Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 18
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 18
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
عرفان کے گھر پہنچتے ہی ایک بحث ومباحثہ شروع ہو چکا تھا
” میں پوچھتی ہوں میری کوئی حیثیت ہے بھی اس گھر میں کے نہیں وہ دو ٹکے کا چھوکرہ ۔۔۔ مجھے یہ کہہ۔ رہا تھا کہ عرفان بھائی سے پوچھ لیا ہے انہیں اعتراض نہیں۔ اور لے گیا شزا کو ۔۔۔۔۔میں پوچھتی ہوں عرفان اب تو اپنے سسرالی رشتے داروں کے سامنے مجھے یوں ذلیل کرواں گئے ” اماں جی کا غصے سے برا حال تھا شبو بھی ماں کے برابر میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔ سب اسی کی پڑھائی ہوئی پٹی تھی ۔۔عرفان سامنے کھڑا تھا
” اماں ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ اس کا فون آیا تو کہنے لگا مہینہ گزر گیا ہے ہم بہت اداس ہیں۔ شزا کو لے جانا چاہتے ہیں ۔۔۔ میں کیا کہتا انہیں ۔۔۔ گھر کی بڑی آپ ہیں اس لئے کہہ دیا کہ اماں سے پوچھ لیں مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ۔۔۔۔ فیصلہ تو میں نے آپ پر ہی چھوڑا تھا ” عرفان نے وضاحت دی
” واہ بھئ بھائی صاحب کیا بات ہے آپ کی ۔۔۔۔ ساری ٹوپی ماں کے سر ڈال دی ۔۔۔۔ ارے میاں کس بات کے مرد ہو تم۔۔۔۔ ماں ہی ملی تھی تمہیں جن کے ناتواں کندھوں پر رکھ کو بندوق چلانے چلے تھے ۔۔۔۔ مرد بنتے اور خود انکار کرتے ۔۔۔۔ ” شبو نے بھی اپنی گھوریاں تیز کیں تھیں ۔۔۔۔
” مجھے ان چیزوں سے دور رکھیں تو بہتر ہے ۔۔۔۔ آپ جیسا چاہتے ہیں میں شزا کے ساتھ ویسے ہی رہتا ہوں ۔۔۔۔ میرے لئے اس کا ہونا اور نا ہونا ایک برابر ہے ۔۔۔۔ اس لئے یہ سب جھمیلے آپ سنبھالیں ۔۔۔ ” عرفان یہ کہہ کر اپنے کمرے چلا گیا ۔۔۔ شبو بھائی کی صاف گوئی پر تلملائی تھی ماں کا بھی یہی حال تھا
“دیکھ رہی ہوں صاحبزادے کے تیور ۔۔۔۔ ” ماں تو عرفان کے جواب سے پریشان ہوئیں تھیں غصے سے بولیں
“ہاں دیکھ رہی ہوں ۔۔۔ کل کرتی ہوں اس سے بات دیکھیے گا کیسے واپس بلاتا کے اسے ۔۔۔”شبو کا فتنا دماغ اس معاملے میں خوب چلتا تھا خود شادی کے چند ماہ بعد ہی سسرال والوں سے لڑ کر ماں کے قریب کرایے کے گھر لیکر وہاں آ بیٹھی تھی ۔۔۔۔ اور میکے میں اپنی حکمرانی چاہتی تھی ۔۔۔۔
صبح ناشتے پر ماں سر باندھے ہائے ہائے کرنے لگی عرفان ناشتہ کے لئے ٹیبل پر بیٹھا تو سوائے چائے اور کچھ بھی ناشتے نہیں تھا
” بینش کھانے کو کچھ ہے یا صرف چائے ہی ملے گی ” عرفان نے بلند لہجے میں کہا ۔۔۔ بینش اور زرنش کچن میں ناشتہ بنا رہیں تھیں ۔۔۔
” ارے وہ دونوں کس کس ناشتہ بنائیں ۔۔۔۔ بیوی تو تمہاری جان چھڑوا کر میکے جا بیٹھی ہے ۔۔۔ بلاؤ اسے سنبھالے آ کر اپنی زمہ داری ..امی کو بھی بخار ہو رہا ہے ۔۔۔ سر میں درد ہے ذرا احساس ہے اس میں جب سے گئ ہے ایک فون کر کے یہ نہیں پوچھا کہ ساس کی طبیعت کیسی ہے ۔۔۔ اللہ اللہ ایسی بھی کیا بے مروتی ” شبو نے میں ہاتھ لگا کر آخری جمعلہ بولا عرفان بولا کچھ نہیں لیکن برا ضرور لگا تھا اس نے خاموشی سے چائے کا کپ ہی منہ کو لگایا تھا پتہ تھا کہ کھانے کو کچھ نہیں ملے گا
” ارے میرے سسرال والے اس قابل ہی نہیں کہ انہیں منہ لگایا جائے ۔۔ تمہاری بیوی خوش نصیب ہے جو ماں جیسی ساس ملی ہے اسے میری ایسی ساس ہوتی تو مجھے اور کیا چائیے تھا خوب خدمت کرتی انکی ” شبو نے ماں کو پیار سے دیکھا عرفان کو شزا پر غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔۔ اسے بھی یہی لگ رہا تھا بیوی کو ماں کی قدر نہیں ہے ۔۔۔ ماں نے بیٹے کے تیور دیکھ کر کہا
” بس بھیا فون کر اپنی بیوی کو اور اس سے کہو کے واپس آئے ۔۔۔۔ کل سے میری بچیاں کچن میں کام کر کر کے ہلکان ہو چکیں ہیں ۔۔۔ بیٹیاں تو پرائی امانت ہوتی ہیں اصل تو بہو ہوتی ہے شزا کو کہہ کے آئے اور سنبھالے گھر ۔۔۔ ” خالی کپ اس نے ٹیبل پر رکھا ۔۔۔ اور اپنے کام پر چلا گیا
*********……….
کچھ پل تو مائرہ سامنے کھڑے شیطان صفت انسان کی بے حسی دیکھتی رہی ۔۔۔ روتی بلکتی بچیوں کے وہ ہاتھ تھامے بہت بڑی آزمائش میں اسے ڈال گیا تھا ۔۔۔۔
” بیٹیاں تو اللہ نے بھی آپ دیں ہیں ۔۔۔۔ شرم نہیں آئی ایسا سوچتے ہوئے ” مائرہ نے تاسف سے اسے دیکھا تھا عمار تلملا سا گیا
” بکو مت ۔۔۔ بس میری بات کا جواب دو ” عمار اس وقت ہوس کی آگ میں جل رہو تھا اس لئے کسی بات کی پروا نہیں تھی ۔۔۔۔ کچھ بھی تو نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔
” میرے بچوں کو چھوڑ دو ۔۔۔۔ ” مائرہ نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔ معصوم روتی ہوئی بچیاں روتے ہوئے اپنے ہاتھ عمار سے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مما مما کہہ کر مائرہ۔ کے پاس آنے کو مچل رہیں تھیں
” پہلے اپنے ہاتھ سے یہ لوئے کا گلدان نیچے رکھو اور پاؤں سے میری طرف پھنکو ” عمار اب بھی ڈر تھا کہ بچیوں کو چھوڑتے ہی کہیں مائرہ اس پر وار نا کر دے ۔۔۔۔ اس گلدان کا ایک ہی وار اس کا سر پھاڑ کے رکھ سکتا تھا ۔۔۔۔
مائرہ کاارادہ یہی تھا کہ جیسے وہ بچیوں کو چھوڑے گاوہ اپنا داؤ چل دے گئ لیکن اب تو جیسے ہار چکی تھی گلدان اس نے پھنک دیا پھر پاؤں سے دروازے کے پاس دھیکیل دیا ۔۔۔ ایک خباثت بھری مسکراہٹ عمار کے چہرے پر سجی تھی آنکھوں ہوس کی چمک تھی ۔۔۔
اس نے گلدان پاؤں سے باہر دھیکیلا بچوں کو پیچھے کیا اور کمرے میں داخل ہو کر دروازہ بند کیا تھا
********……..
ایک سر سبز سا باغ تھا ہریالی ہی ہریالی چار سو نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔ کوئی نہیں تھا وہاں ۔۔۔
چاروں طرف باغ تھا اور اسکے اطراف میں نیلا سمندر۔۔۔۔ بہت دور ایک بڑے سے پتھر پر نو فل کو لگا زریاب بیٹھا ہے ۔۔۔
” بھائی ” وہ بھاگتا ہوا اس تک پہنچا تھا ۔۔۔۔ دیکھا تو وہ عائزہ اور منزہ کو گود میں بیٹھائے خاموش بیٹھا تھا نا ان سے پیار کر رہا تھا ناانکی بات کا جواب دے رہا تھا ۔۔۔ اور اسے بابا بابا کہہ کر پکار رہیں تھی لیکن وہ چپ تھا کوئی جواب نہیں دے رہا تھا نوفل اس کے قریب پہنچ گیا ۔۔ عائزہ رونے لگی تھی زریاب کی گود سے اتر کر نوفل کے پاس آ گئ
” دیکھوں نا چاچو بابا بول نہیں رہے ۔۔۔۔ بس رو رہے ہیں “
” بھائی ” نوفل تڑپ کر آگے بڑھا تھا دیکھا تو واقع زریاب کی آنکھوں میں آنسوں تھے ۔۔۔
” بھائی کیا ہو ہے آپ کو ۔۔۔۔ ” نوفل نے بے بے
چینی سے پوچھا اور اس کے آنسوں پونچنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا لیکن اس نے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹک دیا پھر منزہ کو گود سے اتار کر کھڑا ہو گیا
بڑے غصے سے نوفل کی طرف دیکھا
” ایک ہی تو وعدہ لیا تھا تم سے ۔۔ افسوس کے وہ بھی تم نبھا نا سکے ” یہ کہہ کو اسی باغ کے ایک طرف چلنے لگا دونوں بچیاں اسکے پیچھے بھاگنے لگیں ۔۔۔ نوفل بھی زریاب کے پیچھے بھاگا تھا لیکن تب تک وہ دھوئیں میں تبدیل ہوا تھا ۔۔۔۔
” بھائی ” ایک چیخ کے ساتھ وہ ہڑبڑا کر اٹھا تھا ۔۔۔۔ چھٹی کا دن تھا اس لئے دن کے بارہ بجے آنکھ کھلی تھی ۔۔۔۔ کچھ پل تو لگا کہ اب بھی خواب کے زیر اثر ہے لحاف کو دور پھنک وہ یک دم کھڑا ہوا تھا کمرے کادروازہ کھولے زریاب کے کمرے میں گیا تھا ۔۔۔ خالی کمرہ دیکھ کر ہواس لوٹے تھے ۔۔۔۔ کہ بھائی اب صرف خواب میں ہی نظر آ سکتا ہے ۔۔۔۔ اگلے اتوار اس کارمشہ سے نکاح تھا ۔۔۔ یہی نوفل نے سوچا تھا کہ رمشہ گھر آ جائے تب ہی دوبارہ مائرہ سے بات کرے گا اور زور زبردستی سے بھی اسے گھر لانا پڑا تو لے آئے گا ۔۔۔۔ رمشہ کی موجودگی کاسنکر تو شاید آ ہی جاتی ۔۔۔۔ لیکن خواب نے تو جیسے نوفل کے دل کو بے تاب کر دیاتھا ۔۔۔۔۔ عائزہ اور منزہ کے روتے چہرے دل کو بے چین کرنے لگے تھے اس لئے سیدھا گھر سے باہر نکالا تھا گاڑی بھی بڑی تیز رفتار سے چلا رہا تھا ۔۔۔۔۔ عمار کے گھر کے باہر اس نے گاڑی رکی تھی ۔۔۔۔ ڈور بیل دی ۔۔۔۔ لیکن دروازہ نہیں کھلا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی نہیں آیا
*******……..
مائرہ نے خود کو حالات پر چھوڑنے کا سوچ لیا تھا کمرے کے بند دروازے کے ساتھ ۔۔۔سارے راہیں جیسے مقفل ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ سامنے کھڑے شخص کی وہ شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی اس لئے
اپنی آنکھیں اس نے بند کر لیں دل سے بس یہ دعا تھی اللہ کہیں سے کوئی مدد گار بھیج دے ۔۔۔ یا اس ظلم سے پہلے زلزالہ آ جائے زمین پھٹ جائے اور وہ اندر سما جائے ۔۔۔۔۔ دل خون کے آنسوں رو رہا تھا آنکھیں برس رہیں تھیں زندگی کس دوہراہے پر لے آئی تھی
لیکن جیسے ہی کسی کے ہاتھ کا لمس اپنی گردن پر محسوس کیا ۔۔۔ ایک آگ سی وجود میں لگی تھی ۔۔۔۔ بری طرح سے اس نے دونوں ہاتھوں سے عمار کو پیچھے دھکیلا تھا ۔۔۔
پھر آنکھیں کھولیں ۔۔۔ اس سے پہلے وہ اس کی طرف پھر سے بڑھتا مائرہ کی کوشش تھی کہ دروازے تک پہنچ کر دروازہ کھول دے ۔۔۔۔ اس لئے دروازے کی جانب ہی بھاگی تھی لیکن بازو عمار کی گرفت میں آ چکا تھا ایک زور دار تھپڑ اس نے مائرہ کے منہ پر مارا تھا انگلیاں اس کے چہرے پر چھپیں تھیں
” بہت ہو چکا ۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ اس نے مائرہ کو بیڈ پر بری طرح سے پھنکا تھا ۔۔۔۔
” کیسے بے حس انسان ہو تم بہن کہا تھا تو اسی لفظ کی لاج رکھ لیتے خدا تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گا ۔۔۔۔ ” وہ اب بھی پیچھے ہٹ رہی تھی ۔۔۔۔ لیکن وہ صرف کمینگی سے ہنس کہ رہا تھا ناب یوں کہ بلکنے کی پروا تھی نا سامنے روتی ہوئی بے عورت پر رحم آیا تھا ۔۔۔ اس سے پہلے کسی گناہ کا ارتکاب شروع کرتا
باہر کی گھنٹی بجنے لگی تھی عمار بری طرح سے بوکھلایا تھا ۔۔۔۔ پہلا خیال زولیخہ کا آیا تھا ۔۔۔۔
مائرہ نے بھی دل میں شکر ادا کیا کہ کوئی تو مدد کو پہنچااس وقت تو زولیخہ بھی تھی تو اس کے لئے کسی فرشتے سے کم نہیں تھی ۔۔۔۔ وہ بیڈ کی دوسری جانب سے نیچے اتر گئ
” اس وقت کون ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ ” عمار منہ میں بڑبڑایا
” تمہاری اصلیت تو میں سب کے سامنے لاؤ گی۔۔۔ چھوڑو گی نہیں تمہیں ” مائرہ نے غصے سے سرخ رنگ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھ کر کہا اور دروازے کی طرف لپکی تھی پھر زور زور سے بچاؤ بچاؤ کہہ کر چلانے لگی ۔۔۔۔ عمار نے اسے بازر سے پکڑنا چاہا تا کے دروازہ نا کھول دے
عمار مائرہ کا منہ بند کرنے کے لئے زور زبردستی کرنے لگا مائرہ اسے اپنا آپ آذاد کروانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔ اسی میں کئ جگہ سے مائرہ کا لباس پھٹ چکا تھا وہ مسلسل خود کو اس کی گرفت سے چھڑوا رہی تھی زور زور سے چلا بھی رہی تھی۔۔۔۔ عمار کے ناخن اسکے چہرے اور بازو اور گردن کو زخمی کر چکے تھے
جب ایک زور دار جھٹکے سے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔۔۔۔ عمار کو اندازہ نہیں تھا کہ مین گیٹ سے کوئی اندر کمرے تک بھی پہنچ سکتا ہے لیکن سامنے کھلے دروازے پر نوفل کو دیکھ کر حوس باختہ ہو کر مائرہ سے پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔۔۔ مین گیٹ کی کنڈی عائزہ نے کھولی تھی ۔۔۔ وہ رو رہی تھی اندر سے مائرہ کی چلانے کی آوازیں سن کر نوفل آواز کا تعاقب کرتے ہوئے بھاگا اندر آیا تھا بنا دروازہ کھٹکھٹائے اسے دھکے سے کھولا تھا ۔۔۔۔ سامنے عمار کو مائرہ کے ساتھ زبردستی کرتے دیکھ کر وہ کسی بجلی کی تیزی طرح اس تک پہنچا تھاعمار مائرہ کو چھوڑ چکا تھا ۔۔۔ نوفل نے اس کا گریبان پکڑا تھا
” تم اور یہاں ” عمار جتنا حیران ہوتا اتنا کم تھا نوفل نے بس ایک نظر مائرہ پر ڈال ہٹالی ۔۔۔ رگوں میں خون کی جگہ آگ سی دوڑی تھی عمار کی طرف وہ کسی شیر کی غراتے ہوئے بولا
” تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی بھابھی کو ہاتھ لگانے کی ۔۔۔۔ ” وہ خوف سے پیچھے ہٹا
” یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔ جھوٹی عورت ہے ۔۔۔ یہ خود میرے پاس آئی تھی” عمار نے ایک اور چال چلنی چاہئ لیکن نوفل نے اسے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا مکے گھونسے اس پر برسانے شروع کر دئیے ۔۔۔ مائرہ نے بیڈ کی بچھی چادر کھنچ کر خود پر لپیٹ تھی ۔۔۔۔ اور دونوں بچوں کے پاس چلی گئ وہ بھی ماں کے ساتھ لپٹ گئیں تھیں
” کیاسمجھا تھا تم نے لا وارث ہیں وہ ۔ جو چاہو گئے کر گزرو گئے ۔۔۔ پھر جھوٹی بکواس کرو گئے الزام لگاؤ گئے ۔۔۔۔ اور میں سن لو گا ۔۔۔۔ ” عمار کے پیٹ پر بیٹھ کر وہ بری طرح سے اسکے چہرے پر مکے برسا رہا تھا۔۔۔ عمار کے ناک منہ سے خون بہنے لگا تھا ۔۔۔۔ نوفل کاغصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔ مائرہ بھی رو رہی تھی جی چاہا کہ نوفل سے کہہ دے کے اسے زندہ ہی نا چھوڑے ۔۔۔ جان سے مار ڈالے ۔۔۔
عمار ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگنے لگا
” خدا کے لئے ۔۔۔۔چھوڑ دے۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔ کیا جان سے۔۔۔ مارے گا ” عمار کے منہ سے لفظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے
” مت چھوڑنا اسے نوفل ۔۔۔۔ اسے اتنا مارو کے دوبارہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نا دیکھے ۔۔۔ بھائی کے روپ چھپا بھیڑیا ہے یہ ۔۔۔ جس زبان سے مجھے بہن کہتا تھا اسی زبان اپنے نا پاک ارادے بتا رہا تھا ۔۔۔ مت چھوڑنا اسے ” مائرہ نے روتے ہوئے کہا نوفل کھڑا ہو گیا ۔۔۔ تھا پھر اپنے پاؤں میں پہنے جوگر سے اسکے پیٹ پر ضربیں لگائیں وہ دہرہ ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔ ۔۔
” شکر کرو ،زندہ چھوڑ رہا ہوں تمہیں کیونکہ تمہارے گندے خون سے مجھے اپنے ہاتھ نہیں رنگنے ” یہ کہہ کر
اس نے منزہ کو گود میں لیا عائزہ کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔ مائزہ کی جانب دیکھے بنا بولا
” چلیں میرے ساتھ ” یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ۔۔۔ مائرہ نے اسی چادر سے اپنازخمی چہرہ چھپایا تھا ۔۔۔ باہر نکل کر گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھ گئ دونوں بچیاں چچا کے ساتھ آگے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی ۔۔۔ رو رو کے تینوں کی ہچکیاں بند گئیں تھی نوفل اب بھی غصے میں تھا گاڑی بھی بہت تیز چلا رہا تھا ۔۔۔ گھر کے باہر گاڑی روکی جلدی پہلے خود اترا گھر کا دروازہ کھولا مائرہ اور بچے اندر داخل ہوئے خود بھی اندر آ کر دروازہ بند کیا ۔۔۔۔
لاونج کے صوفے پر مائرہ بیٹھ گئ دونوں بچیاں بھی اس کی گود میں بیٹھ گئیں تھیں ۔۔۔
” مما ماموں نےمارا ہے آپ کو ” عائزہ نے روتے ہوئے پوچھا ماں کے چہرے پر لگی کھرونچ سے رسنے والے خون کو بھی صاف کر رہی تھی
” نہیں وہ تمہارا ماموں ” نوفل دھاڑتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔ ڈر کے مارے مائرہ بھی گھبرا سی گئ تھی اور بچیاں بھی
غصے سے سرخ چہرہ سرخ آنکھیں بند مٹھیاں پھولے ہوئے سانس سے وہ پھر سے بھولا
” آج کے بعد میں نام بھی نا سنا اس شخص کا ۔۔۔۔ خبیت کا بچہ ۔۔۔۔ مر جاتا آج میرے ہاتھوں ۔۔۔ ” چاہ کر بھی وہ اپنا غصہ ضبط کرنے سے قاصر تھا پھر ایک نظر مائرہ کے زخمی چہرے پر پڑی تو دماغ کی طنابیں کھنچنے لگیں ۔۔۔
” میرے بات سنیں آپ ۔۔۔ ” غصے سے پھولے ہوئے سانس لیتے ہوئے وہ بولا
” آج کے بعد میری کسی بات سے اختلاف مت کیجیے گا ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں میرا دل بے چین تھا کیسے میں وہاں پہنچ گیا ۔۔۔ اگر وقت پر نا پہنچ پاتا تو خود کو کبھی بھی معاف نا کر پاتا ۔۔۔ کیا منہ دیکھتا قیامت کے دن بھائی کو کہ میں نے ان سے کیے وعدے کی لاج نہیں رکھی ۔۔۔۔ ” مائرہ کچھ نہیں بولی تھی بس دل سے رب کی شکر گزار تھی جس نے عزت رکھ لی تھی ۔۔۔ مائرہ کی خاموشی اس وقت نوفل پر گراں گزر رہی تھی
” سن رہیں ہیں کیا کہہ رہا ہوں میں۔۔۔۔ آج کے بعد آپ اس گھر کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گئیں ورنہ ۔۔۔میں ۔۔۔۔۔” بہت سے سخت لفظ وہ منہ میں دبا گیا تھا ۔۔۔۔ مائرہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگیں تھی ۔۔۔۔
” مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔ نوفل ۔۔۔۔۔ ” بس روتے ہوئے یہی کہہ پائی تھی ۔۔۔ نا وہ مائرہ کو چپ کروا سکتا تھا ۔۔۔ ناانسون پونچ سکتا تھا نا زخموں کو دیکھ پا رہا تھا ۔۔۔ بے بسی گھر سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔ بری طرح سے سانس پھول رہا تھا یہ خیال ہی سوہانے روح تھا کہ اگر وہ نا جاتا تو کیا ہوتا ۔۔۔۔
ایک گھٹن کا احساس بڑھنے لگا تھا سانس لینے میں دشواری ہوئی تھی جیب سے انہیلر نکال کر اس نے اسے اچھے سے ہلا کر جلدی منہ لے کر دو پف لیئے تھے۔۔۔۔ بہت عرصے بعد اسے استما کا اٹیک ہوا تھا ۔۔۔۔ انہیلر منہ سے نکال کر منہ بند کیے اب وہ ناک کے ذریعے لمبے لمبے سانس کھنچ کر لے رہا تھا ۔۔۔۔
کچھ دیر باہر ہی کھڑا رہا ۔۔۔۔۔ اپنے غصے کو ضبط کرتا رہا ۔۔۔۔ پھر وصی کو کال کی
” وصی بھابھی کو لیکر گھر آ جاوابھی اسی وقت ۔۔۔ ‘” یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا وہ پوچھتارہ گیا کہ ہوا کیا ہے ۔۔۔
کچھ دیر میں غصہ ذرا کم ہوا تو وہ اندر گیا تھا ۔۔۔ لیکن لاونج خالی تھا البتہ زریاب کا کمرہ بند تھا ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وصی اپنی بیوی کے ساتھ پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔۔
اندر آتے ہی پوچھنے لگا
” اب بتا کیا بات تھی ۔۔۔ میں پریشان ہو گیا تھا “
” میں بھابھی کو واپس لے آیا ہوں ” نوفل نے پوری بات بتانا مناسب نہیں سمجھی
” اچھا ” وہ تعجب سے بولا
” لیکن تم تو کہہ رہے تھے رمشہ سے رخصتی کے بعد لاؤں گا ۔۔۔۔ وہ شاید آنے سے انکار کر رہیں تھیں “
” ہاں انکار تو کر رہی۔ تھیں لیکن بھابھی کے بغیر شادی کیسے کر سکتا تھا اس لئے منت سماجت کر لے لے آیا ۔۔۔ کمرے میں ہیں ۔۔۔ “
” میں ان سے مل لیتی ہوں ” زونیرہ یہ کہہ کر مائرہ کادروازہ بجانے لگی ۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی دروازہ کھلا تھا ۔۔۔ مائرہ کپڑے تبدیل کر چکی تھی سفید چادر بھی سر پر اچھے اوڑھی ہوئی تھی بچیاں رو دھو کر پھر سے سو چکیں تھیں بخار
پھر سے تیز ہونے لگا تھا خود بھی تھکی تھکی سی تھی ۔۔۔ زونیرہ اس کے گلے لگ کر ملی تھی ۔۔۔ وہ باہر آ کر بیٹھ گئ ۔۔ چہرے پر اب بھی کھونچ کے نشان تھے آنکھیں روئیں روئیں تھیں
” اسلام علیکم بھابھی اچھا ہوا آپ واپس آ گئیں ۔۔۔ ” وصی نے کھڑے ہو کر سلام کیا تھا
” اپنا گھر ہے انکا واپس تو آنا ہی تھا ۔۔۔۔ بس تم سے ایک گزارش ہے ۔۔۔ زونیرہ بھابھی کو ایک ہفتے کے لئے یہی۔ چھوٹ دو ۔۔۔۔ بھابھی کے ساتھ مل کر نکاح کی کچھ تیاری کروا دیں گئیں ۔۔۔۔
آٹھ دن رہ گئے اور کچھ بھی نہیں ہوا ہے ” نوفل کی بات پر سب سے ذیادہ مائرہ حیران تھی ہر بات سے بے خبر تھی ۔۔۔
” ہاں ٹھیک ہے ۔میں زونیرہ کو یہی چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔ کوئی مسلہ نہیں ہے ” وصی نے فورا ہامی بھری تھی ۔۔۔
زونیرہ کب سے مائرہ کے چہرے کی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” بھابھی چہرے پر ناخن کیسے لگ گئے وہ بھی اتنے برے طریقے سے “
” منزہ نے مار دئیے تھے ضد میں آ جائے تو ایسا ہی کرتی ہے ” جواب نوفل نے دیا تھا ۔۔۔ نہیں چاہتا تھا کہ سچائی کسی کو پتہ چلے مائرہ بھی چپ ہی رہی تھی
” بھابھی میں کھانا بازار سے لے آؤں گا ۔۔۔۔ کچھ اور چاہیے تو وہ بھی بتا دیں
” نوفل دونوں بچیوں کو بخار ہو رہا ہے ۔۔۔ انہیں ڈاکٹر پرلے جانا ہے ۔۔۔ ” مائرہ نے دھیرے سے کہا
” بخار ہے ۔۔۔ ” وہ فورا سے کمرے میں گیا تھا ۔۔۔ وصی بھی اس کے پیچھے کمرے میں گیا دونوں بخار سے تپ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔ وصی کے ساتھ ہی وہ عائزہ اور منزہ کو ڈاکٹر پر لے گیا تھا ۔۔۔۔ رات کو زونیرہ مائرہ کے کمرے میں ہی اسکے پاس رکی تھی اسی سے پتہ چلا تھا کہ اگلے ہفتے نوفل رمشہ سے نکاح کر رہا ہے ۔۔۔ سن کر کچھ اطمینان ہوا تھا ۔۔۔ کم از کم وہ سکون سے رہ توسکے گی لوگوں کو باتوں کا موقع نہیں ملے گا۔۔۔۔
لیکن جب مائرہ کی واپسی کی خبر رمشہ کو ملی تو وہ اکھڑے ہوئے لہجے سے بولی تھی
” وہ کیوں واپس آ گئیں ۔۔۔۔ نوفل انہیں انکی کزن کے پاس ہی چھوڑ آؤں پلیز میں اپنے گھر میں کسی کی دخل اندازی برداشت نہیں کروں گی ” نوفل کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھی لنچ کر رہی تھی ملاقات نوفل کے کہنے پر ہی ہوئی تھی وہ اسے مل کر بتانا چاہتا تھا لیکن اسکی بات سن کر متعجب ہوا تھا ۔۔۔۔
” کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔۔ وہ گھر۔ بھابھی کا بھی ہے ۔۔۔۔ “
” لیکن وہ چھوڑ کر جا چکیں تھیں ہمیشہ کے لئے “
” میں شادی بعد انہیں واپس ضرور لاتا رمشہ ۔۔۔۔یوں جلدی میں اور سادگی سے نکاح کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ مجھے بھابھی کو واپس لانا تھا ۔۔۔۔ وہ ہمیشہ ہمارے ہی ساتھ رہیں گئیں ۔۔۔۔ اس لئے انہیں کل ہی منا کر لے آیا ہوں ” نوفل نے پانی پیتے ہوئے بولا
” نوفل میں یوں نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔ مجھے اپنی پرائیویسی میں کسی کی مداخلت ہر گز پسند نہیں تمہارے بھائی اگر زندہ ہوتے تب بھی میں شادی سے پہلے الگ گھر کی ڈیمامڈ کر دیتی تمہیں پسند کرنے کی اصل وجہ بھی یہی تھی کہ تم اکیلے رہتے ہو ۔۔۔۔ ورنہ مجھے رشتوں کی کمی نہیں تھی ” رمشہ نے نخوت بھرے انداز سے کہا تھا پتہ تھا کے اگلے ہفتے شادی ہے اور ایسی صورتحال میں وہ انکار نہیں کرے گا اس کی بات مان لے گا
” یہ تم مجھ سے کہہ رہی ہو ۔۔۔ وہ بھی اب ؟ اگر بھائی حیات ہوتے میں تب بھی کبھی الگ رہنے کی نہیں سوچتا اور اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔ اس لئے ۔۔۔۔ رخصتی سے پہلے اپنا مائنڈ بلکل سیٹ کر کے میرے گھر آنا ۔۔۔۔ بھابھی کے ساتھ تمہارا رویہ بلکل دوستانہ ہونا چاہیے ۔۔۔۔ تمہاری ذراسی بھی بے اعتنائی میں برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔ ” اپنی بات بارعب انداز سے اس نے رمشہ سے کہی تھی کھانے کی بھری پلیٹ پیچھے کھسکا کر نپکن سے نوفل نے منہ صاف کیا پہلے ہی مائرہ اور بچوں کی وجہ سے الجھا ہوا تھا اوپر سے رمشہ کی باتوں نے مزید تپا کے رکھ دیا تھا
” یو نو واٹ ۔۔۔۔ ہمیں ابھی سوچ لینا چاہیے نوفل ۔۔۔۔ کیونکہ تمہارے لئے ہمیشہ سے تمہاری فیملی پہلی ترجعی رہی ہے ۔۔۔۔ مجھے ایسا شوپر چاہیے جو مجھے امپوٹنس دے مجھے ویلو دے ۔۔۔۔ صرف میں اس کے پہلی ترجعی ہوں ” رمشہ کی بات اس نے تپے ہوئے ہی سنی تھی ۔۔۔
” ایک ہفتے بعد شادی ہے ہماری ۔۔۔ سب کو معلوم ہو چکا ہے۔۔ دونوں جانب تیاریاں ہو رہیں ہیں اور تم مجھے یہاں بیٹھی یہ کہہ رہی ہو کہ ہمہیں ابھی بھی سوچ لینا چاہیے ۔۔۔ رمشہ آر یو ان یور سنسز ۔۔۔ ” نوفل کو اسکی اکڑنے کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی لڑکوں کاتو پھر کچھ نہیں بگڑتا لیکن لڑکی کی عزت تو بہت نازک ہوتی ہے لیکن رمشہ عام سے انداز سے کندھے اچکا کر بولی
” مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔ کیونکہ میں کسی بھی تیسرے کے ساتھ ہر گز نہیں رہ سکتی میرا لائف اسٹائل اور ہے ۔۔۔۔ ” رمشہ کا لہجہ ویسا ہی تھا ہتھک بھرا ۔۔۔ نوفل نے اس کا ہاتھ پکڑا اور منگنی کی انگوٹھی اتار لی ۔۔۔ پھر اپنے ہاتھ سے اسکی پہنائی ہوئی انگوٹھی اتار کر اس کے سامنے رکھ دی رمشہ دیکھتی ہی رہ گئ تھی اسے لگا تھا نوفل اسکی بات مان جائے گا ۔۔۔
” یہ میرا لائف اسٹائل ہے ۔۔۔۔ ایسارشتہ جو
مجھے ۔۔۔میرے لائف اسٹائل سے دور کر کے ایک بوجھ کی مجھے ساری اٹھانا پڑے ۔۔۔ بہتر ہے میں ۔اسے خود ختم کر دو ۔۔۔۔ جاؤں میری طرف سے آذاد ہو تم جیو اپنی زندگی ” یہ کہہ وہ اٹھ کر ا گیا رمشہ ہکا بکا اسے دیکھتی رہ گئ ۔۔۔۔
******……..
زولیخہ جب گھر پہنچی تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔۔۔۔
اندر آئی تو عمار زخمی حالت میں دہرا پڑا درد سے کراہا رہاتھا ۔۔۔ ہاتھ میں پکڑے شاپر وہیں گرے تھے وہ تیزی سے اس کے پاس آئی تھی ۔۔۔
منہ پر جگہ جگہ نیل کے نشان نسل سے خون منہ سے جون اور وہ پیٹ پکڑے تڑپ رہا تھا ۔۔۔
” یہ کیا ہوا تمہیں ۔۔۔۔ تم تو رات کو گھر لوٹنے والے تھے ۔۔۔۔ “
عمار نے دھیرے دھیرے سے ایک جھوٹی کہانی سنانی شروع کی
” ارے وہ گھٹیا عورت کا اپنے دیور سے چکر چل رہا تھا ۔۔۔۔ ت۔ہارے کہنے پر میں اسے اپنے گھر لے آیا ۔۔۔۔ اسے بہنوں کی طرح سے سنبھالا ۔۔۔۔ اسکے بچوں آپنے بچوں سے ذیادہ سمجھا ۔۔۔ مجھے کیا پتہ تھا عزت کا لبادہ اوڑھے وہ عورت کیا چال چل رہی ہے ۔۔۔۔
میں جب آپنے دوستوں کے پاس پہنچا تو جیب میں بٹوا نہیں تھا گھر ہی بھول گیا تھا ۔۔۔۔ پھر بٹوا لینے گھر آیاتو ایک مرد کی آواز سنائی دی میں نے دروازہ بجایا تو اس خرافہ عورت کی بیٹی نے دروازہ کھولا کمرے سے آوازیں آ رہی۔ تھیں ہسنے کی باتیں کرنے کی ۔۔میں ۔ نے جب دروازہ کھٹکھٹایا تو دونوں چپ ہو گئے پھر دیدہ دلیری دیکھاتے ہوئے اس کے دیور نے دروازہ کھولا ۔۔۔ جس حال میں نے ان دونوں کو دیکھا ہے توبہ توبہ ” عمارہ نے کراہتے ہوئے کانوں ہاتھ لگایا بڑے دھیرے سے وہ بتا رہا تھا
” پھر کیا ہوا “
” ہونا کیا تھا بیگم مجھے تو دیکھ کر آگ لگ گئ میں نے کہا میں محلے والوں کو بلاکر ابھی تم دونوں کی کرتوتیں بتاتا ہوں ۔۔۔۔ ” بس پھر اس کمینے نے نا آؤں دیکھا نا تاؤ مجھے مارنے پیٹنے لگا
کہ یہ حال کر دیا میرا ۔۔۔۔اور کہا اگر میں نے زبان کھولی تو جان سے مار دے گا ۔۔۔۔ ” زولیخہ کے ہاتھ سے سب کچھ جا چکا تھا ۔۔۔۔
مائرہ کو دیکھ کر کبھی یہ نہیں لگا تھا کہ نوفل کے لئے ایسے جذبات رکھتی ہے لیکن میاں کی حالت دیکھ کر اور نوفل کاتیز مزاج دیکھ کر عمار کی باتوں پر یقین ہو کہ گیا
” میں کون سا اسے چھوڑ دوں گی دیکھوں کیسے اسکے پورے محلے میں اسے بد نام کرتی ہوں”
” ارے رہنے دو بیگم ۔۔۔ یہ نا ہو کہ میری جان لے لے “
“ارے رہنے دو میاں پولیس میں ایف آئی آر کٹواں گی ان کے خلاف ۔۔۔ان دونوں کا اصل چہرہ دیکھا کر رہوں گی ۔۔۔
منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑو گی دونوں کو ۔۔۔ میرے سارے کیے کرایے پر پانی پھیرا ہے انہوں نے میں تو نہیں۔ چھوڑنے والی ” زولیخہ تو گھر کے س
ی کے گھر کے خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ جو اب ہوتا ہونا ممکن نہیں تھا ۔۔۔۔
******…….
” شزا کے نمبر پر عرفان کی کال آئی تھی وہ رات کا کھانا کھارہی تھی ۔۔۔ بس ہی صحن میں بیٹھے تھے
بس زیان ں اندر تھا اسکی والدہ نے اسے شزا کی سامنے آنے سے سختی سے منع کیا تھا ۔۔۔ اور وہ خود بھی آنا نہیں چاہتا تھا ۔۔
شزا نے فون اٹھایا
” جی عرفان کہیے “
” تمہیں ذرا بھی پروا ہے۔ اپنے سسرال کی ۔۔ میری ماں کو صبح سے بخار ہے اور تم میکے جا کریوں ۔ تسلی بیٹھی ہو کہ جیسے سسرال سے کوئی تعلق ہی نا ہو ۔۔۔ ابھی اسی وقت گھر پہنچو ۔۔۔ اسی وقت اسی وقت ” یہ کہہ کر عرفان نے فون بند کیا تھا
