Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 48
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 48
Log Kya Kahe Gy by Umme Hani
عفیرہ سے نا تو روٹی ڈھنگ سے بنتی تھی ۔۔۔ نا ہی کھانا ۔۔۔ اور جو تھوڑا بہت وہ لحاظ مروت شادی کے شروع میں دیکھا رہی تھی اب وہ بھی کب تک دیکھاتی عادت جو نہیں تھی اس لئے اپنی اصل پر واپس آ چکی تھی لیکن سامنے ظفر تھا ۔۔۔ نوفل یا زیان نہیں ۔۔۔ جو لحاظ رکھ جاتا
” مجھے ایسا ہی پکانا آتا ہے ۔۔۔ کھانا ہے تو کھاؤ ورنہ بازار سے لے آؤں ۔۔۔۔ میں ملازمہ نہیں ہو اس گھر کی ” ظفر کی تنقید اور ہر چیز میں عیب بینی نکالنے کی عادت وہ زچ ہو کر بولی لیکن آگے سے بڑا زور دار تھپڑ منہ پڑا تھا ۔۔ ۔ عفیرہ کا دماغ چکرا کے رہ گیا تھا
“کمینی زبان چلائے گی میرے سامنے ۔۔۔۔زبان کاٹ دونگا تیری ” ظفر کی سرخ آنکھیں دیکھ وہ چپ ہو کر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ
رونے لگی تھی کس عذاب میں پھنس گی تھی ۔۔۔
اپنے جنت جیسے گھر کی قدر نہیں کی تھی ۔۔۔ اور اب اس جہنم میں رہنا مشکل ہو رہا تھا
ظفر کا ایک بار جو ہاتھ اٹھا تو پھر اٹھتا ہی چلا گیا ۔۔۔۔
اس کے بچے بھی اسی کی طرح بے حس سے تھے ۔۔۔ باپ کے سامنے عفیرہ کی برائیاں کرنے میں ماہر تھے ۔۔۔۔عفیرہ کی زندگی دوبھر ہو کر رہ گئ تھی
رات کو آڑی ٹہری روٹیاں آدھی کچی اور آدھی پکی دیکھ کر ظفر کا پھر سے پارہ ہائی ہوا تھا ۔۔۔
اس بار اس نے عفیرہ کو اسکی چٹیا سے پکڑااور کچن میں لے جا کر کھڑا کر دیا ۔۔۔۔
” تنگ آ گیا ہوں تیرے ہاتھ کی ایسی روٹیاں کھا کھا کے ۔۔۔۔ آج میں تجھے تب تک کچن سے باہر نکلنے نہیں دو گا جب تک تو روٹی ٹھیک سے نہیں بنا لیتی ۔۔۔۔
کم بخت نا جانے تیرے پہلے میاں نے دو سال تجھے برداشت کیسے کیا ہے ۔۔۔۔ ارے روٹی تک نہیں بنانی آتی تجھے ۔۔۔۔ مجھے تو لگتا ہے تیری انہی کرتوتوں کی وجہ سے اس نے اپنی جان چھڑائی ہے ۔۔۔ ” ظفر کے روز کے ایسے طعنے سن سن کر وہ پریشان ہو کر رہ گئ تھی ۔۔۔
” ہاں چھڑوائی ہے اس نے مجھ سے اپنی جان ۔۔۔ تو بھی چھڑوا لے ۔۔۔ اور جان چھوڑ دے میری بھی ” عفیرہ نے غصے اور ضبط سے ظفر کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا وہ معنی خیز ہنسی ہسنے لگا
” نہیں عفیرہ بیگم میں تمہاری جان نہیں چھوڑنے
والا۔۔۔۔میں تیرے پہلے شوہر جیسا شریف نہیں ہوں جو چپ ہو جاؤں اور تجھ سے تنگ آ کر تیرا پیچھا چھوڑ دوں ۔۔۔۔۔ میں تو تمہیں ایسا سدھارو گا کہ یاد کرو گی تم بھی ۔۔۔۔ چلو روٹیاں بنانی شروع کرو ورنہ اتنا مارو گا کہ منہ بھاڑ دوں گا تمہارا ” اپنی خونخوار آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے ظفر نے اپنے لہجے سے قہر برسایا تھا ۔۔۔۔
دو گھنٹے وہ اسکے سر پر کھڑا رہا ۔۔۔۔ جیسے ہی روٹی وہ کچھ ٹہری بیل جاتی وہ پھر اسے بیلنے کے لئے کہتا رہتا۔۔۔ عفیرہ ہانپ کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔
اپنی قسمت پر جی بھر کے رونا آ رہا تھا ۔۔۔۔ کیسے کیسے عیش کیے تھے مائرہ کے سر پر ۔۔۔۔ معلوم ہی نہیں تھا کہ امور خانہ داری کہتے کسے ہیں
******…….
عرفان اپنی غلطیوں ہر جتنا روتا اتنا کم تھا ۔۔۔
” کاش کے میرے اختیار میں ہو تو میں سب سے چیخ چیخ کر کہہ دوں کے کبھی کسی کی باتوں میں آکر کبھی اپنی بیوی پر شک مت کرنا ناہی اس پر ظالم جبار بن جانا ۔۔۔۔
اللہ نے ہر انسان کو عقل و شعور کی نعمت سے نوازہ ہے ۔۔۔۔ نا تو بیوی کی آنکھ سے ماں کو دیکھنے کی کوشش کرے نا ہی ماں کی آنکھ سے بیوی کو دیکھے ۔۔۔۔
اگر معاشرے کی نظر سے ہٹ کر دین کے سنہری اصولوں پر عمل کیا جائے تو زندگی کی تلخیاں جنم ہی نا لیں ۔۔۔۔ کیونکہ
ماں کی خدمت بیٹے پر فرض ہے بہو اگر ساس کی خدمت کر دے تو اس کا احسان ہے مہربانی ہے
لیکن جبرنا بیوی سے ماں اور بہنوں کی خدمت کروانا جائز نہیں ۔۔۔ لیکن ہمارے معاشرے میں بیوی کو صرف شوہر کی ہی اجازت درکار نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔
اپنے ہی والدین سے ملنے کے لئے ساس صاحبہ کے کی اجازت بھی کئ کئ مہنے نہیں ملتی۔۔۔۔۔ بہو کو بہو کادرجہ کم اور ایک نوکر کی حثیت ذیادہ ملتی ہے ۔۔۔ شوہر ایک ایسی شخصیت کا کردار ادا کرتا ہے کہ بیوی پر حق کے نام پر اپنے گھر والوں کی زیادتیاں برداشت کرنے کا ذریعہ بنا رہتا ہے ۔۔۔۔ عورت زندگی صبر کے نام پر گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔۔۔۔ اور اگر بات کردار پر اٹھ جائے تو ۔۔۔۔ مرد عورت کی ساری وفائیں بھول کر اسکے سر سے عزت کی چادر اتارنے میں دیر نہیں لگاتا ۔۔۔۔ اور پھر جب سچ سامنے آتا ہے تو عرفان کی طرح
بعد کا پچھتاوا ۔۔ زندگی بھر کی کسک بنکر رہ جاتا ہے ۔۔۔
شبو کو اپنی غلطی کا احساس ہوا بھی تو تب۔۔۔۔ جب اپنے ہاتھوں سے لگائی گئی آگ نے اسکے گھر کو جلایا تھا اگر شہزاد دوسری شادی نا کرتا تو شاید اسے بھی احساس نا ہوتا ۔۔۔۔ وہ سب بھی ویسی ہی رہتی
عرفان نے فرقان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تھی ۔۔۔ کچھ ثانیے تو وہ عرفان کو تاسف سے دیکھتا رہا ۔۔۔ وہ ہاتھ اس سامنے رو رہا تھا ۔۔۔۔
اپنے کیے کی بڑی سخت سزا پا لی تھی جو بھی تھا جیسا بھی تھا لیکن تھا تو بھائی ہی جس نے باپ کے انتقال کے بعد انہیں بے آسرا نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔۔
آنکی تعلیم مکمل ہو جائے وہ ایک کامیاب زندگی گزاریں ۔۔۔ عرفان نے اپنی تعلیم ادھورہ چھوڑ کر باپ کی دوکان سنبھال لی تھی۔۔۔۔ فرقان نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا تھا ۔۔۔۔
” میں نے آپ کو معاف کیا بھائی ۔۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی گلا نہیں ہے۔۔” فرقان نے اسے گلے لگا کر ہر گلے شکوے کو دور کر لیا تھا ۔۔۔
*******……..
احمر شزا کے کمرے میں داخل ہوا وہ تذبذب سی بیڈ پر بیٹھی تھی زیان کی افراتفری نے سوجھ بوجھ ہی گم کر دی تھی ۔۔۔۔ آنا فانا نکاح بھی ہو چکا تھا
” تم یہاں بیٹھی شزا ۔۔۔ اور باہر تمہارے شوہر نے دہائی ڈال رکھی ۔۔ کہہ رہا اپنی بیوی کو لے جائے بغیر یہاں سے نہیں جاوں گا ۔۔۔ ” احمر نے مسکرا کر بہن کو تنگ کیا تھا ۔۔ وہ پہلے ہی پریشان سی بیٹھی تھی احمر کی بات پر تو دل اچھل کر حلق میں آیا تھا ۔۔۔
” م۔۔۔میں۔۔۔۔ ابھی نہیں جاؤں گی احمر بھائی۔۔۔۔ میں نے پہلے ہی کہہ دیا چچی کو کے رخصتی ابھی نہیں ہو گی “۔ وہ سٹپٹا کر بولی تھی احمر اس کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ اس کا ہاتھ تھام لیا جو برف کی مانند سرد تھا وہ خود بھی گھبرائی ہوئی تھی بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئ
” کل بھی تو رخصت ہو کر اسی کے ساتھ جانا ہے پھر آج کی اس ضد کا کیا فائدہ ۔۔۔۔ شزا زیان سے زندگی کی شروعات پرانی باتوں کو بھلا کر کرنا ۔۔۔۔
بڑی ہمت دیکھائی ہے آج اس نے تمہارے حوالے سے ۔۔۔۔ ثابت کر دیا ہے کہ تمہیں بہت چاہتا ہے ۔۔۔۔ “
” احمر بھائی ” شزا اب بھی نروس سی تھی
” شزا خوشیاں اگر دہلیز پر کھڑی ہوں تو انہیں انتظار نہیں کراوتے ۔۔۔۔ بلکہ تھام لیتے ہیں ۔۔۔۔ زیان تمہیں بہت خوش رکھے گا ۔۔۔ ” وہ شزا کے سر پر بوسہ لیکر اسے باہر لے گیا ۔۔۔ زیان پرایک ہی نظر شزا کی پڑی تھی ۔۔۔ وہی عام سے لباس میں ملبوس تھا بڑی ہوئی شیو روئی ہوئی آنکھیں ۔۔۔ بال تک سلیقے سے بنے ہوئے نہیں تھے ۔۔۔۔ آنکھوں میں ڈھیروں شکوے بھی تھے ۔۔۔ جنہیں لب کہنے کے لئے اتنے بے تاب تھے کہ چند دن کا انتظار کون کرتا ۔۔۔ شزا نے فورا سے نظریں جھکا لیں تھیں ۔۔۔
شزا بھی زیان کو کہیں سے دلہن نہیں لگ رہی تھی
نا چہرے پر ایسا کوئی روپ تھا ۔۔۔ نا ہی خود کو اتنا سجایا تھا ۔۔۔
” دل میں کوئی امنگ ہوتی تو ہی چہرہ بھی گل نار ہوتا شزا ۔۔۔۔ مجھ سے تم یہ بات چھپا نہیں سکتی کہ تم شادی کے نام پر صرف سمجھوتا کرنے جا رہی تھی ۔۔۔ ” زیان دل میں اس سے مخاطب تھا ۔۔۔احمر نے شزا کا ہاتھ زیان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے زیان سے بولا
” اب تو تھوڑا سا مسکرا دو ۔۔۔ تا کے دلہا تو لگو ” احمر کی بات پر وہ خفیف سا مسکرایا تھا ۔۔۔۔
شزا کے سرد ہاتھ میں ہلکی ہلکی لرزش سی تھی زیان کی گرفت اس کے ہاتھ میں مضبوط تھی ۔۔۔ شزا کے اور والدہ بھی شزا کے سر پر پیار دینے لگے ۔۔۔ زیان کی ہمراہی میں ہی وہ اسی گھر کے دوسرے پورشن میں جا چکی تھی چچی نے دعائیں دیتے ہوئے ہی اپنے گھر پر اس کا استقبال کیا تھا ۔۔۔
” شادی تو خیر سے ہو گئ ہے لیکن ولیمے پر میں اپنے سارے ارمان پورے کروں گی ۔۔۔ تمہیں چچی سے کوئی شکایت نہیں رہے گی بیٹا ” شزا کا چہرہ زیان کی والدہ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر فرحت محبت سے دیکھتے ہوئے کہا
وہ تو بلکل چپ تھی ۔۔۔ ہاتھ اب بھی زیان کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔۔ وجود ساکت تھا بس دل کا شور عروج پر تھا ۔۔۔۔ زیان کے کمرے ۔میں وہ اسی کے ہمراہ داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔ دروازہ بند ہوتے ہی اپنا ہاتھ اس سے چھڑوایا تھا ۔۔۔۔ وہ شاید اس کا رد عمل جانتا تھا اس لئے بڑے مطمئن انداز سے پلٹ کر دروازہ لاک کیا تھا ۔۔۔ پھر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔ اس کی ناراض ناراض صورت دیکھنے لگا اس کے بولنے کا،منتظر تھا
” چچی کا کوئی قصور نہیں تھا زیان ۔۔۔ جو آپ نے سب کے سامنے یوں انہیں پریشان کیا ہے ۔۔۔۔ ہر ماں کی اپنے بچوں کو لیکر بہت سی خواہشات ہوتی ہیں
۔۔۔ آپ کے لئے بھی انکے دل میں کچھ ارمان تھے تو وہ نا جائز تو نہیں تھے ۔۔۔ “
” تم انکی اولین ۔ خواہش رہ چکی ہو شزا ۔۔ جب سے پیدا ہوئی ہو انہوں نے تمہیں بہو سمجھ کر دیکھا ہے ۔۔۔ میری بیوی کے روپ میں وہ تمہیں تب سے دیکھتی آ رہی۔ ہیں جب سے تم نے دنیا کو ٹھیک سے دیکھنا بھی شروع نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ میں نے تواپنی ماں کی دلی خواہش کو پورا کیا ہے ۔۔۔ بس آجکل۔۔۔ لوگ کیا کہیں گئے ۔۔۔ نام کی پٹی انکی آنکھوں میں بندھ چکی تھی میں نے صرف وہ اتاری ہے ۔۔۔ بس اب سب ٹھیک ہے انہیں اب بھی تم بہت عزیز ہو ۔۔۔ ” آج توزیان اسے لا جواب کرنے پر تلا ہوا تھا ۔۔۔۔ اب اور کیا بات کرتی اس سے ۔۔۔۔ تیز قدم اٹھاتے ہوئے اس کے بیڈ پر بیٹھ گئ
” میں نے رخصتی سے منع کیا تھا لیکن آپ ۔۔۔ ” دوسری بات کا خیال شزا کو آنے لگا ۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے اس کے سامنے آ کر بیٹھ گیا کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔ سچ آج زبان پر لانے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہو رہی تھی
” اتنا صبر کہاں سے لاتا ۔۔۔۔ تمہاری طرح صابر نہیں ہوں شزا ۔۔۔۔۔نا ہی اتنا پہاڑ جیسا حوصلہ رکھتا ہوں
جو کچھ تم بڑی آسانی سے سہہ جانے کے لئے تیار ہو جاتی ہو۔۔۔۔ میں تو سوچ کر بھی کانپ جاتا ہوں ۔۔۔۔ کتنے دن سے تمہیں دیکھا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔
تم جو کرنے جا رہی تھی ۔۔۔ جانتی ہو کتنا اذیت میں گزارے ہیں یہ دن میں نے ۔۔۔۔ اب نکاح کے بعد کا صبر تو میرے لئے سر بھی مشکل تھا ۔۔۔۔ ” زیان کا اظہار اب خزاں کادل دھڑکسنے لگا تھا بس ایک خدشہ دل میں رہ گیا تھا جو کہنے سے خود کو روک نہیں سکی
” زیان ۔۔۔ آپ میرے بارے بہت سی حقیقتوں سے واقف نہیں ہیں۔۔۔۔۔ نا ہی انہیں بتانے کی میں ہمت رکھتی ہوں ۔۔۔ میں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ کچھ نہیں دے سکتی ہوں آپ کو ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ ضبط کھونے لگی تھی اسے لگا جب زیان پر یہ حقیقت آشکار ہو گئ تو اپنے اس جذباتی فیصلے پر پچھتائے گا
” شزا مجھے اولاد نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔” جو بات وہ زبان پر لا نہیں پا رہی تھی ۔۔ زیان نے باآسانی کہہ دی تھی۔۔۔ شزا کی سرعت سے نظریں اٹھیں تھیں ۔۔۔ تو کیاوہ واقف تھا بات سے ۔۔۔ پھر بھی اسے اپنا لیا ۔۔۔۔
” آ۔۔۔۔پ جانتے تھے زیان کہ میں ۔۔۔۔”
” ہاں ۔۔۔ بہت پہلے سے جانتا تھا ۔۔۔۔ “
” پھر بھی ۔۔۔ ۔مجھ سے ” شزا بے یقین سی تھی
” میں صرف تمہاری محبت کا طلبگار ہوں اور وہ تم مجھے دے سکتی ہو ۔۔۔ بہت سے میاں بیوی ایسے بھی ہیں جن کے کبھی اولاد نہیں ہوتی لیکن وہ اداس ہونے کے بجائے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اتنے خوش رہتے ہیں کہ بے اولادی کا کبھی ملال ہی نہیں ہوتا ۔۔۔ اب یہ تو اللہ کی مرضی ہے نا شزا تمہارا تو کوئی قصور نہیں ۔۔۔ پھر جس پر اپنا اختیار ہی نہیں اس پر مغموم رہ کر دل جلانے سے تو بہتر ہے کہ جو ہمہیں ملاہے اسی کو سمیٹ لیں ۔۔۔۔ ” شزا کے پاس تو جیسے سارے سوال ہی ختم ہوئے تھے ۔۔۔۔ کیا کہتی اس سے جو اسے آج لا جواب کرنے پر تلا ہوا تھا ۔۔۔۔ اس لئے نظریں جھکا گئ ۔۔۔۔ زیان اس انتظار میں تھا کہ اب شزا تیسرا گلا کرے گی اور اسکے بعد چوتھا پانچواں بھی شاید بڑی لمبی فہرست ہے ۔۔۔۔ اس کی ناراضگی کی ۔۔۔ لیکن جب خاموشی کی طول پکڑ گی تو دھیرے سے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
” بس اتنی ہی شکایت تھی مجھ سے ۔۔۔۔ مجھے تو لگا
آج بھی تم میرا ہاتھ پکڑو گی اور کمرے باہر نکال کر دروازہ دھاڑ سے میرے منہ پر بند کر دو گی ۔۔۔۔
اور کہو گی ۔۔۔۔ زیان دوبارہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کیجیے گا “
” زیان نے مسکراتے ہوئے اس پر جتایا تھا ۔۔۔ وہ خفت میں مبتلا ہوئی تھی
” لیکن نکاح کے دو بولوں نے تو غضب سا کر دیا ہے ۔۔۔ میری شزا کے سارے شکوے ہی دور کر دیے ہیں ۔۔۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ میری اس نک چڑی اور نخریلی سی کزن پر نکاح کا طلسم اتنی جلدی اثر کر جائے گا ۔۔۔۔ ” زیان کی چھڑ چھاڑ پر اس نے خفگی سے اسے دیکھا تھا
” میں نک چڑی ۔۔۔ اور نخریلی تو نہیں ہوں ” شزا نے فورا سے زیان کی بات کی تردید کی تھی وہ اپنی ہنسی دبانے لگا
” پھر کیا ہو ۔۔۔ مجھے تو ایسی لگتی ہو ۔۔۔ اور ایسی ہی اچھی بھی لگتی ہو ” اسکے ہاتھ کو اپنے ہونٹوب پر لگاتے ہوئے پوچھنے لگا
شزا چپ سی ہو گئ تھی ۔۔۔ زیان کی نظروں میں اب صرف وارفتگی تھی محبت تھی ۔۔۔ وہ نظریں جھکا گئ تھی ۔۔۔ چہرے پر اب حیا کے رنگ تھے ۔۔۔۔
” تمہاری منہ دیکھائی ادھار ہے مجھ پر ۔۔۔ اور اس وقت تو جیب میں۔ حق مہر کی رقم بھی موجود نہیں ہے ۔۔۔۔ کیا خیال ہے شزا ۔۔۔ ادھار تو چل سکتا ہے نا اب ہمارے درمیان ۔۔۔۔ ” شزااس بار بھی لا جواب تھی۔۔۔۔ بس ایک مسکان سی تھی جو اسکے چہرے پر آ کر ٹہر گئ تھی ۔۔۔۔
******……..
کچھ پل کے لئے تو نوفل اور مائرہ کی بولتی ہی جیسے بند سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔
“بتائیں ناچاچو ۔۔۔ میں نے دیکھا تھااپ کو ۔۔۔ قبول ہے ” کہتے ہوئے مما کو بھی دیکھا تھا ۔۔۔۔ ” عائزہ کو ہر بات یاد تھی ۔۔نوفل کیا جواب دیتا اسے۔۔۔۔ کبھی کبھی بچے بھی وہ سوال پوچھ لیتے ہیں کہ بڑے لاجواب ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ مائرہ کا ضبط جواب دے گیا تھا
” عائزہ یہ کیا فضول چینل لگا کر دیکھ رہی ہو تم ۔۔۔ بند کرو ٹی وی ۔۔ کھانا کھاؤ آکر ” وہ اٹھ کر مائرہ کے پاس آ گئ
” مما کیا آپ چاچو کی دلہن ہیں ؟” عائزہ نے اپناسوال دہرایا تھا
” نہیں ہوں میں کسی کی بھی دلہن ۔۔۔ بہت فضول بولنا آ گیا تمہیں خبردار جو آئندہ یہ بات بھی تم زبان پر لائی تو ۔۔۔۔ ” مائرہ غصے سے اسے گھورتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ نوفل نے بھی لیپ ٹاپ بند کیا اور اٹھ کر عائزہ کے پاس آ گیا ۔۔۔ جانتا تھا کہ مائرہ غصے میں ہے ۔۔۔ عائزہ کو ڈانٹ ڈپٹ کرے گی ۔۔۔ اور نوفل سے کہاں برداشت تھا کہ کوئی عائزہ کو کچھ کہہ دے ۔۔۔
” آئندہ کچھ نہیں کہے گی ۔۔۔ اب آپ بھی ٹھنڈا پانی پی کر اپنا غصہ ٹھنڈا کریں ۔۔۔ ” نوفل نے مائرہ سے یہ کہہ اسے اور تپا دیا تھا
” نوفل ۔۔۔ چپ رہو تم بھی ۔۔۔ اصل تم ہی نے اسے بگاڑا ہے ۔۔۔ جھبی اتنی زبان کھل گئی ہے اسکی ۔۔۔ بنا سوچے سمجھے جو منہ آتا ہے بول دیتی ہے ” نوفل نے تیکھی نظر اس پر ڈالتے ہوئے بات کو اڑانا چاہا تھا
” چلیں۔۔۔۔ اب مجھ پر شروع ہو جائیں آپ کو شاید لڑنے کا موقع چاہیے ۔۔۔۔ بچی ہے وہ ۔۔۔ سات سال کی بھی ابھی نہیں ہے ۔۔۔۔ اسے کیاسمجھ ہے ان باتوں کی ۔۔۔۔اسے تو جو بات الجھائے گی وہ تو پوچھے گی ۔۔۔۔ اب آپ کھانا کھائیں ۔۔۔۔ ” نوفل بھی کرسی کھنچ کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔ عائزہ کو اس بار اپنے برابر والی کرسی کے بجائے اپنی گود میں بیٹھایا تھا ۔۔۔
” چاچو کی جان ہے یہ ۔۔۔ آج چاچو کے ہاتھ سے لگائے گی ۔۔۔۔ ” نوفل کا بس نہیں چلتا تھا عائزہ کواپنے اندر ہی بسا لے ۔۔۔ اتنی شدت سے اس پر پیار آتا تھا کہ وہ سمجھ نہیں پاتا تھا کہ ایسا کیوں ہے
وجہ شاید یہ تھی وہ اسکے گھر میں پہلی چھوٹی بچی تھی ۔۔۔ جب وہ چند دن بھی تھی تب بھی نوفل اسے گھنٹوں لیکر بیٹھا رہتا تھا ۔۔۔۔
کبھی اسکے نازک سے ننھے منے ہاتھ چومتا تھا ۔۔۔ کبھی آڑی ٹہری شکلیں بنا کر اسے دیکھتا تھا جب وہ اسے کر دیکھ کر مسکرانے لگتی تو نوفل کی خوشی قابل دید ہوتی تھی ۔۔۔ زریاب اور مائرہ کو خوشی سے بتاتا تھا
” دیکھیں زریاب بھائی عائزہ مجھے دیکھ کر مسکرائی ہے ۔۔۔۔ ورنہ بھابھی کو دیکھ کر تو ناک چڑھانے لگتی ہے ” نوفل مائرہ کو تنگ کرنے باز نہیں آتا تھا ۔۔۔
” ہاں جوکر کو دیکھ کر تو بچے یونہی مسکراتے ہیں ۔۔۔۔ اس لئے عائزہ مسکرا رہی ہے ۔۔۔ ” مائرہ نے بھی مسکرا کر نوفل کو دو با دو جواب دیا تھا نوفل کا مسکراتا چہرہ خفگی میں تبدیل ہوا تھا زریاب ہسنے لگا
” یہ تو بات تو ویسے ٹھیک کہی تم نے میری شہزادی بیٹی کو چچا کی صورت میں کاٹون بھی مل گیا ہے ۔۔۔ ہسانے لے لئے ” زریاب نے مائرہ ساتھ دیتے ہوئے کہا مائرہ کا تو اترانا لازمی تھا ۔۔۔ نوفل نے تعجب سے بھائی کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
” ہاں ہاں آپ نہیں بولیں گئے تو اور کون بولے گا۔۔۔۔۔ دیں دیں اپنی بیگم کا ساتھ دیں ۔۔۔ اب آ گئ ہے نا میری پاٹنر ۔۔۔۔ میری سگی بھتجی ۔۔۔ بڑا ہو لینے دیں اسکو ۔۔۔۔ میراساتھ دیا کرے گی ۔۔۔ میری زبان بولا کرے گی ۔۔۔۔ آپ لوگوں کی تو یوں چھٹی کروائے گی ” نوفل نے چٹکی بجا کر کہا تھا ۔۔۔مائرہ برجستہ بولی تھی
” نہیں نہیں ۔۔ اللہ نا کرے کے کبھی عائزہ تمہاری طرح باتونی ہو ۔۔۔۔ میں تو سیدھی پاگل خانے پہنچ جاؤں گی ۔۔۔ ادھر دو میری بیٹی ۔۔۔ تمہاری پہنچ سے دور رکھوں گی میں اسے ۔۔۔ تم اکیلے ہی کافی ہو میرے کان کھانے کے لئے ” مائرہ نے نوفل کی گود سے عائزہ کو لینا چاہا نوفل فورا سے عائزہ کو اپنے سینے سے بینچ لیا تھا
” ہرگز نہیں دونگا ۔۔۔۔ بہتر ہے کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں ۔۔۔ یہ تو جان ہے میری ۔۔۔ سینے لگاتا ہوں تو ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے ۔۔۔ ” نوفل کی عائزہ کے لئے محبت دیکھ کر زریاب کاچہرہ ضرور کھل جاتا تھا ۔۔۔۔
” مائرہ اسے رہنے دو نوفل کے پاس ۔۔۔۔۔ نہیں بگاڑتا اسے ۔۔۔۔ اب تک سب سے چھوٹا رہا ہے ۔۔۔۔ اس لئے اپنے سے چھوٹی عائزہ کو دیکھ کر ذیادہ ٹچی ہو گیا ہے سنبھالنے دو اسے ۔۔۔ چند دن میں تنگ آ کر تمہیں ہی پکڑائے گا ” زریاب نے ہی مائرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے پیچھے کیا تھا نوفل فورا سے بولا
” سوچ ہے آپکی ۔۔۔۔ میراایسا کوئی ارادہ نہیں ہے “
بس زریاب کی یادیں ہی رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔۔ سب کے پاس جنہیں سب وقتا فوقتا یاد کرتے رہتے تھے
عائزہ سے نوفل کی محبت کبھی بھی کم نہیں ہوئی تھی وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھ ضرور گئ تھی منزا جب انکی زندگی میں آئی تو عائزہ منزا کو دیکھ کر چڑچڑی سی ہو گئ تھی کیونکہ ماں باپ کی توجہ بٹ گئ تھی ۔۔۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے دوسرا بہن بھائی آ جائے تو پہلا بچہ حساس سا ہو جاتا ہے ۔۔۔ اس وقت بھی نوفل نے ہی عائزہ کو سنبھالا تھا کیونکہ منزا کو زریاب یا مائرہ کی گود میں دیکھ کر عائزہ منزا کو مارنے لگتی تھی ۔۔۔ بلاوجہ ضد کرنے لگتی تھی۔۔۔۔
” نوفل پلیز ذدا اسے تم سنبھال لو منزا ابھی سوئی ہے اور یہ روئے جا رہی ہے ۔۔۔ اسکی آواز پر وہ بھی اٹھ جائے گی تو رونے لگے گی ” زریاب عائزہ کو رات کو بھی نوفل کے پاس چھوڑ دیتا تھا ۔۔۔ رات کو وہ نوفل کے ساتھ ہی باتیں کرتے کرتے سو بھی جاتی تھی ۔۔۔۔ پھر ایسا اکثر ہی ہونے لگا تھا وہ نوفل سے اس قدر اٹیچ ہو چکی تھی کہ جب وہ آفس سے لوٹتا عائزہ اسکی گود میں آ بیٹھتی تھی ۔۔۔۔ پورے دن کی کہانی اس نے نوفل کو سنانی ہوتی تھی
اب بھی نوفل کے دل میں جو تڑپ عائزہ کے لئے اٹھتی تھی وہ ولی کے لئے بھی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔
چند دن بعد ہی نوفل نے عائزہ اور منزا کا اسکول میں داخلہ کروا دیا تھا ۔۔۔۔
لیکن جس دن صبح اسکول جانا تھا رات کو عائزہ نوفل کے کمرے میں آ گئ تھی
” چاچو مجھے اسکول نہیں جانا “
” کیوں چاچو کی جان اسکول کیوں نہیں جانا ہے”
” مجھے نہیں پڑھنا ہے چاچو بچے پھر سے وہی باتیں۔ کریں گئے ” عائزہ کی کوفت سے بولی
” کوئی کچھ نہیں پوچھے گا ۔۔۔ “
” آپ کو نہیں پتہ چاچو سب پوچھیں گئے ۔۔۔ “
” تم کہہ دیا کہ میں ہی تمہارا بابا ہوں ۔۔۔ پھر کوئی تم سے سوال نہیں کرے گا ۔۔۔ “
” لیکن آپ تو چاچو ہیں “
” ہاں لیکن یہاں نئے اسکول میں تو سب کو نہیں پتہ ۔۔۔ بلکہ عائزہ تم اب مجھے بابا ہی کہا کرو ۔۔۔ دیکھوں نا ولی بھی مجھے چاچو کہتا ہے ۔۔۔۔ اس لئے کے ۔۔۔تم چاچو کہتی ہو اس لئے منزا بھی چاچو کہتی ہے ۔۔۔ اور جو منزا کہتی ہے تو ولی بھی وہی کہتا ہے ۔۔۔ تم سب سے بڑی جو ہو ۔۔۔ اس لئے جو تم کہو گئ وہی منی بھی کہے گی اور جو منی کہے گی وہ ولی صاحب لازمی کہیں گئے ۔۔۔۔ ” نوفل نے بڑے پیار سے یہ بات عائزہ کے اندر اتارنی چاہی تھی ۔۔۔ عائزہ کچھ دیر سوچتی رہی ۔۔۔
” پھر بابا کو کیا کہو ؟”
” بابا کو بھی بابا ہی کہو ۔۔۔۔ اور تم مجھے یہ بتاؤ کہ میں کیا بابا جیسا نہیں لگتا ہوں ۔۔۔ ہمم ” اسے گود بھر کر نول نے اس کے رخسار کو چومتے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔۔
“لگتے ہیں ۔۔۔۔ مجھے توآپ سے بابا جیسی ہی خوشبو آتی ہے چاچو ۔۔۔ جب آپ کہتے ہی عائزہ میری شہزادی ہے تو آپ کی آواز میں مجھے بابا کی آواز سنائی دیتی ہے ۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے آپ نہیں بابا کہہ رہے ہیں ۔۔۔ ” چھوٹی سی تھی وہ لیکن ہر بات کو محسوس بہت کرتی تھی ۔۔۔ آنکھوں میں فورا سےموٹے موٹے آنسوں بھر لیتی تھی ۔۔۔ نوفل کا پیار بے اختیار تھااس پر
” تم یہ سمجھ لو کہ اللہ نے چاچو کو تمہارے بابا جیسا ہی بنا دیا ہے ۔۔۔۔ تا کہ عائزہ سے کوئی غلط سوال نا کر سکے ۔۔۔۔ عائزہ کواپنی باتوں سے دکھ نا پہنچاسکے ۔۔۔۔ اسی لئے تمہیں مجھ سے بابا جیسی خوشبو آتی ہے ۔۔۔ ” عائزہ کو سینے سے لگائے وہ اسے اعتماد دے رہا تھا ۔۔۔ اگر وہ اس عمر میں لوگوں سے سامنا کرنے گھبرائے گی تو کبھی بھی با اعتماد نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔ ورنہ مائرہ کی طرح اسے بھی ہمیشہ لوگوں کی ہی پروا ہو گی اور لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے وہ اپنی شخصیت ضرور کھو بیٹھے گی اور یہ نوفل نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔ ماضی خود کو دہراتا ہے ۔۔۔۔ اپنے والدین کی وفات کے بعد نوفل بھی ایسا ہی ہو گیا تھا ۔۔۔۔ تنہائی پسند سب کے سامنے جانے سے گھبراتا تھا لیکن اس وقت زریاب نے اسے سمیٹ لیا تھا ۔۔۔۔ اسے اعتماد دیا تھا ۔۔۔ آج اسکی باری تھی ۔۔۔۔ اسکے بیوی بچوں کو سنبھالنے کی ۔۔۔ پھر بھائی سے محبت کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ وہ انہیں سمیٹ لیتا
” بابا ” عائزہ نے اسکے سینے سے لگے ہوئے پہلی بار اسے بابا کہہ کر پکارا تھا ۔۔۔ اور ساتھ ہی۔ بلک بلک کر رونے بھی لگی تھی ۔۔۔۔ زریاب کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آنے لگا تھا
“, آپ سچ میں میرے بابا ہی ہیں ۔۔۔۔۔ ” عائزہ نے نوفل کی کمر سے اسے مضبوطی سے جکڑتے ہوئے کہا تھس
” ہاں میں تمہارا بابا ہی ہوں ۔۔۔۔۔۔ ” اسکی کمر سہلاتے ہوئے وہ نم آنکھوں سے اسے تسلی دے رہا تھا ۔۔۔۔
” آئی لو یو بابا ۔۔۔۔ “
” لو یو ٹو میری جان “, نوفل نے اسکے سر پر بوسہ دیا تھا ۔۔۔ پھر گڈ نائٹ کہتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئ
صبح صبح عائزہ خوشی خوشی تیار ہو کر اسکول گی تھی ۔۔۔۔ چھٹی پر بھی نوفل ہی اسے لینے آیا تھا ۔۔۔ بہت سی اپنی ہم عمر بچیوں کے ساتھ وہ باہر نکل کر نوفل کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بھاگ کر اس کے پاس آئی تھی
” آپ آ گئے بابا ۔۔۔ ان سے ملیں یہ سب میری نیو فرینڈز ہیں ” عائزہ برے اعتماد سے اپنی دوستوں کا نوفل سے تعارف کروا رہی تھی بس منزا اسے حیران آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ کہ وہ چاچو کو بابا کیوں کہہ رہی ہے
*******……..
رمشہ اپنی حالت زار پر آنسوں بھی نہیں بہا سکتی تھی ورنہ آنکھوں کا نمکین پانی جھلسے ہوئے چہرے پر لگتے ہیں اسے تڑپنے ہر مجبور کر دیتا اپنے آنکھوں کے آنسوں کو اندر دل میں کہیں گرانے کا ہنر تو رمشہ نے اب سیکھا تھا ۔۔۔۔۔ ۔۔ جب بدر اس کے سوپ پیالے میں لیکر آیا تو وہ اسی ضبط سے گزر رہی تھی ۔۔۔
” بدر مجھے بھوک نہیں ہے ؟ ” رمشہ نے صاف انکار کیا تھا۔۔۔ لیکن بدر اس کے سامنے بیٹھ گیا پہلے چمچ میں سوپ لیکر اس کے منہ کے قریب لے گیا
” میں نے کہا نا ۔۔۔۔بدر ۔۔۔۔مجھے نہیں کھانا۔۔۔۔۔ کچھ بھی ” وہ دھیرے دھیرے بول رہی تھی
” رمشہ یہ تمہارے لئے بہت ضروری ہے ۔۔۔ میڈسن بھی تو لینی ہے نا ۔۔۔ ” وہ بہت نرمی سے اس سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔ اس کی اپنایت ہی تھی کہ رمشہ چاہ کر بھی اس کے سامنے انکار نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔ جس طرح سے اس نے رمشہ کو ہاسپٹل میں سنبھالا تھا ۔۔۔۔ کوئی اور ہوتا تو اسے اسی حال میں چھوڑ کر چلا جاتا ۔۔۔۔ جب سے وہ گھر آئی تھی ۔۔۔۔ کئ بار اس کے والدین اسکی خیریت دریافت کرنے آئے تھے ۔۔۔۔ اس کی والدہ اس دیکھ کر رونے لگتیں تھی والد بھی چند لمحہ دیکھ کر رخ بدل جاتے تھے ۔۔۔۔ آج اسکی کولیگ اور دوستیں بھی ملنے آئیں تھیں ۔۔۔ لیکن رمشہ کو دیکھ کر ہی نظریں جھکا گئیں ۔۔۔ ان کے چہرے پر پھیلی نا گواری دیکھ کر رمشہ کو یوں لگا کے جیسے اس کا چہرہ قبیح صورت اختیار کر گیا ہے اتنی بد صورت کے کوئی بھی اسے دیکھ کر سہہ نہیں سکتا ۔۔۔۔ بدر کی والدہ بھی اسے نظریں جھکائے کی دوپہر میں سوپ پلا کر چلی جاتی تھیں ۔۔۔۔ اسے احساس تو نہیں دلاتی تھیں لیکن اسے دیکھ بھی نہیں سکتیں تھیں دائیں جانب سے چہرہ اور گردن بری طرح سے جھلس چکی تھی اتنی کہ شادی سرجری سے بھی پہلے جیسی نا ہو پاتی ۔۔۔ بدر بھی بار بار نظریں بدلتا رہتا تھا ۔۔۔لیکن کبھی رمشہ کو احساس نہیں ہونے دیا تھا ۔۔۔
مگر آج اسکی دوستوں کے چہروں نے اسے تذبذب سا کر دیا تھا ۔۔۔ رمشہ کو دیکھ کر ہی جھرجھری سے لینے لگیں تھیں ۔۔۔۔ چند منٹ بس خیریت پوچھ کر واپس چلی گیں
۔۔۔ کتنی بدنما ہو چکی تھی وہ ۔۔۔ کہ بدر نے کمرے سے سارے آئنے ہی ہٹوا دیے تھے۔۔۔۔ ابھی اس قابل نہیں تھی ذیادہ چل پھر سکتی ۔۔۔۔۔ اس لئے ذیادہ وقت کمرے میں ہی گزارتی تھی ۔۔۔۔۔
بدر کے ہاتھ سے سوپ پیتے ہوئے وہ بڑے گھور سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ پہلی بار بدر کا چہرہ اس نے اتنے گھور سے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ آج نا تو اسکی رنگت سیاہ لگ رہی تھی نا ہی اس کے نین نقش میں کوئی خامی نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔ سامنے بیٹھے شخص کی خوبصورتی یہ تھی کہ بہت خوبصورت سا دل رکھتا تھا ۔۔۔۔ احساس سے بھرا ہوا ۔۔۔ ہاسپٹل میں رمشہ نے اپنے تڑپنے ہر اسے روتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
” بدر مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔ میرے چہرے پر آگ جل رہی ہے بدر ۔۔۔۔ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی ۔۔۔ خدا کے لئے کوئی ٹھنڈی چیز اس پر لگادو “
چہرے پر دوا لگتے ہی رمشہ کو تڑپنے پر مجبور کر دیتی تھی ۔۔۔۔ وہ بدر کا ہاتھ پکڑ کر اپنی ساری اذیت کو تب ہی برداشت کر سکتی تھی جب تک اسکے ہاتھ کو دبوچ نہیں دیتی تھی ۔۔۔۔ اور وہ افف بھی نہیں کرتا تھا ۔۔ بس اسے تسلی دیتا رہتا تھا
” بس رمشہ پانچ منٹ برداشت کر لو ۔۔۔۔ مجھے معلوم ہے تمہیں بہت تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔۔ لیکن کچھ دیر میں فرق پڑ جائے گا ۔۔۔۔ ” رمشہ کی اذیت بس ایک بدر کا لہجہ اور اسکی ہمدردی ہی ٹھنڈی اوس کا کام دیتی تھی ۔۔۔۔
آگ لگنے سے سر کے سامنے کے بال بھی جل چکے تھے ۔۔۔۔
بدر نے سوپ پلا کر ٹشو سے اس کے ہونٹوں کو صاف کیا تھا ۔۔۔۔
” بدر میں نے شیشہ دیکھنا ہے “۔۔۔رمشہ کی بات پر وہ نظریں بدل گیا تھا
” دوا کھا لو اس کے بعد میں تمہارے ٹیوب لگادونگا ۔۔ پھر تم سو جانا ” سوپ کاباول اس نے سائڈ پر رکھتے ہوئے اسکی میڈسن نکالنے لگا ۔۔۔
” بدر میری بات کا جواب ۔۔۔۔ کیوں نہیں دے رہے ہو ۔۔۔ یہاں سے ڈرسنگ۔۔۔۔۔ کیوں ہٹوایا ہے ۔۔۔ کیا بد صورت ہو چکی ہوں میں ۔؟۔۔۔ ” دھیرے سے وہ رات بھرے لہجے سے بے بسی سے پوچھ رہی تھی
” کس نے کہا تم سے کہ تم بد صورت ہو گئ ہو ۔۔۔۔
بس ذراسے زخم ہیں ۔۔۔ ٹھیک ہو جائیں گئے تو ۔۔۔ میں سرجری بھی کروا دوں گا تمہارے پر بلکل ویسی ہی جاؤں گی ۔۔۔۔ ” بدر نظریں چراتے ہوئے بول رہا تھا جانتا تھا کہ سرجری کے بعد بھی اسکے جھلسا ہوا چہرہ بلکل ٹھیک نہیں ہو پائے گا ۔۔۔ بس قدرے بہتر ہو جائے گا ۔۔۔
” بدر مجھے خود کو دیکھنا ہے ۔۔۔ مجھے لگتا ہے میں ۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ بہت ۔۔۔ ” اپنے ہی منہ سے اپنی ہی بد نمائی کابولنے سے پہلے اس کے آنسوں آنکھوں سے نکلنے لگے تھی ۔۔۔
بدر نے فورا سے آنکھیں ٹشو سے پونچ دیں
” بس بس رونا نہیں رمشہ ورنہ پھر سے جلن شروع ہو جائے گی ۔۔۔۔ ” وہی اپنایت وہی پیار بھرا لہجہ تھا بدر کا
” بدر میری طرف دیکھوں ” نا جانے کیا بے چینی تھی رمشہ کے اندر ۔۔۔۔ کون سی تسلی چاہتی تھی کوئی بھی اس طرف مسلسل دیکھ نہیں پاتا تھا نظریں بدل لیتا تھا ۔۔۔ بدر کو اسکی فرمائش نے حیران کیا تھا ۔۔۔۔
یاد آنے لگا جب وہ پہلے۔ بھی اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتا تھا تو جیسے وہ چڑتی تھی
” یہ کیا تم مجھے پچھلے دس منٹ سے دیکھ رہے ہو ۔۔۔۔۔ کیوں تمہیں اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ تمہاری آنکھوں سے الجھن ہوتی ہے مجھے ” بدر بھی کبھی کبھی ڈھٹائی سے جواب دینے لگتا تھا
” بیوی ہو تم میری ۔۔۔۔ اس پر یہ ستم کہ ۔۔۔ حسن بھی کمال کا پایا ہے ۔۔۔ اب دل کو بھی میں کب تک سمجھاؤں ۔۔۔۔ جو کہتا ہے ۔۔۔ بدر اپنی نظروں سے رمشہ کا حسن کچھ اور نکھار دو ” بدر کی شوخ نظریں اور باتوں پر وہ نخوت سے ہی اسے گھورتی تھی
” تمہاری نظریں میرے حسن ہر ایک بد نما ٹیکے کی مانند ہے ۔۔۔۔ اس لئے۔ میرے چہرے پر یہ احسان مت ہی کیا کرو ۔۔۔۔ “
بات بہت کڑوی تھی ۔۔۔ بدر کے دل پر ضرب کی طرح سے لگی تھی ۔۔۔لیکن اب سہہ جانے کا عادی ہو گیا تھا
” خوبصورت چہرے پر کالا ٹیکہ لگ جائے تو۔ اسے بد نظری سے بچا لیتا ہے اور حسن بھی پہلے سے کچھ نکھرا نکھرا سا لگتا ہے ۔۔۔۔ میری نظریں اور قربت بھی ایسی ہیں سوئٹ ہارٹ ۔۔۔۔ “
وہ بھی جب ضد میں آتا تھا تو پیچھے نہیں ہٹتا تھا ۔۔۔ اپنا حق ڈنگے کی چوٹ پر وصول کرتا تھا اس سے ۔۔۔۔
لیکن پہلی بار رمشہ اسے ایک نئے امتحان میں ڈال رہی تھی ۔۔۔۔ جسے اسوقت دیکھنا ایک کڑی آزمائش تھی ۔۔۔۔ دائیں رخسار پر بسایک آنکھ ہی بچی تھی ۔۔۔ پورا رخسار اور دائیں گردن کا اوپری حصہ
سب سے ذیادہ متاثر ہوا تھا ۔۔۔ اور سامنے سر کے بال بھی نا ہونے کے برابر تھے ۔۔۔۔
اپنے کمرے سے ہر آئینہ ہٹانے کا بدر کا مقصد بھی یہی تھا ۔۔۔۔ جتنی وہ حسن پرست تھی ۔۔۔ اور جتنا اسے اپنے حسن پر ناز تھا ۔۔۔۔ اگر خود یوں دیکھ لیتی تو یقینا برداشت نہیں کر سکتی تھی
” بدر کچھ کہا ہے میں نے ” رمشہ نے دوبارہ سے دہرایا ۔۔۔ بدر نے دل کو کچھ مضبوط کیا اور اس پر نظریں جما دیں ۔۔۔۔ بہت دیر تک اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔ رمشہ اس کے ضبط کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ ہاتھ سے ٹٹولنے پر اتنا اندازہ تو ہو چکا تھا کہ نا بال خوبصورت رہیں ہیں نا چہرہ پھر لوگوں کی نظریں اس کے لئے کھلم کھلا آئنے کا کام کر رہیں تھیں ۔۔۔۔
رمشہ کو دیکھ کر نظروں بدلنا کترانا ۔۔۔ نا گواری ۔۔۔۔ جھرجھری لینا اسے سمجھانے کرنے کے لئے کافی تھا ۔۔۔ لیکن سامنے بیٹھا شخص سے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ بیس منٹ گزر گئے رمشہ بدر کی آنکھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا ۔۔۔
” کیوں جبر کر رہے ہو خود پر ۔۔۔۔ ” رمشہ کو لگا تھا کہ وہ بہانہ بنا کر کمرے سے چلا جائے گا ۔۔۔۔ رمشہ کی آواز میں آنسوں کی نمی گھول گئ تھی بدر نے اس کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹا لیا ۔۔۔
” رمشہ تم بیوی ہو میری ۔۔۔۔ بے شک ہم دونوں میں اتنی انڈرسنڈنگ نہیں ہو پائی جتنی عام طور پر شادی کے بعد میاں بیوی میں ہو جاتی ہے ۔۔۔ مجھے لگتا تھا کہ میرے دل بھی بھی تمہاری وہ محبت نہیں ہے ۔۔۔ جو ہونی چاہیے تھی ۔۔۔۔۔ وجہ تمہارا رویہ تھا ۔۔۔۔ لیکن اس حادثے نے مجھے یہ بتا دیا کہ میرا دل تمہاری چاہت میں کس قدر آگے بڑھ چکا ہے
میرے نزدیک تم اب بھی بہت حسین ہو ۔۔۔ اسی چودویں چاند کی طرح جو چودہ تاریخ میں اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے ۔۔۔۔ ” بدر کی باتوں میں کتنی سچائی تھی اسکی نظریں رمشہ کو بتا چکیں تھیں ۔۔۔ پہلی بار آگے بڑھ کر رمشہ بدر کے سینے لگی تھی ۔۔۔۔
” بدر مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔۔ بہت دل دکھایا ہے میں نے تمہارا ” اسے پہلے کہ وہ رونے لگتی ۔۔۔
“رونا بلکل مت ۔۔۔۔۔ بہت روتے اور تڑپتے ہوئے دیکھ چکا ہوں تمہیں” ۔۔۔۔ اسے نرمی سے اپنے حصار میں وہ لئے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
رمشہ کواپنے رویے پر پشیمانی ہو رہی تھی ۔۔۔۔ اس نے آج تک کبھی ہنس کر بات تک نہیں کی تھی بدر سے ۔۔۔ آج تک کبھی اسکی ایک شرٹ تک استری کر کے نہیں دی تھی ۔۔۔۔ اور بدلے میں اس نے جو رمشہ ہے ساتھ کچھ کیا تھا ۔۔۔۔ وہ کتنا باظرف تھا بدر کارویہ اسے برا چکا تھا ۔۔۔
******……..
رات کو عائزہ کی یک دم سے رونے کی آواز پر نوفل اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔۔ عائزہ کی آواز اسکے کمرے سے آ رہی تھی ساتھ میں مائرہ کے سامنے کی بھی ۔۔
” تم نے اسے بابا کہابھی کیسے عائزہ ۔۔۔۔ وہ چچا ہے تمہارا خبردار جو آئندہ اسے باپ کی جگہ دینے کی کوشش بھی کی تو ” نوفل ان کے دروازے کے باہر کھڑا تھا جب مائرہ کی چلا کر ڈانٹنے کی آواز سنی ۔۔۔ عائزہ اب بھی رو رہی تھی ۔۔ عائشہ کے رونے اور مائرہ کی بات سن نوفل کا خون رگوں میں کھول کر رہ گیا تھا اس نے بری طرح دروازہ دھڑدھڑایا تھا ۔۔۔
” دروازہ کھولیں ” وہ غصے سے بولا تھا اگلے ہی لمحے دروازہ کھول گیا تھاسامںے مائرہ بھی غصے سے کھڑی تھی منزہ اور ولی بھی ایک سائیڈ پر سہمے کھڑے تھے ۔۔۔ عائزہ کے رخسار پر بھی انگلیاں دیکھ کر تو آپے سے باہر ہوا تھا ۔۔۔ مائرہ کو خشمگین نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کا بازو پکڑ لیا ۔۔۔
” کیوں مارا ہے عائزہ کو ۔۔۔۔ اتنی زور سے تھپڑ مارنے کی ہمت بھی کیسے کی آپ نے ” وہ اتنے غصے سےاسے دیکھ رہا تھا ۔۔ کہ پل بھر کے لئے مائرہ ڈر سی گئی تھی ۔۔۔
” بہت زبان کھلتی جارہی ہے اس کی ۔۔۔ الٹے سیدھے سوال کرنے لگی ہے ۔۔۔۔ جو جی میں آتا ہے بول دیتی ہے ۔۔۔۔ مارو نہیں تو اور کیا کرو “
” ایسا کیا کہہ دیا ہے اس نے ۔۔۔ جوآپ نے اس کا گال سرخ کر کے رکھ دیا ہے ” نوفل کا لہجہ اب بھی ہنوز تھا
” چاچو میں نے کچھ نہیں کہا مما ۔سے۔۔ صرف آپ کو بابا۔۔۔۔۔۔” روتے ہوئے ہچکیوں سے وہ صرف اتنا ہی کہہ پائی تھی ۔۔
” ہاں تو کیوں کہا اس نے تمہیں بابا ۔۔۔۔ تم چچا ہو اسے ۔۔۔ چچابولے تمہیں ۔۔۔۔ “, مائرہ تڑخ کر بولی تھی نوفل کے تو تلوں پر لگی تھی سر پے جا کر بجھی تھی
” اس بات پر تھپڑ ماریں آپ اسے ۔۔۔۔ ؟ اس بات پر اتنی زور سے مارا ہے آپ نے اسے ” نوفل کا لہجہ بلند سے بلند ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔ اس کا بازو پکڑے وہ ایک ایک قدم اسکی طرف بڑھتے ہوئے غصب ناک لہجے سے اسے کہہ رہا تھا پہلی بار مائرہ کااس کے سامنے خوف سے حلق خشک ہوا تھا ۔۔۔۔ اسے اتنے غصے میں دیکھ کر چپ ہوئی تھی ایک ایک قدم پیچھے کو لے رہی تھی ۔۔۔۔
” میں نے کہا تھا عائزہ سے کہ مجھے بابا کہے ۔۔۔” یہ کہتے ہوئے وہ اسے دیوار کے ساتھ لگا چکا تھا مائرہ کو حیرت سی ہوئی تھی
” تم نے کہا تھا ؟ کیوں کہا تھا تم نے نوفل ” وہ منمناتے ہوئے پوچھنے لگی
” اس لئے کہ ۔۔۔۔ میری بیٹیاں یہ دونوں ۔۔۔۔ میں باپ ہوں انکا
آج کے بعد مجھے یہ بابا ہی کہیں گئیں ۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں انہیں روکتا کون ہے ” ایک تو وہ غصے میں بہت تھا ۔۔۔ دوسرا اپنی بات پورے دھونس جماتے ہوئے کہہ رہا تھا کو مائرہ کی نظر میں غلط تھی
” میری ایک بات کان کھول کر سن لیں ۔۔۔ عائزہ اور منی مجھے کیا کہیں گی کیا نہیں کہیں گی اس کا فیصلہ میں کرو گا ۔۔۔۔ خبردار جو آئندہ میرے بچوں پر ہاتھ بھی اٹھایا تو ۔۔۔۔ بہت برا پیش آؤں گا آپ کے ساتھ ” وہ اسکی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑتے ہوئے جس قدر غضب ناک ہو رہا تھا مائرہ اندر سے خوفزدہ سی ہو گئ تھی اس وقت اس سے کچھ بھی کہنا اسے مزید غصے میں دلانا تھا اس لئے آنکھیں بیچ کر بلکل چپ سی ہو گئ تھی ۔۔۔ اندازہ نہیں تھا کہ وہ یوں بھی اس پر بھڑک سکتا ہے ۔۔۔۔ عائزہ اور منزا کے ساتھ ولی بھی ڈر گیا تھا تینوں بچے انکے پاس آ گئے تھے
” چاچو پلیز مما کو مت ڈانٹیں ” عائزہ نے روتے ہوئے نوفل کی منت کی تھی
” چاچو نہیں بابا کہو مجھے ” نوفل کا لہجہ اب بھی ہنوز تھا
” بابا پلیز مما کوڈانٹیں مت ” منزا نے بھی اسے بابا کہہ کر التجا کی تھی ۔۔ وہ پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔ مائرہ کا بازو بھی چھوڑ دیا ۔۔۔
” کیوں ڈانٹا ہے آپ نے میری مما کو ” ولی نے تیوری چڑھاتے ہوئے نوفل سے پوچھا تھا ۔۔۔ ” نوفل نے اسے گھور کر دیکھا تو گھبرا کر مائرہ کے ساتھ چپک گیا ۔۔۔۔ وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا اپنے کمرے میں جا کر پوری قوت سے دروازہ بند کیا تھا
