125.4K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

‘” تمھیں ذمہ داری دی ہوئی تھی میں نے اسکی تو پھر تم سے اتنے بڑی غلطی کیسے ہوئی …
” بولو …جواب دو مجھے ”
اس نے اپنے سامنے نظریں جھکائے کھڑی عمارہ کو بےدردی سے زمین پہ دھکا دیکر گرایا تھا
اگر عمارہ خود کو سمبھال نہ لیتی تو یقیناً اسکا سر بری طرح زمین میں لگتا
جبکہ پاس کھڑے توفیق نے غصّے سے اپنی مٹھی بہینچ لی اور ناگوار نظروں سے اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھنے لگا جس کےلئے دوسرو کا درد کوئی معنے نہیں رکھتا تھا
‘” خان صاحب میرا یقین کریں میں ہر پل اس لڑکی پر نظر رکھتی تھی پر مجھے نہیں معلوم اسکو یہاں سے بھاگنے کا موقع کب اور کیسے ملا ”
عمارہ ڈری سہمی نظروں سے اپنے مالک کی طرف دیکھتی ہوئی بولی زندگی میں آج پہلی بار وہ جھوٹ بول رہی تھی
اور اسکو جھوٹ بولتے وقت ذرا بھی بڑا محسوس نہیں ہو رہا تھا
کیونکہ یہ جھوٹ کسی کی زندگی بچانے کے لئے تھا
‘” تمھیں معلوم نہیں ہے تو کس کو ہوگا سارا وقت تو تم اسکے ساتھ رہتی تھی اور تمہارے علاوہ کسی اور کو اس سے ملنے کی اجازت نہیں تھی
” تو پھر کیسے بھاگ گئی وہ یہاں سے ”
تیمور خان نے سختی سے عمارہ کے بالوں کو پکڑا درد کی وجہ سے عمارہ کی چیخ نکل گئی تھی
مگر اسکو پرواہ کہاں تھی
اس وقت تیمور خان کا غصّے سے برا حال تھا یہ بات اسکو برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ اریشہ اسکی قید سے بھاگ چکی ہے
ابھی تک تو اسکا دل بھی نہیں بھرا تھا تو وہ اتنی آسانی سے کیسے اسکو جانے دیتا
‘” خان صاحب میں سچ کہہ رہی ہوں میرا یقین کریں
میں یہاں شروع سے کام کرتی ہوں آپکو دھوکا دینے کی بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ”
تیمور خان کی پکڑ اسکے بالوں پر مزید سخت ہوئی تو عمارہ کے رونے میں روانی آئی تھی
‘” جب وہ کہہ رہی ہے اسکو نہیں معلوم تو نہیں ہوگا معلوم
یہ اس گھر کی ملازمہ ہے مجھے نہیں لگتا یہ اتنی بڑی حرکت کر سکتی ہے ”
کب سے خاموشی سے یہ سب دیکھتے توفیق سے جب برداشت نہ ہوا تو وہ اپنا غصّہ ضبط کرتا ہوا بولا اور تیمور خان کی پکڑ سے اسکے بال آزاد کرواۓ تھے
ویسے بھی اریشہ کو بھگانے میں وہ اکیلی نہیں تھی تو وہ اکیلے سزا کیوں سہتی
‘” اگر اسکو معلوم نہیں ہے تو کس کو معلوم ہوگا وہ لڑکی اتنی آسانی سے یہاں سے بھاگ نہیں سکتی تھی ”
اس بار وہ توفیق کی جانب دیکھتا ہوا دھاڑا
اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اریشہ کو ہی ختم کر دیتا جس نے یہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہو گئی
“” ہو سکتا ہے وہ لڑکی چالاک ہو اتنے دن یہاں رہتے ہوئے اس نے سب سوچ لیا ہو کیسے بھاگنے ہے کیا کرنا ہے ”
توفیق تیمور خان کو اپنی باتوں میں الجھا کر عمارہ کر اوپر اسکا شق ختم کرنا چاہتا تھا
اور شاید وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہو گیا تھا
توفیق غلط کام کرتا تھا مگر اس نے کبھی تیمور خان کی طرح عورتوں پہ ظلم نہیں کیا اور نہ برداشت کرتا تھا یہ سب اس لئے اس نے عمارہ کی مدد کی تھی اریشہ کو بچانے میں
‘” اگر ایسی بات ہے توفیق تو تم اس لڑکی کو تلاش کرو مجھے وہ لڑکی ہر حال میں چاہئے ..سمجھ رہے ہو نہ میں کیا کہہ رہا ہوں ”
وہ اسکا نیا حکم دے رہا تھا
‘” میں شوکت سے بول چکا ہوں وہ اسکے گھر پر نظر رکھے یقیناً وہ یہاں سے نکلنے کے بعد اپنے گھر ضرور جائے گی اسکے گھر پہنچنے سے پہلے مجھے وہ لڑکی چاہئے ”
اسکی بات پر توفیق اور عمارہ نے یکدم سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا
‘” اور تم یہاں کھڑی کھڑی کیا کر رہی ہو شکل گم کرو اپنی اس سے پہلے کہ آج میں اپنا سارا غصّہ تم پر نکال دوں ”
وہ ایک بار پھر زمین پر بیٹھی عمارہ سے مخاطب ہوا تو وہ اسکی بات سن کر تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھی اس بات سے انجان کہ توفیق کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا اور توفیق کی نظروں پر تیمور خان کی نظریں تھی
اسکا شق اتنی جلدی ختم نہیں ہوا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” وہ بچہ نہیں ہے علی اس عمر میں انسان کو اپنے اچھے برے کی سمجھ ہوتی ہے
اسکا مطلب صاف ہے اس نے یہ راستہ خود چنا ہے جو غلط ہے اور ہر غلط کام کی سزا ضرور ملتی ہے ”
وہ فون پر علی سے بات کرتا اپنے پورشن میں داخل ہوا اسکا اب رخ اپنے بیڈروم کی طرف تھا
‘” میں تم سے جیسا کہہ رہا ہوں تم بس وہ کرو اس پر چوبیس گھنٹے نظر رکھو اسکے زریعے ہم تاشا تک بہت آسانی تک پہنچ سکتے ہیں ”
وہ دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تھا
‘” ٹھیک ہے مجھے اپ ڈیٹ کرتے رہنا اللّه حافظ ”
وہ اپنا فون اور پسٹل ٹیبل پر رکھ چکا تھا
‘” مجھے اس دن کا بےصبری سے انتظار ہے جلال شاہ جس دن میں تمہارے سامنے سارے ثبوت کے ساتھ تمہارے بیٹے کی سچائی لیکر آؤ گا اس دن تمہارا چہرہ دیکھنے لائق ہوگا ”
وہ اپنی سوچ میں جلال شاہ سے مخاطب اس وقت وہ اتنا گم تھا کہ اسکو ذرا احساس نہیں ہوا کہ مشال ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھی آئنے میں سے اسکو دیکھ رہی تھی
وہ اپنے کپڑے چینج کرنے کے لئے جیسے ہی وارڈراب کی طرف پلٹا تو مشال کو جاگتا ہوا دیکھ کر حیران ہوا تھا
کیونکہ وہ حسب معمول اس وقت تک سو جاتی تھی
‘” تم ابھی تک جاگ رہی ہو خیریت تو ہے ?
وہ اپنی شرٹ کے بٹنز کھولتا اس سے مخاطب ہوا جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے بال باندھ رہی تھی
‘” ہم تھوڑا پریشان تھے اس لئے نیند نہیں آ رہی تھی ”
وہ سچ میں پریشان تھی اسلئے تبریز کی بات کا بڑی آرام سے جواب دیا گیا
‘” تمہاری پریشانی کی وجہ جان سکتا ہوں ”
وہ اسکی پشت پر بکھرے بالوں کو دیکھتا ہوا بولا سوۓ ہوئے جذبات پھر سے جاگنے لگے تھے
‘” ہم بڑی امی کی وجہ سے پریشان ہے کیونکہ وہ زیان کی وجہ سے پریشان رہتی ہیں ”
وہ تبریز کو جلانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھی
‘” تمھیں کچھ زیادہ ہی فکر نہین رہتی ہے اسکی ”
اسکا جواب سن کر تبریز کو غصّہ تو بہت آیا مگر ضبط کر گیا جب اسے زیان کی حقیقت معلوم ہوگی تب یہ ساری فکر پل میں ختم ہو جائے گی
‘” ہاں ہمیں بہت فکر ہے آپ کو اس سے کیا ”
وہ اسکو مزید جلانے کے لئے بولی ورنہ اس وقت وہ صرف ناز بیگم کی وجہ سے پریشان تھی
اس بار اسکے جواب سے تبریز کی آنکھوں میں ناپسندیدگی جھلکنے لگی تھی
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا عین اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا مشال جو پلٹنے ہی لگی تھی تبریز کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر چونک گئی
اس نے دور ہونا چاہا مگر اپنی پشت پر ڈریسنگ ہونے کی وجہ سے مزید پیچھے نہ ہو سکی
‘” ایسا کیا ہے اس میں جو تمھیں ہر وقت اسکی فکر رہتی ہے اسی کا خیال رہتا ہے ”
وہ اس پر جھکا اور دونوں ہاتھ اسکے گرد ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دئے
اسکے سوال پر مشال کا شیطانی دماغ جاگا اور چہرے پر ایک الگ ہی مسکراہٹ آئی تھی
‘” آپکے بھائی میں وہ سب ہے جو آپ میں نہیں ہے وہ سویٹ ہے وہ ہماری طرح …
اس نے تبریز کو جلانے کے لئے اپنا منہ کھولا ہی تھا مگر اسکی بات مکمل ہوئی جب تبریز نے اس پہ جھک کر اسکی آواز کو خود میں قید کر لیا
مشال نے اپنے ایک ہاتھ سے اسکے کالر کو سختی سے دبوچ لیا جبکہ دوسرا ہاتھ اس نے ڈریسنگ پر رکھا ہوا تھا
‘” تمہاری سانسیں ایسے کبھی نہیں اکھڑی ہونگی کیونکہ یہ صرف میں کر سکتا ہوں ”
وہ اسکے ہونٹوں پر اپنا نرم گرم لمس چھوڑتا ہوا اس سے جدا ہوا
تبریز کی سانسوں کی گرمائش اسکے چہرہ سرخ کر رہی تھی
‘” تمہارے چہرے پر یہ شرم حیا کے رنگ صرف میری وجہ سے آتے ہیں ”
وہ اسکے چہرے پر پھر سے جھکا اور اپنے لب اسکی دونوں آنکھوں پر رکھتا ہوا بولا
مشال میں ہلنے تک کی ہمّت نہیں بچی تھی
‘” میری وجہ سے میری قربت میں تمہارے الفاظ کہیں گم ہو جاتے ہیں ”
وہ اسکے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے چھوتا ہوا بولا
اسکی ناک کو چومنے کے لئے وہ پھر سے اسکے چہرے پر جھکا
مشال کی دھڑکن بےترتیب ہو چکی تھی حلق اور ہونٹ خشک
‘” تمہاری یہ دھڑکنے صرف میری وجہ سے تیز ہوتی ہیں ”
اسکا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا ہوا محسوس کر کے مشال جیسے ہوش میں آئی تھی
‘” یہ ..یہ کیا کر رہے ہیں دور رہ کر بات کریں آپکی وجہ سے ہمیں کچھ نہیں ہوتا سمجھے آپ ”
وہ اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتی ہوئی مضبوط لہجے میں بولی اور اسکو دور دھکیلا مگر تبریز اک انچ بھی اس سے دور نہیں ہوا
‘” اگر ایسی بات ہے تو تمہاری سانسیں اتنی تیزی سے کیوں چل رہی ہیں چہرے پر گھبراہٹ کیوں ہے ”
وہ اسکے کمر کے گرد بازو حائل کرتا اپنے مزید قریب کر چکا تھا
‘” ایسا کچھ نہیں ہے آپکو غلط لگ رہا ہے ”
وہ اس سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی
‘” تو پھر میری قربت میں تمہارے ماتھے پر اتنا پسینہ کیوں آ جاتا ہے ”
وہ دلکشی سے مسکراتا اسکے ماتھے پر آیا پسینہ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہوا بولا
‘” مان لو مسز تبریز کہ میرا لمس میری قربت تمھیں پریشان کرتی ہے اور ایسا اسکے ساتھ تم نے کبھی محسوس نہیں کیا”
وہ اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کرتا پل میں اس نے دور ہوکر اسکو دیکھنے لگا جس کے چہرے پر ابھی بھی گھبراہٹ تھی
‘” ہم نہیں مانتے ”
وہ ضدی لہجے میں بولی جبکہ دل اس بات پر نفی کر رہا تھا
‘” تم میرا لمس ابھی بھی خود پر محسوس کر رہی ہو اور اس بات سے تم انکار نہیں کر سکتی ”
تبریز اپنی بات کہہ کر مسکراتا ہوا وارڈراب کی طرف بڑھا
وہ سہی تو کہہ رہا تھا اسکا لمس وہ اب تک اپنے ہونٹوں ناک اور آنکھ پر محسوس کر رہی تھی گال الگ دہک رہے تھے
اس نے بےدردی سے اپنے ہونٹوں سکو رگڑا مگر اسکا لمس مٹا نہیں پائی تھی
‘” یہ انسان ہمیں پاگل کر دیگا ایک دن اللّه جی ہماری مدد کرو”
بیڈ پر دراز ہونے ہوتی وہ پریشانی سے بولی اب ساری رات نیند کہاں آنی تھی اسکو
🍁🍁🍁🍁
” وہ تم سے محبت کرتا ہے”
”مگر اسکا محبت کرنے کا انداز عام لوگوں سے مختلف ہے ”
عمارہ اپنے سامنے صوفہ پر بیٹھی مہرہ کی طرف دیکھ کر بولی جو انکی بات پر بےیقینی سے انکی طرف دیکھ رہی تھی
” حیرانی ہو رہی ہے نہ میں سمجھ سکتی ہوں لیکن میں تم سے بھی زیادہ حیران ہوئی تھی اسکی آنکھوں میں یہ جذبات دیکھ کر ”
انکی نظریں مہرہ کے حیران چہرے پر ہی تھی
اور مہرہ کو تو اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کیا یہ سب سچ تھا جو وہ کہہ رہی تھی
” جانتی ہو جب وہ تمھیں پہلی بار یہاں لیکر آیا تھا تب مجھے بہت برا لگا تمہاری حالت دیکھ کر مجھے یکدم سے کسی کا خیال آیا جسکے ساتھ میری نظروں کے سامنے بہت برا ہوا مجھے لگا وقت پھر سے دوہرایا جا رہے ہو مگر ”
وہ کچھ پل کے لئے تھی اور مہرہ سانس روکے انکے بولنے کا انتظار کرنے لگی
‘” مگر میں نے سکندر کی آنکھوں میں تمہارے لئے پہلے ہی دن محبت محسوس کر لی تھی اور پھر جب اس نے تم سے نکاح کیا تو مجھے بہت سکون ملا ”
انہوں نے بولتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا تھا
‘” آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہیں کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اگر ایسا ہوتا تو وہ میرے ساتھ ایسا رویہ نہ رکھتا اور نہ اتنا برا کرتا ”
اسکو سکندر کی شروع سے اب تک کی ساری باتیں یاد آئی تھی
جبکہ اسکی بات پر عمارہ مسکرا دی
” تم سے ابھی کہا تو ہے اسکا محبت کرنے کا انداز بلکل الگ ہے ”
وہ عام لوگوں کی طرف نہیں سوچتا وہ سب سے الگ ہے
” اسکی سوچ ‘
‘ اسکی عادتیں ‘
” اسکا ہر انداز ‘
عمارہ بول رہی تھی اور مہرہ بس خاموشی سے انکو سنتی رہی وہ ٹھیک تھی
واقعی اسکا ہر انداز الگ ہے یہ بات مہرہ اتنے دن میں اچھی طرح سمجھ گئی تھی
عمارہ سے اسکو سکندر کے بارے میں باتیں معلوم ہوتی رہتی تھی انہی سے اسکو معلوم ھوا تھا کہ اسکا صرف باپ ہے جو بزنس کے سلسلے میں ملک سے باہر رہتا تھا
‘” تم اسکی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی ہو اور آخری بھی تم ہی ہونگی مجھے اس بات کا پورا یقین ہے
اور رہی بات اسکی محبت کی تو تم خود محسوس کرو تمھیں احساس ہو جائے گا ”
وہ بہت محبت سے اسکے رخسار چھوتی ہوئی بولی تو جانے کتنے ہی رنگ اسکے چہرے پر آئے تھے
تو کیا سچ میں اس نے اسکی محبت میں یہ سب کچھ کیا
مہرہ کو اس دن والا واقع یاد آیا جب اس نے مہرہ کو بچایا تھا
اسکی آنکھوں میں ایک جنون سا تھا اسکو کھو دینے کا ڈر اسکے لہجے کی فکرمندی …کیا کچھ نہیں تھا اس دن سکندر کی آنکھوں میں
”” عمارہ وہ کون تھی جن کے ساتھ آپکی نظروں کے سامنے برا ہوا انکے ساتھ برا کرنے والا کون تھا ?
مہرہ کے دل میں چلتا سوال زبان پر آیا جو عمارہ کو خاموش کر گیا تھا
‘” سہی وقت آنے دو تب بتاؤں گی فلحال میں کچھ بتا نہیں سکتی ”
انہوں نے جیسے بات ختم کی تھی
وہ مجبور تھی ورنہ سب سے پہلے وہ یہ سب اسکو بتاتی جسکے لئے یہ سب جاننا ضروری تھا
مہرہ اپنی سوچ میں اتنی گم تھی کہ وہ عمارہ کے چہرے کے بدلتے تاثرات کو محسوس نہیں کر پائی
جنکے چہرے پر اب خوشی کی جگہ مایوسی اور اداسی چھا گئی تھی
‘” اچھا بیٹا تم بیٹھو میں تمہارے لئے ناشتہ تیار کرواتی ہوں”
انکا دل بھاری ہوا تھا آنسو بہنے کے لئے تیار تھے جنہیں وہ مہرہ کے سامنے بہانا نہیں چاہتی تھی
اس لئے تیزی سے اٹھ کر کچن کی طرف بڑھی
اور مہرہ جو ان سے سکندر کے بارے میں پوچھنے والی تھی انکی جلدبازی پر پوچھ بھی نہیں سکی تھی
🍁🍁🍁🍁
اس نے یہ تیسرا دروازہ کھولا اور پھر مایوسی سے واپس سے بند کرکے آگے بڑھی
یہ گھر اتنا بڑا تھا اور اسکو سکندر کو ڈھونڈھنا مشکل ہو رہا تھا
ویسے بھی اس نے اب تک سکندر کو اسکی جان بچانے کے لئے شکریہ نہیں بولا تھا اور اب عمارہ کی باتیں سن کر اس نے اپنا ارادہ اور پختہ کر لیا تھا اس لئے صبح ہی صبح اسکو تلاش کر رہی تھی
وہ بس دیکھنا چاہتی تھی سکندر کا کیا ری ایکشن ہوتا ہے
ایک اور دروازے کے پاس آکر رکی اور آرام سے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلا اور اس بار وہ سہی کمرے میں آ چکی تھی
مہرہ آہستہ سے قدم اٹھاتی اندر داخل ہوئی
یہ کمرہ بلکل ایک جم کی طرح تھا ہر طرح کی مشین اس کمرے میں موجود تھے
وہ چارو طرف دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی جب اسکی نظر سکندر پر پڑی
جو اپنا پورا وزن اپنے دونوں بازوں اور پیروں پر دئے زمین پر الٹا لیٹا پش اپ کر رہا تھا
وہ اس وقت ٹراؤزر اور بنیان میں مبلوس تھا مہرہ کی نظر تو اسکے مسلز پر ہی اٹک گئی
بنیاں میں اسکا کسرتی جسم پوری طرح سے نمایا ہو رہا تھا جو مہرہ کی گھبراہٹ میں اضافہ کر گیا دل تو پہلے ہی بری طرح سے دھڑک کر اسکو پریشان کر رہا تھا
جبکہ سکندر اسکی موجودگی سے بےخبر نہیں تھا بس ایسا ظاہر کئے پش اپ کرتا رہا
اسکو اپنے کام میں مصروف دیکھ کر مہرہ کو یہاں آنا غلط لگا وہ واپسی کے لئے پلٹی ہی تھی جب سکندر کو ایک لمحہ لگا تھا اسکو زمین پر گرانے میں
یہ سب اتنا جلدی ہوا کہ مہرہ کچھ سمجھ نہ پائی اور اب وہ زمین پر لیٹی ہوئی تھی اور سکندر اسی پوزیشن میں بس فرق اتنا تھا کہ اب اسکے نیچے زمین کی جگہ مہرہ موجود تھی
‘” بغیر اپنی بات کہے واپس کیوں جا رہی تھی ”
وہ اسکے چہرے پر نظزیں جمائے بولا
اسکی گرم سانسیں مہرہ کے چہرے پر پڑ رہی تھی جو اسکی دھڑکنوں کو مزید تیز کر رہی تھی
‘”ہٹو مجھے جانے دو میں تو بس ایسے ہی یہاں آ گئی تھی”
وہ اپنی حالت پر قابو پاتی بمشکل بولی تھی
خود کو کوس بھی رہی تھی آخر وہ کیوں آ گئی تھی اس شیطان کے پاس
‘” جب تک تم یہاں آنے کی وجہ نہیں بتاؤ گی تب تک میں یہاں سے جانے نہیں دوں گا کیونکہ تم یہاں اپنی مرضی سے آئی ہو مگر جاؤ گی میری مرضی سے ”
وہ پھر سے اپنے پش اپ سٹارٹ کر چکا تھا
جب وہ مہرہ کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاتا تو وہ اپنی سانس روک لیتی
اسکے چہرے کا پسینہ مہرہ کے چہرے پر گر رہا تھا
‘” جلدی بولو میں انتظار کر رہا ہوں ”
اس بار وہ اپنا رخسار اسکے رخسار سے ٹچ کرتا ہوا بولا تو مہرہ یکدم گڑبڑا سی گئی تھی
‘” وہ میں …تم نے اس دن تم نے میری جان بچائی تھی تو میں ….”
‘” تم تم میرا شکریہ کرنے آئی تھی بڑی جلدی خیال نہیں آ گیا تمھیں اس بات کا ”
اسکا انداز طنزیہ تھا جو مہرہ کو شرمندہ کر گیا
اسکے چہرے پر شرمندگی دیکھ کر وہ اس پر سے اٹھا اور ساتھ میں مہرہ کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا
‘” ہاں ..وہ میں بس ..
وہ مزید کچھ کہتی جب اس نے ایک جھٹکے میں اسکے گلے سے دوپٹہ نکلا
مہرہ کا حلق خشک ہوا تھا
‘” شکریہ کرنے کے اور بھی بہت طریقے ہوتے ہیں ”
وہ اسکے دوپٹے سے اپنے چہرہ پر آیا پسینہ صاف کرتا ہوا بولا ذو معنی لہجے میں بولا
مہرہ پریشانی میں اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسلنے لگی
‘” اور جب تم یہاں آ ہی گئی ہو تو کیوں نہ میں اپنے انداز میں تم سے شکریہ وصول کروں ”
وہ اسکا دوپٹہ ایک طرف ڈالتا اسکی جانب بڑھا
آنکھوں کہ رنگ یکدم بدلہ تھا
اس کا ارادہ بھانپ کر مہرہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی مگر وہ کہاں اس سے بھاگ سکتی تھی
سکندر نے اسکو بازو سے پکڑ کر اسکو دیوار سے لگایا
‘” جب تم مجھ سے بھاگ نہیں سکتی تو کوشش کیوں کرتی ھو ڈارلنگ ”
وہ اسکو گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا اور دیوار کے گرد اپنے ہاتھ رکھ کر اسکو اپنی قید میں لے چکا تھا
‘” دیکھو سکندر مجھے جانے دو میں بس ….
مہرہ نے احتجاج کے طور پر جیسے ہی اپنے لب کھولے تھے سکندر جو اسکے لبوں پر نظریں جمائے ہوئے تھا مہرہ کے بولنے پر اس پہ جھکا اور اپنے لب اسکے کپکپاتے لبوں پر رکھ دئے
اسکی اس گھستاخی پر مہرہ نے سختی سے اسکے بنیان کو دبوچ لیا
مگر سکندر اسکے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتا اسکی انگلیوں کو اپنی انگلیوں میں پھنسا کر دیوار سے لگا چکا تھا
اسکے انداز میں اتنی شدّت تھی کہ مہرہ کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
ضبط کی وجہ سے اسکی آنکھوں سے آنسو نکلے تھے اور سکندر نے جب اسکے آنسو کی نمی اپنے چہرے پر محسوس کی تو وہ پل میں اس سے جدا ہوا
مہرہ کا تنفس بگڑ چکا تھا ….وہ گہرے گہرے سانس لیتی اسکی طرف دیکھنے سے گریز کر رہی تھی
جبکہ سکندر اسکو دکھتا ہوا یہ سوچ رہا تھا ایک کس سے اسکا یہ حال تھا وہ اسکے پیار کی بارش تو برداشت ہی نہیں کر پاۓ گی
‘” ویسے تمھیں یاد نہیں پر میں نے تم سے کہا تھا تمہارے جسم تمہاری روح پر میرا حق ہے یہ میری ہے
اس لئے اس دن میں نے تمہاری نہیں اپنی جان بچائی تھی ”
اسکی غلطفہمی دور کرنا ضروری سمجھا
مگر مہرہ تو جیسے اسکے الفاظ میں ہی کہیں کھو گئی تھی اپنی حالت سے بےخبر بس ایک ٹک اسکو دیکھنے لگی
‘” اگر تمہارا ارادہ آج سارا دن اسی طرح کھڑے کھڑے رہ گزارنے کا ہے تو مجھے بتاؤ میں اسے بہتر طریقے سے گزار سکتا ہوں
جس میں کھڑا بھی نہیں رہنا پڑے گا “
اسکی ذو معنی بات پر مہرہ کا چہرہ لال ٹماٹر جیسا ہو گیا اسکی بےباک نظریں مہرہ کے وجود پر جمی ہوئی تھی
اس نے گھبرا کر اس سے اپنا آپ چھڑایا اور پھر سے دروازے کی جانب لپکی مگر سکندر کی آواز پر اسکے قدم پھر سے رکے تھے
“‘ تمھیں اسکے بغیر صرف میرے سامنے رہنے کی اجازت ہے آئندہ خیال رکھنا ”
وہ زمین پر پڑا اسکا دوپٹہ اٹھا کر اسکے کندھے پر ڈالتا ہوا بولا
لہجہ تھوڑا سخت بھی تھا
اور اس بار مہرہ وہاں رکی نہیں تھی اپنا دوپٹہ سمبھالتی اس کمرے سے نکل گئی
وہ تو اس سے بس شکریہ کہنے آئی تھی مگر بدلے میں وہ اس سے بہت کچھ وصول کر گیا تھا
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )