53.5K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

وہ پریشانی میں کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو موڑتی وہ بری طرح سے کنفیوز تھی
اس وقت اس نے تبریز کی دی ہوئی ڈریس زیب تن کی ہوئی تھی
ریڈ کلر شارٹ فراک جس کا پیچھے کا گلا کافی گہرا تھا ہالف سلیو ہونے کی وجہ سے اس نے دوپٹے کو اپنے گرد اچھی طرف سے لپیٹ رکھا تھا
اسکے اندر اپنے بیڈروم میں جانے کی ہمت نہیں ھو رہی تھی دروازے تک جاتی پھر واپس سے بیڈ پہ آکر بیٹھ جاتی
پتہ نہیں وہ اسکو اتنا تیار ہوکر اسکو کہاں لے جانے کا سوچ رہا تھا
‘” مشال اور کتنا وقت لگے گا تمھیں آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت لے چکی ہو تم ”
وہ کمرے میں داخل ہوتے ہی بولا تو مشال گھبرا کر یکدم سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی
مگر اسکی نظر جیسے ہی مشال پر پڑی اسکے باقی کے الفاظ منہ میں ہی ره گئے تھے
وہ اسکو اس وقت کوئی کھلتا ہوا گلاب لگی ماتھے پہ پسینے کی بوندے واضح طور پہ نظر آ رہی تھی
وہ بےخود سا بس اسکو تکے جا رہا تھا
‘” بس ہم پانچ منٹ میں آ رہے ہیں ”’
اسکی نظروں کی تپیش کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ نظریں جھکا گئی اور اپنا خشک حلق تر کیا
‘” نہیں اب میں تمھیں پانچ منٹ تو کیا پانچ سیکنڈ بھی نہیں دی سکتا تمہارا یہ روپ میری بےقراریوں کو بڑھا رہا ہے ”
مشال کی آواز پہ وہ ہوش میں آیا اور بغیر اسکو کوئی موقع دئے مشال کو اپنی باہوں میں اٹھا چکا تھا
اسکی باتوں میں چھپے مطلب کو سمجھ کر مشال کی جان ہوا ہونے لگی
“” تبریز ہمیں نیچے اتاریں ہم خد چل سکتے ہیں ”
اسکی باہوں میں وہ مچل رہی تھی مگر وہ اسکی بات ان سنی کئے پیر کی مدد سے دروازہ کھولتا بند کرتا کمرے میں داخل ہوا
اس دوران اسکی نظریں مشال کے گھبراۓ ہوئے چہرے پہ ہی جمی ہوئی تھی
“” لو مسز تبریز آ گئے ہم اپنے بیڈروم میں ”
وہ شوخ لہجے میں بولتا اسکو اپنی باہوں سے اتار کر زمین پر کھڑا کر کر چکا تھا
مشال کی جیسے جان میں جان آئی تھی
‘” یہ سب کیا ہے ”
مگر اسکی نظر جیسے ہی کمرے کی حالت پر پڑی وہ ٹھٹک گئی
اسے بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا
بیڈ پہ وائٹ چادر بچھی ہوئی تھی
قالين اور بیڈ پہ گلاب کی پتیاں پھیلی ہوئی تھی
پورے کمرے میں جگہ جگہ موم بتیاں جل رہی تھی جو کمرے کے ماحول کو رومینٹک بنانے میں پوری طرح سے کامیاب ہو رہی تھی
جبکہ تبریز دروازہ لاک کرتا ہوا اسکے قریب آ کھڑا ہوا اور اسکے چہرے کے تاثرات کو دیکھنے لگا
‘” ہماری شادی جس طریقے اور جس ماحول میں ہوئی تب مجھے یہ سب کرنے کا موقع نہیں ملا اس لئے میں نے سوچا کیوں نہ آج ہمیں اس دن کو پھر سے جینا چاہئے ”
وہ اپنی بات کہتا آگے بڑھا اور اسکو پیچھے سے اپنے حصار میں لیتا اسکے کان کی لؤ کو چوم لیا
تبریز کی بات سن کر مشال کو اب اپنی ٹانگوں پہ کھڑا رہنا مشکل لگ رہا تھا
مطلب اسکا شق سہی نکلا آج واقعی اسکے ارادے خطرناک تھے
جو مشال کی جان نکالنے کے لئے کافی تھے
‘”آپ مانے یا نہ مانے ہماری شادی میں ابھی بھی کچھ نہیں بدلہ یہ صرف ایک زبردستی کی شادی ہے اور کچھ ”
اس نے کمزور سا بہانا بنایا
جو تبریز کو ہنسنے پہ مجبور کر گیا
‘” یہ بات تو تمھیں ماننی ہوگی کہ تم اب میری محبت میں قید ہو چکی ہو جس سے رہائی اب ممکن نہیں ہے “
وہ ایک ہاتھ سے اسکے پیٹ پہ اپنی گرفت سخت کرتا دوسرے ہاتھ سے اسکا دوپٹہ اتار کر ایک طرف ڈال چکا تھا
‘” آپکو غلطفہمی ہوئی ہے ہم آپ سے محبت نہیں کرتے اور نہ کبھی کر سکتے ہیں جس طرح سے آپنے دھوکے سے شادی کی اسکے بعد ایسا ہونا ناممکن ہے ”
تبریز کی حرکت اسکی دھڑکنوں کو بڑھانے لگی
اسکو خود سے دور کرنے کے لئے اس نے یہ طریقہ اپنایا تھا
اس سب کے لئے اسکو تھوڑا وقت چاہئے تھا
‘” کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اک بار بس ہمارے بیچ فاصلے ختم ہو جائے پھر تمھیں خود ہی احساس ہونے لنگ جائے گا ”
اسکے ہونٹ مشال کی گردن کو چھو رہے تھے
اسکے لمس کی شدت کو محسوس کرکے مشال کہ تنفس بگڑنے لگا
دھڑکنے بےقابو ہونے لگی تھی
اب اس نے ایک جھٹکے میں مشال کہ رخ اپنی طرف کیا اور اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا
‘” مشال میں نے کہا تھا نہ کہ ہمارے درمیان اب فاصلے ختم ہو جانے چاہئے اور آج میں یہ سب فاصلے ختم کرنا چاہتا ہوں بہت ضبط کر لیا خود پہ مگر اب مجھ سے اور صبر نہیں ہوگا”
وہ اسکے لپ سٹک سے سجے ہونٹوں پہ اپنی نظریں جمائے بولا اور ایک بار پھر جھک کر اسکو اپنی باہوں میں اٹھا چکا تھا
‘” تبریز پلیز …مجھے تھوڑا وقت چاہئے “”
وہ اسکو بیڈ پہ لیٹا کر اپنی شرٹ کی بٹنز کھولنے لگا تھا جب مشال نے گھبرائی ہوئی آواز میں اس سے وقت مانگا تھا
‘” ایک مہینے سے زیادہ وقت ہونے والا ہے ہماری شادی کو اب میں تمھیں مزید وقت نہیں دے سکتا ”
وہ اپنی بات کہتا اسکے اوپر جھکا اور ایک ایک کر کے اسکے چہرے کے نقش کو چومنے لگا
‘” تبریز پلیز …ڈونٹ …”
اسکو جب لگا کہ وہ آج نہیں رکے گا تو اسکی آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہو گئے تھے
وہ فلحال اس سب کے لئے مینٹلی تیار نہیں تھی
تبریز جو بےخود سا اس پہ جھکا خود کو سیراب کر رہا تھا مشال کی روتی ہوئی آواز پہ ایک جھٹکے میں اپنا چہرہ اونچا اٹھایا
‘” آخر تمہاری پرابلم کیا ہے مشال جب تمہارا دل اس رشتے کو قبول کر چکا ہے تو پھر یہ سب کرنے کی وجہ کیا ہے ”
وہ سخت بدمزا ہوا تھا مشال کے رونے سے
مگر مشال اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونے لگی
یہ سچ تھا وہ اسکو قابول کر چکی تھی مگر اسکو رونا کیوں آیا وہ خود نہیں سمجھ پا رہی تھی
‘” مشال یہ صرف آخری بار میں تمھیں چھوڑ رہا ہوں …صرف آخری بار ..
وہ کچھ دیر اسکو یوں ہی روتا دیکھتا رہا جب وہ چپ نہ ہوئی تو اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور زمین پر پڑی اپنی شرٹ پہن کر اسکو آخری وارننگ دیتا تیزی سے روم سے باہر نکل گیا
اسکو مشال پہ غصّہ آیا تھا اگر وہ مزید وہاں رکت تو یقیناً غصّے میں کچھ الٹا سیدھا بول دیتا
اس لئے اس نے وہاں سے نکلنا ہی بہتر سمجھا
جبکہ اسکے جانے کے بعد مشال کچھ دیر یوں ہی لیٹی روتی رہی اور پھر کب نیند کی وادیوں میں اتر گئی اسکو خبر نہیں ہوئی
🍁🍁🍁🍁
وہ بیڈ پر سیدھی لیٹی ایک ٹک چھت کو دیکھتی اپنی سوچوں میں گم تھی
اس ایک مہینے میں اسکی زندگی کتنی بدل گئی تھی سب کچھ چھوٹ گیا تھا اسکا یونی مشال اور اسکے بابا
کبھی کبھی تو اسکا دل کرتا تھا کہ وہ کسی طرح بس اپنے بابا کے پاس چلی جائے
مگر سکندر ہر بار کوئی نہ کوئی ایسا کام دیتا کرنے کے لئے کہ وہ خود آپنے باپ سے بات کرنے سے منع کر دیتی
سکندر کے ڈیڈ سے ملنے کے بعد اسکی اپنے بابا سے ملنے کی خوائش مزید بڑھ گئی تھی
مگر سکندر کی ان حرکتوں سے وہ اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ جب تک اسکی مرضی نہیں ہوگی تب تک نہ وہ اسکو یونی جانے دیگا اور نہ اسکے بابا سے بات کرنے دیگا
لیکن ایک بات جو اسکو سکون دیتی تھی وہ تھی سکندر کی اسکے پاس موجودگی
کب وہ اسکے دل اور دماغ پہ اپنا قبضہ کر گیا مہرہ کو خبر ہی نہیں ہوئی تھی وہ اسکی محبت کے رنگ میں رنگ گئی پوری طرح سے
سکندر کا خیال آتے ہی بےساختہ اسکے ہونٹوں پہ ایک شرمیلی سے مسکراہٹ آئی
سکندر جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا اسکو خود ہی مسکراتے دیکھ اپنے جگہ پہ ایک پل لے رکا
وہ اسکی موجودگی سے انجان خود ہی لیتی مسکراۓ جا رہی تھی
اسکو یوں ہی مسکراتے دیکھ سکندر کے ہونٹوں پہ یکدم سے شرارتی مسکراہٹ آئی اس نے اپنی بلیک جیکٹ اتار کر صوفہ پر ڈالی پھر اپنی شرٹ کی بٹنز کھول کر اسکو بیڈ پر لیٹی مہرہ کے منہ پہ پھینک دیا
مہرہ جو اپنی سوچوں میں گم تھی سکندر کی اس حرکت سے ہوش میں آئی اور اپنے چہرے سے شرٹ ہٹا کر اسکی طرف دیکھا جو اس وقت وائٹ بنیان میں کھڑا اسکی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا
“‘ یہ کیا حرکت تھی میں ڈر گئی تھی کبھی تو انسانوں والی حرکتیں کر لیا کرو ”
وہ اسکے کسرتی جسم سے نظریں چراتی ہوئی بولی وہ بغیر شرٹ کے کتنا ہاٹ لگتا ہے
یہ سوچ آتے ہی اس نے آپنے دل کو ڈپٹا
‘” اب تک تو میں نے تمہارے ساتھ انسانوں والی حرکتیں بھی نہیں کی اور تم ابھی سے ڈر گئی
اور اگر میرے اندر کا مونسٹر جاگ گیا تب کیا ہال ہوگا تمہارا”
وہ معنی خیزی سے کہتا بیڈ پہ گرنے کے انداز میں اسکے قریب آ لیٹا تھا
اسکے لیٹتے ہی مہرہ نے کھسک کر اس سے دور ہونا چاہا مگر وہ اسکی کمر کے گرد ہاتھ ڈالتا اسکو اپنے سینے سے لگا گیا
‘” Darling You Reflect Me ” And I Love THat About You ”
وہ اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا
اسکا بھاری گمبھیر لہجہ مہرہ کی دھڑکنوں کو بڑھا گیا تھا
اس نے سکندر کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکے اور اپنے درمیان فاصلہ قائم کرنا چاہا
مگر وہ اسکے ہاتھ کو تھامتا اسکی کومل انگلیوں کو اپنے لبوں سے چومنے لگا
اسکی بڑھی ہوئی شیو کی میٹھی سی چبھن ایک الگ ہی احساس سے آشنہ کر رہی تھی
‘” سکندر پلیز مجھے… نیند آ رہی ہے ..”
اسکی بڑھتی گستاخیوں سے گھبرا کر مہرہ نے اپنا ہاتھ اسکی پکڑ سے آزاد کروایا تو کمرے کی معنی خیزی خاموشی میں اسکی چوڑیوں کی کھنک گونج اٹھی تھی
آج پہلی بار اسکی پیش قدمی سے مہرہ کی جان حلق کو آ گئی تھی
‘” ڈارلنگ آج تم اپنے سونے کا پلان کینسل کر دو کیونکہ آج رات ہم دونوں میں سے کوئی نہیں سوۓ گا ”
وہ گہری نظروں سے اسکو دیکھتا ہوا بولا اور مہرہ کا سر تکیے پہ رکھ کر اسکے اوپر سے اٹھا اور اپنے بنیان اتار کر صوفہ پہ پھینکا
اور بس مہرہ کو تو موقع چاہئے تھا اسکے دور ہٹتے ہی وہ ایک جست میں بیڈ سے اٹھا کھڑی ہوئی تھی
‘” فورا یہاں واپس آؤ مہرہ ”
وہ اسکی طرف دیکھتا تھوڑا سخت لہجے میں بولا
مگر مہرہ اسکی سنے بغیر صوفہ کی طرف بڑھی
‘” ویسے ڈارلنگ میں تمھیں بتانا بھول گیا وہ جو بچھو تھا نہ اس باکس سے نکل کر یہیں کمرے میں کہیں کھو گیا ہے کہیں صوفہ پہ تمہارے پاس نہ …”’
اس نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑا
مہرہ جو صوفہ پہ لیٹنے کا ارادہ کر رہی تھی سکندر کی بات پہ بجلی کی تیزی سے پلٹی اور بیڈ پہ لیٹے سکندر کے سینے سے آ لگی
اس بچھو کا ڈر ختم نہیں ہوا تھا اسکے دل سے
جبکہ سکندر اپنا جھوٹ کامیاب ہونے پہ اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا اسکو اپنے حصار میں لے چکا تھا
‘” اب کیا ہوگا سکندر …پلیز اسے ڈھونڈھ دو مجھے بہت ڈر لگتا ہے اس سے ”
وہ خوفزدہ سی اسکے سینے سے لگی بولی
اس وقت وہ اپنے ڈر میں اس بات کو بھول چکی تھی کہ وہ کچھ دیر پہلے ہی اسکی گرفت سے خود کو آزاد کرا کے بھاگی تھی
‘” ڈونٹ وری ڈارلنگ آج میں تمہارا سارا ڈر ختم کر دونگا تم آج اپنا سارا ڈر خوف بھلائے صرف اور صرف میری شدّتوں کو محسوس کروگی ”
وہ اسکو کمر سے پکڑ کر اسکو پھر سے بیڈ پہ لیٹا کر اپنے نیچے کر گیا تھا
اور ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کرنے لگا
اسکی باتوں کہ مطلب سمجھ کر مہرہ شرم سے اپنا رکھ پھیر کر لیٹ گئی
مہرہ کے شرمانے پہ سکندر مسکرایا اور اسکی کمر سے بال ہٹا کر اسکی شرٹ کی زپ کھولی تو مہرہ اپنی آنکھیں زور سے بھینچ لی
اب وہ اس بچھو کا ڈر بھلائے اپنی کمر پہ سکندر کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے اسکی دھڑکنے تیز ہونے لگی
‘” سکندر ”
مہرہ کی کانپتی ہوئی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تو اس نے مہرہ کا رخ اپنی طرف کیا
‘” ڈارلنگ تم وہ پہلی لڑکی ہو جسکو دیکھ کر مجھے اپنے اندر سکون اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور کب تمہاری محبت میں گرفتار ہوا مجھے خبر نہیں ہوئی ”
اپنی بات کہتا اسکے ہونٹوں پہ جھکا اور اسکی سانسوں کی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا
‘” کیا تم بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرتی ہو جتنی میں تم سے کرتا ہوں ”
وہ اسکے لبوں کو آزاد کرتا خمار آلودہ لہجے میں بولا تو مہرہ نے شرما کے اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپا لیا
اور اسکے اس اظھار پر سکندر نے سختی سے اسکو خود میں بھینچ کر اس پہ اپنی محبتوں کی بارش کرنے لگا
مہرہ بس آنکھیں بند کئے لیٹی اپنے چہرے سینے اور گردن پہ اسکے ہونٹوں کا لمس محسوس کر رہی تھی
سکندر اسکو خود میں سموئے پوری رات اس پہ اپنی محبت کی برسات کرتا رہا اسکے ہر ایک انداز ہر ایک عمل سے اسکی محبت کی شدّت کا اندازہ لگا سکتی تھی
وہ جان گئی تھی کہ سکندر اسے اسکی سوچ سے بھی زیادہ چاہتا تھا
اور آج کے بعد سے مہرہ سکندر کے بغیر ادھوری تھی
🍁🍁🍁🍁
وہ جاگ چکا تھا
کچھ دیر تو لیٹا چھت کو گھورتا رہا
پھر اپنے حصار میں سوئی مہرہ کو دیکھنے لگا
جو بڑے مزے سے اپنے لب کھولے گہری نیند سو رہی تھی
اس نے ساری رات مہرہ کو جگاۓ رکھا
اس وقت ووہ سوتی ہوئی کوئی معصوم سی بچی لگی اسکو جسکے چہرے پہ سکندر کی محبت کے رنگ تھے
کبھی نہ ختم ہونے والے رنگ
وہ محبت سے اسکو اپنے اندر بھینچتا اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھتا پھر سے اسکے چہرے کو دیکھنے لگا
‘” گڈ مارننگ ڈارلنگ ”
اس نے مہرہ کی کان میں سرگوشی کی مگر وہ ایسے ہی بےخبر لیٹی رہی
ساری رات جاگنے کی وجہ سے وہ اس وقت گہری نیند میں تھی
‘” مطلب اپنی ڈارلنگ کو اٹھانے کے لئے کوئی دوسرا طریقہ ڈھونڈھنا پڑے گا ”
وہ اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا اور اسکی کان کی لؤ کو چوم لی
پھر اپنے دہکتے لب اسکی سراحی دار گردن پہ رکھ دئے
ایک جنونی انداز میں وہ اسکی گردن پہ جابجا اپنا لمس چھوڑنے لگا
مہرہ جو گہری نیند میں تھی سکندر کی بڑھی ہوئی شیو کی چبھن اپنی گردن پہ محسوس کر کے ہلکا سا کسمسائی
اس چبھن کو محسوس کرکے دماغ کے کسی کونے میں ڈر پھر سے جاگا تھا
وہ چبھن جب مزید بڑھی تو نیند میں بھی چہرے پہ خوف سا چھا گیا
‘” بچھو …بچھو …سکندر ہٹاؤ اسے ”
اس نے ڈر کے یکدم سے اپنی آنکھیں کھولی اور چلاتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی
” ‘ بچھو نہیں ڈارلنگ تمہارا شوہر ہے جو کب سے تمھیں نیند سے جگانے کی کوشش کر رہا تھا ”
سکندر بڑے آرام سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اسکے سراپے کو بغور دیکھتا ہوا شرارت سے بولا
اسکی بات سن کر مہرہ نے چلانا چھوڑ کر اسکی طرف دیکھا جو شرٹ لیس گہری بولتی آنکھوں اور لبوں پہ مسکراہٹ سجائے اسی کو سر سے پاؤ تک رہا تھا
‘” ویسے ڈارلنگ میری شرٹ میں تم بہت ہاٹ لگ رہی ہو بلکل کسی انگلش فلم کی ہیروئن کی طرح ”
وہ اسکی طرف آنکھ دبا کر بولا تھا
مہرہ جو بڑے آرام سے کھڑی تھی سکندر کے یاد دلانے پہ اپنا جائزہ لیا تو چہرہ شرم کی وجہ سے سرخ ہو گیا تھا
اس وقت وہ صرف سکندر کی شرٹ میں موجود تھی جو اسکے گھٹنوں تک آ رہی تھی
اپنے حلیے سے اسکو بہت شرم محسوس ہوئی تھی
‘” تم بہت بےشرم انسان ہو ”
وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر جیسے ہی وہاں سے پلٹنے لگی سکندر تیزی سے اسکی کلائی تھام کر اسے پھر سے بیڈ پر ڈال چکا تھا
‘” میری بےشرمی تو تم نے ابھی دیکھی ہی نہیں ہے رات وہ صرف میری محبت تھی
اگر تمھیں معلوم ہو جائے میرے کیا ارادے ہیں تو تم میرے سامنے آنے سے بھی گھبراؤ گی ”
وہ اسکی شہ رگ کو چومتا پھر سے گستاخی کرنے پہ شروع ہو چکا تھا
‘” سکندر پلیز مجھے سونے دو میں بہت تھک چکی ہوں ”
اسکی بڑھتی جسارتوں سے گھبرا کر مہرہ بامشکل بول پائی
‘” دو گھنٹے کی نیند لے لی تم نے کافی ہے تمہارے لئے اب اگلے دو گھنٹوں تک تم کچھ نہیں بولو گی ”
وہ اسکے کندھے سے شرٹ ہٹاتا ہوا بولا تو مہرہ کو اب اپنا آپ چھڑانا مشکل لگ رہا تھا
‘” میں ہمیشہ تمہارے اس تل کی طرح تمہارے قریب رہنا چاہتا ہوں
اتنا قریب کہ تم ہر وقت بس مجھے اپنے پاس محسوس کرو””
وہ اسکے ہونٹ کے نیچے موجود تل کو نرمی سے چھوتا ہوا بولا اور جھک کر اپنے لب اس تل پہ رکھ دئے
مہرہ کا سانس پھولنے لگا تھا
‘” پر تمھیں تو یہ تل پسند نہیں تھا “
مہرہ نے اسکی کہی بات یاد کروائی تھی مقصد صرف اسکے بےلگام ہوتے جذبات کو روکنا تھا
‘” ناپسند نہیں اس تل سے جلن محسوس ہوئی تھی پر اب نہیں کیونکہ اب میں تمھیں اس تل سے بھی زیادہ اپنے قریب کر چکا ہوں ”
اس بار وہ انگوٹھے سے اسکے ہونٹ کو سہلاتا ہوا بولا اور اسکو پھر سے خود پہ جھکتا دیکھ مہرہ اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی
کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی اب وہ دو گھنٹے سے پہلے اسکی جان نہیں چھوڑنے والا
🍁🍁🍁🍁
” ارے واہ زیان یہ تو بہت اچھی بات ہے مجھے بہت خوشی ہوئی سن کر بڑی امی اور بڑے بابا بھی خوش ھو جایں گے ورنہ ان دونوں کو تم سے ایک ہی شکایات رہتی تھی ”
مشال اپنے سامنے بیٹھے زیان کی طرف دیکھ کر خوشدلی سے بولی
ورنہ اس دن کے بعد سے تو جیسے اسکے چہرے پہ مسکراہٹ ہی نہیں رہی تھی
پر اس نے بھی کچھ غلط نہیں کہا تھا وہ اپنے رشتے کی شروعات سچ سے شروع کرنا چاہتی تھی جس میں کوئی جھوٹ نہ ہو نہ کوئی دھوکہ
پر تبریز جیسے کھڑوس شخص کو یہ بات سمجھ کہاں آتی
‘” اس لئے میری اس خوشی کو سلیبریٹ کرنے کے لئے میں تمھیں ڈنر پہ لیکر جانا چاہتا ہوں اج رات تم تیار رہنا ”
ابکہ بار وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے برابر ہی صوفہ پہ آ بیٹھا
اسکے بیٹھنے پر مشال تھوڑا کھسک کر دور ہوئی جو زیان کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکا تھا
‘” پر زیان ہم تمہارے ساتھ باہر نہیں جا سکتے تبریز بھی شہر میں موجود نہیں ہیں انکی اجازت کے بغیر ”
اس نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑا تھا
تبریز اپنے کسی ضروری کیس کی سلسلے کی وجہ سے دو دن سے شہر سے باہر گیا ہوا تھا اسکی واپسی کب تک ہونی تھی مشال نہیں جانتی تھی کیونکہ جب سے وہ گیا تھا اس نے مشال کو ایک کال بھی نہیں کی تھی
اسکا دل بےچینی سے اسکا اسکی کال کا انتظار کرتا رہتا مگر اس بار وہ پورا ظالم بنا ہوا تھا
پلٹ کے ایک بار بھی اسکی خبر نہ لی
اور اب زیان اپنا نیا بزنس شروع کرنے کی خوشی میں اسکو ٹریٹ دے رہا تھا
وہ جانا تو چاہتی تھی مگر تبریز کے غصّے اور اسکی ناراضگی کا سوچ کر مجبور تھی
‘” مشال میں مانتا ہوں تمہاری اب شادی ہو چکی ہے تبریز کی اجازت تمہارے لئے بہت ضروری ہے پر ہم ابھی بھی کزنز اور اچھے دوست ہیں تو کیا تم میرے لئے اتنا نہیں کر سکتی”
وہ مضوعی خفگی سے بولا
اسکو کسی بھی طرح مشال کو اپنے ساتھ لیکر جانا تھا کیونکہ آج اس ہوٹل میں ڈرگز کی بہت بڑی ڈیل ہونے والی تھی جو اسکو کرنی تھی
پر کچھ دن سے اسکو لگنے لگا تھا کہ کوئی اسکا پیچھا کر رہا ہے
تبھی اسکے شیطانی دماغ میں ایک آئیڈیا آیا
اس نے مشال کو اپنے ساتھ لے جانے کا سوچا
اسکے ساتھ لڑکی ہونے کی وجہ سے کوئی اس پر شق بھی نہیں کرے گا
اور اسکا کام بھی آسانی سے ہو جاتا
‘” ایسی بات نہیں ہے زیان تم ہماری مجبوری کو سمجھو ڈنر ہم پھر کبھی کر لیں گے ایسا کرو نہ تم بڑی امی اور بڑے بابا کو لیکر چلے جاؤ تو انکے ساتھ ٹائم بھی سپینڈ کر لوگے ”
اس نے اپنی طرف سے اسکو مشورہ دیا
وہ پہلے ہی تبریز کو ناراض کر چکی تھی اور اب زیان کے ساتھ جاکر اسکی ناراضگی کو مزید نہیں بڑھا سکتی تھی
“” وہ لوگ پہلے ہی منع کر چکے ہیں اس لئے میں تمھیں بول رہا ہوں
یار تم ایسا کرو نا تم چلو میرے ساتھ اگر تبریز کو معلوم بھی ہو گیا تو تم کہہ دینا ڈنر پہ تم اکیلی نہیں گئی تھی مام ڈیڈ بھی تھے ہمارے ساتھ ”
اسکا دماغ ایسے معملوں میں تیزی سے کام کرتا تھا
اور اس بار اسکی بات سن کر مشال سوچ میں پڑ گئی تھی
‘” اور اگر تبریز کو معلوم ہو گیا ہمارے جھوٹ کے بارے میں تب کیا کریں گے ہم ”
اسکا دل تھا کہیں باہر جانے کا کیونکہ بہت وقت سے تبریز کی وجہ سے کہیں آنا جانا بھی نہیں ہو رہا تھا
مہرہ کی غیر موجودگی کی وجہ سے وہ اب یونی بھی نہیں جا رہی تھی
‘” اسکو کون بتائے گا نہ تم اور نہ میں مام ڈیڈ سے وہ اتنی بات نہیں کرتا اس لئے زیادہ مت سوچو اور آج رات کے لئے تیار رہو ہم آج ڈنر باہر ہی کریں گے ویسے بھی بہت وقت ھو گیا تمہارے ساتھ کہیں باہر گئے ہوئے ”
اسکو راضی ہوتا دیکھ زیان پرجوش انداز میں بولا
اب بلکل ویسا ہی ہوگا جیسا اس نے سوچا تھا ورنہ پرسو پولیس کے آ جانے کی وجہ سے اسکو ڈیل کینسل کرنی پڑی تھی
اور شوکت کا غصّہ الگ برداشت کیا
‘” ٹھیک ہے پر ھم وہاں زیادہ دیر نہیں رکے گے ڈنر کے بعد فورا گھر آنا ہے ”
زیان کی بات سے وہ مطمئن ہوئی
اگر تبریز کو اسکے ڈنر کا پتہ بھی چل جاتا تو بڑی امی اور بڑے بابا کی موجودگی کا سن کر یقیناً وہ اسکو کچھ نہیں کہے گا
‘” ٹھیک ہے یار جیسا تم بولو گی ویسا ہی ہوگا لاسٹ مومنٹ پر بس منع مت کرنا ”
یہ جملہ صرف اس نے مشال کو ہنسانے کے لئے بولا تو ناچاہتے ہوئے بھی وہ مسکرا دی تھی
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )