No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
‘” تم … تم یہاں کیا کر رہے ہو ”
وہ اپنی بات کہتی ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھی تھی سکندر کو اپنے سامنے دیکھ کر نیند جیسے یکدم غائب ہو گئی تھی اسکی
‘” زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے ڈارلنگ میں شروع سے ہی تمہاری یہاں موجودگی کے بارے میں جانتا تھا ”
وہ اسکے ارد گرد ہاتھ رکھتا اسکے اوپر جھکا تھا نظریں ہنوز مہرہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھی
جبکہ اسکے خود پہ جھکنے پہ مہرہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا چکی تھی
‘” جب شروع سے جانتے تھے تو آج کیوں آئے ہو میرے پاس”
ناچاہتے ہوئے بھی مہرہ کے منہ سے شکوہ پھسلا تھا
آج شام ہی تو اسے مسز ناز سے اسکے آنے کی خبر ملی تھی مطلب سب جاننے کے باوجود بھی وہ اس سے ملنے نہیں آیا تھا
جو مہرہ کی ناراضگی میں مزید اضافہ کر گیا تھا
‘” کیا کروں ڈارلنگ خود پہ کنٹرول نہیں کر پایا تم نے خبر ہی ایسی دی ہے ”
وہ اسکے پیٹ پہ ہاتھ رکھتا ہوا بولا اور مہرہ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ مسز ناز اسکو باپ بننے کی خبر دے چکی ہیں
‘” ویسے اس نے تمھیں میری سزا سے بچا لیا ہے ورنہ گھر چھوڑ کر آنے کی سزا سے تم اب تک بچی ہوئی تھی ”
اسکے لہجے میں کہیں سے بھی یہ نہیں لگ رہا تھا کہ وہ مذاق کر رہا ہے مطلب وہ اسکی سزا کے بارے میں سوچ چکا تھا
‘” مطلب تم صرف اس وجہ سے یہاں موجود ہو ورنہ تم ابھی بھی مجھے تکلیف دینے کے بارے میں سوچ رہے تھے ”
سکندر کی باتوں کہ مطلب سمجھ کر مہرہ اسکو دھکا دیتی بیڈ سی اٹھنے لگی مگر سکندر اسکو بازو سے پکڑ کر پھر سے بیڈ پر لٹا چکا تھا
‘” تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تمھیں تکلیف دینے کے بارے میں سوچتا ہوں …جبکہ یہ میری محبت ہے ”
وہ باری باری اسکی آنکھوں سکو چومتا ہوا بولا
اسکے لہجے کی تپیش اور نرم گرم لمس سے مہرہ کی آنکھیں نم ہوئی تھی
اس ظالم سے دور رہنا بھی مشکل تھا اور ناراض ہونا بھی وہ خود کو کمزور محسوس کرنے لگتی تھی اسکی قربت میں
‘” اس محبت میں تم مجھے دھوکا دے چکے ہو ..جسکی تکلیف میں اب تک نہیں بھولی ”
اس نے سکندر کے کندھے پہ اپنے ہاتھ رکھ کر اسکے اور اپنے درمیان فاصلہ کرنا چاہ مگر وہ ایک انچ بھی نا ہلا تھا
‘” میں ساری تکلیف ختم کر دوں گا …ایک موقع تو دو ”
وہ اسکا رخسار سہلاتا ہوا بولا
اس وقت دونوں ایک دوسرے کے بےحد قریب تھے اتنے قریب کہ اسکے جسم سے آتی پرفیوم کی خوشبو مہرہ کو اپنے حصار میں لینے لگی تھی
وہ خوشبو جس سے اسکو محبت ہو گئی تھی جسکو اپنے قریب محسوس کرکے مہرہ کو سکون ملتا تھا
‘” میں نے تمھیں ایک موقع دیا تھا سب کچھ بھول کر تم سے محبت کی …پر تم نے ”
وہ بچ میں رکی تھی اسکے کپکپاتے لب اسکے رونے کا پتہ دے رہے تھے
سکندر جو غور سے اسکو سن رہا تھا مہرہ کے رکنے پہ اسکی نظر مہرہ کے کپکپاتے لبوں پہ پڑی تو وہ بےخودی میں اسکے لبوں پہ جھک گیا
ایک نشہ سا تھا مہرہ میں جو ہمیشہ ہی اسکو مدہوش کر دیتا تھا
وہ اس پہ جھکا اپنے تڑپ اپنی بےچینی ختم کر رہا تھا جو وہ اسکے دور ہونے پہ محسوس کر رہا تھا
کچھ لمحوں بعد اسے جب اپنے چہرے پہ نمی محسوس ہوئی تو وہ پل میں اس سے جدا ہوا اور مہرہ کے چہرے کو دیکھنے لگا جو بند آنکھوں سے آنسو بہا رہی تھی
‘” کیا ہوا ڈارلنگ رو کیوں رہی ہو ”
اسے پکڑ ہوئی تھی اسکے آنسو دیکھ کر
وہ فکرمندی سے اسکے آنسو صاف کرتا ہوا بولا
‘” تم بہت برے ہو ہمیشہ وہی کرتے ہو جو تمہارا دل کرتا ہے..اتنا کچھ چھپا کر رکھا اپنے بارے میں ..کیا ایک بار بھی احساس نہیں ہوا مجھ پہ کیا گزرے گی سچ جان کر ”
ڈیوڈ والی سچائی سے وہ اب تک ناراض تھی اس سے اس نے اب تک ایک بار بھی اس بات کی معافی بھی نہیں مانگی تھی
‘” میں کبھی نہیں چاہتا تھا تمھیں کچھ بھی معلوم ہو اس لئے کبھی سوچا نہیں اس بارے میں کیونکہ میرا اصل روپ وہی ہے جو کبھی بدل نہیں سکتا ”
وہ ابھی بھی بڑے اطمینان سے بولا
جبکہ اسکا اطمینان مہرہ کو تپا گیا تھا اس بار اس وہ پوری قوت لگا کر اسے دور دھکا دیتی بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
‘” پہلے مجھے لگا تھا کہ شاید یہ سن کر کے
‘” مجھے لگا تھا یہ جان کر کہ تم باپ بننے والے ہو شاید بدلنے کی کوشش کرو ..مجھ سے معافی مانگو ..لیکن نہیں میں ہی غلط تھی ”
وہ ناراضگی سے اسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی
‘” یہ تمہاری غلطی ہے جو تم نے ایسا سوچا ..میں خوش ہوں بہت خوش اس نیوز سے مگر اسکے لئے میں یہ سب نہیں چھوڑ سکتا ”
وہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے قریب آ کھڑا ہوا
‘” تم جاؤ سکندر یہاں سے ..مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ہے ”
وہ رخ موڑتی ہوئی بولی آنسو پھر سے گرنے کو بےتاب تھے
‘” تم اچھے سے جانتی ہو مہرہ مجھے نخرے بلکل بھی نہیں پسند ..میں تم سے بات کر رہا ہوں تو تمھیں مجھ سے بات کرنی ہوگی ”
وہ تھوڑا سخت لہجے میں کہتا اسکو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا ھوا بولا
‘” اور رہی بات یہاں سے جانے کی تو میں چلا جاؤں گا ..لیکن تمھیں واپس وہیں آنا ہوگا کیونکہ تمہارا گھر وہ ہے ویسے بھی اب میں ایک لمحے کے لئے بھی تمھیں خود سے دور نہیں رکھ سکتا ”
اسکے لہجے کے تھوڑی دیر پہلے والی سختی یکدم سے غائب ہوئی تھی
‘” میں وہاں واپس نہیں آؤ گی ..جب تک تم سب چھوڑ نہیں دیتے”’
وہ ضدی انداز میں بولی
‘” کل صبح تیار رہنا کریم تمھیں لینے آئے گا “”
وہ اسکی بات کو مکمل نظرانداز کرتا دروازے کی طرف بڑھا
‘” میں نہیں آؤ گی .”
وہ اسکی پشت کو دیکھتی ہوئی بولی
‘” کل صبح ٹھیک دس بجے ”
اس بار وہ وقت بتاتا روم سے باہر نکل گیا جبکہ مہرہ بس بند دروازے کو کھڑی دیکھتی رہی
🍁🍁🍁🍁
‘” زیان ایک منٹ رکو مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ”
وہ ڈیوٹی پہ جا رہا تھا جب اسکی نظر زیان پہ پڑی جو خود بھی اپنی کار کی طرف بڑھ رہا تھا
‘” پر میرے پاس فلحال تمہارے لئے ایک منٹ بھی نہیں اس لئے ..اللہ حافظ ”
وہ تلخی سے اپنی بات کہتا آگے بڑھا ہی تھا جب تبریز پل میں اسکے راستے میں آ کھڑا ہوا
‘” یہ کیا حرکت ہے ہٹو میرے راستے سے ”
وہ تھوڑا ناگواری سے بولا
جب سے اسے تبریز کے ایک اور بھائی اور باپ ملنے کی خبر ملی تھی تب سے زیان کی ناپسندیگی مزید بڑھ گئی تھی
وجہ اسکی ماں کے ساتھ ہوئے ظلم سے جو ان دونوں بھائیوں کا باپ کر چکا تھا
جبکہ وہ ابھی تک یہ سچ نہیں جان پایا تھا کہ جس تاشا کے لئے وہ کام کرتا ہے اصل میں وہی تیمور خان تھا
اور تبریز اچھی طرح جانتا تھا کہ زیان ابھی تک اس بات سے ناواقف ہے
‘” میں تمہارا زیادہ وقت نہیں لوں گا ..بس اتنا کہنا چاہتا ہوں آج کل تم جن لوگوں کے لئے کام کر رہے ہو نہ میری ہر پل ان پہ نظر ہے ..اس لئے تمہارے لئے بہتر ہوگا تم ان سب سے دور رہو ”
وہ بس اسکو وارن کرنا چاہتا تھا
کیونکہ تبریز معلوم ہوا تھا کہ وہ ابھی زیادہ وقت سے ان کاموں میں نہیں لگا ہے اس لئے اسکی واپسی مشکل نہیں تھی
تبریز کو لگ رہا تھا شاید پولیس کے ڈر سے وہ یہ کام چھوڑ دے
‘” تم ہوتے کون ہو مجھے میرے بہتر کے بارے میں بتانے والے..اور تمہارا کہنا کا کیا مطلب ہے کن لوگوں کے لئے کام کر رہا ہوں میں ”
زیان الٹا اسی پہ بھڑک اٹھا تھا
جبکہ اسکی بات سن کر تبریز سمجھ گیا تھا کہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو آسانی سے بات سمجھ جائے
‘” تم اچھے سے جانتے ہو میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں انجان بننے کی کوشش مت کرو ”
اس بار تبریز کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے
‘” اور تم یہ بھی اچھے سے جانتے ہونگے کہ مجھے بلکل نہیں پسند کے تم میرے معملے میں بولو اس لئے بہتر ہے تم اپنی ڈیوٹی پہ دھیان دو ”
وہ سرد لہجے میں بولا
تبریز غصّے میں اپنی مٹھی بہینچ کر رہ گیا تھا
‘” زیان بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے دوسرو پہ نظر رکھنے سے بہتر ہے تم اپنی ڈیوٹی پہ زیادہ دھیان دو تو تمہارے لئے اچھا ہوگا”
تبریز اسکو کوئی سخت بات کہنے ہی والا تھا کہ جب اپنے پیچھے سے جلال شاہ کی آواز سن کر وہ پلٹا تھا
یقیناً وہ ان دونوں کی باتیں سن چکے تھے
‘” آپکی معلومات کے لئے بتا ہوں مسٹر جلال شاہ کے میں اس وقت بھی اپنی ڈیوٹی کے متعلق بات کر رہا ہوں ”’
ان ایک سرد نظر ان دونوں باپ بیٹے پہ ڈالتا ہوا بولا
اگر وہ اس وقت جلال شاہ کو زیان کے کام کے بارے میں بتا بھی دیتا وہ یقیناً اسکی بات کا یقین نہ کرتے الٹا وہ اسی کو الزام دیتے کہ وہ انکے بیٹے کو بھی پھسانے کی کوشش کر رہا ہے
‘” تو میں بھی تمھیں یاد دلا دوں کہ یہاں کوئی مجرم نہیں رہتا جس گھر میں مجرم ہیں وہاں جاکر اپنی ڈیوٹی کرو ..اور میری نظر میں مجرم تو وہ تمہارا باپ تیمور خان ہے ”
جلال شاہ طنزیہ ہنستا ہوا بولا
جبکہ غصّہ ضبط کرنے کی وجہ سے تبریز کی آنکھیں حد سے زیادہ سرخ ھو چکی تھی
‘” آپ فکر نہ کریں جلال شاہ ہر مجرم کو سزا ملے گی پھر چاہے وہ کسی بھی گھر میں موجود ہو ”
اسکا انداز اور لہجہ ایسا تھا کہ جلال شاہ خاموشی سے اسکی طرف دیکھتے ره گئے تھے
جبکہ زیان وہاں کھڑا بےزاری سے ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا
‘” مجھے لگتا ہے تم دونوں کی باتیں رات تک چلیں گی مگر میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے جو میں یہاں کھڑا رہوں ..مجھے ضروری کام ہے ”
زیان ایک نظر دونوں کی طرف دیکھتا پھر سے اپنی کار کی طرف بڑھ گیا
اسکے جانے کے بعد تبریز بھی وہاں نہیں رکا اسے بس جلد ہی اس لمحے کا انتظار تھا جب وہ زیان کی سچائی اسکے باپ کے سامنے لاتا اور اب اسکے انتظار ختم ہونے والا تھا
🍁🍁🍁🍁
وہ کتنی ہی دیر سکون سے آنکھیں بند کئے انکے سینے سے لگی کھڑی تھی
ضبط کے باوجود اسکی ہچکیاں بندہ چکی تھی
وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر خود پہ ضبط نہیں کر پر رہی تھی ‘” بس میرا بیٹا آج ہی سارے آنسو ختم کرنے کہ ارادہ ہے تمہارا ”
توفیق صاحب سے جب اسکے آنسو برداشت نہیں ہوئے تو وہ اسکو خود سے الگ کرتے ہوئے بولے
انکی خود کی آنکھیں بھی نم ھو گئی تھی
‘” بابا آپ نہیں جانتے آپکو سہی سلامت دیکھ کر مجھے کتنی خوشی ھو رہی ہے ورنہ مجھے لگا تھا کہ میں پھر کبھی آپکو ..”
رونے کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا
آج صبح وہ واپس تو نہیں آنا چاہتی تھی مگر مسز ناز کے سمجھانے پہ اسکو واپس آنا پڑے
کیونکہ مسز ناز کا کہنا تھا کہ وہ قریب رہ کر ہی اسے غلط راستوں سے ہٹا سکتی ہے اسے سمجھا سکتی تھی اس لئے انکی بات مان کر وہ کریم کے ساتھ واپس آ گئی
مگر یہاں اپنے بابا کو ٹھیک دیکھ کر اسکی خوشی کی کوئی انتہا ہی نہیں رہی تھی اگر اسے معلوم ہوتا تو وہ کب کا آ چکی ہوتی
‘” اور میرا بھی ہال تم سے کم نہیں ہے میری جان ..تم میری نظروں کے سامنے اور بلکل محفوظ ہو اس بات سے تم میری خوشی کہ اندازہ نہیں لگا سکتی ”
توفیق صاحب محبت سے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولے
‘” آپکو کب سے ہوش آ چکا تھا اور کسی نے بھی مجھے اس بارے میں بتانا ضروری نہیں سمجھا …نہ عمارہ آپ نہ اور نہ اس سکندر نے ”
یکدم سے ہی اسے خیال آیا تو وہ پاس کھڑی عمارہ کی طرف دیکھ کر ناراضگی سے بولی
جبکہ سکندر پہ تو اسے غصّہ آیا تھا وہ کل اسکے پاس آیا تھا اور اس نے اسکے بابا کے بارے میں بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا
‘” میرا بیٹا ناراض نہیں ہوتے تم خود ہی سوچو عمارہ تمھیں کیسے بتاتی سکندر نے باہر نکلنے سے بھی منع کیا ہو ہے ہم لوگوں کو ”
توفیق صاحب نے جلد ہی اسکی ناراضگی ختم کرنی چاہی تھی اور ساتھ ہی عمارہ کی طرف دیکھا جو ان دونوں باپ بیٹی کو دیکھ رہی تھی
‘” چلیں عمارہ نہیں بتا سکتی تھی مگر سکندر …وہ تو مجھے بتا سکتا تھا نہ میں اس بات کے لئے اس سے ناراض ہوں اب سے ”
وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح ان سے شکایاتی انداز میں بولی
جبکہ اسکے اس انداز پہ عمارہ اور توفیق صاحب مسکرا دئے تھے
‘” نہیں میرا بیٹا ایسے نہیں بولتے کسی وجہ سے نہیں بتایا ہوگا اس نے تمھیں ..ورنہ وہ تم سے اتنی محبت کرتا ہے”
جس طرح سکندر مہرہ کے لئے پریشان رہتا ہے اسکی فکر کرتا ہے یہ سب دیکھ کر توفیق صاحب کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ وہ انکی بیٹی سے کتنی شدید محبت کرتا ہے بلکہ یہ اسکی آنکھوں میں بھی نظر آتی تھی
‘” سب کچھ جاننے کے بعد بھی آپ کہہ رہے ہیں …آپکو معلوم ہے نہ وہ اصل میں کیا ہے ”
مہرہ کو شاید لگ رہا تھا کہ اسکا باپ سکندر کی ڈیوڈ والی سچائی سے ناواقف ہے
‘” میں شروع سے جانتا ہوں کہ اسکے لئے لوگوں کی جان لینا معمولی بات ہے ..وہ اپنے باپ کی طرح غلط راستوں پر ہے مگر اسکے سینے میں دل ہے جو اسے اپنے باپ سے بلکل الگ بناتا ہے “”
توفیق صاحب اسے اپنی باتوں سے حیران کر رہے تھے
مطلب اسکا باپ شروع سے سکندر کے سچ کے بارے میں جانتا تھا
‘” تمھیں اپنی محبت سے اسے ان راستوں سے ہٹانا ہوگا مجبور کرنا ہوگا کہ وہ اس اندھیری دنیا کو چھوڑ دے ”
وہ اسے بہت محبت سے سمجھا رہے تھے اور ایسی ہی کچھ باتیں اسکو مسز ناز نے بھی بولی تھی
‘” پر بابا مجھے نہیں لگتا مجھ سے یہ سب ہوگا ..یہ اتنا آسان نہیں ہے ”
وہ پریشانی سے بولی
اس وقت اسکو سب سے مشکل کام یہی لگ رہا تھا
‘” میں جانتا ہوں یہ کام تھوڑا مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں اور میں مجھے لگتا ہے تم یہ کر لوگی کیونکہ سکندر تم سے بہت محبت کرتا ہے ..کیونکہ محبت چیز ہی ایسی ہے انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہے مجھے پورا یقین ہے تم سکندر کو بدل دوگی ”
اس بار وہ پورے یقین سے بولے تو مہرہ بس خاموشی سے انکو دیکھتی رہ گئی
اسکو کوشش کرنی تھی اور وہ ضرور کرے گی
🍁🍁🍁🍁
‘” مشال …مشال کہاں ہو یار ”
وہ اسکو پکارتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا
اسکے انداز میں ایک خوشی سی تھی وہ جلد سے جلد یہ خبر اسے سنانا چاہتا تھا
‘” مشال ”
بیڈروم مین داخل ہوتے ہی وہ پھر سے اسکو پکارنے لگا
‘” کیا ہوا میں یہیں تو ہوں کیوں اتنا شور مچایا ہوا ہے ”
مشال تولیے سے بال خشک کرتی واشروم سے باہر نکلتی ہوئی اس سے مخاطب ہوئی
تبریز جو اسکو روم میں نہ سوچ کر باہر جا رہا تھا مشال کی آواز پہ تیزی سے اسکی طرف پلٹا اور مشال کو بغیر کوئی موقع دئے اسکو اپنی باہوں میں اٹھاتا زور سے گھمانے لگا
اسکے اس طرح سے کرنے پہ مشال کی چیخ پورے کمرے میں گونج اٹھی تھی
اسکے ہاتھ سے تولیہ چھوٹ کر زمین پہ گر چکا تھا
‘” یہ کیا کر رہے ہیں تبریز ہمیں نیچے اتاریں ہمیں ڈر لگ رہا ہے ”
تبریز اسکی چیخوں کی پرواہ کئے بغیر اسکو گھماتا اپنی خوشی ظاہر کر رہا تھا
‘” افففف ….اللہ ہمیں چکر آنے لگے ہیں اب تو چھوڑ دیں ”
وہ اسکی گود میں اپنا گھومتا ہوا سر تھامتی ہوئی بولی تو تبریز اسکی بات سن کر اس بار رک چکا تھا
‘” آج میں بہت خوش ہوں مشال اتنا خوش کہ میں اپنی خوشی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا ”
وہ مشال کو اپنے مقابل کھڑا کرتا ہوا پرجوش انداز میں بولا چہرہ خوشی سے کھل رہا تھا
اور شاید مشال نے زندگی میں پہلی بار اسے اتنا خوش دیکھا تھا
‘” کیا ہم جان سکتے ہیں آپکی خوشی کی وجہ کیا ہے ”
وہ مسکرائی تھی
” ‘ بس سمجھ لو میں آج کل جس مقصد میں لگا ہوا تھا وہ مقصد پورا ہونے والا ہے ”
وہ مشال کے گیلے بالوں کو اسکے چہرے سے ہٹاتا ہوا بولا
وہ اپنی یہ خوشی سب سے پہلے مشال کو بتانا چاہتا تھا اور مشال بغیر اسکے کہے سمجھ گئی تھی کہ وہ کس بارے میں بات کر رہا ہے
‘” یہ تو بہت اچھی بات ہے تبریز ہم بہت خوش ہے آپکی کامیابی میں ”
وہ تبریز کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی بولی جو اس وقت اسکے رخسار پہ رکھا ہوا تھا
جبکہ اسکی بات سن کر تبریز کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
‘” تمھیں میری کامیابی پہ خوشی ہو رہی ہے یا اس بات سے کہ میں اب پہلے کی طرح مصروف نہیں رہوں گا ”
وہ مسکراہٹ ہونٹوں میں دباتا اسکے کمر کے گرد بازو حائل کرکے اسے خود سے قریب کر چکا تھا
جبکہ اسکی بات کا مطلب سمجھ کر مشال نے خفگی سے اسکی طرف دیکھا تھا
‘” ہم آپکی کامیابی پہ خوش ہو رہے ہیں نہ کہ اس بات سے کی…بلکہ آپکا مصروف رہنا ہمارے لئے ہی اچھا تھا ”
وہ خفا خفا سی تبریز کو اپنے دل کے بہت قریب محسوس ہو رہی تھی
اسکے نکھارا نکھرا میک اپ سے پاک چہرہ کوئی ننھی سی گستاخی کرنے پہ اکسا رہا تھا
‘” تو اب تیار رہو بیگم کیونکہ ایس پی تبریز کی ٹیبل پہ مشال تبریز کی فائل آ چکی ہے …اسے بہت شکایات رہتی ہے نہ اپنے شوہر سے کہ وہ اسکو اپنے کیس کی وجہ سے نظرانداز کر دیتے ہیں …تو اب میں اپنی بیوی کی ساری شکایاتیں دور کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ”
وہ معنی خیزی سے بولتا اسکی سراحی دار گردن پہ اپنے لب رکھ چکا تھا جو بہت دیر سے اسکی نظروں کے حصار میں تھی
اسکی اس اچانک گستاخی پہ مشال یکدم سے گھبرائی تھی
‘” نہیں آپکو غلطفہمی ہوئی ہے ہمیں آپ سے کوئی شکایات نہیں تھی اور نہ ہے …اس لئے آپ اس فائل کو بند ہی کر دیں”
وہ مچلی تھی اسکی ہر پل ہوتی سخت گرفت میں
جبکہ سکندر تو اسکی سن ہی نہیں رہا تھا وہ بےخود سے یوں ہی اس پہ جھکا گردن سے کندھے تک کا سفر طے کر چکا تھا
‘” پر بیوی یہ فائل تو اب کھل چکی ہے اس لئے تمہارے انکار سے کچھ نہیں ہوگا ”
وہ خمار آلودہ لہجے میں کہتا اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام چکا تھا
‘” اچھا یہ بتاؤ ابھی تھوڑی دیر پہلے تمھیں چکر کیوں آ رہے تھے کہیں ..”
وہ اسکے چہرے پہ جھکنے لگا تھا جب یکدم سے کچھ یاد آنے پہ وہ اسکی بند آنکھوں کو دیکھتا ہوا بولا
لہجے شرارتی تھا
مشال جو آنکھیں بند کئے اسکے اگلے عمل کے انتظار میں تھی تبریز کی ادھوری بات کو سمجھ کر یکدم سے آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا
جو ہونٹوں پہ مسکراہٹ لئے اسی کو تک رہا تھا
‘” نہیں …ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں …وہ آپ نے ہمیں گھمایا تھا نا تو بس اس وجہ سے ہمیں چکر آ گئے تھے ”
وہ سرخ چہرہ لئے نظریں جھکائے اسکی غلطفہمی دور کر رہی تھی
‘” اوہ …شٹ یار مجھے لگا آج شاید کیس پورا ہونے کی خوشی کے ساتھ ساتھ تم مجھے بابا بننے کی گڈ نیوز بھی دے دوگی ”
وہ سنجیدگی سے بولتا اپنی پیشانی اسکی پیشانی سے ٹکا چکا تھا
‘” مجھے ایسا لگتا ہے کہ گڈ نیوز کے لئے مجھے تمہاری باقی کی شکایتیں بھی دور کرنی ہوگی تبھی کچھ بات بنے گی ”
اسکی مسکراتی آواز پہ مشال ایک جھٹکے میں اس سے دور ہوئی تھی
‘” نہیں …فلحال ہمیں آپ سے کوئی شکایات نہیں ہے آپ بس ہماری جان بخش دیں ”
وہ اپنی بات کہتی ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی تھی
‘” پر اب میں تمہاری جان بلکل نہیں بخشنے والا …”
وہ بھی اسکے پیچھے لپکا تو مشال اسکے ارادے بھانپ کر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی تھی
وہ جانتی تھی تبریز جو کہتا ہے اسکو پورا کرتا تھا
اس نے ابھی دروازے کے ہینڈل پہ ہاتھ ہی رکھا تھا جب وہ پیچھے سے اسکی کمر کے گرد بازو حائل کر چکا تھا
‘” کوشش کیوں کرتی ہو بیوی جب معلوم ہے کہ میرے سامنے تمہاری ہر کوشش بیکر ہی جاتی ہے ”
وہ اسکے کان مین سرگوشی کے انداز میں کہتا اسے پھر سے اپنی باہوں میں اٹھا چکا تھا
اور مشال جانتی تھی ہر بار کی طرح اس بار اسکی فرار کی راہ بند ہی تھی
🍁🍁🍁🍁
‘” نہیں شوکت ایسا نہیں ہو سکتا مجھے وہ فائل کسی بھی ہال میں چاہئے ورنہ میں اس تبریز کو نہیں روک پاؤ گا ”
تیمور خان غصّے میں ادھر سے ادھر چکر کاٹتا ہوا بولا
جبکہ شوکت خود پریشان سا کھڑا اسکو دیکھ رہا تھا
‘” پر وہ فائل لانا میرے لئے ناممکن ہے …ویسے بھی وہ بہت دنوں سے ہمارے خلاف ثبوت جما کر رہا تھا ..ہم آسانی سے اس فائل تک نہیں پہنچ سکتے ”
شوکت اپنے پیشانی مسلتا ہوا بولا
وہ لوگ شروع سے جانتے تھے تبریز تاشا کا کیس سنبھال رہا ہے لیکن انہیں لگتا تھا کہ وہ تاشا کے خلاف کوئی بھی ثبوت حاصل نہیں کر پاۓ گا
مگر وہ لوگ غلط تھے
تبریز انکے خلاف بہت کچھ ثبوت حاصل کر چکا تھا جس سے انہیں جیل جانے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا اور نا سزا ہونے سے
جب سے تاشا کو یہ بات معلوم ہوئی تھی اسکا سوچ سوچ کر برا ہال ہو رہا تھا
نہ وہ یہ جانتے تھے کہ وہ فائل کہاں ہے اور نہ ہی یہ کہ اسکو کیسے لیکر آئے
‘” تم کچھ بھی کرو شوکت لیکن مجھے وہ فائل لاکر دو ایسا نا ہو کہ اگلے کچھ دن بعد ہم لوگ جیل میں پہنچ جائے ”
تیمور خان غصّے سے چیخا تھا
اس نے تبریز کو بہت ہلکے میں لینے کی غلطی کی تھی
‘” صاحب زین آیا ہے کیا اسکو بھیج دوں ”
اس سے پہلے کہ شوکت کچھ کہتا ملازمہ کی بات پہ رک کر اسے زین کو اندر بھیجنے کی اجازت دی تھی
کچھ ہی دیر بعد زین اس روم میں داخل ہوا
“‘آؤ زین تمہارا ہی انتظار ہو رہا تھا ”
اسکے داخل ہوتے ہی تاشا اس سے مخاطب ہوا
یہ دوسری بار وہ تاشا سے ملنے آیا تھا ایک بار جب اسے اس بات کا یقین دلانے کہ وہ اپنے پولیس والے بھائی کے ساتھ نہیں ملا ہوا ہے اسی دن اس نے تاشا کو پہلی بار دیکھا تھا
اور تاشا کو بھی اس پہ یقین آ گیا تھا کیونکہ اگر وہ اپنے بھائی سے ملا ہوتا تو اب تک کوئی ایسی حرکت کر چکا ہوتا جس سے انہیں اس پہ شق ہو جاتا
‘” کیا ہوا آپ لوگوں اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہیں ..بات کیا ہے ?”
وہ ان دونوں کے چہرے دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ پریشانی والیکوئی بات ضرور ہے
‘” تمہارے بھائی کے پاس ہمارے خلاف ثبوت ہیں ..اور تم جانتے ہو نہ اگر ہم حراست میں گئے تو تم بھی نہیں بچ پاؤ گے ”
تاشا اسکو ڈرا رہا تھا تاکہ وہ اس معملے میں انکی مدد ضرور کرے
اور ایسا ہوا بھی تھا زیں سکو پکڑ ہوئی تھی اپنے پکڑے جانے کی
‘” تو پھر اب کیا کریں گے ہم ”
وہ اب خود بھی پریشان ہوا تھا
‘” کچھ نہیں بس وہی کرنا جو میں بولو گا …پھر تم بھی سیف اور ھم بھی ”
تیمور خان کے شاطر دماغ میں ایک آئیڈیا آیا تھا
‘” کیا کرنے والے ہو تم ”
شوکت نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا
اسکی بات سن کر تیمور خان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )
