Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 45
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 45
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
بدر کی والدہ بدر کے برابر میں بیٹھ گئیں تھیں رمشہ سامنے کی کرسی پر بیٹھی تھی ٹیبل ایک ہی منتخب کیا گیا تھا ۔۔۔۔
” آفرین تمہارے باس کی بیوی ہے بدر ۔۔۔؟ تمہیں اس بات کا علم تھا ؟ ” بدر کی والدہ ابھی اسی کیفیت میں تھیں حیران پریشان سی ۔۔۔۔۔ جب سے بدر نے بنک کی جاب چھوڑ کر نئ جاب شروع کی تھی گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔
” امی اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کس کی بیوی ہے ۔۔۔۔ بس مجھے تو یہ پتہ ہے وہ میرا نصیب بھی ہو سکتی تھی ۔۔۔۔ اگر آپ کو چاند کو اپنے آنگن میں لانے ضد نا ہوتی تو ؟ ” بدر شکوہ کیے بنا نہیں رہ پایا تھا ۔۔۔۔ ” بدر کی والدہ خاموشی سی ہو گئیں ۔۔۔۔ نظریں انکی آفرین کا ہی طواف کر رہیں تھیں ۔۔۔۔
جو مظہر کے ساتھ سب مہمانوں سے مل رہی تھی
اس کے شوہر کی نظروں میں جتنی چاہت آفرین کے لئے تھی ۔۔۔ وہ کسی سے بھی مخفی نہیں تھی بدر کی ماں متحیر سی تھی ۔۔۔۔ دیکھنے میں مظہر آفرین سے ذیادہ وجیہہ تھا ۔۔۔۔ اسے تو آفرین سے ذیادہ خوبصورت بیوی بھی مل سکتی تھی ۔۔۔ سب کے سامنے وہ آفرین کی تعریفیں کر رہا تھا ۔۔۔۔
کتنے گھٹیا الزامات لگا کر بدر کی والدہ نے آفرین کے لئے انکار کیا تھا ۔۔۔۔ لیکن آفرین کے چہرے پر نا بدر کو دیکھ حیرت تھی نا اسکی والدہ کو دیکھ کر۔۔۔۔ اسکا مطلب تھا کہ وہ جانتی تھی کہ بدر اسکے شوہر کے آفس میں ایک امپلائے کی حیثیت سے کام کرتا ہے وہ چاہتی تو اپنا بدلہ لینے کے لئے بدر کو نوکری سے نکلوا سکتی تھی ۔۔۔۔ اسے بھی ذلیل و خوار کر سکتی تھی ۔۔۔۔ لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ نا ہی اس عورت کو دیکھ کر ماتھے پر شکنیں ڈالیں تھیں جو اس کے کردار کو تار تار کر کے گئ تھی ۔۔۔۔ کیونکہ آفرین کو اب کوئی ملال رہا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔ اللہ کی اس بات پر یقین بختہ سا ہو گیا تھا کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔
انسان کے اختیار میں نہیں ۔۔۔ بدر کی والدہ کو وہ ہمیشہ عام اور معمولی سی ہی لگی تھی لیکن آج بھی بدر کے لئے کتنی خاص تھی وہ بدر کی آنکھوں سے آج بھی عیاں ہوتا تھا ۔۔۔۔ اور آفرین مظہر کے لئے کیا تھی یہ منظر کی نظریں صاف بتاتیں تھیں ۔۔۔ رمشہ کے پاس صرف حسن تھا ۔۔۔ اسکے علاؤہ وہ خالی برتن کی مانند تھی ۔۔۔۔ نااخلاق ۔۔۔ نا سلیقہ مندی نا محبت نا ۔۔۔ نا احساس ۔۔۔۔ ساس توساس شوہر کی بھی رمشہ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی ۔۔۔۔
رمشہ ماں بیٹے کی باتوں پر کن سوئیاں کرنے کی کوشش تو بہت کر رہی لیکن ناسن پارہی نا سمجھ پارہی تھی ۔۔۔ ساس کی نظروں کا تعاقب کرنے پر نظریں آفرین کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔ باوقار قسم کی خاتون تھی ۔۔۔۔ پہنے اوڑھنے کاسلیقہ بھی با کمال تھا ۔۔۔ رکھ رکھاؤ بھی اسکی وضع سے نظر آ رہا تھا بس حسن اتنا نہیں تھا ۔۔۔
” بدر یہ تمہارے باس کی بیوی ہے اچھی لیکن اتنی خوبصورت نہیں ہے جتنا کہ تمہارا باس اس پر فریفتہ ہوئے جا رہا ہے ۔۔۔ ” رمشہ کے تبصرے نے بدر کو اندر سے سلگا کے رکھ دیا تھا طنزیہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ابھری تھی
” اپنے اپنے معیار کی بات ہے رمشہ ۔۔۔۔ کچھ لوگوں کی پسند ظاہری حسن تک محدود نہیں ہوتی ۔۔۔ کچھ اور ہی نظریں ہوتی ہیں جو اندر کے حسن کو دیکھ کر فریفتہ ہو جاتی ہیں ۔۔۔
میرا باس خود کو خوش نصیب سمجھتا ہے کہ اسے بیوی اچھی ملی ہے ۔۔۔۔۔ گھر میں ملازمیں کی لمبی لائن ہونے باوجود انکی بیوی انکے لئے کھانا اپنے ہاتھ سے بنا کر دیتی ہے انکے کام خود کرتی ہے ۔۔۔۔ کبھی میرے باس کے گھر جا دیکھوں تو تمہیں اندازہ ہو گا کہ بیوی کے معاملے میں کس قدر نایاب گوہر پا چکے ہیں ۔۔۔۔ ” بات وہ رمشہ سے کر رہا ۔۔۔ جلے دل کی پھپولے ماں کو سنارہا تھا جو شرمندگی کے مارے زمین میں گڑتی چلی جارہی۔۔۔۔۔ تھیں۔۔۔ بدر کی والدہ کو حسن کے نام پر رمشہ نامی خالی ڈھول گلے ڈالے بجانا پر رہا تھا ۔۔۔وہ۔ سب کے سامنے رمشہ کی جھوٹی تعریفیں کرنے پر مجبور تھیں کیونکہ ڈنکے کی چوٹ پر خوبصورت بہو لائیں تھیں جس نے آج تک ایک کپ چائے تک کا تو بنا کر نہیں دیا تھا الٹا ان سے اپنے ڈھیروں کام کروا لیتی تھی ۔۔۔۔ آج بیٹے کی بات نا ماننے کا قلق ہوا تھا کہ کاش اسکی سن لی ہوتی ۔۔۔۔ لیکن یہ کاش کب کسی کودوبارہ کوئی مہلت دیتا ہے ۔۔۔۔ رمشہ بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے ہال پر نظریں دوڑانے لگی ۔۔۔۔ برتھ ڈے کیک کے لئے بہت بڑا سا ٹیبل بڑی نفاست سے سجایا گیا تھا مختلف قسم اور ہر فلیور کے کیک وہاں موجود تھے جو کیک آبان نے کاٹنا تھا وہ چوکلیٹ فلیور کا خاصا بڑا کیک تھا ۔۔۔۔
سب دوست واحباب وہاں جمع ہونے لگے تھے ۔۔۔۔ بچوں کا رش ذیادہ تھا ۔۔۔
” بدر چلو نا گفٹ دے کر آتے ہیں ” رمشہ نے گفٹ پیک اٹھایا اور کھڑی ہو گئ بدر نے اپنی والدہ کو مخاطب کیا
” امی آپ چلیں گئیں ؟”
” نہیں تم دونوں دے آؤں ” جنتی وہ پشیمان بیٹھی تھیں دوبارہ آفرین سے سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی ۔۔۔ چند قدم چلتے ہی بدر نوفل سے ٹکرا گیا تھا ۔۔۔۔ رمشہ کی نظر جب نوفل پر پڑی تو پلٹنا بھول گئ تھی۔۔۔
نوفل کی نظر بھی رمشہ پر ہی تھی ۔۔۔۔۔ بدر نے نیچے گرے ہوئے گفٹ پیک کو اٹھایا ۔۔۔ مائرہ بھی نوفل اور رمشہ کی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ نوفل اور رمشہ کی
نظروں کے تصادم نے شاید دونوں کو حیرت زدہ کیا تھا
نوفل کے ہاتھ میں اب بھی مائرہ کا ہاتھ تھا ۔۔۔۔
مطلب مائرہ سے شادی ہوئی تھی اسکی ۔۔۔ رمشہ تو دنگ سی رہ گئ تھی
نوفل کی نظر بھی اب بدر پر تھی ۔۔۔۔ رمشہ کی شادی کی اطلاع اسے ثناء سے ملی تھی ۔۔۔۔ بدر اتنا ہیڈسم نہیں تھا جتنی رمشہ اپنے ہمسفر کے لئے ڈیمانڈ رکھتی تھی کیونکہ جب نوفل نے رمشہ سے پہلی بار اپنی پسندیدگی کااظہار کیاتھا تو بڑے اتراتے ہوئے رمشہ نے اس سے کہا تھا
” نوفل مجھے تم حسن پرست سمجھ سکتے ہو ۔۔۔ میں خود بھی حسین ہوں اس لئے اپنے لئے لائف پارٹنر کا انتخاب کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہوں گی کہ وہ کتنا ڈیشنگ اور ہینڈ سم ہے ۔۔۔۔۔ اور آفس میں مجھے تم سے ذیادہ دوسرا ایسا کوئی دکھا نہیں اس لئے تمہارے پروز کو میں انکار نہیں سکتی ۔۔۔۔ ” نوفل نے جب رمشہ سے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا تو رمشہ کے کہے جمعلے
نوفل کے کانوں میں گونجنے لگے پھر بدر کو دیکھ کر بے اختیار ہی اسکی نظر پھر سے رمشہ کی طرف اٹھی تھی ۔۔۔۔۔ جو اب بھی اسے بنا آنکھیں جھپکائیں دیکھ رہی تھی
” ایم سوری یار ۔۔۔۔ کہیں چوٹ تو نہیں آئی آپ کو ” بدر نے ہی معذرت خواہ انداز سے نوفل سے کہا نوفل نے رمشہ سے نظریں ہٹا کر بدر کی طرف دیکھا
” نہیں اٹس او کے ” یہ کہہ نوفل مائرہ کے ساتھ آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔مائرہ اپنی ساری باتیں بھول بیٹھی تھی پلٹ پلٹ کر اب بھی کبھی رمشہ کو تو کبھی بدر کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ بدر کو وہ جانتی تھی ۔۔۔ کئ بار آفرین سے ملنے جب وہ اس کے گھر جاتی تھی تو اسے اکثر لیاقت بھائی کے ساتھ باتیں کرتے دیکھ چکی تھی پھر آفرین نے بھی اسے بدر کے بارے بتا رکھا تھا ۔۔۔ اور رمشہ بھی نوفل کی منگتر رہ چکی تھی ۔۔۔ لیکن دونوں نفوس کو اکھٹے اور یوں بھی کبھی دیکھے گی یہ نہیں سوچا تھا ۔۔۔۔ دھیان سارا ان دونوں کی جانب ہی تھا ۔۔۔۔
” کہاں تھی تم مائرہ کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں ” آفرین کے مخاطب کرنے پر وہ چونکی تھی ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ وہ “, کچھ بوکھلاہٹ میں مبتلا ہوئی تھی
” کیا۔۔۔ وہ ۔۔۔ مائرہ آؤں ادھر ” آفرین نے اسے فرنٹ پر کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔
” شکر ہے آپ تشریف لے آئیں ورنہ آفرین نے آبان کو
کیک کاٹنے ہی نہیں دینا تھا ” مظہر مائرہ کا مشکور ہوتے ہوئے بولا
” بلکل میری کوئی بھی خوشی مائرہ کے بغیر پوری ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔ ” آفرین نے مائرہ کو اپنے ساتھ کھڑا کیا تھا آبان نے کیک کاٹ کر سب سے پہلے اپنے ساتھ کھڑی منزا کو کھلایا تھا ۔۔۔۔
عائزہ بھی اسکے برابر کھڑی تھی جانتی تھی کہ آبان اسے نہیں کھلائے گا اس لئے کیک کے اوپر لگی کریم اتار کر آبان کے منہ پر اچھی طرح سے مل کر وہاں سے بھاگ گئ تھی ۔۔۔ سب کچھ کیمرے میں ایک خوبصورت یاد بنکر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ آبان نے پہلے منہ چڑھاتی بھاگتی ہوئی عائزہ کو غصے سے دیکھا تھا ۔۔۔ پھر ہنستے ہوئے مہمانوں کو گھورا تھا منزہ نے ہاتھ میں پکڑا ٹشو اسکی طرف بڑھا دیا
” لو آبان اس سے صاف کر لو ” حالانکہ جتنا کیک اسکے چہرے تھوپا جا چکا تھا وہ ٹشو نا کافی تھا
مائرہ نے ٹیبل سے ہی کافی ٹشو نکال کر اس کا چہرہ صاف کیا تھا ۔۔۔
” تم کیک کھاؤ ۔۔۔ گھر جاتے ہی دیکھوں میں کیسے عائزہ کو سیدھا کرتی ہوں ” مائرہ کی بات سے بھی آبان کی تسلی نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ لیکن چپ تھا ۔۔۔
” بیٹا یہ تو تمہیں سالگرہ کرنے پہلے سوچنا چاہیے تھا کیونکہ ایسے مزاق تو پھر سہنے پڑتے ہیں …. میری عائزہ کو کسی کو کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے ” نوفل نے برجستہ آبان کو گھورتے ہوئے آبان کے ساتھ مائرہ کو بھی متنبہ کیا تھا ۔۔۔
کھانے کے بعد سب مہمان جانے کی اجازت طلب کر رہے تھے مائرہ بھی آفرین سے یہی اجازت مانگ رہی تھی نوفل اور بچے بھی ساتھ ہی کھڑے تھے جب زونیرہ وہاں پہنچی تھی
” نوفل بھائی آپ اور بھابھی بچوں کے ساتھ کھڑے ہوں مجھے آپکی فیملی پک لینی ہے ۔۔ ” زونیرہ نے نوفل اور مائرہ اور ایک ساتھ کھڑے دیکھ کر کہا ۔۔۔
” کیوں نہیں ضرور لیں ۔۔۔ ” نوفل نے ولی کو گود لیا اور عائزہ اور منزہ بھی مائرہ کے ساتھ کھڑی ہو گئیں رمشہ کی نظریں اب صرف نوفل پر ہی تھیں نا کھانے کی ہوش تھی نا کسی اور بات کی ۔۔۔ ایک کسک تھی ۔۔۔۔ وہ اب بھی ویسا ہی تھا اتنا ہی ڈیشگ اور ہینڈسم اسے دیکھ کر بدر کی رنگت اسے سانولی کے بجائے کالی سی لگنے لگی تھی ۔۔۔۔ نوفل نے تو پلٹ کر ایک بار بھی رمشہ کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ حالانکہ رمشہ کو لگا تھا نوفل اسے دیکھنے کی کوشش کرے گا ۔۔۔ یا بات کرنے کی کوشش کرے گا لیکن نوفل کی نظروں نے دوبارہ اسے ڈھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔۔۔ مائرہ ضرور رمشہ کو دیکھ رہی تھی جس کی حسرت بھری نظریں صرف نوفل پر تھی ۔۔۔۔
ایک تصویر تو مائرہ نے کھنچوا لی تھی ۔۔۔ لیکن پھر زونیرہ کو منع کرنے لگی تھی ۔۔
” ولی بھی نوفل کی گود سے اتر کر چلا گیا تھا اور
عائزہ اور منزہ بھی ۔۔۔
اس سے پہلے کے مائرہ بھی وہاں سے کھسکتی نوفل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر خود سے قریب کیا تھا
” زونیرہ بھابھی ایک تصویر صرف ہم دونوں کی بھی ہونی چاہیے ۔۔۔ ” اگلے ہی پل وہ اپنا بازو پھیلا مائرہ کے دوسرے کندھے پر رکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔ اسکی جرت پر وہ جتنا حیران ہوتی وہ کم تھا ۔۔۔۔ مائرہ فورا سے اسکی گرفت سے نکلی تھی
” یہ کیا بد تمیزی ہے نوفل ۔۔۔۔ ” سب کی موجودگی میں وہ اس پر چلا تو نہیں سکتی تھی اس لئے دبے دبے لہجے میں غصے سے سرخ آنکھیں لئے بولی ۔۔۔ زونیرہ ضرور گھبرا گئ تھی ۔۔۔
” میں نے ایسا کیا کیا ہے ۔۔ ایک تصویر ہی تو ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات اس نے مکمل ہی نہیں ہونے دی تھی
” آج کے بعد اپنی حد میں رہنا تو بہتر ہے ” اسے دھیمے لہجے سے تنبیہ کرتے ہوئے وہ وہاں سے چلی تھی ۔۔۔۔ نوفل چپ سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔ زونیرہ بھی شرمندہ سی ہو کر رہ گئ
اندر ہی اندر غصہ تو نوفل کو بھی بہت آ رہا تھا ۔۔۔ لیکن بولا کچھ نہیں ۔۔۔۔ واپسی پر بھی دونوں چپ۔ ہی رہے تھے نوفل گاڑی بھی بہت تیز ڈرائیو کر رہا تھا پہلے وصی اور زونیرہ کو انکے گھر ڈروپ کیا تھا ۔۔۔۔ گھر پہنچ کر مائرہ سیدھی اپنے کمرے میں گئ تھی فوراسے اپنا لباس تبدیل گیا منہ اچھی سے دھویا سفید چادر کو خود پر اوٹھ کر ہی مطمئن ہوئی تھی ۔۔۔۔
نوفل کارخ بھی اپنے کمرے کی جانب ہی تھا بڑی زور سے اس نے کمرے کا دروازہ بند کیا تھا ۔۔۔ سب سے پہلے غصے سے اپنی ٹائی اتار کر بیڈ پر پھنکی تھی ۔۔
” سمجھتی کیا ہیں خود کو ۔۔۔ جب جی چاہے گا ۔۔۔ جو چاہے گا ۔۔۔ بس کہہ دیں گئیں مجھ سے ۔۔۔بنا سوچے سمجھے ۔۔۔ ” گھڑی اتار کر اس نے پٹختے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر رکھی تھی ۔۔۔
” انکو بھی ذرا سا لحاظ ہونا چاہیے ۔۔۔۔کہ کون سی بات کہہ کس سے رہیں ہیں ” نکاح کی اہمیت نے نوفل کی سوچ کو بدلنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔ دل سے اس رشتے کو قبول کرتے ہی ایک استحقاق کا احساس اندر جاگنے لگا تھا ۔۔۔ پھر کیسے ممکن تھا مائرہ کی ہر بات کو چپ چاپ سنتا ۔۔۔۔ یااسکے با رعب لہجے کو سہتا
دوسری جانب مائرہ بھی حد درجہ غصے میں تھی ۔۔۔۔
” ایک تو اسکی بات مان کر میں نے اسکی چوائس کاجوڑا لیا پہن لیا کہ چلو کوئی۔ بات نہیں اتنا کہہ رہا ہے ۔۔۔۔لیکن یہ نوفل تو خود کو نا جانے کیاسمجھنے لگا ہے ۔۔۔۔ ہمت بھی کیسے ہوئی اسکی خود کو زریاب کی جگہ کھڑا کرنے کی ۔۔۔ انجانے میں بھی اگر ایسا کیا ہے تو کیوں کیا ہے ؟
۔۔۔۔۔ اور وہ زنیرہ کی بچی ۔۔۔ کیا سمجھ رکھا ہے اس نے مجھے ۔۔۔۔ اب کرے ذرا ایسی باتیں اچھی طرح سے مزاج درست کر دوں گی اسکے بھی ۔۔۔ ” کمرے میں بیٹھے وہ اپنا دل جلا رہی تھی ۔۔۔
کمرے کادروازہ کھلاتے ہی تینوں بچے نیند سے نڈھال سے ہوتے ہوئے اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔ مائرہ نے تینوں کے کپڑے تبدیل کروائے ۔۔۔۔ اور انہیں سلانے لگی ۔۔۔ اگلے روز خالہ مائرہ کو لیکر بیٹھ گئ تھیں
” مائرہ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔ “
“۔جی خالہ کہیں “
” دیکھوں بیٹا میں تو یہی چاہتی تھی کہ تم اور نوفل دونوں ہی اپنارشتہ نبھانے کی کوشش کرتے ۔۔لیکن اب اگر تم دونوں نے سوچ کی کیا کہ بس نام کا ہی رشتہ نبھانا ہے اور نوفل بھی گھر بسانا چاہتا ہے تو ایک رشتہ ہے میری نظر میں ۔۔۔ بچی نیک سیرت ہے ۔۔۔۔۔ میری دیکھی بھالی ہے ۔۔۔ غریب گھر کی ہے
میں ساری بات کر چکی ہوں ان سے ۔۔۔ اس کے گھر والوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے وہ تو راضی ہیں ۔۔۔۔ تم اگر نوفل سے پوچھ لو تو میں بات آگے بڑھاؤں ” مائرہ کا یہ سن کر نوفل پر آیا غصہ بھی ختم ہوا تھا
” ہاں کیوں نہیں میں آج ہی نوفل سے بات کر لیتی ہوں ۔۔۔ خالہ میں چاہتی ہوں اس بار نوفل خود لڑکی کو رو با رو دیکھ لے ۔۔۔۔ “
“ہاں ہاں کیوں نہیں بے شک دیکھ لے ۔۔۔ ” خالہ تو بات کر کے جا چکیں تھیں مائرہ کے لئے یہ خبر اتنی خوش آئین تھی کہ کل کی بات کو نظر انداز کر چکی تھی ۔۔۔۔
رات کو مائرہ کا موڈ خوشگوار دیکھ کر نوفل کو حیرت تو ہوئی تھی جتنے غصے میں وہ تھی چار دن تو وہ اس سے کلام کرنے والی نہیں تھی اور اب یہ حال تھا کہ اسکی پلیٹ میں بریانی بھی خود ڈال کر دے رہی اور کھانا بھی نوفل کی پسند کا بنا تھا آج تو میٹھے میں کھیر بھی بنی تھی ۔۔۔ مائرہ کی مہربانیوں پر وہ متعب سا ہوا تھا ۔۔ کھانے کے بعد مائرہ بچوں کوسلا کر باہر لاونج میں آ گئ تھی ۔۔۔ ورنہ وہ کچن سنبھال کر ایک ہی بار کمرے میں جاتی تھی پھر باہر نہیں نکلتی تھی ۔۔۔ کیونکہ نوفل کی عادت تھی کہ وہ رات کو کچھ دیر ٹی وی ضرور دیکھتا تھا ۔۔۔اس لئے مائرہ اپنے کمرے میں ہی رہتی تھی ۔۔۔ لیکن اسے لاونج میں دیکھ کر وہ کچھ حیران ہوا تھا ۔۔۔ پھر وہ اس کے برابر کافی فاصلہ رکھ بیٹھ بھی گئ تھی یہ دوسرا حیرت کا جھٹکا تھا
” کیا دیکھ رہے ہو نوفل ” لہجہ بھی دھیمہ تھا ۔۔۔۔مائرہ نے ٹی وی پر نیوز چینل دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
” مہنگائی کا نیا بجٹ ” نوفل نے تپے ہوئے لہجے میں جواب دیا تھا ۔۔۔ کل کے غصے کے آثار ابھی نوفل میں باقی تھے
” نوفل اسے بند کرو مجھے تم سے بات کرنی ہے ” مائرہ سے صبر ہی کہاں ہو رہا تھا ۔۔۔ چاہتی تھی وہ جلدی سے اسے خالہ کا بتایے ہوئے رشتے کی اطلاع دے
نوفل نے ٹی وی بند کر دیا ۔۔۔ اوراپنا رخ اسکی طرف موڑ کر بیٹھ گیا
” جی کہیے ” لہجہ اب بھی ناراض ناراض سا تھا ۔۔۔
” وہ خالہ آئیں تھی آج شام کو میرے پاس ۔۔۔ تمہارے لئے ایک بہت اچھارشتہ بتا رہی۔ تھیں ۔۔۔ ” مائرہ کے چہرے کی مسکراہٹ نے نوفل کے اندر آگ سی لگائی تھی
” تو یہ وجہ تھی آج کی اتنی مہربانیوں کی ” نوفل کادل جل کر راکھ سا ہوا تھا ۔۔۔ دل میں ہی اس فقرے کو دوہرایا تھا لب خاموش ہی تھے ۔۔۔۔
” میں چاہ رہی تھی نوفل کہ اس بار تم خود لڑکی کو دیکھ لو ۔۔۔ اور اسلام میں یہ جائز بھی ہے ” مائرہ کی بات پر اسے متعب ہوتے ہوئے اپنے دونوں ابرو چڑھائے تھے
” بڑا پتہ ہے آپ کو اسلام میں کیا جائز ہے اور کیا نہیں ۔۔۔ ” نوفل نے جلے دل کے ساتھ طنز کیا تھا ۔۔۔
یہ پہلی بیوی ہوں گیں جو اپنے شوہر کی شادی اتنی خوشی خوشی کرونے کو تیار ہیں ۔۔۔ ورنہ تو کوئی شوہر مزاق میں بھی اپنی بیوی سے کہہ دے تو جس خطرناک تیوروں سے وہ اسے نوازتی ہے شوہر کو اپنی بات پر افسوس ہوتا ہے ۔۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے وہ مائرہ کے چہکتے ہوئے چہرے کو بھی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
” ہاں اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے ۔۔۔ تو خالہ سے کیا کہوں نوفل ؟ ۔۔۔ کل چلیں یا پرسوں جیسے تم ٹھیک سمجھو”
” میں بس چند دن تک بتاتا ہوں آپ کو ۔۔۔ ” نوفل کا دماغ اس وقت کھول رہا تھا ۔۔۔
” ہاں ٹھیک ہے ۔۔ میں خالہ سے کہہ دوں گی ۔۔۔ ” مائرہ خوش ہوتے ہوئے کھڑی ہو گی اس سے پہلے کے اپنے کمرے میں جاتی ۔۔ نوفل نے فورا سے پکارا تھا
” سنیں ” مائرہ نے پلٹ کر اسکی طرف استفہامیہ انداز سے دیکھا
” آپ نے کھیر بہت مزے کی بنائی تھی اگر بچ گئ ہے تو پلیز مجھے لا کر دیدیں ” ریموڈ سے ٹی وی آن کرتے ہوئے نوفل نے مصنوعی مسکراہٹ سجا کر کہا ورنہ دل تو مائرہ کی بات سن کر سلگ سا گیا تھا ۔۔۔
” ہاں ہے ۔۔۔ میں لاتی ہوں تمہارے لئے ۔۔۔ ” وہ کچن کی طرف بڑھ گئ تھی ۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی پیالی کھیر سے بھر کر لائی تھی بس تھی مائرہ کے ہاتھ ۔۔۔ اس نے ہاتھ سمیت ہی نوفل کی طرف بڑھا دی ۔۔
” یہ لو ” نوفل کی نظریں ٹی وی کی جانب ہی مبذول تھیں اس نے نظریں ٹی وی پر ہی جمائی رکھیں ۔۔۔ اور اپنا ہاتھ بڑھا کر پیالی کے نیچے رکھے مائرہ کے ہاتھ پر رکھ کر پیالی کواسکے ہاتھ سمیت پکڑا تھا ۔۔۔ اور ٹی کو یوں دیکھ رہا جیسے ساری توجہ ٹی وی پر ہی ہو ۔۔ ہاتھ پر گرفت بھی اتنی مضبوط تھی کہ وہ ہاتھ ہٹا نہیں پا رہی تھی ۔۔۔ مائرہ اسکی اس حرکت پر نروس سی ہوئی تھی ۔۔۔ لیکن وہ انجان بنے ٹی وی دیکھ رہا ہے
” کیا ہو گیا ہمارے ملک کو بھی ؟ ۔۔۔ نا جانے کب بدلے گی ہماری قسمت ۔۔۔۔ “
” نوفل میرا ہاتھ ” مائرہ کو ہی اسے احساس دلانا پڑا نوفل نے انجام بنے مائرہ کی طرف دیکھا پھر کھیر کی پیالی طرف دیکھا
” اوپس ۔۔۔۔ سوسوری ۔۔۔ ” اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے فورا ہٹا لیا ۔۔۔ اور پھر پیالی اوپر سے پکڑ کر کھانے لگا ۔۔۔ مائرہ فورا سے پلٹ کر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔
نوفل اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
” کرتا ہوں میں شادی ۔۔۔۔ اور اسببار ایسی کرو گا کہ آپ بھی یاد رکھیں گئیں ” کھیر سے چمچ بھرتا ہوا وہ بولا ۔۔۔ اندر لگی آگ کو ٹھنڈی ٹھنڈی کھیر کھا کر ہی بجھانے لگا تھا ۔۔۔۔
******…….
چند دنوں میں ہی شزا کا رشتہ طے ہو گیا تھا سب کچھ انا فانا طے ہوا تھا ۔۔۔۔ سادگی سے نکاح بھی پندرہ دن بعد رلھ دیا گیا تھارزرہ بیگم اور اعجاز صاحب کو رشتہ بلکل پسند نہیں تھا لیکن شزا رضامندی دے چکی تھی ۔۔۔۔
زیان کے علاؤہ اسے کسی شخص پر کوئی اعتراض نہیں تھا ۔۔۔۔
یہ خبر جب زیان کو ملی تو کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔۔
چپ ہی رہا ۔۔۔ شاید یہی سزا اسکے لئے تجویز کی گئ تھی ۔۔۔ زیان کی والدہ نے دوبارہ زیان سے شادی کے لئے بات شروع کی
” اب تو خیر سے شزا کا بھی دوبارہ سے گھر بسنے جا رہا ہے ۔۔۔ تم کہو تو تمہاری بھی بات چلا دوں ۔۔۔ کب تک یونہی رہو گئے زیان “
” ساری زندگی ایسے ہی گزارو گا ۔۔۔ دوبارہ مجھ سے شادی کے بارے میں بات مت کیجے گا امی ۔۔۔۔بھول جائیں کہ اب میں کبھی شادی کروں گا ۔۔۔۔
جائیے اور جا کر شزا کی شادی کی تیاری میں۔ تائی امی کی مدد کریں ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ اپنے بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے ہی باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔
صبح صبح فجر کے بعد چھت پر چلا گیا آخری بار اسے دیکھنا چاہتا تھا ۔۔ اس سے بات کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
وہ پرندوں کو دانہ ڈال چکی تھی ۔۔۔ اب کنستر کو بند کر رہی تھی ۔۔۔ جیسے ہی ہاتھ جھاڑ کر پٹی وہ اس کے سامنے ہی کھڑا تھا ۔۔۔۔
” مجھ سے انکار کی وجہ۔۔۔۔ امی کی باتیں ہیں نا شزا ” بنا تمہید باندھے زیان نے اس سے سوال کیا تھا اور سچ بھی یہی تھا ۔۔۔ شزا سمجھ گئ تھی کہ وہ اس دن اسکی اور اپنی والدہ کی باتیں سن چکا ہے
“سامنے سے ہٹیں زیان مجھے نیچے جانا ہے “
” آنے والے رشتے کے لئے رضا مندی دینے کی وجہ بھی امی کی باتیں ہی ہیں ؟ ” وہ اسکی بات کو سنے بنا ہی اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھ رہا تھا شزا مسلسل نظریں چرا رہی تھی
” زیان مجھے جانا ہے “, ۔
” میرے سوال کا جواب بلکل سچ بتا دو میں تمہیں جانے دونگا ۔۔ ” زیان کے سوال پر وہ دھیرے سے بولی تھی
” میں نے دل سے یہ رشتہ قبول کیا ہے ۔۔۔ مجھے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔ میں خوش ہوں ۔۔۔ اب ہٹیں سامنے سے ” نظریں جھکائے ہوئے وہ بول رہی تھی
” ایسے نہیں شزا سچ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا جاتا ہے ۔۔۔ مجھے بھی ایسے ہی سچ کی تصدیق چاہیے ” وہ شزا کوایک اور نئے امتحان میں ڈال چکا تھا ۔۔۔۔ دھڑکتے دل کے ساتھ اپنی ساری ہمتیں مجتمج کر کے شزا کی اسکی آنکھوں کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔ جس میں اس وقت اپنے عکس کے ساتھ ساتھ اپنی ہی چاہت نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔
” میں ۔۔۔ بہت خوش ہوں ۔۔۔۔ اس رشتے سے ” وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنا ضبط کھو چکی تھی ٹپ ٹپ آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے ۔۔۔ رونا نہیں چاہتی تھی نا ہی ااس کے سامنے کمزور پڑنا چاہتی تھی لیکن بے بسی نے ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔ خود پر اب بھی اتناضبط کیے ہوئے تھی کہ خود کو پھوٹ پھوٹ کر رونے سے روکے ہوئے تھی ۔۔۔ برداشت کرنے سے ہونٹ بھی بری طرح سے کپکپا رہے اور آنسوں قطرہ قطرہ بتدریج آنکھوں سے بہہ رہے تھے چند ثانیے وہ شزا کو روتے ہوئے دیکھتا رہا
” تم تو واقع بہت خوش ہو شزا۔۔۔۔ بیسٹ آف لک ۔۔۔ شادی بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔۔ ” جو جواب زیان کو چاہیے تھا وہ اسے مل چکا تھا اس لئے سامنے سے ہٹ گیا ۔۔۔
وہ تیزی سے چھت کو عبور کرتے ہوئے نیچے اتر گئ تھی ۔۔۔
******……
عبیرہ امید سے تھی یہ خبر سنتے ہی ۔۔۔ فرقان کی خوشی عروج پر تھی ۔۔ شبو سب چپ چپ سی رہنے لگی تھی ۔۔۔ اماں جی بھی شبو کے روز روز کے رونے دھونے کو دیکھ دیکھ کر بیمار رہنے لگی تھی ۔۔۔ یہ خبر انکی چہرے پر بھی مسکان لے آئی تھی ۔۔۔
کھانے ٹیبل پر سب ہی موجود تھے جب فرقان نے بات شروع کی تھی ۔۔۔
” آپاں آج کے بعد کھانا بنانے اور کپڑے دھونے کی ذمہ داری آپ اٹھائیں گئیں۔۔۔۔ گھر کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اس لئے میں ملازمہ کو صرف گھر کی صفائی کے پیسے دونگا ۔۔۔ عبیرہ کی طعبت کچھ ایسی ہے کہ میں رسک نہیں لینا چاہتا ۔۔ اس کی وہ کوئی کام نہیں کرے گی ” فرقان کی بات پر اماں جی نے پہلے شبو کو دیکھا جس کاسارا گھمنڈ تو پہلے سے ہی ٹوٹ چکا تھا ۔۔۔ آجکل تو قابل رحم تھی
‘ فرقان یہ بھلا کیا بات ہوئی ۔۔۔ کیاہم نے بچے پیدا نہیں کیے ۔۔۔ سارے گھر کے کام بھی خود کرتے تھے ۔۔۔ “
” آپ کا دور اور تھا اماں ۔۔۔۔ آجکل کا دور الگ ہے
آج کل کی لڑکیاں نازک مزاج ہیں وہ سب نہیں کر سکتی جو آپ نے کر لیا ” فرقان مزے سے کھانا کھاتے ہوئے بڑے متوازن لہجے میں بات کر رہا تھا
” شزا بھی آجکل کے دور کی تھی ۔۔۔ سارے کام۔کرتی رہی ہے ۔۔۔۔ میں نے تو پرکام کے لئے ملازمہ تک ہٹوا دی تھی کپڑے تک وہ خود دھو کر چھت پر پھیلانے جاتی تھی ۔۔۔ مجال ہے کہ اس نے کبھی افف بھی کیا ہو ۔۔۔ عبیرہ کو کون سے لال لگے ہیں “, اماں کی آج برداشت کی حد ختم ہوئی تھیں
” نہیں اماں! شزا بھابھی تو بہت بری تھیں ۔۔ بد کردار بھی تھیں ۔۔۔۔ اور پھر آپاں پر مجھے بھروسہ نہیں ہے کیا خبر جیسے سیڑیوں میں تیل گرا کر شزا بھابھی کو بانجھ کیا تھا کل کو عبیرہ کو بھی کر دیں ۔۔۔۔ نا اماں جی میں عرفان بھائی کی طرح بے ضمیر نہیں ہوں ” ایک اور ایساسچ تھا جس نے عرفان کے ہوش اڑائے تھے ۔۔۔۔ کھانا کھانا توجیسے وہ بھول چکا تھا شبو کو پہلی بار عرفان نے یوں گھرا تھا جیسے جسم سے مار ڈالے گا ۔۔۔ شبو کا رنگ اڑ کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے صفیان کی طرف دیکھا تھا جواس سچ کا چشم دید گواہ تھا ۔۔۔ جس نے خود شبو کو سیڑیوں میں تیل گراتے دیکھا تھا ۔۔۔ لیکن جب شزا کے ساتھ یہ حادثہ ہو گیا تو شبو نے ٹسوئے بہاتے ہوئے وعدہ لیا تھا کہ وہ کسی سے کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔ صفیان سے یہ بات فرقان کو شزا کی طلاق کے بعد معلوم ہوئی تھی ۔۔۔
شبو کے ساتھ ساتھ ماں نے بھی نظریں۔ تائی۔ تھیں
” فرقان منہ بند کرو اپنا ۔۔ کیا اناب شناب بولے جا رہے ہو ” اماں جی نے بات بدلنا چاہی
” صفیان تم نے دیکھا تھا نا آپاں جو جوسیڑیوں میں تیل گراتے ہوئے ؟ ” فرقان نے صفیان کو اسی وقت مخاطب کر کے پوچھا وہ کچھ نروس ہو رہا تھا
” آپاں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ جو سچ ہے تم وہ بولو “
” ہاں آپاں نے ہی اس وقت سیڑیوں میں تیل گرایا تھا ۔۔۔ اور کہہ رہی۔ تھیں کہ جب میں ابھی تک ماں بن سکی تو تمہیں بننے دے جاتی ہوں بھابھی صاحبہ ” میں آپاں کے پیچے ہیکھرا تھا جب انہوں مجھے دیکھا تو رونے لگیں اسمیں دینے لگیں کہ میں کسی سے کچھ نا کہو ” صفیان کی گواہی نے عرفان کی برداشت کو ختم کیا تھا ۔۔۔
” آپاں شرم نہیں آئی آپ کو ایک قتل کرتے ہوئے۔۔۔۔۔
میرے بچے کو مار ڈالا آپ نے ۔۔۔۔ ” عرفان نےبرکے ہوئے آنسوں بہنے لگے تھے
” ایک پل رحم نہیں آیا آپ کو ۔۔۔ آپاں کتنا بڑا ظلم کیا ہے آپ نے میرے ساتھ برباد کر رکھ دیا میری زندگی کو ۔۔۔۔۔ چلو میرے ساتھ جو کیاسو کیا ۔۔۔ لیکن میرے ذہن میں شزا کے لئے زہر گھول گھول کر جو ظلم مجھ سے آپ لوگوں نے کروایا ہے ۔۔۔ میں دن رات اس جرم کی آگ میں جلتا ہوں ۔۔۔ کیا کر دیا آپ لوگوں نے میرے ساتھ ۔۔۔ کیا بکاڑا تھا میں نے آپاں آپ کا ‘؟ ” وہ روتے ہوئے پوچھ رہا تھا شبو کسی مجرم کی طرح نظریں جھکائے رو رہی تھی
عرفان کی بے بسی کا یہ عالم تھا کہ خود کو ختم ہی کر ڈالے
” کس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے مجھے آپاں وہ روتی رہی ۔۔ مجھ سے کہتی رہی کہ میرا کوئی قصور نہیں لیکن میں نے اسے موت سے بدتر سزا سنادی آپ لوگوں کی باتوں کی وجہ سے ۔۔۔۔ کیسا گناہ کروا دیا آپ لوگوں نے مجھ سے اماں جی ۔۔۔۔
میں سگا بیٹا تھا آپ کا ۔۔۔ کیا میرا قصور تھا کہ میں نے ماں کی فرمابرداری کو ترجعی دی تھی ۔۔ بیوی کے بجائے ماں کو مقدم جانا تھا ۔۔۔۔ آپ نے تو مجھے اس قابل بھی نہیں۔ چھوڑا کہ اپنی گناہوں کی معافی ہی شزا سے مانگ سکو۔۔۔ ” پھر غصے سے وہ شبو کے پاس آ گیا
” اگر اسے بانجھ کر دیا تھااپسں تو کم از کم مجھے شک میں ڈال کر طلاق تو نا ڈلواتی آپاں ۔۔۔ میں اسے سارے غم تو سمیٹ سکتا ۔۔۔۔ آپ نے تواسے اس دہراہے پر کھڑا دیا کہ ۔۔۔ نا میں اسے اپنا سکتا ہوں نا ہی کوئی اور اسے اپنائے گا ۔۔۔۔ آپاں یہ کر دیا آپ نے ۔۔۔ اتنا بڑا ظلم کرتے ہوئے دل کیوں نہیں کانپا آپ کا ۔۔۔۔ ” شبو نے اپنے کانپتے پاتھ عرفان کی طرف کر کے جوڑے تھے
“
“مجھے معاف کر دو ۔۔۔ عرفان ۔۔۔ مجھے لگتا ہے مجھے شزا کی آہ لگ گئ ہے ۔۔۔ میرا گھر بھی اجڑ گیا ہے ۔۔۔ اور گود بھی سونی رہ گئ “
” آپ کے ساتھ جو ہوا ہے اچھا ہوا ہے ۔۔۔ کل تک مجھے شہزاد بھائی پر غصہ بھی تھااور افسوس بھی لیکن آج نہیں ہے اچھا کیاانہوں نے اپنا گھر بسا لیا ۔۔۔۔ کیونکہ جو اپنے بھائی کا ہی گھر بسنے نا دے ۔۔۔ وہ عورت شوہر کے ساتھ کیسے بس سکتی ہے ” یہ کہہ کر عرفان وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔ شبو بھی روتے ہوئے اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔۔
فرقان نے ہر سچائی سامنے لا کر رکھ دی تھی ۔۔۔ سچ کبھی بھی چھپا نہیں ہے اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ۔۔۔۔
