No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
🍁🍁🍁🍁
‘” کہو کیسا لگ رہا ہے میری قید میں آکر ..بہت پریشان ہو گیا تمہاری وجہ سے لیکن اب اور نہیں ..بہت جلد میں اپنا مقصد پورا کرونگا ”
وہ اپنا سر گھٹنوں میں دئے بیٹھی تھی ڈر کی وجہ سے اسکا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا جب اپنے قریب سے آتی آواز پہ اس نے جھٹکے میں سر اوپر اٹھا کر دیکھا تیمور خان تمسخرانہ اڑاتی نظروں سے اسکو دیکھ رہا تھا
‘” تمھیں شرم نہیں آتی اپنے بیٹے کی بیوی کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے …بیٹی کی طرح ہوں میں تمہاری ”
وہ اپنے ڈر پہ بمشکل قابو کرتی بولی
کیسا انسان تھا یہ جسے رشتوں کی قدر ہی نہیں تھی
‘” میں نے تو اپنے سگے بیٹے کو ہی نہیں بخشہ پھر تم تو کسی اور کا خون ہو تمھیں کیسے چھوڑ دیتا ویسے بھی بہت بڑی قیمت جو ملنے والی ہے مجھے تمہاری ڈیل کرکے ”
چہرے پہ وہی شیطانی مسکراہٹ لئے وہ اسکے ڈر سے سفید پڑتے چہرے کو دیکھ رہا تھا
‘” اگر سکندر یہاں آ گیا نہ تو وہ تمھیں بھی نہیں چھوڑے گا اتنا ضرور یاد رکھنا تم .. پھر وہ بھی بھول جائے گا کہ تم اسکے باپ ہو ”
مہرہ مضبوط لہجے میں بولی کیونکہ اسکو پورا یقین تھا کہ اسکا سکندر اس تک ضرور پہنچ جائے گا
جبکہ اسکی بات سن کر تیمور خان کی شیطانی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا اور اسکی طرف تھوڑا سا جھکا تھا اسکے خود کے قریب آنے اور پھر جھکنے پہ مہرہ بلکل دیوار سے لگ کر بیٹھ گئی
‘” جب تک تیمور خان نہیں چاہے گا تب تک کوئی یہاں قدم بھی نہیں رکھ سکتا …اور تمہارے سکندر کو جب تک تمہاری یہاں موجودگی کا علم ہوگا تب تک میں اپنا کام کر چکا ہونگا ”
وہ تمسخرانہ اڑاتی نظروں سے اسکو دیکھنے لگا اسکے اس طرح سے دیکھنے پہ مہرہ نے نفرت سے اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا تھا
اسکے اس طرح سے منہ موڑنے پہ تیمور خان مسکراتا ہوا سیدھا کھڑا ہوا اور اپنے کوٹ کی پاکٹ سے اپنا بجتا ہوا موبائل نکالا تھا
‘” تمہارا تو میں انتظام کر ہی دونگا پہلے اپنے بچنے کا بھی انتظام کر لوں جسکے لئے یہ سب کیا ہے میں نے ”
سکرین پہ تبریز کا نام دیکھ کر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی وہ ایک نظر مہرہ کی طرف دکھتا کال پک کرکے تیزی سے روم سے باہر نکلا تھا
‘” کیا بات ہے ایس پی میں تمھیں ہی کال کرنے والا تھا اور دیکھو تمہاری ہی کال آ گئی …ماننا پڑے گا محبت ہے تمہارے ہر میرے درمیان ”
وہ اپنی بات کہتا مسکرایا جبکہ اسکی بات تبریز کا خون جلا گئی تھی
‘” میری امی اور مہرہ کو چھوڑ دو تیمور خان یہ لڑائی میری اور تمہاری ہے ”
تبریز اس وقت ضبط کی انتہا پہ تھا ورنہ اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اسکے سامنے ہوتا تو اسکا قتل ہی کر دیتا
‘” اپنے بھائی زیان کو بھول گئے تم ..مہرہ اور اریشہ کے ساتھ اس وقت وہ بھی میری ہی قید میں ہے ”
تیمور خان اپنی بات کہتا زور سے ہنسا
تبریز نے سختی سے اپنی مٹھی بہینچ لی تھیبج جس بات کا اسکو ڈر تھا وہی ہوا مطلب زیان بھی اسکے جال میں پھنس چکا تھا
‘” انہیں چھوڑ دو تیمور خان ورنہ تمہارے لئے اچھا نہیں ہوگا..اگر چاہتے ہو کہ تمہارا انجام برا نہ ہو ”
وہ وارن کرنے والے انداز میں بولا
‘” ٹھیک ہے چھوڑ دونگا لیکن…پہلے تم مجھے وہ فائل دو میں وعدہ کرتا ہوں تمہاری ماں اور بھائی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤگا ”
تیمور خان سیدھا اپنی مطلب کی بات پہ آیا تھا
پہلے وہ فائل حاصل کرتا اسکے بعد مہرہ کی ڈیل کرکے ہمیشہ کے لئے ملک چھوڑ کر جانے کا ارادہ رکھتا تھا پھر چاہے وہ دونوں بھائی کچھ بھی کرتے رہتے
‘” تیمور خان جو تم سوچ رہے ہو ایسا بلکل نہیں ہوگا …میں وہ فائل تمھیں کسی بھی قیمت پہ نہیں دے سکتا اور نہ دونگا تم یہ خیال اپنے دماغ سے نکال لو ”
تیمور خان کی بات سن کر تبریز جیسے چیخ اٹھا تھا اتنے سال کی محنت کو کیسے اسکے ہاتھ میں دے دیتا
‘” ٹھیک ہے پھر جیسی تمہاری مرضی تمہارے لئے وہ فائل اپنی ماں سے زیادہ عزیز ہے تو اس میں تمہارا ہی نقصان ہے میرا نہیں ”
اسکی بات پہ تیمور خان پہ جیسے کوئی اثر ہی نہیں پڑا تھا
‘” خبردار اگر جو تم نے میری ماں کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچا بھی .. اسکے ایک ایک زخم کا حساب لونگا میں تم سے ”
وہ غرایا تھا
‘” اگر اپنی ماں کی اتنی ہی فکر ہے تو میں تمھیں ایک ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں ..وہ فائل لیکر یہاں پہنچ جانا ..اور ہاں بلکل اکیلے اگر کوئی بھی ہوشیاری کی تو انجام کے ذمہ دار تم خود ہونگے ”
تیمور خان اپنی بات کہہ کر فون کٹ کر چکا تھا
وہ جانتا تھا تبریز کو اپنی ماں سے جتنی محبت ہے وہ ضرور فائل لیکر یہاں آئے گا پھر آگے کیا کرنا تھا اس نے سوچ رکھا تھا .
🍁🍁🍁🍁
وہ اور کریم کھڑکی سے کود کر بہت آہستہ سے اس گھر میں داخل ہوئے تھے جہاں اس وقت تیمور خان نے مہرہ اور اریشہ کو قید کیا ہوا تھا
یہ ایک ویران اور کھنڈر نما گھر تھا جو شہر کے سنسان علاقے میں موجود تھا یہ بلکل پرفیکٹ جگہ سوچی تھی تیمور خان نے اگر شوکت اسکو نہ بتاتا تو تب بھی سکندر نے اسی طرح کی جگہ تلاش کرنے کے بارے میں سوچا تھا اپنے باپ کے ساتھ رہ کر وہ اتنا تو اسکو سمجھ ہی گیا تھا
دوسرا عین موقے پہ شوکت کی مدد بہت کام آئی تھی ویسے بھی شوکت کو اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ تیمور خان اپنے سگے بیٹوں کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے تو اپنے فائدے کے لئے وہ کسی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا تھا
‘” کریم ایسا کرو تم اوپر کی طرف جاؤ …میں نیچے سب سنبھال لوں گا …اپنے راستے میں آئے کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑنا بس ایک تیمور خان کو چھوڑ کر کیونکہ وہ میرا شکار ہے ”
اس لمحے اسکے انداز میں ایک وحشت تھی جو سامنے والے کو کانپنے پہ مجبور کر دیتی تھی
اسکا جواب سن کر کریم اپنی گن لوڈ کرتا سامنے اوپر جاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھا وہ دونوں اس وقت ایسے چپ کے کھڑے ہوئے تھے کہ کسی کی ان پہ نظر نہ پڑے
‘” سنو کریم ”
اس نے بہت آہستہ آواز میں اسے پکارا تھا
مہرہ اور اریشہ کے ملنے سے پہلے وہ لوگ کسی کی نظروں میں نہیں آنا چاہتے تھے
ڈیوڈ کی آواز پہ کریم اسکی طرف پلٹا تھا
‘” اپنا خیال رکھنا …کیونکہ تم میرے لئے بہت خاص ہو ..”
یہ سچ بھی تھا کریم بلکل اسکے دوست کی طرح تھا اسکے لئے اس لئے اسکی بات پہ وہ مسکراتا سر ہاں میں ہلاتا پھر سے اوپر کی طرف بڑھا
کریم کے جانے کے بعد ڈیوڈ ادھر ادھر دیکھتا اس سائیڈ بڑھا جہاں اسکو تو تین روم نظر آ رہے تھے
یہاں تیمور خان کے کتنے آدمی تھے وہ نہیں جانتا تھا اس لئے اسکو احتياط کرنی پڑ رہی تھی
ابھی وہ آگے بڑھا ہی تھا جب اپنے سامنے ایک کمرہ دیکھ کر وہ رکا جہاں ایک آدمی ہاتھ میں گن لئے کھڑا ہوا تھا
ڈیوڈ اپنی گن لوڈ کرتا ہوا بہت آہستہ سے آگے بڑھا اسکی ڈیوڈ کی طرف پشت تھی اس لئے وہ اسکو دیکھ نہ سکا
آہٹ پہ وہ شخص جیسے ہی پلٹا مگر ڈیوڈ اتنی ہی تیزی سے اسکو شوٹ کر چکا تھا اسکی گن کی آواز اتنی آہستہ تھی کہ پاس کھڑا بندا ہی سن سکتا تھا
اس شخص کو مارنے کے بعد ڈیوڈ نے اس روم کا دروازہ کھولا دروازہ کھولتے وقت اسکا دل زور سے دھڑکا تھا اس نے دعا کی تھی کہ اسکا ایک اپنا تو اسکو یہاں ضرور مل جائے
وہ دروازہ کھولتا جیسے ہی اندر داخل ہوا تو سامنے چیئر پہ بندھی اپنی ماں کے ساتھ زیان کو دیکھ کر وہ چند لمحے کے لئے حیران ہوا تھا
‘” سکندر ”
مسز ناز کی جیسے ہی اس پہ نظر پڑی تو انہوں نے تڑپ کر اسکو پکارا تھا مگر ڈیوڈ نے اپنے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر انکو خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا
وہ خاموش ہوئی تو ڈیوڈ انکے قریب آکر پہلے مسز ناز کو کھولنے لگا ..پھر اسکے بعد زیان کو
وہ پہلی بار اپنا کام اتنی خاموشی سے کر رہا تھا صرف ان لوگوں کی جان کی وجہ سے ورنہ یہ ڈیوڈ کا سٹائل نہیں تھا
مسز ناز کو کھولنے کے بعد کتنے ہی لمحے وہ انکو سینے سے لگا کر کھڑا رہا ایک سکون سا مل رہا تھا اسکو انہیں ٹھیک دیکھ کر
انکو خود سے الگ کرتا وہ زین کی طرف پلٹا
اس نے جیسے ہی زیان کو کھولا تو اسکے کھڑے ہوتے ہی ایک زوردار پنچ زیان کے منہ پہ پڑا تھا
زیان ہونق بنا کھڑا اسکو دیکھنے لگا جو پھر سے آگے بڑھا اور اس بار پوری قوت لگا کر اس بار اسکے پیٹ میں مکا مارا
‘” خاموش بلکل خاموش …آواز نہ نکلے ورنہ اس سے بھی برا کروں گا تمہارا ”
وہ زیان کا منہ دبوچتا ہوا سخت لہجے میں بولا
وہ اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ زیان تیمور خان کا سچ جان چکا ہے مگر اسکی بیوی کو یہاں لانے والا خود زیان ہی تھا جسکی سزا وہ اسکو دے رہا تھا
‘” بیٹا سکندر مت مارو اسے اسکو کچھ معلوم نہیں تھا اس لئے ایسا کیا اس نے ”
زیان کی پٹائی ہوتا دیکھ مسز ناز آگے بڑھی آواز انہوں نے آہستہ ہی رکھی ہوئی تھی
‘” مہرہ کو کہاں رکھا ہوا ہے ان لوگوں نے ”
وہ مسز ناز کی بات کو نظر انداز کرتا پھر سے اس سے مخاطب ہوا جو اپنا درد برداشت کرنے کی کوشش کر رہا تھا
حد تو یہ تھی کہ وہ چیخ بھی نہیں سکتا تھا
کیونکہ زیان مسز ناز کو مہرہ کے کڈنیپ ہونے کے بارے میں بتا چکا تھا اس لئے وہ حیران نہیں ہوئی تھی
‘” میں نہیں جانتا …میں صرف اسکو یہاں لیکر آیا تھا ..آگے مجھے نہیں معلوم ”
اس نے اپنی بات ابھی مکمل ہی کی تھی کہ پھر سے ایک ذوردار پنچ اسکے منہ پہ پڑا جس سے وہ زمین پہ گر چکا تھا
‘” اگر میری مہرہ کو اسکی وجہ سے کچھ بھی ہوا نہ تو آج آپکے تین بیٹوں میں سے ایک بیٹا کم ہو جائے گا ”
اس بار وہ بہت آہستہ آواز میں مسز ناز سے مخاطب ہوا تو وہ خاموش ہو گئی آخر کیا کہتی غلطی زیان کی تھی اسکے لئے وہ بس وہ دعا ہی کر سکتی تھی
‘” اب چلو جلدی امی کو لیکر میرے پیچھے آؤ مجھے تم لوگوں کو یہاں سے صحیح سلامت نکالنا ہے ”
وہ زیان کی طرف دیکھ کر بولا اور اپنی گن نکالتا روم سے باہر نکلا
اسکی بات پہ زیان اپنی تکلیف کو برداشت کرتا اٹھا مسز ناز کو لئے اسکے پیچھے چل دیا
‘” اتنی بھی کیا جلدی ہے ڈیوڈ اپنی بیوی کو لئے بغیر جا رہے ہو ”
وہ ادھر ادھر دیکھتا آگے بڑھ رہا تھا جب تیمور خان کی آواز پہ اسکے قدم رکے تھے
🍁🍁🍁🍁
‘” اتنی بھی کیا جلدی ہے ڈیوڈ اپنی بیوی کو لئے بغیر جا رہے ہو …ایک بار پلٹ کرد تو دیکھو ”
وہ آگے بڑھا تھا جب تیمور خان کی آواز پہ اس نے پلٹ کر دیکھا جو مہرہ کے سر پہ گن تانے کھڑا تھا جبکہ اسکے ایک آدمی نے مسز ناز کو اور زیان پہ گن تانی ہوئی تھی
جس بات کا اسکو ڈر تھا وہی ہوا تیمور خان کو اسکی موجودگی کا معلوم ہو چکا تھا
‘” اگر ان لوگوں کو کچھ بھی ہوا نہ تو میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا تاشا ”
وہ اپنی گن نیچے کرتا ہوا بولا جبکہ اسکی نظریں مہرہ پہ جمی ہوئی تھی جو آنکھوں میں آنسو لئے اسکو دیکھ رہی تھی
‘” لیکن تم یہ بھی مت بھولو تمہارے اپنو کی جان اس وقت میرے ہاتھ میں ہے ..میرے بس ایک اشارے پہ میرے لوگ ان سبکا کھیل ختم کر سکتے ہیں …ساتھ میں تمہارا بھی ”
اسکے چہرے پہ استہزیہ مسکراہٹ تھی
‘” کتوں کا جھنڈ کتنا ہی بڑا کیوں نا ہو جائے تاشا لیکن وہ شیر کا شکار کبھی نہیں کر سکتا ”
وہ تاشا کے آدمیوں کو دیکھتا ہوا بولا یہاں اس وقت صرف تین آدمی تھے جنکو مارنا اسکے لئے مشکل نہ تھا
‘” دیکھتے ہیں آج کس کا شکار ہوتا ہے اور کون شکاری ہے ”
وہ مہرہ کو گردن سے دبوچتا ہوا بولا
درد کی وجہ سے مہرہ کی سسکی نکلی تھی
‘” آج تمہارا شکار ہوگا میرے ہاتھ سے ”
وہ زہرخد لہجے میں بولا غصّے کی وجہ سے اسکی رگے تنی ہوئی تھی
اپنی بات کہنے کے ساتھ اس نے بہت تیزی سے اپنی کمر کے پیچھے سے دوسری گن نکالی اور بغیر کسی کو موقع دئے سب سے پہلے اس آدمی کو شوٹ کیا جو اسکی ماں پہ گن تانے کھڑا ہوا تھا
گولی کی آواز سے مہرہ اور مسز ناز کی چیخ نکلی تھی جبکہ تیمور خان اچانک پڑنے والی اس آفت پہ حیران کھڑا دیکھ رہا تھا
اسکے شوٹ کرتے ہی زیان بھی حرکت میں آیا اس نے موقے کا فائدہ اٹھا کر اپنے پاس کھڑے اس آدمی کے منہ پہ پنچ مار کر اسکے ہاتھ سے گن چھین چکا تھا
صرف چند لمحے لگے تھے کھیل بدلنے میں
گولی کی آواز سن کر تاشا کا ایک اور آدمی بھاگتا ہوا آیا تو ڈیوڈ مسز ناز کو ایک طرف کرتا اس شخص کو شوٹ کر چکا تھا
‘” رک جاؤ سکندر ورنہ میں تمہاری بیوی کو ابھی اسی وقت ختم کر دونگا ”
تیمور خان اس بار زور سے دھاڑا ساتھ ہی اس نے اپنی گن پہ پکڑ مضبوط کی تھی
سکندر جو اس آدمی کو ختم کر چکا تھا جو زیان کی طرف لپکا تھا تیمور خان کی بات سن کر اسکی طرف پلٹا
‘” اگر ہمّت ہے تو گولی چلاو …آج میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں تاشا کیا کر سکتا ہے ”
وہ اب اسکی طرف مضبوط قدم بڑھاتا ہوا بولا
آنکھوں میں یکدم خون اتر آیا تھا
‘” دیکھو سکندر ..آگے مت بڑھو .. ورنہ میں گولی چلا دونگا”
آج پہلی بار تیمور خان کو کسی سے خوف محسوس ہوا تھا اور وہ اسکا خود کا بیٹا تھا
‘” اگر میرے قدموں کو روکنا ہے تو گولی چلاو ”
وہ اسی پہ نظریں جمائے بولا تو تیمور خان نے ٹریگر پہ دباؤ بڑھایا
اس سے پہلے کہ وہ مہرہ کو شوٹ کرتا ڈیوڈ تیزی سے آگے بڑھا اور تیمور خان کے گن والے ہاتھ پہ لات مار کر ڈری سہمی مہرہ کو اپنی طرف کھینچا تھا
اسکی لات اتنی زور کی تھی کہ تیمور خان اگر خود کو نہ سنبھالتا تو یقیناً پیچھے کی طرف گرتا
‘” کہا تھا نہ میں نے گولی چلاو اگر مجھے روکنا چاہتے ہو تو ورنہ تم مجھے روک نہیں پاؤ گے ”
وہ مہرہ کو ایک سائیڈ پہ کرتا تیمور خان کی طرف بڑھا پھر اسکو بغیر موقع دئے ایک کے بعد ایک زوردار پنچ اسکے منہ پہ برسانے لگا
تیمور خان کے ہونٹ اور ناک سے خون نکلنے لگا
‘” اس دن بولا تھا نہ کہ ڈیوڈ سے ملاقات باقی ہے تمہاری تو آج میں تمہاری ڈیوڈ سے ملاقات کرواتا ہوں ”
وہ اپنی بات کہتا پھر سے تیمور خان کو مارنے کے لئے آگے بڑھا مگر اس بار تیمور خان نے ایک زوردار لات ڈیوڈ کے پیٹ میں ماری تھی
اس دوران کریم بھی اوپر موجود لوگوں کو ختم کرکے آ چکا تھا اب وہ لوگ کھڑے ان باپ بیٹے کو لڑتا ہوا دیکھ رہے تھے
‘” ہم دونوں ایک جیسے ہیں ڈیوڈ ایک ہی دنیا سے تعلق ہے ہمارا …ہمارے لئے یہ رشتے کوئی معنے نہین رکھتے ”
تیمور خان اسکو اپنی باتوں میں الجھا کر اس گن کی طرف بڑھا جو زمین پہ پڑی ہوئی تھی
‘” تم میں اور مجھ میں زمین آسمان کا فرق ہے تاشا …میرے لئے میرا ہر رشتہ معنے رکھتا ہے ”
اس نے تیمور خان کو کالر سے پکڑ کے پھر سے ایک مکا اسکے مارا تو وہ اس بار زمین پہ گر چکا تھا
‘” ٹھیک کہا تم نے میرے لئے کچھ بھی معنے نہیں رکھتا..پھر چاہے وہ خون کا رشتہ ہی کیوں نہ ہو ”
تیمور خان وہ گن اٹھاتا چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ لئے ڈیوڈ کو نشانہ بناتا ہوا بولا
تیمور خان کی اس حرکت پہ کریم اور زیان آگے بڑھے مگر وہ انہیں اشارے سے روک چکا تھا کیونکہ یہ ان دونوں کی لڑائی تھی وہ نہیں چاہتا تھا کوئی انکے درمیان آئے چاہے اس میں اسکی جان ہی کیوں نا چلی جاتی
‘” اس بار مت رکنا تاشا …اگر تم نے مجھے زندہ چھوڑ دیا تو تمہاری موت پکّی ہے ”
وہ مزید اسکی طرف بڑھا
‘” ٹھیک ہے …تمہاری اس خوائش کو میں ضرور پورا کروں گا”
تیمور خان نے کمینگی سے کہتے ڈیوڈ پر گولی چلائی جو اسکے بازو کو چھو کر گزری تھی
گولی چلنے مہرہ اور مسز ناز چیخی جبکہ کریم نے تیمور خان پہ گولی چلانی چاہی مگر ڈیوڈ انہیں گھورتا پیچھے رہنے کا اشارہ کرنے لگا
‘” کیا ہوا بس اتنی ہمّت تھی تاشا … ی نشانہ چوک گیا تمہارا ”
وہ اسکا اکسا رہا تھا
اس بار تیمور خان نے پھر سے ٹریگر پہ اپنا دباؤ بڑھایا مگر اسکے گولی چلانے سے پہلے ہی ایک اور گولی کی آواز آئی اور اسکے ہاتھ سے گن چھوٹ کر زمین پہ گر چکی تھی ..
🍁🍁🍁🍁
‘” اتنی بھی کیا جلدی ہے تیمور خان لگتا ہے تم اپنے دوسرے بیٹے کو بھول چکے ہو ”
تبریز کی آواز پہ ڈیوڈ نے سامنے دیکھا تو وہ ہاتھ میں گن لئے اسکی طرف بڑھ رہا تھا
تبریز جو سوچ رہا تھا یہاں وہ اپنی ماں بھائی اور مہرہ کو بےبس دیکھے گا تیمور خان کی قید میں مگر یہاں کا منظر ہی کچھ اور ملا تھا اسکو
سکندر اور تیمور خان آمنے سامنے تھے جبکہ سب سائیڈ پر کھڑے انہیں دیکھ رہے تھے
سبکی نظریں تبریز پہ ہی تھی اس سے پہلے کہ تیمور خان موقے کا فائدہ اٹھا کر تیزی سے اس گن کو پھر سے اٹھاتا ڈیوڈ نے آگے بڑھ کر ایک ہی جھٹکے میں اسکے ہاتھ کی انگلیوں کو توڑ ڈالا
تیمور خان کی دردناک چیخ سے اسکو اپنے بازو سے اٹھتی تکلیف سے سکون ملا تھا
‘” کیا ہوا تاشا درد برداشت نہیں ہو رہا ہے …لیکن ابھی تو یہ شروعات ہے ”
اپنی بات کہہ کر تبریز آگے بڑھا اور تیمور خان کا بازو سختی سے پکڑا
وہ اپنی ٹوٹی انگلیوں کا درد برداشت کر رہا تھا اس لئے اپنا بازو آزاد نہ کرا سکا
آج اسکو سہی معنے میں تکلیف کا اندازہ ہو رہا تھا اسکو اپنی موت بہت قریب نظر آنے لگی
‘” یہ میرے بھائی کے بازو کو زخمی کرنے کے لئے ”
تبریز تیمور خان کا بازو ایک جھٹکے میں توڑتا ہوا بولا نظریں سکندر کے بازو سے نکلتے خون پہ تھی
تیمور خان کی ایک دردناک چیخ نکلی
اسکے چہرے سے اسکی تکلیف کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا
مسز ناز نم آنکھوں سے تیمور خان کو درد میں تڑپتا ہوا دیکھ رہی تھی
انکو اپنے اندر ایک سکون سا اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
‘” آج ہم تمھیں بتایں گے کہ دردناک موت کیا ہوتی ہے ”
ڈیوڈ اپنی بات کہتا مسز ناز کے پاس آیا اور انکو کندھوں سے تھام کر تیمور خان کے پاس لے آیا
اپنے بازو سے نکلتے خون کی اسکو بلکل پرواہ نہیں تھی
جبکہ کریم ..زیان اور مہرہ کھڑے ان دونوں بھائی کو اپنے باپ سے بدلہ لیتے ہوئے دیکھ رہے تھے
ایک باپ اپنے بیٹوں کی ہاتھ سے مرنے والا تھا
‘” وقت آ گیا ہے امی اپنی ہر تکلیف کہ بدلہ لینے کا ..آپ بلکل نہ ڈرے ہم آپکے ساتھ ہیں ”
تبریز تیمور خان کو اسکے گھٹنوں پہ بیٹھاتا ہوا بولا تو اسکی بات سن کر مسز ناز آگے بڑھی تھی
سہی کہا تھا اس ن وقت آ گیا تھا اب وہ بلکل اکیلی ہر کمزور نہیں تھی
انکی طاقت انکے دونوں بیٹے تھے
یہی سوچ کر انکا ہاتھ اٹھا اور ایک زوردار تھپڑ کی آواز اس سنسان سی جگہ میں گونج اٹھی
‘” یہ میرے ساتھ زیادتی کرنے کے لئے ”
مسز ناز اسکے منہ پہ تھپڑ مارتی مضبوط لہجے میں بولی اسکے بعد انہوں نے دوسرا تھپڑ جڑا تھا
‘” یہ میرے بیٹے کو مجھ سے الگ کرنے کے لئے ”
اس بار انکی آنکھوں میں آنسو آئے تھے
وہ درد بھرے پل آنکھوں کی سامنے گھومے تھے
اسکے بعد تیسرے تھپڑ کی آواز آئی اس وقت انکے ہاتھ بری طرح لال ہو چکے تھے
‘” یہ میرے بیٹے کو اپنے ساتھ ان غلط کاموں میں پھسانے کے لئے ”
پوری طاقت لگا کر مارنے کی وجہ سے انکا سانس بری طرح سے پھول چکا تھا
انہوں نے پھر سے اسکو مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا تو اس بار تیمور خان اپنے دوسرے ہاتھ سے انکا ہاتھ پکڑ چکا تھا
مسز ناز کا ہاتھ کو رکتا دیکھ ڈیوڈ آگے بڑھا اور تیمور خان کے اس ہاتھ کو پیچھے لے جا کر اسکا اب دوسرا بازو بھی توڑ چکا تھا
اس بار تیمور خان درد سے بلبلاتا ہوا زمین پہ گر چکا تھا
اسکی حالت اس وقت قابل رحم تھی مگر وہ رحم کرنے کے قابل نہیں تھا
‘” یہ میری ماں کا ہاتھ بیچ میں روکنے کے لئے تھا ”
اس بار ان دونوں بھائی نے اپنی اپنی گن سے تیمور خان کے سر کو نشانہ بنایا اور بغیر سوچے اسکو شوٹ کرکے تاشا کا قصّہ ختم کر چکے تھے
اسکو آخری سانس لیتا دیکھ مسز ناز نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کی تھی
دیر سے ہی سہی مگر انکے مجرم کو سزا مل گئی تھی
ایسی موت ملی اسکو جو خود مسز ناز نے بھی نہیں سوچی تھی
‘” بیٹا سکندر تمہارے ہاتھ سے بہت خون نکل رہا ہے تمھیں تکلیف بھی ہو رہی ہوگی ہمیں فورا ڈاکٹر کے پاس جانا چاہئے”
ابکہ بار مسز ناز سکندر کے بازو کو دیکھتی ہوئی بولی اسکا کافی سے زیادہ خون نکل چکا تھا
‘” یہ تکلیف اس تکلیف سے کم ہے جو آپ نے آج تک برداشت کی ہے ”
وہ مسز ناز کے ہاتھ اپنے لبوں سے لگاتا ہوا بولا
‘” سکندر تمھیں کریم اور زیان کو فورا یہاں سے نکلنا ہوگا..پولیس بس آتی ہی ہوگی کیونکہ انکی نظر میں مہرہ اور امی کا کڈنیپ ہوا ہے ..تم لوگ نکلو باقی میں سنبھال لونگا”
تبریز اپنی گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا بولا وہ یہاں آنے سے پہلے اپنی ٹیم کو انفارم کر چکا تھا
ان تینوں کی یہاں موجودگی انہیں پھنسا سکتی تھی
‘” نہیں تبریز بھائی اگر سکندر کو آپ بچا رہے ہیں تو اسے ایک فیصلہ کرنا ہوگا … یہاں سے جانے سے پہلے اسے یہ سب کام چھوڑنے ہونگے …میں ایسے ڈر ڈر کے زندگی نہیں گزار سکتی ”
کب سے خاموش کھڑی مہرہ تبریز کی طرف دیکھ کر بولی یہ اسکی زندگی کا اہم فیصلہ تھا
جبکہ اسکی بات سن کر اب سبکی نظریں سکندر پہ جم گئی تھی
‘” بولو سکندر …کیا اپنی محبت اپنی اولاد کے لئے تم یہ سب نہیں چھوڑ سکتے ”
اس بار مسز ناز بولی تو وہ سختی سے اپنی مٹھی بہینچ گیا تھا
‘” اس سے کہہ دو امی اب سے وہی ہوگا جو یہ چاہے گی ”
وہ بغیر مہرہ کی طرف دیکھے اپنی بات کہتا تیزی سے وہاں سے نکل گیا
جبکہ اسکے جانے کے بعد مہرہ مسز ناز کے ساتھ تبریز بھی مسکرا دیا..
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )
