No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
” تم لوگ یہاں سونے آتے ہو یا ڈیوٹی کرنے ایک قیدی کو سمبھال نہیں سکے تم لوگ ”
اس وقت اسکی دہاڈ پورے پولیس اسٹیشن میں گونج رہی تھی سارے انسپکٹر اسکے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے ہوئے تھے اور وہ انکو لال آنکھوں سے گھور رہا تھا
” میں تم لوگوں سے کچھ پوچھ رہا ہوں کیا کر رہے تھے تم سب اس وقت کیا ایسے ہی ڈیوٹی کرتے ہو یہی سب سیکھا ہے تم لوگوں نے “
آج اسکا غصّہ اپنی حد پار کر رہا تھا آج پولیس اسٹیشن آنے کے بعد جو خبر اسکو ملی اسکے بعد اسکا ردعمل یہی ہونا تھا بات تھی ہی غصّہ کرنے والی تاشا کا آدمی انکی حراست سے فرار ہو چکا تھا
‘” سکندر اس میں کسی کی کوئی غلطی نہیں ہے ہم سب پر حملہ ہوا تھا ہمارے کانسٹیبل بھی زخمی ہے پوری پلاننگ کے ساتھ ہوا یہ سب “
علی نے آگے بڑھ کر اسکا غصہ کم کرنا چاہا تھا وہ جانتا تھا اس آدمی کے بھاگ جانے سے بہت کچھ انکے ہاتھ سے نکل چکا ہے بہت کچھ معلوم کر سکتے تھے وہ اس آدمی زریعے مگر افسوس
” جب یہ سب ہو رہا تھا تم لوگ اسی وقت مجھے انفارم کر دیتے سب کچھ ہو گیا تب مجھے خبر دی جا رہی ہے ”
اس بار اسکی توپو کا رخ علی کی طرف ہوا تھا
‘” ہمیں اس وقت سمبھلنے کا موقع نہیں ملا اس سے پہلے کہ ہم کچھ ایکشن لیتے ہم پر فائرانگ شروع چکی تھی تاشا بہت شاطر آدمی ہے اسکو خطرہ تھا کہ ہم لوگوں کو کچھ معلوم نہ ہو جائے اس لئے یہ سب کیا اس نے ”
صرف اک علی ہی تھا جو اسکے غصّے کو کنٹرول کر سکتا تھا اور وہ کچھ حد تک خاموش بھی ہو گیا تھا کیونکہ اس میں غلطی ان سب کی بھی نہیں تھی
‘” تم پریشان نہ ہو تبریز ہمارے ہاتھ سے ابھی بھی کچھ نہیں نکلا ہے میرا ایک آدمی اس پر نگرانی کر رہا ہے اور اس نے مجھے کچھ انفارمیشن بھی دی ہے تاشا کے بارے میں ”’
اس نے اسکے کیبن میں کھڑے انسپکٹر کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا کیونکہ وہ یہ بات صرف اسکے سامنے کرنا چاہتا تھا
اسکی بات پر تبریز پوری طرح سے علی طرف موتجہ ہوا
‘” کیسی انفارمیشن “
وہ یکدم سے اسکی طرف پلٹا تھا اور سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگا
‘” تاشا واپس آ چکا ہے اور دو دن بعد اسکی کوئی میٹنگ ہونے والی ہے دوسرے شہر میں اسکا مطلب یہ ہے کی ایک اور موقع ہے ہمارے پاس ”
علی اسکو کچھ پیپر اور فوٹوگراف دکھاتا ہوا بولا جسے دیکھ کر تبریز کی آنکھوں میں یکدم سے غصّہ آیا اور اسکی تنی ہوئی رگے واضح طور پر نظر آنے لگی
”’ ہممم تو پھر تم تیاری کرو ہم آج رات ہی وہاں جا رہے ہیں باقی کی پلاننگ ہم لوگ وہیں کریں گے دو دن ہے ہمارے پاس اپنے پلان کے بارے میں سوچنے کے لئے “‘
وہ ساری چیزے ایک سائیڈ پر رکھتا ہوا بولا تھا جبکہ علی اسکی بات پر تھوڑا پریشان ہوا تھا
‘” لیکن ہم آج کیوں جا رہے ہیں دو دن ہیں ہمارے پاس “
علی کو اسکا اتنا جلدی جانا تھوڑا عجیب لگا تھا
‘” دشمن پر حملہ کرنے کے لئے اسکے قریب جانا ہوگا تاکہ ہمارا وار کامیاب ہو “
وہ اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اسکی طرف دیکھ کر بولا اس وقت اسکے چہرے پر ایک الگ ہی چمک تھی شاید اپنے دشمن پر وار کرنے کی خوشی تھی
‘” ٹھیک ہے میں سب انتظام کرکے تمھیں انفارم کر دیتا ہوں آج رات ہم لوگ اسی شہر میں ہونگے “
اسکی بات کا مطلب سمجھ کر علی سر ہلاتا ہوا وہاں سے
نکلا تھا اسکے جانے کے بعد تبریز بہت دیر تک اپنی سوچوں میں بیٹھا رہا اور اس وقت اسکی سوچوں میں مشال تھی تین دن بعد نکاح تھا اور دو دن کے لئے وہ مشن کے لئے جا رہا تھا اگر مشال نے انکار نہ کیا تو وہ واپس آکر ہی کچھ کر سکتا تھا
کیونکہ جتنی مشال اسکے لئے اسکی زندگی میں ضروری تھی اسی طرح اسکے لئے یہ کیس بھی بہت اہم تھا “
🍁🍁🍁🍁
“کیا یہ کیا کہہ رہی ہو تم سچ میں ایس پی صاحب تمہاری محبت میں گرفتار ہیں اور تمھیں خبر بھی نہیں ہوئی ”
اسکی بات سن کر مہرہ بےیقینی سے مشال کی طرف دیکھ رہی تھی جو کچھ بھی اس نے بتایا وہ سب پر یقین کرنا اسکے لئے مشکل تھا
‘” ہاں یار تم نہیں جانتی کس انداز میں اس کھڑوس پولیس والے نے ہم سے بات کی ایک پل کے لئے تو لگا کہ ہمارا دل بند ہو جائے گا ”
مشال سچ میں اپنے دل پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی جو اس وقت معمول پر دھڑک رہا تھا
‘” مجھے تو اب تک یقین نہیں آ رہا ہے مشال تمہارا وہ کزن ایسا بھی ہو سکتا ہے اب کیا کروگی تم ?
مہرہ اسکے ہاتھ پر لگی مہندی کو دیکھ کر بولی جو ابھی گلی تھی
کل اسکا نکاح تھا اور آج وہ مشال سے ملنے آئی تھی یا یوں کہنا بہتر رہے گا کہ وہ مشال کے بلانے پر آئی تھی ورنہ مہرہ شام کے بعد گھر سے نہیں نکلتی تھی
‘” ہمیں نہیں پتہ مہرہ ہم کیا کریں اس بارے میں ابھی تک بڑی امی کو بھی نہیں بتایا ہے اگر ہم بتا بھی دیں تو وہ ہمیں نہیں لگتا کہ وہ انکی بات سنے گے “
اسکے چہرے پر پریشانی صاف نظر آ رہی تھی مشال کا چہرہ دیکھ کر مہرہ کو اس پر بہت ترس آیا تھا
‘” چلو چھوڑو تم اپنے اس کزن کے بارے میں مت سوچوں اور اچھا کیا جو تم نے آنٹی کو نہیں بتایا کچھ باتیں نہ بتانا ہی بہتر ہوتا ہے “
اس نے اپنی پیاری سی دوست کی پریشانی کم کرنی چاہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اپنے نکاح والے دن پریشانی میں رہے
‘” میں یہی تو نہیں کر پا رہی ہوں مہرہ ہمیں ڈر لگ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ کچھ برا نہ ہو جایں ایک عجیب سا ڈر ہے دل میں”
اس وقت وہ تبریز کی باتوں کو سوچ کر بہت پریشان تھی ویسی تو وہ اس دن کے بعد سے اسکو نظر نہیں آیا تھا پھر مسز ناز سے معلوم ہوا کہ وہ اس شہر میں ہی موجود نہیں ہے
یہ سن کر مشال کو سکون تو ملا تھا مگر تبریز کی اس خاموشی سے بھی ڈر لگ رہا تھا کہیں یہ خاموشی طوفان کے آنے سے پہلے کی خاموشی تو نہیں تھی ‘
‘” اب تم کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہو کچھ نہیں ہوگا ایک بار تمہارا نکاح ہو جائے پھر ایس پی صاحب بھی خود سمجھ جایں گے کہ تم انکی نہیں زیان کی قسمت میں تھی ”
وہ اسکا رخسار کھینچتی ہوئی بولی تو ہاتھوں میں مہندی لگی ہونے کی وجہ سے مشال بس اسکو گھور کر رہ گئی تھی
” اگر اس وقت ہمارے ہاتھوں میں مہندی نہ لگی ہوتی تو ہم تمھیں بتاتے پتہ ہے کتنا درد ہو رہا ہے ہمیں “
وہ مضوعی خفگی سے اسکی طرف دیکھ کر بولی تو اس مہرہ نے اسکو پریشان کرنے کے لئے پھر سے اسکا رخسار زور سے کھینچا تھا
‘” کر لو تم ہمیں پریشان ہم نے بھی تم سے گن گن کر بدلہ نہ لیا تھا ہمارا نام بھی مشال شاہ نہیں “
اس بار وہ سچ میں غصّہ ہوئی تھی
‘” مشال شاہ نہیں مشال زیان شاہ بولنے کی عادت ڈال لو لڑکی اب تم ”
وہ بڑی بزرگ عورتوں کی طرح بولی تو اس بار اسکے انداز پر مشال ہنس دی تھی اور مہرہ یہی تو چاہتی تھی کہ وہ اپنی پریشانی بھول جائے اور وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی ہوئی تھی
ویسے تو مہرہ کو تبریز میں کوئی برائی نظر نہیں آتی تھی بلکہ اسکو تبریز زیان سے زیادہ اچھا لگتا تھا پولیس کی یونیفارم میں بہت شاندار لگتا تھا مہرہ نے بس اسکو ایک بار ہی دیکھا تھا مگر پہلی بار میں ہی وہ امپریس ہو گئی تھی بس ایک مشال کو ہی پسند نہیں آتا تھا
‘” اچھا مجھے اب اجازت دو بابا انتظار کر رہے ہونگے میرا “
تھوڑی دیر بعد مہرہ وقت دیکھتی ہوئی کھڑی ہوئی تھی اسکو کافی وقت ہو گیا تھا یہاں آئے ہوئے
‘” لیکن تم کل جلدی آ جانا ہمیں تمہاری بہت ضرورت ہے کل”
اسکے کھڑے ہوتے ہی مشال فورا بولی تھی
‘” ٹھیک ہے تم فکر نہ کرو میں جلدی آنے کی کوشش کرونگی اور کوئی فالتو سوچیں دماغ میں مت لاؤ سمجھ گئی “
وہ اسکے گال پر کس کرتی ہوئی بولی تو مشال اسکی بات پر سر ہلا کر رہ گئی تھی اسکے اکرار پر مہرہ اجازت لیتی اسکے کمرے سے نکل گئی تھی “
🍁🍁🍁🍁
‘” مشال کے گھر سے نکل کر اسکا رخ اب بس اسٹینڈ کی طرف تھا مسز ناز اور مشال نے بہت ضد کی وہ اسکو ڈرائیور کے ساتھ بھیج دیں گے مگر وہ انکو انکار کر گئی تھی
اسکو کار سے آنے جانے کی عادت نہیں تھی اور نہ وہ ایسی عادت ڈالنا چاہتی تھی وہ اپنی اس زندگی میں بہت خوش تھی اپنے بابا کے ساتھ کبھی مشال کی گاڑی اور اسکا گھر اسکا لائف سٹائل دیکھ کر وہ احساس کمتری کا شکار نہیں ہوئی تھی
وہ اپنا حجاب صحیح کرتی تیز تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھ رہی تھی مشال کے ساتھ باتیں کرتے وقت کا انداز ہی نہیں ہوا تھا آسمان پر اب کہیں کہیں تارے نظر آنے لگے تھے وہ تیزی سے قدم آگے بڑھا رہی تھی جب اسکو لگا کہ کوئی اسکا پیچھا کر رہا ہے
یہ احساس آتے ہی اسکے ہاتھ پیروں میں کپکپاہٹ سی شروع ہو گئی تھی اس نے اپنے قدم مزید تیز کئے تھے مڑ کر دیکھنے کی اس میں ہمّت نہیں تھی
وہ ابھی کچھ قدم آگے ہی چلی تھی کہ جب کسی نے پیچھے سے آکر اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسکو اپنے ساتھ کھینچتا ہوا کار کی پچھلی سائیڈ پر ڈالتا دروازہ بند کرکے خود بھی بیٹھ چکا تھا
یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ مہرہ کچھ نہیں کر پائی تھی یہاں تک کہ اسکا حجاب بھی کھل کر سڑک پر گر چکا تھا اور بال پونی سے آزاد ہو گئے تھے ‘
‘” کون ہیں آپ اور مجھے کہاں ”
وہ جب سمبھل کر پلٹی تھی اور اس سے پہلے کہ مزید اور کچھ کہتی اپنے برابر بیٹھے شخص کو دیکھ کر اسکا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا
‘” وہی نقاب کے پیچھے چھپی گہری کالی آنکھیں وہ بھولی نہیں تھی
‘” Did You Miss me My DARLING?
ڈیوڈ کی بھاری آواز کار میں گونجی جو مہرہ کے خوف میں اضافہ کر گئی تھی
‘” آج وہ پھر سے کسی کے جسم سے اسکی سانسیں ختم کرنے جا رہا تھا جب اسکی نظر سڑک پر چلتی مہرہ پر پڑی اسکو دیکھ کر ایک دلکش مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کو چھوا تو وہ اپنی کار کی سپیڈ کم کرتا اسکا پیچھا کرنے لگا پھر موقع دیکھ کر کم رش والی جگہ پر کار کو روک کر اسکو اپنی گرفت میں لے چکا تھا
مگر اس بیچ اپنے چہرے کو ماسک کے پیچھے چھپانا نہیں بھولا تھا
‘” کیوں کر رہے ہو تم یہ سب آخر تمھیں مجھے پریشان کر کے کیا ملتا ہے ?
وہ اپنے خوف سے کانپتے وجود کو اسکی پہنچ سے دور کرتی کھڑکی سے جا لگی تھی
سلکی براؤن بال چہرے پر بھکرے ہوئے تھے جبکہ دوپٹہ بےترتیب سے ایک کندھے پر پڑا تھا ڈیوڈ گہری نظروں سے اسکا جائزہ لے رہا تھا
‘” اگر تمھیں لگتا ہے کہ یہ تھوڑا سا فاصلہ اور یہ چھوٹی سی کار تمھیں مجھ سے بچا سکتی ہے تو تم غلط سوچ رہی ہو “
وہ اسکی بات کو مکمل نظر انداز کرتا اسکے دور جانے پر مذاق بنا رہا تھا جبکہ مہرہ ڈری سہمی سی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی وہ صحیح تو کہہ رہا تھا وہ اسکی پہنچ سے دور نہیں تھی
‘” دیکھو مجھے جانے دو ورنہ میں چلاؤ گی “
اس نے اپنی طرف سے معصوم سی دھمکی دی تھی جبکہ وہ خود بھی جانتی تھی کہ شیشے بند ہونے کی وجہ سے اسکی آواز کار سے باہر نہیں جا سکتی ہے
مہرہ کو ایک لمحے کے لئے مہرہ کو لگا کہ جیسے اسکی آنکھیں مسکرا رہی ہو
اسکو یوں ہی خاموش دیکھ کر مہرہ نے اپنی بات پر عمل کرنے کے لئے جیسے ہی منہ کھولا تو ڈیوڈ تیزی سے اسکی دونوں ٹانگوں کو کھینچ کر اسے سیٹ پر لٹا چکا تھا
اسکے اس عمل پر مہرہ گھبرائی تھی
‘” چلاؤ زور سے چلاؤ مگر اسکے بعد میں جو تمہارے ساتھ کرونگا جسکو کرتے وقت ڈارلنگ میں کافی انجوۓ کرونگا یقیناً وہ تمھیں پسند نہیں آئے گا ”
وہ اس پر جھکتا ہوا اپنے اور اسکے بیچ باقی کا فاصلہ بھی مٹا چکا تھا
‘” پلیز مت کرو میں نہیں چلاؤ گی بس جانے دو مجھے “
جب اس نے ڈیوڈ کا ہاتھ کا لمس اپنی ٹانگوں پر محسوس کیا تو مہرہ بےبسی سے بولی آنکھیں نم ہوئی تھی
‘” میری پوری کوشش رہتی ہے کہ میں اپنی حد پار نہ کروں مگر کچھ تو خاص ہے تم میں “
اسکی نظریں پھر سے مہرہ کے ہونٹوں پر آ ٹھہری تھی وہ مکمل اسکی گرفت میں تھی اپنے دل کی خوائش پوری کرنے سے کون تھا جو اسے روک سکتا تھا خود مہرہ بھی نہیں
یہ سوچ آتے ہی وہ اسکے چہرے کے اوپر جھکا اور اپنا چہرہ اسکے بالوں میں چھپا گیا تھا
‘” یہ کیا کار رہے ہو پیچھے ہٹو “
اسکے خود سے اتنے قریب دیکھ کر مہرہ نے پوری طاقت سے اسکو دور دھکیلا تھا اس چکر میں ڈیوڈ کا ماسک بھی تھوڑا سا ہٹ چکا تھا جسکو اس نے مہرہ کی نظر پڑنے سے پہلے ٹھیک کیا تھا
‘” بہت جوش ہے تم میں مگر یہ مت بھولو میں دو منٹ میں تمہارا یہ جوش ختم کڑ سکتا ہوں “‘
وہ مہرہ کو کندھوں سے تھام کر اپنے قریب بیٹھاتا ہوا بولا تھا
مہرہ کی آنکھیں آنسو سے بھری ہوئی تھی اور پہلی بار ڈیوڈ کو کسی کا رونا پسند نہیں آیا تھا
“‘ تم آخر مجھ سے کیا چاہتے کیا ہو کیوں نہیں بتاتے جینا حرام کر دیا ہے تم نے میرا “‘
وہ تھک چکی تھی روز روز کے اس کھیل سے
‘” اصل جینا حرام تو تمہارا تب ہوگا جب تم میری چاہت میری خوائش کو پورا نہیں کروگی
اور میری چاہت کیا ہے ڈارلنگ یہ بہت جلد بتا دونگا تمھیں “
اس بار وہ اپنی پسندیدہ جگہ اسکے ہونٹ کے نیچے موجود تل کو چھوتا ہوا بولا
جبکہ اسکے الفاظ میں چھپی تپیش کو محسوس کر کے مہرہ کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹی بجتی ہوئی محسوس ہوئی تھی تو اس نے اپنے کا رخ موڑ لیا تھا
‘” جاؤ یہاں سے اس سے پہلے کہ میں اپنا ارادہ بدل لوں”‘
وہ اس بار سیدھا بیٹھتا ہوا بولا اور مہرہ اسے تو اجازت ملنے کی دیر تھی تیزی سے اس نے کار کا دروازہ کھولا تھا
حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ آرام سے کھل بھی گیا تھا مطلب اگر وہ پہلے کوشش کرتی تو بھاگ سکتی تھی “
وہ کار میں آرام سے بیٹھا اسکو کار سے نکلتا اور پھر سڑک سے اپنا حجاب اٹھاتا دیکھتا رہا جب تک وہ اسکی نظروں سے دور نہیں ہوئی وہ ایسے ہی بیٹھا رہا پھر پچھلے سیٹ سے اٹھ کر ڈرائیوانگ سیٹ پر آ بیٹھا تھا “
🍁🍁🍁🍁
