53.5K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

” تم لوگ اچھی طرح سمجھ گئے نہ میں نے کیا کہا
اس نے آخری بار اپنی بات مکمل کرکے ایک نظر اپنی ٹیم کی طرف دیکھا۔انکا پلان مکمل تھا وہ ایک بار پھر سب دوہرا رہے تھے کہ انہیں کب اور کیسے حملہ کرنا ہے
رات کا دوسرا پہر تھا وہ لوگ اس وقت شہر کے اس سُنسان علاقے میں موجود تھے جہاں لوگوں کا کم ہی آنا جانا ہوتا تھا۔چاروں طرف گہری خاموشی چھائ ہوئی تھی اور خاموشی میں کتوں کے بھوکنے کی آواز واضع سنائی دے رہی تھی جو اس خاموشی میں مزید خوفناک لگ رہی تھی
” یس سر ”
اسکی ٹیم کے آفیسرز نے یک زبان ہوکر کہا تو اس نے صرف گردن ہلانے پر اتفاق کیا
” یاد رہے یہ مشن میرے لئے بہت اہم ہے اور میں تم میں سے کسی ایک کی بھی لاپروائی برداشت نہیں کرونگا از ڈیٹ کلئیر؟ “
اس نے ابرو اچکا کے چہرے پر سخت تااثرات لیے سب کو وارن کیا۔
کل ہی اسکے انفارمر سے اسکو خبر ملی تھی کہ آج تاشا کی بہت بڑی ڈیل ہونے والی ہے جو بلیک ڈائمنڈ کی تھی اور اس وقت وہ لوگ اسی جگہ پر موجود تھے جہاں بڑی بڑی ڈیلز ہوتیں اور یہ جگہ انکے انفرمر نے انہیں بتائی تھی۔
” یس سر” وہ پھر سے جوش میں بولے تھے
وہ ایک قابل آفیسر تھا دشمن اسکے نام سے کانپتے تھے۔ بہت کم وقت میں اس نے ترقی حاصل کر لی۔ اس لئے تھوڑا سخت مزاج تھا اپنے کام میں ذرا سی غلطی اسکو ہرگز برداشت نہ ہوتی۔ اور جس مشن پر آج کل وہ کام کر رہا تھا اسکے لیے بہت اہم تھا۔۔
اس نے اپنی زندگی کا ایک ہی مقصد بنا لیا تھا وہ تھا تاشا کی بربادی یا اسکو ایسی موت دینا کہ دیکھنے والوں کی روح کانپ اٹھے اور اسے پوری امید تھی کہ وہ اپنے اس مقصد میں ضرور کامیاب ہوگا
” تم لوگ ادھر جھاڑیوں کے پیچھے چپ جاؤ میرے گو کہنے پر سب ایک ساتھ اٹیک کریں گے۔ “
وہ اپنی ٹیم کو رعبدار آواز میں ہدایت دیتا آگے بڑھا تھا اپنے لئے کوئی چھپنے کی جگہ تلاش کرنے وہ لوگ اسکا آرڈر ملتے ہی الگ الگ جگہ پر جا چکے تھے کیونکہ اسکے غصّے سے ہر کوئی ڈرتا تھا
” تبریز میری بات سنو یار ”
‘اسکو ایک جگہ پر جاتے دیکھ اسکا دوست علی اسکے پیچھے آیا تھا۔علی کی آواز پر اسکے قدم ایک پل کے لئے رکے اور وہ اسکی جانب پلٹا تھا
” تبریز نہیں سر بولو ”
‘وہ تھوڑا غصّے میں بولا تھا اسکے اپنے اصول تھے وہ کام کے وقت رشتے دوستی سب بھول جاتا تھا جبکے اسکے یاد دلانے پر علی تھوڑا شرمندہ ہوا تھا
”اب بولو میں انتظار کر رہا ہوں ”
‘اسکے یوں ہی خاموش رہنے پر تبریز نے علی کو مخاطب کیا تھا …وہ جانتا تھا کہ کے وہ کبھی کبھی کچھ زیادہ ہی سخت ہو جاتا تھا مگر یہ سختی اسکی شخصیت کا حصّہ تھی اور وہ یہ بات بہت اچھی طرح سے جانتا تھا ‘
” سر آپکو کیا لگتا ہے کہ تاشا آج اس میٹنگ میں آیا ہوگا جہاں تک مجھے لگتا ہے ہر بار کی طرح وہ اس بار بھی اپنے آدمیوں کو ہی بھیجے گا ”
علی نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا
” کوئی بات نہیں آگے کے بارے میں نے سب پلان کیا ہوا ہے ناؤ یو گو اینڈ ٹیک یور پلیس ”
‘ وہ اسکو آرڈر دیتا اپنی جگہ پر چلا گیا اور پھر کچھ دیر بعد اسکے اشارے کرنے پر فائرنگ شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس جگہ پر قبضہ کر چکے تھے علی کا کہنا ٹھیک ہوا تھا بادشاہ نہیں آیا مگر تبریز اسکے ایک آدمی کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا جو فلحال اسکے لئے کافی تھا کیونکہ یہ اسکی کامیابی کی پہلی سیڑهی تھی۔
مگر اسی بیچ اسکو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہاں تاشا اور انکے علاوہ بھی اور لوگ موجود تھے اور وہ کس کے آدمی تھے وہ اس بات سے انجان تھا۔
🍁🍁🍁🍁
”زیان تم اٹھ رہے ہو یا نہیں دیکھو ہم آخری بار پوچھ رہے ہیں تم سے ”
‘وہ اسکے سر پر کھڑی تیز آواز میں چلائی تھی جس پر زیان کسمسا کر کروٹ بدل چکا تھا ‘
” یار اٹھ جاؤ نہ دیکھو ہمیں یونی کے لئے دیر ہو رہی ہے ”
‘ اس بار وہ تھوڑا پریشانی سے بولی تھی پچھلے ایک گھنٹے سے وہ اسکو اٹھانے کی اپنی سی کوشش کر رہی تھی مگر وہ تھا کہ ٹس سے مس تک نہ ہوا تھا ‘
”یار مشال کیا ہے یار سونے دو تم ڈرائیور کے ساتھ بھی جا سکتی ہو اس لئے میری نیند مت خراب کرو ”
‘وہ تکیہ اپنے منہ پر رکھتا ہوا بےزاری سے بولا ایک تو ابھی کچھ گھنٹے پہلے ہی وہ سونے کے لئے لیٹا تھا اور اب یہ محترمہ آ گئی تھی اسکی نیند خراب کرنے ‘
” کیسے دوست پلس کزن ہو تم زیان ہم یہاں کھڑے ہیں اور ہم سے زیادہ تمھیں اپنی نیند پیاری ہے ”
‘ اسکا منہ بن گیا تھا زیان کا جواب سن کر مگر اسکی بات کا اس پر کوئی اثر نہ
کچھ دیر تو وہ کھڑی اسکو دیکھتی رہی جب وہ نہ اٹھا تو وہ پیر پٹختی ہوئی اسکے کمرے سے باہر نکلی تھی ‘
” سمجھتا کیا ہے خود جب ہمارے پاس کسی کام کے لئے آئے گا نہ تو تب دیکھیں گے اسکو تو ہم ‘
” مشال بیٹا رکو ناشتہ تو کر کے جاؤ ”
‘ وہ بولتی ہوئی جا رہی تھی جب مسز شاہ نے اسکو دیکھ کر پکارا تھا ‘
” رہنے دیں بڑی امی ہم یونی میں ہی کچھ کھا لیں گے ”
‘ اس وقت وہ بری طرح سے جلی ہوئی تھی اس لئے انکو جواب دیتی باہر نکلتی چلی گئی تھی جبکہ مسز شاہ اسکو آوازیں دیتی رہ گئی..
‘ وہ ایسی ہی تھی جب کوئی اسکی بات نہیں سنتا تھا تو پورا گھر سر اٹھا لیتی تھی آج بھی زیان کی وجہ سے اسکا پورا دن موڈ خراب ہی رہنے والا تھا جب تک زیان اسکو منا نہ لیتا ‘
”آج اس زیان کے بچے کو اپنے آگے پیچھے نہ گھمایا تو ہمارا نام بھی مشال نہیں ”
وہ خود میں بولتی ہوئی تیز تیز قدم اٹھاتی جا رہی تھی اسکا ارادہ آج بس سے یونی جانے کا تھا ابھی وہ کچھ قدم مزید آگے بڑھی ہی تھی جب سامنے سے آتے شخص سے بری طرح سے ٹکرائی تھی ‘
‘ ٹکر اتنی زور کی تھی کہ اسکو لگا کہ وہ کسی سخت پتھر سے ٹکرائی ہو ‘
”کیا ہے دیکھ کر نہیں چل سکتے ”
اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ الٹا سیدھا بولتی اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکی زبان یک پل میں رکی تھی
” دیکھ کر تو تمھیں چلنا چاہئے ”
تبریز آنکھیں سکیڑتا ہوا سنجیدگی سے بولا جبکہ اسکی نظریں ایک پل کے لئے اسکے چہرے پر رک سی گئی تھی
لائٹ پنک کلر کے سوٹ اور اسی رنگ کا دوپٹہ کندھوں پر اچھی طرح سے ڈالا ہوا تھا میک اپ سے پاک چہرہ قدرتی گلابی لب اسکی توجہ اپنی جانب کھینچ رہے تھے
”سوری تبریز بھائی آئندہ خیال رکھیں گے غلطی ہماری ہی تھی ”
‘وہ اسکی طرف دیکھ کر دانت پستی ہوئی بولی جو اس وقت فل یونیفارم میں مبلوس تھا چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی تھی جو اسکی شخصیت کو مزید نکھارتی تھی وہ ایک شاندار پرسنلیٹی کا حامل تھا مگر مشال کو خاص پسند نہیں تھا یا یوں کہنا ٹھیک رہے گا کہ پولیس والوں سے اسکو زہر لگتے تھے ‘
‘تبریز جو اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھ کر کہیں کھو سا گیا تھا اسکے بھائی کہنے پر سخت بدمزا ہوا تھا ‘
” تم یونی جا رہی ہو چلو آج میں تمھیں چھوڑ دیتا ہوں ”
اسکو آگے بڑھتے دیکھ وہ فورا تھوڑا سمبھل کر بولا تھا
” نہیں بہت شکریہ ہم چلیں جایں گے لگتا ہے آپ ابھی ڈیوٹی سے واپس آئے ہے تو آپ آرام کریں ہماری وجہ سے آپکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ”
‘ وہ اسکی بولتی گہری نظروں سے گھبرا کر تیزی سے پلٹی تھی ایک تو اسکو یہ شخص پسند نہیں تھا اوپر سے اسکی یہ نظریں جن سے ہمیشہ اسکے چہرے پر ناگواری آ جاتی تھی جبکہ اسکے اس ترح سے انکار کرنے اور یوں اس طرح سے چلے جانے پر تبریز کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے اور ہمیشہ کی طرح وہ اپنا غصّہ ضبط کرکے رہ گیا ۔
” آج بھی تم مجھے نظر انداز کر گئی ہو مشال لیکن کب تک کرو گی ”
وہ خود میں بولتا اپنے پورشن کی طرف بڑھا تھا اسکا ارادہ اب اپنا موڈ ٹھیک کرکے ہی مسز شاہ سے ملنے کا تھا ‘
🍁🍁🍁🍁
” ارے مہرہ بیٹا آپ ابھی تک ایسے ہی بیٹھی ہیں آج آپکو یونی نہیں جانا ہے ?
” توفیق صاحب جیسے ہی اسکے کمرے میں داخل ہوئے تو اسکو بیڈ پر ایسے ہی بیٹھا دیکھ کر اسکے قریب آتے ہوئے استفسار کیا ـ
” جی بابا جانا ہے بس میں تیار ہونے جا رہی تھی اچھا ہوا آپ آ گئے ورنہ میں ایسے ہی بیٹھی رہتی تو یقیناً آج لیٹ ہو جاتی”
‘ توفیق صاحب کی آواز پر وہ جیسے اپنی سوچوں کی دنیا سے باہر آئی اور اپنے چہرے کے تاثرات نارمل کئے تھے جو کچھ دیر پہلے تک بہت سنجیدہ تھے ‘
” کیا ہوا ہے بیٹے آپ مجھے اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہیں کچھ ہوا ہے کیا ?
‘ وہ باپ تھے پل میں اسکے چہرے کی پریشانی کو بھانپ گئے تھے ویسے بھی وہ پچھلے کچھ دنوں سے دیکھ رہے تھے کہ مہرہ کچھ کھوئی کھوئی سی رہنے لگی تھی ‘
‘ وہ جو اپنے وارڈراب سے کپڑے نکال رہی تھی انکی بات سن کر مہرہ کے ہاتھ ایک پل کے لئے رکے اور وہ انکی جانب پلٹی’
‘ وہ ٹھیک ہی کہہ رہے تھے وہ بہت پریشان تھی اور بات اتنی غیر معمولی بھی نہیں تھی کہ وہ ان سے چھپا سکے ویسے بھی وہ بہت دنوں سے سوچ رہی تھی انکو بتانے کے لئے’
” بابا مجھے آپکو کچھ بتانا تھا میں جانتی ہوں یہ بات مجھے پہلے ہی آپکو بتا دینی چاہیے تھی پر میں آپکو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اپنی وجہ سے ”
‘ وہ پل میں انکے قدموں میں آ بیٹھی تھی اسکی دنیا اپنے بابا پر ہی شروع اور ان پر ہی ختم ہوتی تھی اس لئے وہ انہیں اپنی وجہ سے پریشان نہیں دیکھنا چاہتی تھی ‘
” ہاں بیٹے بولو کیا بات ہے شاید میں تمہاری کچھ پریشانی ختم کر سکوں ”
انہوں نے نرمی سے اپنی گھٹنے پر رکھے اسکے ہاتھ
پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
کچھ دیر تو وہ انکے چہرے کو دیکھتی تھی اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بات کس طرح سے شروع کرے ‘
” بابا مجھے پچھلے کچھ دنوں سے ایسا فیل ہو رہا ہے کہ ہر وقت کوئی میرا پیچھا کرتا ہے یونی میں یا پھر میں کہیں بھی جاؤں ایسا لگتا ہے کہ کوئی میری ہر پل پر نظر رکھے ہوئے ہے ”
‘وہ بولتے بولتے جیسے کہیں کھو سی گئی تھی اسکی نظروں کے سامنے وہ منظر گھوم گیا تھا جو وہ پچھلے کچھ دنوں سے محسوس کر رہی تھی
جبکہ اسکی بات سن کر اسکے ہاتھ پر رکھا توفیق صاحب کا ہاتھ یک پل کے کانپ گیا تھا ‘
”انہیں جس بات کا ڈر تھا وہ ہو گیا تھا انکا ماضی انکی بیٹی کے لئے خطرناک ثابت ہونے والا تھا ”
”کیا ہوا بابا آپ کہاں کھو گئے ہیں میں آپ سے بات کر رہی ہوں ”
مہرہ کی بولتے بولتے نظر اپنے باپ پر پڑی جو شاید کسی گہری سوچ میں گم تھے ‘
”ہاں ہاں بیٹا میں سن رہا ہوں آپکی بات اور میری مانے تو یہ سب آپکا وہم ہے ایسا کچھ نہیں ہے آپ دھیان دینا چھوڑ دوگی تو ایسا کچھ محسوس بھی نہیں ہوگا ”
‘ اسکی بات سن کر وہ تھوڑا سمبھل کر بولے تھے انہیں کچھ تو کرنا تھا اس سے پہلے کہ انکی بیٹی کو کوئی نقصان ہو ‘
”آپ بلکل میری دوست کی طرح بول رہے ہیں جب میں نے اسکو بتایا تو وہ بھی یہی بولی تھی ”
‘وہ برا سا بنہ کر بولی توو اسکا چہرہ دیکھ کر ایسے سنجیدہ ماحول میں توفیق صاحب ہولے سے مسکرا دیے تھے ‘
” تمہاری دوست بلکل سہی کہتی ہے اب جاؤ جاکر تیار ہو جاؤ ورنہ تم یونی کے لئے لیٹ ہو جاؤ گی ”
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولے تو مہرہ اٹھی اور پھر سے وارڈراب کی طرف بڑھی تھی جبکہ توفیق صاحب کے چہرے پر پھر سے سوچوں کی لکیریں چھا گئی تھی ‘
🍁🍁🍁🍁
‘ وہ پچھلے دو گھنٹوں سے مسلسل کان میں ہیڈ فونز لگائے رننگ مشین پر فل سپیڈ سے دوڑ رہا تھا اس وقت وہ بنیان میں تھا جو پسینے سے پوری طرح سے بھیگ کر اسکے چوڑے جسم پر چپک چکا تھا ‘
‘ گلاس وال سے آتی سورج کی روشنی اسکے اوپر پڑ رہی تھی جس سے اسکے گورے جسم پر پسینے کی بوندے واضح طور پر نظر آ رہی تھی خوبصورت کشادہ پیشانی پر کالے بال بکھرے پڑے تھے ‘
جبکہ دوسری سائیڈ پر اسکے دو ملازم کھڑے ہوئے تھے ایک کے ہاتھ میں ٹاول تھا دوسرے کے ہاتھ میں جوس کا گلاس موجود تھا وہ ایک ٹک اپنے مالک کو دیکھ رہے تھے’
” جبکہ وہ سپاٹ چہرہ لئے اپنے سامنے چلتے منظر کو دکھ رہا تھا جہاں ایک آدمی چیئر پر بیٹھا ہوا رو رہا تھا جبکہ اسکے ارد گرد اسکے دو آدمی کھڑے تھے جن میں سے ایک اسکے اشارے کرنے پر چیئر پر بیٹھے آدمی کے ہاتھ پر ایک گہرا کٹ کرتا جاتا’
وہ آدمی درد سے رونے لگاتا مگر کان میں ہیڈ فونز ہونے کی وجہ سے وہ اسکے چیخنے کی آواز نہیں سن پا رہا تھا اس کمرے میں موجود لوگوں کو اسکی اس وحشت کی عادت تھی اس لئے سب آرام سے سر جھکایں کھڑے تھے جیسے یہاں کچھ ہو ہی نہیں رہا ہو ”
” وہ یک پل میں اس مشین سے اترا اور ٹاول سے اپنے چہرے کا پسینہ صاف کرتا اس شخص کے سامنے والی چیئر پر آ بیٹھا تھا ‘
” پلیز ڈیوڈ مجھے معاف کر دو آئندہ ایسا نہیں ہوگا صرف ایک موقع دو مجھے”
“please Devid give me a chance”
‘ اسکے بیٹھتے ہی وہ آدمی اپنی درد کو نظرانداز کرتا اس سے رحم کی بھیک مانگ رہا تھا جبکہ اسکے َالفاظ سن کر وہ استہزایہ مسکرایا تھا ‘
‘”اگر شیر سو رہا ہے اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جنگل میں ہونے والی ہلچل سے انجان ہے ”
اس نے اس آدمی کے گہرے کٹ کو اپنی انگلی سے دبایا جس پر وہ شخص درد سے بلبلا اٹھا تھا
اس وقت اسکے ہاتھ بھی خون سے خراب ھو چکے تھے جنہیں وہ اپنے وائٹ بنیان سے صاف کر چکا تھا
” وہ بند آنکھوں سے بھی ہر جانور پر نظر رکھتا ہے ”
اس نے اپنے برابر کھڑے آدمی کے ہاتھ سے چکو لیا اور اس چیئر پر بیٹھے شخص کے دوسرے ہاتھ پر کٹ کیا تھا جس سے اسکی دردناک چیخ پورے کمرے میں گونج اٹھی تھی ‘
” جانتے ہو میں نے تمھیں کل پولیس سے کیوں بچایا تاکہ میں خود تمھیں اپنے ہاتھوں سے سزا دوں ڈیوڈ کی بات کو نہ ماننے والو کا کیا انجام ہوتا ہے تمھیں معلوم ہو ”
اسکے لہجے میں ایسا کچھ تھا کہ ایک پل کے لئے اسکے ملازم بھی کانپ اٹھے تھے
” یہ بس آخری بار تھا ڈیوڈ پلیز بیلیو می نیکسٹ ٹائم ایسی غلطی نہیں ہوگی ”
وہ شخص پھر سے اپنے سامنے بیٹھے اس مونسٹر سے ایک موقع مانگ رہا تھا جو ملنا نممکن تھا
” میرے ہی علاقے میں تم مجھ سے چھپ کر اتنا بڑی ڈیل کرنے چلے تھے تمھیں کیا لگا مجھے پتہ نہیں چلے گا ”
وہ اسکی بات سکو نظرانداز کرتا ہوا بولا کمرے کی خاموشی میں اسکی بھاری آواز گونج رہی تھی
اسکی آنکھوں میں اس وقت خون اتر آیا تھا
” ڈیوڈ …پلیز آئندہ ایسا نہیں ہوگا ”
‘ اس شخص کو اب اپنی جان کی فکر ہوئی تھی
” ٹھیک کہا تم نے آئندہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ تم ایسا کرنے کے لئے زندہ بچو گے ہی نہیں ”
وہ ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ بولا اور اپنے آدمی کو اشارہ کیا جو اسکو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لیکر گئے تھے
سب جانتے تھے اسکا بھی وہی انجام ہونا تھا جو ڈیوڈ کو دھوکہ دیتے تھے’
” وہ اپنی جگہ سے اٹھا ملاذم کے ہاتھ سے جوس کا گلاس لیکر ایک سانس میں ختم کیا تھا اسکی ہر صبح کی شروعات ایسی ہی ہوتی
وہ مونسٹر تھا اور مونسٹر بھی ان لوگوں کے لئے جو اس دنیا سے تعلق رکھتے تھے جہاں لوگوں کو ایک دوسرے کی جان پرواہ نہ تھی اور جہاں لوگ اک دوسرے سے آگے نکلنے کی ڈور میں تھے اور اسکا کام صرف ایسے لوگوں کو انکی اصل جگہ بتانا تھا ‘
Sometime He Is An Angle And Sometime The Devil…
اور ڈیوڈ کو سمجھنا بہت مشکل تھا یہاں تک کہ وہ خود کو بھی سمجھ نہیں پاتا تھا ”
🍁🍁
(جاری ہے )
🍁🍁