125.4K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

‘ ‘ تم یہاں میرے گھر میں کیا کر رہے ہو ?
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے تو اپنے کمرے میں موجود شخص کو دیکھ کر ایک لمحے کے لئے حیران رہ گئے تھے
مگر اگلے ہی لمحے ماتھے پر بلو کا اضافہ ہوا تھا
جو انکے صوفہ پر آرام سے ٹانگ کے اوپر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا اور اسکے ارد گرد اسکے کھڑے تھے جن میں ایک سے وہ انجان نہیں تھے .
جبکہ توفیق کے منہ سے یہ الفاظ سن کر تاشا اپنے برابر کھڑے شوکت کو دیکھ کر استہزایہ مسکرایا تھا
‘” کتنی غلط بات ہے توفیق ہم لوگ اتنے عرصے بعد مل رہے ہیں تم خوش ہونے بھی بجائے سوال پوچھ رہے ہو “‘
اس نے سگار کا ایک گہرا کش لیکر دھوا توفیق کی طرف چھوڑا تھا
اسکی اس حرکت سے توفیق کے چہرے پر ناگواری چھا گئی ‘
” ویسے تم بہت اچھے سے جانتے ہو میرے یہاں موجود ہونے کا مقصد کیا ہے “
وہ ہونٹوں میں سگار دبائے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ لئے اپنے سامنے کھڑے توفیق کی طرف دیکھ رہا تھا
‘” اور شاید تمہارے اس آدمی نے تمھیں میرا جواب نہیں بتایا ورنہ تم یہاں آنے کی زحمت نہ کرتے ”
توفیق نے ایک سلگتی ہوئی نگاہ تاشا کے برابر کھڑے شوکت کے اوپر ڈالی
انکا بس چلتا تو وہ ایک پل میں دونوں کو ختم کر دیتے”
‘” مجھے تمہارے جواب سے کوئی فرق نہیں پڑتا جس چیز کے اوپر میری نگاہ ٹھہر گئی سمجھو وہ چیز تاشا کی ہوئی
کسی میں ہمّت نہیں ہے تاشا کو انکار کرنے کی ”
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا اور جھٹکے میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا
‘” لیکن تم بھول رہے ہو وہ توفیق کو اپنی چیزو کی حفاظت کرنا بہت اچھے سے آتا ہے
اس لئے میری بیٹی سے دور رہو ورنہ تمہارے لئے اچھا نہیں ہوگا “
وہ بمشکل اپنے غصّے کو کنٹرول کر پا رہے تھے اوپر سے مہرہ کہ انکے روم میں ا جانے کا بھی ڈر تھا ‘
‘” میرے ساتھ اتنے سال کام کرنے کے بعد بھی تم بھول گئے کہ تاشا کو انکار پسند نہیں ہے
ویسے بھی تم نے یہ کام اپنی مرضی سے چھوڑا ہے جسکی قیمت تمھیں اپنی بیٹی دیکر چکانی پڑے گی'”
وہ سامنے دیوار پر لگی اسکی بیٹی کی تصویر کی طرف دیکھتا ہوا بولا تھا ”
‘” خبردار اگر اپنی گندی زبان سے میری بیٹی کا نام بھی لیا تمہاری زبان کھینچ لونگا میں “
وہ ہکلی آواز میں دہاڈے تھے
” اچھا لگا مجھے یہ دیکھ کر تمہارے اندر ابھی بھی پہلے والا وہی توفیق موجود ہے جسکے قتل کرتے وقت ہاتھ نہیں کانپتے تھے “
اسکی آنکھوں میں ایک چمک آئی تھی اسکو یوں غصّے میں دیکھ کر
‘” پر میری یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے اتنا غصّہ اس لڑکی کے لئے کیوں جو تمہاری سگی اولاد بھی نہیں ہے جسکو تم سڑک نے اٹھا کر پالا ہے ..
اس بار وہ سیدھا اسکی جانب دیکھتا ہوا بولا تو اسکی بات سن کر توفیق نے غصّے سے اپنی مٹھی بہینچ لی تھی
‘” وہ میری بیٹی ہے تاشا “
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولے تھے
یہ سچ تھا کہ مہرہ انکی اولاد نہیں تھی اس خون خرابے والی زندگی میں انہیں شادی کرنے کا وقت ہی نہیں ملا پھر ایک دن انہیں مہرہ ملی جس نے انکی زندگی بدل کر رکھ دی تھی اور وہ اس دنیا کو بھی چھوڑ چکے تھے جس میں وہ ایک کیلر تھے
“‘ اگر میرے پارٹنر کی نظر تمہاری بیٹی پر نہ پڑتی تو میں کبھی تمہارے پاس نہیں آتا مگر کیا ہے نہ میں اپنے پارٹنر کو ناراض نہیں کر سکتا اور وہ مجھ سے تمہاری بیٹی کی ڈیل بھی کر چکا ہے ”
اس لئے آرام سے میری بات مان جاؤ ورنہ مجھے دوسرا طریقہ بھی آتا ہے اپنا کام کروانے کے لئے جو یقیناً تمھیں پسند نہیں آئے گا ‘”
اس بار اسکے لہجے میں واضح دھمکی تھی
‘” تم جو چاہے طریقہ آزما لو میری بیٹی کو ہاتھ تو لگا کر دکھاؤ ایک ایک کو ختم کرکے رکھ دونگا “
انکی آنکھیں اس وقت غصّے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی .
‘” چلو پھر دیکھتے ہیں تم اپنی بیٹی کی حفاظت کر پاتے ہو یا نہیں ..
وقت کم ہی تمہارے پاس “
وہ توفیق کی طرف آنکھ مارتا ہوا بولا اور جس خاموشی سے انکے گھر میں گھسا تھا اتنی خاموشی سے وہاں سے چلا بھی گیا تھا .
جبکہ توفیق صاحب تھکے تھکے انداز میں صوفہ پر آ بیٹھے تھے انکو جلد ہی مہرہ کو تاشا کی پہنچ سے دور لے جانا تھا “
🍁🍁🍁🍁
‘” رات کو جب وہ تھکا ہوا ڈیوٹی سے واپس لوٹا تو اپنے پورشن میں مسز ناز کو دیکھ کر اسکا چہرہ یکدم سے سپاٹ ہوا ہوا تھا
” آپ یہاں کیہ کار رہی ہیں جایں یہاں سے “
وہ سرد انداز میں کہتا اپنے روم کی طرف بڑھا کیونکہ اس وقت وہ کوئی بھی بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا
‘” تبریز بیٹا صرف ایک بار میری بات سن لو میں صبح سے تم سے بات کرنے کی کوشش کر رہی ہوں ایک بار تو سن لو “
وہ تیزی سے اسکے پیچھے لپکی اور اسکا مضبوط بازو تھام لیا تھا
صبح اسکے ڈیوٹی جانے کے بعد سے وہ سارا دن اسکے لئے پریشان رہی تھی اس سے بات کرنے کے لئے انہوں نے کئی بار بار کال بھی کی مگر وہ انکی کال پک نہیں کر رہا تھا ‘
” وہ اس سے بات کر کے بتانا چاہتی تھی کہ یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ انہیں بھی خبر نہیں ہوئی اس لئے اب وہ اسکے پورشن میں موجود تھی ‘
‘” کیا سن لوں میں آپکی بات باتیں کیا سنو ?
وہ تیز آواز میں کہتا انکی جانب پلٹا اور بےدردی سے انکی پکڑ سے اپنا بازو آزاد کروایا تھا ‘
‘” کیا بتایں گی آپ مجھے کہ آپ پھر ایک بار میرے لئے کچھ نہیں کر سکی یا پھر ایک بار آپ بےبس ہو گئی ”
بولے خاموش کیوں ہیں ?
وہ تلخی سے انکی طرف دیکھ کر بولا اسکے اس انداز پر مسز ناز کی آنکھیں نم ہوئی تھی ‘
‘” مجھے لگا تھا کہ آپ میری ماں ہیں بغیر کہے میرے جذبات کو سمجھ جایں گی مگر نہیں میں اس بار بھی غلط ثابت ہوا
آپکو کبھی میری فکر تھی ہی نہیں اور نہ کبھی ہوگی صبح سے اپنا اندر دبا غصّہ وہ باہر نکال رہا تھا
‘” نہیں بیٹا ایسی بات نہیں ہے مجھے تمہاری فکر ہے احساس ہے تمہارے جذبات کا مگر میں ”
‘” بس چپ کر جایں آپ نہیں ہے آپکو بچپن سے لیکر اج تک صرف آپکو ان لوگوں کی فکر رہی ہے میرے حصّے کا پیار آپنے زیان کو دیا میرے حصّے کی ہنسی مشال کو ملی میرے حصّے کا وقت جلال شاہ کو ملا ..
وہ ایک سانس میں بولتا چلا جا رہا تھا آنکھیں اور لہجہ دونوں سرد تھا ‘
‘” اور آج پھر میرے حصّے کی خوشی میری محبت جب اس زیان کو دی جا رہی تھی تو آپ خاموشی سے سب دیکھتی رہی ہمیشہ کی طرح کیوں .
کیونکہ آپ بےبس ہیں امی جو اپنے بیٹے کے لئے کچھ نہیں کر سکتی صرف اس لئے کہ آپ احساس کمتری کا شکار ہیں اتنے سالوں بعد بھی آپ خود کو مجرم اور انکے احسانوں میں دبا ہوا سمجھتی ہیں جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے “
‘” وہ بول رہا تھا اور مسز ناز کے آنسو انکے رخسار سے پھسل کر زمین پر گر رہے تھے
انہیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ انکا بیٹا اتنی باتیں دل میں دبائے ہوئے ہے جو کچھ حد تک سہی بھی تھی ‘
واقعی انہیں یاد نہیں تھا کہ کب انہوں نے تبریز کے ساتھ اپنا پر دن گزارا تھا ”
‘” پر نہیں امی اس بار میں اپنے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا کیونکہ میں اب وہ چھوٹا بچہ نہیں رہا ہوں جو آپکی باتوں سے بہل جاؤں گا
اس بار میں اپنی خوشی کسی کو چھینے نہیں دوں گا کسی کو بھی نہیں “
وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا جیسے اپنے اندر کے اٹھتے طوفان کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہو”
‘” تبریز بیٹا ایک بہار میری بات تو سن لو میں مجبور تھی کوشش کرنی چاہی میں نے مگر “
وہ مزید کچھ بولتی جب وہ انکو ہاتھ اٹھا کر چپ رہنے کا اشارہ کر چکا تھا ‘
‘” آپ پلیز اس وقت یہاں سے چلی جایں ایسا نہ ہو کہ میں غصّے میں آپکو ایسا کچھ بول دوں جسکا بعد میں مجھے دکھ ہو “
وہ اپنا رخ موڑتا ہوا بولا اشارہ صاف تھا کہ وہ یہاں سے چلی جایں “
‘” مسز ناز نے بھیگی آنکھوں سے اسکی چوڑی پشت کو دیکھا اور تھکے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھی تھی ”
‘” امی آپ زبردستی کسی کی زندگی میں شامل نہیں ہوئی تھی پورے حق کے ساتھ آپکو انہوں نے اپنی زندگی میں شامل کیا تھا اس لئے خود کو بےبس اور مجبور سمجھنا چھوڑ دیں اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا سیکھ لیں ”
وہ ایسے ہی کھڑے کھڑے بولا اور پھر وہاں رکا نہیں تھا اسکے جانے کے بعد مسز ناز اسکے لفظوں پر غور کرتی رہ گئی تھی ”
🍁🍁🍁🍁
‘” آج پھر وہ اسکی یونی کے سامنے موجود تھا اپنی کار سے ٹیک لگا کر وہ سامنے گیٹ پر نظریں جمائے ہوئے کھڑا تھا ‘
آج اس نے اپنے چہرے کو نقاب کے پیچھے نہیں چھپایا ہوا تھا ‘
‘ وہ اس لڑکی سے پھر کے سامنے جانا چاہتا تھا مگر اپنی دوسری پہچان کے ساتھ
وہ لڑکی ہر ملاقات میں اسکے ارادے بدل رہی تھی
کل وہ صرف اسکو ڈرانے کے لئے اسکے سامنے گیا تھا ‘
” وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا وہ اسکو یاد ہے یا نہیں اور پھر اسکے یک دم سے پہچان لینے سے اسکو الگ ہی سکون سا ملا تھا
مطلب جیسے وہ اسکے دماغ اسکی سوچوں پر سوار تھی وہ بھی اسکی سوچوں اور دماغ میں تھا ‘
” جبھی تو اسکو دیکھتے ہی اسکے چہرے پر خوف سا چھا گیا تھا ‘
یونی کے گیٹ سے نکلتی کچھ لڑکیاں اسکی طرف موتجہ ہوئی تھی اسکی پرسنلیٹی ہی ایسی تھی کہ سامنے والے کو پلٹنے پر مجبور کر دیتی تھی ”
” مگر وہ اپنے اوپر اٹھتی نظروں سے بےنیاز اسکے آنے کا انتظار کر رہا تھا اسکے گارڈ اور کریم بھی اس سے کچھ فاصلے پر کھڑے ادھر ادھر نظر رکھے ہوئے تھے ”
”’ سکندر نے ایک بار پھر اپنی قیمتی گھڑی میں ٹائم کر پھر سے گیٹ کی طرف دیکھا دیکھا تو وہ اسکو سامنے سے آتی نظر آئی ”
” ہمیشہ کی طرح سادہ سے سوٹ میں مبلوس تھی بلیک کلر کا حجاب اسکی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا تھا
اسکے ساتھ ایک اور لڑکی بھی تھی جس سے وہ باتیں کرتی ہوئی آ رہی تھی ”
”’ سچ میں مشال مجھے تو اب تک یقین نہیں آ رہا ہے کہ اس سنڈے کو تمہارا نکاح ہے ”
” یہ میرے لئے کسی دھماکے سے کم نہیں ہے ”
مہرہ آج پورے دن میں جانے کتنی بار یہ بات دوہرا چکی تھی جب سے مشال نے اسکو بتایا تھا تب سے اسکا یہی حال تھا
”’ جب تم سنڈے کو آؤ گی تو تمھیں یقین آ جائے گا کہ ہمارا نکاح ہے ”
مشال اپنی مسکراہٹ ضبط کرتی ہوئی بولی تھی
‘” ویسے بہت ہی بےشرم دلہن بننے والی ہو تم نہ شرم نہ جھجھک کیسے ہنس ہنس کر بتا رہی ہو “
مہرہ نے اسکی ہنسی پر چوٹ کی تھی
‘” یہ بات بھی تمھیں نکاح والے دن ہی معلوم ہو جائے گی ہم بےشرم دلہن بنے گے یا نہیں ”
مشال اس انداز میں کہ اسکی بات پر مہرہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی اس بات سے بےخبر کی کوئی بڑی ہی دلچسی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا
اور شاید مہرہ کو بھی خود پر کسی کی نظروں کی تپیش کا احساس ہوا تھا اس نے جیسے ہی سامنے کی طرف دیکھا تو ایک لمحے کے لئے ٹھٹھک گئی تھی “
‘” وہ جو کوئی بھی تھا کسی انگلش فلم کے ہیرو سے کم نہیں لگ رہا تھا
بلیک جیکٹ کے نیچے وائٹ ٹی شرٹ اور بلو جینز آنکھوں پر گوگلز لگائے شاید کسی کے انتظار میں تھا مہرہ کو تو ایسا ہی لگا تھا “
‘” مگر اگلے ہی لمحے اسکی نظر جب اسکی کار پر پڑی تو چہرے پر خوف کے تاثرات چھا گئے تھے
یہ کار بلکل ویسی ہی کار تھی جو ہر وقت اسکو یونی اور اپنا پیچھا کرتے ہوئے محسوس ہوتی تھی
دوسری سائیڈ پر ایک اور کار کھڑی تھی اسکے آس پاس دو تین لوگ تھے جو مہرہ کو دیکھنے میں خطرناک لگے تھے “
‘” مطلب یہ وہی لوگ تھے جو اسکا پیچھا کرتے تھے آج پہلی بار وہ انکی شکل دیکھ رہی تھی “
مشال اپنا خشک حلق کرتی اندر سے کانپ گئی تھی
‘” تمھیں اچانک سے کیا ہوا مہرہ طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمہاری ?
اسکا سفید پڑتا چہرہ دیکھ کر مشال فکرمندی سے بولی تھی
‘” ہاں میں ٹھیک ہوں مشال تم جلدی چلو مجھے جلدی گھر جانا ہے بابا کو کچھ ضروری کام تھا مجھ سے “
اس نے فورا سے بہانا بنایا تو مشال پہلے تو اسکو دیکھتی رہی پھر اسکے ساتھ آگے بڑھ گئی تھی آج مہرہ کا ارادہ مشال ک کار سے گھر جانے کا تھا ورنہ وہ اکثر اکیلی گھر جاتی تھی
‘” سکندر جو اسکی طرف بڑھ رہا تھا اسکو اس طرح سے جانے پر اس نے اپنے قدم روک لئے تھے
اسکو ایسا لگ رہا تھا کہ مہرہ اسکو پہچان گئی ہے جبکہ حقیقت تو کچھ اور ہی تھی ”
🍁🍁🍁🍁
‘”وہ پچھلے ایک گھنٹے سے لان میں ادھر سے ادھر ٹہلتی ہوئی موسم انجوۓ کر رہی تھی آج کل وہ بہت خوش رہنے لگی تھی اس نے کبھی سوچا نہ تھا کہ یہ سب یوں اس طرح سے ہو جائے گا ”
اسے زیان اچھا لگتا تھا ھر وقت اسکے ساتھ لڑتا رہتا بات بات پر اسکو پریشان کرتا محبت کیا ہوتی ہے وہ اس جذبات سے انجان تھی پر اس نے جیسا شخص سوچا ہوا تھا زیان بلکل ویسا ہی تھا “
‘ زیان کا خیال آتے ہی ایک شرمیلی سے مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا تھا “
وہ مسکراتی ہوئی اندر کی جانب بڑھی تھی جب کسی نے بہت ہی بےدردی سے اسکا بازو پکڑ کر بغیر اسکو سمبھلنے کا موقع دئے اپنے ساتھ کھینچتا ہوا آگے بڑھا تھا ‘
مشال پہلے تو ہڑبڑائی مگر جیسے ہی اسکی نظر تبریز پر پڑی تو اسکے چہرے پر ناگواری آ گئی تھی
‘” تبریز بھائی یہ آپ کیا کر رہے ہیں بازو چھوڑیں ہمارا ”
وہ اسکی مضبوط پکڑ سے اپنا بازو آزاد کرانے کی کوشش کرتی ہوئی تھوڑا غصّے میں بولی تھی
جبکہ وہ اسکی بات اور لہجے کو نظرانداز کرتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا مشال کو اپنے پورشن کی طرف لیکر بڑھ رہا تھا
‘” آپنے سنا نہیں ہمارا بازو چھوڑیں ہمیں تکلیف ہو رہی ہے “
اسکی سخت پکڑ سے مشال کو اپنے بازو میں درد محسوس ہو رہا تھا
مگر اس نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا وہ اپنے پورشن میں آکر رکا اور یک جھٹکے میں اسکا بازو آزاد کیا تو مشال نے خود کو گرنے سے بچایا تھا
‘” آپ ہمیں یہاں کیوں لائے ہیں “
وہ اسکو دیکھ کر خوفزدہ سی ہو رہی تھی جو ادھر سے ادھر ٹہلتا ہوا اپنے غصّے کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا
‘” یہ سب کیا سن رہا ہوں میں مشال تم ایسا کیسے ہونے دے سکتی ہو ”
وہ اپنی سرخ آنکھوں سے اسکی شہد رنگ آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
یک پل کے لئے مشال کہ دل تیزی سے دھڑکا تھا
‘” آپ کیا کہہ رہے ہیں تبریز بھائی ہمارے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے “‘
وہ تھوڑا پریشانی سے بولی جبکہ اسکے بھائی کہنے پر تبریز نے شدید غصّے میں آکر پاس رکھی ٹیبل پر زور سے لات ماری تھی
‘” اس میں نہ سمجھنے والی کیا بات ہے مشال تم ایسا کیسے ہونے دے سکتی ہو
میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا یہ شادی نہیں ہو سکتی کیونکہ “
وہ پھر سے اسکو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کر چکا تھا
” تم…میری ہو مشال صرف میری “
وہ ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کے ادا کرنے لگا
اس کی پکڑ کے ساتھ ساتھ اس کے لہجے میں بھی سختی آنے لگی تھی
‘ جبکہ مشال شاک کی سی کیفیت میں کھڑی اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اس سے اپنی محبت کا اعتراف کر رہا تھا اسکے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اسکے لئے ایسے احساسات رکھتا ہے ‘
وہ ہمیشہ اس پر اپنا حق جتاتا تھا مگر کبھی مشال کو اسکے جذبات کا احساس ہی نہیں ہوا تھا
‘” تم سن رہی ہو نہ میں کیا کہہ رہا ہوں تم میری محبت ھو صرف میری ”
‘ وہ بےخودی میں مشال کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتا
ہوا اسکے مزید قریب ہوا تھا
اتنا قریب کہ اس وقت ان دونوں کے درمیان صرف انچ بھر کا فاصلہ باقی رہ گیا تھا
اسکی اتنی قربت پر مشال کا تنفس بگڑنے لگا تھا دل کی دھڑکنے مزید تیز ہوئی تھی ‘
‘” اور تم یہ شادی نہیں کروگی مشال کیونکہ مشال صرف تبریز کی ہے ‘
ہے نہ ?
وہ اپنے انگوٹھے سے اسکے گلابی لبوں کو نرمی سے چھوتا ہوا بولا اس وقت وہ مکمل اسکے سحر میں تھا
تبریز کی گرم سانسیں مشال کا چہرہ جھلسا رہی تھی
” اسکی انگلیوں کا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کر کے مشال جیسے ہوش میں آئی اور ایک جھٹکے میں اپنا چہرہ اسکی پکڑ سے آزاد کروا کر اس سے فاصلے پر جا کھڑی ہوئی تھی
‘” یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں ?
ہوش میں تو ہیں ہماری شادی ہونے والی ہے وہ بھی آپکے چھوٹے بھائی “
اس سے پہلے کہ مشال اپنی بات مکمل کرتی تبریز اسکی نازک گردن کو دبوچ کر اسکو دیوار سے لگا چکا تھا “
‘” ہوش و حواس میں تم نہیں ہو جبھی تمھیں میری بات سمجھ نہیں آ رہی ہے تم یہ شادی نہیں کروگی مطلب نہیں کروگی “
وہ دیوار کے ارد گرد اپنے ہاتھ رکھتا ہوا مکمل اسکو اپنے حصار میں لے چکا تھا
اور مشال حیران پریشان سی گھڑی اسکے بدلے ہوئے روپ کو دیکھ رہی تھی جو اس وقت کھڑوس کم جلاد زیادہ لگ رہا تھا
‘” ہم آپکے نہیں ہے اور نہ ہی ہم آپکی کوئی بات ماننے والے ہیں “
یہ بابا کا فیصلہ ہے جو ہمیں دل سے قبول ہے ہے اس لئے آپ ہمیں جانے دیں “
وہ خود کو تھوڑا مضبوط ظاہر کرتی ہوئی بولی تھی
” اسکی بات سن کر تبریز استہزایہ مسکرایا اور اس پر مزید جھکا تھا
‘” میں تمہاری مرضی نہیں پوچھ رہا تمھیں حکم دے رہا ہوں چاہے فیصلہ کسی کا بھی ہو تم یہ شادی نہیں کروگی ورنہ مجھے تریقے آتے ہیں اپنی بات پوری کرنے کے “‘
اسکی نظریں مشال پر جمی ہوئی تھی دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کے چہرے کو چھو رہی تھی اور مشال کی گھبراہٹ میں اضافہ کر رہی تھی “
‘” ٹھیک ہے آپکو جو کرنا ہے وہ کریں لیکن ہم انکار نہیں کریں گے ”
اس نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسکو خود سے دور کیا اور پل میں دروازے کی طرف بڑھی تھی
‘” میں تمھیں ایک موقع دے رہا ہوں مشال اگر نہیں کیا تو تم اپنی غلطی پر پچھتاؤ گی “
وہ اسکی پشت کو دیکھ کر بولا وہ چاہتا تو اسکو روک سکتا تھا مگر اسکو جو بات کہنی تھی وہ کہہ چکا تھا اب بس مشال کے انکار کا انتظار تھا “
‘” اسکی بات سنتے ہی مشال تیزی سے وہاں سے نکلی تھی اسکی سانسیں ابھی تک بےترتیب تھی اسکو اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ کھڑوس اس سے محبت کرتا ہے اور وہ اب تک اس بات سے انجان تھی “