Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 26

608.9K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 26

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

آفرین کے ساتھ جو سلوک بدر کی والدہ نے کیا تھا ۔۔۔ وہ دلبرداشتہ سا ہو رہا گیا تھا ۔۔۔ آفرین سے اس قدر شرمندہ تھا کہ دوبارہ معذرت بھی نا کر سکا ۔۔۔۔ چند بعد ہی یہ معلوم ہوا کہ آفرین کی سادگی سے شادی کر دی گئ ہے ۔۔۔ اور وہ بھی ایک ایسے شخص کے ساتھ جس کی پہلے سے ایک بیوی موجود ہے ۔۔۔۔ دل پر ایک بوجھ سا آ چکا لگ رہا تھا کہ وہی قصور وار ہے ۔۔۔ سکھ دینے کے چکر بہت بڑا گھاؤ اسے دے چکا تھا ۔۔۔۔ کئ بار چاہا کہ ایک بار آفرین سے اس کا سامنا ہو جائے تو اپنے کیے کی معافی مانگ لے ۔۔۔۔ شاید کے دل کے بوجھ میں کمی آ جائے لیکن وہ ایک بار بھی پلٹ کر میکے نہیں آئی تھی ۔۔۔

دو سال اسکی والدہ مختلف لڑکیوں کو ٹھکرادی رہیں ۔۔۔۔۔ اسکے بعد لڑکی والوں نے بدر کو ٹھکرانا شروع کر دیا ۔۔۔۔ عمر پینتیس کراس کر گئ تھی ۔۔۔۔

لیکن ماں کی خواہش کی لڑکی انہیں نظر نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ جس کو وہ پسند کرتیں وہ بدر کو انکار کر دیتے ۔۔۔ بدر کو اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔۔ دل کی خواہش کا جو حشر ماں نے کیا تھا ۔۔۔ اب کوئی بھی آجاتی ۔۔۔ یا زندگی میں کوئی نا بھی آتی اس کے لئے برابر تھا ۔۔۔ تین سال مزید گزر گئے تھے ۔۔۔۔

جب اسکی والدہ کو رمشہ پسند آ گئ تھی ۔۔۔۔

” اتنی خوبصورت لڑکی ہے کہ کیا بتاؤں تمہیں ۔۔۔ پہلی نظر میں ہی میرے دل کو بھا گئ ۔۔۔ اور یہ گھر ریکوریٹ کر رکھا ہے ۔۔۔ ایک ہی ایک بیٹی ہے ان کی جی بھر کے جہیز دیں گئے بس اللہ کرے تو بھی انہیں پسند آجائے ۔۔۔” ماں کی سوچ پر اب تو بدر کو افسوس بھی نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔ اسے معلوم تھا کہ اگر لڑکی خوبصورت اور کم عمر ہے پھر امیر دولت مند تھی تو اسے ہر گز پسند نہیں کریں گئے ۔۔۔ لیکن اس بار جواب اسکی توقع کے بر لاف تھا ۔۔۔۔

رمشہ سے نکاح اسکے گھر ہی کیا گیا تھا ۔۔۔ منگنی کے بجائے اس کے والد کو ایک مضبوط بندھن باندھنے پر یقین تھا شادی وہ لوگ دھوم دھام سے کرنا چاہتے تھے ۔۔۔۔ بدر کی والدہ کے تو پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔۔۔۔ بہو دل کی مرادوں پر پورا اتری تھی ۔۔۔۔

اس لئے ولیمہ بھی انکے برابر پر کرنے کے لئے ساری جمع شدہ پونجی باہر نکال لی تھی ۔۔۔۔ بدر کی والدہ نے

گھر کا بہت سا پرانہ سامان نکال کر کوڑیوں کے داموں بیچ دیا تھا ۔۔۔ ہر چیز اپنی بہو کے ہائی اسٹینڈرڈ کے سامنے ہیج لگ رہی تھی پھر اندر یہ آرزو تھی پرانہ جائے گا تو ہی بہو کا نیا آئے گا ۔۔۔۔

جتنا وہ رمشہ کو دولت مند سمجھ رہی تھی اتنی وہ تھیں نہیں لیکن اپنے انداز کچھ زیادہ امیرانہ اپنائے ہوئے تھے ۔۔۔۔ جیسے نا جانے کس جاگیدار کی اولاد ہو

******………

نوفل کے اشتعال کو دیکھ کر مائرہ کے ہوش اڑ گئے تھے ۔۔۔

وہ تیزی سے اسکے پاس آئی تھی

“کیا کر رہے ہو تم ۔۔۔ کیوں تماشہ لگا رہے ہو نوفل خدا کے لئے واپس گھر چلو ” مائرہ نے اس کا بازو پکڑ کر کھینچا تھا ۔۔۔ نوفل نے اپنا ہاتھ چھڑوا کر اس کا ہاتھ پکڑا اور گھر کے اندر بھیج کر مین گیٹ بند کیا اور باہر سے کنڈی لگا دی ۔۔۔۔جانتا تھا کہ مائرہ اسے وہ سب کرنے نہیں دے گی جو وہ کرنے جا رہا تھا ۔۔۔۔

” نوفل دروازہ کھولو ۔۔۔۔ ” مائرہ نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا لیکن

وہ دوبارہ سے شمس الدین کے گھر کادروازہ بجا کر اسے باہر بلانے لگا جس اشتعال کا مظاہرہ وہ دیکھا رہا تھا شمس الدین کے ساتھ ساتھ انیلا بھی گھبرا گئ تھی ۔۔۔

” بہت شوق تھا تمہیں تماشہ لگانے کا ۔۔۔ جاؤ اور جا کر سنبھالو اسے جو باہر شیر کی طرح چنگھار رہا ہے ۔۔۔ ” شمس الدین اپنے پسینے پونچ رہا تھا ۔۔۔۔ نوفل کے مزاج کو سمجھتا تھا ۔۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا اسے خوب آتا تھا ۔۔۔ وہ تو زریاب ہی تھا کہ وہ معاملہ فہم تھا ۔۔۔ نوفل کو روک بھی لیتا تھا ۔۔۔ اور زریاب کے سامنے وہ کچھ کہتا بھی نہیں تھا ۔۔۔

” ارے میں عورت ہو کیا منہ لگو اس بدتمیز کے ۔۔۔ جج۔۔جاوں تم ۔۔۔ جا کر بات کرو مردوں کا معاملہ ہے ۔۔۔ مجھے کیوں گھسٹ رہے ہو میرا بھلا کیا کام ” انیلا خود بوکھلاہٹ کا شکار تھی

” ہاں آگ لگاؤ تم ۔۔۔ اور جا کر بجھاؤ میں ۔۔۔ ” سب سے پہلے تو شمس الدین نے وصی کو فون کر کے بلایا تھا ساری صورت حال اسے بتائی تھی

” میں کیوں آ کر رکو نوفل کو ۔۔۔ بھابھی ہیں نا دس مردوں کا مقابلہ وہ اکیلے ہی کر سکتی ہیں ۔۔۔۔ نوفل سے بھی خود جا کر بات کریں ۔۔۔۔ مجھے معاف رکھیں” وصی کے بے لچک جواب پر شمس الدین کی ہوائیاں اڑئیں تھیں ۔۔۔

مرتا کیا نا کتاوالی مثال تھی قمیض درست کے وہ نظر کا چشمہ پہنے کمرے سے نکلا تھا ۔۔۔ انیلا جو ہر وقت گیلری کی زینت بنی رہتی تھی ۔۔۔۔ آج صرف کھڑی کا ذرا سا پردا ہٹا کر دیکھ رہی تھی نوفل پوری قوت سے اپنے جوگر سے اسکے دروازے کو ٹھوکریں مار رہا تھا محلے کئ گھروں کی بتیاں جلیں تھیں لیکن اتنی جرات کسی نے نہیں کی تھی کہ باہر آ کر نوفل کو روکتے ۔۔۔ مائرہ الگ اندر پریشان کھڑی تھی ۔۔۔۔ اپنی بات کہہ کر پچھتائی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔ شمس الدین نے دروازہ کھولا ۔۔۔ اسے دیکھتے ہی نوفل کے دماغ کی طنابیں کھنچیں تھیں

” بلاؤ اپنی بیوی کو باہر ۔۔۔ ورنہ میں اندر آ گیا تو گھر کی کوئی چیز سلامت نظر نہیں آئے گی ۔۔۔۔ ” جس طرح سے وہ بھبک کر بولا رہا تھا جس قدر غصے میں تھا ۔۔۔ شمس الدین کا حلق خشک ہوا تھا با مشکل گلے سے تھوک نگل کر ۔۔ دھیمے لہجے میں بولا

” میں نے بہت سمجھایا ہے اسے ۔۔۔ ۔۔آئندہ وہ “

” شمس الدین ۔۔۔ باہر بلاؤ اسے ۔۔” نوفل چلایا تھا

شمس الدین کو چپ ہونا پڑا لیکن نوفل چپ نہیں ہوا

۔ “عورت ذات ہے سر پر شوہر کی چھتر چھایا ہے۔۔۔ تو بدکردار ہوتے ہوئے بھی ۔۔۔ عزت دار کہلانے کی حقدار ہے وہ۔۔۔۔ اور اگر کوئی بیوہ ہے تو کچھ نا کر کے بھی اس لئے لوگوں کی بکواس سننے پر مجبور ہے کہ اس کے سر پر کوئی محرم موجود نہیں ہے ۔۔۔۔ تمہاری بیوی کی کرتوتیں تو میں اب کھولو گا ۔۔۔ دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھاتے ہوئے بڑا مزہ آتا ہے اسے ۔۔۔ سارہ محلہ جانتا ہے ۔۔۔ وصی کس طرح سے انکے ہاتھوں اپنی عزت بچا کر یہاں سے بھاگا ہے ۔۔۔۔ ورنہ تو پتہ نہیں کون سا گھٹیا الزام یہ اس پر بھی لگا دیتیں ۔۔۔۔

عورت ہے تو کچھ بھی کہہ دے گی ۔۔۔ کسی کے کردار کو بیچ چوراہے رکھنا بہت آسان ہے اس کے لئے ۔۔۔ بلاؤں اسے باہر ۔۔۔۔ میرے ساتھ افیر بھی چلانے کی کوشش کی ہے تمہاری بیوی نے بہت دفعہ تنہائی میں ملاقاتیں ہوئیں ہیں ہماری ۔۔۔ ” نوفل کے غصے سے جو منہ آ رہا تھا ۔۔۔ بول رہا تھا ۔۔۔ شمس الدین کا سن کر پارہ ہائی ہوا تھا ۔۔۔ انیلا بھی بھپر کر نیچے چلی آئی ۔۔۔۔

شمس الدین نے نوفل کا گریبان پکڑنا چاہا لیکن نوفل نے اس کا ہاتھ بری طرح سے جھٹک دیا ۔۔

” کیا بکے چلے جا رہے ہو ۔۔۔ ” وہ بھی غصے سے بھپرا تھا ۔۔۔ انیلا بھی گیٹ کے پاس کھڑی ہو گئ

” ارے کیا جھوٹے الزام لگا رہے ہو مجھ پر ۔۔۔۔ میں تو کہتی ہوں جی پولیس کو بلاؤ ۔۔۔۔ ہم شریفوں کے محلے میں کیا غنڈا گردی لگائی ہوئی ہے اس نے ۔۔۔ ” انیلا نے اپنی عادت کے مطابق شور مچایا تھا ۔۔۔۔

” ہاں ہاں بلاؤ جسے بلانا ہے ۔۔۔۔ بہت سے ثبوت ہیں میرے پاس سارے خطوط موجود ہیں جو تم مجھے لکھ لکھ کر بھجتی رہی ہو ابھی لا کر شمس الدین کو پڑھاتا ہوں ۔۔۔۔ کیسے کیسے محبت بھرے اظہار لیے ہیں تم نے مجھ سے ” نوفل نے سارے لحاظ بالائے طاق رکھ کر بول رہا تھا

” ہائے ہائے ۔۔۔ دیکھو کیسا جھوٹا شخص ہے ۔۔۔ بد تمیزی تو دیکھوں اسکی ۔۔۔ میں بڑی بہن جیسی ہوں کیسے تم تم کر رہا ہے ” انیلا کی حیرت سے آنکھیں پھیلیں تھیں

” کون سی بہن۔۔ ؟ کیسی بہن ۔؟ ۔۔۔ شریعت توایسے کسی رشتے کو نہیں مانتی ۔۔۔۔ کیوں شوہر کے سامنے شرافت لبادہ اوڑھ رہی ہوں ۔۔۔۔ بتاؤں نااسے بھی کی وصی کے کمرے بہانے بہانے سے تم مجھے دیکھنے آتی تھی تم ۔۔۔۔ وہی سے تو چکر چلنا شروع ہوا تھا ہمارا ۔۔۔۔ ” نوفل کی جھوٹی کہانی سن کر شمس الدین بیوی کو قہر بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ پہلی بار انیلا کے شوہر کے سامنے ہوش اڑے تھے ۔۔۔۔

” شمس الدین بکواس کر رہا ہے یہ ۔۔۔۔ بے شک وصی سے پوچھ لو ” انیلا اسکی چرب زبانی پریشان ہوئی تھی

” ہاں بلاؤ وصی کو وہی تو رنگے ہاتھوں پکڑ چکاتھا ہمہیں ۔۔۔۔ اسی لئے تو تم نے اسے گھر سے نکال باہر کیا ۔۔۔۔ وہ تمہاری کرتوتوں سے واقف جو تھا اس لئے تو اب تک مجھ سے ملتا ہے کیونکہ تمہاری نظر تو ہر جوان لڑکے کو دیکھ کر پھسل جاتی ہے ۔۔۔۔ ” انیلا تو یہ یہ سب سن کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔

اپنی عزت کی دھجیاں اڑی تھیں تو آنکھوں سے انسوں بہنے لگے تھے ۔۔۔۔۔

” شمس الدین یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔۔۔ مجھے بد نام کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔۔ “

” میں ثبوت دینے کو تیار ہوں ۔۔۔۔ میں بلاتا ہوں وصی کو ۔۔۔۔ وہ گواہی دے گا ہر بات کی ہر ملاقات کی ۔۔۔ میرے پاس سارے خط موجود ہیں جو یہ لکھ کر دیتی رہیں ہیں مجھے ۔۔۔ “

شمس الدین ااب صرف انیلا کو ہی شک بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ انیلا خونخوار نظروں سے نوفل کو روتے ہوئے گھور کر بولی

” کیوں جھوٹ بول کر میرا گھر برباد کر رہے ہو ۔۔۔ “

” تمہاری بیوی کریکٹر لیس ہے شمس الدین ۔۔۔۔ طلاق دے دو اسے ۔۔۔۔ تمہاری دوسری شادی میں اپنی زمہ داری پر کروا دونگا ۔۔۔ وہ بھی کسی با کردار عورت سے ۔۔۔” شمس الدین کے دل میں شک شبہات کی چنگاری جلا کر وہ واپس جا چکا تھا انیلا تو چکرا کر رہ گئ تھی۔ دوسروں پر کینچی سے تیز چلنے والی زبان آج چپ ہوئی تھی ۔۔۔

” شمس الدین” انیلا نے منمناتے ہوئے کہا

” بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ صبح ہوتے ہی اپناسامان باندھو اور نکلو گھر سے باہر ۔۔۔ باقی کی زندگی جا کر اپنے میکے میں گزارو ” شمس الدین نے پوری قوت سے گھر کادروازہ بند کیا تھا ۔۔۔۔ انیلا کے آنسوں نہیں رک رہے تھے ۔۔۔۔۔

نوفل نے اپنا دروازہ کھولا سامنے مائرہ کھڑی تھی

نوفل کو ہی گھور رہی تھی ۔۔۔ اسکی ساری باتیں سن چکی تھی اور بھی نا جانے کس کس نے محلے میں یہ سب سنا تھا ۔۔۔۔ لیکن وہ سیدھا اندر چلا گیا مائرہ اسکے پیچھے آئی تھی ۔۔۔

” یہ سب کیا کہہ رہے تھے تم کچھ تو شرم کرتے نوفل “

” ایسے لوگوں کو یہی زبان سمجھ آتی ہے ۔۔۔۔ اور انسان کو وہ ہر زبان بولنی آنی چاہیے جو یہ لوگ سمجھتے ہیں آئندہ زبان سنبھال کر بات کرے گی ” وہ اب بھی غصے میں تھا ۔۔۔۔ اتنا کچھ سنا کر بھی نوفل کے دل کو چین نہیں آیا تھا

” نوفل۔۔ کیا فرق رہ جائے گاہم میں اور ان میں اگر ہم بھی وہی کریں جو سامنے والا کر رہا ہے ۔۔۔ ” مائرہ کی بات سن کر وہ اسکے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا

” یہ وہ دور نہیں ہے بھابھی کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو ہم دوسرا گال بھی اسکے سامنے کر دیں کہ لو بھائی اس پر بھی مار لو ۔۔۔ اور وہ شرمندہ ہو جائے ۔۔۔۔ یہ تووہ دور ہے کہ کوئی تھپڑ مارے توآپ بھی اپنی پوری قوت سے ایک زوردار طمانچہ اسکے بھی گال پر دے مارو ۔۔۔ تا کہ اسے پتہ تو چلے کہ اسکی دی ہوئی تکلیف کتنی اذیت ناک ہے ۔۔۔

” اور جو تم خود کو اس عورت کے ساتھ بد نام کر کے آئے وہ ۔۔۔ لوگ تو تمہارے کردار پر بھی انگلیاں اٹھائیں گئے ” مائرہ کو افسوسزا ہو رہا تھا اسکی خاطر نوفل نے خود کو کس قدر گرا کے رکھ دیا تھا

” میرے کردار کی گواہی صبح یہ عورت خود دے رہی ہو گی تا کہ لوگ اسے بد کردار ناسمجھیں ۔۔۔۔ مرد کو بھی کبھی فرق پڑا ہے بھابھی ۔۔۔۔ دامن صرف عورت کا ہی گندا کیا جاتا ہے ؟ ۔۔۔۔ آپ آرام کریں اور خدا کے لئے بدلیں اپنی سوچ کو ۔۔۔۔ بھائی کی کہی ہر بات کو اپنے اندر بسا کر اپنا منہ سب کے سامنے بند مت رکھیں ۔۔۔۔

بھائی کی نظر سے دنیا کو دیکھنا چھوڑ دیں ۔۔۔۔ اتنی اچھی نہیں یہ دنیا ۔جتنا س

جھتے تھے ۔۔۔ جیسا منہ ویسی ہی چپیڑ منہ پر مارنہ سیکھ لیں ” یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے ۔میں چلا گیا مائرہ اپنے کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔

مائرہ بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ پہلے ایسی ہی تو تھی وہ

سب کو جواب دے دیتی تھی کوئی غلط کرتا تووہ بھی اس کے ساتھ غلط کر کے اسے اسکی غلطی کا احساس دلاتی تھی ۔۔۔لیکن اب تو زریاب کا دھیمہ مزاج جیسے اس کے اندر سرایت کر چکا تھا ۔۔۔۔ اسکے لہجے کی چاشنی کچھ ایسی تھی کہ وہ اپنا ہر رنگ کھو بیٹھی تھی ۔۔۔ بس ایک ہی رنگ خود پر اوڑھ لیا تھا،وہ تھا زریاب کا رنگ

مائرہ نے اپنا لب و لہجہ انداز سب بدل کے رکھ دیا تھا ۔۔۔ اپنایا تھاتو زریاب کا لب ولہجہ اور انداز

۔۔۔یہاں تک سوچنے بھی وہ لگی تھی جو ،زریاب سوچتا تھا ۔۔۔۔ سب کو اسی آنکھ سے دیکھنے لگی تھی جس سے زریاب دیکھتا تھا ۔۔۔ ایسی محبت کی تھی اس نے زریاب سے ۔۔۔۔ اپنا آپ گنوا کر وہ زریاب کو مکمل اپنے اندر اتار چکی تھی ۔۔۔۔ یہ اسکی اپنے شوہر سے عشق کی انتہا تھی ۔۔۔۔

” ع

رانجھا رانجھا کر دی ہن میں آپے رانجھا ہوئی

سدو مینوں دہیدو رانجھا ہیر نہ آکھو کوئی

رانجھا میں وچ ، میں رانجھے وچ، غیر خیال نہ کوئی

میں نہیں ، اوہ آپ ہے ، اپنی آپ کرے دلجوئی

جو کچھ ساڈے اندر وسے ، ذات اساڈی سوئی جس دے نال میں نیونھ لگایا، اوہو جیسی ہوئی

چٹی چادر لاو سٹ کڑیے ، پہن فقیراں لوئی

چٹی چادر داغ لگیسی، لوئی داغ نہ کوئی

تخت ہزارے لے چل بلھیا ، سیالیں ملے نہ ڈھوئی رانجھا رانجھا کر دی ہن میں آپے رانجھا ہوئی

نم آنکھیں بند کیے آج وہ پھر سے زریاب کی خوشبوں کو اپنے اندر مہکتا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔

سب سے پہلے زریاب کا مسکراتا چہرہ نظر آنے لگا پھر وہ اسکی مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔۔ چہرے پر رنجیدگی چھانے لگی پھر اسکی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ۔۔۔۔ مائرہ نے تڑپ کر آنکھیں کھول لیں ۔۔۔ سامنے وہ آ بیٹھا تھا ۔۔۔۔ رو رہا بنا آواز کے ہیزل براؤن آنکھوں سے تواتر سے آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ ایسے ہی آنسوں کی جھڑی مائرہ کی آنکھوں میں بھی لگی تھی ۔۔۔۔

اسی سفید لباس میں میں بیٹھا تھا جس ۔یں اس سے پہلے بھی مل چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ پل وہ اسے دیکھتی رہی ۔۔ پھر اس کے چہرے کو چھونے لگی ۔۔۔۔ ایک ایک نقش کو اپنے ہاتھوں میں لمس کی صورت بسانے لگی ۔۔۔ آنکھوں کے آنسوں مائرہ کی انگلیوں کے پوروں کو بھگو رہے تھے ۔۔۔ انگلیوں زریاب کے چہرے کے ہر نقش پر سفر کر رہی تھیں ۔۔۔۔ وہ بنا آنکھیں چھپکسظے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ بنا ہاتھ روکے چھو رہی تھی ۔۔۔۔ لیکن دل جو تسلی نہیں ہو پا رہی تھی لگ تھا ہاتھ ہوا میں معلق ہیں

“۔ بہت پیار کرتا ہوں تم سے مائرہ ۔۔۔۔ ” وہ اسے کہہ رہا تھا ۔۔

” میں بھی بہت پیار کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ اسکے گلے سے لگ گئ تھی ۔۔۔۔ وہ بھی اسے سمیٹ چکا تھا ۔۔۔۔ بند آنکھوں سے وہ حقیقت سے تصور کی دنیا میں پہنچی تھی ۔۔۔۔

” چلو میرے ساتھ تمہیں اپنی دنیا میں لے چلو

وہاں کچھ برا نہیں ہے مائرہ ۔۔۔۔ کوئی تکلیف نہیں ہے ۔۔۔۔

کوئی کسی کو طعنہ نہیں دیتا کوئی کسی کو اذیت نہیں۔ دیتا ۔۔۔۔

وہاں ایمان ہے وہاں سکون ہے وہ الگ سی دنیا ہے ۔۔ مائرہ

چلو میرے ساتھ ۔۔۔” مائرہ کو ساتھ لگائے وہ اسکے کان کے قریب کہہ رہا تھا ۔۔۔۔

مائرہ نے انکھیں بند کیں ۔۔۔ پتہ نہیں زریاب کی قربت اسے محسوس نہیں ہو رہی تھی حالانکہ وہ اسکے بہت قریب تھی ۔۔۔۔اس نے آنکھیں کھولیں تو منظر ہی الگ تھا چاروں طرف ہریالی تھی سبزہ تھا ۔۔۔۔ زریاب کا ہاتھ تھامے وہ اس کے ساتھ چل رہی تھی دلفریب موسم تھا ۔۔۔ ٹھنڈی پرسکون ہوائیں چل رہیں تھیں ۔۔۔ وہ جس کی سنگت میں ساتھ چل رہی تھی جس دنیا میں گھوم رہی تھی وہ بہت پر سکون تھی ۔۔۔۔

بہت سے اور بھی لوگ وہاں موجود تھے ۔۔۔۔ لیکن ہنس رہے تھے باتوں میں مگن تھے۔۔۔۔ کسی کی نظروں میں چبھن نہیں تھی ۔۔۔ کوئی اسے حقارت نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

وہ وہاں منحوس نہیں تھی ۔۔۔۔ کوئی اسے دیکھ کر ایک دوسروں کے کانوں چہ میگوئیاں نہیں کر رہا تھا ۔۔۔ کسی کے رویے

سے اسے گھٹن کا احساس نہیں ہو رہا تھا

کوئی اور جہاں تھاوہ

ع

کوئی ایسا خطّہءارض ہو، جہاں زندگی کا سماج ہو

جہاں آنسووں کا لحاظ ہو، جہاں روشنی کا رواج ہو

جہاں بیڑیاں نہ ہوں پاوں میں، جہاں چادروں کو گھٹن نہ ہو

جہاں خواب اپنا سفر کریں تو کسی نگہ کی چبھن نہ ہو !

کوئی نظم ایسا دیار ہو، جہاں اک دئیے کا مزار ہو

جہاں منّتوں میں غزل بندھے،جہاں آیتوں کا حصار ہو

وہیں ایک حلقہءعاشقاں، ترا ذکر کرتا ہوا ملے

کوئی سر بہ زانو پڑا ملے، کوئی آہ بھرتا ہوا ملے

جہاں لوگ ایسے بھلے بسیں، جو مسافروں کو پناہ دیں

جہاں برگدوں سے بزرگ ہوں، کہ جو نوجوانوں کو راہ دیں

جہاں بات خلقِ خدا کی ہو، جہاں رِیت صرف دعا کی ہو

جہاں استعارے نئے بنیں، جہاں شاعری ہو، بلا کی ہو !

کوئی ایک ایسی جگہ جہاں ! کسی آدمی کو ضرر نہ ہو

جہاں پر سکون ہو زندگی, جہاں قتل ہونےکا ڈر نہ ہو !​

” مما ۔۔۔مما پیاش لگ رہی ہے ۔۔۔ پانی دو نا ” منزا نے اس حسین تصور سے ایک تلخ زندگی میں کھنچا تھا وہ سٹپٹاسی گئ تھی ۔۔۔ ہوش ۔میں آتے ہی بد حواس ہوئی تھی ۔۔ پورے کمرے میں اس نے نظریں دوڑا کر زریاب کو ڈھونڈا تھا ۔۔۔۔

جوکہ اس حسین منظر کے ساتھ ہی غائب ہو چکا تھا ۔۔۔ پہلی بار منزہ پر غصہ آیا تھا کتنی حسین دنیا تھی جہاں وہ زریاب کے ساتھ تھی ۔۔۔ کتنی بد صورت یہ دنیا تھی جہاں وہ جی رہی تھی سانس لیتا بس ایک وجود تھی ۔۔۔۔ زندہ نہیں تھی ۔۔۔۔ زندہ رہنے کا حق نہیں تھا ۔۔۔ بس تلخیاں سے گھلی ہوئیں تھیں

” مما پانی دو نا ” منزا نے پھر سے اس سے کہا ۔۔۔

” لا رہی ہوں ” مائرہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔

*******……..,

ابو میں دبئ جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ ایک پراویٹ اسکول میں جاب کی آفر ہوئی ہے رہائش بھی وہیں ہو گی ۔۔۔۔ ” پچھلے بیس دن میں بس یہی ایک بات زیان نے اپنے والد سے کی تھی ۔۔۔

” یہ کیا کہہ رہے ہو تم ۔۔۔۔ کیسے بھیج دیں تمہیں اتنی دور پہلے ہی ٹوٹ چکے ہو ۔۔۔ بیمار رہنے لگے ہو حالت دیکھوں کیا ہو گئ ہے تمہاری ۔۔۔۔ ہماری جان اٹکی رہتی ہے تم پر اور اس پر تم باہر جانا چاہیے ہو ” زیان کی والدہ کا دل مچل کر رہ گیا تھا

” امی اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں زندہ رہو تو خدا کے لئے مجھے اس ماحول سے نکلنے دیں ۔۔۔ یہاں مجھے گھٹن سی ہوتی ہے ۔۔۔ سانس نہیں لیا جانا ایک ایک بات یاد آتی ہے ۔۔۔۔ تو لگتا یہ دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گئیں ۔۔۔۔ ” زیاں کا رنگ اب بھی متغیر ہونے لگا تھا وہ اپنا سر اپنے ہاتھوں میں لیکر بولا ۔۔۔۔ وہ والد ازحد پریشان تھے ۔۔۔ اس لئے کچھ نہیں بولے

” ٹھیک ہے تم پریشان مت ہو ۔۔۔۔ جو چاہتے ہو کر لو ۔۔۔ اچھا ہے ماحول بدلے گا تو طعبیت پر بھی اچھااثر پڑے گا ۔۔۔۔” زیان کے والد زیان کو کھونا نہیں چاہتے تھے جانتے تھے کے وہ واقعی اس لڑکی کو بھولنا چاہتا ہے ۔۔۔ اس لئے ہی یہاں سے نکلنا چاہتا ہے اس لئے اسے اجا،ت دے دی

” ارے ایسے کیسے آپ کہہ سکتے ہیں ۔۔۔۔ میں کیسے جیو۔ گی اس کے بغیر ” زیان کی والدہ بلکل رضامند نہیں تھیں

” اگر چاہتی ہو کہ وہ زندہ رہے تو جانے دو اسے ” اس کے والد یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئے ۔۔۔۔

زیان کی والدہ خاموشی سے آنسوں بہاتی رہیں ۔۔۔۔

زیان نے بھی چپ نہیں کروایا تھا ۔۔۔۔ دل کی بربادی جب وجود پر وار کرے تو کچھ باقی نہیں چھوڑتی ایسی ٹوٹ پھوٹ زیان کے اندر بھی چل رہی تھی ۔۔۔۔ وہیں گلیاں تھیں ۔۔۔ جہاں وہ عفیرہ کے ساتھ بائیک پر آتا جاتا تھا وہی اسکول تھا جہاں عفیرہ کے ساتھ اسکی روز ملاقات ہوتی تھی ۔۔۔ پھر اس ماحول میں رکھ وہ پاگل تو ہو سکتا تھا لیکن نارمل نہیں ۔۔۔ پھر پیسے کی کمی کا طعنہ آنا پر بڑی گہری چوٹ تھی

” پیسوں کی تمنا ہے نا تمہیں عفی ۔۔۔۔ بہت پیسے کماؤ گا ۔۔۔ تمہارے میاں سے اچھی گاڑی اچھا گھر خریدو گا پھر آؤں گا تمہارے پاس ۔۔۔۔ تمہیں ہمیشہ کے لئے برباد کرنے ۔۔۔۔ اب تک زیان کی محبت دیکھی ہے تم نے ۔۔۔ اب نفرت بھی دیکھوں گی ۔۔۔۔ ” عفیرہ کے لئے دل کے جذبات بدل رہے تھے ۔۔۔۔۔ بدلہ نفرت غصہ ۔۔۔ بس یہی سوچیں تھیں زیان کے پاس ۔۔۔

چند دن پہلے ہی وہ اپنی سی وی دبئ کے مختلف اسکولوں میں بھیج چکا تھا ۔۔۔ ٹیچنگ کا تجربہ بھی بہت تھا ۔۔۔ اس لئے ایک اچھے پراویٹ اسکول سے اسے جاب کی آفر ہوئی تھی

ایک ہفتے میں ہی وہ دبئ روانہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔

******……..

نوفل جب کمرے ۔مں داخل ہوا تھا بیگم صاحبہ فل اے سی ان کیے سو چکی تھیں ۔۔۔۔ نا شوہر کی پریشانی کی پروا تھی نا روتی ہوتی بھابھی کے لئے کوئی ہمدردی ۔۔ نا کوئی دلاسہ ۔۔۔۔نوفل نے نا گواری سے اسے سوتے دیکھا تھا ۔۔۔ شادی تو اس لئے کی تھی کہ بیوی اسکی غمخواری کرے گی ۔۔۔ اسکے دکھوں کو سمیٹنے کی کوشش کرے گی ۔۔۔۔ لیکن وہ تو ایسی خود غرض تھی کہ بس اپنا ہی سوچتی تھی

” نوفل مجھے یہ پسند ہے ۔۔۔وہ پسند ہے ۔۔۔ میں ایسا پہنتی ہوں ۔۔۔ویسا کھاتی ہوں ۔۔ میں ۔۔میں اور بس میں ” اس تلخ باتوں کو یاد کرتے ہوئے وہ اس کے برابر میں جا کر لیٹ گیا ۔۔۔۔ آنکھیں بند کیں تو زریاب یاد آنے لگا

” بھائی مجھے آپ جیسی زندگی گزارنی ہے ۔۔۔۔ دعا کریں میری بیوی بلکل بھابھی جیسی ہو ۔۔۔ تا کہ زندگی پر سکون لگے جیسی آپ کی ہے ” زریاب کے ساتھ نوفل کا ہر رشتہ تھاجہاں وہ باپ کی طرح شفیق تھا وہاں دوست کی طرح مہربان بھی تھا ۔۔۔

” ایسی ہی ملے گی ۔۔۔۔ ویسے مائرہ واقعی بہت بہت اچھی ہے نوفل ۔۔۔۔ میں بہت خوش نصیب ہوں ۔۔ بہت کم وقت میں اس نے پورے گھر کو سمیٹ سا لیا ہے ۔۔۔۔ پتہ ہے ۔۔۔مجھے اسے کہنا ہی نہیں پڑتا کہ مجھے پریشانی کیا ہے ۔۔۔ مجھے خاموش دیکھ کر خود سے قیاس لگانے لگتی ہے ۔۔۔

” زریاب کوئی بات نہیں اگر اس ماہ کام اچھا نہیں چل رہا تو ۔۔۔ میں کم بجٹ میں بھی گھر مینج کر لوں گی ۔۔۔ “

” تمہیں کیسے پتہ کہ مجھے یہ پریشانی ہے ” زریاب حیرت سے پوچھنے لگتا تھا

” چہرے پر صاف لکھا ہے۔۔۔۔ کہ زریاب صاحب کام آجکل اتنا نہیں چل رہا ۔۔۔ میں چٹنی سے دال سے روٹی تو کھاسکتی لیکن اپنے میاں کا اترا ہوا چہرہ نہیں دیکھ سکتی چلیں جلدی مسکرائیے ” زریاب کے کندھے پر سر رکھے وہ اپنے ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کو زریاب کے ہونٹوں کے پاس لے جا یو پھیلانے لگی جیسے مسکراتے ہوئے ہونے ۔۔۔ پھیل جاتے ہیں ۔۔۔ زریاب کی حیرت فورا سے مسکراہٹ میں بدل جاتی تھی پھر واقع ہی وہ ۔۔۔۔ مہینہ انہیں پیسوں میں گزار دیتی تھی جو زریاب اسے دیتا تھا ۔۔۔۔

جب یہی باتیں زریاب نوفل کو بتاتا تھا تو ایسی ہی ایک ہمسفر کی آرزو نوفل کے دل میں جاگتی تھی ۔۔۔ پھر جس صدمے وہ گزرا تھا ۔۔۔ چاہتا تھا کہ عفیرہ بھی اسے لگاوٹ دیکھائے ۔۔۔۔ لیکن وہاں تو صرف خود پسندی تھی ۔۔۔۔ شوہر کس الجھن میں ہے ۔۔۔ عفیرہ کاسر درد ہی نہیں تھا ۔۔۔ بس اس بات قلق تھا کہ دو دن پہلے واپس کیوں آ گئے ۔۔۔۔

صبح نو بجے نوفل نے اسے جگایا تھا ۔۔۔

” اٹھو ۔۔۔ کپڑے پریس کرو میرے ۔۔۔۔ آج کچھ دیرکے لئے آفس جانا ہے ” نوفل بھی اکھڑا اکھڑا سا بولا رہا تھا

” تو میں کیا کروں نوفل ۔۔۔ پلیز یہ کپڑے مجھ سے پریس نہیں ہوتے ہیں ۔۔۔ اس لئے کوئی اچھا سا دھوبی ڈھونڈ لیں ۔۔۔ ” یہ کہہ عفیرہ نے کروٹ بدلی تھی

” عفیرہ اٹھو اور کپڑے پریس کرو ۔۔۔۔بہت عیش کروا چکا ہوں تمہیں اب کچھ زمہ داری بھی سنبھالو ۔۔۔” نوفل کا تلخ لہجہ سن کر وہ اٹھ بیٹھی تھی کینہ توز نظروں سے نوفل کی طرف دیکھا لیکن اسے بھی غصے سے گھورتے دیکھ کر بیڈ سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔ الماری سے کپڑے نکالے اور پریس کرنے لگی ۔۔۔ نوفل بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ گلے پر ٹاول لٹکا کر واش روم جانے سے پہلے اس کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا

” آج سے ذرا کچن میں جانا بھی شروع کر دینا بھابھی کی عادت نہیں ہے کہ تمہیں کسی کام کے فورس کریں ۔۔۔ اس لئے خود ہی احساس ذمہ داری دیکھانے کی کوشش کرو تو بہتر ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔ کپڑے پریس کرنے کے بعد جا کے ناشتہ بناؤ میرے لئے ” لہجے میں اس کے بھی کڑواہٹ تھی اس لئے عفیرہ بس تیز تیز استری اس کی شرٹ

پر چلا رہی تھی ۔۔۔۔