No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
” سگار کا ایک گہرا کش بھر کے اس نے سارا دھوا فضا میں چھوڑا اور گلاس میں موجود وائن کو ایک سانس میں ختم کر کے اپنے سامنے چلتے ٹیوی سکرین کی طرف ایک نظر دیکھا جس میں اس وقت ایس پی تبریز کا انٹرویو چل رہا تھا
” رپورٹر اس سے کچھ پوچھ رہی تھی جس کا جواب وہ مسکرا کر دے رہا تھا مگر اسکی آنکھیں اسکی مسکراہٹ کا ساتھ نہیں دے رہی تھی یہ بات تاشا کی آنکھوں سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی ”
‘” تو یہ ہے وہ ایس پی جس کے بارے میں تم مجھے بتا رہے تھے ”
اس نے گردن موڑ کر اپنے برابر سر جھکائے کھڑے شوکت کی طرف دیکھ کر سوال کیا تھا
پچھلے کچھ دنوں سے وہ اپنے ہر ایک آدمی کی زبان پر اس ایس پی کا نام سن رہا تھا ‘
‘” ہاں یہ وہی ہے جب سے اسکی پوسٹنگ ہوئی ہے تب سے یہ ہماری ہر ایکٹیویٹی پر نظر رکھے ہوئے ہے ہماری لاسٹ ڈیل بھی اس ایس پی کی وجہ سے خراب ہوئی تھی ”
وہ ٹیوی سکرین کی طرف نظر ڈالتا ہوا بولا جس میں اس وقت وہ رپورٹر کا کوئی سوال بڑی ہی غور سے سن رہا تھا
‘” ہممم “
“”اگر یہ ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے تو تم اس پر نظر رکھو کس سے ملتا ہے اسکے دوست رشتےدار بیوی بچے ہر کسی کے بارے میں معلومات چاہئے مجھے “
وہ ہنکارا بھرتا ہوا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا
“‘ اسے بھی معلوم ہونا چاہئے کہ اس نے غلط جگہ اپنی ٹانگ اڑائی ہے تاشا کوئی معمولی چیز نہیں ہے ”
وہ ٹیوی کے بلکل قریب آ کھڑا ہوا اور بہت غور سے سکرین کو دیکھنے لگا
کچھ لمحے یوں ہی دیکھتے رہنے کے بعد اس نے ہاتھ بڑھا کر سکرین پر کراس کا نشان بنایا تھا ‘
یہ اسکا اشارہ تھا کہ وہ تاشا کی ہٹ لسٹ میں شامل ہو چکا ہے ‘
‘” تاشا صرف یہ نہیں ایک اور ہے جو ہمارے کام کے بیچ میں آ رہا ہے اس نے ہمارے اس آدمی کو بھی مار دیا جو اس پر نظر رکھے ہوئے تھا “‘
شوکت نے ایک ہر دشمن سے آگاہ کیا تھا تاشا زیادہ ملک سے باہر ہی رہتا تھا اس لئے یہاں کا سارا کام اسکے انڈر میں تھا”
‘” میری غیر موجودگی میں تم نے کافی دشمن بنا لیا ہیں کون ہے وہ ?
وہ پلٹے بغیر بولا
‘” ڈیوڈ آج کل اسکا سکا چل رہا ہے ہر کسی کے دل میں اسکا خوف ہے وحشت ہے اب تک پولیس کی نظروں میں بھی نہیں آیا ہے کیونکہ وہ اپنا کام بہت صفائی سے کرتا ہے کہ سامنے والے کو شق نہ ہو ”
شوکت تفصیل سے اسکو بتانے لگا جبکہ اسکی بات سن کر اس بار تاشا اسکی طرف پلٹا تھا
‘” اسکے لئے کیا آرڈر ہے تاشا کیا کرنا ہے اس ڈیوڈ کا ?
اسکی خاموشی پر سوال کیا گیا تھا
‘” اسکو فلحال رہنے دو کیونکہ میں آ گیا ہوں اسکو بعد میں دیکھ لیں گے پہلے اس پولیس والے کے بارے میں معلومات کرو کیونکہ یہ بہت مشکل پیدا کر سکتا ہے “
وہ پر سوچ انداز بولا تو اس نے ہاں میں گردن ہلا دی تھی ‘
‘” اور ہاں اس کام میں کوئی غلطی نہیں ہونی چاہئے ورنہ تم جانتے ہو “‘
اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑی تو اسکی وارننگ پر شوکت کی پیشانی پر پسینہ آ گیا تھا کیونکہ جانتا تھا کہ تاشا اپنے کام میں غلطی کرنے والو کا کیا حشر کرتا ہے ”
🍁🍁🍁🍁
‘” ڈیڈ اب بتا بھی دیں کیا بات ہے کتنی دیر سے انتظار کر رہا ہوں میں ”
زیان اپنے سامنے سنگل صوفہ پہ بیٹھے جلال شاہ سے مخاطب ہوا لہجے میں بےزاری تھی
اسکو اپنے کسی ضروری کام سے جانا تھا مگر جلال شاہ کے حکم پر وہ سب لوگ اس وقت لاؤنج میں موجود اور انکے بولنے کے منتظر تھے ‘
‘” بتاتا ہوں پہلے مشال کو تو آنے دو کیونکہ میں یہ بات سب کے سامنے کرنا چاہتا ہوں “
انہوں نے مسکراتے ہوئے زیان کی طرف دیکھ کر اک نظر خاموش بیٹھی مسز ناز کی طرف دیکھا تھا انکے دیکھنے پر وہ بھی ہولے سے مسکرا دی تھی ‘
‘” اچھا ایسی بات ہے تو رکے میں جلدی سے اسکو لیکر آتا ہوں تاکہ آپ اپنی بات جلدی سے شروع کریں ”
وہ کہتا اپنی جگہ سے کھڑا ہی ہوا تھا کہ مشال اسکو لاؤنج میں داخل ہوتی نظر آ گئی تھی
‘” لو آ گئی مشال بھی جلدی آؤ مشال تمہارا ہی انتظار ہو رہا تھا
اب ڈیڈ آپ اپنی بات شروع کریں ”
اس وقت وہ بےصبر ہوئے وا تھا ‘
‘” اسکی اتنی جلدبازی پر جلال شاہ مسکراۓ بغیر نا رہ سکے تھے جبکہ مشال ناسمجھی سے ان تینوں کی طرف دیکھنے لگی ‘
‘” کیسی بات بڑے بابا یہ زیان کس بارے میں بات کر رہا ہے?
اس نے سوالیہ نظروں سے جلال شاہ کی طرف دیکھا آج صبح سے ہی گھر کا ماحول الگ سا تھا اوپر سے مسز ناز نے اسکو یونی بھی نہیں جانے دیا تھا ‘
‘” بیٹا میں نے آپکے اور زیان کے لئے ایک فیصلہ لیا ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ دونوں کو اس بات سے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ”
جلال شاہ نے تھوڑا سا رک کر اپنی بات شروع کی تھی
‘” کیسا فیصلہ ڈیڈ ?
زیان ناسمجھی سے مشال کی طرف دیکھ کر اپنے باپ سے سوال کر رہا تھا ‘
‘” میں نے آپ دونوں کا نکاح کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ میری شروع سے خوائش تھی اور مجھے پورا یقین ہے کہ اگر آج میرا بھائی زندہ ہوتا تو اسکو بھی میرے اس فیصلے سے خوشی ہوتی ‘”
‘” انہوں نے جیسے مشال اور زیان کی سر پر دھماکہ کیا تھا
وہ دونوں حیران نظروں سے جلال شاہ کی طرف دیکھنے لگے جبکہ مسز ناز کی نظریں تو مشال کے چہرے پر تھی وہ اسکے تاثرات سے اسکے دلی کیفیت کا اندازہ لگانا چاہ رہی تھی مگر مشال کا انداز بلکل نارمل ہی تھا ‘
‘” کیا ہوا کیا آپ دونوں کو میرے اس فیصلے سے کوئی اعتراض ہے ?
انہوں نے باری باری اک نظر دونوں کی طرف دیکھا
‘” نہیں ڈیڈ ایسی بات نہیں ہے مجھے معلوم ہے آپ میرے لئے جو بھی فیصلہ لیں گے میرے لئے بہتر ہی ہوگا ”
زیان کی رضامندی سے جلال شاہ کی چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی
” مجھے معلوم تھا تم میری کسی بات کو انکار کر ہی نہیں سکتے ہو ‘”
وہ پر جوش انداز میں تھے
‘” اور بیٹا تمھیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے نہ ?
اس بار انکا رخ مشال کی طرف تھا جو نظریں جھکائے شرمائی ہوئی سی بیٹھی تھی جلال شاہ کی بات سن کر شرماتی ہوئی وہاں سے بھاگی تھی
جبکہ اسکے اکرار پر مسز ناز کی آخری امید بھی جیسے ختم ہو گئی تھی انہوں نے ایک گہرا سانس بھرا تھا ”
‘” شرما گئی میری بیٹی چلو مجھے سکون ملا کہ تم دونوں راضی ہو بس ناز تم جلدی جلدی تیاری کرو اگلے ہفتے نکاح رکھ لیتے ہیں رخصتی مشال کی پڑھائی کے بعد کر لیں گے”‘
انہوں نے جیسے سب کچھ پلان کیا ہوا تھا
‘” جی ٹھیک ہے جیسی آپکی مرضی وہ کہتی ہوئی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی دل کا درد بڑھتا جا رہا تھا انکا ”
ابھی انہوں نے لاؤنج سے قدم باہر رکھا ہی تھا کہ تبریز کو دروازے میں کھڑا دیکھ کر وہ اپنی جگہ جم سی گئی تھی وہ اس وقت فل یونیفارم میں تھا ‘
وہ روز کی طرح آج بھی ڈیوٹی جانے سے پہلے ان سے ملنے آیا تھا مگر جلال شاہ کی آواز پر اسکے قدم اپنی جگہ رکے تھے
اسکو اپنے اندر ایک طوفان سا اٹھتا ہوا محسوس اسکا بس نہیں چال رہا تھا کہ وہ ھر چیز کو برباد کر کے رکھ دے ‘
‘” تبریز بیٹا وہ میں ”
وہ اسکی طرف جیسے ہی بڑھی تھی وہ انکو ہاتھ کے اشارے سے روک چکا تھا کیا کچھ نہیں تھا اسکی آنکھوں میں شکوہ غصّہ اس وقت وہ ضبط کی انتہا پر تھا ”
” میری بات سنو بیٹا ”
اسکو واپس سے پلٹتا دیکھ مسز ناز اسکے پیچھے لپکی مگر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا تیزی سے وہاں سے نکلا تھا جبکہ مسز ناز اسکو آوازیں دیتی رہ گئیں تھیں ”
🍁🍁🍁🍁
‘” مہرہ تم یہاں ہو اور ثنا تمھیں پوری یونی میں تلاش کر رہی ہے اس تمہارے نوٹس واپس کرنے تھے ”
وہ جیسے ہی اپنا سامان سمیٹ کر پلٹی تو اسکی کلاسمیٹ مسکراتی ہوئی اس سے مخاطب ہوئی تھی
‘” اچھا کہاں ہے وہ میں چلی جاتی ہوں اسکے پاس ویسے بھی مجھے آج ضرورت تھی ان نوٹس کی ”
وہ تھوڑا جلدی میں بولی کیونکہ آج اسکو کچھ نوٹس بناتے ہوئے اتنی دیر ہو گئی تھی کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا تھا اوپر سے مشال بھی یونی نہیں آئی تھی
‘” وہ مجھے لائبریری کی طرف جاتی ہوئی نظر آئی تھی شاید تمھیں وہیں مل جائے ‘”
اسکے بتانے پر مہرہ لائبریری کی جانب چل دی تھی جو یونی کی پچھلے سائیڈ پر تھی کافی لیٹ ہونے کی وجہ سے بس کچھ ہی سٹوڈنٹز نظر آ رہے تھے وہ جلدی جلدی قدم اٹھاتی لائبریری آئی تو یہاں بھی اسکو کوئی نظر نہیں آیا تھا
‘” کچھ دیر ادھر ادھر تلاش کرنے کے بعد جیسے ہی وہ واپسی کے لئے پلٹی تو اپنے پیچھے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا تھا
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس مونسٹر کو دیکھ رہی تھی جس کو اب تک وہ اپنے دماغ سے نکال نہیں پائی تھی ‘”
” ت…تم ..”
” کانپتی ہوئی آواز میں اس سے بمشکل دو جملے ادا ہوئے تھے
‘” گڈ میموری کافی اچھی ہے تمہاری ”
وہ اسکی تعریف کرتا اپنے قدم اسکی طرف بڑھا چکا تھا جبکہ نظریں اسکے چہرے پر جمی ہوئی تھی ‘
اسکی آواز سن کر مہرہ کو یقین ہو گیا تھا کہ وہ کوئی خواب نہیں دیکھ رہی ہے وہ سچ میں اسکے سامنے تھے اسکا لباس اس دن کی طرح سے بلکل کالا تھا اور چہرے کو اسی طرح نقاب کے پیچھے چھپا رکھا تھا جس سے وہ اسکی صرف آنکھیں دیکھ پا رہی تھی ”
”گہری کالی آنکھیں جنہیں دیکھ کر ایک پل کے لئے مہرہ کو لگا کہ وہ ان میں کہیں کھو جائے گی
یہ سوچ آتے ہی اس نے فورا سے اپنا سر جھٹکا تھا
‘” دیکھیں میں نے اس دن کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا ہے یہاں تک کہ اپنے بابا کو بھی نہیں “‘
اسکے ہر ایک بڑھتے قدم پر وہ اپنے قدم پیچھے لے رہی تھی اسکو لگا شاید وہ اس لئے یہاں آیا تھا
” جبکہ ڈیوڈ اسکے چہرے کو دیکھتا ہوا سوچ رہا تھا کہ کچھ تو خاص تھا اس لڑکی میں جو آج وہ یہاں اسکے سامنے موجود تھا
اسکی آنکھوں کا خوف بدن کا ہولے ہولے سے لرزنا آواز میں ہکلی سی کپکپاہٹ یہ سب اسکو اپنی طرف متوجہ کرتی تھی
”’ تم نے نہیں بتایا یہ تمہاری غلطی تھی اس لئے آج میں یہاں موجود ہوں ”’
وہ اسکو گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا تھا
‘” پر میں نے تو کچھ نہیں کیا ”
وہ اپنا خشک پڑتا حلق تر کرتی ہوئی بولی
‘” Yes But I Can Do Anything What I want”
اس نے اپنی بات سے اسکو ڈرانا چاہا اور اپنے قدم اس سے کچھ فاصلے پر روک لئے تھے
‘” اسکی بات کا مطلب سمجھ کر مہرہ نے جلدی سے اپنے اور دروازے کے درمیان فاصلہ دیکھا پھر اس مونسٹر اور اپنے درمیان کا فاصلہ جو کافی کم تھا
اسکو کوشش تو کرنی ہی تھی یہاں سے بھاگنے کی”
‘” کوشش کر کے دیکھ لو ”
وہ اسکا ارادہ بھانپ چکا تھا
“مطلب یہ شخص اسکی سوچ بھی پڑھ سکتا تھا پریشانی میں مہرہ نے اپنے خشک لبوں پر زبان پھیری اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب ڈیوڈ کی نظر اسکی نیچلے لب کے نیچے موجود اس سیاہ تل پر ٹھہر گئی تھی
اس نے جیسے ہی اس تل کو چھونے لے لئے ہاتھ بڑھایا تو مہرہ تیزی سے وہاں سے بھاگی “‘
‘مگر افسوس ڈیوڈ بجلی کی تیزی سے اسکے پیچھے لپکا اور اسکو کمر سے پکڑ کر زمین سے دو انچ اونچا اٹھا چکا تھا مہرہ کی آواز تو جیسے گلے میں ہی کہیں اٹک کر رہ گئی تھی
“‘ جب تک ڈیوڈ نہیں چاہتا تب تک تم یھاں سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکال سکتی اس لئے ڈارلنگ
‘” Don’t Waste Your Energy “‘
اس وقت وہ اس لڑکی کے ہر ایک انداز سے محظوظ ہو رہا تھا
مہرہ جو ڈری ہوئی تھی اسکی جان ہوا تب ہوئی جب ڈیوڈ مہرہ کی پشت کو اپنے سینے سے لگا کر اسکو دیوار سے لگا چکا تھا “
‘” اب وہ مکمل اسکی قید میں تھی اس مونسٹر کا پورا وزن مہرہ کے اوپر تھا ”
” پلیز …مجھے جانے دو ..میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا”
خود کو اسکے اور دیوار کے بیچ دبا ہوا دیکھ کر مہرہ کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ”
‘” Nice Fragrance ” I Like It”
وہ اسکے بالوں سے آتی شیمپو کی خوشبو کو اپنے اندر اتارتا اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا اسکے ہونٹ اسکی کان کی لؤ کو چھو رہے تھے
جبکہ وہ اسکی بات کو مکمل نظر انداز کر چکا تھا
‘” یہ ..یہ ..کیا کر رہے ہو تم چھوڑو مجھے “
اسکے ہونٹوں کا لمس اپنے کان پر محسوس کر کے وہ پوری جان سے کانپ اٹھی تھی “
” ابھی تو فلحال چھوڑا ہی ہوا ہے لیکن جس دن تم میری قید میں آ گئی اسکے بعد رہائی ناممکن ہے “‘
وہ اپنے سینے سے اسکی پشت پر مزید دباؤ ڈالتا ہوا بولا
مہرہ کا چہرہ ٹھنڈی دیوار سے مکمل لگ چکا تھا سانس لینے میں مشکل ہونے کی وجہ مہرہ کو گھٹن سی محسوس ہونے لگی تھی “
‘” تم کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ ایسا پلیز لیو می “
اسکی آواز میں نمی گھل آئی تھی ..
‘” یہ تو بس شروعات ہے ڈارلنگ اگلی ملاقات کے لئے تیار رہنا'”
” وہ اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا تو مہرہ نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی
جانے کتنا وقت وہ ایسے ہی کھڑی رہی جب کچھ محسوس نہ ہوا تھا اس نے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ کہیں نہیں تھا
اسکو وہاں موجود نہ دیکھ کر مہرہ رکی نہیں تھی جتنا تیز ہو سکا اتنی تیزی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی اسکو ڈر تھا کہیں وہ پھر سے اسکو پکڑ نہ لیں وہ اسکی پہنچ سے دور جانا چاہتی تھی اور یہ بس یہ اسکا خیال تھا کیونکہ اب وہ ڈیوڈ کی پہنچ سے دور جا ہی نہیں سکتی تھی ‘
🍁🍁🍁🍁
‘” ارے ڈیڈ آپ کب آئے ?
وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو لاؤنج میں صوفہ پر بیٹھے اپنے باپ سکو دیکھ کر اسکو خوشگوار حیرت ہوئی تھی
‘” جب تم یہاں موجود نہیں تھے میں تب آیا کہاں تھا نہ کہ گھر پر موجود رہنا میں سب سے پہلے تمھیں دیکھنا چاہتا ہوں'”
وہ شکوہ کن انداز میں اسکی طرف دیکھ کر بولے اور دل میں اپنے خوبصورت جوان بیٹے کی نظر اتاری تھی
‘” بس ڈیڈ ایک ضروری کام یاد آ گیا تھا وہی کرکے واپس آیا ہوں “
وہ صوفہ پر آنکھیں بند کرکے گرنے کے انداز میں بیٹھا تھا بند آنکھوں کے پیچھے پھر سے وہی ڈرا سہم چہرہ گھوم گیا تھا ”
ہر ملاقات کے ساتھ وہ اسکی سوچ بدل رہی تھی
جیسے آج وہاں جانے سے پہلے اسکے ارادے الگ تھے اور اب واپسی پر اسکے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا “
کچھ تو بات تھی اس لڑکی میں ‘
‘” جانتا ہوں تمہارا ضروری کام تمھیں کیا لگتا ہے میں انجان ہوں اس بات سے کہ تم کیا سے کیا بن گئے ہو ”
اس بار یقیناً وہ اسکی کلاس لینے کے ارادے سے آئے تھے
” انکی بات سن کر سکندر نے ایک نظر اپنے باپ کو دیکھا اسکو یاد بھی نہیں تھا کہ وہ لوگ ساتھ کب رہے تھے اسکا باپ بزنس کے سلسیلے میں ملک سے باہر رہتا دو تین مہینے میں صرف ایک دن کے لئے اس سے ملنے آتے تھے ‘
ویسے بھی اس شہر نے انہیں بہت غم دئے تھے اس لئے وہ یہاں نہیں رہتے یہ سوچ سکندر کی تھی ‘
‘” میں جو کچھ بھی بنا ہوں اپنی مرضی سے بنا ہوں اور میں بہت خوش ہوں اس میں ”
وہ سپاٹ نظروں سے انکی ترف دیکھ کر بولا
اسے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کب ایسا بن گیا وہ بس اپنے اندر کا درد غم چھپانے کے لئے دوسرو کو درد دینے لگا تھا
‘” اپنی مرضی سے بنے ہو تو اس دنیا سے اپنی مرضی سے واپس بھی آ جاؤ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے ”
وہ تھوڑا سمبھل کر بولے
‘” یہ اب میری دنیا ہے ڈیڈ اور اس دنیا سے واپسی ممکن نہیں اس لئے بحس کرنا فضول ہے ”
وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا بولا اور عمارہ کو آواز دی جو اسکی ایک آواز پر وہاں موجود تھی
‘” عمارہ کریم سے بولو کہ میری کار میں کچھ سامان پڑا ہوا ہے اسے میرے کمرے میں پہنچا دے اور ہاں کھانا لگوا دیں آج میں اور ڈیڈ ساتھ کھانا کھائے گے
وہ انکو ہدایت دیتا پھر سے اپنے باپ کی طرف پلٹا جو آنکھوں میں ناراضگی لئے اسکی طرف دیکھ رہے تھے
‘” مطلب تم کہنا چاہتے ہو تمہاری دو دنیا ہے ایک میں سب تمھیں ڈیوڈ کے نام سے جانتے ہے اور دوسری میں سکندر ‘
وہ پھر سے بولے تو وہ صرف انکو دیکھ کر رہ گیا تھا
‘” آپ میرا انتظار کریں میں بس کچھ دیر میں واپس آتا ہوں آکر بات کرتے ہیں پھر ‘”
وہ جانتا تھا کہ یہ بات کبھی ختم نہیں ہوگی اس لئے اس نے یہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا تھا جبکہ وہ وہیں صوفہ پر بیٹھے اسکی پشت دیکھتے رہ گئے تھے ”
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )
🔥🔥
