53.5K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

                   🍁🍁🍁🍁

‘” وہ اس وقت تبریز کے کمرے میں اسکے بیڈ پر دلہن بنی بیٹھی تھی اسکا رونا کچھ کام نہیں آیا تھا
اور اب رو رو کر اسکی آنکھیں بھی سرخ ہو چکی تھی
رات کے سڑے تین بج چکے تھے مگر تبریز اب تک روم میں نہیں آیا تھا اور ایک طرح سے اچھا ہی تھا اسکے لئے وہ اسکا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی
جس شخص کو وہ اتنا ناپسند کرتی تھی آج اسکی وہ اسکی بیوی بن چکی تھی اسے شروع سے سنجیدہ لوگ پسند نہیں تھے اور پھر جب سے تبریز نے پولیس جوائن کیا تو تب اسکی ناپسندیدگی مزید بڑھ گئی تھی
اسے اچھے سے یاد ہے کالج میں اسکی ایک ٹیچر تھی جنکی خوبصورتی کی وہ دیوانی تھی انکے شوہر بھی پولیس میں تھے مگر اک دن انکے شوہر نے کسی اور لڑکی کی وجہ سے اسکی ٹیچر کو طلاق دے دی تھی اسکی ٹیچر یہ برداشت نہیں کر پائی تھی مشال کو ابھی یاد ہے وہ کلاس میں بیٹھے بیٹھے رونے لگتی تھی
یہ سب باتیں انہوں نے خود مشال کو بتائی تھی کیونکہ مشال اکثر انکے گھر جاتی رہتی تھی وہ اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھی
‘ پھر ایک وہ اس شہر کو ہی چھوڑ کر چلی گئی مشال کے لئے وہ ایک دوست کی طرح تھی انکا غم اس سے بھی برداشت نہیں ہوتا تھا اور بس اس دن کے بعد سے مشال کے دل میں پولیس والوں کے لئے ناپسندیدگی بڑھتی چلی گئی وہ ہر پولیس والے کو انکے ٹیچر کے شوہر جیسا سمجھتی تھی جن کے لئے محبت لفظ کوئی معنے نہیں رکھتا “
اور آج وہ خود ایک پولیس والے کی بیوی بن چکی تھی
‘” اگر تمہارا سوگ ختم ہو گیا ہو تو جاؤ جاکر اپنے کپڑے چینج کرو سخت الجھن ہو رہی ہے مجھے ان سے ”’
وہ اپنی سوچوں میں اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہ اسکو تب ریز کے آنے کی خبر بھی نہیں ہوئی تھی مشال نے اسکی طرف دیکھا جو اپنی کار کیز ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ رہا تھا
‘” اگر اتنی ہی الجھن ہو رہی ہے تو اس کمرے سے چلے جایں ہمارا سوگ ابھی ختم نہیں ہوا ہے ‘”
وہ بھی کہاں چپ رہنے والو میں سے فورا جواب دیا گیا تھا جبکہ اسکا جواب سن کر تبریز نے اک نظر اسکو دیکھا اسکا یہ روپ اسکو پاگل کرنے کے لئے کافی تھا مگر نہیں اسکو اس بار بھی اپنے جذبات کی توہین نہیں کروانی تھی اس ضدی لڑکی سے ‘
‘” تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا جاؤ جاکر اپنے کپڑے چینج کرو وحشت ہو رہی ہے مجھے تمھیں اس لباس میں دیکھ کر”
وہ اسکے خوبصورت چہرے سے نظریں چراتا ہوا سخت لہجے میں بولا
یہ اسکے لئے برداشت کرنا مشکل تھا کہ وہ اس وقت کسی اور کے لئے سجی تھی اسکے ہاتھوں کے مہندی یہ سب کسی اور کے نام کا تھا
اسکے اتنے سخت انداز پر مشال کا ننھا سا دل سہم گیا تھا مگر خود پر قابو پاتی بیڈ سے اٹھ کر اسکے مقابل آ کھڑی ہوئی تھی
‘” اگر اتنی ہی وحشت ہو رہی ہے ہم سے تو کیوں کیا یہ نکاح نہ کرتے ہم نے مجبور نہیں کیا تھا آپکو بلکہ مجبور تو ہم “
اسکا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا جب تبریز کا بھاری ہاتھ اٹھا اور اسکے نازک گال پر اپنا نشان چھوڑ چکا تھا
مشال پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس ظالم شخص کو دیکھ رہی تھی جو کچھ گھنٹے پہلے اسکا شوہر بنا تھا
‘” چپ بلکل چپ اب اک لفظ نہ نکلے منہ سے بہت سن لیا تمہاری اور بہت برداشت بھی کر لیا مگر اب نہیں ‘”
تبریز شعلہ برساتی نظروں سے اسکی طرف دیکھ کر غرایا آج تک اس نے صرف تبریز کی محبت دیکھی تھی اب اسکا سخت رویہ بھی دیکھنا ہوگا
‘” اب سے وہی ہوگا جو میں چاہتا ہوں اس لئے جاؤ جاکر چینج کرکے آؤ ورنہ میں یہ کام بہت اچھے سے کر سکتا ہوں ”
اسکا دل بغاوت کر رہا تھا اسکو پیار کرنے کے لئے مگر
وہ مزید اپنی محبت کی توہین نہیں کروانا چاہتا تھا
‘” اسکی بات میں چھپی دھمکی اور اسکا اپنی طرف بڑھتا ہاتھ دیکھ کر کے مشال جلدی سے ڈریسنگ روم میں بھاگی تھپڑ کہ درد یکدم بھول گئی تھی
تھوڑی دیر بعد جب چینج کرکے واپس آئی تو تبریز کمرے کی لائٹ آف کئے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا
مشال صوفہ پر سونے کا ارادہ کرتی ہوئی بیڈ سی جیسے ہی تکیہ اٹھا کر پلٹی اسکو اپنا ہاتھ مضبوط گرفت میں محسوس ہوا اسکے مڑنے سے پہلے ہی تبریز ایک جھٹکے میں اسکو اپنی طرف کھنچ چکا تھا
وہ سیدھا اسکے سینے سے آ لگی تھی مشال کی آنکھیں مزید پھٹی تھی رات کا تیسرا پہر نیا نیا رشتہ اور تبریز کہ یہ روپ اسکی جان ہوا ہونے لگی تھی
وہ جلدی سے اس پر سے اٹھنے لگی جب تبریز نے اسکی کوشش سکو ناکام بناتے ہوئے اسکو بیڈ پر لٹا کر اسکو اپنے نیچے کر گیا تھا “
‘” اگر تم نے اپنے قدم اس بیڈ سے نیچے رکھے تو میں تمہارا وہ حشر کرونگا کہ میرے قہر سے پناہ مانگو گی ‘”
وہ سخت لہجے میں بولتا اسکے اوپر سے اٹھ کر دوسری سائیڈ لیٹ چکا تھا
جبکہ مشال بھی اپنی سسکی دباتی کروٹ بدل چکی تھی اسکی دھمکی سن کر اس میں ہمت ہی نہیں ہوئی تھی دباراہ سے اٹھنے کی
کچھ دیر بعد وہ تو روتے روتے سو گئی تھی مگر آج رات تبریز کو نیند کہاں آنی تھی ‘
🍁🍁🍁🍁
‘ وہ جلدی جلدی قدم اٹھاتی یونی جا رہی تھی آج وہ کافی لیٹ ہو گئی تھی کل کی وجہ سے
کل رات مشال کے گھر سے اسکی کافی دیر بعد واپسی ہوئی تھی
واپس آنے کے بعد وہ کتنی ہی دیر مشال کے بارے میں سوچتی رہی تھی اس لئے صبح بھی آنکھ دیر سے کھلی تھی آج یونی جانا بھی ضروری تھا
‘” ابھی وہ یونی کے گیٹ کے پاس پہنچی تھی جب سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکے قدم رک گئے تھے
یہ وہی تھا جسکو اس دن دیکھا تھا وہی شخص جو اسکا پیچھا کرتا تھا مہرہ خوفزدہ سی اپنی جگہ تھم سی گئی تھی
آج بھی وہ شاندار پرسنلیٹی کے ساتھ کھڑا ہر آنے جانے والو پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کر رہا تھا ‘
‘ سکندر جو اپنی کار کے پاس کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا مہرہ پر نظر پڑتے ہی اسکی طرف بڑھا
یہ لڑکی ہر گزرتے دن کے ساتھ اسکے حواسوں پر اسکی سوچ پر سوار ہوتی جا رہی تھی آج اسکا پورا ارادہ تھا اسکے پاس جانے کا ڈیوڈ نہیں سکندر بن کر.
‘ اسکو اپنی طرف بڑھتا دیکھ مہرہ جیسے ہوش میں آئی اس نے قدم یونی کی طرف بڑھا لئے تھے مگر افسوس وہ اسکے ساتھ میں حائل ہو چکا تھا
مہرہ اسکے اس طرح سے سامنے آ جانے پر ڈری سہمی نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی
” میرے راستے سے ہٹو ”
خود کو مضبوط ظاہر کیا تھا
” اگر میں نہ ہٹوں تو ?
وہ بڑی ہی دلچسپی سے اسکے ڈرے سہمے چہرے کو دیکھ رہا تھا
اسکے جواب پر مہرہ نے سائیڈ سے نکلنا چاہا مگر وہ اسکی کوشش کو ناکام بنا چکا تھا’
” آخر آپ چاہتے کیا ہیں کیوں پیچھے پڑے ہیں میرے ”
اپنے سامنے کھڑے اس لمبے چوڑے شخص کو دیکھ کر وہ سخت جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی
وہ تھک چکی تھی ڈیوڈ اور اس شخص سے جنہوں نے اسکا جینا حرام کیا ہوا تھا ..
‘ تمہاری زندگی کے کچھ حسین لمحے کیونکہ تم سکندر خان کے دل کو بھا گئی ہو اس لئے تمہاری زندگی کے کچھ پل چاہتا ہوں “
‘وہ اپنی بھاری آواز میں اس سے مخاطب ہوا تھا اسکی پرسنلیٹی کے ساتھ لہجہ بھی رعبدار تھا اور نظریں ہنوز اسکا ایکسرے کر ریں تھیں۔
جبکہ اسکی بات سن کر اور اپنے وجود پر ان گہری نظروں سے مہرہ کا چہرہ خفت اور غصّے کی وجہ سے سرخ ہو چکا تھا۔
” بدلے میں تم جتنی قیمت چاہو اٹس اپ ٹو یو یہ رہا بلنک چیک”
اسکے چہرے کے تاثرات بلکل نارمل تھے جبکہ اسکی بات سن کر مہرہ کا نازک ہاتھ اٹھا اور اپنے سامنے کھڑے شخص کے چہرے پر اپنا نشان چھوڑ گیا وہ شولہ بار نگاہوں سے اسکو دیکھ رہی تھی جبکہ اسکا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔
اسکی حرکت پر سکندر کے وجود میں انگارے دھکنے لگے اس نے خونخوار نظروں سے اسے گھورتے اسکا بازو دبوچا اور ساتھ ہی اپنے باڈی گارڈ کو پیچھے رہنے کا اشارہ کیا جو اسکے تھپڑ مارنے کی وجہ سے آگے بڑھ آئے تھے
” بہت ہمت ہے ڈارلنگ تمہارے اندر جبکہ تمھیں ذرا بھی اندازہ نہیں ہے کہ تم اپنے ساتھ کیا کر چکی ہو
اور نہ ہی تمھیں اس بات کا اندازہ ہے کہ سکندر خان کیا چیز ہے؟
تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک اسکا گوشت چیل کوئوں کی غزا بن چکا ہوتا ”
وہ اپنی گہری کالی آنکھیں اسکی بھوری آنکھوں میں گاڑے سرد لہجے میں بولا جبکہ اسکے بازو پر اس نے اپنی پکڑ مزید سخت کی تھی
اسکو اپنے اتنے دن کی بےچینی کا ایک یہی حل لگا تھا اسکو لگ رہا تھا کہ شاید اسکو حاصل کر لینے کے بعد وہ اسکی سوچوں اسکے چہرے سے پیچھا چھوڑا سکے اس لئے وہ اسکو آفر کر چکا تھا
اسکی بات کا مطلب سمجھ کر مہرہ کو اب سہی معنی میں اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ جذبات میں آکر اسکو تھپڑ تو مار چکی تھی لیکن تھی تو وہ ایک ڈرپوک سی لڑکی آخر وہ اس مضبوط شخص کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہے؟
‘” ویسے بھی تم وہ پہلی لڑکی ہو جس پر سکندر خان کی نظر ٹھہر ہے صرف چند گھنٹے ہی تو مانگ رہا ہوں اور قیمت تمہاری مرضی کی ہوگی ”
وہ اسکا دوسرا بازو بھی اپنی گرفت میں لے چکا تھا آس پاس کے کچھ سٹوڈنٹ انکی طرف موتجہ ہوئے تھے مگر اسکی گھورتی نظروں نے انہیں وہاں سے جانے پر مجبور کر دیا تھا
جبکہ اسکی بات سن کر پھر سے مہرہ کا غصّہ بڑھا گیا تھا مطلب یہ شخص صرف اس لئے اسکا پیچھا کرتا تھا..
“‘ ہاتھ چھوڑو میرا گھٹیا انسان دور رہو مجھ سے “
وہ مسلسل اسکی مضبوط گرفت سے اپنا بازو آزاد کرانے کی کوشش کر رہی تھی مگر کامیاب نہ ہو سکی
اور سکندر اسکو اپنی پکڑ میں مچلتا ہوا دیکھ کر خوب محظوظ ہو رہا تھا
‘” ویسے ہر ملاقات میں میری تم سے دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے جیسے اب مجھے لگ رہا ہے کہ میری چاہ کچھ گھنٹوں سے زیادہ بڑھ گئی ہے “‘
وہ اک جھٹکے میں اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کرتا استہزایہ مسکرایا
‘” اور میری چاہ جتنی بڑھے گی اتنا تمہارے لئے اچھا نہیں ہوگا “
اور ہاں جلدی ملے گے ‘
وہ اسکی طرف ایک آنکھ دباتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنی کار کی طرف بڑھا اسکے پیچھے کریم بھی اپنی کار میں جا بیٹھا
اسکے انداز میں ایسا کچھ تھا جو مہرہ کو کانپنے پر مجبور کر گیا تھا وہ وہیں کھڑی اسکی کار کو دور جاتا دیکھتی رہی تھی ‘
🍁🍁🍁🍁
‘” وہ رات بھر سویا نہیں تھا بس خاموشی سے مشال کی جانب کروٹ کے بل لیٹا بس ایک ٹک اسکو دیکھ رہا تھا
تبریز کی گہری نظریں مسلسل اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھی
اور وہ اسکی گہری نظروں سے بےخبر نیند کی وادیوں میں تھی’
‘ وہ بغیر پلکیں جھپکائے بس یونہی اسکو تک رہا تھا
کتنی محبت کرتا ہے وہ اس لڑکی سے بچپن سے ہی وہ اسکے لئے اتنی ضروری ہو گئی تھی کہ صرف اسکا چہرہ دیکھنے کے لئے وہ انکے پورشن میں جاتا تھا
کتنے سالوں سے اس نے اپنے جذبات کو دبا کر رکھا ہوا تھا صرف سہی وقت کے انتظار میں
اور جب اس نے اظھار کیا تو کتنی بےدردی سے اس نے اسکے جذبات اسکی محبت کو ٹھوکر ماری تھی
وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتی تھی اس پر زیان کو ترجیح دیتی
کل بھی اس نے مرنا پسند کیا تھا مگر اس سے شادی نہیں اپنی اس تزلیل پر وہ کل رات اس پر ہاتھ بھی اٹھا چکا تھا
وہ مرد تھا اسے کہاں برداشت تھا کہ اسکی بیوی اسکی محبت کسی اور کی بارے میں سوچے اپنے رات کیے گئے سلوک پر اسے شرمندگی بھی ہوئی تھی مگر کیا کرتا مشال کے لفظ نے اسکو اندر تک زخمی کیا تھا
‘” وہ اسکے مزید قریب ہوا اور اپنے ہاتھ کی پشت سے اسکا گال سہلانے لگا
اس وقت وہ سوتی ہوئی سفید گڑیا جیسی لگ رہی تھی
اسکے چہرے کا وہ کتنا دیوانہ ہے
یہ سوچتے سوچتے اسکی نظر مشال کے کٹاؤ دار گلابی لبوں پر آ ٹکی
جو اسکے چہرے سے بھی زیادہ حسین تھے
‘ وہ مشال کے نچلے ہونٹ کو نرمی سے سہلاتے ہوئے انکی نرمی محسوس کرنے لگا
اسکے دل میں ھلچل سی پیدا ہوئی تھی جن جذبات کو وہ قابو کر چکا تھا وہ پھر سے شور مچانے لگے تھے ‘
نگاہ تھوڑی اور بھٹکی تو سیدھا اسکی گردن سے تھوڑا نیچے ابہری ہوئی بیوٹی بون پر آ رکی
اب کے وہ اپنا ہاتھ نرمی سے ان سے پھیر رہا تھا
تبریز کی گہری نظروں کی تپیش سے مشال ہلکا سا کسمسائی تھی
کتنی حسین تھی وہ اسکا دل کیا کہ وہ اس موم کی گڑیا کو چھو لے
‘ اور بس اپنے دل کی خوائش پر عمل کرتے ہوئے وہ وہ اسکی سراہی دار گردن پر جھک گیا تھا
مشال جو گہری نیند میں تھی ایک عجیب سے احساس اور اپنے اوپر وزن محسوس کر کے اس نے اپنی نیند سے بوجھل آنکھوں کو بمشکل کھولا تھا
مگر اگلے ہی لمحے خود پر جھکے تبریز کو دیکھ کر اسکی نیند یکدم سے اڑ گئی تھی ‘
” یہ کیا کار رہے ہیں آپ چھوڑیں ہمیں “
وہ تڑپ کر اپنا آپ چھڑانے لگی مگر تبریز اس پر اپنی پکڑ مضبوط کر گیا تھا
اور مشال کی گردن پر جابجا اپنا لمس چھوڑنے لگا
‘” دور رہیں ہم سے ہمیں گھٹن ہو رہی ہے “
مشال نے پھر سے کوشش کرنی چاہی تو اس بار تبریز نے اپنا چہرہ اوپر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا
مشال ایک لمحے کے لئے خوفزدہ ہو گئی تھی اسکی خمارآلودہ آنکھیں دیکھ کر
تبریز اسکے کچھ بھی کرنے سے پہلے پھر سے اس پر جھکا اور اس بار اسکے کٹاؤدار گلابی لبوں کو نشانہ بنا چکا تھا
مشال کی دھڑکنے سست روی سے چلنے لگی تھی دماغ جیسے سن سا ہو گیا تھا
تبریز اسکی مزاحمت کو نظر انداز کرتا اس پر دیوانہ وار جھکا رہا
” کچھ دیر بعد اس نے اپنے بےلگام ہوتے جذبات کو قابو کیا اور لمحے میں اس سے دور ہوکر تمسخرانہ اڑاتی نظروں سے دیکھنے لگا جو اپنی سنسیں درست کر رہی تھی
‘” یہ گھٹن میری قربت اور مجھے اب ساری زندگی برداشت کرنا ہوگا تمھیں اس لئے ہر چیز کی عادت ڈال لو “
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا
‘” اپنا یہ ڈرامہ ختم کرو اٹھو میرے تیار ہونے سے پہلے ناشتہ تیار کرو مجھے ڈیوٹی کے لئے لیٹ ہونا پسند نہیں “
وہ اسکے رونے پر چوٹ کرتا ہوا بولا اور وارڈراب سے اپنے کپڑے نکال کر واشروم میں جا گھسا اور مشال بھیگی آنکھوں سے بند دروازے سکو دیکھتی رہ گئی تھی
رات والے تھپڑ کی وجہ سے وہ اس وقت تبریز سے کافی ڈری ہوئی تھی ورنہ دل تو کر رہا تھا کہ دو تین باتیں سنا دیتی اس لئے خاموشی سے بیڈ سے اٹھ گئی تھی
🍁🍁🍁🍁
“‘ کوئی ہے ?
آخر کوئی مجھے جواب کیوں نہیں دے رہا ہے
کہاں مر گئے ”
اس نے بند دروازے پر اپنی پوری طاقت لگا کر لات ماری تھی
‘اس کمرے میں قید ہوئے جانے اسے یہاں کتنا وقت ہو گیا تھا اسے کچھ معلوم نہیں تھا
نہ اسے یہ معلوم تھا کہ یہ کون لوگ ہیں جنہونے اسے یہاں قید کر کے رکھا ہوا ہے ‘
‘ جن لوگوں کے لئے وہ کام کرتا تھا وہاں اسکی کسی سے دشمنی نہیں تھی جو ایسا کام کرتا مگر یہ کون تھے وہ انجان تھا
اور نہ انہوں نے اپنا کوئی مقصد بتایا تھا اسکو ‘
” مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے آخر بتاتے کیوں نہیں ہو ”
وہ پھر سے چلایا
وہ پریشانی میں ادھر سے ادھر ٹہلتا ہوا اپنے گھر کے بارے میں سوچنے لگا
جانے اسکے پیچھے کیا ہوا ہوگا
اب وہ بری طرح سے پچھتا رہا تھا کہ وہ فون کال پر باہر کیوں گیا اور پھر باہر آکر کسی نے اسکے منہ پر رومال رکھا تھا اسکے بعد جب اسکی آنکھ کھلی تو خود کو اس کمرے میں قید پایا تھا ‘
“”کھولو دروازہ میری آواز سن رہے ہو ی نہیں ‘”
پھر سے دروازے پر ایک زوردار لات لگی تھی اور اس بار دروازہ کھلا تھا
ایک نقاب پوش ہاتھ میں کھانے کی ٹرے لئے اندر داخل ہوا جبکہ اسکے دوسرے ہاتھ میں پسٹل تھی
‘” لے یہ کھانا کھا لے اور اپنی زبان بند رکھ ورنہ تیرے لئے اچھا نہیں ہوگا ‘”
وہ آدمی اسکی طرف گن دکھاتا ہوا بولا زیان جو اس پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اپنے قدم وہیں روک گیا تھا
وہ آدمی کھانا رکھ کر پھر سے کمرے سے جا چکا تھا جبکہ زیان غصّے سے اپنی مٹھی بہینچ کر رہ گیا تھا
‘” یار تمہارے بھائی میں تو بہت جوش ہے صبح سے چیخ چیخ کر دماغ خراب کر دیا ہے “‘
علی کمرے سے باہر آخر اپنے چہرے سے نقاب اتارتا ہوا اپنے سامنے کھڑے تبریز سے مخاطب ہوا تھا
‘” تمھیں کتنی بار کہہ چکا ہوں علی کہ وہ میرا بھائی نہیں ہے یہ میرے سوتیلے باپ کی اولاد ہے بدقسمتی سے اسکی اور میری ماں ایک ہے بس ”
تبریز کا لہجہ سرد تھا اور چہرہ بلکل سپاٹ
نہ اس نے مجھے بھائی سمجھا نہ جلال شاہ نے اپنا بیٹا اس لئے مجھے اسکے ساتھ ایسا کرتے ہوئے بلکل بھی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی ہے
‘ وہ بند دروازے کی طرف دیکھتا ہوا بولا علی بس اسکو دیکھ کر رہ گیا تھا
‘” ہاں یار میں جانتا ہوں تم اس بات کو چھوڑو اور مجھے یہ بتاؤ اسکو کب تک یہاں رکھنا ہے ?
علی نے بات بدلی تھی وہ تبریز کا اچھا دوست تھا اس لئے اسکے بارے میں سب جانتا تھا
‘” ابھی کچھ دن رہنے دو اسکو ایسے ہی آخر اسکو سزا تو ملنی چاہئے میری چیز پر نظر جو رکھی تھی اس نے ‘”
لہجہ ابھی بھی سرد تھا
‘” اور ہاں اس کام کو بھی بہت صفائی سے کرنا کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہئے ”
کچھ دیر رک کر وہ پھر سے اس سے مخاطب ہوا تھا
‘” ٹھیک ہے تم بےفکر رہو کسی کو شق نہیں ہوگا “
علی نے اسکو یقین دلایا تو وہ بس اس نے اپنی گردن ہلا دی تھی ‘
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )