No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
وہ جیسے ہی اپنے بیڈروم میں داخل ہوا تو اسکے قدم اپنی جگہ رک سے گئے تھے
یہ کمرہ اسکا کمرہ کہیں سے بھی نہیں لاگ رہا تھا ہر طرف چیزے ادھر سے ادھر پھیلی ہوئی تھی
مہنگا قیمتی گلدان زمین پر گرا پڑا اپنی قیمت کھو چکا تھا
‘” یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے میرے بیڈروم کی کس نے کیا یہ سب ”
اسکی نظر جب ڈریسنگ کے پاس کھڑی مہرہ پر پڑی تو وہ اسکی پشت پر کھڑا استفسار کر رہا تھا
لہجہ میں تھوڑی سختی بھی تھی
‘” وہی حالت بنائی ہوئی ہے جو آج صبح تم نے میری بنائی ہوئی تھی اب کہو کیسا لگا تمھیں ”
وہ بہت سکون سے کہتی اسکی طرف پلٹی پہلی بار وہ ڈری نہیں تھی اسکے سامنے
ایک الگ ہی انداز تھا اسکا
جبکہ اسکی بات سن کر سکندر کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اس نے صبح والی بات کہ بدلہ لیا تھا اس سے
‘” گڈ جاب آئ لائک اٹ ”
وہ اپنے ہونٹوں کو گول شیپ میں کرتا پھر سے کمرے کا جائزہ لینے لگا
پہلی بار کسی نے ہمّت کی تھی اسکی قیمتی چیزوں کو ہاتھ لگانے کی مگر اسکو ذرا بھی غصّہ نہیں آیا
‘” اب اگر تمہارا بدلہ پورا ہو گیا ہو تو جاؤ جاکر تیار ہو جاؤ ڈیڈ باہر تمہارا ویٹ کر رہے ہیں خاص تم سے ملنے کے لئے بلایا ہے میں نے انہیں ”
وہ پرسکون انداز میں بولتا بیڈ پر آ بیٹھا
جبکہ مہرہ بےیقینی سے اسکو دیکھنے لگی اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی اسکو غصّہ نہیں آیا
” جاؤ جاکر جلدی تیار ہو جاکر دیر ہو رہی ہے ”
اسکو یوں ہی کھڑا دیکھ کر وہ پھر سے بولا
‘” مجھے نہیں جانا کہیں بھی اور نہ ہی کسی سے ملنا ہے”
مہرہ کو لگا وہ اپنا بدلہ نہیں لے پائی اسلئے اسکو پریشان کرنے کے لئے دوسرا طریقہ ڈھونڈھا
‘” میں تمہاری مرضی نہیں پوچھ رہا ہوں تمھیں کھہ رہا ہوں جاؤ جاکر تیار ہوکر آؤ دس منٹ ہے تمہارے پاس ”
وہ اپنے ہاتھ میں بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا بولا
‘” اور میں نے بھی کہہ دیا میں نہیں جا رہی کہیں بھی ہر بار مجھ پر تمہاری مرضی نہیں چلے گی تم جب جو چاہو کچھ بھی کر لو میرے ساتھ اور میں خاموش رہوں ”
اسکا لہجے ضدی تھا
‘” مہرہ مجھے زبردستی کرنے پہ مجبور مت کرو میں پہلے ہی تمہارا یہ کارنامہ برداشت کر چکا ہوں اس لئے میرا صبر مت آزماؤ ”
وہ اپنی بات کہتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور آہستہ سے قدم اٹھاتا اسکے قریب آ رکا
نظریں اسی پر ٹکی ہوئی تھی
‘” اب جاؤ جاکر اچھی سی ڈریس پہن کر آؤ ڈیڈ کی جانے کے بعد ہم تفصیل سے اس بارے میں بات کریں گے تم اپنا بدلہ لے سکتی ہو پھر اسکے بعد میرے بدلے کے لئے بھی تیار رہنا ”’
اس نے مہرہ کو وارڈراب سے ایک ڈریس نکال کر دی تو وہ چپ چاپ اسکو لیتی چینجنگ روم میں چلی گئی
تھوڑی دیر بعد واپس آئی تو وہ وہیں اپنی جگہ کھڑا ہوا وا تھا مہرہ کو دیکھ کر اسے ڈریسنگ کے پاس آنے کہ اشارہ کیا
پھر اس نے مہرہ کی مدد کرنے لگا تیار ہونے میں
‘” ہمممم ” کچھ کمی لاگ رہی ہے ابھی بھی ”
اسکو پورا تیار ہونے کے بعد وہ مکمل اسکا جائزہ لیتا ھوا بولا
مہرہ نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
کیونکہ اسکے حساب سے وہ پوری تیار ہو چکی تھی جیولرے کے نام پہ کان اور گلے میں پینڈنٹ پہنا تھا دونوں ہاتھوں میں چوڑیاں بھی سکندر کے کہنے پہ پہنی تھی
‘” میں اس سے زیادہ مزید کچھ اور نہیں پہن سکتی اتنا کافی ہے یہ بس ”
سکندر کی بات پہ وہ جھنجھلائی تھی
اسکا کچھ پتہ نہیں تھا ڈریس چینج کرنے کے لئے ہی نہ بول دیتا
‘” کمی تو ہے جسکو صرف میں ہی پوری کر سکتا ہوں ”
وہ اپنی بات کہتا معنی خیزی سے مسکرایا اور مہرہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو اپنے قریب کر چکا تھا
‘” اب تمھیں دیر نہیں ہو رہی ”
اسکی گہری نظروں سے گھبرا کر اس نے یاد دلانا ضروری سمجھا
‘” میرا بس ایک منٹ کا کام ہے زیادہ وقت نہیں لونگا “
وہ اپنی بات کہتا اسکے لپ سٹک سے سجے لبوں پر اپنے لب رکھتا پل میں اس سے دور ہوا
مہرہ بس دمبخود سی اسکو دیکھتی رہ گئی
‘” چلو اب مکمل ہو گئی تمہاری تیاری ”
وہ اسکا بازو پکڑتا باہر کی طرف بڑھا مہرہ بس اسکے ساتھ چلتی جا رہی تھی
لاؤنج میں آکر اسکے قدم رکے تھے
‘” یہ رہا میرا سرپرائز ڈیڈ جس سے میں آپکو ملوانا چاہتا تھا”
وہ سامنے صوفہ پہ بیٹھے تیمور خان سے مخاطب ہوا جو نیوز پیپر پڑھ رہا تھا
سکندر کی آواز پہ نظریں اٹھا کر دیکھا مگر اسکے پیچھے نظر آتے چہرے پہ نظر پڑتے ہی وہ ایک جھٹکے میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا
‘” اس سے ملو ڈیڈ یہ ہے مہرہ سکندر خان ”
اس نے اپنے پیچھے کھڑی مہرہ کو بازو سے پکڑ کے تیمور خان کے سامنے کیا
تیمور خان کو اپنے آس پاس دھماکے ہوتے محسوس ہو رہے تھے
اسکو یقین نہیں آ رہا تھا اسکے سامنے جو لڑکی کھڑی تھی وہ کوئی اور نہیں توفیق کی بیٹی مہرہ تھی جس کی تلاش میں وہ پھر رہا تھا
‘” لگتا ہے میرے سرپرائز نے آپکو کچھ زیادہ ہی شاک کر دیا ہے ”
انکو یوں ہی خاموش کھڑا دیکھ کر وہ پھر سے ان سے مخاطب ہوا
اور اس بار اسکی بات پہ تیمور خان جیسے ہوش میں آیا تھا
‘” ہاں شاک تو کر دیا تمہارے سرپرائز نے مجھے امید نہیں تھی تم شادی کر لو گے وہ بھی مجھے بتائے بغیر ”
وہ بول تو سکندر خان سے رہا تھا مگر اسکی نظریں مہرہ پہ ہی جمی ہوئی تھی جو نظریں جھکائے اسکے سامنے کھڑی تھی
‘” صحیح کہا آپنے ڈیڈ مجھے بھی خود سے امید نہیں تھی کہ میں شادی کر لونگا ”
اپنی ہی بات کہتا وہ زور سے ہنسا اور ایک محبت بھری نظر اپنے برابر کھڑی مہرہ پہ ڈالی
جو اب اسکی زندگی کی سب سے بڑی خوشی بن گئی تھی جسکے بغیر وہ اب خود کو ادھورا محسوس کرتا تھا
‘” یہ تو بہت اچھی بات ہے بیٹا مجھے بہت خوشی ہوئی کہ تم نے اپنے بارے میں کچھ سوچا اور تمہارا انتخاب بھی مجھے پسند آیا ”
وہ اب خود کو سنبھال چکا تھا
ورنہ بیٹے نے شاک دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی
‘” مجھے معلوم تھا ڈیڈ آپکو بہت خوشی ہوگی اس لئے میں کب سے آپکو بتانا چاہ رہا تھا ”’
اپنے باپ کی بات پہ وہ ہلکے سے مسکرایا
‘” تمہاری خوشی میں ہی میری خوشی ہے بیٹا
‘” تمہاری خوشی میں ہی میری خوشی ہے بیٹا …اب یہیں کھڑے کھڑے باتیں کرنے کہ ارادہ ہے یا بیٹھو گے بھی ”
وہ خوشدلی سے بولا تو سکندر مہرہ اور انکو بیٹھنے کہ اشارہ کرتا خود بھی مہرہ کے قریب آ بیٹھا تھا
سکندر نے تیمور خان کو یہ نہیں بتایا کہ اس نے کس طرح ڈرا دھمکا کر اس سے شادی کی تھی انکے پوچھنے پر بس اس نے اتنا بتایا کہ وہ اسکو پہلی نظر میں پسند آئی اور پھر نکاح کر لیا
اسکے اتنے بڑے جھوٹ پر مہرہ بس اسکو دیکھ کر رہ گئی تھی ..
🍁🍁🍁🍁
‘” میں یہ سب کام چھوڑ رہا ہوں تاشا مجھ سے اب ایسی زندگی نہیں جی جائے گی ”
وہ اپنے سامنے صوفہ پہ بیٹھے اس شخص کی طرف دیکھ کر بولا جس کے لئے کام کرتے ہوئے اس نے اپنی ساری زندگی گزار دی
‘” مطلب میں تمہاری بات سمجھا نہیں صاف الفاظ میں اپنی بات سمجھاؤ مجھے ”
ایک لمحے کے لئے اسکو لگا کہ اس نے غلط سنا ہے اس لئے اس سے دوبارہ جاننا چاہا آخر اسکی بات کا مطلب کیا تھا
‘” میں اب تمہارے ساتھ کام نہیں کر سکتا اس اندھیری دنیا کو ہمیشہ کے لئے رخصت کرنا چاہتا ہوں بہت غلط کام کر لئے پر اب اور نہیں ”
وہ ایک گہرا سانس بھرتا تفصیل سے اسکو بتانے لگا
پورے پندرہ سال بعد اسکی اپنے ملک واپسی ہوئی تھی اور واپس آنے کے بعد اس نے کبھی عمارہ سے ملنے کی کوشش نہیں کی
کچھ مہینے تاشا کے ساتھ کام کرنے کے بعد اسکو لگنے لگا کہ وہ اب مزید اسکے ساتھ کام نہیں کر پاۓ گا اس لئے آج اسکے پاس موجود تھا
‘” ہممم تمہارا یہ کام چھوڑنے کی وجہ کہیں وہ لڑکی تو نہیں ہے جسکو تم اپنے ساتھ لیکر آئے ہو ”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور توفیق کے مقابل آ کھڑا ہوا
وہ اپنے ہر آدمی کی خبر رکھتا تھا پھر توفیق تو اسکا خاص
تھا
‘” ہاں ایسا ہی سمجھ لو میں اب سکون کی زندگی گزارنا چاہتا ہوں اپنی بیٹی کے ساتھ ”
توفیق بڑے آرام سے اسکی طرف دیکھ کر بولا
‘” وہ تمہاری سگی بیٹی نہیں ہے ”
اس نے یاد دلانا ضروری سمجھا تھا توفیق جیسے قابل آدمی کو وہ اتنی آسانی سے جانے نہیں دے سکتا تھا
‘” مجھے فرق نہیں پڑتا میں اسی کے لئے یہ سب کر رہا ہوں ”
وہ اسی انداز میں بولا
یہ سچ تھا مہرہ اسکی سگی بیٹی نہیں تھی جب وہ یہ ملک چھوڑ کر چلا گیا تو وہاں اسکی دوستی ساجد سے ہوئی جو مہرہ کا باپ تھا ایک دن اسکا کار ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ مرنے سے پہلے اپنی بیٹی کی زمہ داری توفیق کو دیکر دنیا سے رخصت ھو گیا تھا
اب وہ پندرہ سالہ مہرہ کو اپنے ساتھ واپس لے آیا
تیمور عرف تاشا جیسے کام کرتا تھا توفیق کو لگا کہیں نہ کہیں اس سے مہرہ کے مستقبل پہ آثار پڑ سکتا ہے اس لئے اس نے صرف مہرہ کے لئے یہ سب چھوڑنے کہ فیصلہ کیا
‘” مطلب تم نے پکا فیصلہ کر لیا ہے تم مجھے اور اس کام کو چھوڑ کر جا رہے ہو ”
تیمور خان نے پھر سے سوال کیا
” ہاں یہ میرا آخری فیصلہ ہے جو میں نہیں بدلوں گا “
انداز ہنوز تھا نظریں تاشا پہ ہی تھی
‘” لیکن جانے سے پہلے میں ایک بات بتانا چاہتا ہوں جو تمہارے لئے جاننا بہت ضروری ہے ”
کچھ سوچ کر وہ پھر سے گویا ہوا
‘” کیسی بات اور کس بارے میں ?
تیمور خان چونکا تھا اسکی بات سے
‘” جس طرح سے تم نے آج تک اپنے بیٹے سے سچائی چھپائی ہوئی کہ اسکا باپ تیمور خان ایک بزنس مین ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑا گینگسٹر بھی ہے جس کو لوگ تاشا کے نام سے جانتے ہیں
ٹھیک اسی طرح تمہارا بیٹا سکندر صرف سکندر نہیں ڈیوڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ”
یہ سچ تھا سکندر اپنے باپ کے کام سے انجان تھا وہ اپنے باپ کو ایک اچھا انسان سمجھتا تھا اور اسکو صرف اتنا معلوم تھا کہ اسکی ماں بچپن میں اسکو چھوڑ کر جا چکی ہے
واپس آنے کے بعد دو تین ڈیل کی وجہ سے توفیق کا سامنا ڈیوڈ سے ہوا
جب اس نے معلوم کروایا کہ یہ ڈیوڈ کون ہے تو اسکی حیرانگی مزید بڑھی تھی یہ جان کر کہ ڈیوڈ کوئی اور نہیں تیمور خان کا بیٹا سکندر خان ہے
جب وہ گیا تھا تو وہ گیارہ سال کا تھا اب پندرہ سال بعد مطلب چھبیس سال کا ہو چکا تھا مگر اسکو اپنے باپ کی طرح کاموں میں دیکھ کر توفیق کو بہت افسوس بھی ہوا تھا
اور اب وہ اسکو بتا کر اپنی طرف سے کوئی دھماکہ کر رہا تھا مگر تیمور خان کے چہرے کے تاثرات نارمل ہی تھے
‘” تمھیں کیا لگتا ہے توفیق جب میں سب کی خبر رکھتا ہوں تو کیا مجھے اپنے بیٹے کے کاموں کی خبر نہیں ہوگی میں شروع سے ہی جانتا ہوں
کئی بار میں نے اسکو سمجھانا بھی چاہا مگر وہ نہیں مانا اسکی وجہ سے مجھے بہت نقصان اٹھانے پڑتے ہیں ”
وہ بڑے آرام سے توفیق کو بتانے لگا جو حیران سا اسکی طرف دیکھ رہا تھا
‘” اگر ایسا ہے تاشا تو میں تمھیں صرف ایک مشورہ دینا چاہوں گا تم اپنے بیٹے کو اپنے بارے میں سب کچھ بتا دو آگے چل کر ایسا نہ ہو کہ تمہارا بیٹا ہی تمہارا دشمن نہ بن جائے”
توفیق اپنی بات کہہ کر وہاں سے چلا گیا اور پھر سے نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا اس دنیا کو
وہ اپنی پندرہ سالہ بیٹی مہرہ کو لیکر ایک الگ گھر میں آ گیا جہاں کسی کو اسکے پاسٹ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا
وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا دن مہینے اور مہینے پانچ سال میں بدل گئے توفیق اپنی بیٹی کے ساتھ ایک سکون کی زندگی گزارنے لگا
مہرہ اب یونی جانے لگی تھی
کبھی کبھی عمارہ کا خیال بھی آ جاتا جسے وہ فورا جھٹک دیتا کیونکہ جانتا تھا وہ عمارہ کو وہاں سے اپنے پاس نہیں لا سکتا
اور پھر اسکی پرسکون زندگی میں ھلچل تب ہوئی جب یونی جاتے وقت تاشا کے پارٹنر کی نظر مہرہ پر پڑی اور بس تب سے اسکی زندگی کا سکون چلا گیا
تاشا پھر سے اسکی زندگی میں آ چکا تھا
اور تاشا کے بعد جب ڈیوڈ اسکے گھر آیا تب توفیق کی پریشانی مزید بڑھی
وہ ان دونوں سے اپنی بیٹی کو بچانا چاہتا تھا
لیکن جب ڈیوڈ نے مہرہ سے نکاح کیا تو توفیق کو لگا کہ صرف ایک وہ ہی ہے جو تاشا سے اسکی بیٹی کو بچا سکتا تھا
مطلب اسکو اپنی بیوی کی حفاظت کرنی تھی وہ بھی اپنے باپ سے
جس بات سے وہ انجان تھا
دوسری طرف تبریز تھا جو محرومی میں اپنی زندگی گزار رہا تھا ماں ہونے کے بعد بھی ماں کے پیار سے محروم رہا نہ باپ کی محبت ملی نہ بھائی کا پیار
ایک دن جب اس نے غصّے میں آکر اریشہ سے اپنے باپ کے بارے میں پوچھا تو اس نے صرف اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں اسکو بتایا
اور بس تب سے تبریز نے اپنی ماں کے گناہگار کو سزا دلانے کے پولیس فورس جوائن کی
جس بات سے اریشہ انجان تھی
اس نے پہلے تیمور خان کے بارے میں معلوم کروایا اور پھر اسکو سب معلوم ہوتا گیا کہ وہ تاشا بھی ہے
اسکی زندگی کہ بس ایک ہی مقصد تھا تاشا کو اسکے انجام تک پہنچانے کا
جسکے لئے وہ دن رات محنت کر رہا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” مشال ”مشال کہا ہو تم ”
وہ بلند آواز میں اسکو پکارتا گھر میں داخل ہوا
اسکے ہاتھ میں کچھ شاپرز تھے
جب مشال نے کچھ جواب نہیں دیا تو سیدھا اپنے بیڈروم میں گیا شاپرز کو بیڈ پہ رکھتا پھر سے اسکو پکارتا باہر نکلا
جب بھی ووہ ڈیوٹی سے واپس آتا تو وہ اسکو لاؤنج یا بیڈروم میں ہی نظر آ جاتی مگر آج وہ اسکو نظر نہیں آئی تو اسکا ڈیل بےچین ہوا تھا
‘” تم یہاں ہو اور میں کب سے تمھیں آواز دے رہا تھا کم از کم ایک بار جواب تو دے دیتی ”
وہ کچن میں داخل ہوتے ہی کام کرتی مشال سے مخاطب ہوا اس پہ نظر پڑتے ہی ایک سکون سا ملا تھا اسکو
‘” میں اس گھر کے علاوہ اور کہاں جا سکتی ہوں مصروف تھی اس لئے جواب نہیں دیا ”
وہ اسکی طرف پلٹے بغیر بولی
اس وقت اسکا سارا دھیان گیس پر رکھے سالن کی طرف تھا اس وجہ سے اس نے ایک بار بھی تبریز کی طرف دیکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی تھی
جبکہ اسکی یہ حرکت تبریز کو غصّہ دلا گئی تھی مطلب وہ اسکو دیکھنے کے لئے کتنا بےچین ہو رہا تھا اور ایک وہ تھی جسکو اسکے احساسات کی قدر نہیں تھی
‘” جب میں تمہارے پاس موجود ہوں تو تم ان کاموں کو چھوڑ کر صرف مجھ پر توجہ دیا کرو مجھے بلکل برداشت نہیں کہ تم مجھے نظر انداز کرو ”
اسکو یوں ہی کھڑا دیکھ کر تبریز اسکی پشت پہ آ کھڑا ہوا اور ہاتھ بڑھا کر گیس بند کر چکا تھا
‘” آپکی کیا پرابلم ہے ہم اپنا کام کر رہے ہیں تو کیوں پریشان کر رہے ہیں ہمیں جایں یہاں سے اور ہمیں کام کرنے دیں ”
تبریز کی حرکت پہ وہ سخت جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی
ایک تو اسکی قربت دوسرا اسکی پیش قدمی سے وہ گھبرانے لگی تھی
اس لئے ہر وقت اس سے ڈور رہنے کے موقے تلاش کرتی رہتی تھی
‘” کیا بات ہے مسز تبریز بہت غصّے میں لگ رہی ہو شاید تمھیں میرے لو ڈوز کی ضرورت ہے ”
وہ اسکی حالت سے لطف انداز ہوتا اسکو پیچھے سے اپنی باہوں کے حصار میں لیتا اپنے ہونٹ اسکے کندھے پہ رکھ چکا تھا
مشال جو پھر سے گیس آن کرنے والی تھی تبریز کی اس گستاخی پہ یکدم سے بوکھلا گئی تھی
‘” یہ کیا کر رہے ہیں چھوڑے ہمیں کھانا بنانے دیں ویسے ہی پہلے بہت دیر ہو گئی ہے ”
اسکے تنگ ہوتے گھیرے کو محسوس کر کے مشال گھبرائی تھی
اس شخص کی قربت ہمیشہ اسکی جان ہوا کر دیتی تھی
‘” آج میرا کھانا کھانے کے نہیں بلکہ تمھیں کھانے کا موڈ ہے وہ بھی پورا کا پورا ”
ووہ اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولتا مشال کی دھڑکنوں کو تیز کر گیا تھا
‘” آپکی ہر وقت ایسی الٹی سیدھی باتیں سن کر ہم کبھی کبھی شق ہوتا ہے آپ پولیس والے ہیں بھی یا نہیں ”
اسکی سانسوں کی گرمائش اپنے کندھے پہ محسوس کر کے وہ اپنی دھڑکنوں کو سنبھالتی ہوئی بولی
‘” میں ایک پولیس والا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شوہر بھی ہوں جو اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہے اور ویسے بھی آج میرا ارادہ تمھیں الٹی سیدھی حرکتیں بھی کر کے دکھانے کا ہے ”
وہ اسکی گردن پہ اپنی ناک رگڑتا ہوا بولا
اور اسکی بات سن کر مشال کا حلق تک خشک ہوا تھا
‘” نہیں ہمیں کچھ نہیں دیکھنا چھوڑے آپ ہمیں بہت سارا کام بھی باقی ہے ”
اس نے اپنا آپ چھڑانا چاہا
آج تبریز کی باتیں اسے خطرے کا احساس دلا رہی تھی
‘” پر مجھے تو دکھانی ہے اس لئے اب یہ سارا کام چھوڑو اور دوسرے بیڈروم میں تمہارے لئے ڈریس رکھی ہے اسے پہن اچھے سے تیار ہوکر آؤ میں تمہارا اپنے بیڈروم میں انتظار کار رہا ہوں ”’
وہ اسکے گال پہ اپنے لب رکھتا اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کر چکا تھا
‘” کیا ہم کہیں باہر جا رہے ہیں ?
تیار ہونے کا سن کر مشال کو یہی لگا شاید وہ اسکو کہیں لیکر جا رہا ہے اس لئے فورا پوچھ بیٹھی
‘” یہ سوال جواب بعد میں کرنا جاؤ پہلے تیار ہو جاؤ صرف آدھا گھنٹہ ہے تمہارے پاس اگر تم نہیں آئی تو مجبوراً یہ کام بھی مجھے ہی کرنا پڑے گا ”
وہ اک نظر اسکے پریشن چہرے پہ ڈالتا ہوا بولا
لہجے میں واضح وارننگ تھی
‘” پر میں ابھی …
‘” مشال تم جا رہی ہو یا میں تمھیں اٹھا کر لیکر جاؤ پھر جو ہوگا اسکی ذمہ دار تم خود ہی ہونگی ”
اس نے کچھ بولنا چاہا جب وہ اسکی بات کو بیچ میں ہی روک چکا تھا
اور بیچاری مشال مرتا کیا نہ کرتی تیزی سے کچن سے نکل گئی تھی
وہ نہیں جنتی تھی وہ اسکو کہاں لیکر جائے گا کیوں اسکو تیار ہونے کے لئے کہہ رہا ہے
اگر وہ مزید یہیں کھڑی رہتی تو یقیناً وہ اپنی بات پوری کرنے میں دیر نہ لگاتا اس لئے چپ چاپ اس روم کی طرف بڑھ گئی..
🍁🍁🍁🍁
‘” ایسے کیسے ہو سکتا ہے شوکت وہ لڑکی جسکی تلاش مجھے ہے جو مجھے چاہئے وہ لڑکی میرے ہی گھر میں میرے بیٹے کی بیوی کی حیثیت سے موجود ہے ”
وہ غصّے سے ادھر سے ادھر ٹہلتا چکر کاٹ رہا تھا
‘” وہ میرے سامنے تھی اور میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکا ”
جب سے وہ سکندر کے پاس سے آیا تھا تب سے اسکی یہی حالت تھی
غصّہ تھا جو کسی بھی طرح کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا
سکندر نے اسکا سرپرائز نہیں شاک دیا تھا
ایسا نہیں تھا کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ سکندر شادی کرے بلکہ ھر بار وہ خود ہی اسکو شادی کے لیے بولتا تھا مگر وہ ٹال دیتا
تیمور خان کو لگتا تھا شاید شادی کرنے کے بعد وہ یہ سب چھوڑ دے اس سے اسکا راستہ بھی صاف ہو جاتا
اور آج ایک طرف جہاں وہ اسکی شادی کا سن کر خوش ہوا تھا وہیں دوسری طرف مہرہ کو اسکی بیوی کے روپ میں دیکھ کر اسکی خوشی پل میں غائب ہوئی
‘” اسکا مطلب اس دن ہمارے آدمی کو مارنے والا بھی سکندر ہی تھا ”
اس دن جب اس نے مہرہ کو کڈنیپ کرنے کے لئے آدمی بھیجے تھے وہ آج تک جان نہیں پایا تھا کی کس نے انہیں مارا اور مہرہ کس کے پاس تھی
اور آج اسکو اپنے سب سوالوں کے جواب مل گئے تھے
‘” ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو خان جبھی آج تک ہم مہرہ کے بارے میں معلوم نہیں کر پاۓ کہ وہ کس کے پاس ہے اور اس سب کے پیچھے صرف ایک شخص کا دماغ ہے ”
اس بار شوکت پرسوچ انداز میں بولا تو تاشا اسکے بغیر کہے بھی جان گیا تھا کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہا ہے
‘” توفیق ” یہ اسکا کیا ہوا ہے سب کچھ جاننے کے بعد بھی اس نے اپنی بیٹی کی شادی سکندر سے ہونے دی کیونکہ وہ جانتا تھا سکندر کے علاوہ اسکی بیٹی کو مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا ”
اس بار وہ زہرخند لہجے میں بولا
آنکھوں میں جیسے خون سا اتر آیا تھا
‘” اس سب کے بعد مجھے اب پورا یقین ہو چکا ہے کہ توفیق ابھی بھی زندہ ہے ورنہ اس دن تمہارے مارنے کی بعد اسکی لاش کا غائب ہو جانا اسکا تو ایک ہی مطلب نکلتا ہے کہ وہ مرا نہیں ہے ”
تاشا کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا
اور وہ جو کچھ بھی سوچ رہا تھا وہ غلط نہیں تھا
‘” تو اب میرے لئے کیا حکم ہے ..کیا کرنا ہے اب “”
شوکت نے اب اسکے آگے کے قدم کے بارے میں جاننا چاہا
‘” سب سے پہلے اس توفیق کے بارے میں پتہ لگا کر جلد سے جلد اسکا کام ختم کرو
اگر وہ ابھی بھی زندہ ہے تو میرے لئے مشکل کھڑی کر سکتا ہے ”
اسکو ڈر ہوا تھا کہیں توفیق اپنی بیٹی کی جان بچانے کے لئے سکندر کو اسکا سچ نہ بتا دے
‘” ٹھیک ہے کام ہو جائے گا …اور اب مہرہ کا کیا کرنا ہے کیا اسکو چھوڑ دو گے تم ”
اس نے مزید جاننا چاہا کہ آگے وہ کیا کرنے والا تھا
‘” نہیں وہ تو مجھے اب بھی چاہئے شوکت اس لڑکی کے بدلے مجھے بلیک ڈائمنڈ مل رہے ہیں جنکی قیمت کا تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے
اس لڑکی کو میں کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑنے والا میرا ارادہ ابھی بھی وہی ہے ”
اس بار اسکے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی
‘” پر سکندر کے رہتے یہ کام بہت مشکل ہوگا ”
شوکت تھوڑا سوچ کر بولا
یہ تو سچ تھا وہ چاہے کتنا بھی بڑا کام کر لیتا مگر ڈیوڈ کی طاقت کا اندازہ ہر کسی کو تھا
اور اب بات تو اسکی بیوی پہ آ گئی تھی
‘” تم شاید بھول رہے ہو شوکت میں بھی اسکا باپ ہوں میری پوری عمر گزر گئی اس کام میں ..اور میں اچھے سے جانتا ہوں یہ کام کب اور کیسے کرنا ہے
سکندر کا کیا ہے مہرہ جیسی لڑکیاں اسکو اور بھی مل جائے گی ”
وہ اس بار شوکت کی طرف دیکھ کر مسکرایا تو وہ بس اسکو دیکھ کر رہ گیا تھا
پتہ نہیں ان باپ بیٹے میں کس کی جیت ہوتی مگر یہ تو طے تھا بہت جلد بہت کچھ بدلنے والا تھا
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )
