Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 46
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 46
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
عفیرہ کے لئے اس شخص کے ساتھ ہر رات گزارنا ایک آزمائش تھی ۔۔۔ جو اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا ۔۔۔ سانولی رنگت منہ پان ۔۔۔۔موٹا بھدا سا وجود ۔۔۔ تون نکلی ہوئی ۔۔۔۔ ایسے شخص کو تو دیکھ کر رخ پھیر جاتی تھی ۔۔۔۔ کجا اس کے ساتھ وقت گزارنا تو بہت دور کی بات تھی لیکن اب زندگی اسی کے ساتھ بسر کرنی تھی ۔۔۔۔ وہ بھی ایک بیوی کی حیثیت سے ۔۔۔۔
اس شخص کے چار بیٹے ہی تھے ۔۔۔ گھر بس دو کمروں پر مشتمل تھا ایک چھوٹا سا صحن ۔۔۔۔ ایک کمرہ چاروں بیٹوں کے پاس تھا اور دوسرا عفیرہ کے پاس ۔۔۔۔ ظفر (عفیرہ کا شوہر ) شکی اور سخت مزاج قسم کا شخص تھا ۔۔۔
چار دن تو عفیرہ کو بازار سے ہی لا کر کھلاتا رہا ۔۔۔ ایک تواس عمر میں کم عمر بیوی ملی تھی چار دن ناز نخرے اٹھانا بھی اچھا لگ رہا تھا بچے بھی نئ ماں کے سامنے چار دن ہی تمیز کا مظاہرہ کر سکے تھے ۔۔۔۔ پانچویں دن ظفر نے عفیرہ سے کہہ دیا
” اب تم ذرا باورچی خانے پر بھی توجہ دے دو ۔۔۔ دیکھوں میں کمانے والا اکیلا ہی ہوں۔۔۔۔ آمدنی اتنی نہیں ہے کہ ملازمہ رکھ سکو
اس لئے کام کاج سارے تمہیں ہی کرنے پڑیں گئے ۔۔۔ ” جیب سے پان کی پڑیا نکال کر اس نے کھول کر پان منہ ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔ عفیرہ نے نا پسندیدگی سے اسے دیکھا تھا
” مجھے یہ کام نہیں آتے ۔۔۔۔ ” عفیرا کے جواب پر حیرت سے ظفر نے اسے دیکھا تھا
” کیا مطلب کام نہیں آتے ۔۔۔ اماں تو تمہاری کہہ رہی تھی بڑا ظلم کیا ہے تیرے پہلے میاں نے تجھ پر ۔۔۔ نوکروں کی طرح کام کرواتا رہا ہے مارتا پیٹتا رہا ہے۔۔۔۔ میں تو صرف تمہیں وہی کام بول رہا ہوں جو سب عورتیں کرتی ہیں ۔۔۔۔ دیکھ اگر میں نے تیرے کچھ دن نخرے اٹھا لئے ہیں تو میرے سر مت چھڑیو۔۔۔۔۔ غصے کا تو میں بہت برا ہوں ۔۔۔۔ ۔۔۔ تو موقع نہیں دے گی۔۔۔ زبان بند رکھے گی تو میرا ہاتھ بھی قابو میں رہے گا ۔۔۔ ورنہ ہاتھ اٹھانا تو مرد کی شان ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ ” پچاس سال کی عمر میں اسکی صحت خاصی اچھی تھی اس کے بھاری ہاتھ دیکھ کر عفیرہ چپ سی ہو گئ تھی ۔۔۔ ماں نے مظلومیت کے رونے رو کر اسے جہاں بھیجا تھا ۔۔۔ وہ تو خود ہاتھ اٹھانے کا عادی تھا ۔۔۔۔
وہ چپ چاپ اٹھ کر کچن میں آ گئ ۔۔۔ پورا کچن بکھرا پڑا تھا ۔۔۔۔ دھونے والے برتنوں کا انبار جمع تھا ۔۔۔۔
“اگر یہی اس بڈھے کے بیٹوں کی جگہ بیٹیاں ہوتیں تو مجھے بھی کچھ فایدہ ہوتا ۔۔۔۔ کم بخت نے چار سپولیے میرے لئے پیدا کیے تھے ۔۔۔۔ پانی کا گلاس تک نہیں دھلا ہوا ” برتن دھوتے ہوئے وہ دل کی بھڑاس بھی نکال رہی تھی ۔۔۔ دس ۔نٹ میں اس نے جیسے تیسے۔ برتن دھلے دھو کر رکھ دیے تھے پھر شلف صاف کی ۔۔۔ راش کے ڈبے کھول کر دیکھنے لگی سب سے آسان تو دال ہی پکانی لگ رہی تھی اس لئے وہی پکانے رکھ دی ۔۔۔ چاروں لڑکے آپس میں کشتی لڑتے ہوئے کمرے سے برآمد ہوئے تھے ۔۔۔ ایک پیچھے ایک دوڑ لگا رہا تھا ۔۔۔ ایک پہلے گھر شروع ہونے سے پہلے ختم ہو جاتا تھا ۔۔۔ اس پر یہ ادھم مچا رکھی تھی کہ عفیرہ چکرا کر رہ گئ تھی
” اماں یہ ظہیر سے بچا لے مجھے بد بخت بڑی زور کا مارتا ہے ۔۔۔ ” سب سے چھوٹا بیٹا جو آٹھ سال کا تھا عفیرہ کے پیچھے چھپ گیا اور منجھلا بیٹا ظہیر جو بارہ سال کا تھا ہاتھ میں ہاکی پکڑے ظہیر کی جانب بڑھ رہا تھا ۔۔۔
” نئ اماں بیچ میں سے پیچھے ہٹ جا ورنہ میرے پاس لحاظ وہاظ کسی کا نہیں ہے اگر تجھے لگ گئ تو لگ گئ ۔۔۔۔ ” ظہیر کی بات سن کر عفیرہ چکرا سی گئ تھی ۔۔۔۔ بد تمیز قسم کے لڑکے تھے
” ہٹو پیچھے ۔۔۔ چھوڑو مجھے ۔۔۔ کم بختوں ۔۔۔ ” عفیرہ نے چھوٹے بیٹے عدنان سے اپنا دامن چھڑوایا ۔۔۔
” دیکھوں میری بات کان کھول کے سن لو ۔۔۔۔ تم لوگ آپس میں لڑو۔۔۔۔ ایک دوسرے کو مارو ۔۔۔پیٹوں چاہے کچھ بھی کرو لیکن اگر مجھے چوٹ لگ گئ تو ۔۔۔ اسی ہاکی سے پیٹ کے رکھ دوں گی ” عفیرہ یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ بڑا بیٹا کچھ سمجھدار تھا وہیں بیٹھا سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ جانتا تھا کہ سوتیلی ماں سوتیلی ہی ہوتی ہے ۔۔۔ سگی ہوتی تو چھوٹے بھائی کو اپنی آغوش میں چھپا لیتی بڑے بیٹے کو بھی سمجھاتی کہ چھوٹے بھائی کو نا مارے
لیکن اسے کیا لگے کہ وہ لوگ جئیں یا مریں ۔۔۔۔ اس لئے خود آگےبڑھ کر بھائیوں کو ایک دوسرے سے چھڑوانے لگا ۔۔۔۔
” کمینوں کبھی تو باز آ جایا کرو ۔۔۔۔۔ یہ ہماری سگی ماں نہیں ہےجو پیار کرے گی ۔۔۔۔ تم لوگ آپس میں لڑ لڑ کے مر بھی جاؤں گئے تو دو آنسوں نہیں بہائے گی تم پر ۔۔۔۔ “
” دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو چھوڑا تھا ۔۔۔۔ “
” دیکھوں ابا تو پہلے ہی ہم سے پیار نہیں کرتا ۔۔۔ اور یہ ابا کو اپنے ساتھ ملا لے گی تو ابا ہمہیں گھر سے نکال باہر کرے گا اس لئے ہم سب آپس میں مل جاتے ہیں لڑئیں گئے نہیں بلکہ اس ابا کی بیوی کو ملکر پریشان کریں گئے ۔۔۔۔ ” بڑے رضوان کی بات پر سب نے اتفاق کیا تھا ۔۔۔ پہلے تو کچن میں جا کر دال میں نمک تیز کیا پھر باہر ا گئے ۔۔۔
رات کو کھانے کا پہلا نوالا لیتے ہی ظفر کا پارہ ہائی ہوا تھا
” اندھی ہو کر کھانا پکانے کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ اتنا تیز نمک ” بد زبانی میں ظفر عفیرا سے بھی دس ہاتھ آگے تھا
” ابا مجھے تو لگتا ہے جان بوجھ کے ڈالا ہے تا کہ تیرا بی پی بڑھ جائے ” ظہیر نے لقمہ لیتے ہوئے آگ لگائی تھی ۔۔۔
” یا پھر اس لئے ایسا بنایا ہے کہ کھانا پکانے سے ہی چھٹی ہو جائے ۔۔۔۔ “بڑے رضوان نے بھی ایک نئ بات باپ کے دماغ میں ڈالی تھی عفیرہ ان بچوں کی تیز طراری پر حیران تھی
” کیوں جھوٹ بول رہے ہو تم لوگ میں تو سب کچھ ٹھیک ہی ڈالا تھا ۔۔۔ پتہ نہیں کیسے ” عفیرہ نے ظفر کے غصے کو بھانپتے ہوئے صفائی دینا چاہی اس نے غصے سے دال کی پلیٹ اٹھا کر فرش پر پٹخی تھی
“کمینی۔۔۔۔ کیا چاہتی ہے تو ۔۔۔ جان سے مارنا چاہتی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔ ” وہ جاہلانہ طرقے سے عفیرہ پر دھاڑا تھا ۔۔۔ عفیرہ چپ سی ہو گئ ۔۔۔
” آج کے بعد کھانا اگر ٹھیک نہیں بنا تو پھر میں سیکھاوں گا تجھے کہ کھانا پکاتے کیسے ہیں ” ظفر تو دستخوان سے اٹھ کر چلا گیا اس کے بچے عفیرہ کا اڑا ہوا رنگ دیکھ کر میسنی ہنسی ہسنے لگے۔۔۔۔
عفیرہ گھبرا سی گئ تھی ۔۔۔۔
*******……….
رمشہ جب سے دعوت سے کوٹی تھی کھوئی کھوئی سی تھی ۔۔۔۔ تکلیف دہ بات یہ لگ رہی تھی کہ نوفل نے اسے پلٹ دوبارہ دیکھنا گوارا نہیں سمجھا تھا اپنے کمرے میں آ کر سب سے پہلے اس نے آئینہ دیکھا تھا ۔۔۔۔ ویسی لگ رہی حسین اور خوبصورت ۔۔۔۔
” ویسی ہی لگ رہی ہوں جس روپ میں وہ مجھے دیکھ کر میری تعریف کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا پھر ۔۔ آج کیوں مجھے دیکھ کر پلٹ گیا ۔۔۔ ایک بار بھی مجھے ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔ ایک بار بھی ۔۔۔۔۔ ” نا جانے کیوں دل میں کڈکبسی اٹھ رہی تھی۔۔۔۔۔ اپنی بھابھی سے شادی کی ہے اس نے ؟
کیسے اسے ساتھ لگائے کھڑا تھا ۔۔۔۔ ؟
کیوں نوفل ۔۔۔۔ ؟ تم نے کیوں اپنایا انہیں ؟ تم ایک شادی شدہ دو بچوں کی ماں تو ڈیزو تو نہیں کرتے تھے ۔۔۔۔ ایک بار مجھ سے رابطہ تو کرتے ۔یں تمہارے لئے بدر کو چھوڑ دیتی ۔۔۔۔ ” آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ بدر اسی وقت کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ رمشہ نے جلدی سے آنسوں پونچے تھے ۔۔۔ رونے کے باعث آنکھوں میں کچھ سرخی سی اتر گئ تھی ۔۔۔۔ سرخ ساڑھی میں سرخ آنکھوں نے سننے والے کے جواز اڑائے تھے ۔۔۔
بدر اس کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ اپنے ساتھ کھڑا بدر اسے ہمیشہ ہی جچا کبھی نہیں تھا لیکن جتنا آج برا لگ رہا پہلے بھی اتنا برا بھی نہیں لگا تھا ۔۔۔
بدل کے شوخ نظروں سے رمشہ کو وحشت سی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔ جلدی سے اپنی جیولری اتارنے لگی ۔۔
” اتنی جلدی بھی کیا سوئٹ ہارٹ ۔۔۔ بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔ ” وہ اسے قریب آتے ہوئے بولا ۔۔
” وہ تو میں ہوں ۔۔۔ اس لئے کچھ بھی پہن لوں خوبصورت تو لگو گی ہی ۔۔۔۔ لیکن میرے پاس آنے سے پہلے کبھی خود کو بھی آئنے میں دیکھ لیا کرو ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ عادتوں کی طرف جانے لگی لیکن بازو بدر کی مضبوط گرفت میں تھا ۔۔۔ وہ غصے سے اسے دیکھ رہا تھا “
” ہر بار میرے ضبط کا امتحان مت لیا کرو۔۔۔۔۔ کیستم پہلی ایسی عورت ہو جو شوہر سے زیادہ حسین ہے ۔۔۔۔ تم سے ذیادہ حسین اور خوبصورت خواتین مجھ جیسے مردوں کے ساتھ بہت خوشحال زندگی گزار رہیں ہیں ۔۔۔ اپنے شوہر سے محبت بھی کرتی ہیں اور قدر بھی ۔۔۔۔ لیکن تم گھمنڈ ہی بہت ہے ۔۔۔ ” غصے سے وہ اپنے سے باہر ہوا تھا اسے بیڈ پر پٹخ کر کمرے سے باہر نکل گیا رمشہ بہت زور سے گری تھی ۔۔۔ اس لئے چلا کر بولی
” جانور ہے یہ شخص ۔۔۔۔ “
******…….
“آفرین بدر بھائی ؟ ۔۔۔۔ آبان کی سالگرہ پر ؟ وہ بھی رمشہ کے ساتھ ؟ یہ سب کیا ہے آفرین ؟ “
” اوہ تو وہ رمشہ تھی ؟ نوفل کی سابقہ منگیتر؟” آفرین کے لئے یہ بات حیران کن تھی
” تمہیں نہیں معلوم تھا ۔۔۔ اور بدر بھائی ؟
” مائرہ وہ مظہر کے آفس میں کام کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ” آفرین کے متوازن لہجے پر مائرہ متحیر ہوئی تھی
” آفرین ۔۔۔۔ اگر مظہر بھائی کو پتہ چل گیا تو ۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔ “
” تو کیا ہو گا مائرہ ۔۔۔ میں نے کون سا بدر سے کبھی ایسااظہار کیا ہے یا ملاقات کی ہے جو مجھے شرمندگی ہو ؟ ۔۔۔۔ مائرہ کچھ لوگ زندگی کے سفر میں کسی راہگیر کی طرح سے ہمارے سامنے سے گزر جاتے ہیں جنہیں ہم دیکھتے ہیں ۔۔۔ کبھی کبھی وہ لوگ آنکھوں کو بھلے بھی لگ جاتے ہیں لیکن ہوتے راہگیر ہی ہیں ہمسفر نہیں ۔۔۔۔ اور دنیا چونکہ گول ہے تو ایسے لوگوں سے سامنا ہونا کوئی انہونی سی بات تو نہیں ہے ۔۔۔ بدر بھی میری زندگی میں صرف ایک راہگیر کی حیثیت ہی رکھتا ہے ۔۔۔۔ اس سے ذیادہ اور کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ مجھے اپنے ہمسفر پے نار ہے ۔۔۔ مان ہے ۔۔۔۔ میں دل کی گہرائیوں سے مظہر کو چاہتی ہوں ۔۔۔ اور وہ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں ۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے یہ بتانے کی بھی ضرورت ہے ۔۔۔ بس میں یہ جانتی ہوں ہمارے درمیان کسی تیسرے کی گنجائش بچتی ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ اس لئے مجھے ڈر بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ مجھے چھوڑو سب ۔۔۔ اور تم سناؤ ۔۔۔۔ دعوت پر تو تم اور نوفل بہت پیارے لگ رہے تھے ” آفرین نے موضوع بدلہ تھا مائرہ کے ماتھے شکنیں بڑھیں تھیں
” آفرین میرے خیال سے تم سب جانتی ہو کہ ہم دونوں کے درمیان کیا طے ہوا تھا ” مائرہ نے اسے پھر سے یاد دہانی کروائی تھی
” تم دونوں پاگل ہو شاید ۔۔۔۔ کیسی زندگی گزار رہے ہو اور کیوں ؟ مائرہ وہ اب تمہارا شوہر ہے “
” اسٹاپٹ آفرین ۔۔۔۔۔ میں نوفل کے لئے ایساسوچ بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔ عمر میں بھی مجھ سے چھوٹا ہے اور رشتے ۔۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر مائرہ کے لفظوں کو بریک لگی تھی ۔۔۔ کیونکہ رشتے میں وہ سب درجہ بلند رکھتا تھا جسے وہ ماننے کو تیار نہیں تھی
” رشتے میں تو اب وہ تم سے سبقت لے گیا ہے ۔۔۔۔ نکاح کارشتہ ایسا نہیں ہے مائرہ جیسے تم مانو گی نہیں۔۔۔۔ تو اسے جھٹلایا جاسکے ۔۔۔۔ پھر کیوں اس حقیقت بسے آنکھیں بند کر رہی ہو ” آفرین کی باتیں مائرہ کو نروس کرنے لگیں تھیں کیونکہ اس نے یہ رشتہ نبھانے کے لیے کیا ہی کب تھا
” آفرین مجھے کچھ کام ہے میں بعد میں بات کروں گی ” اس سے پہلے کہ آفرین اسے اپنی باتوں سے لا جواب کرتی مائرہ نے فون بند کر دیا تھا ۔۔۔
پہلے اپنے چہرے سے نمودار ہونے والے پسینے کو صاف کیا ۔۔۔۔ پھر جلدی سے اپنے کمرے میں چلی گئ بچے لاونج میں بیٹھے ہوم ورک کر رہے تھے ۔۔۔۔ ولی بھی ایک ڈرائنگ بک لئے کلر کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
مائرہ نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔ یہ آفرین بھی کیوں دوست کے بجائے لوگوں میں شامل ہو گئ ہے ۔۔۔۔۔
اچھی طرح جانتی ہے کہ نکاح میری مجبوری تھی ۔۔۔ یہ بھی جانتی ہے کہ زریاب میری روح میں بستا ہے ۔۔۔۔ میری دھڑکنیں اب بھی اسی کے نام کی مالا جپتیں ہیں ۔۔۔۔۔۔ ” وہ بند دروازے سے ہٹ کر زریاب کی فریم میں لگی تصویر کے سامنے کھڑی ہو گئ۔۔۔۔۔
” زریاب ۔۔۔۔ سن رہے ہیں لوگوں کی باتیں ۔۔۔۔جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں ۔۔ لیکن
میں آپ کو ناراض نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔ آپ کے ساتھ بیوفائی کاسوچ بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔
میں نے صرف آپ کو چاہا ہے ۔۔۔ آپ کو چاہتی ہوں ۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ میری محبت آپ کے وجود کی محتاج ہے ۔۔۔۔ میرے پاس آپ کا تصور ہے ۔۔۔۔ میرے تصور کی الگ سی دنیا ہے زریاب ۔۔۔۔
میں ہر روز اس تصور کی دنیا میں آپ کے پاس ہوتی ہوں ۔۔۔۔ آپ میرے پاس ہوتے ہیں کوئی تیسرا وہاں نہیں ہوتا ۔۔۔۔ ہم ایک دوسرے سے ڈھیروں باتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔ ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے ہیں ۔۔۔ ہنستے ہیں ۔۔۔
کہاں کہاں نہیں میں آپ کے ساتھ جاتی ۔۔۔۔ کبھی باغات میں کبھی برفیلے پہاڑوں پر ۔۔۔۔ کبھی سمندر کی لہروں میں ۔۔۔ ہر جگہ ۔۔۔۔ فنا تو صرف وجود ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ تصور نہیں ۔۔۔ ” آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے وہ آنکھیں بند کیے زریاب سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔
“زریاب آپ نے وعدہ کیا تھا ۔۔۔۔ کہ مجھے مری کی سیر پر لیکر جائیں گئے ۔۔۔۔ لیکن زندگی نے مہلت نہیں دی ۔۔۔ لیکن مجھے آپ سے شکایت نہیں ہے ۔۔۔
کیونکہ میں تو روز آپ کے ساتھ ہوتی ہوں ۔۔۔۔
میرا دن لوگوں کی نظر ہو سکتا ہے لیکن رات میری اپنی ہے ۔۔۔ جس میں صرف آپ ہوتے ہیں میں ہوتی ۔۔۔ ۔۔۔ اور میری ایک خوبصورت سی تصوراتی دنیا ہوتی ہے ۔۔۔۔ میں اس میں اپنی زندگی جی لیتی ہوں اپنے حصے کی خوشیاں حاصل کر لیتی ہوں ۔۔۔۔ بس میرے لئے وہی میری زندگی کا حاصل ہے ۔۔۔۔ مجھے کسی نوفل کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ میری چاہ مادیت نہیں رہی ۔۔۔ بس تصور ہے ۔۔۔۔۔ “وہ بند آنکھوں کسی اور ہی جہاں میں پہنچی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ ادھ کھلی کھڑی سے جھانکتا ہوا شخص اس کی باتیں سن کر دھواں دھواں سا ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔
نوفل جب گھر پہنچا بچے ہوم ورک کر رہے تھے ۔۔۔۔
سب سے پہلے اس نے کچن میں۔ جھانک کر دیکھا جو کہ خالی تھی ورنہ مائرہ اس سے ڈنر تیار کرنے میں مصروف ہوتی تھی ۔۔۔۔ پھر لاونج میں آ گیا
” عائزہ تمہاری مما کہاں ہیں “
” اپنے کمرے میں ہیں ۔۔۔ ” وہ کاپی پر لکھتے ہوئے ہی بتا رہی تھی نوفل صوفے پر بیٹھ گیا
” عائزہ مما کو بولو میرے لئے ایک کپ چائے بنا دیں ” وہ تھکا ہوا آیا تھا ۔۔۔ ویسے تو روز ہی مائرہ اسکے آتے ہی اسے چائے بنا کر دیتی تھی لیکن آج کمرے میں تھی
” وہ اس وقت بابا سے بات کر رہیں ہیں اور جب بابا سے بات کرتی ہیں ۔۔۔ میں انہیں ڈسٹرب نہیں کرتی ۔۔۔۔ انہیں برا لگتا ہے ۔۔۔۔ ” عائزہ اب کام چھوڑ کر نوفل کو دیکھ کر بات کر رہی تھی ۔۔۔
” کیا مطلب ہے عائزہ ۔۔۔ بابا سے کیسے بات کر سکتی ہیں وہ ؟” نوفل کے لئے یہ بات بھی انوکھی سی تھی ۔۔۔
“کھڑکی سے خود دیکھ لیں ” عائزہ نے لاونج میں ادھ کھلی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا جو مائرہ کے کمرے کی تھی ۔۔۔ آج تک کبھی نوفل نے کبھی جھانکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔ لیکن اب اٹھ کر کھڑکی کے پاس کھڑا ہو گیا مائرہ زریاب کی تصویر کے سامنے کھڑی تھی آنکھیں بند کیے ۔۔۔ جو کچھ اس سے کہہ رہی تھی نوفل کے لئے ایک انکشاف سا تھا ۔۔۔۔ حقیقی زندگی سے دور وہ ایک الگ سی دنیا بسائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ جہاں نوفل کی جگہ تو کہیں بھی نہیں بن سکتی تھی ۔۔۔۔
وہ پیچھے ہٹ گیا۔۔۔۔ عائزہ اسی کو دیکھ رہی تھی وہ عائزہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا
” عائزہ کیا آپ کی مما روز بابا سے بات کرتی ہیں ؟”
” جی چاچو رات کو کرتی ہیں ۔۔۔۔ روز باتیں کرتی ہیں ۔۔۔ کبھی کبھی بہت روتی ہیں اتنا کہ مجھے بھی رونا آنے لگتا ہے ۔۔۔ اور کبھی اتنا ہنستی ہے کہ میں دیکھ کر ڈر جاتی ہوں مجھے سمجھ نہیں آتا کہ مما کیوں اکیلے ہنستی رہتی ہیں ۔۔۔ مما جب بھی بابا سے بات کرتی ہیں میری آنکھ کھل جاتی ہے ۔۔۔۔ ” ایک انکشاف تھا ۔۔۔۔۔ ایک الگ سی بات تھی ۔۔۔۔
نوفل کو یاد آنے لگا ۔۔۔۔ جب پہلی بار زریاب کے تصور میں وہ اس سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔ کچھ نیند کی میڈسن کااثر اور کچھ شاید وہ خود بھی اسی تصور میں رہنے متمنی بھی تھی ۔۔۔۔ بات اتنی غیر اہم نہیں تھی وہ شاید ایک نفسیاتی بیماری کا شکار ہو رہی تھی ۔۔۔۔
جہاں انسان دن بھر ایک عام شخص جیسی زندگی گزارتا ہے اور رات کے ایک مخصوص پہر میں وہ اپنے شعور سے اپنے ایسے لا شعور میں چلا جاتا ہے
جو اسکی خواہشات کے مطابق اسی کے ذہن کی تخلیق ہوتی ہے ۔۔۔۔وہ ابھی اسی سوچ میں تھا جب عائزہ کی اگلی بات نے اسے مزید الجھایا تھا
” چاچو کیا میں یتیم ہوں ” دل پر بڑی زور سا گھونسا سا لگا تھا ۔۔۔۔عائزہ کی آواز میں ایسی نرمی سی تھی اور آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوں تھے ۔۔۔۔ کہ نوفل تڑپ کر رہ گیا تھااسے سینے سے لگا کر ہلکاسا بینچا تھا ۔”
“کس کہا تم سے “
” چاچو کیاجس کے بابا اللہ کے پاس چلے جائیں وہ یتیم ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔ ؟ “
” کون کہتا ہے تم سے ایسی باتیں “
” میرے کلاس فیلو کہتے ہیں ۔۔۔۔ کہتے ہیں اس بیچاری کو کچھ مت کہا کرو یہ یتیم ہے ۔۔۔۔ اسکے بابا نہیں ہیں ۔۔۔۔ ایک بار میری ایک کلاس فیلو کی بابا اسے چھٹی میں لینے آئے ۔۔۔۔ تو میری دوست نے کہا کہ یہ میری دوست ہے ۔۔۔۔ اس کے بابا نہیں ہے ۔۔۔ تو اس کے بابا اسے کہنے لگے کہ تم اپنی دوست سے اپنا ٹفن شیر کر لیا کرو لاوارث بچوں کا خیال رکھنا چاہیے ۔۔۔۔ پھر اپنی جیب سے کچھ پیسے نکال کر مجھے دینے لگے میں نے منع کر دیا ۔۔۔ چاچو کیا میں لا وارث ہوں یہ لاوارث کون ہوتے ہیں ” عائزہ ہچکیوں سے روتے ہوئے اسکے ساتھ لگی پوچھ رہی تھی
” نہیں ہو تم لاوارث ۔۔۔۔ میری بیٹی ہو تم ۔۔۔۔ کل چلنا میرے ساتھ اسکول میں بات کرتا ہوں تمہاری پرنسپل سے ۔۔۔ بچوں کو کیسی تعلیم اور تربیت دی جاتی ہے انکے اسکول میں جو کسی ایک بچے کو یوں ہرٹ کیا جاتا ہے ہمدردی کے نام پر انہیں ذہنی تکلیف دی جاتی ہے ۔۔۔۔ ” نوفل کی غصے سے زہن کھولنے لگا تھا ۔۔۔ لوگوں کی سوچ کیسے بچوں میں منتقل ہوتی ہے ۔۔۔ پریپ ٹو کے بچے ہو کر کیسا فرو رکھنا جانتے ہیں کیسے الفاظوں کا استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ یقینا گھر کے ماحول سے سیکھتے ہیں ۔۔۔
” نہیں چاچو پھر تو پرنسپل کلاس میں سب بچوں کے سامنے کہہ دیں گئیں کہ عائزہ کو کوئی یتیم نا کہے ۔۔۔ جیسے نہیں بھی معلوم پھر تو وہ کہے گا ۔۔۔۔ آپ میرااسکول چینج کروا دیں مجھے یہاں پڑھنا ہی نہیں ہے ” عائزہ عمر میں سات سال کی ہونے والی تھی لیکن سمجھدار ذیادہ تھی ۔۔۔۔ منزہ چپ چاپ عائزہ کو روتے ہوئے دیکھ تھی ۔۔۔ البتہ ولی کہ شکل عائزہ کی سسکیاں سن کر یوں تھی کہ ابھی رو پڑے گا ۔۔۔۔۔ عمر جس حصے میں ولی تھاوہسں بچے بڑے بہن بھائیوں کو روتا دیکھ کر خود بھی بلاوجہ رونا شروع کر دیتے ہیں ۔۔۔۔ پھر باپ کی آنکھوں میں آنسوں جھلملاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
نوفل اس کے ماتھے کو چومنے لگا ۔۔۔۔
عائزہ حساس قسم کی بچی تھی ۔۔۔ ماں کی فکر بھی اسے ستانے لگتی تھی پھر لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے سوچتی تھی ۔۔۔۔۔
” روں مت ۔۔۔۔ میں تم لوگوں کااسکول بدل دونگا “
نوفل فکر مند سا ہو گیا تھا
ایک نئ نوکری کی تلاش ۔۔۔ پھر مائرہ کی فکر اور بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو مجروح کرنے والی باتیں ۔۔۔
ایک بعد ایک الجھن تھی ۔۔۔۔ جس سے وہ دو چار تھا ۔۔۔۔ بس ایک وصی تھا جس سے وہ بات کر لیتا تھا ہر بات وصی سے کہنے کے بعد وہ فکر مندی سے بولا
” مجھے لگتا ہے ۔۔۔ میں ایک نمایاں زندگی کبھی نہیں گزار پاؤں گا وصی ۔۔۔۔ زریاب بھائی جیسا حوصلہ میرا نہیں ہے ۔۔۔۔ یہ الجھنیں کم نہیں ہے کہ
خالہ میرے لئے نئے رشتے دیکھانے پر تلی ہوئی۔ ہیں
ایسے ماحول میں ۔۔۔ میں مائرہ کو کیسے سمجھا سکتا ہوں ۔۔۔۔۔ وہ تو یوں میرے لئے لڑکی دیکھ رہیں ہیں جیسے میری شادی ہی تمام مسائل کا حل ہے ۔۔۔۔ ” وصی بڑی خاموشی سے سب سن رہا تھا
” تم ٹھیک کہہ رہے ہو نوفل تم اس ماحول میں رہ کر کبھی اپنے گھر کو مینج نہیں کر سکتے ۔۔۔ اس لئے میرا مشورہ ہے اسلام آباد کی آفر قبول کر لو ” وصی کی بات سن کر نوفل نے فہماشی نظر اس پر ڈالی تھی
” جب بھی دینا الٹا مشورہ ہی دینا ۔۔۔۔ اجنبی شہر میں لے جا کر ایک گھر یں بند کر دوں انہیں ۔۔۔۔ اور پورادن کسم کے بجائے گھر کی فکر میں زہن الجھائے رکھو ” نوفل زچ سا ہوا تھا
” اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے نوفل ۔۔۔۔ مائرہ بھابھی ۔۔۔ پہلے تمہاری بھابھی تھیں یہ بات یہاں سب لوگ جانتے ہیں ۔۔۔ وہاں سب کی نظر میں وہ صرف تمہاری بیوی ہوں گئیں اور بچے تمہارے بچے ہوں گئے ۔۔۔۔ پھر وہاں کوئی خالہ نہیں ہو گی جو نت نئے رشتے تمہارے لئے بتا سکے ۔۔۔ اور نا ہی ایسے لوگ جن کی باتوں کے خوف سے مائرہ بھابھی خود کو تمہاری بیوی ہوتے ہوئے بیوی کی چادر میں لپیٹے رکھیں ۔۔۔۔
وہاں کوئی نہیں ہو گا بس تم کو گئے نوفل ۔۔۔۔۔ اس لئے وہ دوسروں سے بات کرنے کے بجائے تم سے بات کریں گئیں ۔۔۔ تمہاری بات سنے گی بھی اور تم ان سے اپنی بات منوا بھی سکتے ہو ۔۔۔۔ ” وصی کی بات نوفل سمجھ گیا تھا ۔۔۔۔ وصی کی بات ٹھیک تھی ۔۔۔۔ یہاں محلے درا خواتین کا آنا جانا لگا ہی رہتا تھا نے نئ باتیں ۔۔۔ نئے مشورے ۔۔۔ نئ رسمیں ۔۔۔ اتنی ہی الجھنیں بڑھتی جارہی تھیں
وہاں زندگی پر سکون ہو سکتی تھی ۔۔۔
اس لئے نوفل نے اپنے باس کی آفر کو قبول کر لیا تھا ۔۔۔
کچھ دن بعد مائرہ نے ڈنر کے دوران نوفل سے پھر سے رشتے کی بابت پوچھا تھا
” نوفل تم نے جواب نہیں دیا ۔۔۔ لب جائیں لڑکی دیکھنے “
” کون سی لڑکی ” وہ جان بوجھ کر انجام بنا تھا
” وہی جو خالہ نے رشتہ بتایا تھا “
” اب اسکی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ کیونکہ ہم اسلام آباد شفٹ ہو رہے ہیں میرے پاس نے مجھے اسلام آباد کا پروجیکٹ دے دیا ہے ایک سال وہیں رہائش رکھنی پڑے گی ۔۔۔ آپ بس ضرورت کے سامان ہی پیک کیجیے گا ۔۔۔۔ گھر بھی آفس کی طرف سے مل رہا ہے ۔۔۔ پہلے سے ہی فرنشڈ ہے۔۔۔۔۔ ” یہ خبر مائرہ کے دھماکہ خیز ہی تھی
” اچانک سے اسلام آباد ؟ نوفل ۔۔۔ میں کیسے جاسکتی ہوں ۔۔۔۔ یہاں سب ملنے ملانے ہیں ۔۔۔ وہاں انجان ساشہر ؟”
‘” ان باتوں کاوقت نہیں ہے اب ۔۔۔ مجھے اپنے آفس کے کام کو دیکھنا ۔۔۔ دو دن ہیں آپ کے پاس ۔۔۔ تیاری کر لینے گا ۔۔۔۔ ” کھانا وہ کھا چکا تھااس لئے اٹھ کر اپنے کمرے ۔میں چلا گیارہ حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئ تھی ۔۔۔۔
******……
صبح سے گیس کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی ۔۔۔۔ رمشہ جب تک اٹھی تھی ۔۔۔ بدر آفس جا چکا تھا اور اسکی اس بھی ناشتہ کر چکی تھی ۔۔۔ اور اب گیس کی بندش نے اسے چائے سے محروم کیا تھا ۔۔۔ دو تین بار اس نے اسٹو کے بٹن گھما کر چیک کیا لیکن گیس کی سپلائی بند تھی ۔۔۔ بے دھیانی میں گیس کے بند گھما کر بند کرنا بھول گئ تھی ۔۔۔ کچن سے باہر ا کر پھر سے کمرے میں چلی گئ دوپہر تک بھوک سے حالت خراب ہونے لگی تھی ۔۔۔
” آنٹی مجھے بھوک لگ رہی ہے اور گھر کچھ ہے بھی نہیں ۔۔۔ کچھ آڈر کرکے منگوانے میں بھی بہت ٹائم لگے گا ۔۔۔ آپ پلیز مجھے نیچے سے کچھ بھی کھانے کو لا دیں ” رمشہ نے بے بسی سے کیا بدر کی والدہ اس کے لئے کھانے کے لئے نیچے چلی گئیں قریب ہی ایک بیکری تھی ۔۔۔ وہیں سے اس کے سنڈویچ لینے چلیں گئیں ۔۔۔
اتنی دیر میں گیس کی سپلائی بھی بحال ہو چکی تھی ۔۔۔۔ کچن چھوٹا تھا اور تھا تمشہ پسنی پینے جب کچن میں آئی تو گیس کی سمل سونگھ کر اسٹو کے پاس آ گئ گیس فل آ رہا تھا کچن کے معاملات سے انجان تھی ۔۔۔ اور بھوک کی شدت سے ذہن بھی کام نہیں کیا تھا بجائے گیس بند کرنے کے چولہا جلانے کے لئے ماچس جانے لگی کہ اپنے لئے چائے ہی بنا لے لیکن جیسے دیا سلائی جلائی آگ نے اسے بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔۔۔۔ ایک چیخ و پکار نے اس پاس کے فلیٹ کے لوگ بھی جمع ہونے شروع ہو گئے ۔۔۔
