No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
جب سے سکندر انکے پاس سے گیا تھا وہ بس تب سے توفیق کے پاس بیٹھی مہرہ کی خیریت کی دعا کر رہیں تھی
نہ جانے وہ کہاں چلی گئی تھی ..یہ خیال ہی انہیں پریشان کر رہا تھا
اگر وہ تیمور خان کے ہاتھ لگ گئی تو یقیناً وہ اسکے ساتھ کچھ برا ضرور کرے گا
‘” یا اللہ میری مہرہ کی حفاظت کرنا وہ بہت معصوم ہے ”
انکے لہجے میں مہرہ کے لئے تڑپ تھی
اسکے لئے دعا کرتے ہوئے بےساختہ انکی نظر بیڈ پہ لیٹے توفیق پہ پڑی
‘” تمہاری بیٹی اتنے وقت سے میرے ساتھ رہی اور مجھے خبر ہی نہیں تھی کہ وہ تمہاری اولاد ہے ”
وہ انکی بند آنکھوں کو دیکھتی ہوئی بولی
انہیں تو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس وقت توفیق انکی نظروں کے سامنے ہے
وہ انہیں دیکھ سکتی ہے محسوس کر سکتی ہیں مگر افسوس وہ آنکھیں بند کئے دنیا سے بےخبر لیٹے تھے
جانے کتنا ہی وقت وہ یوں ہی انکو دیکھتی رہی جب توفیق کی پلکوں میں ہوتی ھلکی سی کپکپاہٹ نے انہیں پوری طرح سے انکی طرف موتجہ ہونے پہ مجبور کر دیا تھا
‘”توفیق تم میری آواز سن رہے ہو …تمھیں ہوش آ رہا ہے ”
وہ پرجوش انداز میں بولتی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی
انکے لہجے میں بےچینی تھی
توفیق نے اب آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولی تھی انکو ہوش میں آتا دیکھ عمارہ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا
‘” اللہ تیرا شکر ہے …تمھیں ہوش آ گیا ..”
کتنے ہی آنسو انکے آنکھ سے گرے اور زمیں میں جذب ہو چکے تھے
‘” مہرہ… میری بیٹی ..مہرہ ..”
آنکھ کھلتے ہی انہوں نے بہت آہستگی سے اپنی بیٹی کو پکارا تھا
‘” توفیق دیکھو یہ میں ہوں پہچانا مجھے ”
وہ بےکراری میں اس سے پوچھ بیٹھی تھی
آخر اتنے سالوں بعد جو انکو یوں ہوش میں اور اپنے سامنے دیکھ رہی تھی
توفیق جو پوری طرح سے ہوش میں آ چکے تھے اپنے بےحد قریب آتی آواز پہ انہوں نے نظریں گھما کے دیکھا تو اپنے سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لئے حیران ہوئے تھے
‘” عمارہ ..تم ”
وہ ابھی ہوش میں ہی آئے تھے اور اتنے سال بعد بھی عمارہ کو پہچانے میں انہوں نے دیر نہیں کی تھی
کتنے وقت بعد وہ انہیں دیکھ رہے تھے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انکی کبھی عمارہ سے ملاقات ہوگی
‘” کیسی ہو تم ..”
توفیق صاحب بہت آہستہ آواز میں بولے
عمارہ سمجھ سکتی تھی ان میں ابھی بھی کمزوری تھی
‘”” میں صحیح نہیں تھی ..لیکن تمھیں ٹھیک دیکھ کر میں بھی ٹھیک ہو گئی ہوں ”
وہ نم آنکھیں اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ لئے انہیں دیکھ رہی تھی
‘” لیکن میں کہاں ہوں …اور تم یہاں کیا کر رہی ہو …میری بیٹی مہرہ وہ کہاں ہے ”
بہت سارے سوال تھے جو انکے من میں چل رہے تھے جنکے جواب صرف عمارہ ہی دے سکتی تھی
‘” تم سکندر کے گھر ہو اس نے تمہاری جان بچائی تھی ..اور تمہاری بیٹی ”
وہ بولتی بولتی ایک لمحے کے لئے خاموش ہوئی تھی
‘” بولو عمارہ خاموش کیوں ہو گئی کہاں ہے میری بیٹی …کہیں تیمور خان نے اسکے ساتھ کچھ غلط تو نہیں کر دیا..وہ مہرہ کے پیچھے پڑا ہے اور سکندر اپنے باپ کے ساتھ سے ناواقف ہے ”
وہ بےچینی سے بولے جبکہ سکندر پورا سچ جاننے کے لئے عمارہ کے پاس آ رہا تھا کیونکہ وہ بچپن سے اسکے ساتھ تھی مگر کمرے سے آتی توفیق کی آواز اور اسکی بات پہ سکندر کے قدم اپنے جگہ رکے تھے
توفیق کے ہوش میں آنے پہ وہ حیران نہیں ہوا تھا کیونکہ ڈاکٹر کے متبِک اسکو کبھی بھی ہوش آ سکتا تھا
اور شاید آج اسکے ہوش میں آنے کا ہی دن تھا
‘” تم فکر نہ کرو توفیق سکندر تمہاری بیٹی کی حفظات کر رہا ہے ..وہ اسے کچھ نہیں ہونے دیگا ”
انہوں نے توفیق کو تسلی دی تھی مگر انہیں اس پہ بھی سکون نہیں ملا
‘” ہاں لیکن سکندر کو اسکے باپ کا سچ بتانا ضروری ہے وہ جیسا اسے سوچتا ہے وہ بلکل بھی ویسا نہیں ہے …وقت آ گیا ہے اسے اب معلوم ہونا چاہئے ”
توفیق صاحب اپنے بات کہتے اٹھانے کی کوشش کرنے لگے تھے
سکندر جو دروازے میں کھڑا تھا اس سے اب مزید وہاں رکا نہیں گیا وہ ایک جھٹکے میں دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تھا
‘” کس سچ کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے مجھے …”
وہ کمرے میں داخل ہوتے ہی ان دونوں کو ایک نظر دیکھتا ہوا بولا
ایسا اب مزید کیا رہ گیا تھا جس سے وہ ابھی بھی انجان تھا
جبکہ وہ دونوں حیرانی سے اسکی طرف دیکھ رہے تھے
‘” میں انتظار کر رہا ہوں ”
دونوں کو یوں ہی خاموش دیکھ کر وہ مزید بولا
اور اس بار عمارہ نے توفیق کی طرح ہاں میں گردن ہلائی تو وہ ایک گہرا سانس بھرتا اسکو سب بتاتا چلا گیا
سکندر اپنے جبڑے بہینچے توفیق کے ایک ایک لفظ کو غور سے سن رہا تھا
جتنا وہ بول رہا تھا اسکا غصّہ مزید بڑھتا جا رہا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ چلا گیا ہے ”
مسز ناز کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ پہ بیٹھی مہرہ سے مخاطب ہوئی
جسکے چہرے پہ اس وقت پریشانی اور گھبراہٹ صاف ظاہر ہو رہی تھی
انکے پیچھے تبریز اور مشال بھی موجود تھے
‘” کیا وہ سچ میں چلا گیا …اسے اس بات کا یقین آ گیا کہ میں یہاں نہیں ہوں ”
مہرہ جو پریشان سی بیڈ پہ بیٹھی باہر ہونے والی باتوں کے بارے میں سوچ رہی تھی مسز ناز کے مخاطب کرنے پر یکدم سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی ہوئی انکے قریب آئی تھی
‘” مجھے نہیں لگتا اسے اس بات پہ یقین آیا ہے کہ تم یہاں نہیں ہو ..اگر آج اسے سچ نہ معلوم ہوتا تو یقیناً وہ تمھیں یہاں سے لیکر ہی جاتا اور ہم لوگ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے ”
اس بار تبریز اس سے مخاطب ہوا تھا
اسکو سکندر کے انداز اور غصّے سے یہی لگا تھا کہ اسکو اس بات کا پورا یقین تھا کہ مہرہ یہیں موجود تھی
صبح علی کے کال آنے پر جب اسکے بتائے ہوئے ایڈریس پر جا رہا تھا جہاں زیان یقیناً تاشا کے کام سے موجود تھے مگر راستے میں اسکی نظر مہرہ پہ پڑی اسکو یوں اس طرح سڑک پہ دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا
اس نے ایک جھٹکے میں اپنی کار روکی اور اسکو دیکھنے لگا
سکندر خان کی بیوی اور اس حالت میں تبریز کو حیرانی ہوئی تھی
کیونکہ مسز نام اسکو مہرہ اور سکندر کے بارے میں بتا چکی تھی اس لئے پہلا خیال اسکے دماغ میں سکندر کا ہی آیا تھا
وہ اپنی کار میں بیٹھا اسی کو دیکھ رہا تھا جب وہ اسکی نظروں کے سامنے بیہوش ہوکر زمین پہ گری
تبریز جلدی سے اپنی کار سے نکل کر اسکی طرف لپکا اور بغیر اپنا وقت ضائع کئے اسکو اپنے گھر لے آیا
‘” کیا مطلب ..آپ لوگ سکندر کو سب سچ بتا چکے ہیں ”
تبریز کی بات سن کر مہرہ نے حیرانی سے سبکی طرف دیکھا
اسکے ہوش میں آنے کے بعد مسز ناز اسکو ساری حقیقت بتا چکی تھی
اور وہ بس بےیقینی سے انکو سن رہی تھی
مہرہ کے تو کبھی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ سب لوگ ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہونگے
اور انہیں اس بات کی خبر بھی نہیں تھی
‘” ہاں بیٹا وقت آ گیا تھا اسے سب سچ بتانے کا آخر اسے بھی تو معلوم ہو جسے وہ اپنا باپ سمجھتا ہے وہ اصل میں کیسا انسان ہے ”
مسز ناز کے لہجے میں تیمور کے لئے نفرت ہی نفرت تھی
تبریز نے غصّے میں اپنی مٹھی بہینچ لی تھی
‘” تم زیادہ ٹینشن مت لو مہرہ ویسے بھی اس کنڈیشن میں تمہارا ٹینشن لینا اچھا نہیں ہوگا سب اللہ پر چھوڑ دو اور اپنے اور سکندر کے بارے میں آرام سے سوچو ”
کب سے خاموش کھڑی مشال آگے بڑھی اور مہرہ کو اپنے ساتھ ہی بیڈ پہ بیٹھایا تھا
جب تبریز اسے بیہوش گھر لیکر آیا ڈاکٹر کے آنے کے بعد جو خبر انہیں ملی وہ اس ماحول کو خوشگوار بنا گئی تھی
مسز ناز کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں رہا تھا بیٹا ملنے کے بعد اب انہیں دادی بننے کی خبر ملی جو انہیں خوش ہونے پہ مجبور کر گئی تھی
جبکہ مہرہ کا بھی ہال ان سے کچھ کم نہیں تھا
‘” مشال بلکل صحیح کہہ رہی ہے تمھیں اب اپنا پورا خیال رکھنا ہے …اور اپنے فیصلے کے بارے میں بھی پھر سے سوچو کیونکہ اب تم اکیلی نہیں ہو ”
مسز ناز نے بہت نرمی سے اسکے گال کو سہلایا تھا جبکہ مہرہ کی آنکھیں پھر سے نم ہوئی تھی
‘” میں اس وقت سخت الجھن میں ہوں آنٹی …کیا کروں سمجھ نہیں آ رہا ہے سکندر نے اتنا کچھ چھپایا مجھ سے ..اور وہ جیسا ہے میں اسکے اس روپ کو قبول نہیں کر پا رہی ہوں”
وہ بےبسی سے بولی
مشال اور مسز ناز شاید نہ سمجھی ہو لیکن تبریز اسکی الجھن اسکی پریشانی کو اچھے سے سمجھ سکتا تھا
وہ جس طرح کا آدمی تھا ایک لڑکی کے لئے اسکو قبول کرنا مشکل تھا
‘” اگر اسے تمہارے ساتھ اچھی زندگی گزارنی ہے تو اسے بدلنا ہوگا …ورنہ تم جانتی ہو صرف ایک ثبوت اور اسکا ہال تاشا سے کم نہیں ہوگا ..اور میں یہ کام کرنے پہ مجبور ہوں کیونکہ مجرم کو سزا دلانا میرا کام ہے ”
اس بار تبریز مضبوط لہجے میں بولا
یہ ایک تلخ حقیقت تھی مگر اسکا خود کا بھائی زین اور تیمور خان کی طرح ہی غلط کاموں میں انولو تھا
‘” آپ کبھی اچھی بات نہیں کر سکتے ایک تو ہماری دوست پہلے ہی پریشان ہے اور آپ ایسی باتیں کر کے اسکی پریشانی مزید بڑھا رہے ہیں ”
مشال کو تبریز کی بات بلکل اچھی نہیں لگی تھی اس لئے اسے فورا ٹوکنا ضروری سمجھا تھا
مہرہ تو اسکے لئے پہلے ہی بہت عزیز تھی اور اب تو دونوں دوستوں کا رشتہ آپس میں مزید گہرا ہو گیا تھا
‘” ہاں بیٹا تبریز مشال ٹھیک کہہ رہی ہے ..ہم اس بارے میں پھر کبھی بات کریں گے .. فلحال مہرہ کو اپنے اور سکندر کے بارے میں سوچنے دو ..کیا وہ ایسے اسکے بغیر رہ پاۓ گی ..اگر نہیں تو اسے سکندر کے پاس جانا ہوگا ”
مسز ناز بہت ہی محبت سے مہرہ کو سمجھا رہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ مہرہ جذبات میں آکر کوئی بھی غلط فیصلہ لے
جبکہ انکی بات پر مہرہ سر جھکا کر رہ گئی تھی
وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی …وہ سکندر کے بغیر نہیں رہ سکتی اور اب تو اسکے بغیر رہنا اسکے لئے ناممکن تھا
‘” بس دعا کرو ..سکندر کو اسکے باپ کا پورا سچ معلوم ہو جائے پھر اسکو بدلنا بھی آسان ہوگا ”
انکے لہجے میں امید تھی ایک یقین تھا جیسے وہ جو سوچ رہی ہو وہ ہو جائے گا
“” آپ بلکل سہی کھہ رہی ہیں امی …اور اگر ایسا نہیں ہوا تو میرے پاس اور دوسرا طریقہ ہے تیمور خان کہ سچ سکندر کے سامنے لانے کا ”
اس بار تبریز پرسوچ انداز میں بولا تو وہ تینوں بس اسکو خاموشی سے دیکھ کر رح گئی تھی
🍁🍁🍁🍁
وہ جیسے ہی اپنے آفس مین داخل ہوا تو روم اندھیرا دیکھ کر کافی حیران ہوا تھا
ساری لائٹس آف تھی
‘” آؤ تیمور خان تمہارا ہی انتظار ہو رہا تھا ”
جانی پہچانی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی
لہجہ برف کی طرح بلکل سرد تھا
تیمور خان نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی تو سب سے پہلے اسکی نظر آپنی چیئر پہ بیٹھے شخص پہ پڑی جو چیئر کا رکھ موڑے بیٹھا ہوا تھا
جس وجہ سے وہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ پایا
‘” کون ہے …میرے روم میں اس طرح سے گھسنے کی اجازت کس نے دی ”
وہ آگے بڑھتا ہوا بولا
ماتھے پہ بل پڑ چکے تھے
‘” یہ کیا بات ہوئی تیمور خان تم اپنے بیٹے کی آواز بھی نہیں پہچان سکے حیرت کی بات ہے ”
سکندر اپنی چیئر کا رخ اسکے سامنے کرتا ہوا بولا
چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ تھی
‘” سکندر تم …اور یہ کس لہجے میں بات کر رہے ہو تم مجھ سے باپ ہوں میں تمہارا ”
سکندر کو دیکھ کر تیمور خان ایک پل کے لئے حیران ہوا تھا دوسرا اسکے لہجے پہ ٹھٹکا بھی تھا
“” باپ کہوں یا ناجائز باپ …یا پھر تاشا …بولو کیا کہہ کر مخاطب کروں میں تمھیں ”’
وہ اپنی بات کہتا پل میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا تیمور خان کے مقابل آ کھڑا ہوا تھا
جبکہ اسکی بات سن کر تیمور خان کی آنکھیں مزید کھلی تھی
‘” یہ کیا بکواس کر رہے تم سکندر ہوش میں تو ہو ”
وہ فورا خود کو سنبھالتا ہوا بولا
ورنہ کتنے ہی سوال اسکے دل میں چل رہے تھے
‘” اتنے نادان کیوں بن رہے ہو تیمور خان عرف تاشا یہ چھپنے کا کھیل اب ختم ہو چکا …اس لئے کسی بھی ڈرامے کی ضرورت نہیں ہے ”
وہ اب مزید اسکی طرف اپنے قدم بڑھاتا ہوا بولا
آنکھوں میں اس وقت وحشت تھی جسے دیکھ کر ایک پل کے لئے تیمور خان ڈر سا گیا تھا
‘” اب مجھے تم سے سیدھا اور صاف جواب چاہئے …میری بیوی کہاں ہے ”
اپنی آستین کوہنی تک فولڈ کرتا وہ ایک پل کے لئے رکا
لہجے میں واضح وارننگ تھی
‘” جب اب تم سب جان ہی چکے ہو تو تمھیں کیا لگتا ہے میں تمھیں بتا دوں گا …تمہارا ہی باپ ہوں اتنی ..”
اس سے پہلے کہ تیمور خان مزید کچھ کہتا سکندر نے آگے بڑھ کر اسکا گلا دبوچ لیا تھا
اسکی پکڑ اتنی سخت تھی کہ تیمور خان کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہونے لگا
‘” خود کو میرا باپ کہنے کی کوشش نہ ہی کرنا یہ تمہارے لئے اچھا ہوگا …جتنا تم کر چکے ہو نہ اسکے بعد تمھیں ایک پل کے لئے زندہ نہیں چھوڑتا پر …”
سکندر نے اسکے گلے پر اپنی پکڑ سخت کرکے اسے ٹیبل پہ گرایا تھا
اس وقت اسکی آنکھیں بےحد سرخ ہو چکی تھی
‘” پر کیا کروں مجھے پال کر مجھ پہ احسان جو کر چکے ہو صرف اس لئے اب تک زندہ ہو ”
وہ اپنا چہرہ اسکے چہرے کے مزید قریب لے جاتا ہوا بولا
غصّے کی وجہ سے اسکی تنی ہوئی رگے تیمور خان آسانی سے دیکھ سکتا تھا
وہ اسکی سخت پکڑ میں تڑپتا ہوا اپنا آپ اس سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہا تھا مگر سکندر اسکی گردن پہ اپنی پکڑ مزید سخت کرتا جاتا
‘”اگر اپنی زندگی چاہتے ہو تو بغیر وقت ضائع کئے مجھے بتاؤ میری بیوی کہاں ہے …جھوٹ بولنے کی کوشش بھی مت کرنا ”
اس نے تیمور خان کو گردن سے پکڑ کر پھر سے اپنے مقابل کھڑا کیا
آکسیجن کم ہونے کی وجہ سے اب تیمور خان کا سانس اکھڑنے لگا تھا
آنکھیں باہر ابل آئی تھی
‘” میں ..میں نہیں جانتا ..میرے پاس نہیں ہے تمہاری بیوی”
تیمور خان اپنی جان بچانے کے لئے بامشکل بول پایا
اسکو لگ رہا تھا کہ اگر سکندر نے کچھ دیر یوں ہی اسکی گردن پہ اپنی گرفت سخت رکھی تو وہ مر جائے گا
اسکا جواب سن کر سکندر نے ایک جھٹکے میں اسکی گردن کو آزاد کیا اور بری طرح سے کھانستے اس شخص کو دیکھنے لگا جسے وہ اپنا باپ سمجھتا تھا
لیکن اسکی حقیقت جان لینے کے بعد وہ باپ کہلانے کے بھی لائق نہیں تھا
‘” تم اس ایک لڑکی کے لئے میرے ساتھ ایسا کر رہے ہو ..اپنے باپ کے ساتھ ”
تیمور خان کی سمجھ نہیں آ رہا تھا آخر اسکو سب کیسے معلوم ہوا
لیکن جو بھی تھا وہ سکندر کو خود سے دور جانے نہیں دے سکتا تھا
‘” کونسا باپ …تم جیسا گھٹیا انسان کسی کا باپ نہیں ہو سکتا ..ایک طرف باپ بن کر اپنے بیٹے سے محبت کرنے کا ناٹک دوسری طرف تاشا بن کر اسی بیٹے کی بیوی پہ نظر رکھتے ہوئے شرم نہیں آئی تمھیں ”
وہ دھاڑا تھا
تیمور خان نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اسکو سب معلوم ہو جائے گا
یقیناً اس سب کے پیچھے اریشہ کا ہی ہاتھ تھا
‘” لیکن تم یہ مت سوچنا کہ میں نے تمہاری زندگی بخش دی..اگر میری بیوی پہ نظر ڈالنے کی بھی کوشش کی تو تمہارا وہ ہال کروں گا کہ دیکھنے والوں کی روح تک کانپ اٹھے گی ”
وہ زہرخند لہجے میں بولا
‘” اگر تم میرے خلاف جا رہے ہو تو یہ مت بھولنا کہ تاشا کیا چیز ہے ..کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھیں خود ہی نقصان اٹھانا پڑے ”
اب جب سب کھل گیا تھا تو وہ کیوں اب خاموش رہتا آخر وہ بھی اسی کا باپ تھا
جبکہ اسکی بات سن کر سکندر کے ہونٹوں پہ استہزیہ مسکراہٹ آئی تھی
‘” یہ تو اب وقت بتائے گا کہ نقصان کیسے اٹھانا ہوگا اور کس کو نہیں …ڈیوڈ سے ملاقات ابھی باقی ہے تمہاری ”
وہ اسکو سخت نظروں سے گھورتا ہوا تیزی سے باہر نکلا تھا
سکندر کو لگ رہا تھا کہ اگر وہ کچھ دیر اور وہاں رکا تو یقیناً اسکا قتل کر دیگا
ایک دن میں کیا سے کیا ہو گیا تھا اسکے ساتھ صرف ایک دن میں اسکی زندگی بدل کر رہ گئی تھی
جس باپ کو وہ اپنا سب کچھ سمجھتا تھا اصل میں تو وہ ہی اسکا سب سے بڑا دشمن تھا
اور جس انسان کو وہ اپنے دشمن کی لسٹ میں رکھتا تھا اس سے اسکا خون کا رشتہ تھا
عجیب کھیل تھا قسمت کا
اس وقت وہ بہت الجھ چکا تھا ایک طرف باپ تھا تو دوسری طرف مہرہ ..اگر وہ اسکے باپ کے ہاتھ نہیں لگی تھی تو وہ کہاں تھی
اسکو پھر سے مہرہ کی غیر موجودگی نے پریشان کیا تھا
لمبے لمبے ڈگ بھرتا تیمور خان کے آفس سے نکل رہا تھا جب اسکا فون بجا
کریم کی کال تھی
‘” ہاں کریم بولو …کچھ پتہ چلا ”
وہ کال پک کرتا فورا بولا لہجے میں پریشانی تھی
‘” تم نے سہی سے معلوم بھی کیا ہے یا نہیں ”
دوسری طرف کی بات سن کر اسکے چہرے کے تاثرات یکدم بدلے تھے
‘” ٹھیک ہے ..کنفرم کرکے مجھے بتاؤ …بلکل کنفرم کرنے کے بعد ہی کال کرنا ”
وہ فون کٹ کرتا اپنی کار کی طرف بڑھا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” کہاں تھے تم شوکت جانتے بھی ہو ابھی وہ آیا تھا اسے سب معلوم ہو چکا ہے ”
تیمور خان شوکت کے روم میں داخل ہوتے ہی اس سے سخت انداز میں مخاطب ہوا تھا
اتنے بڑے جھٹکے سے وہ سنبھال نہیں پا رہا تھا
اسکے ساتھ رہنے والا بیٹا آج اسکے خلاف کھڑا ہو چکا تھا سکندر کی آنکھوں میں اسکے لئے نفرت تھی جو وہ اریشہ کے لہجے میں محسوس کر چکا تھا
‘” کیا ہوا تاشا کون آیا تھا …اور کیسے سب معلوم ہو چکا ہے ”
تیمور خان کی بات پہ وہ ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھنے لگا
ابھی اسکو گئے ہوئے آدھا گھنٹہ ہی تو ہوا تھا اور اس آدھے گھنٹے میں ایسا کیا ہو گیا تھا
جو تیمور خان کی پریشانی کی وجہ بنا ہوا تھا
‘” سکندر آیا تھا یہاں ..اور اسکو میرے بارے میں سب معلوم ہو چکا ہے ..سب کچھ ”
تیمور خان نے اپنے پاس رکھا کانچ کا گلاس زور سے دیوار پہ دے مارا تھا
غصّہ ضبط کرنے کی کوشش میں اسکی آنکھیں بےحد سرخ ہو چکی تھی
‘” یہ کیا کھہ رہے ہو تم …کیسے معلوم ہوا سب ..کس نے بتایا اسکو ..”
تیمور خان کی بات سن کر شوکت بھی تھوڑا پریشانی سے بولا
اگر اسکو سب پتہ چل چکا ہے تو اسکو یہ بھی معلوم ہو گیا ہوگا کہ اسکا باپ ہی اسکے بیوی کے پیچھے پڑا ہوا ہے
‘” یقیناً اسے اریشہ نے ہی سب بتایا ہوگا ..ورنہ عمارہ تو ایسا کبھی نہیں کرے گی ..”
تیمور خان پورے یقین سے بولا تھا
جبکہ اس بار اسکا اندازہ پوری طرح سے صحیح بھی نہیں تھا
‘” تمھیں کیا لگتا ہے صرف اریشہ کی بات پہ وہ یقین کر لے گا …کوئی اور بھی ہے اسکو سچ بتانے کے پیچھے ورنہ اسکے لئے ان سب پہ یقین کرنا آسان نہیں تھا ”
شوکت ابھی بھی یقین نہیں آیا تھا جبکہ اسکی بات سن کر تیمور خان یکدم سے اسکی طرف پلٹا تھا
اس بارے میں تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا
‘” توفیق ..اسکو بھی معلوم ہو جائے گا جب اپنی بیٹی کے لیے تڑپے گا …بہت شوق ہے نہ سچ بتانے کا ”
تیمور خان کے دماغ نے تیزی سے کام کرنا شروع کیا تھا
جس بات کا اسکو ڈر تھا آخر آج وہ ڈر اسکے سامنے آ ہی گیا تھا
‘” اب کیا کرو گے تم تاشا کہیں اس بیٹے کو بھی مارنے کا نہیں سوچ رہے تم ”
شوکت کو پورا یقین تھا اسکے شیطانی دماغ میں اس وقت بس یہی چل رہا ہوگا
جبکہ شوکت کی بات سن کر تیمور خان زور سے ہنسا تھا
‘” اسکو مارنے کے لئے مجھے کسی گولی کی ضرورت نہیں ہے اسکی کمزوری اسکی بیوی ہے …جو مجھے چاہئے ..”
ہمیشہ کی طرح اسکے چہرے پہ وہی شیطانی مسکراہٹ تھی ‘” وہ تمہارا بیٹا ہے تاشا ”
جانے کیوں شوکت نے اسکو یاد کروایا تھا
‘” وہ میرا بیٹا تب تک تھا جب تک وہ مجھے باپ سمجھتا تھا لیکن اسکی نظروں میں اب میں ایک گھٹیا انسان ہوں اور اسکا دشمن تو کیوں نہ اسے اچھی طرح اپنی دشمنی دکھاؤ ”
اسکا انداز ایسا تھا کہ شوکت بس اسکو دیکھ کر رہ گیا تھا
‘” تم اب اس زین سے رابطہ کرو وقت آ گیا ہے اسکو استمال کرنے کا ”
اسکے ارادے ابھی بھی نہیں بدلے تھے
شوکت اسکا حکم سن کر زین کہ نمبر ڈائل کرنے لگا
اس وقت وہ بلکل نہیں جانتا تھا کہ تاشا کے دماغ میں کیا چل رہا ہے
🍁🍁🍁🍁
