No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
وہ وہیں زمین پہ بیٹھی بری طرح سے رونے میں مصروف تھی اسکو ارد گرد کا بلکل بھی ہوش نہیں تھا
نہ ہی اس بات کی فکر تھی کہ اسکو آتے جاتے لوگ رک رک کر دیکھ رہے تھے
اسے بس اس بات کہ صدمہ لگا تھا کہ وہ لوگ اسکی نظروں کے سامنے اسکی بڑی امی سکو لیکر چلے گئے تھے اور وہ انکے لئے کچھ نہیں کر پائی
اپنے رونے میں وہ مہرہ ..یہاں تک کہ تبریز کو فون تک کرنا بھول گئی تھی
نہ ابھی تک علی کے لئے کسی سے مدد مانگی
اس وقت اسکا دماغ بلکل کام کرنا بند کر چکا تھا
‘” مشال کیا ہوا تم یہاں …ایسے کیوں بیٹھی ہو ..سب لوگ کہاں ہیں ”
وہ بیٹھی آنسو بہا رہی تھی جب اسے اپنے بہت ہی قریب تبریز کی آواز سنائی دی تھی
اسکی آواز سن کر مشال جیسے ہوش میں آئی اور یکدم اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی
‘” تبریز آپ …آپ آ گئے ..وہ لوگ انہیں لے گئے …وہ انہیں لے گئے اور ہم کچھ نہیں کر پاۓ ”
مشال کی ایسی حالت ہو رہی تھی کہ اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا
جبکہ اسکی بات سن کر تبریز کو بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا
ابھی کچھ دیر پہلے ہی اسکی میٹنگ ختم ہوئی تھی جب اسکے پاس علی کی کال آئی تھی اسکو مال میں کچھ گڑبڑ کہ احساس ہوا تو اس نے تبریز کو فورا وہاں آنے کے لئے بولا تو وہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ وہاں موجود تھے
اور یہاں مشال کی حالت دیکھ کر اسکا دل ایک لمحے کے لئے ڈرا تھا
‘” کس کو لیکر گئے ہیں مشال …اور کون لوگ تھے ..علی تو تمہارے ساتھ تھا نہ وہ کہاں ہے ”
اس نے ایک ساتھ کتنے ہی سوال کر ڈالے تھے
لہجے میں بےچینی صاف ظاہر ہو رہی تھی
‘” بڑی امی کو ..ہماری بڑی امی کو لیکر چلے گئے ..ہم نہیں جانتے وہ کون لوگ تھے مگر ان لوگوں نے نقاب پہنا ہوا تھا”
وہ روتی ہوئی اسکے بتانے لگی تھی
ڈر کی وجہ سے اسکا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا
جبکہ اسکی بات سن کر تبریز کی رگے تن گئی تھی وہ بغیر جانے بھی سمجھ گیا تھا کہ یہ کس کا کام ہو سکتا ہے
آج وہ تیمور خان کی وجہ سے ہی میٹنگ پہ گیا ہوا تھا کل اسکو تیمور خان کو اریسٹ کرنے کا آرڈر مل چکا تھا سارے ثبوت اسکے خلاف تھے
وہ جہاں تک اسکو معلوم تھا تیمور خان یہ بات بھی جان گیا ہوگا اس لئے اس نے خود کو بچانے کے لئے راستہ نکالا تھا
‘” اور علی ..علی کہاں ہے ”
ساری بات سن لینے کے بعد تبریز کو اسکا خیال آیا آخر اسکے ہوتے ہوئے اتنا سب کیسے ہو سکتا تھا
‘” ان لوگوں نے علی بھائی پہ حملہ کیا ہے وہ اس شاپ کے باہر بیہوش ہیں جہاں ہم شاپنگ کر رہے تھے ”
وہ بری طرح سے رو رہی تھی تبریز کو اسکی حالت پہ بہت ترس آیا تھا
وہ آگے بڑھا اور اسکے کانپتے وجود کو سختی سے خود میں بہینچ چکا تھا ..
ساتھ ہی اپنی ٹیم کو اشارہ کیا تھا اس طرف جانے کا جہاں مشال اشارہ بتا رہی تھی
‘” چپ بلکل خاموش ..میں ہوں نہ ..سب ٹھیک ھو جائے گا ..میں امی کو واپس لے آؤ گا ..کچھ نہیں ہوگا انہیں ”
وہ اسکو تسلی دے رہا تھا جسکی اب ہچکیاں بندہ چکی تھی
تبریز کو اپنے قریب پاکر مشال کو مزید رونے آ رہا تھا
‘” ان لوگوں نے تمھیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچایا نہ …کیا کسی نے ہرٹ کرنے کی کوشش کی تمھیں ”
وہ اسکو خود سے الگ کرتا اس سے پوچھ رہا تھا
‘” نہیں ہم ٹھیک ہے ..ہم مہرہ کے پاس جا رہے تھے جب یہ سب ہوا اور پھر وہ بڑی امی کو لے گئے ”
اسے پھر سے سب یاد آیا تو آنکھیں پھر سے نم ہونے لگی جبکہ اسکے منہ سے مہرہ کا نام سن کر تبریز کا دھیان اب اسکی طرف گیا تھا اگر مشال یہاں تھی تو مہرہ کہاں تھی
‘” مہرہ کہاں ہے مشال …تمھیں اسکے ساتھ ہونا چاہئے تھا
نا ..کہیں وہ ان لوگوں کا پیچھے تو نہیں کرنے گئی ..”’
تبریز اسکی طرف دیکھتا فکر مندی سے بولا کیونکہ یس سارے وقت میں اسکو مہرہ کہیں نظر نہیں آئی تھی
‘” ہاں مہرہ کو ہم وہاں شاپ پر چھوڑ کر آ گئے تھے ہمیں اسکے پاس جانا چاہئے وہ وہاں اکیلی ہوگی ”
تبریز کے یاد دلانے پہ مشال کو یکدم مہرہ کا خیال آیا تو وہ اس شاپ کی طرف بڑھی ورنہ اپنی بڑی امی کے غم میں وہ اسکو مکمل بھول چکی تھی
اس شاپ تک آنے تک تبریز کی ٹیم علی کو وہاں سے لے جا چکی تھی ..اسکو صرف سر پہ چوٹ لگی تھی جس وجہ سے وہ بیہوش تھا
اسکی ٹیم اب اس جگہ پہ موجود ہر کسی سے پوچھ تاچھ کر رہی تھی تاکہ انہیں کچھ تو ثبوت ملے
‘” تبریز ..ہمیں مہرہ کہیں نہیں ملی …وہ اسی شاپ میں موجود تھی مگر اب یہاں نہیں ہے ”
وہ کھڑا اپنی ٹیم کو ہدایت دے رہا تھا یہاں مال میں انویسٹگیٹ کرنے پہ معلوم ہوا کہ ایک دو آمدی اس کار کا نمبر نوٹ کر چکے تھے جو مسز ناز کو کڈنیپ کرکے لے گئی تھی اتنا کلو کافی تھا تیمور خان تک پہنچنے کے لئے
‘” یہ کیا کہہ رہی ھو تم …سہی سے دیکھو ..”
مشال کی بات پہ وہ یکدم اسکی جانب پلٹا تھا جانے کیوں اسے ایسا لاگ رہا تھا کہ یہ صرف مسز ناز کی کڈنیپینگ کا معملا نہیں تھا
‘” ہم نے سہی سے دیکھا ہے ..جب ہم بڑی امی کے پیچھے گئے تب وہ اس چینجینگ روم میں تھی مگر اب وہ وہاں نہیں ہے جبکہ ہمیں وہاں اسکا موبائل اور اسکا بیگ ملا ہے ”
مشال نے اسکی دونوں چیزے تبریز کے سامنے کی تو ان چیزوں کو دیکھ کر اسکا شق یقین میں بدل گیا تھا
‘” تبریز ہمیں بہت ڈر لگ رہا ہے ..کہیں مہرہ کو بھی ”
مشال نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑا تھا
اسکی آنکھوں میں خوف اتر آیا تھا جبکہ تبریز اسکے قریب آیا تھا
جانتا تھا وہ جو اب اس سے کہنے والا تھا اسے سن کر مشال اس بار خود کو سنبھال نہیں سکے گی
‘” تمہارا شق بلکل ٹھیک ہے مشال …وہ لوگ امی کے ساتھ مہرہ کا بھی کڈنیپ کر چکے ہیں “‘
بریز نے اس وقت بہت مشکل سے اپنا غصّہ ضبط کیا ہوا تھا ورنہ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ تیمور خان کا کھیل آج ہی ختم کر دیتا
جبکہ اسکا جواب سن کر اس بار مشال برداشت نا کر سکی پہلا مسز ناز اور اب مہرہ کے کڈنیپ ہونے کی خبر سن کر وہ بیہوش ھو کر تبریز کی باہوں میں جھول گئی تھی
🍁🍁🍁🍁
‘” کیا ہوا عمارہ تم مجھے بہت پریشان لگ رہی ہو ..کچھ بات ہوئی ہے کیا ”
توفیق صاحب بہت دیر سے عمارہ کو دیکھ رہے تھے وہ وہاں انکے پاس بیٹھی تو تھی مگر انکا دھیان کہیں اور تھا کبھی اٹھ کر یکدم باہر چلی جاتی تو کبھی بےچینی سے ادھر سے ادھر ٹہلنے لگتی
توفیق صاحب بہت دیر سے انہیں دیکھ رہے تھے جب ان سے برداشت نہ ہوا تو سوال کر ڈالا تھا
‘” عمارہ میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں ..کیا ہوا ایسے پریشان کیوں نظر آ رہی ہو اور یہ مہرہ کہاں ہے بہت دیر سے مجھے نظر بھی نہیں آئی ”
عمارہ نے جب انکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تو توفیق صاحب نے انہیں پھر سے مخاطب کیا تھا اور ساتھ میں مہرہ کے بارے میں بھی پوچھنے لگے صبح ناشتہ کرنے کے بعد سے وہ انہیں کہیں نظر نہیں آئی تھی
اس بار توفیق صاحب کے مخاطب کرنے پہ عمارہ انکی طرف موتجہ ہوئی تھی اور ساتھ ہی انکا سوال سن کر انکی پریشانی مزید بڑھی
‘” وہ ..توفیق مہرہ اریشہ اور مشال کے ساتھ شاپنگ کے لئے گئی ہوئی ہے …میں نے اسے بہت منع کیا تھا کہ وہ باہر نہ جائے مگر اس نے میری ایک نہ سنی ”
عمارہ جانتی تھی سکندر کے ساتھ توفیق بھی نہیں چاہتے تھے کہ مہرہ اکیلے باہر جائے کیونکہ تاشا ابھی بھی اسکے پیچھے پڑا ہوا تھا
اور ایسے میں اسکا اکیلے باہر نکلنا مہرہ کے لئے خطرہ سبط ہو سکتا تھا
‘” یہ تم کیا کہہ رہی ہو عمارہ ..مہرہ باہر گئی ہے اور تم مجھے اب بتا رہی ہو ..تم جانتی ہو نہ اسکا باہر جانا اسکے لئے ٹھیک نہیں ہے ”
عمارہ کی بات سن کر توفیق صاحب یکدم اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے
انکے لہجے میں فکرمندی تھی
‘” میں نے اسے بہت منع کیا تھا توفیق مگر اس نے میری ایک نہیں سنی ..ضد کرنے لگی وہ جانتی تھی کہ تم اسکو باہر نہیں جانے دوگے اس لئے اس نے مجھے قسم دی کہ میں تمھیں نا بتاؤ واپسی پہ وہ خود تمھیں سب بتا دیتی ”
توفیق صاحب کی بات سن کر عمارہ کو اب خود پہ بھی غصّہ آ رہا تھا آخر وہ کیوں اسکی باتوں میں آ گئی تھی
‘” تم ایسا کرو مشال کو فون کرو کہ وہ جلدی واپس آ جائے اگر سکندر کو معلوم ہو گیا نہ کہ مہرہ گھر پہ نہیں ہے تو بلکل اچھا نہیں ہوگا ”
توفیق صاحب کو یکدم سے سکندر کے غصّے کا خیال آیا جب وہ مہرہ کے باہر جانے پہ اتنا پریشان ہو رہے تھے تو سکندر کا کیا ہال ہوگا
‘” کیا اچھا نہیں ہوگا …اور کس کے لئے ?..
عمارہ جو توفیق صاحب کی بات سن کر مشال کو فون کرنے کے لئے پلٹی تھی اپنے پیچھے سکندر کو کھڑا دیکھ کر اپنی جگہ رکی تھی
یقیناً اس نے ان دونوں کی پوری بات نہیں سنی تھی اگر سن لیتا تو اتنی آرام سے کھڑا نا رہتا
‘” میں آپ لوگوں سے کچھ پوچھ رہا ہوں ..آپ دونوں ایسے پریشان کیوں لگ رہے ہیں ..اور مہرہ کہاں ہے ”
ان دونوں کے چہرے کی پریشانی کو وہ بھانپ چکا تھا
‘” بیٹا وہ مہرہ ..اس وقت گھر میں ..”’
اس سے پہلے کہ توفیق صاحب اپنی بات پوری کرتے لاؤنج میں رکھا فون بجا تھا جو انکی بات کو بیچ میں روکنے پہ مجبور کر گیا
وہ ایک نظر سکندر کی طرف دیکھتے فون کی طرف بڑھے اور کال پک کی
اس وقت سکندر اور عمارہ کی نظریں انہی پر جمی ہوئی تھی جنکے چہرے کر تاثرات تیزی سے بدل رہے تھے
‘” یہ کیا کہہ رہے ہو تم بیٹا ..میری بیٹی ..نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ”
رسیور انکے ہاتھ سے چھوٹ کر گرا اور وہ صوفہ پہ گرنے کے انداز میں بیٹھے تھے
سکندر جو بڑی غور سے انکو دیکھ رہا تھا انکے اس طرح سے بیٹھنے پہ تیزی سے انکی طرف لپکا
توفیق کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اسے بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا
‘” کیا ہوا توفیق کس کا فون تھا ..اور مہرہ اسکے بارے میں کیا بات تھی وہ تو گھر پہ ہی ہے نہ ”
بیٹی لفظ سن کر اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ یقیناً بات مہرہ سے جڑی ہوئی تھی
‘” وہ گھر پہ نہیں ہے ..تیمور خان لے گیا اسکو ”
توفیق کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا جبکہ انکی بات سن کر سکندر کی رگے تن گئی تھی
وہ غصّے میں توفیق صاحب کی طرف بڑھا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘”” چھوڑو مجھے ..پاگل ہو گئے ہو کیا تم لوگ ..مجھے کہاں لیکر جا رہے ہو ”
زیان ان دونوں آدمی کی طرف دیکھتا ہوا چلایا جو اسکو کھینچتے ہوئے معلوم نہیں کہاں لیکر جا رہے تھے
اور یہ تاشا کے وہیں لوگ تھے جن کے ساتھ وہ کام کرتا تھا آج اسکے ساتھ انکا اس طرح کا رویہ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا جبکہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو وہ تاشا کے کہنے پر مہرہ کو کڈنیپ کرکے لایا تھا
کیونکہ اسکو تاشا نے بولا تھا کہ تبریز اپنے بھائی کی بیوی کو بچانے کے لئے وہ فائل انکو دے سکتا تھا
اس لئے وہ خود کو بھی بچانے کے لئے اس کام میں شامل ہو
گیا
‘” دماغ خراب ہو گیا ہے کیا تم لوگوں کا …جب کہہ رہا ہوں چھوڑو مجھے تو بات سمجھ نہیں آتی تمھیں ”
اس بار اسکا غصّہ بڑھا تھا مگر وہ دونوں اسکے غصّے کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھتے رہے پھر ایک کمرے کے پاس رک کر اسے اندر دھکا دیا تھا
‘” یہ حرکت ہے ..کیوں کر رہے ہو ایسا ”
وہ انکے دھکا دینے پہ خود کو زمین پہ گرنے سے سنبھالتا ہوا بولا مگر جیسے ہی اسکی نظر اس کمرے میں چیئر پہ بیٹھے تاشا پہ پڑی تو وہ اسکی طرف لپکا تھا
‘” یہ تمہارے لوگ میرے ساتھ کیا کر رہے ہیں …اس طرح سے کرنے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں میں ”
وہ اپنا لہجہ نارمل کرتا ہوا بولا جبکہ تاشا ہونٹوں پہ مسکراہٹ لئے بہت ہی اطمینان سے اسکے غصّے سے لال ہوتے چہرے کو دیکھنے لگا
‘” میرے لوگ وہی کر رہے ہیں جو میں انہیں کرنے کے لئے بول رہا ہوں …اور وجہ چاہئے تو جاؤ جاکر ان سے پوچھ لو ”
اس نے اپنے ہاتھ سے بلکل سامنے کی طرف اشارہ کیا تو زیان بھی اس طرف پلٹا تھا
‘” مام ..مام آپ یہاں ..یہاں کیسے ..اور کس نے آپکو ایسے بباندھا ہوا ہے ”
جیسے ہی اسکے نظر چیئر پہ بیٹھی اپنی ماں پہ پڑی تو وہ تیزی سے انکی طرف لپکا
ان لوگوں نے بہت ہی بےدردی سے انہیں چیئر پہ باندھ رکھا تھا
جبکہ مسز ناز شکوہ بھری نظروں سے اسکو دیکھ رہی تھی انکے بیٹا اس آدمی کے لئے کام کرتا تھا جو انکا مجرم تھا سب سے بڑھ کر وہ غلط کاموں میں انولو تھا
‘” تمہاری مام یہاں ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں آخر تمہارے بھائی سے وہ فائل بھی تو چاہئے مجھے ”
وہ شیطانی مسکراہٹ ہونٹوں پہ لئے اسکی طرف بڑھا ساتھ ہی اپنی پیچھے کھڑے آدمی کو اشارہ کیا جو تیزی سے آگے بڑھ کر زیان کو پکڑ چکے تھے
‘” تیری اتنی ہمّت میری مام کو یہاں لانے کی میں تجھے چھوڑوں گا نہیں ”
اتنے بڑے دھوکے پہ زیان کا غصّے سے برا ہال ہو گیا تھا وہ ان لوگوں سے خود کو آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگا مگر وہ لوگ بھی اب اسکو مسز ناز کی طرح چیئر پہ بیٹھا کر باندھ چکے تھے
‘” یہ تم اپنے ساتھ بلکل اچھا نہیں کر رہے ہو تیمور خان …میرے دونوں بیٹے تجھے چھوڑے گے نہیں ”
مسز ناز تیمور خان کی طرف دیکھ کر نفرت سے بولی جبکہ انکے منہ سے تیمور خان کا نام سن کر بےیقینی سے انکی طرف دیکھ رہا تھا
مطلب آج تک وہ غلط آدمی کے ساتھ کام کرتا آیا تھا یہ وہی شخص تھا جس سے اسے نفرت تھی اور وہ انجانے میں اسکی مدد کر چکا تھا
‘” تمہارے دونوں بیٹے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان دونوں کی کمزوری اس وقت میرے پاس موجود ہے اب انہیں وہی کرنا ہوگا جو میں بولوں گا ”
تیمور خان کا قہقا پورے کمرے میں گونجا تھا
‘” ویسے تم بھی میرے بہت کام آئے ہو زین عرف زیان میں تمہارے ساتھ ایسا کرنا تو نہیں چاہتا تھا مگر اب تم میرے کسی کام کے نہیں رہے ہو ”
اس بار وہ خود کو کھولنے کی کوشش کرتے زیان کی طرف پلٹا تھا
‘” جب میرے بیٹے یہاں آئے گے نہ تب تم کسی کام کے نہیں رہو گے ”
مسز ناز وارن کرنے والے انداز میں بولی تو تیمور خان انکی بات سن کر زور سے ہنسا تھا
‘” انہیں جب معلوم ہوگا تبھی وہ یہاں آ پاۓ گے نہ …وہ لوگ تب تک تم تک نہیں پہنچ سکتے جب تک میں نہیں چاہتا …اور میں ایسا تب تک نہیں چاہوں گا جب تک وہ فائل مجھے نہیں مل جاتی ”
وہ استہزیہ مسکرایا جبکہ ان دونوں ماں بیٹے کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنے سامنے کھڑے شخص کا قتل ہی کر دیں
“‘ اچھا میں ذرا تمہارے بیٹے کو خبر تو دے دوں کہ تم یہاں صحیح سلامت ہو ..وہ بیچارہ تمہارے لئے پریشان ہو رہا ہوگا اتنے تم دونوں بیٹھ کر باتیں کرو ”
وہ مسکراتا ہوا تیزی سے وہاں سے نکل گیا
🍁🍁🍁🍁
‘” یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے …اگر تم پہلے ہی اسکے خلاف کچھ کر لیتے تو آج یہ سب نہ ہوتا ”
جلال شاہ غصّے سے تبریز کی طرف دیکھ کر بولے جو بیڈ پہ بیہوش لیٹی مشال کو دیکھ رہا تھا
ابھی ڈاکٹر نے اسے کتنی بڑی خوشی کی خبر سنائی تھی مگر وہ یہ خبر سن کر ٹھیک سے خوش بھی نہیں ہو سکا تھا اور وہ خوش کیسے ہوتا اسکی ماں کی جان جو اس وقت خطرے میں تھی اور ساتھ میں مہرہ کی بھی
وہ توفیق صاحب کو سب بتا چکا
تھا یقیناً اب تک سکندر کو بھی سب معلوم ہو چکا ہوگا اس بارے میں
‘” اگر اس نے تمہاری وجہ سے میری اریشہ کو کچھ بھی نقصان پہنچایا نہ تو میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گا …میری یہ بات یاد رکھنا تم ”
جب سے انہیں اریشہ کے کڈنیپ ہونے کی خبر ملی تھی بس تب سے انکا یہی ہال تھا جلال شاہ کو لگ رہا تھا کہ ان دونوں باپ بیٹے کی لڑائی میں انکی بیوی پھنس گئی تھی
‘” آپکی بیوی ہونے سے پہلے وہ میری ماں ہے ..مجھے انکی آپ سے زیادہ فکر ہے اس لئے بےفکر رہے میں اپنی ماں کو کچھ نہیں ہونے دوں گا چاہے مجھے اسکے لئے کچھ بھی کرنا پڑے ”
اس بار وہ انکی طرف پلٹا تھا
جس کار میں اسکی ماں کو کڈنیپ کیا گیا تھا وہ کار انہیں مل چکی تھی مگر تاشا تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا
اسکی ٹیم اپنی کوشش میں لگی ہوئی تھی دوسرا وہ مشال کو جب تک ہوش نہ آ جاتے تب تک ایسے چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا
‘” میں کچھ نہیں جانتا تمھیں چاہے کچھ بھی کرنا پڑے مجھے میری اریشہ واپس چاہئے ..آج تمہاری وجہ سے وہ اس شیطان کی قید میں ہے ”
جلال شاہ کا غصّہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
اس بار تبریز کو بھی انکی بات پہ غصّہ آیا وہ انہیں کوئی سخت بات کہنے ہی والا تھا کہ کوئی آندھی طوفان کی طرح اس کمرے میں داخل ہوا اور جلال شاہ کو کالر سے پکڑ کر انہیں اپنی طرف کھینچا تھا
‘” زیان کہاں ہے …بول جلدی کہاں ہے زیان ورنہ میں تجھے یہیں ختم کر دوں گا ”
سکندر لال آنکھیں لئے اسکی طرف دیکھ کر دھاڑا تھا تبریز جو حیران سا کھڑا تھا سکندر کی آواز پہ جیسے ہوش میں آیا
‘” یہ کیا کر رہے ہو سکندر چھوڑو انہیں ”
اس نے جلال شاہ کا کالر جھٹکے سے اسکی پکڑ سے آزاد کروایا تھا
‘” مجھے وہ زین چاہئے …وہ ضرور ملا ہوا ہے اس سب میں اسکو تو میں نہیں چھوڑو گا ”
سکندر کا اس وقت غصّے سے برا ہال ہو رہا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ساری چیزو کو تہس نہس ہی کر دے
اسکی بیوی اس گھٹیا انسان کی قید میں تھی یہی سوچ کر اسکا خون کھول رہا تھا
ساتھ ہی وہ اپنی ماں کے لئے بھی فکر مند ہو رہا تھا جانے وہ لوگ کس ہال میں ہونگے
وہ تیمور خان کے ایک ایک جگہ پہ اسکو تلاش کر آیا مگر وہ اسکو کہیں نہ ملا تھا زیان کا خیال آتے ہی وہ فورا یہاں آیا یقیناً وہ ضرور جانتا ہوگا اس سب کے بارے میں
‘” یہ تم دونوں کیا بکواس کر رہے ہو ..میرے بیٹے کا اس سب میں کیا کام ”
جلال شاہ کو مزید غصّہ آیا تھا سکندر کی بات سن کر
‘” حیرت کی بات ہے ایس پی تم نے اب تک نہیں بتایا اسکو کہ اسکا بیٹا کیا ہے ..اور کیا کام کرتا ہے ..اگر نہیں بتایا تو میں بتا دیتا ہوں ..
” غنڈا ہے تمہارا بیٹا …اس تیمور خان کے لئے کام کرتا ہے جو اسکی ماں کا مجرم ہے ..اور وہ یہ سب کام بہت وقت سے کر رہا ہے ”
سکندر نے جیسے جلال شاہ کے سر پہ کوئی بم پھوڑا تھا
‘” بکواس ہے …میرا بیٹا ایسا نہیں ہے ..تم خود ایک گینگسٹر ہو تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہر کسی کو اپنے جیسا سمجھو گے ”
جلال شاہ کا لہجہ سخت تھا
‘” میرے پاس تمھیں جواب دینے کے لئے وقت نہیں ہے لیکن اتنا یاد رکھنا اگر میری بیوی کو کڈنیپ کرنے میں تمہارے بیٹے کا ہاتھ ہوا نہ تو میں اسے زندہ نہیں چھوڑو گا ”
وہ جلال شاہ کو وارن کرتا جس تیزی سے وہاں آیا تھا اتنی ہی تیزی سے وہاں سے نکل گیا تھا
جبکہ جلال شاہ وہیں حیران پریشان سے کھڑے رہ گئے تھے
‘” کیا ہوا زیان ملا ?
اسکے باہر آتے ہی کریم اس سے مخاطب ہوا جو تیز تیز قدم بڑھتا کار کی طرف بڑھ رہا تھا
‘” اگر وہ آج مل جاتا تو زندہ نہ بچتا ”
اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا اس وقت جبکہ اسکا جواب سن کر کریم کو زیان کی حالت پہ رحم آنے لگا
‘” اب کہاں جانا ہے ,,کچھ آئیڈیا ہے کہاں ہو سکتا ہے ”
کار سٹارٹ کرتے ہی کریم نے سوال کیا سکندر اسکو کوئی جواب دینے ہی لگا تھا کہ اسکا موبائل بجا
انجان نمبر سے کال تھی وہ اٹھانا تو نہیں چاہتا تھا مگر کچھ سوچ کر اس سے کال پک کر لی
‘” کون بول رہا ہے ”
وہ کال پک کرتے ہی بولا مگر سامنے والے کی بات سن کر اسکے چہرے کے تاثرات یکدم سے بدلے تھے
‘” شوکت ”
اس نام پہ اس بار کریم بھی اسکی طرف موتجہ ہوا تھا
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )
