Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 50
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 50
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
زریاب کی باتیں کرتے ہوئے وہ کھونے سی لگی تھی ۔۔۔۔ پھر نوفل پر اچانک نظر پڑتے ہی وہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔ دونوں کی آنکھوں کا تصادم کیا ہوا تھا ۔۔۔ نوفل کے دل کی بے تابیوں کی بے اختیاری بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔ بڑی بے تاب سی نظریں تھیں مائرہ کی ۔۔۔۔ بڑی بے یقنی سی آنکھوں میں ۔۔۔۔ بناانکھیں جھپکائے وہ نوفل کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ نوفل میں کہا جرت تھی کہ نظریں چرا جاتا ۔۔۔ اور چراتا بھی کیوں ۔۔۔۔ وہ اس کے حق میں تھی ۔۔۔۔ اور وہ پورا حقدار تھا کہ مائرہ کی نظروں کا ۔۔۔۔۔ بس حیرت اس بات پر تھی کہ وہ اسے زریاب کی باتیں کرتے کرتے اسکی آنکھوں میں کیوں کھونے لگی تھی
” زریاب آپ ” مائرہ کے لفظوں نے نوفل کا مٹھی میں لیا تھا ۔۔۔۔
” اوہ تو تصور میں کھو چکیں ۔۔۔۔ میں بھی کہو مجھ پر مہربانی کیونکر کر دی ۔۔۔۔ ” نوفل سمجھ گیا تھا کہ وہ اسے زریاب سمجھ رہی ہے ۔۔۔ اس وقت اس کی نظریں نوفل کو نہیں زریاب کو دیکھ رہی۔ ہیں ۔۔۔۔اپنے لاشعوری میں وہ زریاب کے اپنی بنائی گئ تصوراتی دنیا میں جا چکی ہے
” ہاں میں ” یہ لفظ دل کی بے ایمانی نے بلاوائے تھے ۔۔۔ جو کہہ تھا ۔۔۔۔ زریاب بنکر ہی صحیح مائرہ کی محبت بھری نظروں کا امرت پی لینا چاہیے ۔۔۔
اس لئے اسے اسکے تصور سے جگانے کی کوشش نہیں کر پایا ۔۔۔
” آپ سچ میں میرے سامنے ہیں ۔۔۔ غائب تو نہیں ہو جائیں گئے ۔۔۔۔ ” وہ بے یقینی سے پوچھ رہی تھی نوفل نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔ لیکن اندر ضمیر مطمئن نہیں ہو رہا تھا شوہر والی انا غیرت سمیت جاگ اٹھی تھی ۔۔۔ کہ وہ بیوی تمہاری ہے ۔۔۔۔ لیکن تصور کسی اور باندھے تمہارے قریب کیوں آئے ۔۔۔۔ دور ہٹ جاؤ۔ اس سے ۔۔۔۔ لیکن جب مائرہ اس کے چہرے کو چھونا شروع کیا دل کی آواز سینے اندر سب سے ذیادہ بلند تھی ۔۔
” کیسی انا ۔۔۔۔کہاں کی ضد ۔۔۔۔ دل تو آج سینے کے اندر جشن منا رہا تھا ۔۔۔۔ اپنا آپ دل کے ہاتھوں پہلی بار بے بس ہوا تھا ۔۔۔۔ پھر جب وہ سینے سے لگی تب کہیں دل کو چین آیا تھا ۔۔ ۔ کوئی شور نہیں تھا ۔۔۔ اندر نا باہر سناٹا سا چھا گیا تھا ۔۔۔
مائرہ کے اظہار نے اندر کہیں سلگتی آگ پر اوس ڈالی تھی ۔۔۔ آج نا ہاتھوں میں لرزش تھی ۔۔ نا ہی کوئی خوف ۔۔ اس لئے وہ بھی اسے حصار میں لے چکا تھا
اپنی محبت کا اظہار بھی وہ کر چکا تھا ۔۔۔۔ دل میں یہ خواہش جاگی کہ وقت کہیں ٹہر سا جائے ۔۔۔ لیکن جب مائرہ نے اس سے نا چھوڑ کے جانے کا وعدہ مانگا ۔۔۔ تب ہی عین عقل نے نوفل کو ٹہوکا دیا ۔۔۔
اپنی حثیت بتا دو نوفل ۔۔۔۔ اسے تصور سے حقیقت میں لانے کا یہ اچھا موقع ہے ۔۔۔۔ اسکی قربت تصور سے جڑی ہے تمہاری لئے نہیں ہے زریاب کے لئے ہے ۔۔۔ اسکی چاہت کو اپنے نام کرنے کا یہ موقع دلی خواہش پر مت گنواں ۔۔۔۔
اس لئے جب مائرہ نے وعدہ مانگا نوفل نے اپنا نام لیکر وعدہ کیا ۔۔۔۔ نوفل کا نام سنتے ہی ماہرہ کے وجود کو جھٹکا سا لگا تھا ۔۔۔ اسکی کمر پر
بے خودی سے چلتی ہوئی مائرہ کی انگلیاں یک دم سے تھمی تھیں ۔۔۔ نوفل کی گرفت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ مائرہ الگ نا سکتی بڑی سرعت سے وہ پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔ اب نظروں صرف حیرت تھی جو خوف اور بے یقنی میں بدل رہی تھی ۔۔۔
تصور سے حقیقت میں آ چکی تھی ۔۔۔۔۔ رنگت پل میں اڑی تھی ۔۔۔
“نوفل “س کے بعد تو شاید مزید کچھ کہنے حوصلہ ہی نہیں تھا ۔۔ جس طرح سے وہ خوف کھا اٹھ کر بھاگی تھی ۔۔۔ یقینا یہ سمجھ رہی تھی کہ کوئی بہت بڑا گناہ کر بیٹھی ہے ۔۔۔۔۔ اسکی کیفیت سمجھ سکتا تھا کیونکہ خود بھی اسی کیفیت سے گزر چکا تھا ۔۔۔۔
” بہت ضروری تھا کہ میں آپ کو اس جھوٹی دنیا سے باہر نکال کر ایک حقیقت سے آشنا کرتا کہ زریاب اب آپ کی زندگی میں کہیں نہیں ہے ۔۔۔۔ اگر اب کوئی ہے تووہ نوفل ہے ۔۔۔۔۔ جلد یا بدیر اس حقیقت کو تو آپ کو قبول کرنا ہی پڑے گا ۔۔۔۔ اور جب تک آپ مجھے قبول نہیں کر لیتی ۔۔۔ کمرے کی چابی تو اب آپ کو ملنے والی نہیں ہے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ اٹھ کر اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔
مائرہ نے کمرے میں جا کر دروازہ بند کیا پھر اچھی طرح سے لاک کیا ۔۔۔ چہرے پر بدحواسی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ کیا بیٹھی تھی ۔۔۔ کیسے اتنی بڑی غلطی کر دی تھی ۔۔۔۔۔ پہلی بار خود کی بنائی ہوئی اس خیالی دنیا نے دھوکہ دیا تھا ۔۔۔۔
سب سے ذیادہ مائرہ کو خود پر غصہ آیا تھا ۔۔۔۔۔
پہلے تو وہ خوب روئی تھی پھر یہ سوچنے لگی کہ اب تو شاید نوفل سے نظریں بھی نا ملا پائے ۔۔۔ زریاب سے تصور میں کیا کر گئ ۔۔۔ جو باتیں ان کے بیچ ہوئی تھیں وہ باتیں وہ یکسر بھول چکی تھی ۔۔۔ نا یہ یاد تھا کہ خود نے کہا ہے نا ہی یہ کہ زریاب کے خیالی روپ میں نوفل سے کیا سن بیٹھی ہے ۔۔۔۔ اور ہی اس نے یاد کرنے کی کوشش کی تھی وہ چاہتی تھی جو لمحے گزار کر آئی ہے وہ ذہن سے محور ہو جائیں ۔۔۔۔
بڑی مشکل سے اس کی آنکھ لگی تھی ۔۔۔۔۔ خواب میں زریاب بڑے غصے میں نظر آیا تھا ۔۔۔
” یہ کیا کیا تم نے مائرہ ۔۔۔۔۔ دھوکہ دے دیا مجھے ۔۔۔۔ شرم نہیں آئی تمہیں میرے ہی بھائی کے ساتھ کیا گناہ کر کے آئی ہو ۔۔۔۔” زریاب اسے غصے سے کہہ رہا تھا وہ رو رہی تھی ۔۔۔
” نہیں زریاب ۔۔۔۔ میں تو آپ کے ساتھ تھی ۔۔۔ پتہ نہیں نوفل کہا سے آگیا ” مائرہ روتے ہوئے اس کے پاس آ کر وضاحت دینے لگی
” جھوٹ مت بولو مجھ سے ۔۔۔ تم نے مجبورا نکاح کیا تھا مائرہ ۔۔۔۔ یہ ۔۔۔۔ یہ تھی تمہاری محبت ؟ ۔۔۔ نفسانی خواہش کے آگے جھک گئ ہو تم ۔۔۔۔ میری محبت میں کھوٹ سی ڈال دی ہے تم نے ۔۔۔۔ آئندہ تم سے ملنے نہیں اس۔ مجھے دیکھنے کو بھی ترسو گی ” وہ غضب ناک لہجے سے کہہ کر آگے بڑھ گیا تھا مائرہ اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے جارہی تھی عنقریب ہی تھی جب کسی نے اس کا ہاتھ کر اسے روک دیا تھا۔۔۔۔
” کون ہے ۔۔۔۔میرا ہاتھ چھوڑو زریاب مجھ سے دور چلے جائیں گئے ۔۔۔۔ ” لیکن ہاتھ اب بھی کسی کی مضبوط گرفت میں تھا زریاب لمحہ لمحہ اس سے دور جا رہا تھا مائرہ کو محسوس ہو رہا تھا کہ اپنی زندگی سے دور جا رہی ہے ۔۔۔۔ اپنا ہاتھ وہ چھڑوا نہیں پا رہی تھیں ۔۔۔۔ نظریں اب تک زریاب کی جانب تھیں ۔۔۔۔۔ جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہیں۔ ہو گیا مائرہ نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ کہ آخر اسے زریاب کے پاس جانے سے روکنے والا ہے کون ۔۔۔۔۔ غصے سے آنکھیں سرخ ہوئیں تھیں اس شخص سے نفرت سی محسوس ہونے لگی تھی جس کی وجہ سے وہ زریاب سے دور ہوئی تھی ۔۔۔ بڑے غصے سے وہ اپنے عقب کی طرف پلٹی تھی ۔۔۔۔ لیکن سامنے نوفل کو دیکھ کر
اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔ خواب تھا جو نوفل کو دیکھتے ہی ختم ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ بد حواسی ہی بد حواسی تھی ۔۔۔۔ حلق خشک تھا ۔۔۔۔ پورا وجود پسینے سے شرابور تھا ۔۔۔ سانس بھری طرح پھولا ہوا تھا ۔۔۔۔
” زریاب ۔۔۔۔۔ ” زیر لب نام دہراتے ہوئے وہ پھر سے بے اختیار روئی تھی ۔
” کیسے مناؤں گی انہیں ۔۔۔۔ نوفل تم کیوں آئے تھے میرے پاس کیوں میرا ہاتھ پکڑا تھا تم نے ۔۔۔ کیوں کیوں زریاب کے پاس جانے سے روک لیا ۔۔۔۔” ہاتھوں سے منہ چھپائے وہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔
اگلے روز صبح وہ بچوں کا ٹفن تیار کر رہی ۔۔۔۔
نوفل یوں تھا کہ جیسے گزشتہ رات کچھ ہوا ہی نا ہو ۔۔۔ نا پشیمانی تھی نا وہ نادم لگ رہا تھا اور نا ہی نظریں چرا رہا تھا ۔۔۔ البتہ مائرہ اسکی جانب دیکھنے سے بھی اجتناب کر رہی تھی ۔۔۔ ناشتے کے دوران بھی مائرہ کو اپنا آپ کسی کی نظروں جکڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ کسی کی نظروں کے حصار میں اپنا آپ مقید سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن نظریں اٹھا کر اسے دیکھ نہیں رہی تھی ۔۔۔۔جو صرف اسی پر نظریں جمائے ناشتہ کر رہا تھا ۔۔۔۔
چند دن سے وہ نوفل کی ایسی ہی بے تاب نظروں کو خود پر محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔ مائرہ بے چین سی ہونے لگی تھی اب نوفل سے کترانے لگی تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔ اس لئے ڈنر کے بعد بچوں کو سلا کر نیچے باہر لان میں آ گئ تھی ۔۔۔۔ موسم بدل رہا تھا سرد ہوائیں چل پڑیں تھیں ۔۔۔
لیکن اسے اندر کی بے چینی کا یہ عالم تھا ننگے پاؤں لان میں چہل قدمی کرنے پر مجبور تھی ۔۔۔۔
نوفل کی نظروں سے وہ اب الجھنے لگی تھی ۔۔۔ اب بھی لان میں رکھے بنچ کے پاس کھڑی ہو کر اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔۔ اس دن کی باتیں اس کے ذہن کے پردے پر گھومنے لگیں تھیں ۔۔۔ غلطی صرف مائرہ کی ہی نہیں تھی ۔۔۔ وہ زریاب کے خیال میں تھی ۔۔۔ تصور میں گم ہو کر حقیقت سے دور ہوئی تھی ۔۔۔ نام بھی زریاب کا لے رہی تھی ۔۔۔ لیکن نوفل ۔۔۔۔ وہ تو ہوش وہواس میں تھا ۔۔۔ چاہتا تو اسے روک بھی سکتا تھا ۔۔۔۔ یا اسے خود سے دور بھی کر سکتا تھا ۔۔۔ وہاں سے اٹھ کر جابھی سکتا تھا ۔۔۔ پھر گیا کیوں نہیں ۔۔۔ یک دم اپنے وجود میں چونٹیاں سے رینگتی ہوئی محسوس ہوئی سرد ہوا کے جھونکے اور اپنے خیالات نے کانپنے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔۔ نوفل نے اسے اپنے کمرے کی کھڑی سے باہر لان میں ٹہلتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔ کسی بہت گہری سوچ میں تھی ۔۔۔ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔ پھر نیچے اتر کر لان میں آ گیا وہ بینچ کے پاس کھڑی کسی گہری سوچ گم تھی ۔۔۔
بہت دونوں سے اس سے کترا رہی تھی ۔۔۔ بات کا جواب بھی نظریں چرا کر دیتی تھی ۔۔۔۔ لیکن اب نوفل چاہتا تھا کہ وہ بھی اس رشتے کو سمجھے اور قبول کرے اس لئے سب سے پہلے اپنی نظروں کی پابندی سے خود کو آزاد کیا تھا ۔۔۔۔۔ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھنے لگا تھا ۔۔۔ نظروں کی وارفتگی روز با روز بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔ چاہتا تھا کہ وہ اسکی نظروں کو محسوس بھی کرے لیکن مائرہ نظریں جھکائے ہی رکھتی تھی ۔۔۔۔ اب بھی اس کے عقب میں اس کے بلکل قریب جا کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔
اسے یوں ہر شے سے بیگانہ دیکھ کر شرارت سی سوجی تھی اس کے کان کے قریب ہو کر بولا
” کیا کر رہیں ہیں آپ یہاں ” مائرہ بری طرح سے چونکی تھی ۔۔۔۔ ڈر بھی گئ تھی ۔۔۔ نوفل کی بے اختیار ہنسی چھوٹی تھی ۔۔۔۔ اب وہ اسے کینہ توز نظروں سے دیکھ رہی تھی
” یہ کیا بد تمیزی تھی نوفل ” مائرہ سخت لہجے سے بولی تھی
” آپ یہاں اکیلی کر کیا رہیں ہیں “
” کچھ نہیں ۔۔ بس یونہی ۔۔۔ وہ کل سنڈے ہے ۔۔۔ کمرے کی چابی تو ولی نے نا جانے کہاں گم کر دی ہے ۔۔۔ تم وہ لاک ہی چینج کروا دو ” مائرہ کی بات سن کر کچھ دیر اس کے پریشان حال چہرے کو دیکھ ے لگا
” اوہ۔۔۔۔ تو اس لئے اتنی پریشان ہے ۔۔۔ بھائی سے ملاقات نہیں کو پارہی ۔۔۔۔ بھائی کی باتیں مجھ سے کر لیں ۔۔۔ جیسے اس دن میں تھیں ” مائرہ کادل دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔۔ کوئی ملال اور ندامت نہی تھی اسے ۔۔ جس بات وہ بھلائے نہیں بھول پارہی تھی جس بات نے اسے کا رہا سہا سکھ چین چھین لیا جسے وہ بھولنے کی کوشش میں نا کام تھی ۔۔۔ وہ اسے ایسی کسی اور ملاقات کے لئے بڑے مطمئن انداز سے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
” نہیں ” برجستہ مائرہ نے انکار کیا تھا ۔۔۔
” کیوں ۔۔۔ کس بات کاڈر ہے آپ کو ۔۔۔۔ ” بڑے دھیمے اور مخمور لہجے سے وہ پوچھ رہا تھا ۔۔۔ بے شرمی کی انتہا تھی جس کا اظہار وہ کر رہا تھا ۔۔۔۔ مائرہ وہاں مزید رکنا نہیں چاہتی تھی اس لئے اندر لاونج میں جانے لگی ۔۔۔
” بات تو سنے میری جا کہاں رہیں ہیں ” نوفل بھی اس کے پیچھے ہی لپکا تھا ۔۔۔۔ تیز قدم اٹھاتا ہوا اس کے برابر جا پہنچا
” مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔۔۔ آرام کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ لاونج کے دروازے کو کھول کر تیزی سے اوپر کازینہ چڑھ گئ تھی ۔۔۔ وہ اسے اوپر جاتے دیکھ کر مسکرانے لگا تھا ۔
” کب تک دامن بچائیے گی مجھ سے ۔۔۔۔ “
اگلے روز وہ یونہی مال میں چلا گیا تھا ۔۔۔ بچوں کے لئے شاپنگ کرتے ہوئے سامنے لیڈیز سوٹ پر نظر پڑی تو مائرہ کا خیال آنے لگا ۔۔۔ اس لئے اپنی پسند کے تین ریڈی میٹ سوٹ اس کے خریدے ۔۔۔ کانچ کی چوڑیاں پہننا مائرہ کو پسند تھا ۔۔۔ زریاب کی زندگی میں اس کے ہاتھ سے کبھی کسنچ چوڑیاں نہیں اتریں تھیں ۔۔۔ اس لئے عائزہ اور منزا کے ساتھ ساتھ مائرہ کے لئے بھی ہر رنگ کی۔ چوڑیاں اس نے خریدیں تھیں ۔۔۔۔ تصور میں اسکی کلائی پر بنتی چوڑیاں نظر آنے لگیں تھیں ۔۔۔ وہی میٹھی اور مسکان جو کبھی اس کے چہرے پر ہمہ وقت سجی رہتی تھی۔۔۔ اس بار اپنے لئے کچھ بھی نہیں خریدا تھا ۔۔۔۔
گھر آ کر اس نے شوپنگ بیگ صوفے پر بیٹھی مائرہ کے پاس رکھ دیے اور خود بھی اس کے برابر میں۔ یٹھ گیا ۔۔۔۔ عائزہ منزا اور ولی شاپنگ بیگ دیکھ کر اپنے جگ سو سو پزل چھوڑ کر نوفل کے پاس آ گئے تھے
” بابا آپ ہمارے لئے شاپنگ کر کے آئیں ہیں ” عائزہ کہ خوشی قابل دید تھی ۔” جی جانی بابا آپ کے لئے بہت خوبصورت سے فراک اور چوڑیاں بھی لیکر آئے ہیں ۔۔۔ ” نوفل نے تینوں بچوں کے شاپنگ بیگ انہیں تھاما دیے تھے ۔۔۔ مائرہ کے چہرے پر بس بچوں کو دیکھ کر خفیف سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔ پہلے کی طرح وہ چیزوں کو دلچسپی سے نہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔ نوفل کے ایک شاپنگ بیگ مائرہ کی گود میں رکھ دیا ۔۔۔
” یہ آپ کے لئے ” بڑا دھیمہ اور محبت سے لبریز لہجہ تھا وہ متحیر ضرور ہوئی تھی ۔۔۔ کیونکہ وہ صرف بچوں کے لئے ہی شاپنگ کرتا تھا ۔۔ مائرہ کو جب بھی کچھ خریداری کرنی ہوتی تو وہ اسکے ساتھ بازار جاتی تھی ۔۔۔ نوفل کے چہرے پر پھیلی گہری مسکراہٹ اسے بری سی لگ رہی تھی ۔۔۔
” اس کی کیاضرورت تھی ۔۔۔۔ تم بس بچوں کے لئے لے آتے ہو وہی کافی ہے ۔۔۔ “
” ارے کھول کر دیکھیں تو ۔۔۔ ” نوفل نے اسکی بات کو نظر انداز کر کے کہا ۔۔۔ مائرہ نے ایک نظر ہی کپڑوں پر ڈالی تھی مہرون ۔۔۔ اور۔ نیوی بلو کلر دیکھ کر شاپنگ بیگ واپس نوفل کے پاس رکھ دیا
” میں یہ رنگ نہیں پہنتی ۔۔۔۔ کل یہ واپس کر دینا “
” کیوں واپس کر دوں اتنی محبت میں لایا ہوں اور یہ دیکھیں کتنی خوبصورت چوڑیاں بھی ہیں اس میں ۔۔اپ کو ۔ بہت پسند ہیں چوڑیاں پہننا اس لئے ” نوفل نے بیگ کے اندر سے چوڑیوں کا بکس نکال کر خوشی سے اسے دیکھاتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔۔
” مجھے نہیں پہننا کچھ بھی ۔۔۔ نہیں پسند مجھے چوڑیاں بہت گہری چوٹ کھائی ہی ان چوڑیوں سے میں نے ۔۔۔۔ بڑے گہرے زخم سہے ہیں ۔۔۔ جب یہ چوڑیاں ہاتھوں میں پہنے ہوئے توڑ دی جائیں تو زخم صرف کلائی پر نہیں دل پر گھاؤں لگاتا ہے ۔۔۔۔۔ اپنی محبت اور اپنی چاہت اپنے پاس رکھو ۔۔۔ آئندہ میرے لئے یہ سب مت لانا ” غصے سے یہ کہہ وہ کچن میں چلی گئ ۔۔۔ وہ بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا عائزہ اور منزا بھی۔ چپ سی ہو گئیں تھیں ۔۔۔ نوفل کے اندر تو جیسے چھن سے کچھ ٹوٹا تھا ۔۔۔ غصہ بھی بہت آنے لگا تھا ۔۔۔ غصے سے اٹھ کر کچن میں گیا تھا مائرہ اسی کے لئے چائے رکھ رہی تھی ۔۔۔ لیکن نوفل نے آ کر سٹو بند کر دیا
” آپ ساری زندگی لوگوں کی جاہلانہ رسموں سے اپنے زخموں کو ہی تازہ کرتی رہیں گئیں ۔۔۔۔ بھرتے ہوئے زخموں کو کریدنا چھوڑ دیں تا کہ وہ جلد بھر سکیں ۔۔۔۔ میں آپ کے لئے ۔۔۔۔ بہت محبت اور چاہت سے سب کچھ لایا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ یہ پہننے بھی ” محبت اور چاہت کے لفظ پر وہ زور دے کے بولا تھا ۔۔۔ بہت کچھ اس پر جتا رہاتھا ۔۔۔
” میں یہ رنگ نہیں پہنتی مجھے راس نہیں ہیں ۔۔۔ اور تمہاری پسند تو ہر گز بھی نہیں پہنو۔ گی ۔۔۔ اٹھا کر باہر پھنک دونگی آئندہ اگر مجھ پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش بھی کی تو ۔۔۔ ” انگلی اٹھا کر وہ غصے سے اسے تنبیہ کر رہی تھی ۔۔۔ وہ کچھ دیر اسے خشمگین نظروں سے اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔ پھر کچن سے باہر نکل گیا ۔۔۔ اس کا شاپنگ بیگ اٹھایا اور اپنے کمرے میں جا کر الماری میں رکھ دیا پھر بیڈ پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
” میری بھی اب یہ ضد ہے مائرہ تمہیں میں اپنی پسند کے رنگوں میں نا رنگ دوں تو نوفل نام نہیں میرا ۔۔۔ ” اندر سلگتی ہوئی آگ اس وقت بھڑک سی اٹھی تھی ۔۔۔۔
مائرہ اپنی جگہ غصے میں تپی بیٹھی تھی ۔۔ پہلے اسکی نظروں سے پریشان تھی اور اب اس کی بڑھتے ہوئے قدم اس کی حواس معطل کرنے لگے تھے ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی وہ کمرے سے باہر آیا اور کچن میں دوبارہ سے آ گیا مائرہ کھانا بنانے میں مصروف تھی ۔۔۔ اسے پھر دوبارہ سے کچن میں دیکھ کر اسکے ماتھے کی شکنیں بڑھیں تھیں لیکن نوفل نے اسٹو پر رکھی کیتلی میں چائے کی پتی ڈالی اور آگ جلانے لگا ۔۔۔
” تم جا کر باہر بیٹھوں میں چائے بنادیتی ہوں “
” جی نہیں بہت شکریہ ۔۔ میں خود بنا لوں گا ۔۔۔ ” وہ بھی اسی لہجے میں چڑ کر جواب دے رہا تھا مائرہ نے اسے گھور کر دیکھا پھر ہانڈی میں زور سے چمچہ ہلانے لگی ۔۔۔ غصہ اور جلن کو چکن بھونتے ہوئے ہی نکال رہی تھی ۔۔۔
((ایسے نا مجھے تم دیکھو
سینے سے لگا لوں گا
تم کو میں چرا لوں گا تم سے
دلا میں چھپا لوں گا ))
چائے بناتے ہوئے وہ دھیمی آواز میں گا رہا تھا ۔۔۔ گانا خاصا رومنٹک سا تھا مائرہ کو غصے میں بھڑکانے کے لئے کافی تھا ۔۔۔ قہر بھری نظر سے سے مائرہ نے اسے کچا چبا جانے والے انداز سے اسے گھورا ۔۔۔ وہ خوفزدہ ہونے ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا
” ہائے ایسے تو نا دیکھا کریں مجھے اتنا سا دل ہے میرا ۔۔۔ ڈر جاتا ہوں ۔۔۔ ننھا منا سا ۔میرا دل کانپ سا جاتا ہے ” اپنی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے وہ اسے مزید زچ سا کر رہا تھا ۔۔
“۔ اپنی چائے کپ ڈالو اور نکلو باہر یہاں سے ۔۔۔۔ اور ایسے بیہودا گانا اپنے کمرے گایا کرو۔۔۔۔ اسٹوپٹ ” وہ تلملا سی گئ تھی ۔۔۔ وہ اس کے بلکل قریب آ کر کھڑا ہو گیا وہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر شلف سے جا لگی تھی
” جس بات کا تجھ کو ڈر ہے ۔۔
وہ کر کے دیکھا دونگا
ایسے نا مجھ دیکھو
ہمم ہمم ہمممممم
تم کو میں چرا لوں گا تم سے “
پھر سے وہی گانا گاتے ہوئے اس نے مائرہ کی جانب اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کے پیچھے شیلف پر رکھے کپ کو یوں اٹھایا کہ جیسے اسے سچ میں اپنے حصار میں لے لے گا ۔۔۔ وہ حد درجہ حواس باختہ ہوئی تھی لیکن نوفل کپ اٹھا کر پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔ مائرہ کا رکا ہوا سانس بحال ہوا تھا ۔۔۔ پھر کپ میں چائے ڈالی کر اسے مسکرا کر دیکھتا ہوا باہر چلا گیا ۔۔۔۔
” بد تمیز ۔۔۔ بیہودہ ۔۔۔ لوفر” غصے سے چھپتی ہوئی وہ اسکی اس حرکت پر اپنا جی جلا سکتی تھی ۔۔۔
اپنے بارے میں مائرہ کے منہ یہ القاب سن کر اس کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی تھی ۔۔۔
” ابھی تو شروعات ماہرہ جی ۔۔۔۔ دیکھتی جائیں کہ اب یہ لوفر آپ کے ساتھ کرتا کیا کیا ہے ” صوفے پر بیٹھ کر بڑے مزے سے چائے پینے لگا کچھ دیر پہلے والا غصہ ختم ہو چکا تھا ۔۔۔۔
” عائزہ کارٹون کا ذرا والیم فل کرو ” نوفل نے چائے پیتے ہوئے کچن کی طرف منہ کر کے بلند لہجے سے کہا ۔۔۔۔
اندر کھانا بناتی ہوئی مائرہ کی جان نئے سرے سے جلائی تھی ۔۔۔۔
,*******………,
رمشہ کا چہرے کے زخم بھر چکے تھے ۔۔۔ لیکن چہرے کی بد نمائی باقی تھی ۔۔۔۔ جس دن اس نے پہلی بار اپنا چہرہ آئنے میں دیکھا تھا ۔۔۔ خوف کے مارے آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔۔۔۔پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی ۔۔۔۔
اس وقت کمرے میں اکیلی تھی ۔۔۔۔ آپ چہرہ اس قدر خوفناک لگ رہا تھا کہ خود سے نفرت سی محسوس ہوئی تھی سب سے پہلا خیال یہ آیا کہ خود کو ختم کر کے ۔۔۔۔ مر جانا آسان لگ رہا تھا ۔۔۔ اور اس چہرے کے ساتھ لوگوں کو فیس کرنا موت سے بدتر لگ رہا تھا ۔۔۔۔
بے نیازی سے سنی ہوئی ایک بات کانوں میں گونجنے لگی تھی ۔۔۔جسے اس وقت رمشہ نے لا پروائی سے سن کر چٹکیوں میں اڑا یا تھا
شادی سے پہلے جب وہ نوفل کے ساتھ منسوب تھی اپنے حسن پر جتنا اتراتی اتنا کم ۔ تھا ۔۔۔
ثنا کے گھر درس پر وہ فروزی رنگ لباس پہنے میچنگ جیولری اور ہلکے میک اپ کے ساتھ گئ تھی۔۔۔ ارادہ تو اس کا یہی تھا درس ختم ہونے کے بعد ہی پہنچے تو کہ بس کولیگ کے ساتھ بیٹھ کر گپیں ہی لگائیں جائیں یا پھر آڑے ٹہرے منہ بنا کر سیلفی لی جاسکے ۔۔۔
” رمشہ تم تو جیسا مرضی منہ بنا لو تمہاری سیلفی ہمیشہ اچھی ہی آتی ہے ۔۔۔ ایسی باتوں پر وہ ہمیشہ اترائی اترائی نظر آتی تھی ۔۔۔ اب بھی کب وہ ثنا کے گھر پر داخل ہوئی درس اپنے اختتام پر تھا درس دینے والی خاتون کے الفاظ رمشہ کے کانوں سے ٹکرائے تھے
((((ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا؛
تکبر حق کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے
صحیح مسلم؛ح91،الایمان؛39
مسلمان کو حقیر جاننے کا گناہ؛
رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں؛
کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار ہے جس شخص نے ان دونوں میں سے کسی ایک پر مجھ سے مقابلہ کیا، میں اسے آگ میں پھینک دوں گا۔
صحیح اُبی داوُد، ح3446، اللباس؛28
اس لیے رسول اللہ ﷺنے فرمایا؛
وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی تکبر ہو گا۔
صحیح مسلم)))))
اس وقت تو رمشہںکو احساس تک نہیں ہوا تھا ۔۔۔ کہ لفظ جو کانوں کے پردے سے ٹکرائے ہیں ۔۔۔ وہ کس ذات پاک کی شان کی بڑائی کو بیان کر رہے ہیں ۔۔۔۔ اس نے بھی یہی غلطی تو کی تھی ۔ ۔ خود کو آسمان کا روشن چاند سمجھنے لگی تھی ۔۔۔۔ لیکن یہ بھول گئ تھی کہ کے چاند تو بے نور ہے سورچ کی روشنی کا محتاج ہے ۔۔۔ اور اس روشنی میں چاند کے اندر لگا داغ سب کو واضع طور پر دیکھتا ہے ۔۔۔۔رمشہ نے کیسے کیسے گھاؤں لگائے تھے بدر کے دل پر اپنی باتوں سے ۔۔۔۔ کتنی حقارت سے اسکی گندمی رنگ کو اپنے حسن کا سیاہ دھبہ کہہ جاتی تھی ۔۔۔۔
لیکن آج اس حدیث کی حقیقت سے آشانہ ہوئی تھی تو غرور ٹوٹ چکا تھا ۔۔۔۔ وہ اپنے حسن کو اپنی کبریائی سمجھ بیٹھی تھی ۔۔۔ اور آگ میں ہی تو جھونک دی گئ تھی ۔۔۔۔ اور آج سارا غرور پاش پاش ہوا گیا تھا ۔۔۔۔ نا حسن رہا تھا نا ہی حسن کی رعنائیاں ۔۔۔۔۔ بس پچھتاوا رہ گیا تھا ندامت رہ گئ تھی ۔۔۔ اور آنسوں رہ گئے تھے ۔۔۔ وضو کر کے جائے نماز پر تھی ۔۔۔۔ نا جانے کتنے سالوں بعد جائے نماز پر کھڑی ہوئی تھی روتے ہوئے نماز ادا کی تھی ۔۔۔۔ سسکتے ہوئے اپنے گناہ سے توبہ کرنے لگی تھی ۔۔۔ سجدے میں سر رکھ کر اپنی پیشانی زمین پر رگڑ رہی تھی
” خاک ہوں میں میرا اللہ میرا وجود مٹی کی پیدا وار ہے ۔۔۔ اور میرا انجام اسی مٹی کے ڈھیر میں مٹی کا ڈھیر ہی بن جائے گا ۔۔۔ مجھے خاکساری ۔۔ اور عاجری میں رہنا چاہیے تھا ۔۔۔ میرا حسن میرا کمال نہیں تھا بلکہ تیری عطا تھی ۔۔۔۔ لیکن اس عارضی سی چیز نے مجھ سے میری اوقات چھین لی ۔۔۔۔ میں بھول گئ تھی میرے اللہ کے کبریائی تیری شان ہے ۔۔۔۔ مجھے عاجری اور انکساری عطا کر دے ۔۔۔ مجھے معاف کر دے میرے اللہ ۔۔۔۔ ” روتے روتے اس کی ہچکی سی بندھ گئ تھی ۔۔۔
انسان کی عقل فہم حسن یہ سب اللہ کے انعامات ہیں ۔۔۔۔ جس پر شکر بجا لانے کا حکم ہے ۔۔ نا کہ اترانے اور خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے کا ۔۔۔۔ اللہ نے اپنے ہر بندے کو کسی نا کسی نعمت سے نوازا ہے
کسی کو خوبصورت آواز دے کر کسی کو ذہانت دے کر کسی کے دل کو نرم نازک سے احساس دے کر اور کسی حسن دے کر ۔۔۔ یہ خوبیاں ہیں جو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ہیں ۔۔۔ اس میں انسان کا اپنا کوئی کمال نہیں ہے ۔۔۔۔ اس لئے غرور کس بات کرنا ۔۔۔ خود کو بہتر اور دوسرے کو کم تر کیوں سمجھنا
رمشہ کے پاس اگر خوبصورت چہرہ تھا تو بدر کے پاس خوبصورت اور نرم نازک احساس سے لبریز دل تھا ۔۔۔۔ جو چہرے کی خوبصورتی سے۔ ذیادہ بہتر تھا ۔۔۔ کیونکہ خوبصورتی وقت کے ساتھ ساتھ ڈھل جاتی ہے لیکن احساس سے بھرے دل وقت کے ساتھ ساتھ تراشتے ہوئے ہیرے کی طرح نایاب ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ بات رمشہ کی ڈ۔جھ میں آ چکی تھی ۔۔۔۔
******……..
عفیرہ کا سجنا سنورنا ویسے کا ویسا ہی تھا ۔۔۔۔ لیکن اب ظفر کا بڑا بیٹا بلوغت کی عمر میں پہنچ رہا تھا ۔۔۔۔ قد بھی اونچا نکال چکا تھا ۔۔۔۔
اس عمر میں لڑکوں کو سب سے ذیادہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں ماں بات کو چوکنا رہنا چاہیے ۔۔۔۔ لیکن عفیرہ کی لاپروا طعبیت میں ایسی کوئی بات نہیں تھی ۔۔۔ ناڈوپٹے کی ہوش ہوتی تھی نا ہی رضوان کی بے باکی سے اٹھتی نظروں کی پروا تھی ۔۔۔۔ لیکن ظفر کی شکی مزاج تھا اس لئے چیل کی نظر رکھتا تھا ۔۔۔ بیٹے کو تیز گھوری سے دیکھا تو وہ سٹپٹا کر نظریں چرا گیا ۔۔۔ لیکن یہ پہلی خطرے کی گھنٹی تھی ۔۔۔۔ گہرے گلے کی چست قمیض پر بے نیازی سے ڈوپٹہ اوڑھے وہ صحن کاجھاٹو لگا رہی تھی ظفر بھی وہیں بیٹھا تھا ۔۔۔ یہ دیکھ کر پہلے تو بیٹے کو گھورا جس کی نظریں عفیرہ کی زینت پر تھیں ۔۔۔۔ لیکن باپ کی سخت نظروں نے اسکی چوری پکڑ لی تھی ۔۔۔۔۔ تذبذب سا ہو کر اندر کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
رات کو عفیرہ کو بھی سخت لہجے میں کہا کہ وہ کپڑے ڈھنگ کے پینا کرے اور اس کے لڑکوں کے سامنے ڈوپٹہ ٹھیک سے اوڑھا کرے لیکن عفیرہ کہاں زبان کی بات سمجھتی تھی ۔۔۔۔
ظفر چند اسے ڈانٹ ڈپٹ کے کہتا رہا لیکن جب وہ نہیں مانی تو کینچی پکڑ کر ظفر نے اسے بال آڑے ٹہرے کاٹ دیے وہ روتی چیختی چلاتی رہی لیکن ظفر کے سامنے بے بس تھی
” تجھے جوتے کی زبان ہی سمجھ آتی ہے ۔۔۔۔ تو میں کیا کروں ۔۔۔ دیکھ میرے بیٹے بڑے ہو رہے ہیں میں تیری ہر وقت رکھوالی نہیں کر سکتا ۔۔۔
جب تیرا سجنا سنورنا میرے لئے ہی ہے تو ۔۔ مجھے تو ایسی اچھی لگتی ہے ۔۔۔ سادہ سی رہا کر ۔۔۔ تا کہ۔ چار بچوں کی ماں لگے ۔۔۔۔ خود کو سنوارنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ ” عفیرہ کے دونوں جبڑے سختی سے اپنے ہاتھ سے کرکے وہ غصے سے پھنکار رہا تھا ۔۔۔۔ عفیفہ کا حلق تک خشک ہوا تھا
اپنے کٹے بال زمیں پر بکھرے دیکھ کر دل خون کے آنسوں رونے لگا تھا بال اس قدر غلط طریقے کاٹے گئے تھے کہ وہ بری سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔ پھر ظفر نے اسکی بد زبانی اجباڈے برے طریقے مارا تھا ۔۔۔ ہونٹ پھٹ کیا چہرے پر نیل کے نشانات تھے ۔۔۔۔
جو شکل وہ اسکی بگاڑ چکا تھا ۔۔۔ اس کے بیٹے تو دور کی بات وہ خود بھی آئنے کے سامنے نا جاتی ۔۔۔۔
شیشے کے سامنے اپنا آپ دیکھ کر اپنی باتیں ذہن میں گونجنے لگی اس نے مائرہ سے کہیں تھیں
((بس بھی کریں بھابھی دیکھیں کتنے ہلکے پڑ گئے ہیں رو رو کے آپ کی آنکھوں کے نیچے ۔۔۔۔ نوفل بھی نا بناسوچے سمجھے ہی چیزیں اٹھا لاتے ہیں ۔۔۔ اب سمجھا کر آئی ہوں ۔۔۔ کہ مائرہ بھابھی اب بیوہ ہو چکیں ہیں ۔۔۔۔ یہ سب چیزیں پہنا کہاں انہیں جچتا ہے ۔۔۔۔ آخر دنیا داری کو تو دیکھنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ یہ تو اب بیواؤں کی زندگی پھر بھی کچھ سہل ہو گئ ہے ورنہ امی بتاتیں ہیں کہ میری نانی کے زمانے میں تو بیوی عورتوں کے لمبے بالوں کو بھی کاٹ دیا جاتا تھا ” عفیرہ نے مائرہ کی لمبی چوٹی پکڑ کر کہا تھا
((( ننگے پاؤں بیچاریاں چلتی پھرتی تھیں ۔۔۔۔ آپ تو خوش نصیب ہیں کہ اس دور میں نہیں تھیں ۔۔۔۔
ورنہ جتنے حسین اور لمبے آپ کے بال ہیں ۔۔۔۔ اب تک تو کٹ چکے ہوتے)))
اور پھر شیشے میں اپنے بے ترتیب کٹے بالوں کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی
((” ویسے بھابھی میں سوچتی ہوں اس دور میں کرتے تو بلکل ٹھیک ہی تھے ۔۔۔۔ اب لمبے بال ۔۔۔ گورا رنگ خوبصورت جسامت ایک بیوہ نے کرنی کیا ہے ۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے میرے گھر کے پاس بھی ایک عورت بیوہ ہو گئ تھی تین بچے تھے اس کے ۔۔۔۔ آپ کی طرح خوبصورت اور جوان تھی پھر گھر میں جوان دیور۔ بھی تھے ۔۔۔۔ ساس نے تو پہلی فرصت میں اسکے بال بھی بے ڈھنگے کاٹ دیے اور اسے ہاسپٹل لے جا کر اسکا آپریشن کروا دیا تا کہ وہ کبھی بھی ماں نا بن سکے ۔۔۔۔ امی نے پوچھا کہ جوان بہو کے ساتھ یہ ظلم کیوں کیا تو کہنے لگی کاہے کا ظلم بہن ۔۔۔ جب میرا بیٹا ہی نا رہا تو یہ سب میری بہو کے پاس ہونا ہی نہیں چاہیے ۔۔۔۔ میرے گھر میں جوان بیٹے اور بھی ہیں ۔۔۔۔
میں نہیں چاہتی کہ کوئی بھابھی پر نظر بھی رکھے ۔۔۔۔۔ بھابھی اسکی ساس نے ٹھیک کیا نا ؟ ” عفیرہ نے یوں معصومیت سے پوچھا جیسے اسے بتا نا رہی ہو کچھ جتا رہی ہو ۔۔۔ مائرہ صرف دیکھ رہی تھی یہ بھی جانتی تھی کہ وہ کس انداز سے پوچھ رہی ہے لیکن چپ تھی
” جوان دیور آگ کے مترادف ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ پھر بیوہ بھابھی اگر حسین ہو تو ۔۔۔۔۔ کسی کا بھی دل کبھی بھی پھسل سکتا ہے ۔۔۔۔۔ مجھے تو اسکی ساس کی دور اندیشی بہت اچھی لگی ۔۔۔۔۔ ” ))))
یہ سب زبان سے کہنا کتنا سہل تھا ۔۔۔ لیکن آج وہ بھی ننگے پاؤں کٹے بال اور بگڑے حلیے میں کھڑی تھی ۔۔۔ تا کہ وہ اپنی عمر سے بڑی دیکھنے لگے ۔۔۔۔ تا کہ ظفر کے بیٹوں کا اسے دیکھ کر دل نا پھسل جائے ۔۔۔۔۔ کل عفیرہ کو بیوہ عورت کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا دور اندیشی اور سمجھداری لگ رہی تھی ۔۔۔ مگر جب آج خود اس حلیے میں تھی تو آنسوں خشک نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔۔
دل دیکھانا بہت آسان ہوتا ہے دوسروں کے لئے مشورے دینا رسمیں نبھانا بڑا اچھا سا لگتا ہے لیکن کسی بیوہ اور مجبور عورت کی جگہ جب وہی کچھ خود سہنا پڑ جائے تو اندا،ہ ہوتا ہے کہ کیسے دل چیر دینے والے جمعلے منہ سے ادا کیے تھے ۔ ۔۔ لفظوں کی بھرپسئی خدا کسی کے سامنے نا لائے جیسی عبیرہ کے سنے آئی تھی
*******…….
رات کو آٹھ بجے جب نوفل گھر پہنچا تو گھر میں خاصا سناٹا تھا ۔۔۔ صرف مائرہ لاونج میں بیٹھی تھی ۔۔۔
۔” اسلام علیکم۔۔۔۔ “
” واعلیکم السلام ” ماتھے پر تیوری چڑھائے اس نے جواب دیا تھا
” بچے کہاں ہیں “
” کھانا کھا کر سو گئے ہیں ” نوفل نے بے یقنی سے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھا آٹھ ہی بج رہے تھے
” اتنی جلدی کیوں ” اپنا لیپ ٹاپ کا بیگ صوفے پر رکھ کر وہ وہیں بیٹھ کر پوچھنے لگا
” بچے اسکول جاتے ہیں ۔۔۔ مجھے انکی روٹین بنانی ہے۔۔۔۔ اس لئے اسوقت ان کا سو جانا بہتر ہے ۔۔۔ ” بڑا روکھا سا لہجہ تھا
“اور ولی؟ “
” وہ بھی سو چکا ہے ۔۔۔۔ “
” ہاں اس نے بھی دو سال بعد اسکول جانا ہو گا ۔۔۔ اس لئے اسکی بھی روٹین بننی چاہیے ۔۔۔۔ ؟ نوفل کے طنز پر مائرہ کی پیشانی کی سلوٹیں بڑھیں تھیں
” نوفل آج تو میں کھانا تمہیں گرم کر کے دے رہی ہوں لیکن کل سے سب کچھ تیار کر کے رکھ دونگی تم اون میں گرم کر کے کھا لیا کرنا ۔۔۔ چائے تو تم خود بھی بہت اچھی بنا لیتے ہو اس لئے وہ بھی خود بنا کر پی لیا کرنا ” مائرہ کی بات اس نے بڑے تعجب سے سنی تھی ۔۔۔۔ سمجھ گیا تھا کہ جان چھڑوانے کے بہانے ہیں ۔
” یقینا آپ کو بھی صبح اسکول جلدی جانا ہو گا ۔۔۔ ورنہ روٹین خراب ہو جائے گی ” استزائیہ انداز سے طنز کرتے ہوئے وہ ہسنے لگا تھا
” میں بھی دن بھر تھکی ہوئی ہوتی ہوں اس لئے آرام ہر ۔میرا بھی حق ہے ” وہ اب بھی سنجیدہ سی اسپاٹ لہجے میں بول رہی تھی
” حق ۔۔۔۔ واقعی بہت حقوق یاد آگئے آپ کو ۔۔۔ تھوڑا فرائض پر بھی بات کر لیں ۔۔۔ دن بھر میں بھی آفس میں کام ہی کرتا ہوں ۔۔۔ گھر آ کر آرام کا حق تو مجھے بھی حاصل ہے ۔۔۔ بچوں کو آپ نے سلانا ہے شوق سے سلائیے لیکن مجھے آپ ضرور رات کواٹینڈ کریں گئیں ۔۔۔۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے ” یہ کہہ وہ کھڑا ہو گیا اپنا بیگ پکڑا اور اسکی طرف دیکھ کر بولا
” کھانا گرم کریں میں چینج کر کے آتا ہوں پھر ایک ساتھ ڈنر کریں گئے اور اس کے بعد آپ کے ہاتھ کی اسٹرونگ چائے بھی پیو گا ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ اوپر کا زینہ چڑھ گیا تھا ۔۔۔۔ مائرہ اپنا غصہ پی کر رہ گئ تھی ۔۔۔
لیکن اگلے روز مائرہ بھی کمرے میں جا چکی تھی بس کچن میں کھانا موجود تھا
نوفل نے کھانا فریج میں رکھا اور پانی پی کر سو گیا ۔۔۔ مائرہ صبح سب کچھ ویسے کا ویسا ہی دیکھ کر سمجھ گئ تھی کہ وہ بھوکا سویا ہے۔ لیکن دل میں یہ سوچا کہ کب تک بھوکا رہے گا ۔۔۔
مگر وہ نوفل تھا ۔۔۔ چار دن اس نے ڈنر نہیں کیا تھا نا ہی صبح ناشتہ کر کے جاتا تھا
پانچویں دن مائرہ اس کے انتظار میں جاگ رہی تھی ولی کو بھی سونے نہیں دیا تھا ۔۔۔۔ نوفل دونوں کو دیکھ کر مسکرایا تھا ۔۔۔ مائرہ کوسلام کر کے اپنے کمرے میں چلا گیا
کھانا نوفل نے سب سے پہلے مائرہ کی پلیٹ میں ڈال کر اس کے سامنے رکھا تھا ۔۔۔۔۔ پھر اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھانے لگا
ولی مائرہ کی گود میں بیٹھا ہوا تھا
” ولی بیٹا اپنے ہاتھ سے کھانا کھایا کرو اب ولی بڑا ہو گیا ہے ۔۔ “
” مما کے ہاتھ سے کھاؤ گا ” ولی اپنی ضد پر ڈٹا ہوا تھا مائرہ نے بہت دفعہ اسے سمجھایا لیکن ولی صاحب بھی باپ کے نقشے قدم پر گامزن تھے ۔۔۔ مائرہ نے ہی ہار مانتے ہوئے اسے کھانا کھلانا شروع کر دیا
” بہت تنگ کرتے ہو تم مجھے ولی اتنا تو کبھی مجھے عائزہ اور منزا نے پریشان نہیں کیا “۔ ولی کے منہ میں نوالے ڈالتے ہوئے مائرہ نے اسے گھورا تھا
“عائزہ اور منزا بھائی جیسی ہیں اس لئے جلد مان جانتی ہیں ۔۔۔ ولی مجھ پر گیا ہے اپنا حق لینا اچھے سے جانتا ہے ” مائرہ کا نوالہ ہاتھ میں رہ گیا تھا ۔۔۔ کتنے دنوں سے وہ اسکی زو معنی باتیں اسکی چھبتی نظریں برداشت کر رہی تھی
لیکن آج تو ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا
” نوفل میں نے خالہ سے بات کر لی ہے تمہارا رشتہ اسی لڑکی سے پکا کر دیا ہے جو خالہ نے بتایا تھا ۔۔۔۔ چند دن بعد ہی وہ لوگ یہاں پہنچ جائیں گئے سادگی سے نکاح ہو گااور ” نوفل کا نوالہ چبانہ مشکل ہوا تھا مائرہ کی بات کو اس نے مکمل نہیں ہونے دیا تھا
” منع کر دیں خالہ کو ۔۔۔۔ “
” میں ہاں کر چکی ہوں ” مائرہ نے ولی کو پانی پلاتے ہوئے کہا
” میں شادی سے صاف انکار کر دوں گا ” وہ سنجیدگی سے بولا
” میں نے تم سے نکاح صرف اسی شرط پر کیا تھا نوفل ۔۔ کے تم شادی ضرور کرو گئے ۔۔۔۔ اس لئے اب اپنی بات نبھاؤ ۔۔۔۔ وہ لوگ آئیں گئے اور تم نکاح بھی کروں گئے ۔۔۔ ” مائرہ کی بات سن کر اس نے۔ کھانے کی پلیٹ پیچھے کھسکائی نوفل کو مائرہ کی گود سے لیس اور اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
مائرہ کچن میں برتن دھو۔ رہی تھی جب نوفل کچن میں داخل ہوا تھا
” ایک کپ چائے مل سکتی ہے ” نوفل نے مائرہ کو سنک میں برتن دھوتے دیکھ کر کہا
” بنا دیتی ہوں ” سنک کا نل بند کر کے وہ چائے کی کیتلی اسٹو پر رکھنے لگی ۔۔۔ لیکن نوفل کااسے یوں ٹکٹکی باندھے دیکھنا اسے برا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ رات کے اس پہر وہ دونوں اکیلے کچن میں تھے
” تم باہر جاؤں نوفل میں چائے بنا کر لاونج میں رکھ دوں گی “مائرہ نے سخت لہجہ اپنایا تھا
” مائرہ ایسا کرنا چائے بنا کر میرے کمرے میں لے آنا ” ایک لمحے میں نوفل نے ہر حد کو پار کیا تھا
آپ سے تم بھابھی سے مائرہ ۔۔۔۔ مائرہ کو اسکی بے تکلفی کھل کر رہ گئ تھی
” بات کرنے کی تمیز کیا بھول گئے تم ” مائرہ کی برداشت سے باہر ہوا تھا
” کیا غلط کہا میں نے مائرہ نام نہیں تمہارا ؟ وہ اسکے سامنے کھڑا ڈھٹائی سے سوال کر رہا تھا
” ایک مہینے سے برداشت کر رہی ہوں ۔میں تمہیں لیکن آج تو جیسے ساری حدیں ختم ہو گئیں ہیں
جس بے باکی سے تم ۔ مجھے دیکھ رہے ہو بچی نہیں ہوں میں کہ تمہاری نظروں کا مفہوم نا سمجھ سکو
اور آج میرا نام لے رہے ہو ۔۔۔ Don’t Cross your limit
” انگلی اٹھا کر اس نے غصے سے تنبیہ کی تھی لیکن مخالف شخص بے پروا سا کھڑا تھا
” یہ بھی اچھی بات ہے کہ تم میری نظروں کو اچھی طرح سمجھ گئ ہو ۔۔میں بھی کب سے تمہیں یہی سمجھانا چاہ رہا تھا ” ۔۔۔ مائرہ کے چہرے پر بکھری لٹ اس نے اپنی انگلی سے پیچھے کرنا چاہی جب ایک زوردار تھپڑ نوفل کے منہ پڑا تھا ۔۔۔
” شرم نہیں آتی تمہیں ۔۔۔ تمہاری بھابھی ہوں میں۔۔۔ ذرا لحاظ نہیں ہے تم میں میرے اور اپنے درمیان قائم شدہ رشتے کا ” مائرہ چلا کر بولی تھی
” اوہ شٹ اپ ۔۔۔ ” نوفل بھی
آپے سے باہر ہوا تھا اسکی کلائی پکڑ کر اسے کچن سے باہر لا کر اسے گھسٹتے ہوئے اسے اپنے کمرے میں لے جانے لگا
” کہاں لے جا رہے ہو تم مجھے چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔ نوفل ” مائرہ چلاتی ہی رہ گئ لیکن وہ اسے اپنے کمرے میں لے جا کر دروازہ بند کر چکا تھا
