No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
وہ بہت ہی آہستگی سے دروازہ بند کرتا اپنے بیڈروم میں داخل ہوا نظریں بیڈ پہ سوئی اپنی بیوی پر تھی جو دنیا سے بےخبر نیند کے مزے لے رہی تھی
اسکو یوں ہی سوتا دیکھ تبریز کے ہونٹوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
تبریز کی آنکھوں کے سامنے رات کا سارا منظر گھوم گیا کیسے وہ خود سے اسکے قریب آئی تھی وہ بہت خوش تھا مشال کو اسکی محبت پہ یقین آ گیا تھا بلکہ وہ اب خود سے اتنی ہی محبت کرنے لگی تھی
یہ احساس تبریز کو ایک الگ ہی دنیا میں لیکر جا رہا تھا
وہ یونہی اس پہ نظریں جمائے بیڈ پہ اسکے قریب آ بیٹھا اپنے ہاتھ میں موجود گلاب کے پھول کو اسکے چہرے کے پہ پھیرنے لگا
آنکھوں میں شرارتی تھی
مشال جو گہری نیند میں تھی گلاب کی خوشبو جب اسکی یک سے ٹکرائی تو نیند میں اسکے چہرے کے تاثرات بدلے تھے
جیسے اسے یہ خوشبو پسند آئی ہو
اسکے چہرے کے تاثرات کو بدلتے دیکھ تبریز مسکراتا ہوا اسکے اوپر جھکا تھا
‘” حسین رات کی خوبصورت صبح ہو چکی ہے جاناں اب تو اٹھ جاؤ ”
اس نے بہت آہستہ آواز میں اسکے کان میں سرگوشی کرتا پھر سے اپنا چہرہ اوپر اٹھا کر اسکو دیکھنے لگا
اسکی اتنی قربت سے مشال کی نیند ڈسٹرب ہو چکی تھی پلکوں کی کپکپاہٹ بتا رہی تھی کہ وہ جاگ چکی ہے
اسکی پلکوں کی کپکپاہٹ کو محسوس کر کے تبریز نے مسکراتے ہوئے اس گلاب کے پھول کو اسکے سینے پہ رکھتا پھر سے اسکے اوپر جھکا
اپنے اوپر دباؤ اور اسکے لمس کو محسوس کر کے مشال نے یکدم سے اپنی آنکھیں کھولی تھی
‘” کسی کو نیند میں ڈسٹرب کرنا اچھی بات نہیں ہے کیا یہ بات نہیں جانتے آپ “‘
اسکی بڑھتی گستاخیوں کو دیکھ کر مشال نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کیا تھا
‘” اسے ڈسٹرب کرنا نہیں جاناں پیار کرنا کہتے ہیں کیا یہ بات نہیں معلوم تمھیں ”
وہ گلاب کے پھول کو اسکے ہونٹوں سے مس کرتا اس بار اسکے ہونٹوں پہ جھکنے لگا تھا جب مشال اپنا چہرہ موڑ گئی تھی
‘” پیار کرنے کا بھی ایک وقت ہوتا ہے پر آپ تو …”
اس نے اپنی بات بیچ میں روکی تھی
‘” تو پھر تم یہ بات جان لو کہ ایس پی تبریز کے پیار کا کوئی بھی وقت نہیں ہے جب میں مجھے تم پر پیار آئے گا میں خود کو روکنے کی کوشش بلکل نہیں کروں گا جیسے اس وقت مجھے تم پہ بہت پیار آ رہا ہے ”
وہ اسکی شہ رگ کو چومتا ہوا بولا
اور اسکے ہاتھوں کے انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھسائی تھی
‘” یہ کیا کر رہیں ہیں آپ چھوڑے ہمیں آج آپکو ڈیوٹی نہیں جانا ہے ”
اسکو پھر سے گستاخیاں کرتا دیکھ مشال گھبرائی تھی
ویسے بھی اس شخص سے اپنی جان چھڑانا مشکل تھا
‘” جانا ہے مگر پہلے اپنے شوہر ہونے کی ڈیوٹی تو پوری کر لوں ”
وہ شرارت سے کہتا اسکی گردن پہ جھکا
جابجا اس پہ اپنا لمس چھوڑتا وہ مشال کی جان ہوا کر رہا تھا اسکی انگلیوں کو آزاد کرتا وہ اب اسکی کمر پہ اپنی پکڑ سخت کر چکا تھا
‘” تبریز …ہمیں بھی تو اپنی بیوی ہونے کی ڈیوٹی کرنی ہے…اس لئے جانے دیں نہ ”
اسکی گستاخیاں مزید بڑھتا دیکھ اس نے کمزور سا بہانا تلاش کیا تھا
‘” یہ تم اپنی بیوی ہونے کی ہی تو ڈیوٹی پوری کر رہی ہو اس لئے اب خاموش رہو ”
اس بار وہ اپنا چہرہ اوپر اٹھا کر اسکو وارن کر رہا تھا
کیونکہ اسکا ارادہ فلحال اسکو چھوڑنے کا نہیں تھا
‘” پر ہمیں ناشت …
وہ مزید کچھ بولتی تبریز اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھتا ہوا اسکو اپنے طریقے سے خاموش کروا چکا تھا
کمرے کی اس معنی خیزی خاموشی کو تبریز کے بجتے فون نے توڑی
‘” تبریز آپکا فون ”’
جب وہ اسکے لبوں کو آزاد کرتا پھر سے اسکے چہرے پہ جھکا تھا مشال نے اسکا دھیان فون کی طرف دلانا ضروری سمجھا
‘” آنے دو …میرا یہ وقت صرف تمہارا ہے ..کسی کی وجہ سے میں ڈسٹرب نہیں ہونا چاہتا ”
وہ باری باری اسکے دونوں رخسار کو چومتا ہوا بولا
اس بار مشال کے ہونٹوں پہ شرمیلی سی مسکراہٹ آئی تھی
کتنی ہی دیر وہ دونوں سحر انگیز لمحات میں کھوئے رہے جب پھر سے تبریز کا فون بجا تھا
‘” کیا مصیبت آ گئی ہے …سکون نہیں ہے دو پل کو بھی ”
اس بار فون کی آواز پہ وہ سخت جھنجھلاتا ہوا بیڈ سے اٹھا اور ڈریسنگ پہ رکھا اپنا فون اٹھایا
جبکہ اسکی جھنجھلاہٹ پہ مشال اپنی ہنسی ضبط کرتی جلدی سے بیڈ سے کھڑی ہوئی
‘” یہ مت سمجھنا تم بچ گئی ہو رات کو اچھی طرح سے اپنی ڈیوٹی پوری کرونگا تیار رہنا ”
مشال کو واشروم میں جاتا دیکھ وہ اس سے مخاطب ہوا
آنکھوں میں ابھی بھی شرارت تھی
جبکہ مشال مسکراتی ہوئی واشروم میں گھس گئی
اسکے جانے کے بعد تبریز نے علی کو کال کی پتہ نہیں وہ صبح صبح اسکو کیوں کال کر رہا تھا
اگر کوئی ضروری بات نہ ہوئی تو آج وہ اسکو اچھا خاصا سنانے کا ارادہ رکھتا تھا
🍁🍁🍁🍁
”’ آپ جانتی بھی ہیں عمارہ کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ”
عمارہ کی پوری بات سن کر وہ دھاڑا
رگے تن گئی تھی
غصّے کی وجہ سے آنکھیں سرخ انگارہ ہو چکی تھی
جبکہ اسکا غصّہ دیکھ کر عمارہ کو اس سے وحشت سی محسوس ہوئی تھی
‘” جواب دیں مجھے خاموش کیوں ہو گئی ہیں آپ ”
آج زندگی میں پہلی بار وہ ان سے سخت انداز میں بات کر رہا تھا
ورنہ انکے ساتھ اسکا رویہ ہمیشہ ہی نرم رہا تھا
‘” بیٹا مجھے نہیں معلوم کچھ بھی رات تک ھم ساتھ ہی تھے پھر اسکے کہنے پہ میں آرام کرنے چلی گئی اسکے بعد مجھے نہیں معلوم کیا ہوا وہ کیسے یہاں سے گئی ”
وہ پریشانی سے اپنے ہاتھ مسلتی ہوئی بولی
انہیں اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ مہرہ ایسا کر سکتی ہے وہ جانتی تھی کہ مہرہ سکندر کہ سچ جاننے کے بعد اس سے ناراض تھی
پر انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا وہ اپنے ناراضگی میں ایسا قدم اٹھا لیگی
‘” میں آپکو اس لئے یہاں لیکر آیا تھا عمارہ کہ آپ ہر پل اسکے ساتھ رہیں گی اسکا خیال رکھیں گی تاکہ وہ کچھ بھی غلط قدم اٹھانے کے بارے میں نا سوچے مگر اس بار آپ نے اسکا خیال نہیں رکھا ”
اس بار وہ شکوہ کن لہجے میں بولا
وہ کبھی عمارہ سے ایسے بات نہیں کرنا چاہتا تھا مگر بات ہی ایسی ہو گئی تھی کہ وہ چاہنے کے باوجود اپنے غصّے پہ کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا
آج صبح جب وہ اسکو واپس گھر لے جانے کے لئے آیا تو عمارہ پہلے سے ہی اسکے انتظار میں پریشانی میں ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی
انکے چہرے پہ پریشانی دیکھ کر وہ ٹھٹکا تھا
اسکے پوچھنے پر جو بات اسکو پتہ لگی اسکو سن کر اس نے سختی سے اپنے جبڑے بہینچ لئے تھے
‘” مجھے معاف کر دو بیٹا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ یہاں سے جانے کے بارے میں سوچ رہی ہے تو میں کبھی اسکو اکیلا نا چھوڑتی ..
مجھے بلکل اندازہ نہیں تھا اس بات کا ”
عمارہ سکندر کی نظروں کے سامنے خود کو شرمندہ سا محسوس کر رہی تھی
انہیں دکھ ہو رہا تھا کہ وہ اسکی امانت کا خیال نا رکھ سکی
“‘ جتنا غصّہ مجھے اس وقت اپ پر آ رہا ہے اس سے کئی زیادہ مہرہ پر آ رہا ہے”
انکے شرمندہ سے چہرے کو دیکھ کر اس نے انکی بات کاٹی تھی
” اگر یہاں سے نکلنے کے بعد اسکو کچھ بھی نقصان ہوا یا وہ کسی مصیبت میں پھنس گئی تو میں اسکا وہ ہال کروں گا کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گی ”
اسکے انداز میں بےچینی سی تھی
اسکے دل میں کہیں نہ کہیں یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں وہ تاشا کے ہاتھ نہ لگ جائے
اور اگر ایسا ہو گیا تو ..اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہ رہا تھا
”کیسا نقصان بیٹا کس مصیبت کی بات کر رہے ہو تم کیا اپنے باپ کی طرح مہرہ کی جان سکو بھی خطرہ ہے ?
اس بار وہ فکرمندی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی جو موبائل میں کچھ چیک کر رہا تھا
سکندر کے ھر ایک انداز میں بےچینی …پریشانی.. فکر ..اور غصّہ تھا
وہ اسکی حالت کو بہت اچھے سے سمجھ سکتی تھی
‘” جس انسان نے مہرہ کے باپ کی یہ حالت کی ہے وہ ہی انسان مہرہ کے پیچھے بھی پڑا ہوا ہے …مہرہ کو باہر خطرہ ہے اور وہ اس بات سے انجان ہے ”
اس بار وہ مکمل انکی طرف موتجہ ہوا
جبکہ اسکی بات سن کر عمارہ کی پریشانی مزید بڑھی تھی
“‘ کون پڑا ہوا ہے مہرہ اور اسکے بابا کے پیچھے اور کیوں”
وہ مزید بولی یہ بات تو وہ خود بھی جاننا چاہتی تھی آخر توفیق کی جان کا دشمن کون بنا ہوا تھا
اتنے سالوں بعد کیا وہ ابھی بھی ان کاموں میں تھا
‘” تاشا …جسکے ساتھ پہلے توفیق کام کرتا تھا وہی اسکی بیٹی کے بھی پیچھے پڑا ہوا ہے …اگر اس نے میری مہرہ کو ہاتھ بھی لگانے کی کوشش کی نہ اسکا انجام بہت برا ہوگا ”
وہ زہرخند لہجے میں بولا جبکہ اسکی بات سن کر عمارہ تو گنگ سی کھڑی رہ گئی تھی
تیمور خان باپ تھا یا جلاد جو اپنے ہی بیٹو کی خوشیوں کے پیچھے پڑا ہوا تھا
ابھی تو وہ اس سے اتنی نفرت کا اظھار کر رہا ہے اور جب سکندر کو اپنے باپ کا سچ معلوم ہوگا تب وہ کیا کرے گا
‘” اب کیا ہوگا بیٹا وہ کہاں گئی ہوگی ?
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ پھر سے اس سے مخاطب ہوئی
‘” وہ چاہے کہیں بھی چلی جائے عمارہ میں اسے ڈھونڈھ لوں گا اسکے لئے سکندر سے ڈور جانا اتنا آسان نہیں ہے …آپ فکر نہ کریں جیسے ہی مجھے کچھ معلوم ہوگا میں آپکو بتا دوں گا ”
وہ انکو تسلی دیتا وہاں سے نکلتا چلا گیا
اسکے لئے اپنی مہرہ کو تلاش کرنا مشکل نہیں تھا بس ایک فکر تھی اس سے پہلے وہ اس تاشا کے ہاتھ نہ لگ جائے
🍁🍁🍁🍁
وہ بس چلتی جا رہی تھی اسکو کہاں جانا تھا اس نے فلحال سوچا نہیں تھا نہ وہ سوچنا چاہتی تھی
صبح ہونے سے پہلے وہ اس گھر سے نکل آئی جو شہر سے باہر کے علاقے میں تھا
مہرہ کے چلتے چلتے اب پیر بھی درد کرنے لگے تھے
لیکن اسے بس اس شخص سے اسکی پہنچ سے دور جانا تھا جو اسکے لئے ناممکن تھا
کیونکہ مہرہ کو اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا وہ اسکو تلاش ضرور کر لے گا
اسکی اتنی شدید اور جنونی محبت سے اس بات کا اندازہ لگا سکتی تھی
محبت تو وہ بہت اس سے کرتی تھی اتنی محبت کے اسے بھی خود اندازہ نہیں تھا اس بات کا
وہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ اسکے بغیر کیسے رح پاۓ گی
مگر اسکے دھوکے کو یاد کرتے ہی وہ اپنی محبت کو سلا دیتی تھی
وہ ایسے شخص سے محبت کرنے لگی تھی جو دو زندگی جی رہا تھا
اسکی دوسری زندگی اندھیرے راستوں سے شروع اور انہیں پہ ختم ہوتی تھی
کتنی بےرحمی سے نے اس شخص کی جان لی تھی اور یہ پہلی بار نہیں تھا
مہرہ کو اپنی اور سکندر کی پہلی ملاقات یاد آئی تھی اس دن بھی اس نے ایسے ہی ایک شخص کی جان لی تھی اسکی نظروں کے سامنے …پتہ نہیں وہ اور کتنے ہی لوگوں کی جان لے چکا تھا
‘” سب میری ہی غلطی ہے آخر کیوں نہیں پہچانا میں نے اسے …وہ ھر پل میرے قریب تھا ”
وہ روتی ہوئی سڑک پہ بیٹھتی چلی گئی تھی
اس وقت سڑک کافی سنسان تھی کچھ گاڑی آ جا رہی تھی
لیکن اسے اس بات کی بلکل بھی پرواہ نہیں تھی
اسکا دل رو رہا تھا …اندر سے بلکل ٹوٹ چکی تھی ..
‘” اسکی آواز نہ سہی …لیکن اسکی آنکھیں یہ وہیں آنکھیں تھی جن سے مجھے ڈر لگتا تھا …اور میں بیوقوف اسی کی آنکھوں سے محبت کرنے لگی ”
اس نے روتے ہوئے اپنے بال نوچ ڈالے تھے
اس وقت اسکا ہال کسی پاگل سے کم نہیں لگ رہا تھا
‘” کیوں کیا تم نے سکندر میرے ساتھ ایسا …آخر کیوں …”
وہ بیچ سڑک میں بیٹھی روتی ہوئی چیخی تھی
زیادہ رونے کی وجہ سے سر میں درد ہونے لگا تھا
آنکھیں لال ہو چکی تھی
‘” آخر کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا …میں ایک مونسٹر سے محبت کرنے لگی ”
اب سر گھومنے لگا تھا
وہ اپنے دکھتے سر کو سنبھالتی اٹھی …مگر زور کا چکر آیا..آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا
اس بار وہ اپنے پیروں پہ کھڑی نہ رہ سکی اور بیہوش ہوکر زمین پہ گر چکی تھی
🍁🍁🍁🍁
اس نے اپنی کار ایک جھٹکے میں روکی اور غصّے میں کار سے نکل کر اس گھر کی طرف بڑھا اسکو لگ رہا تھا مہرہ یقیناً اسکو اسی گھر میں ملے گی
”” ارے صاحب آپ ایسے اندر نہیں جا سکتے ہمارے صاحب کا حکم ہے کہ ایسے ہی کسی کو اندر نہ آنے دیا جائے ”
اسکو تیزی سے اندر کی طرف بڑھتا دیکھ گارڈ اسکے پیچھے لپکا تھا
یہ ایس پی تبریز کا گھر تھا کسی کو بھی اتنی آسانی سے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی
‘” اگر تم زندہ اپنے پیروں پہ گھر چل کر جانا چاہتے ھو تو میرے راستے میں مت آؤ ورنہ پچھتاؤگے ”
وہ اس انداز میں بولا کہ اسکی لال آنکھیں دیکھ کر بیچارہ گارڈ ڈر کے دو قدم پیچھے ہوا تھا
گارڈ کے پیچھے ہٹتے ہی اس نے اپنے قدموں کی رفتار تیز کر دی تھی
پچھلے دو گھنٹوں سے اسکو تلاش کرنے کے بعد سکندر کے دماغ میں یکدم سے اسکا خیال آیا
مشال مہرہ کی اچھی دوست تھی اور سکندر کو لگ رہا تھا کہ وہ یقیناً اپنی دوست کے پاس آئی ہوگی
”where is My Wife”’
وہ کسی آندھی طوفاں کی طرح گھر میں داخل ہوتے ہی دھاڑا تھا
اسکی آواز اتنی تیز تھی کہ ایک پل کے لئے لاؤنج میں بیٹھی مشال اور مسز ناز ڈر گئی تھی
تبریز کے ساتھ ان دونوں نے جیسے ہی دروازے کی طرف دیکھا تو گیٹ پہ کھڑے سکندر خان کو دیکھ کر مسز ناز اور تبریز یکدم سے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے
جبکہ مشال کے لئے وہ شخص ابھی انجان ہی تھا
‘” تم یہاں میرے گھر میں کیا کر رہے ہو ”
تبریز اپنی حالت کو سنبھالتا اسکی طرف بڑھا سچ معلوم ہونے کے بعد ایک عجیب سا کھیچاؤ محسوس ہوا تھا اسکو سکندر سے
جبکہ مسز ناز بت بنی کھڑی اپنے دونوں بیٹو کو ایک ساتھ دیکھ رہی تھی
آج پہلی بار انکے دونوں بیٹے انکی نظروں کے سامنے تھے
‘” مجھے میری بیوی چاہئے کہاں ہے وہ ….مہرہ …مہرہ…کہاں ہو تم ”
وہ ان سب کی موجودگی کو نظر انداز کرتا مہرہ کو پکارنے لگا
جبکہ اسکی تیز آواز سن کر جلال شاہ بھی اپنے روم سے نکل آئے مگر اپنے گھر میں کھڑے شخص سے وہ انجان تھے
‘” تمہاری بیوی یہاں نہیں ہے ”
سکندر جتنا بےچین ہو کر اسکو پکار رہا تھا تبریز کے انداز اتنا ہی پرسکون تھا
‘” تم جھوٹ بول رہے ہو مجھے میری بیوی چاہئے ورنہ میں تمہارے گھر کو آگ لگا دوں گا…تم جانتے نہیں ہو سکندر خان کیا چیز ہے ”
سکندر نے آگے بڑھ کر جنونی انداز میں تبریز کا کالر پکڑا تھا
اس وقت اس پہ ایک جنون سوار تھا
اسکے تعرف کرانے پر مشال اور جلال شاہ کی الجھن کم ہوئی تھی
جبکہ یہ منظر دیکھتی مسز ناز کا دل کٹ کر رہ گیا تھا
‘” اور شاید تم بھی مجھے نہیں جانتے اگر تم اپنی بیوی کے لئے کسی کی جان لے سکتے ہو تو میں بھی اپنی فیملی کے لئے جان دے سکتا ہوں ”
تبریز بھی اسی کے انداز میں بولا تھا
‘” اگر تم اپنی خیر چاہتے ہو تو مجھے میری بیوی کے بارے میں بتا دو ورنہ ..”
وہ سرخ آنکھوں سے تبریز کی طرف دیکھتا ہوا بولا اسکے کالر بھی پکڑ ہنوز تھی
سکندر کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ مہرہ اسی گھر میں ہے بس وہ مہرہ کے کہنے پر اسکی موجودگی کو اس سے چھپا رہے ہیں
‘” یہ کیا کر رہے ہو تم دونوں چھوڑو اسے جان لوگے ایک دوسرے کی ”
مسز ناز سے جب یہ مزید برداشت نہ ہوا تو وہ آگے بڑھی اور سکندر کی پکڑ سے تبریز کا کالر آزاد کروانا چاہ مگر اسکی پکڑ مضبوط تھی
‘” ہاں جان لے لوں گا میں …یہاں موجود ہر ایک شخص کی جان لونگا اگر کسی نے مجھے میری بیوی کے بارے میں نہیں بتایا ”
ابکہ بار وہ انکی طرف دیکھ کر چلایا تھا
‘” اپنی بیوی کے بارے میں جاننے کے لئے تم کس کس کی جان لوگے اپنی ماں کی جان لوگے جو اس وقت تمہارے سامنے کھڑی ہے یا اپنے بھائی کی جسکا اس وقت تم کالر پکڑے کھڑے ہو ”
تبریز بہت ہی پرسکون انداز میں بولا جبکہ اسکی بات سن کر سکندر کی پکڑ اسکے کالر پہ ڈھیلی ہوئی تھی
‘” کیا ہوا خاموش کیوں ہو گئے …چہرے پہ اتنی حیرانی کیوں آ گئی تمہارے ”
اسکی خاموشی پہ تبریز مزید بولا
جبکہ ضبط کے باوجود مسز ناز کے آنسو بہنا شروع ہو گئے تھے
‘” یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم ..کونسی ماں ..اور کونسا بھائی ..”
وہ ایک جھٹکے میں اسکا کالر آزاد ہوا بےیقینی سے بولا
اس وقت وہاں موجود ہر شخص کی نظر اس پہ تھی
‘” وہی ماں جسکے بارے میں تمہارے باپ نے تم سے چھپا کر رکھا اور وہی بھائی جو تمہارے ساتھ ہی دنیا میں آیا تھا مگر اسے بھی تمہارے باپ نے تم سے الگ کر دیا تھا …میں وہی بھائی …اور یہ وہی ماں ہے ..”
تبریز نے اپنے پاس کھڑی روتی ہوئی اپنے ماں کو خود سے لگایا تھا
‘” جھوٹ ہے یہ سب …میرا کوئی بھائی نہیں تھا اور ماں بچپن میں ہی چھوڑ کر چلی گئی تھی …مجھے یقین نہیں ہے تمہاری باتوں پہ ”
وہ دو قدم پیچھے ہوتا ہوا بولا
انکی باتوں میں وہ یہ تک بھول گیا تھا کہ وہ اس وقت یہاں کیوں موجود تھا
‘” امی تمھیں کبھی چھوڑ کر نہیں گئی تھی بلکہ اس شخص نے تمھیں ان سے چھین لیا تھا …جاننے کی کوشش کی کبھی تم نے اپنی ماں کے بارے میں نہیں نہ …تو پھر کیسے کہہ سکتے ہو کہ یہ جھوٹ ہے …کچھ جھوٹ نہیں ہے بلکہ تم سے سچ چھپایا ہوا تھا ”’
تبریز سکندر کی حالت کی پرواہ کئے بغیر بس بولتا چلا جا رہا تھا
اسکو بھی سچ معلوم ہونا ضروری تھا
آخر اسے بھی معلوم ہو اپنے باپ کی سچائی جسے وہ اتنا اچھا انسان سمجھتا ہے اصل روپ کیا ہے اسکا
‘” تم جسے اپنا باپ سمجھتے ہو نہ اصل میں ہم اسکی ناجائز اولاد ہیں …اس نے ہماری ماں کے ساتھ ظلم کرکے اسے چھوڑ دیا ..اسکا جب اس سے دل نہیں بھرا تو ہم دونوں کو الگ کر دیا …اگر اب بھی یقین نہیں آتا تو جاؤ جاکر اپنے اس باپ سے سوال کرکے دیکھو …لیکن مجھے اس بات کا بھی پورا یقین ہے تمھیں وہ اب بھی کوئی جھوٹی کہانی سنا دیگا لیکن …”
اس بار تبریز نے ایک نظر روتی ہوئی اپنے ماں کی طرف دیکھا
‘” لیکن جو سچ ہے وہی سچ رہے گا .”
انکا انداز اور لہجہ سکندر کو انکی باتوں پر یقین کرنے پہ مجبور کر رہا تھا
مگر اتنی بڑی بات پہ یقین کرنا بھی اسکے لئے مشکل تھا جب تک وہ پورا سچ نہ جان لیتا
اور اسکے ان سارے سوالوں کے جواب اسے تیمور خان سے ملتے
وہ ایک خاموش نظر ان سب پہ ڈالتا تیزی سے وہاں سے پلٹا تھا
ایک دن میں کتنا کچھ ہو گیا تھا اسکے ساتھ مہرہ کو تلاش کرنے کے ساتھ اسے اپنے سوالوں کے جواب بھی تلاش کرنے تھے
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )
”””
