125.4K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

‘” عمارہ یہ سکندر کہاں ہے اسکی کار بھی باہر ہی موجود ہے پر وہ مجھے نظر نہیں آ رہا ہے ”
اس نے کچن میں کام کرتی عمارہ کو مخاطب کیا تھا
آج صبح سے ہی اسکا اپنے بابا سے بات کرنے کا دل کر رہا تھا اس نے سوچا اب جب ان دونوں کے درمیان سب ٹھیک ہو گیا ہے تو شاید وہ اب اسکے بابا سے اسکی بات کر دے اسلئے صبح سے اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی
‘” بیٹا وہ اپنے پرائیویٹ روم میں موجود ہے اسکی کوئی میٹنگ چل رہی ہے ”
انہوں نے اسکو مختصر سا جواب دیا تھا
اب وہ اسکو کیا بتاتی کہ اسکے شوہر کی کیسی میٹنگ چل رہی ہے اس روم میں
‘” ٹھیک ہے میں اس وہیں جاکر بات کر لیتی ہوں ”
انکا جواب سن کر وہ فورا پلٹی
‘” نہیں بیٹا وہاں مت جاؤ سکندر کو پسند نہیں آئے گا ”
انہوں نے اسکو روکنا ضروری سمجھا تھا
کیونکہ ووہ سکندر کی عادت سے اچھی طرح واقف تھی
” آپ بےفکر رہے وہ مجھے کچھ نہیں کہے گا ”
وہ اپنی بات کہتی وہاں سے نکل گئی جبکہ عمارہ بس اسکو آوازیں دیتی رح گئیں تھی
مہرہ کو اسکے پرائیویٹ روم کا پتہ تھا مگر آج تک وہ اس روم میں کبھی نہیں گئی تھی وہ سیڑهیاں چڑھتی اوپر کی طرف بڑھی
ایک دروازے کے پاس آکر اسکے قدم رکے تھے
اندر سے آتی آوازیں اس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ وہ اس وقت اندر موجود ہے
کچھ دیر تو کشمکش میں کھڑی رہی پھر کچھ سوچ کر اس نے دروازہ کھول کر آہستہ سے اندر قدم رکھا تھا
دروازہ کھلنے کی آواز پہ اس روم میں بیٹھے لوگ اسکی طرف موتجہ ہوئے تھے
سبکی نظریں خد پہ محسوس کر کے مہرہ کنفیوز سی کھڑی اپنے بال کان کے پیچھے کرنے لگی
مگر اسکی نظر جیسے ہی سکندر پر پڑی تو اسکے ہاتھ اپنی جگہ جم سے گئے تھے
سکندر لال آنکھیں لئے اسی سکو دیکھ رہا تھا ماتھے پر پڑے بل اس بات کا پتا دے رہے تھے اسے مہرہ کا یہاں آنا بلکل اچھا نہیں لگا
‘” یہاں کیوں آئی ہو تم ”
وہ ایک نظر سبکی طرف دیکھتا ہوا سخت لہجے میں بولا اسکے گھورنے پر سب اپنی نظریں نیچی کر چکے تھے
جبکہ کریم کو اب مہرہ کی حالت سوچ کر اس پہ رحم آنے لگا
‘” مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی وہ میں ..”
مہرہ نے ابھی اپنی بات بھی مکمل نہیں کی تھی جب سکندر اسکو بازو سے کہینچتا ہوا اس کمرے سے لیکر نکلا
اسکی سخت پکڑ سے مہرہ کو تکلیف ہوئی تھی
‘” سکندر مجھے درد ہو رہا ہے میرا بازو چھوڑو ”
وہ نم لہجے میں بولی مگر وہ اسکو یونہی کھینچتا ہوا اپنے ساتھ بیڈروم میں لیکر آیا تھا
وہ کبھی نہیں چاہتا تھا مہرہ کو اسکے کام کے بارے میں معلوم ہو یا پھر یہ کہ اسکا دوسرا روپ بھی ہے
اور نہ یہ کہ وہ کتنی خطرناک زندگی جی رہا ہے
‘” تمھیں مجھ سے جو بھی بات کرنی ہے یہاں اس روم میں کیا کرو آئندہ کبھی اس طرح سے منھ اٹھا کر اس روم میں آنے کی کوشش بھی مت کرنا ”
اس نے ایک جھٹکے میں اسکا بازو چھوڑا تھا
اور مہرہ تو بس بےیقینی سے اسکو دیکھتی رہی بازو میں ہونی والی تکلیف کو وہ مکمل بھول ہی چکی تھی
کیونکہ سکندر کا اتنا سخت لہجہ ہی اسکو تکلیف پہنچا رہا تھا
‘” اس میں اتنا غصّہ ہونے والی کیا بات ہے تم یہ بات مجھے آرام سے بھی بتا سکتے ہو یوں اس طرح سے مجھے تکلیف دے کر ”
اس سے مزید کچھ بولا نہیں گیا وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر سسک اٹھی تھی
کتنا تکلیف دیتا ہے اس انسان کا ایسا رویہ جس سے آپ شدید محبت کرتے ہو
اور مہرہ نے اپنے اس درد کو چھپانا ضروری نہیں سمجھا تھا
سکندر جو اس وقت شدید غصّے میں تھا مہرہ کو یوں روتا دیکھ غصّہ یکدم سے غائب ہوا
وہ خود کو نارمل کرنے کے لئے اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرتا اسکے قریب آیا اور مہرہ کے دونوں ہاتھوں کو اسکے چہرے سے ہٹا کر اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا
‘” آئ ایم سوری ڈارلنگ …میں تمھیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا ”
اس نے باری باری اسکی بھیگی آنکھوں پہ اپنے لب رکھے تھے
مہرہ جو سر جھکائے رو رہی تھی سکندر کے لمس کو محسوس کر کے تڑپ کر اس سے دور ہوئی تھی
‘” مجھے تمہارا سوری نہیں چاہئے پہلے اچھی طرح ہرٹ کر دو پھر بول دو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا ”
وہ بچوں کی طرح اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی اس سے شکوہ کر رہی تھی
اسکی اس ادا پر سکندر مسکرائے بغیر نہ رہ سکا تھا
‘” اچھا سوری نہیں چاہئے تو کیا چاہئے بتاؤ وہ دیتا ہوں تمھیں “
وہ اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسکو اپنے قریب کر چکا تھا
‘” مجھے کچھ نہیں چاہئے تم سے جاؤ اپنی میٹنگ کرو جاکر”
وہ ناراض ہو چکی تھی اس سے
‘” پر میں تو تمھیں بہت کچھ دینا چاہتا ہوں لیکن فلحال ایک کس سے کام چلا لو رات میں پھر اپنے طریقے سے سوری بولوں گا تمھیں ”
معنی خیزی سے کہتا اسکے ہونٹوں پہ جھکنے لگا تھا جب مہرہ اسکے ہونٹوں پہ اپنا ہاتھ رکھ چکی تھی
‘” بےشرمی والےکاموں کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا تمھیں ہر وقت بس ایک ہی بات ”
وہ اسکی طرف دیکھ کر گھورتی ہوئی بولی
‘” اب تم چیز ہی ایسی ہو کہ میں تمہارے قریب رہ کر خود پہ کنٹرول نہیں کر پتا ہوں اس میں سارا قصور صرف تمہارا ہی ہے”
وہ اسکی انگلیوں کو اپنے ہونٹوں سے ہٹا کر اپنے دانتوں کی بیچ لے جاکر زور سے دباتا ہوا بولا
درد کی وجہ سے مہرہ کی سسکی نکلی تھی
‘” یہ انکی چھوٹی سی سزا ہے کیونکہ انہونے مجھے تمھیں کس کرنے سے روکا تھا ”
وہ اسکی انگلیوں کو دیکھتا ہوا بولا جو اسکے کاٹنے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی
‘” تم ظالم ہی نہیں بےدرد بھی ہو …جاؤ مجھے بات نہیں کرنی تم سے ”
اسکو رونا آنے لگا
اسکی محبت میں بھی درد تھا
‘” ڈارلنگ ضروری کام ہے اس لئے جا رہا ہوں لیکن رات میں تیار رہنا میں تمھیں اپنے طریقے سے سوری بولو گا اگر سونے کی کوشش کی تو مجھے مونسٹر بننے میں بھی دیر نہیں لگے گی ”
وہ اسکی کان کی لؤ پر اپنے لب رکھتا روم سے نکل گیا جبکہ مہرہ سرخ چہرہ لئے اسکی پشت کو دیکھتی رہی
🍁🍁🍁🍁
یہ شہر کا بہت ہی مہنگا اور بڑا ہوٹل تھا دیکھنے میں اتنا خوبصورت تھا کہ دیکھنے والا بس اسکی خوبصورتی میں کھو جاتا
یہاں کوئی اس وقت اپنی فیملی کے ساتھ موجود تھا تو کوئی اپنے دوست یا لور کے ساتھ
بہت ساری ٹیبل میں سے ایک ٹیبل پہ ڈیوڈ بھی کریم کے ساتھ موجود تھا
اور اپنے سامنے والی طبلے پہ نظر جمائے ہوئے بیٹھا تھا
‘” یہ زین کے ساتھ لڑکی کون ہے ?
وہ اس بار کریم کی طرف دیکھ کر بولا
زین کے ساتھ لڑکی سکو دیکھ کر وہ دونوں حیران ہوئے تھے اسکی وں دونوں کی طرف پشت تھی اسلئے وہ ابھی تک اس لڑکی کہ چہرہ بھی نہیں دیکھ پاۓ تھے
‘” میں بھی یہی سوچ رہا ہوں آج تو یہ تاشا کی ڈرگز کی ڈیل کرنے آیا تھا تو اس لڑکی کا کیا کام یہاں ”
کریم بھی انہی پہ نظریں جمائے بولا
آج وہ یہاں زین کا کھیل ختم کرنے آئے تھے وقت سے پہلے ہی اس نے اپنی رفتار بہت تیز کر دی تھی اور ڈیوڈ کو لگ رہا تھا اب بلکل صحیح وقت تھا اسکی رفتار کو کم کرنے کا
‘” یہ بہت شاطر انسان ہے کوئی کوئی اس پہ شق نہ کرے اس لئے اس نے اکیلے آنا نہین سمجھا ”
کریم اپنا اندازہ لگا رہا تھا
‘” چلو دیکھتے ہیں آج یہ یہاں کیسے ڈیل کرتا ہے اور اس لڑکی کا بھی معلوم ہو جائے گا یہ اسی کے ساتھ ہے یا بس ایسے ہی اسکو اپنے ساتھ لیکر آیا ہوا ہے ”
وہ ادھر ادھر نظر ڈالتا ہوا بولا جانے کیوں اسکو یہاں کچھ گڑبڑ کا احساس ہو رہا تھا
اور دوسری طرف زیان کے ساتھ بیٹھی مشال پریشانی سے کبھی ادھر ادھر دیکھتی تو کبھی اپنے سامنے بیٹھے زیان کی طرف جو موبائل میں بیٹھا کچھ کر رہا تھا
‘” زیان ہمیں یہاں آئے ہوئے کتنا وقت ہو گیا ہے تم آرڈر دو نہ کھانے کا ”
اسکے لہجے میں ایک عجیب س بےچینی سی تھی
‘” کیا یار مشال ہم لوگ ابھی تو یہاں آئے ہیں اور تم تو ایسے پریشان ھو رہی ہو جیسے تبریز یہاں آ جائے گا ”
وہ اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتا ہوا بولا جبکہ نظریں مشال کے چہرے پہ ہی جمی ہوئی تھی
بلیک نیٹ کی ساڑھی میں اسکا اسکا حسن دہک رہا تھا
وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ زیان کو اس پہ سے اپنی نظریں ہٹانا مشکل لگ رہا تھا
ساتھ ہی تبریز پہ بھی غصّہ آیا جس نے اس سے اسکی مشال کو چھین لیا تھا
ورنہ وہ آج اسکی ہوتی
مشال جو پریشان سی بیٹھی تھی زیان کی خود پہ جمی گہری نظروں سے بےچینی سے پہلو بدلنے لگی
اگر وہ اسکو اتنا انسسٹ نہ کرتا تو وہ کبھی یہاں اسکے ساتھ نہ آتی
‘” اچھا تم ایک کام کرو کھانا آرڈر کرو میں ابھی کچھ دیر میں واپس آتا ہوں ”
موبائل پہ آیا مسیج پڑھتے ہی اسکو یکدم سے جانے کا خیال آیا
اسکی میٹنگ اسی ہوٹل کے روم میں ہونی تھی وہ اپنی ڈیل کرکے واپس آ جاتا اور کسی کو اس پہ شق بھی نا ہوتا
‘” زیان تم کہاں جا رہے ہو میں یہاں اکیلی کیسے رہوں گی ”
اسکے جانے کا سن کر وہ فورا بولی
‘” تم اکیلی کہاں ہو یار اتنے سارے لوگ ہیں یہاں پہ اور پھر کچھ دیر کی بات ہے مجھے ایک ضروری کام یاد آ گیا ہے تھوڑی دیر تک واپس آ جاؤں گا ”
زیان اپنی بات مکمل کرتا جیسے ہی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا کوئی آندھی طوفان کی طرح انکی ٹیبل کے پاس آیا اور زیان کو کالر سے پکڑ کے اسکا رخ اپنی طرف کیا
ایک ذوردار تھپڑ کی آواز اس خاموشی میں گونجی تھی
سب اپنا اپنا کھانا چھوڑ کر اس ٹیبل کی طرف دیکھنے لگے جہاں سے تھپڑ کی آواز آئی تھی
‘” تیری ہمّت کیسے ہوئی میری بیوی کو یہاں اپنے ساتھ لانے کی ”
تبریز کے تھپڑ کی آواز پھر سے گونجی تھی
زیان جو اسکے پہلے تھپڑ سی سنبھل نہیں پایا تھا دوسرے تھپڑ پہ ٹیبل پر گرا تھا
مشال جو سکت بیٹھی تھی زیان کے ٹیبل پر گرنے سے ہوش میں آئی تھی
‘”یہ آپ کیا کر رہے ہیں چھوڑے اسے اپکا بھائی ہے یہ ”
تبریز جو پھر سے اس پر حملہ کرنے کی سوچ رہا تھا مشال کے سامنے آ جانے پر اسکو ایسے نظروں سے گھورا کہ مشال کو اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہوا تھا
‘” اور تیری ہمّت کیسے ہوئی مجھے مارنے کی تیری بیوی ہونے سے پہلے یہ میری کزن ہے ”
زیان اپنے ہونٹ سے نکلتا خون صاف کر کے اسکو مارنے کے لئے جیسے ہی آگے بڑھا
مگر اس بار تبریز نے اسکے منہ پر زوردار پنچ مارا جس سے وہ زمین پر گر چکا تھا
سب اپنی اپنی ٹیبل پہ بیٹھے یہ منظر دیکھ رہے تھے کیونکہ تبریز اس وقت پولیس کی یونیفارم میں تھا اسکی یونیفارم دیکھ کر کسی میں ہمّت نہیں ہوئی انکے بیچ آنے کی
‘” اور تم …تمھیں تو میں ”
اس بار غصّے میں مشال کی طرف پلٹا اور اسکے پیچھے موجود ٹیبل پر رکھے کانچ کے جگ پہ اتنی زور سے ہاتھ مارا کہ وہ ٹوٹ کر اسکے ہاتھ کو بھی زخمی کر چکا تھا
‘” چلو یہاں سے ”
وہ اسکا بازو سختی سے پکڑ کر اپنے ساتھ کھینچتا ہوا وہاں سے نکل گیا
سبکی نظریں ان دونوں پہ ہی تھی اور ساتھ مین ڈیوڈ کی بھی
‘” اگر میں غلط نہیں ہوں تو یہ لڑکی وہی ہے نہ مہرہ کی یونی کی دوست کیا نام تھا اسکا ”
ڈیوڈ نے اپنے دماغ پہ ذور ڈالا تھا وہ مشال کو مہرہ کے ساتھ دیکھ چکا تھا یونی میں
‘” مشال ..مطلب یہ اس ایس پی تبریز کی بیوی ہے جو آج کل تاشا کو برباد کرنے کے پیچھے پڑا ہوا ہے ”
کریم تو تبریز کو دیکھ چکا تھا پر آج ڈیوڈ کہ سامنا پہلی بار ھوا تھا اس سے
‘” بہت ہی دلچسپ چیز لگا مجھے یہ ایس پی
اور سب سے مزے کی بات تو یہ ہے کہ خود تو پولیس والا ہے جبکہ خود کا بھائی گینگسٹر”
یہاں ہونے والی لڑائی سے وہ سارا معملا سمجھ چکا تھا
‘” یقیناً اسکو اپنے بھائی پہ شق ہوگا تبھی اسکا شدید ردعمل تھا
ورنہ ڈنر پہ لانا تو نارمل بات ہے ”
وہ پرسوچ انداز میں بولا
‘” اگر ایسا ہے تو ہمیں اس زیان پہ وقت برباد کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارا کام تو یہ ایس پی خود کر دیگا ”
وہ ایک نظر زمین پر پڑے زین کو دیکھا اپنی سیٹ سے کھڑا ہوکر باہر نکل گیا
اس حالت میں یہ ڈیل اب ناممکن تھی …
🍁🍁🍁🍁
‘” یہ تم کیا کہہ رہے ہو شوکت ایسا کیسے ہو سکتا ہے سکندر نے تو مجھے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا ”
شوکت کی ساری بات سننے کے بعد وہ حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا تھا
آخر اتنی بڑی بات جو معلوم ہوئی تھی اسکو
‘” میں سچ کہہ رہا ہوں تاشا مہرہ کو یہاں دیکھ کر مجھے کچھ تو گڑبڑ کا احساس ہوا اس لئے میں نے ساری معلومات کی اسکے بعد ہی تمھیں سب بتا رہا ہوں ”
شوکت نے اسکی حیرانی کم کرنی چاہی تھی آخر اسکے ساتھ اتنے سال کام کرتے کرتے وہ اسکا پورا وفادار بن چکا تھا ” مطلب سکندر نے مہرہ کو زبردستی اٹھا کر اس سے نکاح کیا ہے”
وہ پرسوچ انداز میں بولا
” اور سب سے دلچسپ بات جو ہے وہ یہ ہے کہ مہرہ جس شخص کی ساتھ رہ رہی ہے وہ یہ نہیں جانتی کہ وہ شخص دو زندگی جی رہا ہے
” ایک سکندر بن کر اور ایک ڈیوڈ ”
اس بار اسکے چہرے پہ شاطرانہ مسکراہٹ آئی تھی
‘” ہاں وہ اس بات سے بلکل انجان ہے ”
شوکت نے اسکی معلومات میں مزید اضافہ کیا
‘” ہمممم ….پھر تو وہ یہ بھی نہیں جانتی ہوگی کہ جتنا اچھا سکندر ہے ڈیوڈ اسکے بلکل مختلف ہے
وہ ایک گینگسٹر ہے جسکا کام لوگوں کی جان لینا ہے ”
تاشا اب اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جتنا اس نے سوچا تھا اب یہ کام اسکے لئے اتنا مشکل نہیں رہا تھا
‘” یہ بہت اچھی خبر سنائی ہے تم نے شوکت میں ایسے ہی توفیق پہ شق کر رہا تھا جبکہ یہ سب اسکے لئے بھی کسی شاک سے کم نہیں ہوگا ”
ساری بات سمجھ آتے ہی اسکو یکدم توفیق کا خیال آیا
‘” ہاں سہی کہا سکندر نے مہرہ کو اٹھا کر اس سے زبردستی نکاح کیا یہ بات توفیق کو بعد میں معلوم ہوئی تھی ورنہ وہ مہرہ کو ملک سے باہر لے جانے کی تیاری کر رہا تھا ”
شوکت تفصیل سے اسکو سب بتانے لگا اور تاشا خاموشی سے اسکی بات سنتا رہا
ساتھ ہی ساتھ چہرے پہ ایک الگ ہی چمک آتی جا رہی تھی
‘” وہ اپنی بیٹی کو مجھ سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا مگر قسمت دیکھو وہ میری ہی سلطنت میں آ گئی میری نظروں کے سامنے اور اب سب سچ جاننے کے بعد تو میرا کام اور بھی آسان ہو گیا ہے ”
اس نے وائن کا گلاس منہ کو لگایا تو شوکت ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھنے لگا
‘” بہت آسان ہے شوکت اب جب مہرہ کو یہ معلوم ہوگا کہ اسکا شوہر ایک گینگسٹر ہے تو یقیناً وہ ہر لڑکی کی طرح اس سے دور جانا چاہے گی رشتہ ختم کرنا چاہے گی
اور بس ایک بار وہ سکندر کی پہنچ سے دور گئی پھر جلد ہی ہماری پکڑ میں ہوگی ”
اپنی بات کہہ کر وہ زور سے قہقہا لگا کر ہنسا تھا
‘” لیکن یہ ہوگا کیسے اتنا آسان نہیں ہے سکندر کا اصل روپ اسکے سامنے لانا ”
شوکت ہمیشہ ہی سکندر کے معملے میں تھوڑا ڈرا رہتا تھا
‘” بس تم وہ کرو جو میں کہہ رہا ہوں کچھ میں اس کام کو انجام دوں گا اور باقی سب خودبخود ہوتا چلا جائے گا ”
تاشا شوکت کی طرف پلٹا اور اسکو آگے کے بارے میں سمجھنانے لگا
شوکت بہت دھیان سے اسکو سن رہا تھا
‘” تم بےفکر رہو ایسا ہی ہوگا “‘
ساری بات سننے کے بعد شوکت بولا تو تاشا نے اپنا صرف سر ہلا دیا تھا
‘” اور ہاں سنو مجھے اس ایس پی کے گھر کا ایڈریس دو مجھے لگتا ہے اب وقت آ ہی گیا ہے اسکے گھر جاکر اسکے گھروالوں کو اپنے انداز میں بات سمجھانے کا جب اپنی فیملی پہ بات آئے گی شاید تب عقل آ جائے اس ایس پی کو اور میرے کام میں ٹانگ اڑانا بنڈ کڑ دے ”
کچھ یاد آتے ہی وہ فورا بولا تھا
آج زین اور اس ایس پی کی وجہ سے اسکی پھر سے ڈیل کینسل ہو گئی تھی
اور اسکو لگتا تھا اب اپنے طریقے سے اسکو بتانا چاہئے کہ وہ اس سے دور ہی رہے
‘” تم وہاں کیوں جا رہے ہو یہ کام میں کر دیتا ہوں ”
شوکت نے بولنا ضروری سمجھا تھا
‘” نہیں میں جاؤں گا آخر اسکو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ میں اگر اسکے گھر تک پہنچ سکتا ہوں تو اسکی فیملی کے ساتھ کیا کچھ نہیں کر سکتا اسکو بتانا ہی پڑے گا کہ تاشا کیا چیز ہے”
وہ زہرخند لہجے میں بولا تو شوکت بس خاموشی سے اسکو دیکھتا رہا
یہ پہلا ایسا پولیس والا تھا جس نے تاشا کو اتنا پریشان کیا ہوا تھا اتنا پریشان کہ وہ اب خود اسکے گھر جاکر اسکی فیملی کو ڈرانے کی بات کر رہا تھا
🍁🍁🍁🍁
اس وقت انکی کار بہت تیز سپیڈ سے سڑک پہ ڈور رہی تھی اسکی سٹیرئنک پہ مضبوط پکڑ اور تنی ہوئی رگے اسکے شدید غصّے کا پتہ دے رہی تھی
جبڑے کو سختی سے بہینچے وہ سامنے سڑک پر نظریں جمائے ہوئے ڈرائیونگ کر رہا تھا
مشال اپنے ہاتھ کو آپس میں مسلتی اپنے ڈر کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی
‘” تبریز پلیز ہماری بات سنیں ہم وہ …”
اس نے ڈرتے ڈرتے تبریز کی طرف دیکھا مگر وہ تو اسکو سن ہی نہیں رہا تھا
‘” آپکے ہاتھ سے خون نکل رہا ہے لایں ہم صاف کر دیتے ہیں”
جیسے ہی اسکی نظر تبریز کے ہاتھ پہ پڑی تو وہ پریشانی سے بولی
‘” اپنے ہاتھ پیچھے رکھو مشال ورنہ تمہارے ہاتھ توڑ دونگا”
اس نے مشال کے ہاتھ کو بری طرح جھٹکا تھا
آج جب اسکی شہر واپسی ہوئی تو علی نے جو فوٹو اسکو سینڈ کی اسکو دیکھ کر تبریز کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی
وہ سیدھا اس ہوٹل آ گیا تھا
اسکا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ زیان کی طرح ایک دو تھپڑ اسکو بھی لگانے کا ارادہ رکھتا تھا
پورا راستہ یوں ہی خاموشی سے کٹا مشال نے پھر سے اسکو کچھ بھی کہنے کی کوشش نہیں کی تھی
گھر آکر اس نے ایک جھٹکے میں کار پورچ میں روکی اپنی سائیڈ سے نکل کر اس نے مشال کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر سختی سے اسکا بازو پکڑ کر باہر نکالا اور اپنے ساتھ کہینچتا ہوا اندر کی طرف بڑھا
‘” کس کی اجازت سے گئی تم اسکے ساتھ اور وہ بھی اس حلیے میں ”
وہ اسکو اپنے بیڈروم میں لاکر بیڈ پر پٹختا ہوا دھاڑا تھا
بلیک کلر کی ساڑھی ہلکے سے میک اپ اور رد کلر کی لپ سٹک لگائے زیان کے سامنے اتنا تیار ہوکر گئی تھی یہی بات تبریز کی تن بدن میں آگ لگا رہی تھی
‘” اور اتنا تیار کس خوشی میں ہوئی تھی تم ”
اسکا دو آتشہ روپ تبریز کو بہکا رہا تھا خود پہ بمشکل کنٹرول کرتا ہوا بولا
‘” ہم صرف ڈنر کرنے گئے تھے زیان نے بہت اسرار کیا ورنہ ہم”
وہ اسکے غصّے سے خوفزدہ ہوتی بمشکل بول پائی تھی اور کھڑے ہوکر اسکے غصّے سے لال ہوتے چہرے کو دیکھنے لگی آخر غلطی بھی تو اسی کی تھی
‘” آپ کیا سوچ رہے ہیں ..ہم جھوٹ نہیں بول رہے زیان نے زبردستی کی تھی اسلئے …”
اسکی خاموشی مشال کو ڈرا رہی تھی
‘” سوچ رہا ہوں آج تمھیں ایسی سزا دوں کہ تم میری اجازت کی بغیر کہیں جانے سے پہلے ہزار بار سوچو گی ”
وہ اسکے نازک وجود کو گود میں اٹھا کر بیڈ پہ پٹخا پھر اپنی شرٹ کے بٹنز
مشال ک روح فنا ہونے لگی تھی تبریز کے ارادے اور خطرناک تیور دیکھ کر
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھنے لگی
‘” نہیں تبریز پلیز …ہم سوری کرتے ہیں… آج کے بعد کبھی.. آپکی اجازت کے بغیر ”
وہ اٹک اٹک کر سر نفی میں ہلاتی کہنے لگی
الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے
تبریز کے چہرے پہ خطرناک تاثرات دیکھ کر اسکا چہرہ ڈر سے سفید پڑ چکا تھا
پورا جسم ہولے ہولے کانپنے لگا
‘” ہر بار تمہاری ایک ہی غلطی ہوتی ہے اس لئے آج سزا دینی ضروری ہے ورنہ یہی غلطی بار بار کرنے کی تمہاری عادت ھو جائے گی ”
وہ اب اپنی شرٹ ایک طرف ڈالتا اسکے اوپر جھکا تھا
تبریز کے سینے پہ نگاہ پڑتے ہی وہ شرم سے نظریں پھیر گئی تھی
وہ اسکے سامنے سے غائب ہونا چاہتی تھی
اس لئے اٹھ کر اسکے برابر سے اٹھنے لگی پر تبریز نے اسکے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اسے واپس بیڈ پر لٹا دیا
اور پھر جھک کر اسکی بھیگی آنکھوں کو چومنے لگا اور ساتھ ہی اسکے ہاتھوں پہ اپنی پکڑ سخت کی تھی
مشال کو اسکی مضبوط گرفت سے نکلنا مشکل لگ رہا تھا
تبریز کی سانسوں کی گرمائش کو خود پہ محسوس کرکے اسکے جسم میں پھر سے کپکپاہٹ شروع ہو گئی تھی
جبکہ تبریز اسکے کانپنے کو نظرانداز کرتا اسکی گردن کے نیچے ابھری بیوٹی بون کو چومنے لگا
اسکے ہر عمل میں سختی تھی
مشال کی جان نکلنے کو تھی
‘” تبریز پلیز …ہمیں معاف کر دیں ہم نہیں جائے گے ..”
وہ مزید کچھ کہتی جب تبریز اسکے کانپتے لبوں پہ اپنے لب رخ چکا تھا
اس وقت اسکے انداز میں ایک جنون سا تھا
کچھ دیر بعد اس نے مشال کے لبوں کو آزاد کیا تو وہ اپنا سانس بحال کرنے لگی
‘” تبریز ہمارا دم گھٹ رہا ہے پلیز ..”
وہ اسکے سخت حصار میں تڑپی تھی مگر اسکو ذرا بھی رحم نہیں آیا اس پر
‘” تمھیں وہاں دیکھ کر میرے اندر کیسی آگ لگی تھی مشال تم اس جلن کا انداز نہیں لگا سکتی میرا قریب آنا تمھیں اچھا نہیں لگتا اور تم اسکے ساتھ …”
اس نے مشال پر اپنی پکڑ مزید سخت کی تو مشال نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرنا چاہا مگر تبریز نے اسکے ہاتھوں کو چوم کر بیڈ سے لگا کر اسکی ساڑھی کا پلو ہٹایا تو مشال نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی
اسکی کوئی مزاحمت کام نہیں آئی وہ بےخود سا اس پہ اپنی شدّتیں لٹانے لگا
اسکے اس قدر جنونی انداز سے مشال گھبرا رہی تھی
تبریز کو صرف اتنا پتہ تھا کہ اسکی باہوں میں اسکی بیوی اسکی محبت ہے
اور مشال کب تک مزاحمت کرتی وہ اسکی حد سے زیادہ بڑھتی شدّتوں سے گھبرا کر اپنا آپ اسکو سونپ چکی
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )