھا
‘” اگر آپکو پہلے کی طرح ہماری لائی ہوئی ڈریس پسند نہیں آئی تو …”
اسکو اپنے لبوں پہ جھکتا دیکھ مشال اسکے ہونٹوں پہ اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی بولی تھی
‘” مشال ..اب بہت ہو گیا …اب بس تم خاموش ہو جاؤ ورنہ مجھے غصّہ آ جائے گا ویسے بھی تم بہت دیر سے تم میرا موڈ خراب کرنے میں لگی ہوئی ہو ”
اسکی چال سمجھ کر تبریز تھوڑا سختی سے بولا اور اسکا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے ہٹا کر اسکے ہاتھ کو اپنی قید میں لے چکا تھا
‘” آپ ہم پہ غصّہ کر رہے ہیں ”
وہ تھوڑا خفا ہوئی تھی اسکے لہجے سے
‘” نہیں جان تبریز …غصّہ نہیں پیار کر رہا ہوں …اگر اس بار مجھے روکا تو غصّہ بھی کروں گا ”
وہ اسکی پیشانی پہ اپنے لب رکھتا ہوا بولا تو مشال اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی
اسے معلوم تھا وہ تبریز کی محبت کی شدت تو برداشت کر سکتی تھی مگر تبریز کا غصّہ اسکے لئے برداشت کرنا مشکل تھا اس لئے مشال نے خاموش رہنے میں ہی اپنی بہتری سمجھی تھی ..
🍁🍁🍁🍁
پتہ ہے بڑی امی آج پہلی بار ہمیں شاپنگ کرتے ہوئے بہت اچھا لگ رہا تھا …ایک الگ سی خوشی ہو رہی ہے جو ہم بیان نہیں کر سکتے ”
مشال مسز ناز کے برابر بیٹھی ہوئی ان سے مخاطب ہوئی تھی یہ اسکا چہرہ ہی بتا رہا تھا کہ وہ آج کتنی خوش تھی
‘” ہاں میں خوب سمجھتی ہوں تمہاری خوشی ..آج مہرہ تمہارے ساتھ شاپنگ کے لئے آئی ہے نہ اس لئے تمھیں خوشی ہو رہی ..ورنہ میرے ساتھ تو کبھی تم نے اس طرح سے خوشی کا اظھار نہیں کیا ”
وہ ایک نظر اسکے مسکراتے چہرے کو دیکھتی ہوئی مہرہ کی طرف دیکھ کر بولی
مسز ناز اسکی خوشی کو اچھے سے سمجھ سکتی تھی آج اسکے ساتھ اسکی دوست جو موجود تھی ہر شاید ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ مہرہ کے ساتھ شاپنگ کے لئے آئی تھی اس لئے اسکا اتنا خوش ہونا جائز تھا
‘” ارے نہیں بڑی امی ایسی بات نہیں ہے ..اس دن بس ہمارا موڈ نہیں تھا شاپنگ کے لئے اس لئے بس …”
اسکو کچھ دن پہلے کا واقع یاد آیا جب وہ مسز ناز کے ساتھ شاپنگ پہ آئی تھی اس دن واقعی اسکا موڈ سخت خراب تھا
‘” میں تو مذاق کر رہی ہوں میری جان ..ویسے مہرہ تم نے سکندر سے تو پوچھ لیا تھا نہ ہمارے ساتھ آنے کے بارے میں”
مسز ناز مشال کو جواب دیتی اب خاموشی سے چلتی مہرہ سے مخاطب ہوئی
اس وقت وہ تینوں مال میں موجود تھی مسز ناز عمارہ کے لئے شاپنگ کرنے آئی تھی جب انہوں نے مہرہ کو بتایا تو اس نے انکے ساتھ آنے کو بولا تو وہ اسکو انکار نہیں کر سکی مگر اب انہیں سکندر کا خیال آیا تھا
لیکن علی انکے ساتھ تھا اس لئے انہیں تھوڑا اطمینان بھی تھا
‘” جی امی میں نے ان سے پوچھ لیا تھا ”
اس نے فورا جھوٹ بولا اب وہ انہیں اپنی ناراضگی کے بارے میں بھی نہیں بتا سکتی تھی
مہرہ کا جواب سن کر وہ کچھ مطمئن ہوئی تھی
‘” شاپنگ کرنے کے بعد ہمیں ڈاکٹر کے پاس بھی جانا ہے مشال تمھیں یاد ہے نہ ”
اس بار وہ مشال سے مخاطب ہوئی جو اپنے لئے ڈریس پسند کر رہی تھی
‘” ڈاکٹر کے پاس کیوں جانا ہے امی ..آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ”
انکے منہ سے ڈاکٹر کا سن کر مہرہ پریشانی سے بولی جبکہ مشال کا چہرہ شرم سے لال ہوا تھا
‘” میں تو ٹھیک ہوں بیٹا ..فکر کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ خوش ہونے والی بات ہے …تم خالہ ..اور تائی بننے والی ہو بس مشال کا چیک اپ کرانے کے لئے ہم ڈاکٹر کے پاس جائے گے ”
انکی بات سن کر مہرہ کا چہرہ یکدم خوشی سے کھل اٹھا تھا وہ اپنے ہاتھ میں موجود ڈریس ایک طرف رکھتی مشال کے قریب آئی تھی
‘” ارے واہ یار یہ تو تم نے بہت اچھی خبر سنائی ہے ..ماشاءاللہ سے ایک ساتھ کتنی ساری خوشیاں مل رہی ہیں”
مہرہ پرجوش انداز میں بولی تو مسز ناز نے دل ہی دل میں ان دونوں کی نظر اتاری تھی
‘” ہم نے سب کام ساتھ کئے ہیں مہرہ…سٹدے ..شادی ..تو ہم نہ سوچا جب تم ہمیں خالہ بنانے والی ہو تو ہم کیوں پیچھے رہیں ”
اسکا لہجہ شرارتی تھا جو ان دونوں کو ہنسنے پہ مجبور کر گیا
ابھی تو اسکو ی خبر تبریز کو بھی سنانی تھی جو اس خبر کے لئے بےتاب ہو رہا تھا
اسکے چہرے کے تاثرات کا سوچ کر ہی مشال کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
‘” اچھا باقی باتیں ہم بعد میں کریں گے پہلے شاپنگ کر لیتے ہیں …مہرہ تم جاؤ یہ ڈریس ٹرائ کرو تم پہ بہت اچھی لگے گی ”
مسز ناز نے اس خوبصورت سا سوٹ مہرہ کی طرف بڑھایا تو وہ مسکراتی ہوئی انکے ہاتھ سے وہ سوٹ لیکر چینجنگ روم کی طرف بڑھی تھی
وہاں کا چینجنگ روم ان سے کافی فاصلے پہ تھا اس لئے وہ دونوں اب اسکو نظر آنا بند ہو گئی تھی اس شاپ پہ رش بھی نہیں تھا
روم کے پاس آتے ہی اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو اس روم میں کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی
‘” زیان تم یہاں ”
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی زیان تیزی سے آگے بڑھا اور اسکے منہ پہ رومال رکھ کر پل میں بیہوش کر چکا تھا
‘” مشال بیٹا ذرا دیکھ کر آنا یہ مہرہ کو اتنی دیر کیوں ہو گئی
ہے اتنا وقت تو نہیں لگتا ٹرائ کرنے میں ”’
جب وہ بہت دیر تک واپس نہیں آئی تو مسز ناز کو اسکی فکر ہوئی تھی
‘” ٹھیک ہے بڑی امی آپ یہیں رکے ہم ابھی دیکھ کر آتے ہیں ”
انکی بات سن کر مشال ابھی آگے ہی بڑھی تھی کہ یکدم سے شاپ میں کچھ نقاب پوش گ داخل ہوئے تھے انکے ہاتھ میں گنز تھی
‘” چھوڑو مجھے کہاں لیکر جا رہے ہو ..کون ہو تم لوگ ”
مسز ناز چیخی تھی ان لوگوں کے ہاتھ میں گن دیکھ کر کسی میں بھی ہمّت نہیں تھی آگے بڑھنے کی
‘” چھوڑو میری بڑی امی کو کہاں لیکر جا رہے ہو ”
مسز ناز کی آواز پہ مشال تیزی سے انکی طرف پلٹی تھی اس شاپ کا ماحول یکدم سے بدل گیا تھا
مگر وہ لوگ سبکی پرواہ کئے بغیر مسز ناز کو باہر کہینچتے ہوئے لے گئے
کوئی انکی مدد کے لئے آگے نہیں بڑھا سبکو اپنی جان کی پکڑ تھی
مشال انکے پیچھے ہی باہر آئی مگر وہ مسز کو کڈنیپ کرکے لے جا چکے تھے
اسے ایکدم سے علی کا خیال آیا تو جیسے ہی واپسی کے لئے پلٹی مگر علی کو وہیں زمین پہ پڑا دیکھ کر اسکی چیخ نکلی تھی
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )