125.4K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

‘” یہ تو بہت اچھی نیوز سنائی ہے تم نے کریم ڈاکٹر کا کیا کہنا ہے ”
وہ فون پہ کریم کی بات سن کر خوشگوار لہجے میں بولا اور اپنے ہاتھ میں پکڑی فائل ٹیبل پر رکھی تھی
‘” اسکا مطلب ہے اسکے ہوش میں آنے کے چانس زیادہ ہے”
وہ اپنی دونوں ٹانگے سامنے ٹیبل پہ رکھتا ہوا بولا
پچھلے کچھ دنوں سے توفیق کی حالت میں تبدیلی آ رہی تھی جسکا مطلب تھا وہ ٹھیک ہو رہا تھا بس اسکے ہوش میں آنے کے دیر تھی
‘” ٹھیک ہے تم اپنے آدمی کو وہاں رہنے دو اور خیال رہے توفیق کی حفاظت زیادہ ضروری ہے ”
وہ اسکو ہدایت دیتا فون کٹ کر چکا تھا
‘” کس کی حفاظت زیادہ ضروری ہے تمہارے لئے ”
ابھی اس نے فون رکھا ہی تھا جب مہرہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اسکے قریب آکر اس سے مخاطب ہوئی تھی
یقیناً وہ اسکا آخری جملہ سن چکی تھی
‘” میرے لئے تمہاری حفاظت زیادہ ضروری ہے تم پہ میں ذرا سی چوٹ بھی برداشت نہیں کر سکتا ”
وہ فورا سنبھالتا ہوا بولا کیونکہ مہرہ کے چہرے کے تاثرات سے وہ اندازہ لگا چکا تھا وہ اسکی پوری بات نہیں سن پائی ہے
‘” اور خود جو مجھے تکلیف دیتے رہتے ہو اسکے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا ”
وہ تھوڑا خفگی سے بولتی آگے بڑھی تھی جب سکندر اسکا ہاتھ پکڑتا اسے اپنی گود میں گرا چکا تھا
‘” ڈارلنگ میری محبت کو تم تکلیف کہہ رہی ہو وہ میرا پیار ہے تمہارے لئے جو تم برداشت نہیں کر پاتی ”
وہ اسکے چہرے پہ آئے بالوں کو کان کے پیچھے کرتا بہت ہی چاہ سے اسے دیکھ رہا تھا
‘” تمہارا پیار مجھے تکلیف دیتا ہے سکندر ”
اس نے اپنے نازک اور ملائم ہاتھوں سے اسکا چہرہ چھوا تھا
اسکی شیو کی ہلکی میٹھی سی چبھن اسے ایک سکون سا دے رہی تھی
‘” میں کیا کروں تمہارے قریب آتے ہی میں آوٹ آف کنٹرول ہو جاتا ہوں اور اپنی اس جذباتی محبت میں تمھیں تکلیف دے دیتا ہوں حلانکہ میں ایسا کرنا نہیں چاہتا مگر انجانے میں مجھ سے ہو جاتا ہے ”
وہ اسکے رخسار کو نرمی سے سہلاتا اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب کر چکا تھا
‘” تھوڑا کنٹرول کرنا سیکھ لو تمہارے نہ سہی میرے لئے تو اچھا ہی رہے گا ”
وہ اسکی شرٹ کے بٹنز سے کھیلتی ہوئی بولی
ابھی بھی وہ یونہی اسکی گود میں بیٹھی ہوئی تھی
‘” ڈارلنگ میں سانس لینا بند کر سکتا ہوں لیکن تم سے پیار کرنا کم نہیں کر سکتا کیونکہ یہ میرے بس میں نہیں ہے ”
وہ مسکرا کر کہتا اسکے ہونٹ کے نیچے موجود تل پہ اپنے لب رکھ چکا تھا
اسکا لمس خود پہ محسوس کرکے مہرہ اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی
سکندر کی اتنی محبت سے اسے اپنا آپ بہت قیمتی محسوس ہوتا تھا
وہ آنکھوں میں محبت لئے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو پورا کا پورا صرف اسکا تھا
جسکے بغیر وہ جینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ‘” ویسے ڈارلنگ اگر تم چاہتی ہو کہ میری توجہ تم پہ سے کم ہو جائے تو اسکا ایک سلیوشن ہے میرے پاس ”
وہ اسکی کمر پہ اپنے ہاتھوں کا دباؤ بڑھاتا اسکو مزید اپنے قریب کرتا ہوا بولا
جبکہ آنکھوں میں ایک الگ ہی شرارت تھی
‘” اور وہ کیا ہے ”
مہرہ نے بھی فورا جاننا چاہا ایسا کیا تھا جو اسکی جنونی ممحبت کو تھوڑا کم کر سکتا تھا
‘” وہ یہ کہ تم بلکل اپنے جیسی تین چار بیٹیاں دے دو مجھے اسکے بعد میری تم پر سے توجہ تھوڑی کم ہو سکتی ہے ”
وہ اسکی سراحی دار گردن پہ اپنے دہکتے لب رکھتا ہوا شرارت سے بولا تھا
مہرہ جو یہ سوچ رہی تھی شاید وہ کوئی کام کی بات بولے گا سکندر کی بات پر سکندر کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کیا تھا
جبکہ چہرہ شرم سے سرخ ہو چکا تھا
‘” تین چار بیٹیوں کے بعد صرف تھوڑی سی توجہ کم ہوگی تمہاری ”
وہ حیرت سے اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی جسکے ہونٹوں پہ ابھی بھی مسکراہٹ تھی
‘” اگر میں تم پر سے اپنی توجہ کم کر دوں گا تو میری بیٹیوں کو برا لگ جائے گا اور پھر انہیں بھائی کی بھی تو ضرورت ہوگی نہ اسلئے ”
آج وہ پورا اسکو پریشان کرنے کے موڈ میں تھا
جبکہ اسکی اگلی فرمائش سن کر مہرہ کی آنکھیں مزید کھلی تھی
‘” ہٹو پیچھے یہ کوئی سلیوشن نہیں ہے بلکہ اس میں بھی تمہارا ہی فائدہ ہے اتنی ناسمجھ نہیں ہوں میں سب سمجھتی ہوں ”
وہ خفگی سے کہتی اس سے دور ہوئی اور اسکی گود سے اٹھنا چاہا مگر وہ اسکی کمر کے گرد اپنی پکڑ مضبوط کر گیا تھا
‘” جب تم میری فرمائش کو سمجھ ہی گئی ہو تو اسکو پوری کرنے میں دیر کیسی صرف تین چار بیٹیاں ہی تو مانگ رہا ہوں تم سے ”
وہ اسکو گہری نظروں سے دیکھتا اسکو اپنی گود میں اٹھاتا خود بھی صوفہ سے اٹھ چکا تھا
‘” یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے عمارہ کے پاس جانا تھا ”
اسکو بیڈ کی طرف بڑھتا دیکھ مہرہ پریشانی سے بولی دل کی دھڑکنے تیز ہونے لگی تھی
‘” عمارہ کے پاس اب تم صبح ہی جانا کیونکہ میں تمھیں اب صبح سے پہلے بیڈروم سے نکلنے نہیں دونگا ”
وہ اسکو بیڈ پہ لٹاتا ہوا اسکے چہرے پہ جھکا تو مہرہ سختی سے اسکے کالر کو اپنی مٹھی میں دبوچ چکی تھی…
🍁🍁🍁🍁
اس نے ایک جھٹکے میں اپنی گاڑی پورچ میں روکی اور غصّے میں گاڑی سے باہر نکل کر ذور سے دروازہ بند کیا تھا
مشال جو لان میں کھڑی موسم انجوۓ کر رہی تھی تبریز کو جلدی واپسی پہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ خوش بھی ہوئی تھی
ورنہ آج کل وہ دیر رات تک واپس آتا تھا
وہ مسکراتی ہوئی اسکی طرف بڑھی مگر اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا
تبریز لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے پورشن کے بجائے جلال شاہ کے پورشن میں جا رہا تھا
‘” انہیں کیا ہوا ہے اتنا غصّے میں کیوں لگ رہے ہیں ”
وہ پرسوچ انداز میں کہتی اسکے پیچھے ہی چل دی تھی
تبریز اس وقت اتنا غصّے میں تھا کہ مشال کی موجودگی مکمل نظرانداز کرتا گھر کے اندر گھسا
اسکے پیچھے پیچھے مشال بھی تھی
‘” وہ شخص ہمارے گھر میں آیا اور آپ نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا اتنی بڑی بات چھپانے کی وجہ جان سکتا ہوں میں ”
وہ لاؤنج میں بیٹھی مسز ناز سے پیشانی پہ بل ڈالے سخت لہجے میں مخاطب ہوا تھا
غصّے کی وجہ سے رگے تنی ہوئی تھی
‘” یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا ”
جہاں مسز ناز کو اسکے غصّے کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی وہیں انکے قریب بیٹھے جلال شاہ کو اسکا لہجے سخت ناگوار گزرا تھا
‘” میں اپنی ماں سے سوال کر رہا ہوں تو جواب بھی وہیں دیں گی اس لئے آپ خاموش ہی رہے ”
وہ مسز ناز کے پریشان چہرے پہ نظریں جمائے بولا جبکہ اسکی بات جلال شاہ کو مزید غصّہ دلا گئی تھی
‘” تم کیا کہہ رہے ہو کیا نہیں بتایا میں نے تمھیں ”
اسکے لہجے کی سختی کو محسوس کر کے وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی
‘” تیمور خان کی بات کر رہا ہوں میں وہ یہاں آیا تھا اور آپ نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا آخر کیوں ”
اسکی دھاڑا پورے لاؤنج میں گونجی تو لاؤنج میں داخل ہوتی مشال اپنی جگہ رک سی گئی تھی
جبکہ اسکی بات سن کر مسز ناز کو اب ساری بات سمجھ آ گئی تھی یقیناً تیمور خان نے اسکو سب بتا دیا تھا کتنا گھٹیا انسان تھا اب اسکی اولاد کو ہی اس سے بدزن کرنا چاہ رہا تھا ‘” بیٹا میں نے چھپایا نہیں بس تمھیں بتانے کا موقع نہیں ملا میں خود تم سے یہ بات بتانا چاہ رہی تھی لیکن ”’
وہ مزید کچھ کہتی جب تبریز انکی بات بیچ میں ہی کاٹ گیا تھا
‘” لیکن کیا امی… کب بتاتی آپ جب وہ ہم سے کسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تب بتاتی آپ ”
زندگی میں آج شاید پہلی بار وہ اپنی ماں سے اتنی اونچی آواز میں بات کر رہا تھا
‘” جانتی بھی ہیں آپ کتنا خطرناک انسان ہے وہ لیکن نہیں آپ نے اپنے مجرم کی بات چھپائی مجھ سے …اور ایسا کیا کیا چھپا رکھا ہے آپ نے مجھ سے جس سے میں آج تک بےخبر ہوں ”
وہ کھڑا ان سے سوال کر رہا تھا
اسکو غصّہ اس بات پہ زیادہ تھا کہ سب کچھ جاننے کے باوجود بھی انہوں نے تیمور کی بات اس سے چھپائی
‘” خاموش کیوں ہو ناز بتا دو اسکو کہ تم نے اور کیا چھپا رکھا ہے اس کیونکہ یہی سہی موقع ہے ”
اس بار کب سے خاموش بیٹھے جلال شاہ اریشہ سے مخاطب ہوئے تھے کیونکہ اریشہ انہیں تیمور کے ساتھ ہوئی باتیں بتا چکی تھی
‘” یہ کیا کہہ رہے ہیں امی اور کیا چھپایا ہوا ہے آپ نے مجھ سے ”
جلال شاہ کی بات پر اب وہ پوری طرح سے انکی طرف موتجہ ہوا تھا
جبکہ مسز ناز سوچ رہی تھی اتنی جتنا آسان لگ رہا تھا اسکو بتانا اتنا ہی مشکل تھا
‘” بولو امی خاموش کیوں ہو آپ ”
انکی خاموشی پہ اس بار وہ چیخا تھا
‘” تمہارا ایک جڑواں بھائی ہے جسے تیمور خان بچپن میں مجھ سے چھین چکا تھا ”
وہ تھکے تھکے انداز میں بولتی صوفہ پہ گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی
وہ تبریز کو اس طرح سے نہیں بتانا چاہتی تھی
جبکہ تبریز کو لگا اس نے جیسے جو سنا ہے وہ غلط تھا
مشال کا بھی ہال تبریز سے کم نہیں تھا وہ ہونق بنی کھڑی ان تینوں کو دیکھ رہی تھی
‘” تمہارا ایک بھائی ہے سکندر ابھی کچھ دن پہلے ہی مجھے اسکے زندہ ہونے کی خبر ملی ہے ورنہ مجھے لگتا تھا کہ وہ ”
انہوں نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی تھی
‘” میرا ایک بھائی بھی ہے اور اتنی بڑی بات آپ نے مجھ سے چھپا کر رکھی ہوئی تھی ”
وہ بےیقینی سے اپنی ماں کی طرف دیکھ رہا تھا
سچ کہا تھا تیمور خان نے اسکی ماں نے بہت کچھ چھپا کر رکھا ہوا تھے اس سے
‘” جب مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ اس دنیا میں ہوگا بھی یا نہیں تو تمھیں بتا کر کیا کرتی میں بس تمھیں اس آدمی سے بچانا چاہتی تھی ”
انکا لہجہ نم ہوا تھا
‘” کہاں ہے وہ اب ”
اسکو اپنی ہی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہو رہی تھی دماغ میں ایک ساتھ کتنے ہی سوال گردش کر رہے تھے
‘” اور کہاں ہوگا اپنے باپ کے پاس رہ کر اپنے باپ جیسا بن گیا ہے لوگ اب اسے ڈیوڈ کے نام سے جانتے ہیں …ڈیوڈ نام تو سنا ہی ہوگا تم نے ”’
اس بار جلال شاہ بولے تھے
اور سکندر کو لگا کہ وہ اب کچھ بول ہی نہیں پاۓ گا
جب اس نے تیمور خان کے بارے میں معلومات حاصل کی تھی تو اسے اسکے بیٹے کے بارے میں بھی معلوم ہوا تھا مگر اسکو اسکے بیٹے سے کوئی مطلب نہیں تھا نہ اس نے اسے دیکھنا چاہا
لیکن اپنے کام کی وجہ سے وہ ڈیوڈ کے بارے میں ضرور جانتا تھا اور اسکے خلاف فائل تیار کرنے کی وجہ سے وہ اسکو دیکھ بھی چکا تھا لیکن اسے کیا خبر تھی تیمور کا بیٹا اور ڈیوڈ ایک ہی انسان ہیں اور اس سے اسکا اتنا گہرا رشتہ تھا
‘” کیا ہوا حیران رہ گئے اپنے بھائی کے بارے میں جان کر ویسے اس میں اتنی حیرانی والی بات بھی نہیں ہے تیمور خان جیسے آدمی کے ساتھ رہ کر اسے اسکے جیسا ہی بننا تھا ”
جلال شاہ کا انداز طنزیہ تھا
ایک پل کے لئے تبریز کا دل کیا کہ کہہ دے کہ اسکا خود کا بیٹا بھی اسی راستوں کہ مسافر ہے مگر ضبط کر گیا کیونکہ فلحال موقع نہیں تھا اس بارے میں بات کرنے کا
‘” کیا وہ جانتا ہے اس بارے میں ”
تھوڑی دیر بعد جب وہ خود کو سنبھال چکا تو خاموش بیٹھی اپنی ماں سے سوال کیا تھا
وہ جاننا چاہتا تھا جس طرح سے وہ اپنے بھائی سے انجان تھا تو کیا وہ بھی تھا
‘” وہ کچھ نہیں جانتا نہ تمہارے بارے میں اور نہ اپنے باپ کے بارے میں بلکہ وہ تو اسے ایک اچھا انسان سمجھتا ہے ”
انہوں نے اسے سب بتانا ضروری سمجھا تھا
جبکہ انکی بات پہ جلال شاہ طنزیہ ہنسے تھے
‘” آج ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے نہ امی اس میں کہیں نہ کہیں آپکی بھی غلطی ہے اگر آپ پہلے ہی سب بتا دیتی تو حالات کچھ اور ہوتے ”
وہ ایک شکوہ بھری نظر اپنی ماں پہ ڈالتا وہاں سے پلٹا مشال کو وہاں دروازے میں کھڑا دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا پھر آگے بڑھ کر اسکا بازو پکڑتا اپنے ساتھ وہاں سے لیکر وہاں سے نکل گیا
جبکہ مسز ناز نم آنکھوں سے اسکو دور جاتا دیکھتی رہی تھی
🍁🍁🍁🍁
‘” تبریز ..ہم کھانا لگا چکے ہیں آ ..”
جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو کمرے کی بری حالت دیکھ کر اسکا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا
ساری فائلز ادھر ادھر بکھری پڑی تھی بیڈشیٹ بھی پوری طرح سے خراب کی ہوئی تھی
وارڈراب کا کچھ سامان بھی باہر نکلا پڑا تھا اپنے بیڈروم کی حالت دیکھ کر وہ پریشان ہوئے بغیر نا رہ سکی تھی
کمرے کا پوری طرح سے جائزہ لینے کے بعد اسے یکدم سے تبریز کا خیال آیا تو وہ اسکو تلاش کرتی ٹیریس پہ آئی تو وہ اسکو وہیں کھڑا ہوا ملا
‘” تبریز کیا ہوا آپ یہاں ایسے کیوں کھڑے ہیں چلے اندر چلیں ”
اس وقت وہ اسکی حالت اچھے سے سمجھ سکتی تھی یہ سب سن کر وہ خود اتنا حیران ہوئی تھی
اور جب تبریز نے اسکو مسز ناز کے بارے میں سب بتایا تو اسکی حیرانی مزید بڑھی تھی ساتھ ہی مسز ناز پہ رحم بھی آیا اتنے سال تک وہ یہ سب برداشت کرتی آ رہی تھی
‘” مشال تم جاؤ اس وقت یہاں سے میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں”
وہ آسمان پہ نظریں جمائے ہوئے بولا لہجہ کسی بھی قسم کے جذبات سے خالی تھا
‘” نہیں ہم ایسے وقت میں آپکو اکیلا نہیں چھوڑیں گے جہاں آپ ہیں وہیں ہم بھی ”
اس نے تبریز کا بازو تھام کر اسکا رخ اپنی طرف کرنا چاہا تھا
‘” تمھیں ایک بار میں بات سمجھ نہیں آتی مشال جب میں کہہ رہا ہوں مجھ اکیلا چھوڑ دو تو مجھے اکیلا چھوڑ دو جاؤ یہاں سے ”
وہ بےدردی سے اسکا بازو جھٹکتا ہوا غصّے سے چلایا تھا
اسکے اتنے سخت رویہ پہ مشال کا ننھا سا دل سہم سا گیا تھا
آج کتنا بڑا سچ اسکے سامنے آیا تھا
وہ زیان کو صرف اس لئے ناپسند کرتا تھا کیونکہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرتا تھا
اور اب اسکا خود کا سگا بھائی ایسا آدمی تھا
یہ بات الگ تھی کہ تاشا کی طرح وہ ڈیوڈ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تلاش کر پایا تھا
اور نہ ہی اسکے خلاف اب تک کوئی کیس سامنے آیا تھا
اس وقت وہ اپنی سوالوں میں بہت الجھا ہوا تھا
‘” اب جاؤ یہاں سے کھڑی کیوں ہو ”
اسکو یونہی کھڑا دیکھ وہ پھر غصّے میں بولا تو مشال نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھتی ہوئی جانے کے لئے پلٹی تھی
تبریز جو اسی کو دیکھ رہا تھا مشال کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اسے فورا اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے آگے بڑھ کر اسکی کلائی تھام لی تھی
‘” مت جاؤ مشال مجھے اس وقت تمہاری بہت ضرورت ہے میں بہت اکیلا فیل کر رہا ہوں ”
وہ اسکو اپنی طرف کہینچتا ہوا اپنے سینے سے لگا چکا تھا
وہ مشال کو خود سے دور صرف اس لئے کر رہا تھا کیونکہ وہ اس وقت غصّے میں تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ وہ اپنا غصّہ مشال پہ اتارے
‘” ہم یہیں ہے تبریز آپکے پاس بہت قریب خود کو اکیلا فیل مت کریں ہم کہیں نہیں جا رہے ”
وہ اسکی خوشبو خود میں اتارتی اسکے گرد اپنے نازک ہاتھوں کا حصار باندھ چکی تھی
‘” مجھے یہ زندگی بلکل پسند نہیں ہے مشال جن لوگوں سے میرا خون کا رشتہ ہے وہ مجھ سے دور ہیں
وہ میرے خلاف ہیں اور میں انکے خلاف ہوں
اور جن لوگوں سے میرا کوئی رشتہ نہیں ہے وہ میرے قریب ہیں کتنی عجیب بات ہے نہ ”
اسکا لہجہ بھیگ ہوا سا محسوس ہوا تھا مشال کو اور ایسا پہلی بار ہوا تھا
وہ اس مضبوط شخص کو ٹوٹتا ہوا دیکھ رہی تھی
‘” اس سب کی امی ذمہ دار ہیں اگر وہ مجھے شروع سے ہی سب بتا دیتی تو شاید آج حالات کچھ اور ہوتے شاید آج سکندر ڈیوڈ نہ ہوتا ”
اپنے بھائی کا سن کر اسے خوشی ہوئی تھی مگر یہ خوشی صرف چند پل کی تھی
‘” نہیں تبریز بڑی امی کی کوئی غلطی نہیں ہے ہمیں لگتا ہے وہ بھی اپنی جگہ صحیح تھی ”
اس نے تبریز کے دل سے مسز ناز کے غصّے کو کم کرنا چاہا تھا
‘” پتہ نہیں مشال کون سہی ہے اور کون غلط اس وقت میری کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے اس لئے تم کچھ نہ بولو بس میرے پاس رہو مجھے کچھ نہیں چاہئے ”
تبریز بہت آہستہ آواز میں بولا
اس وقت وہ کچھ نہیں سوچنا چاہتا تھا اور نہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں تھا اتنا بڑا سچ سننے کے بعد اسکی شاک لگا تھا
‘” ٹھیک ہے ہم کچھ نہیں کہہ رہے ہیں آپ یہاں سے چلیں ہم اندر آرام سے بیٹھتے ہیں ”
وہ اسکے سینے سے الگ ہوتے ہوئے بولی تو تبریز ناچاہتے ہوئے بھی اسکے ساتھ بیڈروم میں آ گیا تھا
آج اسے صرف سکون چاہئے تھا تاکہ وہ آگے کے بارے میں آرام سے سوچ سکے
اسے کیا کرنا تھا کیسے سب ہینڈل کرے گا یہ ایک بہت بڑا سوال تھا جسکا جواب وہ خود بھی نہیں جانتا تھا
🍁🍁🍁🍁
وہ نیند میں تھی جب وہ یکدم گھبرا کر جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی
شاید کوئی برا خواب دیکھا تھا اس نے اس لئے چہرے پہ ڈر سا تھا
اے سی کو کولینگ میں بھی اسکا چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا
اس نے گردن گھما کر بیڈ کی دوسری سائیڈ دیکھا مگر سکندر اپنی جگہ پہ موجود نہیں تھا
مہرہ نے ایک نظر گھڑی میں دیکھا جو پانچ بجا رہی تھی
‘” یہ صبح صبح کہاں چلے گئے “
وہ پریشانی میں کہتی سائیڈ سے اپنا دوپٹہ اٹھا کر اسکو اوڑھتی ہوئی بیڈروم سے باہر نکلی
اس وقت پورا گھر سنسان ہو رہا تھا
اسکے اندر ایک بےچینی نے جگہ لی ہوئی تھی جب تک وہ سکندر کو دیکھ نہ لیتی تب تک اسکو سکون نہیں ملتا
اس لئے اسکو پورے گھر میں تلاش کرنے لگی
عمارہ بھی اٹھی ہوئی نہیں تھی ورنہ وہ ان سے پوچھ لیتی
پورا گھر تلاش کرنے کے بعد وہ لاؤنج میں آ کھڑی ہوئی وہ اسکو کہیں نہیں ملا
وہ پرشانی سے کھڑی سوچ رہی تھی کہ اب کہاں جائے جب اسکی نظر اوپر جاتی سیڑھیوں پر پڑی وہ اپنے لب چباتی اس طرف بڑھی تھی
اسکو معلوم تھا سکندر نے اسے اوپر اس روم میں جانے سے منع کیا ہوا تھا مگر وہ پھر بھی جا رہی تھی
مہرہ کو سکندر کے غصّے کا بھی اندازہ تھا مگر اپنے دل کا کیا کرتی جو اسکی ایک جھلک دیکھنے کے لئے پریشان ہو رہا تھا
وہ ڈرتی ڈرتی اس کمرے کے سامنے آ رکی کچھ دیر تو کھڑی سوچتی رہی ہمّت نہیں ہو رہی تھی اس روم میں جانے کی
کچھ سوچ کر اس نے اپنے قدم واپس سیڑھیوں کی طرف کئے تھے جب اسکے کانوں میں کسی کی دردناک چیخ سنائی دی تھی
مہرہ گھبرا کر پھر سے اس کمرے دروازے کے پاس آ کھڑی ہوئی تھی
‘” خاموش بلکل خاموش جتنا تو شور کرے گا تیری سزا بڑھتی چلی جائے گی ”
دروازے کے پار اسے سکندر کی غصّے سے بھری آواز اسکے کانوں میں پڑی تو ایک لمحے کے لئے اسکو ڈر سا محسوس ہوا تھا
مگر اندر کیا چل رہا ہے یہ دیکھنے کے لئے بہت ہی آہستگی سے تھوڑا سا دروازہ کھولا تھا
اب وہ آرام سے اندر کا منظر دیکھ سکتی تھی
‘” اب جلدی بتا کس کے کہنے پہ تونے میرے گھر میں گھسنے کی کوشش کی یہ جاننے کے باوجود بھی کہ تو اگر پکڑا گیا تو میں تیرا کیا ہال کروں گا ”
مہرہ نے دیکھا سکندر چیئر پہ بیٹھا ہوا تھا جبکہ اسکے قدموں میں ایک آدمی بیٹھا تھا جسکے بال اس نے بےدردی سے اپنی مٹھی میں جکڑے ہوئے تھے
وہ دور سے بھی اسکی آنکھوں میں وحشت دیکھ سکتی تھی ایک لمحے کو تو مہرہ کو بھی اس سے خوف سا محسوس ہوا تھا
‘” بول جواب دے ورنہ میں تیرا گلا کاٹ دوں گا ”
اس نے غصّے سے کہتے ہوئے اپنے ہاتھ میں موجود اسکی گردن پہ رکھا تو خوف سے مہرہ کی آنکھیں مزید کھلی تھی
‘” پلیز ڈیوڈ مجھے مت مارو میں سب بتاتا ہوں میں تاشا کے کہنے پر یہاں آیا تھا صرف تمہاری بیوی کو ڈرانے کے لئے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ”
وہ شخص اپنی موت کو قریب آتے دیکھ جلدی جلدی سب بولتا چلا گیا
جبکہ مہرہ تو بس اس ڈیوڈ لفظ پہ گنگ کھڑی رہ گئی تھی اس شخص نے اور کیا کہا اس نے سنا نہیں تھا
وہ بس سکندر کو دیکھ رہی تھی جو اب اپنے ہاتھ میں موجود چاکو اس شخص کے چہرے پہ پھیر رہا تھا
آنکھوں کا رنگ لال ہو چکا تھا اسکی
‘” تو نے غلطی کی ہے ڈیوڈ کی بیوی کو ڈرانے کے بارے میں سوچنے کی اب تجھے اس بات کی سزا تو ضرور ملے گی اور رہا وہ تاشا تو اسے بھی بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ ڈیوڈ کیا چیز ہے ”
وہ اپنی چیئر سے کھڑا ہوتا اپنے قدموں میں بیٹھے اس شخص کے گلے پہ چاکو سے وار کر چکا تھا
جس سے وہ ان زمین پہ پڑا تڑپ رہا تھا
یہ منظر دیکھ کر مہرہ نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کا گلا گھونٹا اور پل میں وہاں سے ہٹی تھی
اس میں اب مزید ہمّت نہیں تھی کچھ بھی دیکھنے کی
کتنا بڑا دھوکا ہوا تھا اسکے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا تھا وہ ڈیوڈ جس سے وہ ڈرتی تھی جو ایک گینگسٹر تھا
وہ ڈیوڈ کوئی اور نہیں اسکا شوہر سکندر تھا
مطلب وہ شروع سے اب تک اسکو دھوکا دیتا آ رہا تھا
آنکھوں میں پانی آنے کی وجہ سے اسکو اب سامنے کا منظر صاف نظر نہیں آ رہا تھا
وہ اپنی منہ پر ہاتھ رکھتی اپنی چیخوں کو دباتی ہوئی تیزی سے سیڑهیاں اتری تھی
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )