125.4K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

” صبح اسکی آنکھ اپنے چہرے پر کسی نرم ملائم چیز کو محسوس کرکے کھلی تھی
مگر اگلے ہی لمحے اسکی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئی جب اس نے مشال کو اپنے اتنے قریب سوتے دیکھا اسکا ہاتھ تبریز کے رخسار پر رکھا ہوا تھا جس وجہ سے اسکی آنکھ کھلی تھی
وہ مسکراتی نظروں سے اسکی بند آنکھوں کو دیکھنے لگا کون کہہ سکتا تھا یہ سوتی ہوئی معصوم سی لگنے والی لڑکی ہر وقت اسکے سامنے جنگلی بلّی بنی رہتی ہے
‘” میری جنگلی بلّی ”
وہ مسکراتے ہوئے اس پر جھکا اور اپنے ہونٹوں کا لمس اسکی پیشانی پر چھوڑا پھر سے اسکے چہرے کو تکنے لگا
دل مزید گھستاخی کرنے پر اکسا رہا تھا
اور تبریز اپنے دل کی بات کو کبھی رد نہیں کرتا اس بار وہ اسکے کٹاؤ دار گلابی لبوں پر جھکنے ہی لگا تھا جب اسکی نظر وال کلاک پر پڑی
‘” اوہ شٹ میں لیٹ ہو گیا ”
گھڑی میں ٹائم دیکھ دیکھتے ہی وہ ایکدم سے سیدھا ہو بیٹھا تھا
آج اسکی ڈی ایس پی کے ساتھ میٹنگ تھی جو آٹھ بجے تھی اب سات بج رہے تھے مطلب اسکے پاس صرف ایک گھنٹا تھا
‘” مشال جلدی اٹھو ناشتہ تیار کرو آج مجھے جلدی جانا ہے اٹھو جلدی ”
وہ سوتی ہوئی مشال کا بازو جھنجھوڑتا ہوا بیڈ سے اٹھا
‘” کیا ہوا ایسے کیوں اٹھایا ہمیں ”
اسکے اتنی بری طرح سے اٹھانے پر مشال ہڑبڑا کر یکدم سے اٹھی اور تبریز کی طرف دیکھا
‘” ناشتہ تیار کرو میرے لئے میں میٹنگ کے لئے لیٹ ہو رہا ہوں ”
وہ اپنی بات کہتا واشروم میں جا غصّہ جبکہ مشال کو اسکی بات سن کر غصّہ تو بہت آیا تھا گھڑی کی طرف دیکھ جو ابھی سات بجا رہی تھی
‘” اس پولیس والے نے تو نیند بھی حرام کر دی ہے ہماری سکون سے سونے بھی نہیں دیتے میں بھی نہیں بناؤ گی خالی پیٹ ہی جائے آج ڈیوٹی ”
وہ غصّے میں بڑبڑاتی پھر سے کمفرٹر اوڑھ کر لیٹ چکی تھی اور آنکھیں بند کرلی کیونکہ اسکی نیند ابھی پوری نہیں ہوئی
‘” مشال یہاں ٹاول نہیں ہے ٹاول دو مجھے ”
ابھی اسکو لیٹے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ واشروم سے آتی تبریز کی تیز آواز نے اسکی نیند میں خلل پیدا کیا تھا
مگر وہ ان سنی کئے لیٹی رہی
‘” مشال تمھیں سنائی نہیں دے رہا ٹاول دو مجھے ”
تبریز جلدی میں اپنے کپڑے تو لے جانا بھول ہی گیا تھا اور اتفاق سے آج واشروم میں ٹاول بھی موجود نہیں تھا
اور اسکو اتنا بھی یقین تھا کہ وہ ابھی بھی روم میں ہی ہوگی اتنی جلدی اٹھنے والوں میں سے نہیں تھی
اسکی دوسری آواز پر مشال ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھی تھی لیکن اس بار اسکے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ تھی
‘” اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے چل بھائی مشال مزا چخاتے ہیں آج ایس پی صاحب کو ”
وہ وارڈراب سے ٹاول نکلتی خود سے مخاطب تھی ہونٹ مسکرا رہے تھے
یہ پہلا موقع تھا جب تبریز اسکے سامنے بےبس تھا
‘” ٹاول تو آپکو مل جائے گا لیکن اس سے پہلے آپکو ہماری کچھ باتیں ماننی ہونگی ”
آج اس نے حساب برابر کرنے کا سوچا تھا
” کیسی باتیں جلدی بولو مجھے دیر ہو رہی ہے ”
وہ اسکی رگ رگ سے واقف تھا اسلئے بحث بےکار تھی
” پہلے آپ ہم سے ان تمام باتوں کے لئے معافی مانگے جو آپ ہمارے ساتھ کر چکے ہیں ..
”ہمیں ہرٹ کیا ”
” تھپڑ مارا ”
وہ اسکی غلطیاں یاد دلا رہی تھی
” ٹھیک ہے میں سوری کرتا ہوں لاؤ اب ٹاول دو ”
اس نے دروازے سے اپنا چہرہ نکال کر ساتھ ہی اپنا ہاتھ بھی باہر نکالا تھا
‘” نہیں اتنی بھی کیا جلدی ہے پہلے آپکو ہمیں یونی جانے کی اجازت دینی ہوگی ”
ایک اور بات رکھی گئی
‘” ٹھیک ہے چلی جانا بلکہ آج سے ہی جانا شروع کر دو اب تو دے دو ”
اسکو واقعی میں جلدی تھی مشال کو احساس ہوا تھا اس بات کا ورنہ وہ اسکی باتیں اتنی جلدی ماننے والوں میں سے نہیں تھا
‘” بس ایک آخری رہ گیا ہے آپ آئندہ ہم پر کوئی پابندی نہیں رکھیں گے ہم کہیں بھی جایں کسی سے بھی ملے ”
اسکو غصّہ دلانے والی بات تو اس نے اب کہی تھی ورنہ وہ اس سے نارملی بھی ان سب کے لئے کہتی تو وہ مان جاتا اور معافی بھی مانگ لیتا
‘” مشال اب چپ چاپ مجھے ٹاول دے دو ورنہ باہر آکر تمہارا وہ حال کروں گا کہ تم یاد رکھو گی ”
وہ سخت نظروں سے گھورتا ہوا بولا تو مشال نے گھبرا کے اسکو ٹاول دے دیا اس شخص کا کچھ بھروسہ نہیں تھا کیا پتہ ایسے ہی باہر آ جاتا
وہ اسکو ٹاول دیکر جلدی سے بیڈروم سے باہر نکلنے لگی تھی جب تبریز تیزی سے باہر آیا اور اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسکے قدموں کو روک چکا تھا
‘” اب بولو کیا کہہ رہی تھی کس سے ملنے کی اجازت چاہئے تھی تمھیں ”
وہ اسکے پیٹ پر اپنی پکڑ سخت کرتا ہوا بولا تو مشال اپنا سانس رکتا ہوا محسوس کر رہی تھی
” نہیں ہم تو بس ایسے ہی کہہ رہے تھے ہمارا مطلب وہ ”’
اپنے کان کی لؤ پر اسکے ہونٹوں کا نرم گرم لمس محسوس کر کے اسکے زبان یکدم سے بند ہوئی تھی
‘” اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمھیں ھر بات کے لئے اجازت دوں تم پر کوئی پابندی نہ لگاؤ تو مجھ سے بھی کوئی امید مت رکھنا پھر میں وہیں کروں گا جو میرا دل چاہے گا
” اور تمھیں انداز ہے اس بات کا میرا دل تم سے کیا چاہتا ہے”
وہ اب اسکے کندھے پر اپنے لب رکھتا اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کر چکا تھا
‘” نہیں …ہمیں کوئی اجازت نہیں چاہیے ہم ایسے ہی ٹھیک ہیں ”
اسکی باتوں کا مطلب سمجھ کر مشال تیزی سے واشروم میں بھاگی تھی
اور اسکے یوں گھبرانے پر تبریز دلکشی سے مسکرا دیا تھا
” میری جنگلی بلّی ”
وہ وارڈراب کی طرف بڑھتا اپنی یونیفارم نکلتا ہوا بڑبڑایا
🍁🍁🍁🍁
اپنے بولوں کو پونی میں قید کرنے کے بعد اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی لائٹ پنک کلر کی لپ سٹک کو اپنے لبوں پر لگائی اسے کبھی ان چیزوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی مگر آج اپنے ہونٹ پر نشان کو چھپانے کے لئے اسکو ضرورت محسوس ہوئی تھی
‘” اور کتنا وقت لگےگا تمھیں تیار ہونے میں مجھے اپنے ضروری کام کے لئے بھی جانا ہے ”
سکندر غصّے سے بولتا کمرے میں داخل ہوا مگر مہرہ پر نظر پڑتے ہی اپنی جگہ جم سا گیا تھا
فل بلیک کلر کے سوٹ اور ریڈ کلر کا دوپٹہ جو اسکے کندھے پر ایک سائیڈ پر پڑا ہوا تھا
وہ اسکو ہر دن سے بھی زیادہ حسین لگی تھی
جبکہ اسکی بات سن کر مہرہ تھوڑی پریشان ہوئی تھی کیونکہ کل اسکو کریم ہی یونی لیکر گیا اور واپس بھی وہی لیکر آیا تھا مگر آج اسکے ساتھ جانے کا سوچ کر وہ تھوڑا گھبرائی تھی کچھ اسکی کل والی حرکت سے بھی اسکا سامنے نہیں کر پا رہی تھی
‘” کہاں جانے کی تیاری کی ہے تم نے ?
وہ ماتھے پر بل ڈالے اسکی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا نظریں اسی پر جمی ہوئی تھی
جبکہ اسکا سوال سن کر مہرہ حیرانی سے اسکی طرف دیکھنے لگی
کیا اسکو معلوم نہیں تھا وہ کہاں جا رہی تھی
‘” یونی کے لئے جیسے کل گئی تھی ”
اسکو یاد دلانا ضروری سمجھا تھا
اسکا جواب سکندر کا غصّہ مزید بڑھا گیا تھا مطلب وہ کل بھی اتنا تیار ہوکر گئی تھی
سبکی نظریں اس پر ہونگی
یہ سوچ کر سکندر کے تن بدن میں آگ لگی تھی
‘” جاؤ اور فورا اپنے کپڑے تبدیل کرو اور کوئی سمپل ڈریس پہن کر آؤ
“‘اور یہ اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے ہٹاؤ اسے ”
اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنے انگوٹھے کی مدد سے ایک جھٹکے میں اسکے لپ سٹک صاف کی تھی
مگر اسکے ہونٹ پر پڑے نشان کو دیکھ کر اسے اپنی کل والی حرکت یاد آئی تو اسکے لپ سٹک لگانے کی وجہ سمجھ گیا تھا
جبکہ اسکے اس طرح سے کرنے پر مہرہ دمبخود سی اسکو دیکھتی رہی تھی
” تم اب تک ایسے ہی کھڑی ہو جاؤ جاکر اپنا سوٹ چینج کرکے آؤ تم پہلے تو ایسے کپڑے پہن کر یونی نہیں جاتی تھی ”
اسکو یوں ہی کھڑا دیکھ کر وہ اس بار سخت لہجے میں بولا
‘” ہاں نہیں پہنتی میں تھی کیونکہ یہ میرے میرے نہیں آپکے دئے ہوئے ہیں اس لئے مجھے پہنے پر رہے ہیں ”
مہرہ کو بھی غصّہ آیا تھا پہلے خود ہی عمارہ سے اسکے لئے ڈریس منگوائی اب انہیں ہی ناپسند کر رہا تھا
جبکہ بات ناپسند کی تھی ہی نہیں مہرہ ہمیشہ سمپل سوٹ پہنتی مگر سکندر خان کی بیوی بننے کے بعد اسکی حیثیت بدل گئی تھی
مہنگے کپڑے اسکی خوبصورتی کو مزید نکھار رہے تھے اور سکندر کو یہ بات بلکل برداشت نہیں تھی کہ کوئی بھی اسکو اس روپ میں دیکھے
‘” ٹھیک ہے میں ہی لیکر آیا ہوں اب میں ہی انہیں منع کر رہا ہوں تم ایسے کپڑے یونی نہیں پہن کر جاؤ گی بےشک گھر میں کیسی بھی رہو ”
وہ اپنی بات پر اڑا ہوا تھا
” میں چینج نہیں کروں گی تمہاری غلام نہیں ہوں کہ ہر وقت تمہارے حکم مانتی رہوں
” میری بھی کچھ مرضی ہے کچھ پسند ہے ”
وہ جچ ہوئی تھی اسکی باتوں سے
‘” تو تم چینج نہیں کروگی ”
وہ کہتا اسکے مزید قریب ہوا اور ڈریسنگ کی ڈور سے اپنی مطلب کی چیز نکال چکا تھا
‘” نہیں میں نہیں کرونگی ”
مہرہ کو بھی ضد ہو گئی تھی
‘” ٹھیک ہے پھر تم اسی سوٹ میں جانا “
اسکے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آئی تھی اور اپنیے ہاتھ میں موجود چاکو سے اسکی قميض کو پیٹ کے پاس سے چاک کر چکا تھا
یہ سب اتنا جلدی ہوا کہ مہرہ کچھ سمجھ نہیں پائی تھی
ہوش تو اسے تب آیا جب وہ اسکے کندھے پر موجود دوپٹے کو ایک طرف ڈالتا اب اسکی قمیض کو گلے کے پاس سے کاٹنے کی تیاری میں تھا
‘” یہ کیا کر رہو ہو پاگل ہو تم ”
مہرہ ڈر کر پل میں اسکی پہنچ سے دور ہوئی اور زمین پر گرا دوپٹہ اٹھایا اور اپنے گرد لپیٹ کر اپنے نمایا ہوتے جسم کو چھپایا
‘” اب جاکر دکھاؤ مجھے تمھیں میری ایک بار میں بات سمجھ نہیں آتی نہ اسلئے دوسرے طریقے سے اپنی بات سمجھا رہا تھا ”
اسکے سوٹ کا حشر بگاڑ کر وہ بڑے آرام سے اپنا کارنامہ دیکھتا ہوا بولا
چہرے پر ابھی بھی شیطانی مسکراہٹ تھی
‘” تم ایک بےحس انسان ہو جسے کسی بات کی تمیز نہیں اور نہ احساس نام کی چیز ہے'”
اسکو رونا آ رہا تھا مگر رونا نہیں چاہتی تھی اس شخص کی سامنے
‘” میں کیسا ہوں کیا ہوں وقت کے ساتھ تمھیں سب معلوم ہوتا چلا جائے گا فلحال جاؤ اب چینج کرکے آؤ ورنہ میں اپنا ارادہ بدل لوں گا ”
وہ اسکے لال پڑتے چہرے کو دیکھ رہا تھا جو یقیناً آنسو ضبط کرنے کی وجہ سے ہو رہا تھا
اور مہرہ بلکل نہیں چاہتی تھی کہ وہ اپنا ارادہ بدلے اس لئے اسکی بات ماننے پر مجبور تھی
🍁🍁🍁🍁
‘” تمہارے ساتھ اتنا سب کچھ ہو گیا اور ہمیں اس بات کی خبر تک نہیں ہوئی مہرہ ”
مشال بےیقینی سے مہرہ کی طرف دیکھ رہی تھی جو بیٹھی آنسو بہا رہی تھی
رونے کی وجہ سے ناک بھی بری طرح لال ہو چکی تھی لڑکیاں اسکو آتے جاتے دیکھ رہی تھی مگر اسکو پرواہ نہیں تھی
مشال کو مہرہ کے لئے بہت افسوس ہو رہا تھا
‘” تمھیں کیسے پتہ چلتا مشال میں اپنے بابا تک سے بات نہیں کر پا رہی ہوں یونی بھی پتہ نہیں کیسے آنے دیتے ہیں مجھے ”
وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی
کل جب وہ یونی آئی تو مشال کی غیر حاضری کو دیکھ کر وہ بےدلی سے بیٹھی نوٹس بناتی رہی سارا دن یہاں آکر اس نے سوچا تھا مشال مل جائے گی مگر وہ بھی غیر موجود تھی
پر آج اسکو یونی دیکھ کر اسکی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی
اور اب بیٹھی اسکو اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کے بارے میں بتا رہی تھی
مشال کو سب کچھ بتا کر وہ خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی
” چلو یہ تو سب اچانک ہوا تمھیں ہمیں بتانے کا موقع نہیں ملا مگر تم اس مونسٹر کیا نام بتایا تھا ہاں …اس ڈیوڈ کے بارے میں تو ہمیں بتا سکتی تھی مگر اسکے بارے میں بھی بتانا ضروری نہیں سمجھا ”
وہ اب خفا ہو رہی تھی اس سے
‘” تم اس وقت خود پریشان تھی پہلے زیان پھر تبریز بھائی کی وجہ سے اس لئے میں تمھیں مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ”
اس نے مشال کے دونوں ہاتھوں کو تھام لیا تھا
اسکے جواب پر مشال خاموش ہو گئی تھی وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی وہ ان دنوں خود بھی پریشان تھی اسکی کیا مدد کرتی
” ‘ اب کیا سوچا ہے تم نے ساری زندگی اس شخص کے ساتھ کیسے گزارو گی ?
کچھ دیر کی خاموشی کی بعد مشال کی آواز آئی تھی
‘” پتہ نہیں مشال اس وقت میری حالت تمہارے جیسی ہی ہے ”
وہ بےبسی سے بولی نظریں اپنے ہاتھوں کی لکیروں پہ تھی
‘” پر مشال ایک بات اچھی ہے میں کم از کم تم سے تو مل ہی سکتی ہیں اور بابا کو کال بھی کر سکتے ہیں آج بات نہیں ہو پائی تو کیا ہوا کل پھر سے ٹرائ کرونگی ”
اسکے لہجے میں امید تھی
‘” ہاں یہ اچھا ہے ہمیں تم مل گئی واپس سے ”
مشال مسکرائی تھی اسکی دوست مل گئی تھی جس سے وہ اپنا ہر غم بانٹ سکتی تھی
‘” دونوں نے آج کوئی بھی کلاس اتٹنڈ نہیں کی تھی سارا وقت بس باتیں کرتی رہی
جب سب اپنے گھر واپس جانے لگے تو مشال کو بھی اپنی واپسی کا خیال آیا تبریز کی دھمکی جو یاد آئی تھی
‘” اچھا مشال ہم چلتے ہیں اب کل انشاءلله پھر ملاقات ہوگی ”
اسکا ڈرائیور ا چکا تھا اسکو لینے کے لئے
‘” ٹھیک ہے کل ملتے ہیں ”
مہرہ سارا دن میں بس اب مسکرائی تھی واپس سے اس گھر جانے کا سوچ کر مہرہ کا دل اداس ہوا تھا
مشال تو چلی گئی وہ اسکی کار کو دور جاتا دیکھتی رہی
اب اسکو سکندر کا انتظار تھا
کچھ دیر یوں ہی کھڑی تھی جب ایک بلیک کار اسکے سامنے آکر رکی
مہرہ کو لگا سکندر ہی ہوگا کیونکہ اسکی سیم ایسے ہی کار تھی
وہ آگے بڑھی ہی تھی جب کار سے دو نقاب پوش آدمیوں کو نکلتا دیکھ کر وہ اپنے قدم وہیں روک چکی اسے یکدم سے خطرے کا احساس ہوا
یہ احساس ہوتے ہی واپس اندر کی طرف بڑھی جب ان میں سے ایک نے اسکا بازو پکڑ کر اسکو اپنی گرفت میں لیا اور اسکو کوئی بھی موقع دئے بغیر کار میں ڈال چکا تھا
کچھ سٹوڈنٹ نے یہ منظر دیکھا مگر انکے ہاتھ میں گنز دیکھ کر کسی میں ہمّت نہیں تھی انکو روکنے کی
مہرہ خود کو بچانے کے لئے کوشش کرتی رہی مگر اسکی کوئی کوشش کام نہیں آئی تھی
🍁🍁🍁🍁
” کیا ہوا تم واپس کیوں آ گئے ہو ?
وہ اپنی کار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا جب اس نے اپنی طرف آتے کریم سے سوال کیا جس کے چہرے پر الجھن تھی
‘” میں بہت بار ناک کر چکا ہوں مگر وہ دروازہ نہیں کھول رہا ہے ”
وہ مڑ کر پھر سے بند دروازے کی طرف دیکھتا ہوا بولا
” مجھے نہیں لگتا کہ وہ گھر پر ہے ہمیں یہاں کھڑے رہ کر اپنا وقت برباد نہیں کرنا چاہئے ”
کریم نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
” نہیں وہ گھر پر ہی ہے مجھے اس بات کا پورا یقین ہے چلو ایک بار پھر ٹرائ کرتے ہیں ”
وہ اپنے گوگلز اتار کر انہیں اپنی کار میں ڈالتا سامنے کی طرف بڑھا تو کریم بھی اسکے پیچھے چل دیا تھا
آج وہ توفیق سے بات کرنے آیا تھا اسکو توفیق کے رویہ سے کچھ عجیب لگ رہا تھا
اسلئے وہ اس سے بات کر کے اپنا شق دور کرنا چاہتا تھا
دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے کریم کو اشارہ کیا جس پر اس نے پھر سے بیل بجائی
کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد اس نے کریم کی طرف پھر سے اشارہ کیا تو دونوں گھر کی بیک سائیڈ پر آ گئے
وہاں پر موجود کانچ کی کھڑکی کو توڑنے میں کریم کو صرف چند منٹ لگی تھی
پہلے وہ اندر کودا اسکے بعد کریم
وہ دونوں جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوئے تو وہاں کی حالت دیکھ کر دونوں نے اپنے گنز کو لوڈ کیا
سارا سامان ادھر ادھر بکھرا پڑا ہوا تھا
کچھ زمین پر گر کر ٹوٹ چکا تھا
‘” مجھے پہلے ہی شق تھا کچھ تو گڑبڑ ضرور ہے کریم تم ادھر جاکر چیک کرو میں ادھر دیکھتا ہوں ”
وہاں کی حالت دیکھ کر ڈیوڈ یکدم سے الرٹ ہوا
لاؤنج سے نکل کر وہ ایک سائیڈ پر موجود کمرے کا دروازہ کھولتا ہوا اندر داخل ہوا
اپنی گن کو اس نے سامنے کیا ہوا تھا دشمن کہیں سے بھی نکل سکتا تھا
مگر وہ کمرہ خالی تھا اسکا بھی سامان بکھرا پڑا ہوا ملا ڈیوڈ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی یہ مہرہ کا کمرہ تھا
اس کمرے پر ایک نظر ڈالتا وہ وہاں سے نکل کر دوسرے کمرے کی جانب بڑھا
اس نے آہستہ سے جیسے ہی دروازہ کولا تو زمین پر پڑے خون کو دیکھ کر وہ ٹھٹکا
اسکی نظروں سے جیسے ہی مزید سفر طے کیا تو تھوڑی دوری پر زمین پر پڑے توفیق وجود کو دیکھ کر وہ تیزی سے اس طرف بڑھا تھا
‘”اوہ شٹ ” کریم ”
وہ تیز آواز میں چلایا تو کریم جو محتاط تھا ڈیوڈ کی ایک آواز پر اس کمرے میں حاضر تھا
”” Is He Dead ? ”
کریم اسکی طرف دیکھ کر بولا جو اسکی نبض چیک کر رہا تھا
” نہیں ابھی زندہ ہے ”
وہ بولتا ہوا توفیق کے زخم دیکھنے لگا پیٹ میں چاکو سے وار کیا ہوا تھا جبکہ بازو پر بھی گولی لگی ہوئی تھی
‘” توفیق اٹھو بتاؤ کس نے کیا یہ سب ”
” توفیق ”
وہ اسکو جگانے کی کوشش کرنے لگا جو درد کی وجہ سے بیہوش ہو چکا تھا
ڈیوڈ کے جگانے پر توفیق نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولی تھی
‘” یس کم آن ”
” بتاؤ کون تھے وہ ”
اسکے انداز میں بےچینی تھی
” ڈیو ….ڈیوڈ …مہ…میری بیٹی مہرہ کی حفاظت کرنا و ..وہ اب بیوی ہے تمہاری ”
بولنے میں تکلیف ہونے کی وجہ سے انکے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے
‘” کیا مطلب کیسی حفاظت کیا ہوا مہرہ کو ”
مہرہ کا ذکر آتے ہی اسکا پورا جسم تن گیا تھا وہ مکمل توفیق کی طرف موتجہ ہوا
جبکہ کریم بھی ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا
” وہ …مہرہ …کے پیچھے پڑا ہے اس سے مہرہ کی حفاظت کرنی ہے تمھیں ورنہ وو …
وہ اب زیادہ بول نہیں پاۓ اور پھر سے آنکھیں بند کر چکے تھے
‘” توفیق اپنی بات مکمل کرو کون پڑا ہے مہرہ کے پیچھے
توفیق آنکھیں کھولو اپنی ”
اس نے پھر سے اسکو جگانے کی کوشش کی مگر اب وہ پوری طرف سے بےہوش ہو چکے تھے
‘” کریم جلدی کرو اور توفیق کو جلدی سی ہسپتال لیکر جاؤ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ”
وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور اپنی گن جاکٹ کے پاکٹ میں رکھ چکا تھا
‘” اور ہاں خیال رہے توفیق کے بارے میں باہر کسی کو معلوم نہیں ہونا چاہئے یہ بات ہمارے بیچ ہی رہنی چاہئے کیونکہ مجھے لگتا ہے وہ لوگ توفیق پر دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں ”
وہ دروازے کی طرف بڑھتا اسکو ہدایت دے رہا تھا
‘” ٹھیک ہے پر تم کہاں جا رہے ہو اتنے جلدی میں ”
اسکی جلدبازی کریم محسوس کر چکا تھا
‘” یونی مجھے مہرہ کے پاس جانا ہے ویسے بھی تمہارے علاوہ میں کسی اور پر بھروسہ نہیں کر سکتا خیال رکھنا ”
وہ اپنی بات کہتا تیزی سے وہاں سے نکلا تھا
اسکو جلد سے جلد مہرہ تک پہنچنا تھا توفیق کا حال دیکھ کر اسکو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کام کسی معمولی گینگ کا نہیں ہے
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )