125.4K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

‘”چھوڑو مجھے کون ہو تم اور کیا چاہتے ہو مجھ سے ”
وہ اس آدمی کی پکڑ میں بری طرح مچل رہی تھی چہرہ خوف کی وجہ سے سفید پڑ چکا تھا
‘” خاموش بیٹھی رہ لڑکی اگر شور کیا نہ تو تیرے لئے اچھا نہیں ہوگا ”
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا شخص کار سٹارٹ کرتا ہوا اسکو وارن کر رہا تھا جبکہ اسکے ساتھ پچھلے سیٹ پر ایک اور شخص تھا جو اسکے دونوں ہاتھوں کو آپس میں باندھ چکا تھا
مہرہ اس شخص کی پکڑ سے اپنے ہاتھ آزاد ہوتے ہی انہیں کھولنے کی کوشش کرنی لگی
اسکا دل کر رہا تھا وہ اس کار سے کود جائے مگر دروازہ لاک تھا
‘” پلیز مجھے جانے دو میں نے کیا بگاڑا ہے تم لوگوں کا چھوڑ دو مجھے ”
وہ روتی ہوئی پھر سے ان لوگوں سے مخاطب ہوئی مگر وہ دونوں ان سنی کئے بیٹھے رہے
کار تیز سپیڈ سے چلنا شروع ہوئی وہیں مہرہ کا دل بند ہونے لگا تھا
اس لمحے بڑی شدّت سے اسکو سکندر کی یاد آئی کاش کے وہ اس وقت یہاں ہوتا
اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب انکی کار کا بیلنس بگڑا ایک جھٹکے میں انکی کار رکی تھی
ابھی وہ اس چیز سے سمبھلے نہیں تھے جب انکی کار گولی چلی اور سامنے کا شیشہ ٹوٹا
گولی کی آواز پر مہرہ کی چیخ کی آواز کار میں گونجی تھی
اس نے ڈر کے سامنے دیکھا گولی لگنے کی وجہ سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹا شخص بیٹا تڑپ رہا
اور پھر جب اسکی نظر کار سے باہر گئی تو بس وہیں رک گئی کیا اسکی دعا اتنی جلدی پوری ہو گئی تھی اسکو یقین نہیں آیا
وہ سکندر ہی تھا
ہاں وہی تھا
اپنی کار کے سامنے کھڑا ہاتھ میں گن نظریں اسی پر جمی ہوئی تھی
‘” سکندر ”
اسکے لب کپکپائے تھے
دوسرا آدمی جو پریشان سا بیٹھا تھا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر یکدم سے حرکت میں آیا اور اپنی گن مہرہ کے سر پر تانتا ہوا اسکو لئے اپنی کار سے باہر نکلا
‘” اپنی گن نیچے کرو ورنہ میں اس لڑکی کو ختم کر دوں گا ابھی اور اسی وقت ‘”
اپنی جان بچانے کے لئے اسکو یہی راستہ دکھائی دیا ورنہ انکو آرڈر مہرہ کو سہی سلامت لانے کا ملا تھا
‘” اگر ہمّت ہے تو گولی چلا کر دکھاؤ ”
سکندر اب ڈیوڈ بن چکا تھا جسکے ڈر سے لوگ کانپتے تھے
جبکہ اسکی بات سے مہرہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگی
یہ کیسا انداز تھا جان بچانے کا
‘” دیکھو دور رہو مجھ سے ورنہ میں گولی چلا دوں گا ”
اسکو اپنے قریب بڑھتا دیکھ وہ ڈر رہا تھا مگر مضبوط لہجے میں بولا
اسکے انداز پر ڈیوڈ استہزیہ مسکرایا اور ایک لمحہ لگا تھا اسکو اس شخص کو زمین پر گرانے میں
ٹانگ پر گولی لگنے کی وجہ سے وہ شخص اب زمین پر پڑا تھا مہرہ وہاں سے چیخ مارتی ہوئی بھاگی اور اپنے قریب آتے سکندر کے سینے سے آ لگی تھی
اور سکندر نے بھی اسکو خود میں بہینچ لیا تھا اگر وہ ذرا بھی دیر کرتا تو آج مہرہ کو یہ لوگ لے جاتے
مگر اب اسکو اپنی باہوں میں اپنے قریب محسوس کر کے ایک سکون سا اسکے اندر اترنے لگا
مہرہ ڈری سہمی سی اسکے سینے سے لگی ہوئی تھی اسکو نہیں پتہ تھا یہ کون لوگ تھے مگر انکے ارادے خطرناک تھے
‘” تم یونی سے باہر کیوں نکلی منع کیا تھا نہ میں نے ‘”
وہ ایک جھٹکے میں اسکو خود سے دور کرتا دھاڑا تھا آنکھیں حد درجہ لال ہو چکی تھی
‘” م …مجھے لگا تم ..آ گئے ہو اس لئے ”
وہ بری طرح روتی اسکے سوال کا جواب دینے لگی ایک تو اپنے کڈنیپ ہونے کا ڈر دوسرا اس شخص کا
اسکا کمزور سا دل سہن گیا تھا
‘” جانتی بھی ہو اگر میں نہ آتا تو کیا ہو سکتا تھا انداز ہے تمھیں اس بات کا ?
اسکو مہرہ کی حالت پر ترس تو آ رہا تھا مگر اسکی بےوقوفی پر غصّہ بھی
‘” یہ رونا بند کرو اور جاؤ کار میں جاکر بیٹھو ”
اسکے یہ آنسو ہمیشہ ہی سکندر کو پریشان کرتے تھے وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا ان خوبصورت آنکھوں میں آنسو
اسکا حکم ملتے ہی مہرہ آہستہ سے قدم اٹھاتی اسکی کار کی طرف بڑھی
آج اسکو سکندر کی ڈانٹ بھی بری نہیں لاگ رہی تھی بلکہ اسکو ایک الگ سا احساس ہو رہا
مہرہ کے کار میں بیٹھتے ہی وہ اب اس زمین پر پڑے آدمی کی طرف بڑھا وہ اسکو آسانی سے مار سکتا تھا مگر اس سب کے پیچھے کون ہے یہ جاننا ضروری تھا
‘” پہلا اور آخری سوال پوچھوں گا تم سے جسکا جواب تمھیں دینا ہی ہوگا اور جھوٹ بولنے کی کوشش بھی مت کرنا ‘”
وہ اسکے قریب ہی زمین پر بیٹھا تھا
اس وقت سڑک بلکل سنسان تھی
‘” میں کچھ نہیں جانتا مجھے بس اتنا پتا ہے کہ اس لڑکی کی ڈیل ہونے والی تھی دو دن بعد کنگ نائٹ کلب میں اس لئے مجھے آرڈر ملا اسکو کڈنیپ کرنے کا ”
اپنی پیشانی پر رکھی گن دیکھ کر ووہ شخص ایک سانس میں بولتا چلا گیا
جبکہ اسکی پوری بات سن کر ڈیوڈ کے ماتھے پر پڑے بلوں میں اضافہ ہوا تھا
“‘ اسکے پیچھے کون ہے یہ نہیں معلوم ?
اس نے اپنی گن لوڈ کی
‘” نہیں میں کچھ نہیں جانتا ”
وہ شخص فورا بولا
‘” اسکا مطلب اب تم میرے کچھ کام کے نہیں ہو ”
اتنا کہہ کر اس نے اس بار پھر سے اسکو شوٹ کیا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور
اپنی کار کی طرف دیکھ مہرہ اسی کو دیکھ رہی تھی مگر اسکو اتنا یقین تھا اس بار نہ اس نے گولی کی آواز سنی ہوگی اور نہ اس شخص کو شوٹ کرتے ہوئے دیکھا ہوگا کیونکہ ڈیوڈ کی پشت اسکی طرف تھی
‘” وہ لوگ مجھے کیوں لے جانا چاہ رہے تھے کون تھے ?
اسکے کار میں بیٹھتے ہی سوال کیا گیا
‘” انہیں غلطفہمی ہوئی ہوگی وہ تمھیں نہیں کسی اور کو لے جانا چاہتے تھے ”
وہ اپنی کار سٹارٹ کر چکا تھا
‘” پر تم نے ایک شخص کی جان لی ”
اسکو ڈرائیونگ کرتے شخص کا خیال آیا
‘” اسکے صرف ہاتھ پر گولی چلائی اور دوسرے کی ٹانگ پر میرا نہیں خیال مر جایں گے ”
صاف جھوٹ بولا گیا تھا
اور اس بار مہرہ اسکا جواب سن کر خاموش ہو گئی وہ بچ گئی تھی اسکے لئے اتنا ہی کافی تھا
” The Story Goes Like This EveryOne Want To BE A Hero In The Eye’s Of Their Loved Ones’
اب وہ بھی ہیرو بن گیا تھا مہرہ کے لئے اور کہانی تو انکی شروع ہو ہی گئی تھی
اسکے خاموش ہونے پر ڈیوڈ ایک نظر اسکو دیکھتا کار کی سپیڈ فاسٹ کر چکا تھا
اسکے دماغ میں بار بار بس اس آدمی کے الفاظ گونج رہے تھے اسکا بس نہیں چل رہا تھا مہرہ کے بارے میں ایسا سوچنے والے کا حشر ہی برا کر دیتا مگر پہلے اسکو جاننا تھا وہ کون لوگ تھے
اور اسکے لئے بس دو دن کا انتظار کرنا تھا
🍁🍁🍁🍁
” وہ گھٹنوں میں سر دئے بیٹھی بری طرح رو رہی تھی اسکا دل کر رہا تھا کہ چیخ مار مار کر روۓ اتنا روۓ کہ دماغ پھٹ جائے اور اسکو موت آ جائے مگر ایسا نہیں ہوتا تھا
جبکہ رو رو کر اسکے آنسو بھی سوکھ چکے تھے
اسکو بغیر کسی غلطی کے سزا مل رہی تھی ایسی سزا جس نے اسکو ایک زندہ لاش بنہ کر رکھ دیا تھا
ہر رات وہ درندہ اسکی عزت کے ساتھ کھیلتا مگر اسکی حوس ختم نہیں ہوتی
وہ رات اریشہ کو کسی عذاب سے کم نہیں لگتی اسکے جسم پر جگہ جگہ پڑے نشان اسکی درد بھری کہانی بیان کرتے تھے
پتہ نہیں اسکو کس گناہ کی سزا مل رہی تھی اسکو تو اب یاد بھی نہیں رہا تھا کہ یہاں آئے ہوئے کتنا وقت ہو گیا ہے
وہ بس سانسیں لے رہی تھی اور اپنی موت کا انتظار جو آ نہیں رہی تھی شاید اسکو مزید یہ سب برداشت کرنا تھا
وہ یوں ہی بیٹھی روتی رہتی جب دروازہ کھول کر کوئی اندر آیا تھا
مگر وہ ایسے ہی بیٹھی رہی
قدموں کی چاپ اپنے قریب محسوس کر کے اس نے اپنی نظریں اٹھا کر آنے والے کو دیکھا
‘” میں تمہارے لئے کھانا لیکر آئی ہوں اٹھ جاؤ ”
آنے والی لڑکی بہت ہی نرم آواز میں اس سے مخاطب ہوئی تھی اسکے آنکھوں اور لہجے میں ہمیشہ کی طرح اریشہ کے لئے رحم تھا
‘” تم اس کھانے کے بدلے مجھے زہر دے دو مجھ سے اب زندہ نہیں رہا جاتا ”
وہ تڑپ اٹھی تھی اور کھڑے ہوکر اپنے سامنے کھڑی لڑکی سے مخاطب ہوئی
جو امر میں اس سے کچھ سال بڑی تھی
مگر یہاں پر ایک وہی تھی جسکے سامنے وہ اپنا درد ہلکا کر لیتی تھی
‘” یہ کیسی باتیں کر رہی ہو حرام موت نہیں مانگتے ”
عمارہ کو اس لڑکی پر بہت ترس آیا تھا
ایک مہینے سے وہ اسکے مالک کا شکار بنی ہوئی تھی اور لاکھ چاہنے کے باوجود بھی وہ اسکی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ خود یہاں صرف ایک ملاذمہ تھی جسکا باپ کچھ سال پہلے اسکو تیمور خان کے گھر چھوڑ کر چلا گیا اور واپس پلٹ کر نہیں آیا ماں بچپن میں ہی مر گئی تھی
وہ تیمور خان کی عیاشیوں سے اچھی طرح واقف تھی اس بات کا شکر بھی کرتی کبھی اسکی گندی نظر اس پر نہیں پڑی
‘” حرام کی زندگی جینے سے اچھا ہے میں حرام موت مر جاؤں اس لئے مجھے زہر لا دو عمارہ میں مارنا چاہتی ہوں یا پھر مجھے اس شیطان کی قید سے نکال دو ”
اس نے اپنے ہاتھ جوڑے تھے اسکے سامنے آواز کے ساتھ خود بھی بری طرح کانپ رہی تھی
‘” اگر میرے بس میں ہوتا تو میں کب کا تمھیں یہاں سے نکال چکی ہوتی پر میں اکیلے اتنا بڑا کام نہیں کر سکتی میں مجبور ہوں ”
اس نے اریشہ کے جڑے ہاتھوں کو تھام لیا تھا
‘” کسی سے مدد لو تم یہاں سب کو جانتی ہو کوئی تو ہوگا جو میری مدد کر سکتا ہے یا پھر یہاں سارے لوگ بےرحم ہیں”
وہ روتی ہوئی پھر سے زمین پر بیٹھ چکی تھی
‘” نہیں سب لوگ تو نہیں ہے ایک ہے جو ہماری مدد کر سکتا ہے مگر مجھے پورا یقین بھی نہیں ہے وہ خان صاحب کا وفادار بھی ہے ”
عمارہ کی آنکھوں کے سامنے یکدم سے کسی کا چہرہ آیا تھا اسکو اس بارے میں پہلے خیال کیوں نہیں آیا ایک وہ ہی تو ان سب میں تھوڑا الگ تھا
وہ تیمور خان کے صرف غیر کانونی کام کرتا جبکہ شوکت ہر کام میں تیمور خان کے ساتھ تھا
عمارہ اسکو دل ہی دل میں پسند بھی کرنے لگی تھی مگر وہ کسی کی غلام تھی اور غلاموں کو محبت کی اجازت نہیں تھی اس لئے اس نے اپنے جذبات کو چھپا کر رکھا ہوا تھا
‘” کون ہے وہ عمارہ پلیز اس سے بولو میری مدد کرے ”
عمارہ کی بات سن کر اسکے دل میں امید جاگی تھی شاید وہ یہاں سے بچ سکتی تھی
‘” وہ توفیق ہے خان صاحب کا خاص آدمی اسکا دل یہاں کے لوگوں سے الگ ہے شاید وہ تمہاری مدد کر دے میں بات کرکے دیکھتی ہوں اس سے
میں تمھیں یہاں سے نکال کر ہی رہوں گی ”
عمارہ نے اسکو اپنی باتوں کا یقین دلایا تھا اسکو اس معصوم سی لڑکی پر بہت رحم آتا تھا جو اس جانور کے پنجرے میں پھنس چکی تھی
‘” تم سچ کہہ رہی ہو وہ میری ہیلپ کریں گے میں یہاں سے آزاد ہو سکتی ہوں ”
وہ آس بھری نظروں سے اسکو دیکھ رہی تھی
‘” ہاں لیکن تم پہلے کھانا کھاؤ میں موقع ملتے ہی اس سے بات کروں گی ”
وہ اسکو تسلی دیتی اریشہ کو کھانا کھلانے لگی اور اس بار اس نے سکون سے کھانا کھایا تھا شاید یہاں سے آزادی ملنے کی خوشی میں
🍁🍁🍁🍁
” صوفہ پر ٹانگ ٹانگ رکھے آرام سے بیٹھا بس ایک ٹک سامنے بیڈ پر لیٹی مہرہ کو دیکھ رہا تھا
اس وقت کمرے کی خاموشی میں گھڑی کی ٹک ٹک واضح طور پر سنائی دے رہی تھی
ایسے بیٹھے ہوئے جانے کتنا وقت ہو گیا تھا اسکو خبر نہیں تھی اسکی نظریں تو بس مہرہ کے وجود پر جمی ہوئی تھی جسکے چہرے پر نیند میں بھی ایک ڈر سا تھا
آج دو دن ہو گئے تھے اس واقع کو مگر وہ اب تک اس ڈر سے باہر نہیں نکلی تھی
رات میں سوتے سوتے ڈر جاتی اور سکندر رات بھر یوں ہی جاگ کر اسکو تکتا رہتا اسکے اٹھنے پر اسے تسلی دیتا جس پر وہ تھوڑا سکون محسوس کرتی تھی
جانے وہ کونسا لمحہ تھا جب وہ اسکے لئے اتنی خاص بن گئی تھی اور اسکو احساس بھی نہیں ہوا
شاید تب جب اسکو پہلی بار دیکھا دوسری بار اسکی ضد بنی اور پھر اسکی چاہ بڑھتی چلی گئی
مگر جب اسکا کڈنیپ ہوا اس دن اسکو احساس ہوا کہ مہرہ اسکے اندر تک بس چکی ہے وہ اسکے وجود پر پوری طرح قبضہ جما چکی تھی اس پر ذرا بھی خراش وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا
یہ بات الگ تھی وہ خود چاہے کتنا ہی اسکو تنگ کرلیتا مگر کسی اور کو اس نے حق نہیں دیا تھا
” نہیں …جانے دیں مجھے پلیز ”
وہ بیٹھا اسکو تک رہا تھا جب مہرہ کی آواز پر ہوش میں آیا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر بیڈ کے قریب بڑھنے لگا
” sikandar Please Save me “
وہ نیند میں اسکو پکار رہی تھی
” میں یہیں ہوں ڈارلنگ ڈرو مت میرے ہوتے ہوئے تمھیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا ”
اس نے نرمی سے اسکے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کیا اور اسی کے پاس پاس ٹک گیا
‘” پلیز مجھے چھوڑ کر مت جانا”
وہ یکدم جھٹکے سے اٹھ بیٹھی اور اپنے قریب بیٹھے سکندر کی سینے سے لگ گئی تھی
شاید بہت برا خواب تھا جبھی وہ اتنی ڈری ہوئی تھی جسم ہولے ہولے لرز رہا
اسکے اس عمل پر سکندر حیران ہوا مگر اگلے ہی پل وہ اسکی کمر کے گرد اپنے مضبوط بازوں کا حصار باندھ گیا تھا
‘” کہیں نہیں جا رہا میں یہیں ہوں ڈرو مت ”
وہ اسکی کمر سہلاتا ہوا اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا
اسکے بالوں سے آتی شیمپو کی خوشبو مہرہ کی قربت ایک الگ ہی نشا سا ہو رہا تھا اسکو
‘” حقیقت تو دور کی بات ہے میں تمہارے خواب میں بھی کیسی کو تمھیں لے جانے نہیں دوں گا ”
وہ اسکی خوشبو اپنے اندر اترتا اپنے لب اسکے بالوں پر رکھتا ہوا بولا
مہرہ نے اسکی شرٹ کو سختی سے اپنی مٹھی میں جکڑا ہوا تھا ‘
کتنے ہی لمحے وں دونوں کے بیچ یوں ہی خاموشی سے گزر گئے
وہ اسکی دھڑکنوں کو آسانی سے محسوس کر سکتا تھا اسکے جسم کی کپکپاہٹ اب کم ہو چکی تھی
سکندر نے اسکے ڈر کو کم ہوتا محسوس کرکے اسکا چہرہ اپنے سامنے کیا تو مہرہ نے بھی اپنی آنکھیں یکدم سے کھولی تھی
‘” ڈرنا مت سکندر خان تمھیں کسی کو نہیں لے جانے دیگا”
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا ایک جذبے سے بولا تو مہرہ نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کی تھی
جیسے اسکو یقین ہو گیا ہو اسکی بات کا
جبکہ اسکے اس انداز پر سکندر نے اپنا چہرہ اسکے چہرے کے مزید قریب کیا
اسکی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرکے مہرہ نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولی
اسکی بولتی گہری نظریں مہرہ کے چہرے پر تھی
اسکا دل پھر سے اسکے ہونٹوں کو چھو کر انکی نرماہٹ کو محسوس کرنا چاہتا تھا
‘” مجھے نیند آ رہی ہے ”
اسکو اپنے چہرے پر جھکتا دیکھ مہرہ نے اپنے چہرے کا رخ پھیر لیا تھا
سکندر کو اس بار اسکی یہ مزاحمت بری نہیں لگی تھی
‘” اوکے تم سو جاؤ مجھے بھی کچھ ضروری کام ہے “
وہ اسکو لیٹاتا ہوا بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا
‘” تم کہاں جا رہے ہو اس وقت ”
اسکو اکیلے رہنے کا سوچ کر پھر سے ڈر لگا تھا
‘” کہیں نہیں تم سو جاؤ اب کوئی تمہارے خواب میں بھی نہیں آئے تمھیں ڈرانے ڈونٹ وری ”
وہ اک نظر اسکو دیکھتا تیزی سے اپنے بیڈروم سے باہر نکلا دل تو اسکا بھی نہیں کر رہا تھا جانے کا مگر جانا ضروری تھا
جبکہ مہرہ آج پہلی بار اسکو اپنے پاس روکنا چاہتی تھی مگر روک نہیں پائی خاموشی سے لیٹی اسکو جاتا دیکھتی رہی
🍁🍁🍁🍁
یہ ایک کلب کا منظر تھا چارو طرف گہما گہمی تھی
لڑکے لڑکیاں ہاتھ میں شراب کے گلاس لئے تیز چلتے میوزک پر جھوم رہے تھے
کوئی یہاں اپنا غم مٹانے آتا تو کوئی صرف انجوۓ کرنے کے لئے یہاں موجود تھا
یہ اس شہر کا سب سے بڑا کلب تھا جہاں بہت سے غیر کانونی کام پولیس سے چھپ کر ہوتے تھے
اس کلب کا اونر تاشا کا پارٹنر مراد تھا
کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ پولیس آج تک کچھ نہیں کر پائی تھی
لیکن اب تبریز کے انڈر یہ کیس تھا اور جلد ہی اسکو ثبوت بھی مل جائے گے ایسا سبکو لگتا تھا
‘” سر سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے ہمارا ایک آدمی کلب کے باہر موجود ہے اور دوسرا یہیں اسی بھیڑ میں ”
علی تبریز کو سبکی پوزیشن بتانے لگا
پچھلے دو دن سے وہ لوگ اس مشن کے لئے پلاننگ کر رہے تھے
آج یہاں ہونے والی ڈیل کو انہیں روکنا تھا جو تاشا کا خاص آدمی کرنے والا تھا اور ساتھ میں اسکو اپنی گرفت میں لینے کی پوری تیاری تھی انکی
‘”” گڈ ..جیسے ہی کچھ گڑبڑ کا احساس ہو تم لوگوں کو فورا ایکشن میں آنا ہے
‘” اسلئے بی ریڈی ”
وہ دونوں ایک کم رش والی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے تبریز کی نظریں بھیڑ پر ہی جمی ہوئی تھی
‘” اوکے میں باقی ان دونو کو بھی بول دیتا ہوں ”
اسکی بات سن کر وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا
‘” خیال رکھنا علی کسی سے بھی کوئی غلطی نہ ہو کیونکہ ہماری ایک غلطی ہمیں موت کے منہ کے بہت قریب لے جا سکتی ہے
‘” کیونکہ ہم لوگ اس وقت انکی سلطنت میں موجود ہیں یہاں کونے کونے پر تاشا کا آدمی ہوگا ”
تبریز بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنے سر پر اوڑھی کیپ کو صحیح کرتا ہوا بولا
اس وقت وہ لوگ عام کپڑوں میں موجود تھے
ادھر میوزک کی آواز کم ہونے کی وجہ سے وہ لوگ آرام سے بات کر رہے تھے
‘” اوکے یو ڈونٹ وری …اور یہ لو اپنی گن ”
علی نے سبکی نظروں سے بچا کر اسکو گن دی
‘” تم اپنی جگہ پر جاؤ وہ لوگ آتے ہی ہونگے میرے اشارے کرنے پر ایکشن لینا ہے تم سب نے ”
وہ اپنی کمر کے پیچھے پینٹ میں اپنی گن چھپاتا ہوا بولا تو علی وہاں سے چلا گیا
جہاں ایک طرف وہ اپنے پولیس کی ڈیوٹی کر رہا تھا وہیں دوسری طرف ڈیوڈ تھا جو یہ پتہ لگانے آیا تھا مہرہ اور توفیق پر حملہ کرنے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے
کیونکہ وہ آدمی آج یہاں آنے والا تھا
‘” اور کتنا وقت لگےگا تین گھنٹے ہو گئے ہیں یہاں آئے ہوئے”
وہ اپنی گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا بولا اگر ضروری نا ہوتا تو وہ مہرہ کو چھوڑ کر نہیں آتا
‘” مجھے ڈر ہے وہ ڈیل کینسل نہ کردی ہو کیونکہ مہرہ کو وہ لوگ کڈنیپ نہیں کر سکے ”
کریم اپنی راۓ دے رہا تھا
‘” نہیں ایسا نہیں ہوگا ایسی ڈیل اتنی آسانی سے کینسل نہیں ہوتی وہ لوگ ”
وہ مزید کچھ کہتا جب اسکی نظر سامنے سے آتے شوکت پڑی جسکے پیچھے زین تھا
شوکت کو وہ دیکھ چکا تھا مگر اسکے ساتھ لڑکے کو پہلی بار دیکھ رہا تھا
وہ فورا سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا رگے تن گئی تھی ماتھے پر بلو کا اضافہ ہوا
شوکت کی یہاں موجودگی اسکو سمجھنے میں دیر نہیں لگی یہ سب تاشا کا کام تھا
‘” ڈیوڈ کالم ڈاؤن ..ہمیں فلحال کچھ نہیں کرنا ہے یہ جگہ زیادہ رش والی ہے ”
اسکو اپنی گن نکالتا دیکھ کریم نے اسکو یاد دلانا ضروری سمجھا تھا
‘” اس تاشا کا تم اب کھیل ختم ہی سمجھو اس نے ڈیوڈ کی چیز پر نظر رکھنے کی بہت بڑی غلطی کی ہے ”
اس نے غصّے سے کریم کا ہاتھ جھٹکا اور اپنی جگہ پر بیٹھ چکا تھا
وہ نہیں چاہتا تھا اسکی وجہ سے معصوم لوگ اپنی جان سے جایں
وہیں دوسری طرف تبریز کا بھی حال ڈیوڈ سے مختلف نہ تھا
شق کی کوئی گنجائش نہیں تھی ان لوگوں کے ساتھ وہ لڑکا کوئی اور نہیں زیان تھا
‘” یہ کیسے ممکن ہے زیان تاشا کے ساتھ کام کرتا ہے ”
وہ بےیقینی سے کھڑا اسکو دیکھ رہا تھا
‘” سر وہ لوگ آ چکے ہیں کیا کرنا ہے ?
علی کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آیا
‘” ڈیل شروع ہونے کا انتظار اسکے بعد ایکشن لینا یاد رہے یہاں معصوم لوگ بھی موجود ہیں انکی سیفٹی ضروری ہے ”
وہ فورا سمبھلا تھا اسکے لئے غلط غلط ہی تھا پھر چاہے وہ کوئی بھی ہوتا
وہ لوگ انتظار کرنے لگے مگر شاید ان لوگوں کو بھی گڑبڑ کا احساس ہو گیا تھا اس لئے شوکت سب سے پہلے وہاں سے نکلا پھر زیان ..
تبریز تیزی سے انکی طرف بڑھا مگر وہ بھیڑ میں گم ہوکر نکل چکے تھے
‘” سر شاید انہیں شق ہو گیا تھا اس لئے یہ سب ہوا
تبریز کو غصّہ آیا تھا اپنا پلان خراب ہونے پر
‘” کب تک بھاگو گے تم ایک نہ ایک دن میرے ہاتھ ضرور آؤ گے”
وہ اپنے خیال میں زیان سے مخاطب تھا
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )
“””