Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 41
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 41
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
ایک تپتا ہوا صحرا تھا جہاں وہ ننگے پاؤں بھاگ رہی تھی ۔۔۔۔ سورج کی تپش اتنی تیز تھی آنکھیں اور پورے وجود کو جھلسا رہیں تھیں ۔۔۔ پیاس سے گلا خشک تھا جیسے گلے میں کانٹے سے اگل آئے ہوں ۔۔۔۔ چاروں طرف صرف ریگستان ہی ریگستان تھا ۔۔۔ دور دور تک کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں ذرا سی چھاؤں ہوں اور وہ کہیں بیٹھ کر سستا لے جلتے پاؤں کو گرم ریت پر رکھنا محال تھا۔۔۔۔۔۔ بے مقصد ہی وہ چلتے چلتے تھکن سے چور چکی تھی تن پر پہنا سفید لباس مٹی سے اٹا ہوا تھا ۔۔۔ چاروں طرف مدد طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی کہ شاید کوئی ایسا نظر آ جائے جو اسے اس ریگستان سے نکال کر باہر لے جائے جہاں صرف تھا دینے والا سفر تھا جھلسا دینے والی دھوپ تھی
لیکن کوئی تھی بے بسی سے وہ اسی صحرا میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رونے لگی تھی ۔۔۔ کہاں کہاں نا جائے کچھ بھی تو سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔ چلچلاتی دھوپ سے چلتی آنکھیں کھلنے سے انکاری تھی ۔۔۔۔ لیکن یک دم ہی موسم نے کروٹ لی تھی آسمان سے اٹھتی کالی گھٹا اب اس صحرا پر چھانے لگی تھی ۔۔۔۔بادلوں نے گرمی کی حدت کو توڑا تھا ۔۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی بارش ہونے لگے تھی ۔۔۔۔۔ بارش آن ہی آن میں اتنی تیزی سے برسنے لگی تھی کہ ماہرہ پر کپکپی سی طاری ہوئی تھی ادھر ادھو وہ کوئی ایسا ٹھکانہ تلاش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ دور اسے ریت کے ایک ٹیلے پر زریاب بیٹھا نظر آنے لگا ۔۔۔ وہ اب اسے پکارتے ہوئے اس کی جانب بھاگنے لگی تھی ۔۔۔۔۔ وہ اسکی جانب پشت کیے بیٹھا تھا ۔۔۔۔
ہانپتے کاپنتے ہوئے وہ اس کے پاس پہنچی تھی ۔۔۔ وہ اب بھی سفید لباس میں ملبوس تھا ۔۔۔ مائرہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ لیکن اس نے پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا تھا مائرہ خود ہی اس کے برابر میں جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔ اس نے ذرا سی گردن موڑ کر مائرہ کو دیکھا وہ
رو رہا تھا ۔۔۔ آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے ۔۔۔۔ چہرے پر اداسی پژمزدگی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔مائرہ خود بھی تھکا دینے والا بے مقصد سا سفر کر کے اسکے پاس پہنچی تھی ۔۔۔۔۔ زریاب کو روتے دیکھ کر تکلیف سی پہنچی تھی
“رو کیوں رہے ہیں زریاب “
” تم جو ہر وقت روتی رہتی ہو ۔۔۔۔ اس لئے مجھے دکھ ہوتا ہے ۔۔۔ روں نہیں تو اور کیا کرو ” وہ بہتے آنسوں کے ساتھ کہہ رہا تھا مائرہ بھی رونے لگی تھی مائرہ نے اس کے چہرے آنسوں پونچنے لگی ۔۔۔۔۔ پھر اس کے کندھے پر سر رکھ بازو اسکے گلے میں ڈال دیا لیکن اگلے ہی لمحے زریاب نے بے اختیار اس کا ہاتھ پیچھے جھٹکا تھا
” یہ کیا کر رہیں ہیں آپ ۔۔۔ ” زریاب کا اجنبی سا لہجہ تھا ۔۔۔۔ جیسے مائرہ کوئی غیر ہو ۔۔۔۔ زریاب ایک جھٹکے سے اس سے پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔۔ مائرہ متحیر ہوئی تھی
” زریاب کیوں دور جا رہے ہیں مجھ سے ۔۔۔ آپ کو پتہ ہے کتنی کھٹن مسافت کے بعد آپ تک پہنچی ہوں خدا کے لئے مجھے خود سے دور مت کریں “۔۔۔۔ اس نے زریاب کو خود سے دور جانے نہیں دیا تھا ۔۔۔۔ اس کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔ وہ اب رو نہیں رہا تھا لیکن کچھ بول بھی نہیں رہا تھا
” بہت تھک چکی ہوں زریاب ۔۔۔۔ دیکھیں میرے پاؤں بھی اس گرم صحرا میں چلتے چلتے آبلہ پا ہو چکے ہیں ۔۔۔۔ بہت مشکل سے آپ تک پہنچی ہوں ۔۔۔۔ مجھے خود سے دور مت کریں ۔۔۔۔ ” اپنا بازو وہ پھر سے اس کے سینے پر رکھ چکی تھی ۔۔۔۔۔
” آپکا ساتھ چاہیے ۔۔۔۔ زریاب مجھے آپ کی پناہ کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔۔ یاد ہے آپ کو۔۔۔۔۔ میری ہر تھکن ہمیشہ آپ کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر کے ہی دور ہوتی تھی ۔۔۔ پر سکون سی ہو جاتی تھی میں۔۔۔۔ عادت ڈال دی تھی آپ نے مجھے اپنے کندھے پر سر رکھ کر ہر غم آپ سے کہہ کر پر سکون ہو جانے کی ۔۔۔۔۔ اب وہ سکون کہاں سے لاؤ زریاب ؟ ۔۔۔۔ مجھے چھوڑ کر اگر جانا ہی تھا تو اتنی محبت ہی کیوں دی تھی ۔۔۔۔۔ کیسے گزارو گی یہ زندگی جو اس گرم صحرا کی مانند ہے ۔۔جھلسا دینے والی تھکا دینے والی ۔۔۔۔۔ میرا نخلستان توآپ تھے دنیا کی تند اور تیز دھوپ میں سایہ دار شجر آپ تھے زریاب ۔۔۔۔۔ اب تو میری زندگی کی مسافت میں کوئی نخلستان ہے نہیں بس سفر ہی سفر ہے ۔۔۔ تھکا دینے والا نا ختم ہونے والا خار دار ” بہت عرصے بعد زریاب سے ایسی طویل ملاقات اسے نصیب ہوئی تھی اس کے کندھے کے ساتھ لگے وہ روتے ہوئے شکوے کر رہی تھی وہ چپ چاپ سے صرف اسے سن رہا تھا ایک لفظ منہ سے ادا نہیں کیا ۔۔۔۔ رو دھو کے مائرہ کا اب جی کافی ہلکا سا ہو گیا تھا آنکھیں بند کیے اب وہ سونے لگی تھی مائرہ کا سر زریاب کے کندھے پر ٹکا ہوا تھا ہاتھ اسکے دل کے مقام پر تھا جہاں دل کی دھڑکنوں کے ارتعاش سے زندگی کا احساس ہو رہا تھا سانسوں کی آمد و رفت وہ محسوس کر رہی تھی پہلی بار زریاب کا وجود ہوا میں تحلیل نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔ بلکہ وہ اس کے وجود کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔ اسکی تیز دوڑتی بھاگتی دھڑکنیں مائرہ کا ہاتھ محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔ ایک اطمینان بھرا سانس بھرا تھا مائرہ پہلی بار زریاب کے تصور کو محسوس کیا تھا ۔۔۔۔ خواب تھا تو حسین تھا ۔۔۔۔ ہر احساس کو لئے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔ اب وہ پر سکون نیند سو چکی تھی ۔۔۔۔۔ بہت سالوں بعد بے خبر سوئی تھی ۔۔۔۔
*******………
دن بھر کی تھکا دینے والی ڈیوٹی کے بعد رات کاایک حصہ اس نے مائرہ کی تیمارداری میں گزار دیا تھا ۔۔۔۔ اس لئے نیند کے غلبے نے حواس سے بے خبر کیا تھا ۔۔۔ کب وہ نیند میں اس کے برابر سو گیا تھااسے بھی خبر نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔
ہوش اس وقت آیا جب ایک ہاتھ کا لمس اپنے چہرے پر محسوس ہوا تھا نیند میں پہلا گمان یہی ہوا کے اپنے کمرے میں سو رہا ہے ۔۔۔ ولی اور منزہ کو کہانی سناتے سویا تھا ۔۔۔ کندھے پر وزن سا بھی محسوس ہوا تھا ۔۔۔اس نے با مشکل آنکھیں کھول کر جیسے گردن گھما کر دیکھا اسوقت مائرہ کا ہاتھ اس کے گلے کا ہار بن چکا تھا وہ اسکے بازو پر سر رکھے سو رہی تھی نوفل کی آنکھوں کے ساتھ ہوش حواس سب کے سب آب وتاب سے جاگے تھے ۔۔۔۔ حواس قائم ہوتے ہی یاد آ گیا تھا کہ رات کو وہ کہاں تھا بس یہ یاد نہیں تھا کہ کب وہ وہاں لیٹ کر سو چکا تھا ۔۔۔۔ مائرہ کی آنکھیں بند تھی نیند میں تھی۔ بخار کہ شدت کم تھی لیکن بخار کی حرارت اب بھی تھی ۔۔۔۔ ایک جھٹکا سا لگا تھا نوفل کو اور اگلے لمحے اس نے مائرہ ہاتھ بے ساختہ پیچھے جھٹکا تھا ۔۔۔
“یہ کیا کر رہیں ہیں آپ” نوفل یک دم کسی کرنٹ کی مانند پیچھے ہٹنے لگا تھا ۔۔۔
لیکن وہ رونے لگی تھی اسے زریاب سمجھ کر باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔ اسکے بازو پر سر رکھے ۔۔۔ اب بھی نیند میں تھی ۔۔۔۔ جس قسم کی وہ باتیں کر رہی تھی نوفل چپ سا ہو گیا تھا ۔۔۔ اگر وہ پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتا تو یقینا وہ اٹھ جاتی اور اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر نا جانے کیاسمجھتی ۔۔۔۔ نوفل کو اپنی اچانک آ جانے والی نیند پر بری طرح سے قلق ہوا تھا ۔۔۔۔ دل کی حالت ایسی تھی کہ سینہ شگاف کر کے باہر آنے کو تیار تھا دھڑکنوں کی دھمال نے سوجھ بوجھ گم کرنی شروع کی تھی ۔۔۔ عجیب سی حالت میں دو چار تھا مائرہ کے اٹھ جانے کا بھی ڈر تھا ۔۔ اور اسکی قربت ایک الگ سا امتحان لے رہی تھی ۔۔۔۔ وہ زریاب کے تصور میں اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہ ہوش سے بے خبر تھی ۔۔۔۔۔ نا اسوقت وہ اسے جگا سکتا تھا نا ہی دامن بچا سکتا تھا عجیب کشمش کا شکار ہوا تھا ۔۔۔۔ مائرہ کے آنسوں اور اسکی باتیں ایک اور نئ آزمائش تھیں نوفل کے لئے ۔۔۔۔اسکے ہونٹ جیسے سل سے گئے تھے۔۔۔۔ کچھ نہیں بول پایا ۔۔۔۔ وجود ساکت تھا وہ چاہ کر بھی خود کو ذرا سی جنبش بھی نہیں دے پایا ۔۔۔۔ ۔۔۔ زبان بند تھی ذہن پر بھی قفل پڑ چکا تھا سوچنے سے قاصر تھا
اس وقت شور تھا تو صرف نوفل کی دل کی دھڑکنوں کا جس پر مائرہ کا ہاتھ دھرا تھا ۔۔۔۔۔ وہ اسکے ساتھ لگی رو رہی تھی ۔۔۔۔ کچھ دیر زریاب سے شکوے کرتی رہی پھر گہری نیند میں جا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
ذرا سی گردن گھما کر نوفل نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا جہاں صرف کسی کرب کے آثار تھے ۔۔۔۔
لیکن اب وہ گہری نیند میں جا چکی تھی
دھیرے سے اس نے مائرہ کو خود سے جدا کیا تھا اور فورا،سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکلا تھا پورا وجود پسینے سے شرابور ہوا تھا ۔۔۔ دل ابھی بھی قابو سے باہر تھا صوفے پر بیٹھ کر اپنا چکراتاہوا سر دونوں ہاتھوں سے تھاما تھا ۔۔۔۔
کیا کر بیٹھا تھا یہ ۔۔۔۔
” مجھے بیڈ پر بیٹھنا ہی نہیں چاہیے تھاالگ سے کرسی پر بیٹھ کر بھی ان کا خیال رکھ سکتا تھا ۔۔۔۔ بھلا کیاضرورت تھی وہاں بیٹھنے کی جہاں صرف بھائی کا حق تھا “۔۔۔۔۔ نوفل کو ایسی پشیمانی تھی کہ خود سے نظریں ملانا مشکل ہو رہیں تھیں ۔۔۔ خدانخواستہ اگر وہ جاگ جاتیں تو کیاسوچتی میرے بارے میں ۔۔۔۔ کہ میں نکاح کے نام پر تحفظ کے بجائے میں ان پر حق جمانے کی کوشش کر رہا ہوں جھوٹی بات کر کے انہیں نکاح کے بندھن میں باندھا تھا ۔۔۔۔ اصل مقصد اپنی نفسانی خواہش تھی ” ۔۔۔۔ اس سوچ نے اسے مزید بے چین کیا تھا ۔۔۔۔ ہاتھ بری طرح سے کپکپا رہے تھے ۔۔۔۔۔
اب تک سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا ۔۔۔۔ زندگی بہترین نہیں تھی تو بہت بری بھی نہیں تھیں ۔۔۔وقت گزر ہی رہا تھا۔۔۔۔۔ لیکن آج جو ہوا تھا ۔۔۔نوفل کو اپنے اندر سب کچھ الٹ پلٹ ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اپنی کیفت اپنے ہی بس سے باہر تھی
شرٹ کی آستینوں سے نوفل نے اپنے چہرے کا پسینہ پونچا ۔۔۔ پھر کچن میں جا کر فریج میں سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر پانی پیا ۔۔ حواس کچھ بہتر سے لگنے لگے تھے ۔۔۔۔ کچھ دیر آنکھیں بند کر کے دل کو سمجھایا کہ اب دوبارہ اس بات کو سوچنا نہیں ہے جو ہو گیا اسے بھول جانا بہتر ہے ۔۔۔۔۔ ذہن بات ماننے پر آمادگی دے رہا تھا ۔۔۔ کیونکہ عقل کا تقاضہ یہی تھا کہ بھولا دیا جائے ۔۔۔۔ لیکن دل کی دہائیاں عروج پر تھیں۔۔۔۔۔۔ جسے وہ نظر انداز کر رہا تھا ۔۔۔۔ جائز خواہش کو جھٹلا رہا تھا ۔۔۔۔
اپنے کمرے میں جا کر دیکھا تو تینوں بچے گہری نیند سو رہے تھے ۔۔۔۔
بیڈ پر اسکی جگہ نا ہونے کے برابر تھی ۔۔۔۔۔ اس لئے
واپس لاونج کے صوفے پر آ کر لیٹ گیا لیکن نیند آنکھوں سے غائب تھی ۔۔۔ کش سر کے نیچے رکھا آنکھیں بند کیں تو مائرہ کی باتیں کانوں میں سنائی دینے لگیں جیسے اب بھی وہ اسکے برابر میں لیٹی ہے۔۔۔۔ جھٹ سے آنکھیں کھلیں تھیں ۔۔۔ بد حواسی سی پھر سے چھانے لگی تھی ۔۔۔۔۔ مشکل تھا کہ نیند دوبارہ مہربان ہوتی اس لئے بہتر تھا کہ آفس ہی چلا جائے گھڑی پر نظر ڈالی تو سات بج رہے تھے ۔۔۔ سوچا کے پہلے خود آفس کے لئے تیار ہو جائے پھر عائزہ اور منزہ کو اسکول کے لئے جگائے گا۔۔۔۔ اس لئے جلدی سے اپنے کپڑے نکالے ۔۔۔۔ تیار ہو کر عائزہ کے پاس بیٹھ گیا بے بڑی مط۔ئن نیند تھی بچپن بھی بہت بڑی نعمت ہے ہر غم سے سے آذاد سکون کی نیند ۔۔۔اسے سوئے دیکھ کر پیار امڈ آیا تھا اس کے ماتھے پر بوسہ دیا
” عائزہ اٹھوں جانی ۔۔۔ اسکول کے لئے لیٹ ہو جاؤں گی ۔۔۔ ” اسکے سر سہلاتے ہوئے پیار سے اسے جگانے لگا اس نے موندی موندی آنکھوں سے نوفل کو دیکھا اور اٹھ کر اس کی گود میں۔ سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔
” مما کیسی ہیں چاچو ۔۔۔۔ ؟ ” عائزہ کو اٹھتے ہی ماں کی فکر ستائی تھی ۔۔۔۔ نوفل جو گزشتہ واقعے کو بھولنے کی نا کام کوشش کر رہا تھا ۔۔۔ پھر سے سب کچھ آنکھوں کے پردے پر گزرنے لگا تھا
” ہاں ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہیں ۔۔۔ تم تو اٹھوں ۔۔ ساڈھے سات ہو رہے ہیں ۔۔۔ ” نوفل اس کے بالوں میں دھیرے سے انگلیاں چلاتے ہوئے بولا
” آج سنڈے ہے چاچو ۔۔۔ چھٹی ہے ۔۔۔ مجھے ابھی سونا ہے ” عائزہ کی بات سن کر نوفل کی متحرک انگلیاں ساکت ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ آج سنڈے تھا چھٹی تھی یہ رات تک اسے اچھی طرح سے یاد تھا لیکن اس وقت عقل و خرد سے اپنا آپ بیگانہ لگ رہا تھا ۔۔۔۔ سامنے آئنے میں سلیقے پہنی پینٹ شرٹ ٹائی سب بے معنی لگ رہیں تھیں ۔۔۔۔ پہلی بار بھول گیا تھا کہ سنڈے ہے ورنہ تو ایک سنڈے کا دن ایسا ہوتا ہے جس کا انتظار رہتا ہے سکون کی لمبی نیند لینے کے لئے ۔۔۔۔ عائزہ کو گود میں بھر کر بیڈ پر لیٹا کر اس نے کپڑے تبدیل کیے ۔۔۔۔
******……..
چھ ماہ سے زیان کئ بار ماں سے کہہ چکا تھا کہ وہ شزا کے لئے تایا سے رشتہ مانگیں لیکن وہ بھی اپنی ضد کی پکی تھیں ماننے کو تیار نہیں تھیں ۔۔۔ احمر کی بیوی امید سے تھی اور اس بار جڑوا بچوں کو جنم دینے والی تھی اس لئے شزا کی ذمہ داری کچن میں لگ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
کھانا بھی وہ ہی اپنی بھابھی کو کمرے میں دینے جاتی تھی ۔۔۔۔شزا نے بھابھیوں سے کبھی کڑوی بات کی نہیں تھی اگر وہ کچھ کہہ بھی جاتیں تھیں تو پلٹ کر جواب نہیں دیتی تھی ۔۔۔۔۔ اس لئے بھابھیاں بھی شزا سے رویہ ٹھیک ہی رکھتی تھیں ۔۔۔۔۔
اب بھی شزا اسکے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔۔
” بھابھی کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو
مجھے بتا دیجیے گا ۔۔۔۔ “
” نہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ تم جتنا میرا خیال رکھ رہی ہو ۔۔۔۔ بھلا کون سی نند رکھتی ہے ۔۔۔۔۔ ” بھابھی کی تعریف پر شزا نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
” خیال کیوں نہیں۔ رکھوں گی ۔۔۔ کہتے ہیں اس حالت میں تو بے زبان جانور بھی ہو تواس پر رحم کرنا چاہیے ۔۔۔ انسان تو اسے ذیادہ کا حقدار ہے ۔۔۔۔ ” شزا کی بات سن کر اسکی بھابھی نے ٹھنڈی آہ بھری تھی ۔۔۔۔ شزا اگر تمہاری نند تمہیں سیڑیوں سے نا گراتی تو آج تمہاری بھی گود بھری ہوتی ۔۔۔ اور عرفان بھائی بھی۔ تمہیں ۔۔۔۔۔ “
” پلیز بھابھی ۔۔۔۔ میں ان لوگوں نام۔ بھی سننا نہیں چاہتی ۔۔۔۔ ” شزا نے وہیں ٹاک دیا تھا وہ گھبراسی
گئ تھی
” ایم سوری ۔۔۔ بس یونہی منہ سے نکل گیا ۔۔۔۔ “
” پلیز بھابھی کوشش کیا کریں کہ آئندہ منہ سے نا نکلے ” یہ کہ وہ اپنے کمرے میں چلی گئ تھی ۔۔۔۔
کاش ایسا نا ہوتا ۔۔۔۔ کاش ایسا نا ہوتا ۔۔۔۔۔۔ یوں کیوں ہو گیا ۔۔۔۔۔ یہ سب الفاظ انسان کے سلے زخموں ادھیڑنے کے علاؤہ کچھ نہیں دے سکتے ۔۔۔ پھر ایسے فقرون سے زباں پر نا ہی لایا جائے تو بہتر ہے …..
سر میں ایک درد کی ٹیس سی اٹھی تھی ۔۔۔۔ چند دن پہلے ہی اسے یہ خبر ملی تھی کہ احمر کی بیوی کو ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ بتایا ہے شزا نے خود سے اسے سنبھالنے کی ہامی بھری تھی ۔۔۔۔ احمر کی پریشانی کو پل میں حل کیا بڑی مہربانی نظروں سے اس نے بہن کو دیکھا تھا جیسے اس کا مشکور ہو چکا ہو ۔۔۔۔ ورنہ ایسی نندیں ہمارے معاشرے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں ۔۔۔ جو بھابھی احساس کریں ۔۔۔۔ شبو نے کس بے دردی کا مظاہرہ دیکھایا تھا شزا کے ساتھ ۔۔۔۔ اذیت کااحساس پھر سے شزا کو ایسے لگا جیسے سارے زخم ہو گئے ہوں
کمرے کی دستک پر وہ چونکی تھی ۔۔۔۔
دروازہ کھولا تو سامنے زیان کھڑا تھا ۔۔۔۔ جس دن سے شزا نے اسے ٹوکا تھادوبارہ اس نے شزا سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔۔ چھ ماہ بعد اب سامنے کھڑا تھا ۔۔۔
“مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے ” چہرے سے کافی سنجیدہ لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔
” جی فرمائیے ” شزا نے اسے اندر آنے کی اجازت نہیں دی تھی ایستادہ کیے دروازے پر ہی کھڑی تھی
” یہاں کھڑے کھڑے نہیں کر سکتا ۔۔۔” زیان ک لہجہ ذرا سااکھڑا ہوا تھا ۔۔۔ وہ پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔
اندر آ کر وہ رائٹنگ ٹیبل کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ شزا وہیں دروازے کے پاس ہی کھڑی تھی ۔۔۔
” اب تم بت بنی یہیں کھڑی رہو گی ۔۔۔ ادھر آ کر بیٹھو ” عجیب سا دھونس جمانے والا انداز تھا شزا کو حیرت کم ہوئی البتہ غصہ ذیادہ آیا تھا ۔۔۔۔ اسے گھورتے ہوئے سامنے بیٹھ گئ
” ذرا جلدی فرمائیے کیا کہنا ہے ۔۔۔۔ ” شزا کا لہجہ بھی اتنا ہی سخت تھا جتنا کہ زیان کا
” شزا پہلے تو اپنا لہجہ درست کرو ۔۔۔۔ اور میرے لئے جو کدورت تم نے اپنے دل میں پال رکھی ہے بہتر ہے کچھ دیر کے لئے اسے ذرا دل ور دماغ کو صاف رکھ کر میری بات سنو ۔۔۔۔ اور ٹھنڈے دماغ سے سوچ کر مجھے جواب دینا ۔۔۔۔ میں تمہارے جذباتی جواب کو نا سننا چاہتا ہوں نا ہی مانو گا ۔۔۔۔ ” اپنی ماں کو سمجھا سمجھا کرخوہ زچ سا ہو گیا تھا ۔۔۔ اس لئے یہی سوچا تھا کہ پہلے شزا سے کھل کر بات کرے ۔۔۔۔۔ تا کہ اگر کل کو وہ براہ راست تایا ابو سے بات کرے بھی شزا انکار نا کر دے ۔۔۔۔ کیونکہ اگر یہی سوال زیان کی والدہ کرتی تو شزا مرواتا ضرور چپ رہتی ۔۔۔۔ چاہ کر بھی اپنی چچی سے انکار نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔ لیکن دوسری صورت میں شاید انکار کر دیتی ۔۔۔۔
” مطلب کیا ہے آپ کا ” شزا نے نافہمی انداز سے اسے دیکھا تھا
” شزا میں شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے ۔۔۔۔ آج رات کو ہی ابو اور تایا ابو سے میں بات کرنا چاہتا ہوں تمہارے لئے” شزا کو اسکی جرت پر حیرت ہو رہی تھی ۔۔۔ کیسے وہ اس کے سامنے بیٹھ کر یہ بات کر سکتا تھا ۔۔۔ جس نے کبھی بے دردی سے اسے دھتکارا تھا اور آج بھی یوں بات کر رہا جیسے اسے حکم دے دہا ہو ۔۔۔ کیا تھی وہ اس کے لئے ۔۔۔ کوئی مزاق ۔۔۔ یا تفریح کا سامان پہلے میرے مفاد کے لئے انکار کر دیا ۔۔۔۔ اور اسکے انکار کو ماں باپ نے انا کا مسلہ سمجھ کر جلد بازی میں عرفان کے ساتھ رخصت کر دیا ۔۔۔۔۔ اور کیا بچا تھااس کے پاس ۔۔۔ جسے اب وہ مزید تباہ کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ کس بات کااحسان کرنا چاہتا تھا اس پر ۔۔۔۔
” اٹھیں یہاں سے ۔۔۔ اور نکلیں میرے کمرے سے باہر ۔۔۔۔ ” اسے پہلے کے وہ اپنے آپے سے باہر ہوتی بہتر تھا کہ وہ یہاں سے چلا جاتا ۔۔۔وہ بڑے ضبط سے بولی تھی
” کہیں نہیں جاؤں گا میں ۔۔۔۔ میری بات ذراسکون سے سنو ” زیان نے اسکے تپے ہوئے چہرے کو دیکھ کر ذرا نرمی اختیار کی
” سمجھ کیا رکھا ہے آپ نے مجھے ۔۔۔ کھلونا ہوں میں جب جی چاہا منگنی کی انگوٹھی پہنا دی ۔۔۔ جب جی چاہا رشتے کو ختم کر دیا ۔۔۔ اور اب ؟ پھر سے میرے جذبات سے کھیلنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ مجھ پر احسان مت کیجیے زیان صاحب ۔۔۔ ” وہ آج جیسے پھٹ پڑی تھی ۔۔۔۔
” کوئی احسان نہیں کر رہا تم پر ۔۔۔۔ دل سے اپنانا چاہتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔ شزا پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔۔ غلطی کر بیٹھا تھا میں ۔۔۔۔ اسکی سزا بھی پا چکا ہوں ۔۔۔۔۔ مزید سزا کا حقدار نہیں ہوں میں ۔۔۔۔ ” زیان کالہجہ ملتجی ہوا تھا ۔۔۔ شزا استزائیہ انداز سے ذرا سا مسکرائی
” آپ نے غلطی کی ؟ اور اسکی سزا پا لی ۔۔۔۔۔ میرا کیا قصور تھا زیان ۔۔۔۔ میں نے کہاں غلطی کی تھی ۔۔۔۔ میں نے آپ کی غلطی کی سزا کیوں بھکتی ہے ۔۔۔۔۔ انکار آپ نے کیا ۔۔۔۔اس انکار کو انا کا مسلہ میرے ماں باپ نے بنا لیا ۔۔۔۔ میں نے کیا گناہ کیا تھا ۔۔۔ کس بات کی سزا پائی ہے میں نے ؟ ” وہ روہانسی سی ہو گئ تھی کب سے دل میں دفن کیے گئے شکوے آج زبان پر آ ہی گئے تھے ۔۔۔۔
” معافی مانگ تو رہا ہوں تم سے ۔۔۔۔ ” اس بار زیان نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے تھے ۔۔۔۔ شزا نے اسے ہاتھ پکڑا اور اپنے کمرے سے باہر نکال دیا ۔۔۔
” میں نے آپ کو معاف کیا ۔۔۔۔ لیکن نا تو میرے دل میں اب آپ کی کوئی گنجائش ہے نا میری زندگی میں ۔۔۔۔ دوبارہ مجھ سے کسی کی معاملے میں بات کرنے کی کوشش مت کیجے گا ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر اس شزا نے زور سے دروازہ بند کیا تھا ۔۔۔ دروزے کے ساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو ے لگی تھی ۔۔۔ مرد کیوں یہ سمجھتا ہے کہ عورت ایک مجسمہ صبر ہے ۔۔۔۔ اس لئے جب چاہیں اسے آزمائشوں کی چھٹی میں ڈال دیں ۔۔۔ جلنے اور جھلسانے کے لئے ۔۔۔ اور جب احساس ہو جائے تو معزرت کے چند فقرے منہ سے ادا کر کے یہ سمجھ لیں کہ بس ہو گئ غلطی کی تلافی کر لے ۔۔۔۔۔ دروازے پراب ھی دستک ہو رہی تھی ۔۔۔
” شزا ایم سوری۔ ۔۔۔ معافی مانگ تو رہا ہوں تم سے ۔۔۔۔ پلیز انکار مت کرنا ۔۔۔۔ میری التجا ہے تم سے ۔۔۔۔۔ ” وہ باہر کھڑا اب بھی اسی بات پر قائم تھا ۔۔۔۔ کچھ دیر دروازے پر دستک جاری رہی پھر بند ہو گئ لیکن شزا کی سسکیاں اور آنسوں نہیں رک رہے تھے ۔۔۔۔۔ لگ رہا بیچ کے تین سال غائب ہو چکے ہیں ۔۔۔۔ آج ہی ابھی کچھ دیر پہلے زیان اسے شادی سے انکار کر کے گیا ہے ۔۔۔۔ اور اس نے زیان کی منگنی کی انگوٹھی بے دردی سے انگلی سے اتار کر سامنے ڈرسنگ پر پھنکی ہے ۔۔۔۔۔ اس دن بھی وہ بہت روئی تھی ۔۔۔۔ دل سے اسے چاہا تھا آنکھوں میں اس کے خواب کچی عمر سے بننے شروع کر دیے تھے ۔۔۔ چچی کے معنی خیز فقرے وہ بچپن سے سنتی آ رہی تھی ۔۔۔ جانتی تھی کہ دلہن زیان کی ہی بنے گی ۔۔۔۔۔ لیکن کتنی آسانی سے اس نے انکار کر دیا تھا ۔۔۔۔ صرف اپنے بارے ۔میں سوچا تھا
شزا کے بارے میں ایک پل اسکے دل سے خیال نہیں گزا کہ اس کے دل پر کیا گزری ہو گی ۔۔۔۔ تب تو عفیرہ ہی اس کے لئے سب کچھ تھی ۔۔۔۔ اور جب اس نے ٹھکرا دیا تو شزا یاد آگئ ۔۔۔۔ اس سے ہمدردی بھی ہو گئ ۔۔۔۔۔ اب میں سب کچھ بھلا کر ویسی ہو جاؤں ۔۔۔۔ کیسے ہو جاؤں ۔۔۔۔۔ میری زندگی تو اب بنجر زمیں کی مانند ہو چکی ہے ۔۔۔۔چچی کا رویہ تک بدل گیا ہے اب وہ اس سے کترانے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔ لگتا ہے وہ راضی نہیں ہیں ورنہ زیان کی جگہ یہ سوال وہ اس سے پوچھتیں ۔۔۔ بلکہ اس کے سر ہاتھ رکھ کر کہتیں کہ تم ہمارے ہی بچی ہو ۔۔۔۔ ہم نہیں سوچیں گئے تواور کون سوچے گا ۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں آئیں تھیں ۔۔۔ پچھلے چھ ماہ سے چچی شزا کو دیکھتے ہی ناگواری دیکھارہیں تھیں ۔۔۔ وجہ اسے اب سمجھ آ رہی تھی ۔۔۔۔ ان چاہی خواہش کے ساتھ وہ کیوں زیان کے ساتھ وہی رشتہ جوڑے جسے عرفان کی صورت میں بھکت چکی ہے ۔۔۔ بہتر ہے کہ ۔۔۔۔ زندگی کو ایسے ہی گزار دے ۔۔۔۔۔
******……..
رمشہ نے روتے ہوئے اپنے بیگ میں اپنے کپڑے دھونسے بیگ بند کیا اور کمرے سے باہر نکل گئ بدر وہیں موجود تھا ایک نا پسندیدہ نظر اس نے رکشہ پر ڈالی
رمشہ نے آنسوں پونچتے ہوئے بولی
” میں جا رہی ہوں اپنے گھر ۔۔۔۔۔۔ ایسے گھر ۔یں ۔یں نہیں رہ سکتی جہاں عورت کی عزت نا ہو “
” جاؤں نکلو یہاں سے ۔۔۔۔ اور اب واپس اس وقت آنا جب تم بھی عورت کی عزت کرنا سیکھ جاؤں ۔۔۔۔ ” رمشہ کو لگا تھا کہ شاید وہ اسے روکے گا ۔۔۔۔ لیکن بدر کے تیور ہی الگ تھے ۔۔۔۔
وہ غصے سے گھر سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔
رو رو کر ایک کی دس کر کے رمشہ نے اپنے والدین کو بتائیں تھیں توقیر صاحب تو سن کر آگ بگولہ ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
اگلے ہی روز بدر کے گھر پہنچ گئے ۔۔۔۔
بدر نے بھی انہیں وہ عزت نہیں دی تھی جو ہر بار انکی آمد پر دیتا تھا ۔۔۔۔ وہ لاونج کے صوفے پر بیٹھے تھے اور سامنے ے صوفے پر بدر اور اسکی والدہ بیٹھیں تھیں
” اتنے تعلیم یافتہ ہو کر بھی بیوی حقوقِ کا علم نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔ ہاتھ کیسے اٹھایا تم نے میری بیٹی پر ” وہ غرا کر بولے
” آپکی تعلیم یافتہ بیٹی کو آپ نے شوہر کے حقوق کے بارے میں کی تعلیم دی ہے ۔۔۔۔ میں نے آپ کی بیٹی سے منت سماجت کر کے شادی نہیں کی تھی اور نااپنا اصل ۔۔۔آپ سے چھپایا تھا ۔۔۔ جو وہ مجھے میری رنگت پر جو منہ میں آئے کہتی رہے ۔۔۔ ایسی حسن پرست اور حسن پسند لڑکیاں شادی کے نہیں ۔۔۔ بلکہ میوزم میں کھڑا کرنے کے لائق ہوتی ہیں جو اپنے حسن کے شہکار دیکھا کر تعریف وصول کر سکیں۔ ۔۔۔۔۔ ” بدر کی بات پر وہ بھبک سے گئے
” کیا بک رہے ہو تم “
” ٹھیک کہہ رہا ہوں میں ۔۔۔۔ آج تک برداشت کر رہا ہوں میں اسے ۔۔۔ ایک چائے تک آپکی بیٹی کو بنانی نہیں آتی ۔۔۔۔۔ ہر کام کے لئے میں نے یہاں ملازمہ کاانتظام کر رکھا ہے اسکی دوستوں کے آنے جانے پر کبھی روک ٹوک نہیں کی ۔۔۔ کچن کس جگہ کو کہتے ہیں کبھی قدم تک نہیں رکھااپکی بیٹی نے ۔۔۔۔ اسکی ہر بدتمیزی ہم ماں بیٹا اب تک برداشت کر رہے تھے ۔۔۔۔ کیونکہ ایک عزتدار خاندان سے تعلق ہے ہمارا ۔۔۔۔۔ روز روز گھر میں لڑائی جھگڑے خاندانی لوگوں کا شیوا نہیں ہوتا۔۔۔۔ پوچھیں جا کر اپنی بیٹی سے آج تک تکلیف دی ہے اسے۔۔۔۔ کون سی ذیادتی کی ہے ۔۔۔۔ ” توقیر صاحب خاموش سے ہوئے تھے اپنی بیٹی کی کاہلی کا بھی با خوبی اندازہ تھا ۔۔۔۔
کل اپنی دوستوں کی آمد پر میری والدہ سے چائے بنانے کا کہا تھا آپکی ہونہار بیٹی نے ۔۔۔ میری والدہ نے مہمان نوازی کاحق نبھاتے ہوئے اسکی دوستوں کو چائے بھی پیش کر دی ۔۔۔ اور آپکی بیٹی نے اپنی دوستوں کو میری ماں کا تعارف کروانا بھی گوارا نہیں سمجھا صرف اس لئے کے میری ماں اسکی طرح بن ٹھن کر نہیں رہتیں اور نااسکی طرح سفید رنگت نہیں رکھتیں ہیں اس لئے آپکی بیٹی کو ساس کا تعارف اپنی اہانت لگ رہا تھا ‘” بدر کی بات سن کر وہ نظریں اور گردن دونوں جھکا گئے تھے ۔۔۔۔۔
” میں بہت شرمندہ ہوں رمشہ کی حرکت پر ۔۔۔۔۔ ” توقیر صاحب نظریں نہیں اٹھا پا رہے تھے
” آپکی شرمندگی میری ماں کو عزت نہیں دلاسکتی ۔۔۔۔” بدر نے بھی اسپاٹ لہجے میں بات کی تھی
” میں نے تو آج تک رمشہ کے ساتھ ساس جیسا برتاو رکھا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ لیکن ” یہ کہہ کر بدر کی والدہ تو ے لگیں
” بہن میں بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔ میں اسے سختی سے سمجھاو گا ۔۔۔۔ آپ لوگ اسے لینے آئیں میں دیکھتا ہوں وہ کیسے واپس نہیں آتی ۔۔۔ میں نے بیٹی کی شادی اس لئے نہیں کہ کہ اسے واپس گھر بیٹھا لوں گا ۔۔۔۔ “
” وہ اپنی مرضی سے گئ ہے یہاں سے ۔۔۔ میری اجازت سے نہیں ۔اس لئے واپس بھی خود آئے گی ۔۔۔۔ ” بدر کا بے لچک لہجہ سن کروہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔
“میں خود اسے کل یہاں چھوڑ کر جاؤں گا ۔۔۔۔ اور سختی سے سمجھاؤں گا بھی ۔۔۔۔ تمہیں پہلے ہی مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی ۔۔۔۔ “
” یہی غلطی ہوئی مجھ سے نے میں نے نرمی والا برتاو رکھا کیونکہ انسانیت کا تقاضہ تو یہی ہے ۔۔۔ ” بدر کی بات پر وہ مزید شرمندہ ہوئے تھے ۔۔۔۔ معزرت کرتے ہوئے چلے گئے ۔۔۔۔ بدر کی والدہ نے بڑے فخر سے بیٹے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
ورنہ آفرین کے ساتھ جو سلوک انہوں نے کیا تھا اس بعد بدر نے ان سے بات چیت کم سے۔ کر دی تھی ۔۔۔ رمشہ کے رویے پر بھی چپ سادھ لی تھی بس یہی کہتا اپنی پسند سے آپ خود لایں۔ ہیں آپ جانے اور وہ جانے ۔۔۔۔۔ لیکن آج اگلے پچھلے سارے حساب چکتا کر دیے تھے ۔۔۔۔
******…….
عابدہ بیگم نے عبیرہ سے جب عرفان کے لئے عفیرہ کی بات کی تو وہ گم صم سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ عفیرہ کااس گھر میں سنے کا مطلب تھاایک دنگا فساد کا شروع ہو جانا ۔۔۔۔ اور وہ تو عبیرہ کا بھی جینا دوبھر کر دیتی ۔۔۔۔
” عبیرہ دیکھ اپنی ساس کو منانا تیرا کام ہے ۔۔۔۔ “
” لیکن اماں عرفان بھائی تو صاف انکار کر چکے کہ کبھی شادی کرنی ہی نہیں ہے ۔۔۔۔”
“” ارے مردو کا کیا ہے ۔۔۔۔ یونہی کہتے ہیں تو بات کر دیکھ عبرہ اب تو چھوٹی بھی بڑی ہو گئ ہے آج نہیں تو دو سال تک مجھے اسے بھی گھر کا کرنا ہے
عفیرہ کی طلاق کا سن کر لوگ سوسوسوال کریں گئے ۔۔۔۔۔ اور تیرے ابا تو لاہور کے ہو کر رہ گئے ہیں جب سے عفی گھر آ کر بیٹھی ہے ایک بار بھی کراچی لوٹ کر نہیں آئے کہتے ہیں لوگوں کی باتیں سننے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے ۔۔۔۔ یا تو عفی کو دو بول پڑوا کر چلتا کرو ورنہ بھول جاؤں کے میں واپس نہیں لوٹوں گا ۔۔۔۔ ” عابدہ بیگم کے آزمائشوں کے دن شروع ہو چکے تھے ۔۔۔۔
عبیرہ نے فون بند تو کر دیا تھا لیکن دل نہیں مان رہا تھا کہ وہ ۔۔۔۔ عرفان کے لئے بات بھی کرے ۔۔۔۔ دو دن بعد بہانہ کر کے عابدہ بیگم کو منع کر دیا کہ عرفان نے صاف انکار کر دیا ہے ۔۔۔۔
عفیرہ کاروان کر خون کھولا تھا ۔۔۔
” ارے تھا کیاوہ خود ۔۔۔ نا شکل نا عقل۔۔۔۔ جبھی تو بیوی کو بسا نا سکا اور چلا ہے مجھے انکار کرنے ۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔عفیرہ کو ۔۔۔ ” عفیرہ کو عرفان کا انکار اپنی اہانت لگا تھا جو اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا
دو دن اس کے تو کر گزرے تھے ۔۔۔۔ وہ ان خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی اس کا نام سنتے ہی عرفان اپنی خوش نصیبی پر اترائے گا ۔۔۔۔ لیکن اس نے تو ٹھکرسنے میں وقت ہی نہیں لگایا تھا ۔۔۔
عرفان کے بعد زیان پر غصہ آنے لگا جس نے اسکی اچھی خاصی زندگی میں زہر گھول کے رکھ دیا تھا ۔۔۔
وہ یہاں لوگوں کی باتیں سننے پر مجبور تھی ۔۔۔ اور وہ آرام سے اپنے گھر بیٹھ تھا بیفکر ہو کر ۔۔۔۔
عفیرہ عرفان سے تو بدلہ لے نہیں سکتی تھی آپ ی عزت کی بھی اسے پروا نہیں تھی اس لئے اگلے ہی روز زیان کے گھر جانے کی ارادہ کر چکی تھی
” عزت سے تو میں بھی تمہیں رہنے نہیں دونگی زیان ۔۔۔ بد نام کر کے رکھ دوں گی مجبور کر دونگی کہ تمہیں مجھے اپنانا پڑے گا ۔۔۔۔ ایسے ایسے الزام لگاؤں گی تم پر ۔۔۔۔ ” عفیرہ کاغصے سے برا حال تھا
دوسری جانب زیان بھی ارادہ کیے بیٹھا تھا کہ کل کی شزا کے لئے اپنے تایا اور والد سے سب کے سامنے بات کرے گا تا کہ والدہ کا انکار بے بنیاد رہ جائے ۔۔۔ کیونکہ بات جب گھر کے مردوں کے سامنے آ جائے تو عورت کی بات ثانوی حیثیت رکھتی ہے پھر جتنا پیار اور اتفاق دونوں بھائیوں میں تھا وہ شزا کے لئے زیان کو ضرور چن لیتے ۔۔۔۔
******……
مائرہ کی جب آنکھ کھلی تو پورا وجود درد سے چور تھا بخار کی حدت پھر سے بڑھ رہی تھی ۔۔۔
لیکن دل بہت شاد اور مسرور تھا ۔۔۔۔ زریاب سے کی قربت کو محسوس کیا تھا ۔۔۔ یہ احساس اتنا خوشگور تھا کہ بخار کی نقاہت کے باوجود چہرے پر مسکان تھی ۔۔۔۔ عائزہ اس کے پاس ہی بیٹھی تھی ۔۔۔۔ نوفل بچوں کو ناشتہ کروا چکا تھا ۔۔۔ اور خود صرف حلق سے چاہے ہی اتری تھی ۔۔۔
” مما چاچو کو کہو کہ آپ کے لئے ناشتہ بنا دیں ۔۔۔ ” عائزہ کی فکرمندی دیکھ کر وہ مسکرائی تھی
” ہاں کہہ دو ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ واش روم ممی۔ جا چکی تھی ۔۔۔ منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی تو ٹیبل پر ناشتہ تیار تھا بس نوفل غائب تھا ۔۔۔۔ مائرہ کے سامنے جانے سے کترا رہا تھا ۔۔۔۔
ناشتے کرنے کے بعد مائرہ نے خود اسے پکارا تھا ۔۔۔
وہ کب سے اپنے کمرے میں۔ کر کاٹ رہا تھا کہ مائرہ ناشتہ کر کے اپنے کمرے ۔میں جائے تب ہی وہ باہر نکلے ۔۔۔ ناجانے کس بات کاڈر تھا اس کے سامنے نہیں جانا چاہتا تھا ۔۔۔ مائرہ نے جب اسے پکارا تو بری طرح گڑبڑا سا گیا تھا ۔۔۔۔
