No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
(ماضی )
‘” جب میں آپ کو سب کچھ بتا چکی ہوں تو آپ لوگ میری رپورٹ کیوں نہیں لکھ رہے ہیں ‘”
اریشہ نے جھنجھلا کر اپنے سامنے بیٹھے انسپکٹر کو دیکھا جو ابھی بھی بڑے آرام سے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا
‘” دیکھیں مس …کیا نام بتایا ہے آپنے اپنا ?
یہ انسپکٹر آج اسکا صبر آزما رہا تھا
‘” میرا نام اریشہ شاہ ہے اور میں یہاں اپنی دوست کی رپورٹ لکھوانے آئی ہوں ‘”
وہ دانت پیستی ہوئی بولی
‘” دیکھیں مس اریشہ آپ نے جو کچھ بھی کہا ہم نے سن لیا لیکن آپکے پاس کوئی ثبوت ہے اس بات کا کہ آپ جو کچھ کہہ رہی ہیں وہ سچ ہے ‘”
اس بات وہ انسپکٹر سیدھا ہوکر بیٹھا تھا اور ساتھ ہی اپنے سامنے پڑی فائل کو اٹھا کر دیکھنے لگا
‘” اس سے بڑا ثبوت اور کیا چاہئے آپکو وہ لڑکی خود یہاں موجود ہے جسکے ساتھ یہ سب کچھ ہو رہا ہے
آپ ہماری رپورٹ لکھیں اور کچھ ایکشن لیں “‘
برابر کھڑی اپنی دوست صبا کی طرف دیکھ کر بولی اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس انسپکٹر کا منہ ہی توڑ دیتی
‘” ٹھیک ہے ہم نے آپکی رپورٹ لکھ لی ہے لیکن آپ جانتی بھی ہیں کہ کس کے خلاف یہ رپورٹ لکھوا رہی ہیں تیمور خان اس شہر کے بہت بڑے بزنس مین میں سے ایک ہیں “
وہ انسپکٹر سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھ کر بولا تھا
‘” وہ کوئی بہت بڑے بزنس مین ہو یا کوئی اور مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس شخص نے میری دوست کے گھر میں گھس کر اسکو پریشان کیا ہے اسکے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی ہے کیا ایک رپورٹ لکھنے کے لئے اتنا کافی نہیں ہے ‘”
اس بار اریشہ اپنا غصّہ چھپا نہیں پائی تھی جبکہ اسکی دوست صبا بار بار اسکو چپ کرنے کا اشارہ کرتی رہی مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا
‘” ٹھیک ہے آپ جایں آپکی رپورٹ لکھی گئی ہے ہم جلد ہی کوئی ایکشن لیں گے اور آپکو انفارم بھی کار دیں گے ‘”
اس بار انسپکٹر اسکے غصّے کو دیکھتا ہوا آرام سے بولا اور اسکو تسلی بھی دی تھی
‘” اگر آپ جلدی ایکشن لیں گے تو بہت مہربانی ہوگی آپکی”
وہ جاتے جاتے بھی اس انسپکٹر کو اپنا غصّہ دیکھانا نہ بھولی تھی
‘” اریشہ یار کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی کبھی تو میری بات سن لیا کرو میں سب ہینڈل کر لیتی رپورٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی ‘”
پولیس اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی اسکی دوست صبا پریشانی سے بولی تھی
‘” تم سے کچھ نہیں ہوگا صبا اتنے دن سے سب برداشت کر رہی ہو ایک بار بھی مجھے بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تم نے اگر میں آج بھی تم سے نہ پوچھتی تو مجھے معلوم ہی نہ ہوتا ”
اسکے ساتھ چلتے ہوئے اریشہ کی زبان مسلسل چل رہی تھی
‘” دوسرا تمہارے امی ابو بھی اس شہر میں موجود نہیں ہے تو تمہاری دوست ہونے کی وجہ سے مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا جب اسکو پولیس کی ڈنڈا پڑے گا شاید تب عقل آ جائے اسکو'”
وہ ایسی ہی تھی کبھی کسی کے ساتھ غلط ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی صبا اسکی دوست تھی جو کسی تیمور خان کی نظروں میں آ گئی اور اب وہ اسکو اسکے گھر آکر پریشان کرتا تھا اس لئے اریشہ اسکو پولیس اسٹیشن لیکر آئی تھی
‘” میں امی ابو کے آنے کا انتظار کر رہی تھی “
وہ آہستہ آواز میں بولی تو اریشہ نے اسکو گھور کر دیکھا تھا
‘” ہاں جب تک وہ انسان تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط کر لیتا اور تم اپنے امی ابو کے آنے کا انتظار کرتی رہتی ‘”
وہ غصّہ ہوئی تھی اسکی بات سن کر
‘” پھر بھی اریشہ میں نہیں چاہتی تم اس معملے میں پڑو
ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسا انسان ہے اور کتنا خطرناک تم میری وجہ سے مصیبت میں پھنسو مجھے اچھا نہیں لگے گا
اور ویسے بھی اگلے ہفتے تمہاری شادی ہے “
صبا کو اسکی فکر تھی
‘” ٹھیک ہے میں اس معملے سے پیچھے تب ہٹ جاؤں گی جب تمہارے امی ابو شہر واپس نہیں آ جاتے تم میری دوست ہو اور پریشانی کے وقت میں تمھیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ہوں ‘”
اریشہ کہاں اسکی سننے والی تھی اسکے جواب پر صبا بس ایک گہرا سانس بھر کر رہ گئی تھی ”
🍁🍁🍁🍁
‘” اس نے اپنی تیاری مکمل کر کے ایک آخری بار آئنے میں اپنا جائزہ لیا اور پھر جلدی جلدی اپنے ہینڈ بیگ میں ضروری چیزے رکھنے لگی لگی
‘” مہرہ بیٹا آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئی ?
توفیق صاحب اسکے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس سے مخاطب ہوئے تھے
‘” جی بابا بس ہو گئی ہوں کچھ چیزے رکھ رہی تھی اسکے بعد بس نکل ہی رہی ہوں ‘”
مہرہ مصروف سے انداز میں انکو جواب دیتی اپنے وارڈراب کی طرف بڑھی اور وہاں سے اپنا حجاب نکالا تھا
‘” ٹھیک ہے بیٹا جلدی کرو اور جلدی آنے کی کوشش کرنا ہماری فلائٹ میں صرف چار گھنٹے ہیں ‘”
وہ صبح سے نہ جانے کتنی بار اسکو یہ بات بتا چکے تھے
“” بابا آپ فکر نہ کریں میں اپنی پوری کوشش کروں گی جلدی واپس آنے کی ‘”
وہ انکی طرف مسکرانے کی ناکام سی کوشش کرتی ہوئی بولی
وہ لوگ آج ہمیشہ کے لئے ملک سے باہر جا رہے تھے توفیق صاحب کا یہ فیصلہ اسکے لئے کسی شاک سے کم نہ تھا جب اس نے ان سے وجہ معلوم کرنی چاہی تو انہوں نے اسکو یہ کہہ کر چپ کروا دیا کہ وہ یہ سب اسکی بھلائی کے لئے کر رہے ہیں
جو سچ بھی تھا تاشا اور ڈیوڈ سے بچانے کے لئے یہ کرنا بہت ضروری تھا
اور انکے اس فیصلے پر وہ اپنا سر جھکا گئی تھی
ویسے تو اسکا اس شہر میں اپنے باپ کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا مگر بہن جیسی دوست سکو چھوڑ کر جانا اسکے لئے آسان نہیں تھا
‘” اچھا میں ایسا کرتا ہوں اتنے باقی کے کام ختم کر لیتا ہوں پھر وہیں سے تمھیں ائیرپورٹ کے لئے پک کر لوں گا اس سے ہمارا ٹائم بھی بچ جائے گا ‘”
کچھ سوچ کر توفیق صاحب پھر سے بولے
‘” ٹھیک ہے بابا اچھا میں چلتی ہوں ‘”
وہ جلدی جلدی اپنا بیگ اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھی تھی جب انہوں نے پھر سے اسکو پکارا تھا
‘” بیٹا کیا تمہارا جانا اتنا ضروری ہے تم فون پر بھی تو الوداع کہہ سکتی ہو ‘”
جانے کیوں انکا دل نہیں ماں رہا تھا کہ وہ مہرہ کو بھیجنے کا ایسا لگ رہا تھا کہ کچھ برا ہونے والا ہے
‘” بابا میں نے آپکی بات مان لی ہے تو آپ بھی میری بات مان لیں اور مجھے جانے دیں بس کچھ دیر کی بات ہے “
اسکی آنکھوں میں التجا دیکھ کر توفیق صاحب نے اسکو جانے کا اشارہ کیا تو وہ تیزی سے گھر سے نکل گئی تھی
اپنے گھر سے نکل کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھنے لگی آس پاس کوئی ٹیکسی بھی نظر نہیں آ رہی تھی مشال کی گھر کا فاصلہ زیادہ تھا اور اسکے پاس وقت کم
اسکے تیز قدموں کو بریک تب لگا جب ایک کار تیزی سے اسکے سامنے آکر رکی تھی
اس سے پہلے کہ مہرہ کچھ سمجھتی اس کار سے ایک نقاب پوش باہر نکلا اور بغیر اسکو موقع دئے مہرہ کے منہ پر رومال رکھ چکا تھا جس سے وہ پل میں ہوش سے بیگانہ ہو چکی تھی
اس شخص نے آرام سے اسکو کار کی بیک سیٹ پر موجود شخص کے پاس ڈال کر کار سٹارٹ کر دی تھی
‘” سوری ڈارلنگ یہ سب جو تمہارے ساتھ ھو رہا ہے نہ تمہارے باپ کی وجہ سے ہو رہا ہے ”
ڈیوڈ اسکا سر اپنے گھٹنے پر رکھتا ہوا بولا اسکا حجاب کھل کر شاید سڑک پر گر چکا تھا اسکے لمبے گھنے بال ڈیوڈ کی ٹانگوں کو چھو رہے تھے
‘” اسکو کیا لگا ڈیوڈ سے بچ کر وہ اتنی آسانی سے یہاں سے بھگ سکتا ہے
میں نے تمہارے باپ کو سوچنے کا وقت دیا تھا بھاگنے کہ نہیں ‘”
وہ اسکی بند آنکھوں کو دیکھتا ہوا اس سے بات کر رہا تھا
‘” کریم جو میں تم سے کہا اس سب کا انتظام ہو گیا ہے یا نہیں ‘”
اس بار وہ کار ڈرائیو کرتے کریم سے مخاطب ہوا تھا
‘” ہاں سب انتظام ہو گیا ہے “”
کریم سڑک پر نظریں جمائے بولا تھا
وہ ڈیوڈ کے لئے اپنے خاص آدمی سے بھی بڑھ کر تھا اس لئے اسکے پرسنل کام میں اسکے ساتھ موجود تھا
‘” ٹھیک ہے تم ہمیں چھوڑنے کے بعد عمارہ کو بھی میرے فارم ہاؤس میں لے آنا ”
کریم کو جواب دے کر وہ پھر سے اپنی گود میں موجود مہرہ کی طرف موتجہ ہو گیا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” مام ڈیڈ آپ لوگ میری بات کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں وہ کون لوگ تھے مجھ سے کیا چاہتے تھے پر انہوں نے مجھے کڈنیپ کیا تھا ‘”
وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ان دونوں کو اپنی بات کا یقین دلانے کی کوشش کار رہا تھا مگر وہ لوگ ابھی بھی اسکی سننے سکو تیار نہیں تھے
‘” اگر تمھیں کسی نے کڈنیپ کیا تھا تو بغیر پیسو کے چھوڑ بھی دیا ایسا کیسے ممکن ہے اس لئے جھوٹ مت بولو تمھیں یہ شادی کرنی ہی نہیں تھی تو ہمیں پہلے ہی بتا دیتے ویسے بھی تمہاری ان صفائی کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے ‘”
جلال شاہ غصّے سے اسکی طرف دیکھ رہے تھے
‘” ڈیڈ میں کھہ رہا ہوں نہ کہ میں نہیں جانتا ان لوگوں نے مجھے کس مقصد سے اٹھایا مگر میرا کڈنیپ ہوا تھا ‘”
اسکو اب غصّہ انے لگا تھا
کل رات وہ اس کمرے میں سویا تھا مگر اسکی آنکھ اپنے گھر کے دروازے کے سامنے کھلی تھی وہ حیران ہی تو رہ گیا تھا آخر انہوں نے اسکو وہاں رکھا ہی کیوں تھا اور اب جب سے بیٹھا ان لوگوں کے سامنے اپنی صفائی پیش کر رہا تھا
‘” مشال تم تو یقین کرو مجھ پر میں تمہارے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا ‘”
وہ اس بار اپنے سامنے کھڑی مشال کی طرف آیا ہر اسکے دونوں ہاتھوں کو تھامتے ہوئے بولا
مشال وہ بھی کیا کہتی اسکی وجہ سے وہ ایک ان چاہے بندھن میں بندھ گئی تھی
اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب تبریز نے لاؤنج میں قدم رکھا تھا زیان کے ہاتھوں میں مشال کا ہاتھ دیکھ کر اسکے تن بدن میں آگے لگ گئی تھی
‘” بہت دیر ہو گئی ہے اب چلو اپنے گھر ‘”
وہ تیزی سے ان دونوں کے قریب آیا اور جھٹکے سے مشال کا بازو تھام کر اسکو اپنے ساتھ کھینچتا ہوا وہاں سے لے جانے لگا
‘” یہ کیا حرکت ہے ہاتھ چھوڑو اسکا اور کہاں لے جا رہے ہو تم مشال کو میں بات کر رہا ہوں نہ تم اسکو نہیں لے جا سکتے”‘
زیان تیزی سے ان دونوں کے راستے میں آیا تھا جبکہ جلال شاہ اور مسز ناز خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے ابھی تو ایک سچ معلوم ہونا تھا زیان کو “
‘” میں مشال کو کہیں بھی لے جا سکتا ہوں وہ کیونکہ مشال میری بیوی ہے اور تمھیں روکنے کا حق بھی نہیں ہے اسلئے میرے راستے سے ہٹو ‘”
وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے زیان کو پرے دھکیلتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا
جبکہ زیان کو لگا کہ گھر کی چھت اسکے سر پر آ گری ہو اس نے بےیقینی سے اپنے سامنے خاموش کھڑے جلال شاہ اور مسز ناز کی طرف دیکھا
‘” یہ تبریز کیا کہہ کر گیا ہے مشال اسکی بیوی ہے یہ کب ہوا اور آپ لوگوں نے ایسا کیسے ہونے دیا مشال سے تو میری شادی ہونی تھی نہ ‘”
وہ غصّے میں وں دونوں کی طرف بڑھا تھا
‘” اس میں اتنا حیران ہونے کی کیا ضرورت ہے جب تم شادی والے دن غائب ہوئے تب ہوا یہ سب اور پھر ہم لوگ کیا کرتے تم نے کوئی راستہ بھی تو نہیں چھوڑا تھا ہمارے لئے اس لئے اس حقیقت کو تسلیم کر لو تمہارے لئے اچھا ہوگا ‘”
جلال شاہ اک نظر اسکو دیکھتے وہاں سے چلے گئے تو مسز ناز بھی انکے پیچھے چل دی تھی اب وہ بلکل اکیلا رہ گیا تھا
‘” نہیں ڈیڈ میں اتنی جلدی اس بات کو بلکل برداشت نہیں کر سکتا کہ میری چیز اس تبریز کے پاس ہے بلکل بھی نہیں'”
وہ زہر خند لہجے میں بولا ..
اسکا شادی سے غائب ہو جانا مشال کی تبریز سے شادی یہ سب اب اسکو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا
🍁🍁🍁🍁
‘” ہاتھ چھوڑے ہمارا ہمیں درد ہو رہا ہے ”
مشال اسکی سخت پکڑ میں موجود اپنا بازو آزاد کرانے کی اپنی ناکام سی کوشش کر رہی تھی مگر وہ اسکی ان سنی کرتا اپنے بیڈروم میں آکر رکا تھا
‘” تم نے کیسے اجازت دی اسکو خود کو چھونے کی ?
وہ اسکو بیڈ پر ڈالتا ہوا بولا سخت لہجے میں بولا
اسکی نظروں کے سامنے ابھی وہ منظر گھوم رہا تھا جو اسکے غصّے کو مزید بھڑکا رہا تھا
جبکہ اسکا غصّہ دیکھ کر مشال کا ننھا سا دل کانپ گیا تھا
‘” جواب دو مجھے کیسے چھونے دیا تم نے ‘”
وہ اسکا بازو اپنی گرفت میں لیتا پھر سے اسکو اپنے مقابل کھڑا کر چکا تھا
وہ زیان کی حرکت برداشت نہیں کار پا رہا تھا
‘” یہ آپ کیا بکواس کر رہے ہیں ہوش میں تو ہیں آپ ?
مشال اپنے ڈر پر قابو پاتے ہوئے بولی تھی
” یہ بکواس نہیں ہے مشال تم صرف میری ھو اور تمھیں چھونے کہ حق صرف مجھے ہے صرف مجھے ‘”
وہ اسکے دونوں ہاتھوں کو تھامتا ہوا دیوانہ وار انکو چومنے لگا تھا جیسے اسکے ہاتھ سے زیان کا لمس تک مٹانا چاہ رہا ہو
جبکہ اسکی اس حرکت سے مشال دمبخود سی اسکو دیکھ رہی تھی
جسکا ہر ایک انداز جنونی تھا جس سے مشال کو ہمیشہ ہی ڈر لگتا تھا
‘” سنا تم نے تم میری ہو اور میں تمھیں اس بات کی اجازت بلکل نہیں دیتا کہ کوئی تمھیں ہاتھ بھی لگاۓ “
وہ اسکے ہاتھوں کو چھوڑتا ہوا اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھام چکا تھا
اسکی نظروں میں مشال کے لئے ایک الگ ہی جنون سا تھا جسے دیکھ کر ایک پل کے لئے مشال کو اپنا آپ ان آنکھوں میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا
مگر بس اک ہی لمحہ لگا تھا وہ خود کو سمبھال چکی تھی
‘” ہمیں کسی بھی بات کے لئے آپکی اجازت کی ضرورت نہیں ہے غلام نہیں ہیں ہم آپکے سمجھے آپ “
وہ چیخی تھی
ابھی وہ کچھ دیر پہلے کتنی بےدردی سے اسکو سب کے سامنے سے کھینچتا ہوا لایا تھا اوپر سے اسکو اپنے بڑی امی اور بڑے بابا سے بھی نہیں ملنے دیتا تھا تھا
‘” تمھیں ضرورت ہے ہر بات کے لئے اور آج کے بعد میں نے تمھیں زیان کے ساتھ دیکھا نہ تو تمہارے لئے اچھا نہیں ہوگا میری یہ بات یاد رکھنا ‘”
وہ اسکو سائیڈ کرتا ہوا واشروم میں جا گھسا ایک تو پہلے ہی وہ کافی لیٹ ہو چکا تھا اوپر سے آج زیان کی وجہ سے موڈ بھی خراب ہو گیا تھا اس سے اچھا تھا وہ کچھ دن اور اسکو قید کرکے رکھتا
‘” ہم ملے گے ضرور ملے گے زیان سے اور ہم بھی دیکھتے ہیں آپ ہمیں کیسے روک سکتے ہیں ‘”
وہ بند دروازے کی طرف دیکھتی ہوئی بولی
🍁🍁🍁🍁
مہرہ آنکھیں بند کئے بیڈ پر لیٹی ابھی بھی بےہوش تھی جبکہ سکندر اسکے برابر میں بیٹھا بس ایک ٹک اسکو تک رہا تھا کوئی سوتے ہوئے اتنا خوبصورت لگ سکتا ہے یہ سب وہ سوچ کر رہ گیا تھا
اسکی گھنی پلکیں آج پہلی بار وہ غور سے دیکھ رہا تھا
‘” ڈارلنگ اگر تمہارا باپ میری بات مان جاتا تو آج حالات کچھ اور ہی ہوتے ‘”
وہ اسکے بہت قریب آکر اسکا چہرہ دیکھتا ہوا بولا اور اپنی انگلی سے اسکی پلکیں چھونے لگا
اسکی نظریں مہرہ کے چہرے سے بھٹک کر اسکے ہونٹ کے نیچے موجود تل پر آکر ٹھہر جاتی تو کبھی اسکی گردن کے نیچے کا سفر طے کرنے لگتی
‘” کیا وہ صرف چند گھنٹے گزار کر اس لڑکی کو چھوڑ دیتا?
یہ اسکے دل نے سوال کیا تھا جسکا جواب نہیں میں تھا
‘” وہ اسکے ملائم گال پر ہاتھ پھیرتا ہوا اسکے ہونٹ کی نیچے موجود تل کو چھونے لگا
اور بس تبھی مہرہ کی آنکھ کھلی تھی اس شخص کو اپنے اوپر جھکا دیکھ کر اسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر پوری قوت سے اسے دھکا دیتی ایک جھٹکے میں بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی
سکندر کا چہرہ دیکھ کر لمحہ لگا تھا مہرہ کو یہ سمجھنے میں کہ پوری کہانی کیا ہے
اسکے جسم میں کپکپاہٹ شروع ہو گئی تھی یہ خیال ہی اسکے خوف میں اضافہ کرنے کے لئے کافی تھا کہ وہ اس وقت اسکی قید میں تھی
جبکہ سکندر ابھی بھی بڑے آرام سے بیٹھا اسکے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لی رہا تھا
مہرہ کچھ سوچ کر جلدی سے دروازے کی طرف بھاگی اور ہینڈل گھما کر دروازے کھولنے کی کوشش کرنے لگی
‘” یہ دروازہ اب تبھی کھلے گا جب میں چاہوں گا اور آج تمہارے یہ آنسو کام نہیں آۓ گے آج یہاں وہی ہوگا جو میں چاہوں گا “
وہ بیڈ سے اٹھ کر ایک ہی جست میں اس تک آیا
‘” پلیز میرے ساتھ ایسا کیا مل رہا ہے تمھیں یہ سب کر کے”
وہ دروازے سے چپکی کھڑی آنسو سے تر چہرہ لئے اسکی طرف دیکھ رہی تھی جو اب اسکے بےحد قریب آ رکا تھا
‘” اگر تم نہیں چاہتی ہو کہ میں تمہارے ساتھ کچھ الٹا سیدھا نہ کروں تو چپ چاپ مجھ سے نکاح کے لئے راضی ہو جاؤ ‘”
وہ اسکے ارد گرد اپنے ہاتھ رکھتا اپنے حصار میں لے چکا تھا
جبکہ مہرہ اسکا چہرہ دیکھنے لگی جیسے اسکی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو
جبکہ سکندر سنجیدگی سے اسکو دیکھ رہا تھا
‘” میں جانتی ہوں تم اس تھپڑ کی وجہ سے کر رہے ہو نہ یہ سب پلیز مجھے معاف کار دو مجھے میرے بابا کے پاس جانے دو ‘”
وہ روتی ہوئی اس سے التجا کر رہی تھی جبکہ سکندر اپنا چہرہ اسکے چہرے کے مزید قریب لے گیا تھا
‘” بات اب ایک تھپڑ اور ایک رات سے بہت آگے نکل چکی ہے ڈارلنگ ‘”
وہ بھاری آواز میں بولا بولتے وقت اسکے لب مہرہ کے رخسار کو چھو رہے تھے
مہرہ کے جسم میں جیسے کرنٹ س دوڑ گیا تھا
اسکی اتنی قربت مہرہ کی جان نکال رہی تھی اس نے اپنے نازک ہاتھوں سے اسکو خود سے دور کرنا چاہا مگر وہ اسکی دونوں کلائی کو تھام کر دیوار سے لگا چکا تھا
‘” اس لئے اب یہ ڈرامے ختم کرو اور خود کو اس نکاح کے لئے تیار کر لو ‘”
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا سخت لہجے میں اسکی بھیگی براؤن آنکھوں سے سکندر کو اپنی نظریں ہٹانا مشکل لگ رہا تھا
‘” تم میرے ساتھ اس طرح زبردستی نہیں کر سکتے صرف ایک تھپڑ کے لئے میری زندگی برباد نہ کرو پلیز ‘”
وہ سکندر کی سخت گرفت میں مچلتی اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی
‘” زبردستی تو تمہارے ساتھ دونوں سورت میں ہوگی یا تو مجھ سے نکاح کرو یا پھر بغیر نکاح کے ….
وہ اپنے بات ادھوری چھوڑتا اسکے گلے سے دوپٹہ نکال کر ایک طرف ڈال چکا تھا
‘” نہیں پلیز ایسا مت کرو خدا کے لئے پلیززز ”
اسکو خود پر جھکتا دیکھ کر مہرہ چلائی تھی
‘” تو چپ چاپ نکاح نامے پر سائن کرو ورنہ مجھے اپنے اندر کے مونسٹر کو سلانا مشکل ہو جائے گا ”
وہ اسکی دونوں کلائی کو آزاد کرتا ہوا بولا
‘ بس مہرہ کی ہمت یہیں تک تھی سکندر نے الفاظ نے جیسے اسکو گنگ کر دیا تھا اگر وہ نکاح نہیں کرے گی تو اس انسان کا کچھ بھروسہ نہیں تھا اور اسکو اپنی عزت بچانی تھی
‘” لگتا ہے تم میری بات سمجھ گئی ہو اس لئے اب مجھے کوئی ڈرامہ نہیں چاہئے ‘”
وہ ایک نظر اسکو دیکھتا کمرے سے باہر نکلا تھا اور مہرہ وہیں بیٹھتی چلی گئی تھی
اگر اسکو خبر ہوتی کہ آج کے دن اسکے ساتھ یہ سب ہونے والا ہے تو وہ اپنے بابا کی بات مان لیتی اور گھر سے باہر نہ نکلتی مگر جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہی ہوکر رہتا ہے
‘” وہ اس ڈیوڈ کو سکندر سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتی تھی مگر آج اس سکندر نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ ڈیوڈ سے بھی چار قدم آگے تھ
