53.5K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

‘” کہو شوکت میرا پلان کیسا لگا تمھیں ایک بار میں ہی دو کام آسانی سے کر دئے میں نے ”
تیمور خان زور سے ہنسا تھا
اس وقت اسکی ہنسی میں جیت کی کھنک تھی
جیسے اس نے بہت کچھ جیت لیا ہو
“‘ سکندر کا تو سمجھ آتا ہے مجھے مگر تبریز کو سب سچ معلوم ہونے سے تمھیں کیا فائدہ ہوگا ”
شوکت ابھی بھی اسکا دوسرا پلان نہیں سمجھا تھا
‘” اسکو الجھا کر رکھنے کے لئے اسکی توجہ مجھ پر سے ہٹانے کے لئے
اپنے بھائی یعنی ڈیوڈ کے بارے میں جاننے کے بعد اب اسکا دھیان دو جگہ ہو جائے گا
اور ادھر سکندر کا سچ جاننے کے بعد مہرہ اس سے الگ ہونے کی کوشش کرے گی پھر وہی ہوگا جو میں چاہوں گا ”
اس بار اسکا قہقا بلند تھا
کتنا کمینہ باپ تھا شاید ہی کوئی اس کے جیسا کوئی ہوگا اسے صرف اپنی فکر تھی
وہ اس بیٹی کی خوشی کے بارے میں بھی نہیں سوچ رہا تھا جس کو اس نے بڑے حق سے اریشہ سے چھین لیا تھا
‘” اب جاؤ جاکر سکندر اور مہرہ پہ نظر رکھو یاد رہے کام ہوشیاری سے ہونا چاہئے ”
اس نے شوکت کو حکم دیا تو وہ اپنا سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا اسکو کبھی کبھی وہ کام بھی کرنے پڑتے تھے جو وہ کرنا نہیں چاہتا تھا
🍁🍁🍁🍁
” میں کہہ رہی ہو نہ تم سے گیٹ کھولو تو ایک بار میں تمھیں بات سمجھ نہیں آتی ”
اس نے اپنے سامنے کھڑے گارڈ کو سخت انداز میں مخاطب کیا تھا
جبکہ ضبط کے باوجود آنکھوں سے آنسو نکل کے زمین پر گر کے خشک ہو رہے تھے
‘” بیگم صاحبہ جب تک صاحب نہیں بولے گے ہم گیٹ نہیں کھول سکتے ہیں ہمیں معاف کریں ”
وہ بیچارہ گارڈ ڈرتے ڈرتے بولا تھا
اگر وہ گیٹ کھول دیتا تو اپنے مالک کی ڈانٹ کی فکر تھی دوسرا گیٹ نہ کھولنے پر اپنے سامنے کھڑی مہرہ کے آنسو دیکھ کر بھی اسکا دل پگھل رہا تھا
‘” میں تم سے آخری بار کہہ رہی ہوں تم گیٹ کھول رہے ہو یا میں زبردستی یہاں سے نکلنے کی کوشش کروں ”
وہ بےدردی سے اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی
اسکو ڈیوڈ کی ڈھونڈھنے سے پہلے یہاں سے نکلنا تھا وہ اب اس شخص اور اسکے دھوکے میں نہیں رہنا چاہتی تھی
جبکہ اسکی بات سن کر بیچارہ گارڈ اب پریشانی سے اسکو دیکھ رہا تھا
‘” آپ صاحب کو بول دیں تو ہم گیٹ کھول دیں گے ورنہ یہ گیٹ نہیں کھلے گا ”
اس بار تھوڑا سنبھال کر بولا تھا
کیونکہ اسے اپنے مالک کی غصّے کا اندازہ تھا
‘” ٹھیک ہے تم نہیں کھول رہے تو مجھے ہی زبردستی یہاں سے جانا ہوگا ”
وہ اسکی بات سنتی مضبوط قدم اٹھاتی آگے بڑھی اور گارڈ کو آپنے سامنے سے ہٹا کر اس بڑے سے گیٹ کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی
وہ بیچارہ گارڈ اسکو روکنے کی اپنی سی کوشش کرنے لگا مگر آج جیسے مہرہ پہ جنون س سوار تھا وہ اس وقت صرف یہاں سے نکلنا چاہتی تھی اس شخص سے بہت دور چلی جانا چاہتی تھی وہ
گارڈ کو جب لگا وہ نہیں رکے گی تو وہ تیزی سے اندر کی طرف بھاگا تھا
”” کیا ہو رہا ہے یہاں ..یہ کیا حرکت مہرہ ”
وہ گیٹ کھولنے کی اپنی کوشش کر رہی تھی جب اپنے پیچھے سکندر کی آواز سن کر یکدم سے پلٹی
سکندر کھڑا اسکو سخت نظروں سے گھور رہا تھا یقیناً گارڈ اسکو وہاں لیکر آیا تھا
مہرہ اسکے سوال اور اسکی گھوری کو نظرانداز کرتی پھر سے اس لوہے کے گیٹ کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی
جبکہ اسکی اس حرکت پہ سکندر غصّے میں اسکے قریب گیا اور اسکا بازو سختی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
‘” ہاتھ چھوڑو میرا ..مت چھو مجھے وحشت ہو رہی ہے مجھے تم سے تمہارے لمس سے ”
وہ کسی زخمی شیرنی کی طرح چلائی تھی
اس وقت وہ اسکی شکل تک دیکھنا نہین چاہتی تھی اور وہ اسکو چھو رہا تھا
‘” یہ کیا بکواس کر رہی ہو مہرہ دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا اور یہ صبح ہی صبح کہاں جانا چاہ رہی تھی تم ”
اسکو مہرہ کا لہجہ ہی نہیں اسکی بات بھ سخت ناگوار گزری تھی
تبھی سخت انداز میں اسکو دونوں کاندھو سے تھام چکا تھا
‘” اگر میں بکواس کر رہی ہوں تو اسکے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو تم میرے ساتھ کرتے آئے ہو.. وہ کیا تھا ”
وہ اسکی پکڑ میں مچلتی ہوئی چلائی تھی
غصّے اور رونے کی وجہ سے جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا
‘” یہ کیسی باتیں کر رہی ہو مہرہ کیا ہوا ہے تمھیں …کیا کرتا آ رہا ہوں میں تمہارے ساتھ ”
اس بار اسکی حالت دیکھ کر سکندر تھوڑا فکرمندی سے بولا رات تک وہ بلکل ٹھیک پھر صبح اچانک سے کیا ہو گیا تھا اسکو
‘” مجھ سے زیادہ تو تم بہتر جانتے ہونگے سکندر خان عرف ڈیوڈ..
ویسے کیا کہہ کر مخاطب کروں میں تمھیں یہ بھی بتا دو مجھے ”
اسکا لہجے یکدم بکھرا ہوا سا تھا رونے کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہو چکی تھی
سکندر جو غور سے اسکی حالت دیکھ رہا تھا اسکے منہ سے ڈیوڈ نام سن کر اسکی رگے تنی تھی
‘” مجھے لگتا ہے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تمھیں چل کر آرام کرنا چاہئے ”
وہ خود پہ کنٹرول کر چکا تھا ورنہ مہرہ کے منہ سے ڈیوڈ نام سن کر بہت حیران ہوا تھا آخر کہاں سے معلوم ہوا تھا اسکو یہ سب
کہیں ابھی تھوڑی دیر پہلے ہوئے اسکے کام کو تو نہیں دیکھ چکی تھی یقیناً ایسا ہی ہوا ہوگا ورنہ کون تھا جو اسکو اس سب کے بارے میں بتاتا
‘” کیوں کیا ہوا خاموش کیوں ہو گئے اب ….کہہ دو کہ یہ سب جھوٹ ہے ..جیسے آج تک تم جھوٹ بولتے آ رہے تھے ”
اسکے بات بدلنے پر مہرہ نے اپنا آپ اس سے آزاد کروانا چاہا تھا
‘” میں کہہ رہا ہوں نے اندر چلو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ہم آرام سے بیٹھ کر بات کریں گے اس بارے میں ”
وہ اپنی بات کہتا اسکو اپنے ساتھ لئے اندر بڑھا تھا مگر مہرہ نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسکی گرفت سے اپنا بازو آزاد کروایا
‘” نہیں ہاتھ چھوڑو میرا مجھے کہیں نہیں جانا ہے تمہارے ساتھ تو بلکل بھی نہیں تم ایک قاتل ہو …ایک مونسٹر ..میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی ..میں یہاں سے ..”
وہ غصّے میں مزید کچھ بولتی جب سکندر نے پھر سے اسکو دونوں بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا تھا
‘” اگر تم نے اب الٹی سیدھی بکواس کی تو میں بھول جاؤ گا کہ تم میرے لئے کیا ہو ”
وہ زیادہ دیر اپنے غصّے پہ کنٹرول نہیں کر سکتا تھا جو باتیں وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا وہ ایسی باتیں اس سے کہہ رہی تھی
‘” میرے ساتھ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد تم کہہ رہے ہو میں خاموش ہو جاؤں …نہیں سکندر خان میں اب خاموش نہیں رہوں گی بہت کھیل لئے تم میرے ساتھ مگر اب نہیں ..میں اب مزید ایک پل بھی تمہارے ساتھ گزار نہیں سکتی مجھے بس میرے بابا کے پاس جانا ہے ”
وہ اسکی پکڑ میں بری طرح چیخ رہی تھی چلا رہی تھی
اس خاموشی میں اسکی آواز پورچ میں گونج رہی تھی
‘” کیسا کھیل ….میری محبت کو تم کھیل کہہ رہی ہو تم ..کھیل لگے تمھیں میرے جذبات ”
اگر اسکی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اب تک اپنا صبر کھو چکا ہوتا
مگر اس وقت اسکے سامنے وہ لڑکی کھڑی تھی جسکے سامنے وہ اپنا آپ تک بھول جاتا تھا یہاں تک کہ یہ بھی کی وہ کیا ہے
‘” یہ سب کھیل ہی تو تھا مجھ سے اپنا اصل چہرہ چھپا کر رکھا …میں اج تک جنہیں دو انسان سمجھتی آ رہی تھی اصل میں وہ دو نہیں ایک ہی تھے ”
وہ شکوہ بھری نظروں سے اسکو دیکھ رہی تھی
‘” کچھ کھیل نہیں ہے مہرہ…نہ میری محبت …نہ میرے جذبات ..صرف اس وجہ سے میں نے تم سے چھپا کر رکھا جانتا تھا تم میرا اصل روپ قبول نہیں کرو گی ”
وہ پھر سے اسکو پیار سے سمجھنا چاہ رہا تھا جو اس وقت اسکی سننے کو بلکل تیار نہ تھی
‘” میں کچھ نہیں سننا چاہتی .مجھے صرف میرے بابا کے پاس جانا ہے اگر تم نہیں لیکر جا سکتے تو میں خود کو کچھ کر لوں گی ”
اس نے جیسے اپنا فیصلہ سنایا تھا
‘” ٹھیک ہے میں ..لے جاؤں گا پہلے اندر چلو تم ”
مہرہ کی بات سن کر سکندر سکو غصّہ تو بہت آیا تھا مگر خود پہ ضبط کرتا اسکی بات ماننے کے لئے راضی ہوا تھا
اپنے باپ کی حالت دیکھ کر وہ یقیناً پھر سے ٹوٹ جائے گی مگر فلحال اسکو کوئی بھی بیوقوفی کرنے سے روکنے کے لئے اسکے پاس ایک یہی راستہ تھا
اور دوسری طرف مہرہ یہ سوچ رہی تھی ایک بار وہ یہاں سے نکل جائے اسکے بعد آگے کیا کرنا تھا اس نے سوچ لیا تھا
🍁🍁🍁🍁
بڑی امی آپ فکر نہ کریں سب کچھ جلد ہی ٹھیک ہو جائے گا آپ جانتی ہیں نہ ہم آپکو یوں اداس نہیں دیکھ سکتے ”
مشال مسز ناز کے پاس بیٹھی انکے دل کا غم کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی
جب سے اسے اپنی بڑی امی کی بارے میں سب معلوم ہوا تھا تب سے اسکے دل میں انکے لئے محبت مزید بڑھ گئی تھی
کتنا کچھ سہا تھا انہوں نے اپنی زندگی میں کتنے غم ملے تھے انہیں مگر انہوں نے کبھی آپنے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا تھا
مشال کو اب ان سے ہمدردی بھی محسوس ھو رہی تھی
‘” کیسے ہوگا سب ٹھیک بیٹا آخر کیسے ?
بس ایک یہی سوال مجھے پریشان کر رہا ہے تبریز کو تو سب معلوم ھو گیا مگر سکندر کو کیسے بتاؤ ..اور کیا بھروسہ ہے وہ میری بات پہ یقین کرے گا ”
وہ گہرے دکھ سے بولی
اسی سوال نے انکی نیندیں بھی اڑا دی تھی
پہلے جب انہیں معلوم نہیں تھا تو صبر کر لیا مگر اب اپنے بیٹے کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد انکا صبر جواب دے گیا تھا
‘” کیوں نہیں کریں گے وہ ضرور کریں گے آخر آپ ماں ہیں انکی بس ایک بار انہیں سب معلوم ہو جائے ”
وہ انکے دونوں ہاتھ تھام کر تسلی دیتی ہوئی بولی
وہ خود بھی یہی چاہتی تھی اس وجہ سے تبریز بھی آجکل بہت مصروف ہو گیا تھا ساتھ ہی پریشان بھی رہنے لگا تھا
‘” بس یہی تو سمجھ نہیں آ رہا کوئی تو طریقہ ہو ایسا ”
وہ پریشانی سے بولی تھی
‘” بڑی امی جس طرح تبریز کو سب معلوم ہوا ہے اللّه نے چاہا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا آپ بس پریشان نہ ہو ”
اس نے انہیں یقین دلایا تو مسز ناز اس بار بس خاموشی سے اسکو دیکھنے لگی
‘” بیٹا بس تم سے اتنا کہنا چاہوں گی اس وقت تبریز خود کو بہت اکیلا محسوس کر رہا ہوگا تمھیں اسکا پورا خیال رکھنا ہے اسے اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے ”
انہوں نے اس بار اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا
‘” آپ فکر نہ کریں بڑی امی ہم انکا بہت خیال رکھیں گے بس آپ ٹینشن نہ لیں زیادہ ”
اس نے انہیں یقین دلایا تو اس بار مسز ناز بس مسکرا دی تھی
🍁🍁🍁🍁
‘” تبریز پلیز یہاں آئے ہمیں آپکی ہیلپ چاہئے ”
وہ لاؤنج میں بیٹھا فائل دیکھ رہا تھا جب مشال کی آواز اسکے کانوں میں پڑی
اس نے گردن اٹھا کر سیڑھیوں کی طرف دیکھا یقیناً وہ اسکو بیڈروم سے آواز دے رہی تھی
‘” تبریز پلیز جلدی آئے “
اس بار اسکی دوسری آواز پہ تبریز فائل ٹیبل پہ رکھتا اٹھ کھڑا ہوا
ساتھ میں غصّہ بھی آیا تھا جو اسکو ڈسٹرب کر رہی تھی
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ اسکو ڈسٹرب کرنے کی وجہ سے بری طرح سے ڈانٹ چکا تھا
آج سارا دن وہ ویسے ہی بہت مصروف رہا نہ ڈیوٹی پہ گیا تھا
وہ بس جلد سے جلد تاشا کا گیم ختم کرنا چاہتا تھا اس لئے اس نے خود کو بہت مصروف کر لیا تھا
‘” پتہ نہیں کیا کام ہے ”
وہ خود سے کہتا اوپر اپنے بیڈروم کے پاس آکر رکا اور ایک جھٹکے میں دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا
مگر جیسے ہی اس نے بیڈروم میں قدم رکھا تو ایک لمحے کے لئے ٹھٹکا تھا
روم کی لائٹس آف تھی جبکہ موم بتیوں کی روشنی نے پورے کمرے کو روشن کیا ہوا تھا
وہ روم کا جائزہ لیتا آگے بڑھا ہی تھا جب اسکی نظر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی مشال پہ پڑی جو اسی کو دیکھ رہی تھی اس وقت اس نے تبریز کی دی ہوئی وہی ریڈ فراک پہنی ہوئی تھی
مشال کو یوں تیار کھڑا دیکھ اسکی حیرانی مزید بڑھی تھی
‘” مجھے لگا تھا شاید تمھیں کچھ ہیلپ چاہئے ”
وہ اسکو گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا
اپنے دکھ اور بدلہ لینے کے جنون میں وہ مشال کے وجود کو مکمل نظرانداز کر چکا تھا
‘” جی ہمیں ہمارا تبریز تلاش کرنے میں آپکی ہیلپ چاہئے کیا آپ ہماری ہیلپ کریں گے ”
وہ اسکی گہری بولتی نظروں سے گھبرا کر تھوڑا شرماتی ہوئی بولی
چہرہ بھی کپڑو کی طرح سرخ ہو چکا تھا
‘” وہ تمہارا تبریز کب سے ہو گیا جہاں تک مجھے یاد ہے تم تو اسکو ناپسند کرتی تھی نہ ”
وہ دروازہ لاک کرتا اسکی طرف بڑھا
اسکی پریشانی کو کم کرنے کے لئے مشال کا یہ طریقہ اسے بہت پسند آیا تھا
‘” جب سے ھم تبریز کے ہوئے تھے بس تب سے وہ ہمارے ہوئے ہیں ”
وہ نظریں نیچے کئے کھڑی تبریز کے دل میں ھلچل مچا رہی تھی
اسکا اظھار سن کر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
‘” تم جانتی ہو نہ تم کیا کہہ رہی ہو تمھیں انداز ہی تمہارے اس اظھار کی بعد کیا ہوگا ”
وہ ٹیبل کے ارد گرد ہاتھ رکھا اسکو آپنے حصار میں لیتا ہوا اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لے گیا
اتنا قریب کہ مشال اور اسکی سانسیں آپس میں الجھنے لگی
مشال کی دھڑکنے بےترتیب ہوئی تھی
‘” ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ ہمیں صرف آپنے کھوئے ہوئے تبریز کو تلاش کرنا ہے جو شاید ھم سے دور چلے گئے ہیں ”
وہ اپنا نرم ملائم ہاتھ اسکے کندھے پہ رکھ چکی تھی جو اسکی اتنی قربت میں کپکپا رہا تھا
‘” تبریز تو کبھی تم سے دور گیا ہی نہیں تھا وہ ہمیشہ ہی تمہارے قریب رہا تھا …اتنے قریب ”
وہ اسکا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹا کر اسکی ہتھیلی پہ اپنے لب رکھتا ہوا بولا
مشال کا دل تیزی سے دھڑکا تھا
‘” اتنے قریب ہوں میں تمہارے ”
وہ باری باری اسکے دونون رخسار پہ اپنے لب رکھتا ہوا بولا
مشال کی سانسیں بکھرنے لگی تھی
‘” اور یہاں تو میں ہمیشہ ہی قریب رہنا چاہتا ہوں ”
اس بار وہ اسکے ریڈ لپ سٹک سے سجے لبوں کو دیکھتا ہوا بولا اور بغیر وقت ضائع کئے اسکے نرم لبوں پہ آپنے دہکتے لب رکھ چکا تھا
مشال اب سہی میں انداز ہو گیا تھا کہ وہ اب اسکی بڑھتی گستاخیوں سے نہیں بچ پاۓ گی
وہ یوں ہی اس پہ جھکا اپنی محبت اس پہ لٹا رہا تھا
مشال کا جب سانس رکنے لگا تو اس نے تبریز کے بازو پہ ہاتھ مار کر اسکو خود سے دور کرنا چاہا مگر آج تو وہ جیسے اسکو چھوڑنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا
کچھ دیر وہ یوں ہی مزاحمت کرتی رہی تو تبریز کو اس پر رحم آیا تو وہ اس سے دور ہوا
مشال اپنی بگڑی ہوئی سانسوں کو بحال کرتی اسکی سینے سے آ لگی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی
تبریز اسکی اس ادا پہ مسکراتا ہوا اسکی کمر سکو سہلانے لگا ‘” میری اتنی ہیلپ کافی ہے یا اور ہیلپ چاہئے میری ”
وہ اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولتا اسکی کان کی لؤ کو چومت ہوا بولا
‘” نہیں ہم آپ سے ایسی ہیلپ نہیں مانگ رہے تھے ”
وہ ایسے ہی اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپائے ہوئے بولی تبریز کی شرٹ کو اس سے سختی سے اپنی مٹھی میں جکڑا ہوا تھا
‘” تو پھر کیسی ہیلپ چاہئے ..کہیں ڈریس چینج کرنے میں تو میری ہیلپ نہیں چاہئے تمھیں ”
اب وہ پورا شرارتی موڈ میں آ چکا تھا
اسکی بات سن کر مشال نے ایک جھٹکے میں اسکے سینے سے اپنا سر ہٹایا تھا
‘” بلکل بھی نہیں ہم یہ بس آپکا تھوڑا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے یہ سب کیا تھا اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ”
تبریز کی بات اور انداز سے اسکی کان کی لؤ تک سرخ ہوئی تھی
‘” تم نے میرا موڈ ٹھیک نہیں کیا بلکہ بدل دیا ہے اب تو میں تمہاری ڈریس چینج کرنے میں تمہاری ہیلپ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ”
وہ اب اسکو اپنی گود میں اٹھا چکا تھا
مشال شرم سے اپنے لب کاٹنے لگی
‘” اور آپکا کام ”
اس نے احتجاج کرنا چاہا
‘” وہ اب صبح ہی ہوگا کیونکہ آج رات میری توجہ صرف اور صرف تم پہ ہوگی “
وہ اپنی بات کہتا اسکے چہرے پہ جھکا اور اسکی ناک کو محبت سے چومتا ہوا اس سے دور ہوا تو مشال نے اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپا لیا
یہ تو وہ بھی چاہتی تھی کہ وہ اس پہ توجہ دے اس لئے سکون سے اسکی باہوں میں اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی
🍁🍁🍁🍁
‘” مجھے میرے بابا کے پاس جانا ہے یہ تم کہاں لیکر آئے ہو مجھے ”
جیسے ہی انکی کار ایک خوبصورت سے گھر کے آگے روکی تو اس نے پریشانی سے گردن موڑ کر سکندر کو مخاطب کیا جو اپنے ہاتھ میں موجود ریموٹ سے گیٹ کھول رہا تھا
اس نے اپنے سیف ہاؤس میں توفیق کو رکھا ہوا تھا جہاں اسکا علاج چل رہا تھا
‘” معلوم ہو جائے گا ابھی اندر چلو ”
وہ اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولتا باہر نکلا اور ساتھ ہی عمارہ کو بھی باہر آنے کہ اشارہ کیا
وہ جانتا تھا وہ اس ناراض ہے اور اپنے باپ کی حالت وہ برداشت نہیں کر پاۓ گی اس لئے اسکو سنبھالنے کے لئے عمارہ کو اپنے ساتھ لایا
تاکہ وہ اسکے درد میں اسکا سہارا بن سکے ورنہ پچھلے دو دن سے اس نے سکندر کو مخاطب کرنا تو دور اسکی طرف دیکھنا بھی چھوڑ دیا تھا
سکندر سے اسکی بےرخی برداشت نہیں ہو رہی تھی مگر مجبور تھا اپنے غصّے میں اسکو کوئی تکلیف بھی نہیں دینا چاہتا تھا ورنہ وہ اس سے اور دور چلی جاتی
وہ تینوں آگے پیچھے اندر داخل ہوئے مہرہ کی سمجھ نہیں آ رہا تھا آخر وہ اسکو یہاں کیوں لایا ہے
ایک گیٹ کے پاس آکر وہ روکا تھا
‘” جاؤ جاکر مل لو اپنے بابا سے میں جا رہا ہوں کل واپس لے جاؤں گا تمھیں”
وہ دروازے کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا اور پھر سے واپسی کے لئے پلٹ گیا
اسکو ایک ضروری کام سے جانا تھا دوسرا وہ مہرہ کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا
اسکا اشارہ ملنے کی دیر تھی مہرہ تیزی سے اندر داخل ہوئی مگر اسکی نظر جیسے ہی سامنے بیڈ پہ لیٹے اپنے بابا پہ پڑی تو اسکی چیخ سکندر کے کانو میں پڑی وہ خود پہ ضبط کرتا آگے بڑھ چکا تھا
‘” بابا ..بابا ..یہ کیا ہوا میرے بابا کو ..بابا آنکھیں کھولیں”
روتی ہوئی اپنے باپ کو پکار رہی تھی جو بیڈ پہ لیٹے ہوئے تھے
آس پاس رکھی مشین انکے زندہ ہونے کا ثبوت تھی
اسکے تو کبھی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی دوبارہ آپنے باپ سے اس حالت میں ملے گی
عمارہ جو گیٹ پہ کھڑی تھی اسکی رونے کی آواز سن کر جلدی سے اندر داخل ہوئی
کیونکہ اسکے سوالوں کے جواب سکندر پہلے ہی انہیں دے چکا تھا
مگر انکی نظر جیسے ہی بیڈ پہ لیٹے شخص پہ پڑی تو وہ اپنی پلکیں تک جھپکانا بھول گئی تھی
انہیں اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آ رہا تھا
اتنے سالوں بعد وہ اس شخص کو دیکھ رہی تھی جسکے ملنے کی امید وہ کب کا کھو چکی تھی
وہ کبھی توفیق کو دیکھتی تو کبھی انکے پاس کھڑی مہرہ کو جو بری طرح رو رہی تھی
‘” عمارہ پلیز آپ ہی مجھے کچھ بتاؤ نہ میرے بابا کی حالت کیسے ہوئی کس نے کیا انکے ساتھ ایسا کہیں سکندر نے تو..”
وہ اس وقت اس سے اتنی بدگمان ھو چکی تھی کہ اسکو لگ رہا تھا اسکے باپ کی یہ حالت سکندر نے ہی کی تھی
عمارہ جو بس ایک ٹک بیڈ پہ لیٹے توفیق کو دیکھے جا رہی تھی مہرہ کے مخاطب کرنے پہ جیسے ہوش میں آئی تھی
‘” نہیں بیٹا وہ اتنا برا نہیں جتنا تم نے اسے سمجھ لیا ہے اس نے تو تمہارے بابا کی جان بچائی ہے ”
انہوں نے فورا اپنے آپ کو سنبھال کر اسکی غلطفہمی دور کرنی چاہی تھی
جبکہ دل میں کئی سوال تھے
توفیق نے شادی کر لی اور مہرہ اسکی بیٹی تھی ..تو کیا وہ اسکو بھول گیا تھا
ساتھ ہی وہ قسمت پہ حیران بھی تھی جو پھر سے انہیں ملا گئی تھی
“” میرے بابا کی تو کسی سے بھی دشمنی نہیں تھی تو پھر کون کرے گا ایسا..اور پھر اس نے مجھ سے اتنی بڑی بات چھپا کر کیوں رکھی ”
اسکو اب بھی یقین نہیں آیا تھا عمارہ کی بات سے
اگر سکندر نے اسکے بابا کی بچائی تھی تو آج تک اسکو کیوں نہیں بتایا تھا
‘” تم کچھ نہیں جانتی بیٹا ایسی بہت سی باتیں ہیں جن سے تم اب تک ناواقف ہو ..رہی بات تمھیں نہ بتانے کی تو وہ تمھیں تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا اس لئے آج تک تم سے چھپا کر رکھا ہوا تھا تمہارے بابا کی جان کو ابھی بھی خطرہ ہے ”
وہ اپنی پوری کوشش کر رہی تھی اسکے دل سے سکندر کے لئے بدگمانی نکالنے کے لئے
انہیں سکندر نے یہ نہیں بتایا تھا کہ توفیق کی جان کے پیچھے کون پڑا ہوا ہے اگر وہ تاشا کا نام لے لیتا تو انہیں سمجھنے میں دیر نا لگتی
‘” اگر اسے میری تکلیف کا اتنا ہی خیال تھا تو میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکا نہ کرتا اور عمارہ اسکے ساتھ آپ بھی برابر کی ذمہ دار ہیں کم از کم آپ تو مجھے سب بتا سکتی تھی ”
اب وہ عمارہ پہ اپنا غصّہ نکال رہی تھی
وہ اسکے ساتھ رہتی تھی اور انہوں نے اتنی بڑی بات اس سے چھپا کے رکھی ہوئی تھی اس لئے مہرہ کو عمارہ بھی اتنی ہی ذمہ دار لگتی تھی
‘” بیٹا میں چاہتی تھی تمھیں سب بتانا پر مجبور تھی سکندر کی وجہ سے.. اور تمہارے بابا کی حالت کے بارے میں بھی مجھے کل ہی معلوم ہوا تھا
وہ تمھیں فلحال یہاں نہیں لانا چاہتا تھا جب تک تمہارے بابا کی طبیعت صحیح نا ہو جاتی پر ”
انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ مہرہ کے اوپر کیا گزر رہی ہوگی پہلے سکندر کا سچ اور اب اپنے بابا کو اس حال میں دیکھ کر وہ پوری طرح ٹوٹ چکی تھی
عمارہ کی بات سن کر اس بار مہرہ خاموش ہی رہی
اپنے بابا کو اس ہال میں دیکھ کر اسکو بہت تکلیف ہو رہی تھی اور وہ سکندر کے بارے میں بات کر کے اپنی تکلیف مزید نہیں بڑھانا چاہتی تھی
‘” ڈاکٹر کا کیا کہنا ہے میرے بابا کب تک ایسے ہی رہنے گے”
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے پھر سے عمارہ کو مخاطب کیا تھا
‘” تمہارے بابا ٹھیک ہو رہے ہیں ڈاکٹر کا کہنا ہے انہیں کبھی بھی ہوش آ سکتا ہے تم بس دعا کرو انکے لئے ”
عمارہ نے ایک نظر توفیق کے چہرے کو دیکھ کر اپنے آنسو ضبط کئے تھے
انہیں ڈر تھا وہ مہرہ کے سامنے اپنا ضبط نہ کھو دے
انکا جواب سن کر وہ پھر سے خاموش ھو گئی تھی اسکو دعا کرنی تھی اپنے بابا کے لئے اور دوسرا اسے جلد ہی یہاں سے بھی نکلنا تھا
پورا دن اسکا اسی سوچ میں گزرا تھا سارا وقت وہ اپنے باپ کے پاس سے ہلی تک نہیں
دوسری طرف عمارہ تھی انکا بھی ہال اس سے کچھ کم نہیں تھا
‘” عمارہ آپ جاکر دوسرے کمرے میں آرام کر لیں میں یہیں اپنے بابا کے پاس رہوں گی ویسے بھی آج آپ میری وجہ سے تھک گئی ہونگی ”
اس ساری جگہ کا مکمل جائزہ کر لینے کے بعد وہ صوفہ پہ بیٹھی عمارہ سے مخاط
‘” عمارہ آپ جاکر دوسرے کمرے میں آرام کر لیں میں یہیں اپنے بابا کے پاس رہوں گی ویسے بھی آج آپ میری وجہ سے تھک گئی ہونگی ”
اس ساری جگہ کا مکمل جائزہ کر لینے کے بعد وہ صوفہ پہ بیٹھی عمارہ سے مخاطب ہوئی
سب سے پہلے اسے عمارہ کو یہاں سے بھیجنا تھا
” ٹھیک ہے بیٹا اگر تمھیں کسی بھی چیز سکو ضرورت ہو تو مجھے آواز دے دینا ”
وہ وہاں سے اٹھانا تو نہیں چاہتی تھی مگر مجبوراً اٹھنا پڑا
عمارہ کے جانے کے کچھ دیر بعد وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور روم سی نکل کر باہر آئی
کل سکندر اسکو لینے آ جاتا مگر وہ اب اسکے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی
جب تک اسکا باب ٹھیک نا ھو جاتا
اسے جلد ہی یہاں سے نکلنا تھا اور آج پورے دن اس جگہ پہ رہ کر وہ یہاں سے بھاگنے کا راستہ ڈھونڈھ چکی تھی
اسکا اپنے بابا کو چھوڑکر جانے کا دل نہیں تھا مگر وہ جس ہال میں تھے وہ انہیں اپنے ساتھ بھی نہیں لے جا سکتی تھی لیکن اسکو سکندر سے دور بھی جانا تھا اسکے جانے کے بعد وہ کیا کرتا اس نے سوچا نہیں تھا نہ وہ سوچنا چاہتی تھی
🍁🍁🍁🍁
(جاری ہے )
‘”