No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
وہ پیر کی مدد سے دروازہ بند کرتی جیسے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوئی اپنے بیڈ پر بیٹھے شخص کو دیکھ کر اسکے قدم اپنی جگہ جم سے گئے تھے
‘” آپ یہاں ہمارے کمرے میں کیا کر رہے ہیں ?
چہرے پر ناگواری لئے اس سے سوال کیا گیا تھا مگر دل کے کسی کونے میں ڈر بھی پیدا ہوا تھا اسکی واپسی سے
‘” تم بہت اچھے سے جانتی ہو میں یہاں کیوں آیا ہوں “
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا جبکہ نظریں اسکا طواف کر رہی تھی جو گرین کلر کے سوٹ میں بہت نکھری نکھری سی لگی تھی اسکو
‘” ہم کچھ نہیں اور اب نہ نہ ہمیں جاننا ہے اسلئے بہتر ہے آپ ہمارے کمرے سے چلے جایں ورنہ ہم بڑی امی کو بولا لیں گے “
اس نے اسکو باہر جانے کا اشارہ کیا تھا جبکہ اسکا رویہ تبریز کا غصّہ بڑھا گیا تھا
” تم اس شادی سے انکار کروگی سب کے سامنے ”
وہ ایک ہی جست میں اس تک آیا اور اسکی کلائی کو سختی سے اسکی کمر کے پیچھے موڑتے ہوئے سخت لہجے میں بولا
” ہم نہیں کریں گے اور آپ ہوتے کون ہیں آپ ہم پر اس طرح سے حکم چلانے والے”
وہ اپنی تکلیف کو نظر انداز کرتی ہوئی بولی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا جسکو وہ کم از کم اس شخص کے سامنے بہانا نہیں چاہتی تھی
اس بار اسکی بات سن کر تبریز کے ہونٹوں پر ایک دلکش مسکراہٹ آئی تھی ہونٹوں کے ساتھ آنکھیں بھی مسکرا رہیں تھیں اگلے ہی پل وہ مزید اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب لیکر گیا تھا۔
تم میری سیدھی طرح سے بات مان لو تو مجھے تمھیں بار بار سمجھانے کی ضرورت نہ ہو ”
” پر تمھیں تو میری بات ایک بار میں سمجھ نہیں
آتی لیکن اب جو ہوگا اسکی ذمہ دار تم خود ہونگی”
وہ اسکو شولہ برساتی نگاہوں سے گھور رہا تھا لہجے کے ساتھ اسکی پکڑ میں بھی سختی آئی تھی
” آپکو کیا لگتا ہے آپکی دھمکی سے ہم ڈر جائیں گے تو آپ غلط سوچتے ہیں ”
مشال اسکی لال ہوتی آنکھوں سے اک پل کے لئے خوفزدہ تو ہو گئی تھی مگر مضبوط لہجے میں بولی جبکے وہ اسکی بات سن کر وہ استہزیہ مسکرایا
” غلط تو تم سوچ رہی ہو کہ میں یہ شادی ہونے دوں گا تم سے پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہا ہوں تم اس شادی سے انکار کر دو
” کیونکہ تم صرف میری ہو مشال صرف تبریز کی ”
” تم پر میرے نام کی مہر لگی ہے اگر تم میری نہیں تو تمھیں کسی اور کا بھی ہونے نہیں دوں گا ”
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا تھا اس وقت اسکے انداز میں ایک جنون تھا لیکن لہجہ اتنا مضبوط تھا ایک پل کو وہ بھی سہم گئی وہ اس وقت اسے کوئی دیوانہ ہی لگ رہا تھا لیکن اگلے ہی پل وہ اسکے جذبات اور اسکی باتوں کو نظر انداز کئے اسکی مضبوط پکڑ سے اپنی کلائی آزاد کرانے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی
‘اپنی اس کوشش میں اسکے ایک ہاتھ پر لگی مہندی جو پوری طرح سے سوکھی بھی نہیں تھی تھوڑی سی خراب ہوگی تھی
” تم نے سنا نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں ”
‘اسکو مسلسل کوشش کرتے دیکھ وہ اسکی دوسری کلائی کو بھی اپنی گرفت میں لے چکا تھا اب وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح اسکی پکڑ میں مچل رہی تھی
” اس طرح سے زور زبردستی کر کے آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں ”
وہ اسکی طرف دیکھے بغیر بولی کیونکہ وہ اس شخص کا چہرہ تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی
” مجھے کچھ ثابت نہیں کرنا ہے میں صرف تمھیں چاہتا ہوں”
اور دیکھ لینا میں تمھیں اپنا بنا کر ہی رہوں گا ”
وہ اپنی پکڑ میں بری طرح مچلتے اسکے نازک سے سراپے پر اپنی نظریں جمائے آنکھیں سکوڑتے وہ اسے وارننگ دے رہا تھا۔۔
‘” صرف آج کی رات ہے تمہارے پاس انکار کر دو ورنہ دوسری صورت میں وہ ہوگا جو تم سوچ بھی نہیں سکتی ہو “‘
ابکہ بار وہ ایک جھٹکے میں اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کرتا ہوا بولا
اس نے سوچا تھا کہ وہ منع کر دیگی مگر ایسا نہیں ہوا تھا
‘” ہم نہیں کریں گے آپ چاہے جو کر لیں ”
تبریز کی ضد اسکو دلا رہی تھی
‘” ٹھیک ہے پھر اب وہی ہوگا جو میں چاہتا ہوں دیکھتی رہنا تم “
وہ ایک گہری نظر اس پر ڈالتا تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا جبکہ مشال بس وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی نہ جانے اسکی قسمت میں اب کیا ہونے والا تھا “
🍁🍁🍁🍁
‘” بابا یہ لیں آپکا فون میرے کمرے میں تھا اور کسی کی کال بھی آ رہی تھی بہت دیر سے “
مہرہ لاؤنج میں صوفہ پر بیٹھے توفیق صاحب کو انکا موبائل پکڑاتی ہوئی بولی جبکہ توفیق صاحب اسکو گھر کے کپڑو میں دیکھ کر حیران ہوئے تھے
‘” ارے مہرہ بیٹا تم ابھی تک ایسے ہی گھوم رہی ہو آج تمہاری دوست کا نکاح ہے وہاں نہیں جانا ہے تمھیں ?
انہوں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر میں بیٹھایا تھا جبکہ انکا سوال سن کر مہرہ سوچ میں پڑ گئی تھی کہ انکا کیا جواب دے
کل والی بات کے بعد سے وہ کافی ڈر گئی تھی اب تو اسکو گھر سے باہر نکلتا ہوئے بھی ڈر لگ رہا تھا
‘” جی بابا جانا تو ہے مگر میرا دل نہیں کر رہا ہے وہاں سب انجان لوگ ہونگے اور مشال کے علاوہ میں کسی سے بات بھی نہیں کرتی اس لئے سوچ رہی ہوں نہ جاؤں “
اس نے فورا سے بہانا بنایا تھا اب وہ انکو یہ نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ کسی کے ڈر کی وجہ سے نہیں جا رہی ہے
” بیٹا یہ کیا بات ہوئی تمہاری ایک ہی تو دوست ہے اور اسکے خاص دن پر تم اسکے پاس نہیں ہونگی تو تمہاری دوست کو برا لگے گا اور پھر کیا جواب دوگی تم اسکو اس چھوٹی سی وجہ سے نہیں آئی تم “‘
وہ اسکے پیار سے سمجھانے لگے تھے وہ جانتے تھے اپنی بیٹی کے بارے میں اس لئے اسکی بات سے زیادہ حیران نہیں ہوئے تھے
‘” پر بابا “
اس نے پھر سے کچھ کہنا چاہا تو توفیق صاحب اسکو بیچ میں ہی روک چکے تھے
‘” پر ور کچھ نہیں تم جاؤ جلدی سے تیار ہو کر آؤ میں تمھیں چھوڑ کر آتا ہوں اور واپسی جب ہو مجھے کال کر لینا میں لینے بھی آ جاؤں گا تمھیں “
انہوں نے انجانے میں ہی سہی انکی ایک پریشانی تو ختم کر ہی دی تھی اگر اسکے بابا اسکے ساتھ تھے تو اسکو کوئی ڈر نہیں تھا مگر وہاں اکیلے رہنے کا سوچ کر وہ تھوڑا پریشان تھا کیا پتہ وہ وہاں بھی آ جاتا
‘” ٹھیک ہی بابا آپ میرا انتظار کریں میں بس آتی ہوں تیار ہوکر ‘”
اگر وہ پھر سے نہ جانے کی ضد کرتی تو یقیناً اسکے بابا کو شک ہو جاتا اور پھر وہ اس سے ضرور پوچھتے اس لئے انکے سوالوں سے بچنے کے لئے ناچاہتے ہوئے بھی وہ اٹھی تھی کچھ مشال کا خیال بھی تھا کل بھی وہ کافی پریشان تھی
‘” اسکے جانے کے بعد توفیق صاحب اسکا انتظار کرنے لگے اور پھر اسکے آنے کے بعد دونوں باپ بیٹی ساتھ میں گھر سے نکلے تھے ‘
🍁🍁🍁🍁
‘” مہرہ تم ذرا دیکھنا تو اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے باہر جانے کیوں ہمیں گھبراہٹ سی محسوس ہو رہی ہے “‘
مشال پریشانی میں اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں مستی ہوئی مہرہ کی طرف دیکھ کر بولی
اسکی بات سن کر مہرہ نے ایک نظر اپنی دوست کی طرف دیکھا ڈیپ ریڈ کلر کے شرارے میں وہ اس وقت نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی
اسکے چہرے پر گھبراہٹ اور پریشانی اسکی خوبصورتی کو مزید نکھار رہی تھی
‘” مشال تم فالتو میں گھبرا رہی ہو سب اچھا ہوگا تم دیکھ لینا ابھی کچھ دیر میں نکاح ہو جائے گا اور میں تمھیں یہاں سے باہر لےجا کر تمہارے شوہر کے پہلو میں بھی بیٹھا دوں گی ”
مہرہ تھوڑی شرارت سے بولی مگر اس بار مشال نے اسکی بات کا کوئی رسپانس نہین دیا تھا بہت وقت ہو گیا تھا نہ نکاح ہوا نہ بڑی امی اسکے پاس آ رہی تھی جانے وہ لوگ کیا کر رہے تھے
‘” مہرہ پلیز تم بس ایک بار باہر جاکر دیکھ لو نہ ہماری تسلی کے لئے ”’
مشال کے دل میں ایک ڈر سا تھا جیسے کچھ برا ہونے والا ہو
‘” ٹھیک ہے یار جاتی ہوں تم پریشان نہ ہو ‘”
مہرہ اسکا چہرہ دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھی اور اسکے کمرے سے نکل کر لان کی طرف بڑھی تھی
جلال شاہ نے فنکشن کا انتظام اپنے لان میں کیا ہوا تھا مہرہ جیسے ہی لان میں داخل ہوئی اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا
جو لان پہلے مہمانوں سے بھرا ہوا تھا اب وہاں آدھے سے زیادہ مہمان جا چکے تھے جبکہ کچھ کھڑے آپسے میں باتیں بنا رہے تھے
اس نے مسز ناز کی طرف دیکھا جو اداس چہرہ لئے جلال شاہ کو دیکھ رہی تھی جو فون پر کسی سے بات کر رہے تھے
‘” آنٹی کیا ہوا ہے نکاح میں اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے ‘”
مہرہ تھوڑا پریشانی سے انکی طرف بڑھی تھی کچھ تو غلط ہونے کا احساس ہوا تھا اسکو
‘” نکاح تو تب ہوگا نہ بیٹا جب دولہا یہاں موجود ہوگا پتہ نہیں اب کیا ہونے والا ہے ‘”
مسز ناز دکھ سے بولی تو مہرہ حیران نظروں سے انکی طرف دیکھ کر رہ گئی تھی
‘” کیا ہوا جلال کچھ معلوم ہوا کہاں ہے یہ زیان ?
انکے فون رکھتے ہی مسز ناز فکرمندی سے بولی تھی
“‘ نہیں کچھ نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے نہ اپنا فون اٹھا رہا اسکے دوست بھی نہیں جانتے کچھ ‘”
جلال شاہ اس وقت شدید غصّے میں تھے مہرہ جو انکے قریب ہی کھڑی ہوئی تھی اسکو ساری بات سمجھ آ چکی تھی اب اسکو مشال کی گھبراہٹ اور پریشانی بےوجہ نہیں لگی تھی
‘” پر ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ یہیں موجود تھا پھر ایسے اچانک کہاں جا سکتا ہے “
مسز ناز کو اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ زیان ایسا کر سکتا ہے
‘” ہاں یہیں تھا ہم نکاح کی رسم شروع کرنے والے تھے مگر وہ جو باہر گیا پھر واپس نہیں آیا اسکے دوست الگ ڈھونڈھ رہے ہیں “
‘”لیکن میری سمجھ نہیں آتا اگر اسے یہ شادی نہیں کرنی تھی تو کم از کم ہمیں بتا دیتا اس طرح ساری دنیا کے سامنے ہمارا تماشہ بنانے کی کیا ضرورت تھی ‘”
وہ پریشانی میں اپنی پیشانی مسلتے ہوئے بولے انکی بہت بےعزتی ہو گئی تھی اپنے بزنس پارٹنرز کے سامنے شہر کے بڑے بڑے لوگ اس وقت یہاں موجود تھے
‘” آنٹی اب کیا ہوگا یہ مشال کے لئے اچھا نہیں ہوا ہے لوگ اسی کو الزام دیں گے “
مہرہ اپنی دوست کے لئے فکرمند ہوئی تھی
مہرہ کی بات سن کر مسز ناز بس خاموشی سے اسکی طرف دیکھ کر رح گئی تھی
یہ تلخ حقیقت تھی غلطی چاہے لڑکی کی نہ ہو لیکن اسے ہی سب برداشت کرنا پڑتا ہے
‘” جلال آپ پولیس کو انفارم کریں شاید وہ لوگ کچھ معلوم کر سکے زیان کی بارے میں “‘
کچھ سوچ کر مسز ناز بولی جبکہ جلال شاہ کا غصّہ مزید بڑھا تھا
‘” دماغ تو ٹھیک ہے نہ تمہارا لوگ کیا کہیں گے اور پھر پولیس کو لگے گا کہ ہم اپنے بیٹے کی شادی زبردستی کروا رہے تھے اس لئے وہ بھاگ گیا جو تھوڑی بہت عزت ہے وہ بھی مٹی میں مل جائے گی “
وہ دبی دبی آواز میں انکی طرف دیکھ کر بولے
انکی بات سن کر مسز ناز کے آنسو بہنا شروع ہو گئے تھے انکے بیٹے کی وجہ سے یہ کیا ہو گیا تھا
‘” جلال اب ہم کیا کریں گے ہماری مشال کے مستقبل پر اسکا بہت برا اثر ہوگا کہ نکاح والے دن دولہا ہی نہیں آیا لوگو کی باتیں جینے نہیں دیں گی اسکو ‘”
انکا مشال کا خیال آ رہا تھا وہیں مہرہ بھی پریشان سی کھڑی تھی
‘” کیا کر سکتے ہیں اس وقت ہم بہت بےبس ہیں چاہ کر بھی مشال کے لئے کچھ نہیں کر سکتے “‘
جلال شاہ کا سر جھک گیا تھا اپنے بیٹے کی وجہ سے مسز ناز بھی انہی کو دیکھ رہی تھی جب انکی نظر سامنے سے آتے تبریز پر پڑی
‘” شاید ہم کچھ کر سکتے ہیں جلال اپنی مشال کے لئے ‘”
وہ سامنے دیکھتی ہوئی بولی یکدم سے انکی آنکھوں میں چمک آئی تھی
انکی بات پر جلال شاہ اور مہرہ نے بھی سامنے کی طرف دیکھا تو انکی نظر تبریز پر پڑی جو بڑی شان سے چلتا ہوا ان لوگوں کی طرف ہی آ رہا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں بڑی امی ہم ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ”
مشال بےیقینی سے اپنے سامنے کھڑی مسز ناز کی طرف دیکھتی ہوئی بولی
جو کچھ بھی آج اسکے ساتھ ہو گیا تھا اس سب پر یقین کرنا مشال کے لئے مشکل تھا
شاید یہی وہ طوفان تھا جسکا آنے کا اسے ڈر تھا
‘” میری بچی مجھے معلوم ہے تمہارے لئے یہ بہت مشکل وقت ہے لیکن زیان نے ہم لوگوں کو تمہارے ہی نہیں سب رشتےداروں کے سامنے بھی شرمندہ کر دیا تھا ‘”
‘” تمھیں رسوائی سے بچانے کے لئے صرف ایک یہی راستہ ہے میری بات مان لو بیٹا جس طرح پہلے تم نے ہمارے فیصلے کو قبول کر لیا تھا اسی طرح یہ فیصلہ بھی قبول کر لو “
وہ اس وقت بےبسی کی انتہا پر تھی زیان نے انہیں بہت بڑا دکھ دیا تھا
لیکن انہیں اس وقت صرف مشال کی فکر تھی ویسے بھی تبریز انکی پہلی پسند تھا ہاں یہ الگ بات تھی کہ انہوں نے جلال شاہ کو کیسے راضی کیا اس نکاح کے لئے یہ وہی جانتی تھی
اور کچھ موقے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بھی خاموشی اختیار کر لی تھی
‘” نہیں بڑی امی ہمیں زیان کو لیکر آپ لوگوں سے کوئی شکوہ نہیں ہے لیکن ہم آپکے اس فیصلے کو قبول نہیں کر سکتے ہمیں معاف کر دیں “
وہ بری طرح روتی ہوئی بولی کیسے وہ اس شخص سے شادی کر سکتی تھی جس کو وہ اتنا ناپسند کرتی تھی
‘” اسکا جواب سن کر مسز ناز نے ایک نظر خاموش کھڑی مہرہ سکو دیکھا اور پھر مشال کو وہ پاگل سمجھ نہیں رہی تھی یہ سب اسکے اچھے کے لئے ہی کر رہے تھے
‘” میری جان بات شکوے کی نہیں ہے ذمہ داری کی ہے اس ذمہ داری کی جو تمہارے والدیں ہمیں دے کر گئے تھے
تم نہیں جانتی جس لڑکی کی بارات نہیں آتی اس لڑکی کو یہ دنیا جینے نہیں دیتی ہے اس لئے بس ہمارے لئے مان جاؤ ‘”
وہ نرم انداز میں بولی
‘” تو ٹھیک ہے بڑی امی ھم مر جایں گے لیکن ان سے شادی نہیں کریں گے ‘”
وہ ضدی انداز میں بولی تو مسز ناز گہرا سانس بھر کر رہ گئی تھی
جبکہ اسکے الفاظ سن کر دروازے میں کھڑے تبریز کے ٹن بدن میں آگ لگ گئی تھی
کیا وہ اتنا غیر معمولی تھا اسکے لئے اور ایک وہ تھا جو اس سے اتنی محبت کرتا تھا
‘” تمھیں تو میں بتاؤں گا مشال بی بی بس ایک بار میری ہو جاؤ ”
وہ غصّے سے اپنی مٹھی بھینچتا ہوا جس خاموشی سے آیا تھا اتنی خاموشی سے وہاں سے نکل گیا تھا
‘” نہیں میرا بچہ ایسی باتیں نہ کرو تم ہماری ذمہ داری ہو اور یہ احساس مجھے ہر تمہارے بڑے بابا کو جینے نہیں دیگا کہ ہم تمہاری ذمہ داری نہیں نبھا سکے
اس لئے صرف ہمارے لئے راضی ہو جاؤ اگر تم نہیں چاہتی کہ ہم لوگ ساری زندگی اس غم میں رہیں ‘”
اس وقت انکے لہجے میں کیا کچھ نہیں تھا بےبسی التجا امید جو مشال کے دل کو پگھلا گیا تھا
‘” بڑی امی آپ لوگوں کے لئے ہم اپنی جان بھی دیں سکتے ہیں کیونکہ ہماری دنیا ہیں آپ لوگ “
وہ تھکے تھکے انداز میں بولی اسے قربانی دینی تھی وں دونوں کے لئے
‘”ج خوش رہو میری بیٹی آج تم نے بہت بڑی خوشی دی ہے مجھے “‘
اسکا جواب سن کر مسز ناز کا چہرہ کھل اٹھا تھا مشال بس سر جھکا کر رہ گئی تھی
اور پھر کچھ ہی دیر بعد وہ جو مسز زیان شاہ بننے جا رہی تھی مسز تبریز بن چکی تھی
بےجان ہوتے ہاتھوں سے اس نے نکاح نامہ پر سائن کئے تھے
سب بہت خاموشی سے ہوا مگر اس خاموشی میں دھماکہ تب ہوا جب تبریز نے رخصتی کی بات کی مشال نے بہت انکار کیا روئی مگر وہ تبریز ہی کیا جو کسی کی سن لیتا
‘” قسمت اپنا کھیل بدل چکی تھی یا پھر اسکی قسمت کو بدلہ گیا تھا ”
