Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 32

491.6K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 32

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

” آپ نے واقع مجھے نہیں پہچانا ” زیان کچھ بے یقین سا تھا نوفل بھی اسے ہی یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا چہرہ شناسا اور جانا پہچانا لگ رہا تھا لیکن یاد نہیں آ رہا تھا کہ دیکھا کہاں ہے

” سوری یار لگتا ہے کہ تمہیں دیکھا ہے ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ یاد نہیں آ رہا ” نوفل نے نادم ہوتے ہوئے اپنا سر کھجاتے ہوئے کہا

“, کچھ سال پہلے ۔۔۔ میری ملاقات آپ سے ایک حادثے میں ہوئی تھی ۔۔۔۔ آپ کے بھائی کا ایکسڈنٹ ہوا تھا ۔۔۔ آپ کی گاڑی میں ہی ڈرائیو کر کے ہاسپٹل لے کر گیا تھا ۔۔۔۔ نوفل کے سامنے پھر سے وہ حادثہ تازہ ہوا تھا زیان کا اس کی مدد کرنا اسے گلے لگا کر حوصلہ دینا ۔۔۔ اسکی گاڑی اسکے گھر تک چھوڑنا ۔۔ یہاں تک کہ اگلے روز وہ زریاب کی تدفین میں شامل ہوا تھا ۔۔۔۔ سب یاد آ چکاتھا

” ہاں یاد آ گیا ۔۔۔۔ تم تو بہت بڑے محسن ہو میرے ۔۔۔ میرے کچھ نا ہوتے ہوئے بھی بلکل کسی اپنے کی طرح تم نے گلے سے لگایا تھا ۔۔۔۔ بس بھائی کا صدمہ کچھ ایسا تھا کہ میں تم سے تمہارا کنٹکٹ نمبر لینا بھول گیا اس کے بعد دل بہت چاہا کہ تم سے ملو لیکن میرے پاس تمہارا کوئی کنٹکٹ نہیں تھااور تم بھی واپس پلٹ کر ملنے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔ اور اس وقت خاصے دبلے سے تھے اب تو اچھے جنٹل مین لگ رہے ہو “نوفل نے اسے غور سے دیکھ کر کہا ۔۔۔ پینٹ شرٹ اور اور ٹائی باندھے وہ خوب جچ رہا تھا

” یہاں ہوتا تو رابطہ بھی ضرور کرتا میری جاب دبی میں لگ گئ تھی ۔۔۔۔ اس لئے دبی چلا گیا اور دوسال بعد اب لوٹا ہوں ۔۔۔۔ آج اور ابھی کچھ دیر پہلے ۔۔۔۔ سیدھا ائیر پورٹ سے آ رہا ہوں ۔۔۔۔ گھر والوں کو سرپرائز دینا چاہتا تھا اس لئے کسی کو اپنی آمد کی اطلاع نہیں دی ۔۔۔۔ ورنہ سب ہی رسیو کرنے پہنچ جاتے ” زیان نے وضاحت دی

” چلو پھر جا کر گھر والوں کو خوش کر دو ۔۔۔ لیکن اس سے پہلے مجھے اپنا نمبر ضرور بتا دوں تا کہ تم سے رابطہ ہو سکے ۔۔۔ پھر ملے گئے بھی اور بہت سی باتیں بھی کریں گئے ” نوفل نے جیب سے اپنا موبائل نکالا زیان کا نمبر سیو کیا پھر اس سے مصافہ کر کے واپس اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا زیان بھی ٹیکسی میں بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔ دونوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کوالودعی کیا تھا

******……..

زیان کو یوں سامنے دیکھ کر سب گھر والے ہی خوشگور حیرت میں مبتلہ ہوئے تھے ۔۔۔۔ سب ہی اس سے بہت گرم جوشی سے ملے تھے ۔۔۔۔

زیان کی والدہ کے تو پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ ۔۔۔ دو سال بعد بیٹے کی شکل دیکھی تھی ۔۔۔۔

” تم بتا کر آتے تو ہر چیز تمہاری پسند کی بناتی ” انہیں زیان کے کھانے کی فکر ستائی تھی

” امی جو بھی پکا ہے میں کھا لوں گا ۔۔۔۔ دو سال آپکے ہاتھ کے کھانے جو ترسا ہوں اب تو دال بھی دیں گی تو وہ بھی مزے کی لگے گی ۔۔۔۔ بس ہونی آپ کے ہاتھ کی چاہیے ” اپنے کمرے کے بیڈ پر بیٹھ کر وہ ماں کا ہاتھ پکڑ کر بولا

” ارے تم بس آرام کر لو تھکے ہوئے آئے ہو” زیان کی والدہ نے فرحت محبت سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

” امی مجھے شزا کا سن کر بہت دکھ اور افسوس ہوا تھا ۔۔۔۔ تایا ابو اور تائی امی سے تو میں نے بات کر لی بس شزا سے نہیں ہو پائی ۔۔۔ سچ پوچھیں تو اس ایک سال میں میری ہمت ہی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ کیا بات کرتا اسے اسکا دکھ ہی بہت بڑا تھا ۔۔ مجھے لگا میرے لفظ چھوٹے پڑ جائیں گئے ۔۔۔۔۔

لیکن یقین مانیں دل بہت مغموم سا ہوا تھا ۔۔۔ مجھے آئے ہوئے دو تین گھنٹے گزر گئے ہیں سب ہی مجھ سے ملنے آئے ہیں لیکن شزا نہیں آئی ۔۔۔ وہ کیا ناراض ہے مجھ سے ” زیان کی بات سن انہوں نے گہری سانس بھری

” اس نے کیا ناراض ہونا ہے کسی سے ۔۔۔ ایک سال سے چپ سی سادھ لی ہے اس بچی نے ۔۔۔۔۔ کسی سے بات نہیں کرتی ۔۔۔۔ کچھ نہیں کہتی ۔۔۔۔۔ چپ چاپ سے اپنے کام کرتی رہتی ہے ۔۔۔۔ یا پھر اپنے کمرے میں بند رہتی ہے ۔۔۔ نا سب میں بیٹھتی ہے نا بار کرتی ہے ۔۔۔۔ نا ہنستی ہے ۔۔۔۔ زندگی کی رمق تو اس لڑکی کی جیسے ختم ہو چکی ہے بس سانس لیتی ہے ۔۔۔کھاتی پیتی ہے ۔۔۔۔ ” وہ افسردگی سے بتا رہی۔ تھیں

” تو آپ لوگوں کو کوشش تو کرنی چاہیے تھی ۔۔۔ اسے واپس زندگی کی طرف لانے کی ” زیان کادل سن کر کٹ سا گیا تھا

” تمہیں کیا لگتا ہے۔ ہم نے ایسا نہیں کیا ہو گا ۔۔۔۔ زیان۔۔۔۔ سب کوشش کر کے ہار گئے ہیں لیکن شزا کے جمود تو کوئی توڑ ہی نہیں پایا ۔۔۔۔۔ “

” دکھ بھی تو بہت بڑا ہے امی ۔۔۔۔ ” زیان رنجیدگی سے بولا

” یہ تو ہے ۔۔۔۔ خیر تم آرام کرو میں تمہارے لئے کچھ اچھاسا پکاتی ہوں ۔۔۔۔ ” وہ زیان کے پاس سے اٹھ کر چلی گئیں ۔۔۔

رات کے کھانے کے دسترخوان پر سب موجود تھے سوائے شزا کے ۔۔۔۔۔ ہنس رہے تھے باتیں کر رہے تھے زیان سے دبئ کے قصے سن رہے تھے ۔۔۔ فاروق کے دو بیٹے تھے اور احمر کی ایک بیٹی ۔۔۔۔ وہ بھی زیان کے پاس ہی بیٹھے تھے ۔۔۔ نہیں تھی تو شزا کہیں نہیں تھی ۔۔۔۔

” ویسے اب کیاارادے ہیں تمہارے زیان ۔۔۔ واپس دبئ جاؤں گئے “اعجاز صاحب نے زیان سے پوچھا

” نہیں تایا ابو اب کہیں نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔۔ دبئ کے اسی اسکول کی ایک برانچ یہاں بھی کھل چکی ہے ۔۔۔۔ اور سمجھیں کہ میری نوکری بلکل پکی ہے ۔۔۔ اور سیلری بھی زبردست ہے ۔۔۔۔ یہاں پر پرنسپل کی پوسٹ پر مجھے چنا گیا ہے ۔۔۔۔ “

” ماشاءاللہ ماشاءاللہ اللہ اور ترقی دے ۔۔۔ ” عزرہ بیگم نے خوش ہوتے ہوئے کہا

” میں آپ سب کے لئے گفٹس لایا ہوں بس کھانے سے فارغ ہو کر دیکھاتا ہوں ۔۔۔۔ ” گفٹس کا سن کر سب سے ذیادہ بچے خوش ہوئے تھے

” انکل آپ ہمارے لئے بھی گفٹس لائیں ہیں ” فاروق کے بڑے بیٹے نے پوچھا تھا

” ہاں سب کے لئے لایا ہوں ۔۔۔۔ ” کھانے کے بعد سب کے تحائف زیان باری باری سب کو دے چکا تھا ۔۔۔۔ بس شزا کا تحفہ اس نے تائی امی کو پکڑانے کے بجائے اپنے پاس ہی رکھ لیا تھا ۔۔۔۔ چاہتا تھا کہ خود اسے دے ۔۔۔۔۔ لیکن وہ اسے اب تک نظر نہیں آئی تھی ۔۔۔۔

رات کو جب سب اپنے کمروں میں چلے گئے تب کچن میں کچھ آہٹوں کی آواز آنے لگی ۔۔۔ زیان سویا نہیں تھا اور اس کا کمرہ بھی کچن کے سامنے تھا ۔۔۔ چائے کی طلب اسے کچن تک لے آئی تھی کچن کافی کشادہ اور بڑا تھاایک گول میز وہاں بھی موجود تھی وہی وہ بیٹھی شزا کھانا کھارہی تھی سادے سے لباس میں ملبوس تھی ۔۔۔۔۔ چہرے پر وہی معصومیت تھی ۔۔۔۔ بس رنگت پیلی سی پڑ چکی تھی ۔۔۔۔ آنکھوں کے گرد ہلکے بھی واضع تھے چہرہ بلکل اسپاٹ بےبتاثر تھا ۔۔۔ ایک نظر زیان پر ڈال کر وہ پھر سے اپنی پلیٹ میں نظریں جمائے کھانا کھانے لگی جیسے وہ وہاں موجود ہی نا ہو۔۔۔۔ اتنی اجنبیت زیان کو مزید نادم کر گئ تھی ۔۔۔۔ کہیں نا کہیں شزا کی بربادی کا ذمہ دار اسے اپنا آپ لگنے لگا تھا ۔۔۔ اس کے دکھ کی داستاں اس کے چہرے پر صاف عیاں تھی ۔۔۔ اسے یوں دیکھ کر زیان کے

گلے میں گرہیں پڑنے لگیں ۔۔۔۔۔ زیان نے گلا صاف کیا ۔۔۔ اور اسکے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا

” کیسی ہو تم ” ٹراوزر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ اسی کو دیکھ رہا تھا

” ٹھیک ہوں ۔۔۔ ” مختصر سا جواب تھا ۔۔۔۔ دو سال بعد وہ آیا تھا اور خزاں نے یہ تک نہیں پوچھا تھا کہ کیسے ہو ۔۔۔ اب بھی مختصر سا جواب یوں دیا جیسے مزید کوئی بھی سوال جواب کرنا ہی نا چاہتی ہو ۔۔۔ زیان اس کے برابر کی کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا

” وہ ۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔ ” لفظ جیسے کھونے لگے تھے ۔۔۔۔ کن لفظوں سے اسکی برباد زندگی کا افسوس کرے جس کی ابتدا اسی نے کی تھی ۔۔۔۔ لیکن شزا اب بھی انجان بنی کھانا کھانے میں مشغول تھی۔۔۔ ایک نظر اس پر نہیں ڈالی تھی

” مجھے تمہارے ۔۔۔۔ بارے میں سن کر ۔۔۔۔۔۔ بہت دکھ ہوا تھا ۔۔۔۔ میں ۔۔۔نے ۔۔ تایا اور تائی سے تمہاری خیریت دریافت کی تھی ۔۔۔ لیکن بس تم سے بات کرنے کی ہمت نہیں کر پایا ” گلو گیر لہجے میں وہ با مشکل بول پا رہا تھا ۔۔۔ شزا کی ویران سی آنکھوں میں ۔۔۔ کبھی اسکے خواب کے دئیے بھی جلتے تھے ۔۔۔ جس کی چمک وہ دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔

جانتا تھا کہ شزا اسے بہت چاہتی ہے ۔۔ ۔

لیکن جو کچھ وہ اسکے ساتھ کر چکا تھا ۔۔۔ پھر جو نصیب نے اس پر ضرب لگائی تھی ۔۔۔۔ ایک ہی تاثر تھا اس کے چہرے پر ایک ویرانی سی تھی چہرے پر آنکھوں میں ۔۔۔۔ بنا زیان کی جانب دیکھے اس نے آخری نوالہ لیا اور بولی

” یہ سب باتیں اب بے معنی سی ہو گئیں ہیں ۔۔۔۔ وقت ایک سال آگے گزر چکا ہے ۔۔۔۔ ایسی رسمیں نبھانے کی سب آپ کو ضرورت نہیں ہے ” اپنی کھانے کی خالی پلٹیں اٹھا کر وہ سنک کے پاس چلی گئ ۔۔۔۔ برتن دھوئے اور کچن سے باہر نکل گئ جیسے زیان کا ہونا نا ہونا اس کے لئے برابر ہو۔۔۔۔ وہ بس اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا تھا

اگلے روز وہ اس کے کمرے میں دستک دے کر گیا تھا ہاتھ میں اسکے لئے لائے ہوئے تحائف تھے

شزا نے دروازہ کھولاتوزیان سامنے کھڑا تھا ۔۔۔ چاہتا تھا کہ وہ اس سے بات کرے ۔۔۔۔ جیسے پہلے کبھی کبھی کر لیا کرتی تھی ۔۔۔۔ لیکن شزا نے اسے دیکھ ہی کوفت سی ظاہر کی تھی ۔۔۔

” کوئی کام تھااپ کو”اسپاٹ سا لہجہ تھا

” کیوں میں بنا کام کے نہیں آ سکتا ” زیان اسکے اس قدر انجان لہجے سے متحیر تھا

” ایم سوری زیان لیکن مجھے اب یہ پسند نہیں کہ کوئی بھی میری پریویسی ڈسٹرب کرے ۔۔۔۔ ” صاف کورا جواب ملا تھا ۔۔۔۔ زیان نے ہاتھ میں پکڑا پیکٹ اسکی طرف بڑھا دیا

” یہ رکھ لو میں سب کے لئے گفٹس لایا تھا ۔۔۔۔ یہ تمہارے لئے ہے ۔۔۔۔ ۔۔ پلیز واپس مت کرنا ۔۔۔اگر رکھ لو گی تو مجھے خوشی ہو گی ” زیان نے لجاجت سے کہا۔ شزا نے وہ پیکٹ پکڑ کر شکریہ کہتے ہی کمرے کادروازہ بند کر دیا تھا ۔۔۔۔ زیان اسکے رویے کو سمجھ نہیں پارہا تھا ۔۔۔ کافی دیر اس بند دروازے کو دیکھتا رہا۔۔۔۔ شزا کے رویے سے بہت مایوس سا ہو کر اپنے پورشن میں آ گیا ۔۔۔۔

*******….

عابدہ بیگم نے عفیرہ کو اب ایک نئ پٹی پڑھائی تھی ۔۔۔۔

” ارے عفی تیری عقل پر تو میں جتنا ماتم کرو اتنا کم ہے ۔۔۔۔ بجائے میاں اور بچے کو اپنا عادی۔ بنانے کے تم نے اس مائرہ کے سر چھوڑ رکھا ہے “

” اماں نوفل کو تو میں اپنے پاس سے ہلنے نہیں دیتی ہوں ۔۔۔۔ باقی رہ گیا ولی تو مجھ سے نہیں سنبھالا جاتا ۔۔۔ اچھا کہ مائرہ بھابھی سنبھال لیتی ہے ۔۔۔۔ میں بہت سکون میں ہوں ۔۔۔۔

” دیکھ عفی میری بات غور سے سن جیسے تیرے طور طریقے ہیں ۔۔۔۔ ایسے تو نوفل تمہیں کبھی گھر کا اختیار نہیں دے گا

ارے میری نظر میں ایک رشتہ ہے تیری جھٹانی کے لئے ۔۔۔ ابھی ابھی رنڈوا ہوا ہے وہ آدمی ۔۔۔۔ چار بچے ہیں اسکے۔ چھوٹے چھوٹے ۔۔۔۔ نوفل کو اگر زضامند کر لو تو ایک ہفتے میں نکاح کروا دونگی اس کا ۔۔۔۔ پھر پورے گھر میں تیری ہی حکمرانی چلے گی “

” اور مائرہ کے بچے ؟ وہ کون سنبھالے گا ۔۔۔ اماں مجھ سے تو ولی بھی سنبھالا نہیں جاتا ۔۔۔ میں نہیں پال سکتی یہ بچوں کاجھنجال پورہ ” عفیرہ جھنجھلا کر جواب دیا تھا

” اری تو ۔مجھے بیوقوف سمجھتی ہے ۔۔۔۔ پوری بات کر چکی ہوں میں اس آدمی سے ۔۔۔ وہ مائرہ کی بچیوں کو بھی رکھنے کو تیار ہے بس بچوں کا خرچہ نہیں اٹھائے گا وہ نوفل کو دینا پڑے گا ” عابدہ بیگم کی وضاحت پر عفیرہ سوچ میں پڑ گئ تھی ۔۔۔۔

رات کو مائرہ کی طعبیت کچھ نا ساز تھی اس لئے وہ جلد ہی اپنے کمرے میں جا کر سو گئی تھی ۔۔۔۔ رات کا کھانا تناول کرنے کے بعد بچے بھی سو چکے تھے نوفل کی آگے روز چھٹی تھی اس لئے ٹی وی دیکھ رہا تھا جب عفیرہ اس کے برابر آ کر بیٹھ گئ ۔۔۔ جو بات اسے آج نوفل سے کرنی تھی اسے پوری توقع تھی کہ وہ آسانی نے نہیں مانے گا ۔۔۔ اس لئے لہجے کو تھوڑا دھیمہ ہی رکھنا تھا ۔۔۔ پہلے تو نوفل کے کندھے پر سر رکھ کر ٹی وی دیکھنے لگی ۔۔۔۔ نوفل ایک نظر ٹی سے ہٹا کر اسے دیکھا ۔۔

،” اب کیا نئ فرمائش تمہارے دماغ میں کلبلا رہی ہے ۔۔۔ جو اتنی محبت جتا رہی ہو ” عفیرہ کی محبت وہ اچھی طرح جانتا تھا عفیرہ کی ایسی عنایتیں ہمیشہ فرمائشوں کا سبب ہی بنی تھیں ۔۔۔

” آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے نوفل ۔۔۔ میں بہت محبت کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔۔ پھر لڑائی کس میاں بیوی میں نہیں ہوتی ” عفیرہ نے بازو اس کے گلے ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ نوفل نے برجستہ محتاط نظریں دائیں بائیں گھمائیں تھیں

” تم ذرا کچھ لحاظ سے میرے ساتھ لاونج میں بیٹھا کرو کبھی بھی کوئی آ سکتا ہے ایسی محبت کے لئے ہمارے پاس کمرہ موجود ہے ” نوفل اس کا بازو اپنے کندھے سے پیچھے ہٹا کر سب سے پہلے مائرہ کے بند کمرے کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔ لیکن عفیرہ کی بے نیازی ہنوز تھی

” ارے سب سو رہے ہیں ۔۔۔ یہ عجیب مجبوری ہے ۔۔۔۔ اب میں کھل کر اپنی محبت کا اظہار بھی نہیں کر سکتی ۔۔ کہیں۔ آپکی بھابھی ہمہیں نا دیکھ لے ” عفیرہ نے خفگی سے کہا

” سب گھروں کا یہی طریقے کار ہوتا ہے ۔۔۔ ہم اکیلے نہیں رہتے اس لئے لاونج میں طریقے سے بیٹھا کرو میرے ساتھ ” نوفل کے بے لچک لہجے پر عفیرہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئ ۔۔۔ پھر آنکھیں چراتے ہوئے نوفل کے موڈ کا اندازہ لگانے لگی اندر کہیں یہ بھی ڈر تھا کہ جو بات وہ اس سے کرنے جارہی ہے ۔۔کہیں وہ اسکی بات سن کر بھڑک ہی اٹھے

” نوفل میں سوچ رہی تھی کہ ۔۔۔ بھابھی کا بھی کبھی دل چاہتا ہو گا کہ ان کا بھی کوئی ایسا ساتھی ہو جیسے زریاب بھائی تھے ۔۔۔۔ جس کے ساتھ دل کی بات کر سکیں ۔۔۔۔ اسکے کندھے پر سر رکھ سکیں ۔۔۔۔۔ انہیں بھی تو شوہر کی کمی محسوس ہوتی ہو گی ” عفیرہ کی بے محل بات پر نوفل بے ساختہ ٹی وی سے نظریں ہٹا کر عفیرہ کو دیکھا تھا ۔۔۔ اتفاق تھا اسی وقت مائرہ بھی اٹھ کر اپنے کمرے سے باہر نکلنے لگی تھی لیکن عفیرہ کی بات پر ٹھٹک کر وہیں رک گئ

‘ مطلب کیا ہے تمہارا ؟” نوفل نے فہمائشی نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔ عفیرہ بڑا نرم لہجہ اپنائے ہوئے تھی

” سمجھو نا نوفل ۔۔۔۔ ساری زندگی وہ یوں صرف زریاب بھائی کے نام ہے گزار دیں۔۔؟ یہ تو ذیادتی ہے ۔۔۔

کیوں نا ہم انکی شادی کروا دیں ۔۔۔۔ کتنی ہی بیوہ خواتین کی شادی ہوتی ہی ہے ۔۔۔۔ ” نوفل اسکی بات سن کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔ عفیرہ کی بات تو نوفل کو بہت بری سی لگی تھی ماتھے پر کئ بل پڑے تھے ۔۔۔۔ کیونکہ اس طرز پر کبھی نوفل نے کچھ سوچا ہی نہیں تھا اندر کھڑی مائرہ کو لگا پھر کسی نے جسم سے روح کو کھنچا ہو ۔۔۔۔ زریاب کے علاؤہ کسی دوسرے کوسوچنا بھی اس کے نزدیک گناہ تھا ۔۔۔

” یہ تمہارے دماغ میں روز ایک نئ افتاد کہاں سے آ جاتی ہے گھر میں ایک نیا تماشہ کھڑا کرنے کے لئے ۔۔۔۔ بھابھی نے سن بھی لیا تو ۔۔۔۔۔۔ ” نوفل نے اپنا غصہ ضبط کیا تھا ہونٹوں کو بینچ کر خود کو سخت لفظ کہنے سے روکا تھا ۔۔ لیکن عفیرہ کا اطمینان اپنی جگہ قائم تھا

” اس میں حرج کیا ہے نوفل ۔۔۔۔ دوسری شادی کوئی گناہ تھوڑی ہے ۔۔۔ ” وہ ذرا سے کندھے اچکا کر بولی

” وہ کبھی نہیں مانے گی اور عائزہ منزہ ؟ ۔۔۔ ان کا کیا ہو گا ” عفیرہ کے پاس تو بر بات کا حل موجود تھا

” اماں کی نظر میں ایک رشتہ ہے ۔۔۔ ایک آدمی کی بیوی کا ابھی حال میں انتقال ہوا ہے ۔۔۔ اسکے اپنے چار بچے ہیں ۔۔۔۔ وہ مائرہ بھابھی سے شادی کر لے گااور بچیاں بھی ساتھ رکھ کے گا ۔۔۔۔ ” عفیرہ کی بات سن کر اس نے غصے سے مٹھیاں بیچیں تھیں ۔۔۔

” تمہیں لگتا ہے میں اپنے خون کو کسی غیر کے رحم کرم پر۔ چھوڑ دونگا ۔۔۔ ۔۔۔ تم کیوں نہیں پالنے ک ہامی بھر لیتی ۔۔۔۔۔ دونوں بچیوں کو ماں کی محبت تم دیدو ۔۔۔۔ مائرہ بھابھی کے لئے تمہاری ماں سے بتائے ہوئے رشتے سے بہتر رشتہ میں خود تلاش کر لوں گا ۔۔۔۔ لیکن ایک بات کان کھول کے سن لو میں اپنی بیٹیوں کو خود سے کبھی جدا نہیں کروں گا ” نوفل نے یہ بات عفیرہ کو ٹالنے کے لیے کہی تھی۔۔۔ اسے اچھی طرح پتہ تھا کہ وہ ولی کو نہیں سنبھال سکتی تو عائزہ منزہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ لیکن یہ نہیں جانتا تھا مائرہ اندر کھڑی سن رہی ہو گئ مائرہ کی برداشت ختم ہوئی تھی غصے سے کمرہ کھول کر وہ باہر آ گئ ۔۔۔۔ دونوں ہی اسے دیکھ کر بھونچکا کے رہ گئے تھے ۔۔۔ وہ ان کے سامنے کھڑی ہو کر تن کر بولی

” کس نے حق دیا ہے تم دونوں میری زندگی کے بارے میں اس قسم کافیصلہ کرنے کا ؟ ۔۔۔۔ ” عفیرہ نے پہلی بار مائرہ کو اتنے غصے میں دیکھا تھا ۔۔۔۔ نوفل فوراسے کھڑا ہوا تھا ۔۔۔ عفیرہ خود تو چپ رہی تھی اور تھی بھی لا پروا ۔۔۔ نوفل ضرور گھبرا گیا تھا اس لئے فقرے کی وضاحت کرنے لگا

” بھابھی میں یہی بات اسے سمجھا۔۔۔۔۔” س پہلے کے نوفل بات کی وضاحت کرتا مائرہ اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بول اٹھی

” چپ رہو تم۔۔۔۔ بہت بڑے ہو گئے ہو تم ؟ میرے بارے میں فیصلے کا اختیار تمہیں کس نے دیا ہے ۔؟۔۔ اگر تم اپنے پیسوں سے مجھے اور میری بیٹیاں کو دو وقت کی روٹی کھا کر یہ سمجھ رہے ہو کہ میرے اختیارات اپنے نام کر چکے ہو تو یہ غلط ہے ۔۔ نوفل صاحب اپنی جیب میں رکھو اپنا پیسہ ۔۔۔ مجھے کوئی پلاٹ کی قسطیں نہیں بھرنی ۔۔۔۔ مجھے اپنی امی کے گھر اور زریاب کی دوکان کا کرایہ چاہیے ۔۔۔۔ آج کے بعد تمہارے احسان کی روٹی میں نہیں کھاؤں گی ” مائرہ کب سے عفیرہ کی باتوں کو برداشت کر رہی تھی سہہ بھی رہی تھی لیکن عفیرہ کی یہ بات سن کر سکے سے باہر ہوئی تھی یہی مائرہ کے برداشت کرنا سہل نہیں تھا اسپر نوفل کی بات نے تو دنگ سا کر دیا تھا بہت تکلیف دی تھی اسے نوفل سے ایسی کوئی توقع نہیں تھی اسے ۔۔۔ آج صبر کا پیمانہ بھر چکا تھا پر عتاب کا نشانہ نوفل بیچارہ بنا تھا ۔۔۔۔

” بھابھی آپ غلط سمجھ رہیں ہیں ” نوفل کی تو جان پر بن گئ تھی یوں تھا کہ ابھی رو پڑے گا ۔۔۔ اسکاارادہ عفیرہ کو سمجھانا تھا لیکن سب الٹا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ مائرہ کے غصے سے سانس پھول رہا تھا

” آج ہی تو ٹھیک سمجھی ہوں تمہیں ۔۔۔۔۔ نوفل اگر تم سے میراخرچہ برداشت نہیں ہو رہا تھا تو مجھ سے صاف کہہ دیتے ۔۔۔مجھے اتنا برا نہیں لگتا ۔۔۔۔

ایک طرف تمہاری بیوی مجھے یہاں سے بچوں سمیت نکالنے کو تیار بیٹھی ہے ۔۔۔۔ جس کی کڑوی کسیلی طنز بھری باتیں میں دو سال سے سن رہی ہوں برداشت کر رہی کبھی آج تک تم سے شکایت اس لئے نہیں کی صرف اس لئے ۔۔۔۔۔ کہ تم دونوں کا گھر بسا رہے ۔۔۔۔ اور تم دونوں ؟ ۔۔۔۔۔ نہایت افسوس کی بات ہے ۔۔۔۔ ” مائرہ نے دونوں کو تاسف سے دیکھا تھا پھر نوفل سے بولی

” تم تو عفیرہ سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے نوفل ۔۔۔ زریاب تو رہے نہیں میرے پاس انکی نشانیاں بھی مجھ سے چھننا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔ میری بیٹیاں تمہارا خون ہیں ۔۔۔ تمہارے بھائی کی اولاد ہیں۔۔۔ اس لئے تمہارا انہیں کسی کے گھر بھجنے کا حوصلہ نہیں ہے ۔۔۔ تو میں کیا ہوں ؟ ۔۔۔۔ کون ہوں میں ۔۔۔۔ ؟” مائرہ کے تن بدن میں آگ سی لگ گئ تھی ۔۔۔۔ اپنی تذلیل کااحساس ہو رہا تھا ۔۔۔۔ آج زریاب کی کمی اتنی شدت سے محسوس ہو رہی تھی کہ جی چاہاابںی سامنے آ جائے ۔۔۔۔ اپنا آپ فالتوں سامان کی مانند لگ رہا تھا جیسے کتنا وقت کہاں رکھنا ہے اور کب آگے ٹھکانے پر پھنک دینا ہے ۔۔۔۔ پہلے زولیخہ ۔۔۔ پھر نوفل ۔۔۔۔۔ اور اب ۔۔۔۔۔۔ کاش زریاب کے ساتھ وہ بھی مر جاتی ۔۔۔ ایک تلخ سوچ تھی جو وہ سوچنے پر ۔مجبور ہوئی تھی۔۔۔۔

” بھابھی خدا کی قسم میراایسا کوئی ارادہ نہیں میں تو بس ” نوفل کی ندامت سے ڈبڈبائی آنکھوں سے آنسوں چھلکے تھے ۔۔۔

” بس کچھ نہیں سننا مجھے ۔۔۔۔ بلکہ مجھے رہنا ہی نہیں ہے یہاں اتنی چبھنے لگیں ہوں تمہیں میں ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں تیزی سے چلی گئ ۔۔۔ عفیرہ نے تو مائرہ کے جارحانہ تیور دیکھ دل میں شکر کا کلمہ پڑھا تھا ۔۔۔۔ کہ وہ اب رکے گی نہیں اس لئے اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔ البتہ نوفل مائرہ کے پیچھے لپکا تھا ۔۔۔

اپنے آنسوں پونچتے ہوئی مائرہ دونوں بچیوں کو جگانے کے لئے آگے بڑھی تھی ۔۔۔ لیکن اس کا ہاتھ نوفل نے پکڑ لیا تھا ۔۔۔

” نہیں بھابھی کہیں نہیں جائیں گی آپ ۔۔۔۔۔ معاف کر دیں مجھے ۔۔۔۔ مجھ سے غلطی ہو گئ ۔۔۔۔ آئندہ ایسا کبھی نہیں کہو گا ۔۔۔ ” بےبسی سے وہ اس کی منت پر اتر آیا تھا

” ہاتھ چھوڑو میرا نوفل یہ نا ہو کہ میرا ہاتھ تم پر اٹھ جائے ” وہ بے حد غصے میں تھی ۔۔۔ ایک کرب سے گزر رہی تھی ۔۔۔۔ اپنی کلائی اس سے۔ چھڑوانے لگی

” ہاں تو مار لیں ۔۔۔۔ جتنا چاہیں برا بھلا کہہ لیں لیکن میں آپ کو یہاں سے جانے نہیں دونگا ۔۔۔۔ ” آنسوں اسکے بھی بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ اس وقت کو کوس رہا تھا یہ بات منہ سے نکالی تھی ۔۔۔ اب بھی مائرہ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ہوا تھا کہ کہیں سچ میں چلی نا جائے

” نوفل چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔ مجھے اب تمہارے پیسوں کے نوالے پر گز نہیں کھانے ہیں ۔۔۔ خود محنت کر لوں اپنے بچوں کو بھی پال لوں گی ۔۔۔ ” وہ اب بھی اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی ۔۔۔ تلملا کر بولی رہی تھی ۔۔ یہ ارادہ۔ ھی کر چکی تھی اب نہیں رکے گی ۔۔۔ یہاں سے بھی چلی جائے گی

” آپ کو زریاب بھائی کی محبت کاواسطہ ہے ۔۔۔۔۔ ” نوفل کی اس بات نے مائرہ کی بولتی بند کی

تھی ۔۔۔۔ وہ وہیں رک گئ تھی کچھ دیر تاسف سے نوفل کو دیکھنے لگی جو خود بھی رو رہا تھا ۔۔۔ بے بسی ایسی تھی کہ خود بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔ نوفل نے اسے نرم پڑتادیکھ کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔ خود بھی رو رہا تھا ۔۔ با مشکل خود پر ضبط کیا اپنے آنسوں صاف کیے ۔۔۔ مائرہ کو بے تحاشہ روتے دیکھ کر دل کند چھری کٹا تھا ۔۔۔۔ اپنے دل میں ٹھیس سی اٹھی کیونکہ آج وہ اسکی وجہ سے یوں بے کل ہو کر رو رہی تھی

” میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی نوفل کہ تم یوں بھی کہہ سکتے ہو ۔۔۔۔۔ اچھی طرح جانتے ہو کہ زریاب میرے لئے کیا ہیں ۔۔۔۔ پھر بھی ۔۔۔۔۔۔۔ ” مضمحل سی ہو کر بیڈ پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے منہ چھپائے رونے لگی نوفل مائرہ کے سامنے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔۔ دونوں ہاتھ جوڑے روتے ہوئے معافی مانگنے لگا ۔۔۔

” معاف کر دیں مجھے ۔۔۔۔۔ آئندہ نہیں کہو گا ۔۔۔۔ بس آخری بار معاف کر دیں ۔۔۔۔۔ میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے صرف عفیرہ کو چپ کروانے کے لئے کہا تھا ۔۔۔ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا بھابھی۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ آپ بھائی سے کتنی محبت کرتی ہیں ۔۔۔۔ ” ہاتھ جوڑے گردن جھکائے وہ روتے ہوئے وضاحتیں دے رہا تھا لجاجت سے منت سے اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا جسے انجانے میں ناراض کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ مائرہ نے اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹائے غصہ اب کافی حد تک کم ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ یاانسوں سے بہہ چکا تھا

” جاؤں یہاں سے نوفل ” اس بار مائرہ کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا دھیمہ سا تھا

” نہیں۔۔۔۔ پہلے میرے منہ پر زور سے تھپڑ ماریں ۔۔۔ مجھے برا بھلا کہیں ۔۔۔۔ مجھے جو چاہے سزا دیں لیکن اپنادل میرے لئے صاف کریں ۔۔۔۔ میں آپ کو ناراض نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔ بھائی کو کیا جواب دونگا ۔۔۔ میں نے رلایا ہے آپ کو ” وہ ہنوز اسی انداز سے بیٹھا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔

” کر دیا معاف ۔۔۔۔ اب جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔ ” مائرہ نے اپنے آنسوں صاف کر کے کہا ۔۔۔ نوفل نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔

” بھابھی عفیرہ کیا کیا کہتی ہے آپ سے ۔۔۔ مجھ سے کیوں چھپاتی رہیں ہیں آپ ۔۔۔۔ ” نوفل نے جب سے یہ بات مائرہ کے منہ سے سنی تھی اندر کہیں آگ سی دھک گئ تھی ۔۔۔۔۔ عفیرہ اپنی تیز زبانی سے کیوں گھائل کرتی رہی تھی مائرہ کو ۔۔۔۔ اور اس نے نوفل سے کیوں چھپایا ؟

جلد بازی اور غصے میں مائرہ جو کچھ بول گئ اب سوچ میں پڑ گئ تھی ۔۔۔۔ کہ کہیں پھر سے دونوں بحث و تکرار ما ہو جائے

” کچھ نہیں بس چھوڑو ان باتوں کو ” مائرہ نے مدافعانہ انداز سے کہا۔۔۔۔ لیکن نوفل اس بات کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھا

” سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ میرے لئے بھائی کے بعد آپ سب سے پہلے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ عفیرہ کی ہمت بھی کیسے ہوئی کہ وہ آپ کو کچھ کہہ جائے ۔۔۔۔ کیوں سنی آپ نے اسکی بکواس ۔۔۔۔ جواب کیوں نہیں دیا ۔۔۔۔ مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔۔ ” وہ دبے دبے غصے سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ کیونکہ ابھی اپنی غلطی کی معافی ملی تھی ۔۔۔ اس لئے نہیں چاہتا تھا اس سے بلند لہجے میں بات کرے

” نوفل میں گھر میں تماشہ نہیں چاہتی تھی اور نا اب چاہتی ہوں ۔۔۔۔ تم زریاب جیسے نہیں ہو ۔۔۔ وہ معاملہ فہم تھے اور تم جذباتی ہو ۔۔۔۔ نا جانے جذبات میں کر بیٹھوں ۔۔۔۔ کیوں نہیں سمجھتے ہو کہ عفیرہ کا ہونا ہمارے لئے بہت ضروری ہے ۔۔۔۔ چاہے وہ جیسی بھی ہے ۔۔۔۔ لیکن اسکے ہونے سے لوگوں کی نظر میں میں باعزت ہوں ۔۔۔۔۔ تم قابل احترام ہو ۔۔اس لئے ۔۔۔۔ جو جیسا چل رہا ہے چلنے دو ۔۔۔۔۔ اسکی باتیں مجھے اب اتنی بری نہیں لگیں اسکی عادت ہی ایسی ہے وہ بدل نہیں سکتی ۔۔۔۔ اس لئے میں نے سمجھوتا کر لیا ہے ۔خود کو ۔۔۔۔۔ تم اب اس سے لڑو گئے نہیں ۔۔۔۔ ورنہ وہ ہر جگہ یہی شور مچا دے گی کہ میں نے اسے بسنے نہیں دیا ۔۔۔۔۔ بس وعدہ کرو کے اس سے لڑو گئے نہیں ۔۔۔۔” مائرہ پھر سے اسے وعدوں میں باندھ رہی تھی جیسے اب تک باندھتی آئی تھی ۔۔۔۔ نوفل بے بسی سے بولا

“کیوں مجھے وعدے کا پابند کر دیتی ہیں آپ ۔۔ ہر بار ۔مجھے روک دیتیں ۔۔۔ قسمیں اور وعدے دے کر ۔۔۔۔ پتہ ہے آپ کو کیسے دل پر پتھر رکھ کر جھیلتا ہوں اسے میں ۔۔۔ اسکی حرکتیں نا،قابل برداشت ہیں میرے لئے اگر اب تک وہ آپ کو یہاں نظر آ رہی ہے تو صرف آپ کی وجہ سے ۔۔۔۔۔ تا کہ آپ کو لوگ کچھ کہہ نا سکیں ۔۔۔۔ میں بھی سہہ رہا ہوں بھابھی ۔۔۔۔۔۔ آپ کے لئے۔۔۔ اور ولی کے لئے ۔۔۔۔ مجبورا اپنی زندگی اس بدتمیز لڑکی کے ساتھ گزار رہا ہوں ۔۔۔۔ کیونکہ جانتا ہوں ۔۔۔ کہ طلاق کی نحوست سے بچے ذہنی طور پر ڈسٹرب ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ ” نوفل بھی کسی ضبط سے ہی گزر رہا تھا ۔۔۔۔۔

” جانتی ہوں ۔۔۔ احسان مند ہوں تمہاری ” مائرہ کا کی گردن اسکے احسان سے جھکی تھی ۔۔۔یہ تو سچ تھا کہ وہ اپنے مزاج کے بر خلاف عفیرہ کی کئ باتوں کو مان لیتا تھا

” یوں مت کہیں ۔۔۔۔ غیر نہیں ہوں میں جو احسان کرو گا ۔۔۔۔ آپ نے دل سے مجھے معاف کر دیا نا ۔۔۔؟ ناراض تو نہیں ہیں نا مجھ سے ؟ اندر ہی اندر اب نوفل کے دل میں یہی خلجان تھا مائرہ نے اسے اپنایت سے دیکھا تھا دونوں ہی اپنی جگہ مجبور تھے ۔۔۔۔

” میں تم سے ناراص ہو سکتی ہوں ؟ ۔۔۔ کبھی کبھی تو اپنا آپ تمہارا ۔جرم سا لگتا ہے نوفل ۔۔۔ بہت غلط لڑکی کا انتخاب کر بیٹھی ہوں تمہارے لئے “مائرہ نے بھی نظریں چرائیں تھیں

” خیر ہے میرے نصیب میں یہی تھی اس لئے آ گئ ۔۔۔ بس اب آپ ایک وعدہ مجھ سے اور کریں ۔۔۔ اب عفیرہ کی باتیں برداشت نہیں کریں گئیں ۔۔۔۔ “,مائرہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔

” اب جاؤں جا کر آرام کرو ۔۔۔ بچوں کی طرح سے روتے ہوئے اچھے نہیں لگتے ۔۔۔۔ آئندہ میرے سامنے یوں مت رونا ۔۔۔۔” مائرہ نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے اسے پیار بھری سرزش کی

” آپ بھی مجھ سے دوبارہ کبھی یہ نہیں کہیں گئی۔ کے آپ مجھے چھوڑ یہاں سے چلی جائیں گی ۔۔۔۔ “

” میں کہاں جا سکتی ہوں نوفل ۔۔۔۔ کہیں نہیں جاسکتی ۔۔۔۔۔ کہیں اور کبھی جانا بھی نہیں چاہتی ۔۔۔ بس یہ بات عفیرہ کواچھی طرح سمجھا دینا ” نوفل کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔

” سمجھا دوں گا ۔۔۔۔ ” کمرے سے باہر چلا گیا لیکن اپنے کمرے میں نہیں گیا ۔۔۔ ٹی وی ابھی بھی آن تھا۔۔۔ اس نے ٹی وی بند کیا اور لاونج کے صوفے پر ہی کشن سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا ۔۔۔ اس وقت توعفیرہ کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا

*******……….

دو دن سے مظہر آفس نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔ اسے بخار تھا ۔۔۔۔۔ بدر کو کچھ ضروری چیک سائن کروانے تھے۔۔۔۔ وہ فون پر اس سے بات کر رہا تھا

” سر اگر آپ بس کچھ دیر کے لئے ہی افسآ جائیں تو ۔۔۔ بہت سارے جسم آسان کو جائیں گئے ۔۔۔ دو تین کنٹریکٹ بھی ڈسکس کرنے تھے ۔۔۔ “

” میں تو آ جاؤں لیکن تمہاری بھابھی نے سختی سے منع کیا ہے ۔۔۔۔ سمجھوں تو میرے خلاف بیٹے کے ساتھ ملکر محاز کھڑا کیے ہوئے ہے ۔۔۔۔ اب ان دونوں ماں بیٹے سے نمٹنا میرے بس کی بات نہیں ہے ۔۔۔۔ اب بھی میرے سامنے بیٹھی مجھے گھور رہی ہے ۔۔۔۔ تم ایسا کرو چیکس اور فائلز لیکر گھر آ جاؤں ۔۔۔۔ ڈسکشن بھی ہو جائے گی اور میرے ساتھ بیٹھ کر پر تکلف سی چائے بھی تمہیں ملے گی ۔۔۔ “

ظہر کی آفر پر وہ بدی طرح سے متذبذب سا ہوا تھا

” نن۔ نو سر ۔۔۔۔ میں کسی اوراپلائے کو بھیج دیتا ہوں ۔۔۔۔ مجھے آفس میں کام ہے ” وہ کتراتے ہوئے بولا ۔۔۔ مظہر کے گھر نہیں جانا چاہتا تھا ۔۔۔۔ آفرین اپنی اپنی زندگی میں خوش باش تھی اس کی زندگی سے اس کا دور رہنا ہی بہتر تھا ۔۔۔

” مجھے ڈسکشن تم سے کرنی ہے ۔۔۔ بہانے مت بناؤ میں ڈرائیور کو بھیج رہا ہوں تم بس آ جاؤ ” مظہر نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔۔

آدھے گھنٹے بعد ڈرائیور بدر کو لینے پہنچ گیا تھا ۔۔۔ تمام ضروری ڈاکومنٹس لیکر مظہر کی گاڑی میں سوار ہوا تھا ۔۔۔۔

مخلتف راستوں سے گاڑی ہوتی ہوئی ایک سوسائٹی کے اندر داخل ہوئی تھی ۔۔ جہاں صرف بنگلےہی بنگلے بنے ہوئے تھے ۔۔۔ ایک دو ہزار گز کے بنگلے کے سامنے گاڑی رکی تھی گاڑی کے ہارون سنتے ہی مین گیٹ کھلا تھا ۔۔۔۔

بہت بڑی پارکنگ ایریا تھا تھا وہاں پہلے سے دو گاڑیاں پہلے سے موجود تھیں دائیں جانب بہت بڑا لان تھا ۔۔۔ بہت خوبصورت پھولوں سے سجا ہوا ۔۔۔۔

پھولوں کاذوق دیکھ کر ہی مالک کی نفیس مزاج کااندازہ لگایا جا سکتا تھا ۔۔۔۔ آفریں نے اپنے بھائی گھر کے وسیع صحن میں بھی مختلف پھولوں کے گملے لگا رکھے تھے ۔۔۔۔ پورا صحن مختلف دلفریبخوشبوں سے مہکتا رہتا تھا ۔۔۔۔

وہ جب تک اس صحن میں بیٹھا لیاقت سے بات چیت میں مصروف رہتا تھا وہاں رکھے مختلف گملوں میں لگے الگ الگ اقسام کے پھولوں کو دیکھتا رہتا تھا ۔۔۔۔۔

نئے نئے قسم کے پھول لگانے کااسے بے حد شوق تھا ۔۔۔ اور وہی احساس بدر کو مظہر کا لان دیکھ ہو رہا تھا دل یکبارگی سے دھڑکنے لگا تھا ۔۔۔۔ کیسے اس کا سامنا کرے گا ۔۔۔ آفرین جب اسے دیکھے کی تو اس کا ریایکشن کیا ہو گا ۔۔۔۔ لاونج کے جہازی دروازے کے سامنے کھڑے وہ اس شش وپنج میں مبتلہ کے اندر داخل ہو بھی کہ واپس بھاگ جائے

مظہر کی نوکری چھوڑ دے ۔۔۔۔۔ ابھی اسی سوچ و وچار میں غلطیاں تھا جب کاونج کادروازہ اندر سے کھلا تھا

******……..

” زیان میاں بہت ہو گئ گھر والوں سے ملاقات تمہارا کوئی بہانہ نہیں چلے گا ۔۔۔۔ میرے گھر کا

تمہیں معلوم کے اس لئے چھ بجے کی چائے تم میرے ساتھ پیو گئے ۔۔۔ ” زیان کے کراچی آنے کے پندرہ دن بعد نوفل نے زیان کو اپنے گھر چائے پر مدعو کیا تھا

” کیوں نہیں ۔۔۔ آپ کی دعوت سرآنکھوں پر ہے ۔۔۔ میں وقت پر پہنچ جاؤں گا ۔۔۔۔ ویسے بھی ایک دوست کی اشد ضرورت محسوس ہونے لگی ہے

جی چاہتا ہے کوئی ایسا ہمدرد دوست ہو جسکے سامنے اپنا ہر غم کھول کے رکھ دوں “

” موسٹ ویلکم” نوفل نے فون بند کر دیاتھا

زیان شزا کے روکھے رویے سے بھی پریشان تھا ۔۔۔ اس پندرہ دن میں دوبارہ وہ اسکے سام ے نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ اور زیان کا دیا تحفہ وہ احمد کی بیوی کو دے چکی تھی ۔۔۔ ایک نفیس سا جیولری سیٹ تھا ۔۔۔ جو زیان نے اگلے ہی روز احمر کی بیوی کو گلے میں پہنے دیکھا تھا ۔۔۔ یہ پوچھنے ضرورت ہی نہیں تھی اسکے پاس کیسے آیا ۔۔۔ جانتا تھا کہ ،شزا نے ہی اسے دیا ہو گا وہ بھی بنا اس کا تحفہ دیکھے ۔۔۔۔ پتہ نہیں زیان کو اس کی بے مروتی کھل رہی تھی ۔۔۔۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی۔ دوبارہ کبھی اتفاق سے شزا سے سامنا نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔ کچھ عفیرہ کے دیے زخم بھی اب بھی۔ کچے اور رستے ہوئے محسوس ہوتے تھے ۔۔۔ دو سال میں بھرے نہیں تھے ۔۔۔۔ کراچی واپس آتے ہی لگ رہاتھادو سال کی دوری نے بھی زیان کو کچھ بھی بھولنے نہیں دیا۔۔۔۔

شام کو نوفل اسی کاانتظار کر رہا تھا ۔۔۔ مائرہ سے کہہ چکا تھا اس کا،اءک دوست آنے والا ہے چائے کے ساتھ اہتمام بھی ہونا چاہیے ۔۔۔۔

نوفل زیان کو گھر کے اندر لیکر نہیں گیا تھا صحن میں رکھیں کرسیوں میں سے ایک کی طرف اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ زیان کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔ پہلے نوفل اندر سے اس کے لئے کولڈرنک لیکر آیا تھا ۔۔۔ ایک گلاس اس کی طرف بڑھایا ۔۔۔ زیان نے شکریہ کے ساتھ گلاس پکڑا تھا

” تم مجھے کبھی بھی اجنبی نہیں لگے ۔۔۔۔ جب بھائی کو ہوپسٹل لے جا رہے تھے اس وقت بھی تمہارے چہرے سے لگ رہا تھا کہ جتنی تکلیف مجھے زریاب بھائی کو دیکھ ہو رہی تھی ۔۔۔اتنی تمہارے چہرے پر بھی عیاں تھی ۔۔۔۔

ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں زیان جو دوسروں کے دکھ کو اپناسمجھ کر محسوس کرتے ہیں دوسروں کو گلے لگا کر اسکے ساتھ روتے ہیں ۔۔۔۔ اور تم ایسے ہی ہو ۔۔۔۔ ” نوفل وہ نا جانے کیوں زیان سےاپنایت سی محسوس ہورہی تھی ۔۔۔

” اسوقت تو مجھے بھی یوں لگا کہ کسی اپںے کو کھو بیٹھا یوں۔۔۔ پھر جب تمہاری گاڑی یہاں پر لا کر کھڑی کی تو تمہاری بھابھی کو دیکھ میرا دل دہل گیا تھا ۔۔۔ شاید کسی ایونٹ کے تیار تھیں تمہارے بھائی کے ساتھ کہیں جانا تھا ۔۔۔۔

ان یوں بے یقنی سے تمہارے بھائی سے بات کرنا منت سماجت کرنا۔۔۔۔ اففف ۔۔۔۔ مجھ میں دیکھنے کی ہمت نہیں تھی اس لئے تمہارے کسی پڑوسی کو گاڑی کی چابی دے کر میں واپس چلا گیا ۔۔۔۔ ٫ زیان کو بھی وہ تکلیف دہ لمحہ یاد آیا تھا ۔۔۔

*******……….

“واہ بھابھی آج تو چائے کے ساتھ بہت کچھ تیارر لیااپ نے ۔۔۔ ” عفیرہ کچن میں آئی تو مائرہ سب کچھ تیار کر چکی تھی بس پلیٹس میں سجارہی تھی

” نوفل کادوست آیا ہے ۔۔۔ بس اس لئے یہ تیار کیا ہے ۔۔۔ چائے بھی بن چکی ہے ۔۔۔ عفیرہ تم ذرا نوفل کو یہ ٹی ٹرالی صحن نے دے آؤ میں عصر کی نماز پڑھ لوں پہلے بہت دیر ہو چکی ہے ” مائرہ نے پوری ٹرالی سٹ کر دی تھی ۔۔۔ بس نوفل کو صحن میں دینی تھی۔ عفیرہ نے پلیٹ سے ایک شامی کباب اٹھایااور کھانے لگی

” ہاں ٹھیک ہے میں دے دیتی ہوں ۔۔۔۔ آپ جائیں نماز پڑھیں ” دو نوالوں میں وہ کباب کھا چکی تھی ۔۔۔۔

” اور ہاں باہر مت چلی جانا ۔۔۔۔ بس لاونج کے دروازے پر ہی نوفل کو پکار کر دے دینا ۔۔۔۔ ورنہ نوفل برا منائے گا ۔۔۔۔ وصی کے علاؤہ وہ کسی دوست کے سامنے آنے سے منع کرتا ہے ” مائرہ اسے تاکید کر کے چلی گئ

” ایسا کون سا دوست ہے ۔۔۔ جسسے اتنا پردہ ہے ۔۔۔ میں بھی تو دیکھو ۔۔۔ ” عفیرہ اور اپنی تانک جھانک کی عادت باز آ جائے ممکن ہی نہیں تھا