Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 19
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 19
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
جب نوفل گھر پہنچا تھا ۔۔۔۔ مائرہ اس وقت بازار سے لوٹی تھی تھکی تھکی سی لگ رہی تھی ۔۔۔ رات کو بخار کی دوا گھر سے ڈھونڈ کر کھائی تھی اور صبح کچن کا بگڑاحلیہ درست کیا تھا کھانا بنا کر بچوں کو کھلا کر برابر والی خالہ کے پاس بچوں کو چھوڑ کر زونیرہ کے ساتھ بازار چلی گئ تھی زونیرہ نے بہت کہا کے پہلے ڈاکٹر پر چلے جاتے ہیں لیکن وہ نہیں مانی ۔۔۔۔ صبح پیسے نوفل اسے دے گیا تھا ۔۔۔۔ رمشہ کے لئے کافی جوڑے وہ خرید کر لے آئی تھی یہاں تک کے نکاح کے لئے بھی ۔۔۔ بچوں کے کپڑے بھی خریدے تھے اپنے لئے سفید رنگ کے ہی جوڑے خریدے تھے زونیرہ نے بہت کہا کے کوئی رنگ کے خرید لے لیکن وہ نہیں مانی نا دل میں رنگوں کی خواہش تھی نا ہی لوگوں کی چبھتی نظروں کا سامنا کرنے ہمت ۔۔۔ سوچ چکی تھی کہ اب ایسی ہی بنکر زندگی گزارے گی جیسا لوگ اسے دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔ ایک سفید چادر سے ہمیشہ وہ سر لپٹے رکھتی تھی بس اس کا چہرہ بھی دیکھتا تھا ۔۔۔۔ کافی بڑی سی چادر تھی جس میں مکمل سمٹی رہتی تھی ۔۔۔۔ نوفل کو دیکھ کر بس ذرا س مسکرائی ۔۔۔
نوفل بیڈ پر بکھرے فینسی کپڑے دیکھ دروازے کے پاس ہی آ کر رک گیا بتانے تو یہ آیا تھا کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے لیکن اس وقت مائرہ کے علاؤہ زونیرہ اور خالہ بھی موجود تھیں ۔۔۔ اس لئے بات کرتے ہوئے جھجک سی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ مائرہ نے اسے دیکھ کر اندر بلایا
” آؤں نا نوفل ۔۔ یہ دیکھوں ۔۔۔ دس جوڑے رمشہ کے خرید لئے ہیں باقی وہ شادی کے بعد اپنی پسند سے خود خرید لے گی ۔۔۔ اور یہ بچوں کے کپڑے ہیں ۔۔۔ ” وہ بیڈ پر بکھیرے کپڑے اسے دیکھانے لگیں وہ خرامہ خرامہ قدم اٹھاتاہوا قریب آیا تھا لیکن کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگا رہا تھا ۔۔۔ سائیڈ پر رکھے زیورات کے بکسز میں سے ایک بکس اٹھا کر مائرہ اسے دیکھانے لگی
“ادھر آؤں نوفل یہ دیکھوں ۔۔۔ یہ میرا زیور ہے ۔۔۔۔۔۔ اتنی جلدی بازار سے کوئی بھی اچھی چیز نہیں ملے گی پھر بعد میں رمشہ کو پسند آئے نا آئے ۔۔۔ اس لئے چاہوں تو میرا زیور اسے پہنا دو ۔۔۔ بعد میں وہ اپنی مرضی کا خرید لے گی ۔۔۔۔ ” مائرہ اسے چیزیں بھی دیکھا رہی تھی اور مسلسل کھانس بھی رہی تھی ۔۔۔ چہرے پر بھی تھکوٹ کے آثارِ تھے
” آپ کو کیا ہوا اتنی کھانسی کیوں آ رہی ہے ۔۔۔ ” نوفل نے فکرمندی سے پوچھا
” میں ٹھیک ہوں نوفل بس یونہی ” مائرہ کا مدافعانہ انداز تھا لیکن زونیرہ چپ نہیں رہی
” نوفل بھائی۔۔۔ بھابھی کو فیور ہے میں نے بہت کہاں کے ڈاکٹر لے چلتی ہوں لیکن نہیں مانی بس پینا ڈول کھا کر بازوں میں گھومتی رہیں ہیں ” زونیرہ نے صاف گوئی سے بتایا نوفل نے ایک تیکھی نظر مائرہ پر ڈالی تھی پھر اسکے ہاتھ سے
سونے کے سٹ کا ڈبہ نوفل مائرہ کے ہاتھ سے لیا اور بند کر کے بیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔
” چلیں میرے ساتھ ۔۔۔ آپ کو ڈاکٹر پر لیکر جاؤں “
” نوفل میں ٹھیک ہوں کچھ نہیں ہوا ہے ۔مجھے بس ذرا سا بخار کھانسی ہے ۔۔۔ زونیرہ تو یونہی ۔۔۔ ” زونیرہ نے مائرہ کی بات بھی میں روک دی تھی
” یونہی نہیں بھابھی۔۔۔ صبح اچھا خاصا بخار تھا آپ جائیں نوفل بھائی کے ساتھ دوا لے آئیں یہ سب میں سنبھال لوں گی ” زونیرہ چیزیں سمیٹنے لگیں
مائرہ نوفل کے ساتھ چلی گئ ۔۔۔۔ واپسی پر نوفل نے مائرہ رمشہ سے ہونے والی ساری رو داد سنائی تھی ۔۔۔ وہ نوفل کو ہی سمجھانے لگی تھی ۔۔۔ غصے اور تاسف سے بولی
” یہ کیا کر کے آ رہے تم ۔۔۔ پاگل ہو گئے تھے کیا ” مائرہ کو کے جذباتی فیصلے پر غصہ آیاتھا گاڑی ریڈ لائٹ پر کھڑی تھی ۔۔۔ دونوں ہاتھ اسٹرنگ پر جمائے وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا
” تو اور کیا کرتا ۔۔۔۔ خود کو پتہ نہیں کیاسمجھتی ہے ۔۔۔۔ ” بڑا الجھا اور اکتالیا ہوا انداز تھا
” نوفل میں خود بات کرتی ہوں رمشہ سے رشتے مزاق تو نہیں ہوتے۔۔۔ جب جی چاہا کر لئے جب جی میں آیاتوڑ لئے ۔۔۔۔ ” مائرہ پریشان سی ہوئی تھی
” رہنے دیں بھابھی ۔۔۔ مجھے اس سے شادی کرنی ہی نہیں ہے ۔۔۔ وہ شادی کے بعد بھی یہی ڈیمانڈ رکھے گی ۔۔۔۔ ” اشارہ کھلتے ہی اس نے گاڑی بڑھائی تھی
” نوفل یہ اتنا بڑا ایشو تو نہیں تھا جس پر تم نے رشتہ ختم کیا ہے مسلہ میرا تھا ۔۔۔ میں امی کے گھر چلی جاتی ۔۔۔ وہاں رہ لیتی ۔۔۔۔ ” مائرہ کو اپناآپ قصوروار لگ رہا تھا ایک نظر نوفل نے اس کے چہرے کے زخم پر ڈالی
” ہاں تا کہ دیوار پھلانگ کر پھر کوئی عمار جیسا آپ کے کمرے میں پہنچ جاتا ۔۔۔۔ بھابھی ہمارا معاشرہ اکیلی عورت کواپنی جاگیر سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔
ایک اکیلی عورت کا دو چھوٹی بچیوں کے ساتھ سروائیو کرنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ سمجھتی ہیں ۔۔۔۔ ” نوفل نے سامنے فرنٹ شیشے کی طرف دیکھ کر ایک سچی حقیقت کی طرف اس کی توجہ مبذول کروائی تھی
” میری امی نے بھی کیا تھا ۔۔۔ محلے دار اچھے بھی ہوتے ہیں “
” جہاں تک میں جانتا ہوں آپ کے والد آپ کی شادی سے کچھ دوسال پہلے ہی وفات پا گئے تھے ۔۔۔ آپکی والدہ بزرگی کی دہلیز پر تھیں ۔۔ بچے جوان ہوں تو عورت کا تحفظ آسان ہو جاتا ہے ۔۔۔ چار سال کی عائزہ اور تین سال کی منزہ ۔۔۔۔۔ پھر آپ بھی کوئی بہت بڑی نہیں ہیں ۔۔۔ میں آپ لوگوں کو بے آسرا نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔ کوئی اور راستہ بھی نکل سکتا ہے “
” اور کون ساراستہ ہے ۔۔۔رمشہ محبت ہے تمہاری ۔۔۔ ” مائرہ کو یہی بات بے چین کیے ہوئے تھی
” ایسی سو محبتیں میرے بھائی کے وعدے پر قربان ہیں ۔۔۔۔ ” وہ بڑی سنجیدگی سے بولا تھا نظریں اب بھی سامنے تھیں
” پھر بھی میں تمہارے ساتھ ایسے نہیں رہ سکتی نوفل لوگ کیا کہیں گئے ۔۔۔ ۔۔۔ مجھے ابھی لیکر جاؤں رمشہ کے پاس میں بات کرتی ہوں اس سے ۔۔۔ شاید سمجھ جائے ” مائرہ کو ایک مہدوم سی امید سی تھی کہ شاید وہ مان جائے
” آپ چھوڑیں رمشہ کو۔۔۔ پیسے کا بہت زعم ہے اسے ۔۔۔۔ وہ کبھی نہیں مانے گی ۔۔۔ آپ خالہ سے بات کریں کسی بھی غریب گھرانے کی لڑکی لے آئیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔ بس اسے یہ اچھی طرح بتا دیجیے گا کے اسے یہاں رہنا کیسے ہے ۔۔۔۔ الگ رہائش کاتقاضہ وہ کبھی نہیں کرے گی ۔۔۔۔ اور آپ کی ہر بات مان کر رہے گی ۔۔۔ شادی بھی میں اسی اتوار کو کرو گا ۔ رمشہ کیاسمجھتی ہے مراجا رہا ہوں اسکے لئے ؟ اسی ہفتے شادی کر کے دیکھاوں گا ” نوفل اس وقت صرف ضد میں تھا
” لیکن اتنی جلدی میں ۔۔۔ کیسے ۔۔۔ نوفل ” مائرہ اپنی پریشانی میں تھی یوں ایک ہفتے بھلا کون شادی کرے گا
” میری اس کے علاؤہ کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے بھابھی جہیز وغیرہ کچھ بھی نہیں چاہیے مجھے ۔۔۔۔ جو وقت دیا جائے سادگی سے نکاح ہی تو کرنا ہے ۔۔۔ اور بے فکر رہیں جیسی بھی لڑکی ہو گئ میں اسکے ساتھ رہ لوں گا ۔۔۔۔ ” گاڑی اب گھر کے قریب تھی
گھر کے سامنے پولیس اور زولیخہ اور عمار بھی موجود تھا بہت زور سے چلانے کی آوازیں آرہیں تھیں خالہ اور زونیرہ کے ساتھ وصی بھی کھڑا تھااور بحث کر رہا تھا سامنے سے انیلا اور شمس الدین بھی وہیں کھڑے تھے ۔۔ اپنی گلی کا موڑ موڑتے ہی مائرہ اور نوفل یہ سب نظارہ دیکھ کر حیران پریشان ہوئے تھے
“یہ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں ” نوفل ماتھے پر بل ڈالے بولا۔۔۔
” پتہ نہیں ۔۔۔ اب یہ لوگ کیوں آئیں ہیں “
گاڑی گیٹ کے پاس رکتے ہی ۔۔۔ زولیخہ مائرہ کی جانب بڑھی تھی گاڑی کا دروازہ کھول کر مائرہ کو باہر نکلنے کا کہنے لگی
” نکلو باہر تمہاری تو میں اصلیت سب کے سامنے لاتی ہوں ۔۔۔ ” زولیخہ چلا کر بولی تھی ۔ مائرہ کا رنگ فق ہوا تھا ۔۔۔۔۔کون س نیا تماشہ لگانے آئی تھی وہ ۔۔۔ نوفل غصے سے باہر نکلا اور زولیخہ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
“ہٹو پیچھے یہاں سے خبردار جو بھابھی کو ہاتھ بھی لگایا تو ” نوفل کے سخت لہجے پر وہ پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔
مائرہ گاڑی سے باہر آئی ۔۔۔ تو زولیخہ ایک پولیس آفیسر کے پاس پہنچ گئ اور انگلی کا اشارہ نوفل اور مائرہ کی طرف تھا
” دیکھ لیں انسکٹر صاحب کسی خرافہ عورت ہے یہ کیسے بے شرموں کی طرح دیور کے ساتھ یہاں گھومتی پھر رہی ہے اور میرے گھر میں دنیا کو دیکھانے کے لئے عدت گزارنے آ گئ تھی کہ دیور نا محرم ہے اکیلا ہے تو رہ نہیں سکتی ۔۔۔ میں نے اور میرے میاں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس کے ساتھ بھلائی کی ۔۔۔ لیکن میرے ہی گھر پر اس عورت نے اپنا منہ کالا کرنے کے لئے اپنے دیور کو بلا لیا ۔۔۔۔ میرے میاں نے رنگے ہاتھوں انہیں کیا پکڑ لیا
تواسی کو مار پیٹ کر دونوں بھاگ کر یہاں آ گئے “
زولیخہ کی چھوٹی کہانی سن کر تو مائرہ چکرا کر رہ گئ تھی ۔۔۔ نوفل کو لگا کہ کسی نے آگ کی چھٹی میں ڈال دیا ہو اس قسم کی گھٹیا الزام تھا جو وہ سن رہا تھا ۔۔۔۔ غصے اس نے عمار کی طرف دیکھا جو نوفل کو دیکھتے ہی اپنے سوجے ہوئے منہ کے ساتھ انسپکٹر کے پیچھے چھپ گیا
نوفل انسپکٹر کے سامنے کا کر کھڑا ہو گیا مائرہ رونے لگی تھی ۔۔۔ جلدی سے گھر کے پاس کھڑی زونیرہ کے پاس کھڑی ہو گئ ۔۔۔ وصی پہلے سے انسپکٹر کے پاس ہی کھڑا تھا
” آپ سے پوچھ سکتا ہوں کے آپ ان جھوٹے لوگوں کو لیکر میرے گھر کے سامنے یہ تماشہ کس بنا لگا رہیے ہیں ۔۔۔ خود تو ان لوگوں کی کوئی عزت ہے نہیں اس لئے دوسروں کو بلا وجہ بد نام کرنے پہنچ گئے ہیں ۔۔۔ “
” دیکھیں ان لوگوں کا کہنا ہے آپ نے انکے شوہر پر قاتلانہ حملہ کیا ہے ” انسپکٹر نے کڑک لہجے
میں کہا
” اپنی عزت اور جان بچانے کے لئے اگر انسان سامنے والے کو دو چار ہاتھ لگا دے تو کیاوہ مجرم ہو جاتا ہے ۔۔۔ میں بھی یہی کیا ہے “
” آپ کو پولیس میں انفارم کرنا چاہیے تھا قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے تھا ” انسکٹر کی بات نوفل تاسف سے اسے دیکھا
” کوئی آپ کی بہن بیٹی بھابھی کے ساتھ زبردستی کرتے ہوئے پکڑا جائے تو آپ کیا کریں گئے ۔۔۔ اپنی بے بس مجبور بہن بیٹی کو ایک درندے کے ہاتھوں لٹتے دیکھ کر آپ اسے وہی۔ چھوڑ کر قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے پولیس بلانے جائیں گئے ۔۔۔ یا طیش میں آ کر اس کام منہ توڑیں گئے ؟ ” نوفل کے سوال پر انسپکٹر نے زریک نظر اسے دیکھا تھا ۔۔۔
” لیکن یہ عورت تو کچھ اور کہہ رہی ہے ۔۔۔ ” انسپکٹر نے سخت نظروں سے زولیخہ کو دیکھا
” بکواس کر رہی ہے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ دو قدم پیچھے ہوا مائرہ بھی وہی۔ زونیرہ کے ساتھ کھڑی تھی اسے بازوسے پکڑا انسکٹر کے سامنے کھڑا کر دیا۔۔ زخمی چہرے کی طرف انسپکٹر کی توجہ مبذول کرائی
” یہ دیکھیں ۔۔۔ ایک عورت ہوتے ہوئے اگر وہ اپنابچاوں کرے ۔۔۔ تو مرد کی درندگی اس حد تک پہنچتی ہے ۔۔۔نا جانے اور کہاں کہاں اس شخص کی درندگی کے نشانات ہیں ۔۔۔۔ اپنے ساتھ لیڈیز اسٹاف لیکر آنا تھا ۔۔۔ تا کہ وہ دیکھ سکتی ۔۔۔۔۔ ” نوفل کی بات سن کر
انسپکٹر نے اپنے پیچھے کھڑے عمار کو گھور کر دیکھا پھر غور سے نوفل کو دیکھنے لگا ۔
” آپ نے اس کے خلاف رپورٹ کیوں نہیں کروائی ” انسپکٹر نے نوفل سے پوچھا نوفل نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا
” جیسے بڑا انصاف مل جاتا ۔۔۔ مجھے اپنی بھابھی کی بدنامی گوارا نہیں تھی ۔اس لئے چپ تھا ۔۔۔ لیکن ان کم ظرفوں کی وجہ سے بات سب کے سامنے آ گئ اس لئے اب نہیں چھوڑو گا اسے ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات سن کر عمار گھبرا گیا تھا
” جھوٹ بول رہا ہے یہ شخص ۔۔۔۔ یہ بھلا وہاں کیا کر رہا تھا ۔۔۔ اسے کیسے پتہ میرا میاں کیا کر رہا ہے ۔۔۔ جو یہ خدائی فوجدار بن کر وہاں پہنچ گیا ” زولیخہ چلا کر کہنے لگی
” میں تو بھابھی کو ان کے گھر کے کاغذات اور انکے زیوارت دینے آیا تھا جو ان لوگوں کے کہنے پر انہوں نے مجھ سے منگوائے تھے۔۔۔۔ کیوں منگوائے تھے تھے کے نہیں ” نوفل زولیخہ کی طرف غصے سے دیکھ کر بولا تھا وہ چپ سی ہو گئ ۔۔۔
” یہ دونوں میاں بیوی پیسے کی لالچ میں شریعت کا جھوٹا ڈونگ رچا کر بھابھی کو یہاں سے لیکر گئے تھے ۔۔۔ پھر انہیں ایک کمرے میں قیدیوں کی طرح رکھا ۔۔۔۔ انہیں اپنی باتوں سے بیوقوف بنا کر انکی والدہ کے گھر کے کاغذ اور زیورات مجھ سے منگوائے جب میں وہ سب دینے گیا مجھے گھر سے چلانے کی آوازیں آ رہی۔ تھیں۔۔۔ دروازہ میری بھتجی نے کھولا تھا تھا جب میں نے کمرے کو دھکا دے کر دروازہ کھولا تو یہ شخص میری بھابھی کے ساتھ زبردستی کر رہا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔ آپ میری پوچھ سکتے ہیں ۔۔۔ ورنہ چلیں میرے ساتھ انکے محلے میں چار گواہ میں اکھٹے کر دیتا ہوں ۔۔۔ کریں اسے گرفتار ۔۔۔۔ ” نوفل قہر بھری نظروں سے عمار کو دیکھ رہا تھا اب تو زولیخہ بھی چپ ہو گئ تھی ۔۔۔۔ عمار گھبرا کر معافیاں مانگنے لگا ۔۔۔۔
” میں بہت غریب سابندہ ہوں ۔۔۔۔ تھڑابہک گیا تھا جی ۔۔۔بس غلطی ہو گئ مجھ سے معاف کر دیں جی ” انسپکٹر کے پاؤں پکڑ وہ رونے لگا ۔۔۔
” آ گیا آپ کو یقین ۔۔۔ اب لیکر جائیں اسے آپ ۔۔۔۔ کل آ کر ایف آئی کٹوا دیں گئے ۔اسکی۔۔ ” نوفل نے انسپکٹر سے کہا ۔۔۔ مائرہ کچھ نہیں بولی بس روئے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔ اس گلی کے آس پاس کے بہت سے لوگوں نے باتیں سنی تھیں ۔۔۔۔۔
” لگاؤں اسے ہتھکڑی ” انسپکٹر نے اپنے ایک اہلکار سے عمار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
” میرے میاں کو چھوڑ دیں ۔۔۔ ہم غریب ہیں اس لئے یہ لوگ ہمیں دبا رہے ہیں ۔۔۔ ” زولیخہ رونے لگی واویلا مچانے لگی
” بی بی تمہارے ۔میاں نے خود اعتراف کیا ۔۔۔ ہٹو پیچھے ” انسپکٹر کے اشارے پر عمار کو ہتھکڑی لگ چکی تھی
زولیخہ مائرہ کے پاس آ کر رونے لگی
” مائرہ تو بچا لے میرے میاں کو ۔۔۔ یہ ظلم نا کر ۔۔۔
” مائرہ چپ ہی رہی ۔۔۔۔ ایک تو ذیادتی کی کوشش بھی اسی کے ساتھ کی گئ تھی پھر یوں سب کے سامنے بات بھی اسی کی اچھالی گئ نوفل اگر اپنا دماغ نا چلاتا تو وہ مجرم بھی بن چکی ہوتی ۔۔۔۔ نوفل مائرہ سامنے کھڑا ہو گیا
” چلو چلو ڈرامے بازی کہیں اور جا کر کرو ۔۔۔۔ نکلو یہاں سے ۔۔۔۔ تم نے بد نام کرنے کی کوشش کی ہے اب تمہی۔ بتاتا ہوں بدنامی ہوتی کیا ہے ۔۔۔۔۔ بھابھی کو بیوقوف بنانا تم لوگوں آسان ہو گا لیکن میں نوفل ہوں ۔۔۔۔ تم جیسوں کو تمہاری اوقات بہت اچھے طریقے سے یاد دلاؤ گا ۔۔۔۔ ” انگلی کے اشارے سے نوفل نے زولیخہ کو مائرہ سے پیچھے ہٹنے کااشارہ کیا ۔۔۔
” زونیرہ بھابھی ۔۔۔۔ بھابھی کو اندر لے جائیں ” نوفل نے زونیرہ سے کہا وہ مائرہ کو اندر لے گئ ۔۔۔۔ باقی سب اپنے گھروں میں چلے گئے نوفل اور وصی نے بھی اندر جا کر دروازہ بند کر دیا زولیخہ ۔باہر کھڑی رونے لگی ۔۔ بس انیلا ہی باہر کھڑی رہی مرچ مصالحہ دار خبروں کو سننے اور پھیلانے کی عادت جو اسے پڑ گئ تھی پھر نوفل سے بھی خار کھاتی تھی ۔۔۔۔ سب کے گھروں میں جاتے ہی وہ زولیخہ کے پاس آ گئ
” ایسا بھی کیا ہوا تھا ۔۔۔ مجھے بتاؤں ۔۔۔ یہ لڑکا توبڑا تیز ہے بہن ۔۔۔ کسی کو سامنے کھڑا نہیں ہونے دیتا ” انیلا کئ بات سن کر زولیخہ کو کچھ ڈھارس ہوئی تھی ۔۔۔۔
” کیا بتاؤں ۔۔۔ ہم غریب ہیں اس لئے مجرم ہیں ۔۔۔ میرے میاں پر ڈورے ڈالتی رہی ہے یہ عورت ۔۔۔۔ اب مرد کا دل نہیں للچائے گا تو اور کیا ہو گا ۔۔۔۔ ” ایک اور جھوٹی کہانی زولیخہ نے شروع کی تھی ۔۔۔۔ انیلا بڑے غور سے سب کچھ سن رہی تھی ۔۔۔ آخر بات بھی تو گھر گھر جا کر بتانی تھی ۔۔۔۔
******……..
شزا نے کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا اور فاروق کو کہنے لگی کے اسے واپس چھوڑ آئے
” ایسی بھی کیاافتاد ٹوٹ پڑی ہے ان پر مہینے بعد تم آئی۔۔۔ دو دن بھی۔ چین سے نہیں گزارے تم نے ۔۔۔ فاروق نمبر ملا ذراعرفان کا میں بات کرتی ہوں ” عزرہ بیگم کا کلیجہ جلا تھا
” نہیں امی خدا کے لئے کچھ مت کہیے گا ان سے ۔۔۔۔ کل بھی تو ۔مجھے جانا ہی تھا ۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔ ” اپنی ماں سے یہ کہہ کر وہ بھائی کے پاس آئی تھی ۔۔۔
” بھائی مجھے گھر چھوڑ آئیں ۔۔۔ ” وہ بری طرح سے گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔ عرفان کے سخت رویے سے پریشان ہوئی تھی ۔۔۔۔ دور کھڑا زیان سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ دل کچھ متفکر بھی ہوا لیکن بات کو لاپروائی میں ڈال گیا کہ مجھے کیا لگے ۔۔۔۔
شزا جب گھر پہنچی ساس سر باندھے ہائے ہائے کر رہی تھی عرفان انکی ٹانگیں دبا رہا تھا ۔۔۔۔
شبو ماں کودواحی کھلانے کی کوشش کر رہی تھی
” اری شبو منہ پہلے ہی کڑوا ہے میرا ۔۔۔۔ مجھ سے نہیں کھائی جائے گی یہ کڑوی دوائی ۔۔۔ ” دوا پیچھے کرتے ہوئے اماں جی نے ناک چڑھا کر کہا تھا۔۔۔
فرقان نے ماں کے چہرے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
” ویسے اماں آپ کے بخار کے بھی کیا کہنے ۔۔۔ جسم تو اچھا خاصا ٹھنڈا ہے ” اب وہ ان کا ٹھنڈا بازو بھی پکڑ کر دیکھ کر کہا
” ہٹ کم بخت مارے ۔۔۔۔ تجھے تو ماں کا ذرا احساس نہیں میرااصل فرما بردار تو میرا عرفان ہے ” ماں نے فرقان کا ہاتھ پیچھے جھٹکا تھا ۔۔۔
” اماں آپ چھوڑیں اسے ۔۔۔۔ میں ہوں نا آپکی خدمت کرنے کے لئے “
عرفان نے پاوں اور جما جما کر دبانے شروع کیے ۔۔۔ شزا اندر داخل ہوئی تو ۔۔۔۔ اماں جی کی ہائے وائے تیز کوئی تھی
” بھابھی آ گیا آپ کو بھی ہماری ماں کا خیال۔ ؟ زرنش کی کراریںآواز نکلی تھی اندر شکر کیا تھا کہ جو چار کام اسکی غیر موجودگی میں مارے کرنے پڑ رہے تھے اس سے جان چھوٹی ۔۔۔
” ہنہ احساس کیسا ۔۔۔ عرفان نا کہتا تو اب بھی میڈیم کو کہاں خیال آنا تھا ” شبو نے آبرو چڑھا کر کہا
عرفان کی گھورتی نظروں سے شزا کی جان لبوں پر آتی تھی
” اب کیا یہیں کھڑی رہو گئ ۔۔۔ چلو ادھر آؤں سر دباو اماں کا ۔۔۔۔ ” شزا کر کمرے کے دروازے کے پاس کھڑے دیکھ وہ سخت لہجے سے بولا شزا چلتے ہوئے اس کے پاس آ کر بیٹھ کر سر دبانے لگی ۔۔۔
” ہائے ہائے کیسی بد لحاظ بہو ملی ہے مجھے نا سلام ناخیر خیریت پوچھی ۔۔۔بس میاں نے احساس دلایا تو آ گئ سر دبانے ۔۔۔۔ ” ساس تو کسی حال میں خوش نہیں تھی ۔۔۔
” کیا بات ہے تمیزسپنے گھر کی دہلیز پر بھول کر آئی ہو سلام کرو امان کو ” عرفان اس پر بپھر کر بولا ۔۔۔
” ایسی بات نہیں ہے بس جلدی میں ۔۔۔۔ذہن سے نکل گیا
اسلام علیکم اماں ” وہ دھڑکتے دل کے ساتھ بولی شبو اور زرنش اسکی ٹی رنگت خوفزدہ چہرے کو دیکھ کر اپنی ہنسی دبا رہیں تھیں بھائی نے بیوی کو دبا کے رکھا تھا ۔۔۔ مرد کہلانے کا گویا وہی حقدار تھا ۔۔۔۔
فرقان نے تاسف سے بھائی کو دیکھا ۔۔۔
آپاں خدا کا واسطہ ہے کبھی اپنے گھر کا بھی رستہ بھول جایا کرو ۔۔۔۔ آ کر ہمارا کمرہ سنبھال لیتی ہو ۔۔۔ اور ہم دیوانوں کی طرح گھر میں سونے کی جگہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں ” وہ پہلے ہی شبو کے ہر وقت گھر میں موجود ہونے نالاں ہی رہتا تھا ۔۔۔
” تمہاری زبان بہت چلنے نہیں لگ گئ ایسے بات کرتے ہیں بڑی بہن کے ساتھ ” عرفان کی روپوں کارخ اب فرقان کی طرف تھا
” معاف کرنا عرفان بھائی ۔۔۔ بات تو بیوی کے ساتھ ایسے نہیں کی جاتی جیسے آپ کر رہے ہیں ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔ اچھی خاصی معصوم سی فرمابردار بہو مل گئ ہے انہیں ۔۔۔۔ پتہ نہیں شکر کیوں نہیں کرتے ۔۔۔۔ ” فرقان کو افسوس سا ہوتا تھاشزا کے ساتھ سب کا ،رویہ دیکھ کر
******……..
” نوفل مجھے کوئی کیس نہیں کروانا دو دن جیل میں گزار لئے ہیں اس شخص نے یہی کافی ہے ۔۔۔ تمہارے لئے رشتہ دیکھنے جانا ہے شادی بھی تمہیں بس چار دن میں کرنی ہے ۔۔۔ میں پولیس اسٹیشن کے چکر نہیں کاٹ سکتی ۔۔۔۔ ” مائرہ نے عمار پر کیس کرنے سے صاف انکار کر دیاتھا ۔۔۔۔ جو سزا اسے مل چکی تھی کافی تھی ۔۔۔
” مائرہ ٹھیک کہہ رہی بیٹا ۔۔۔۔ اب چھوڑو بھی اس قصے کو ۔۔۔۔ پولیس والے کون سے اچھے ہوتے ہیں نا جانے کیا کیا سوال کریں گئے بچی سے ” خالہ نے بھی منع کر دیا تھا ۔۔۔۔ نوفل بھی چپ ہو گیا۔۔۔۔
اپنی شادی کا مسلہ نا ہوتا تو عمار کو مزید سزا دلواتا ۔۔۔۔
******…….
” عبیرا شام کو اچھے سے تیار ہو جانا ۔۔۔ پانچ بجے وہ لوگ پہنچ جائیں گئے سنا ہے اچھے خاصے ٹھیک ٹھاک لوگ ہیں ” عابدہ بیگم نے عبیرا کو خاص تاکید کی تھی۔۔۔۔ عفیرا اسکول جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی
” ہو گا کوئی ۔۔۔ پرچون کی دوکان کا مالک ۔۔۔۔ اچھے خاصے ٹھیک ٹھاک ۔۔۔ ہنہ ۔۔۔ ہمارے گھر والوں کے اچھے خاصے ٹھیک ٹھاک بس ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔ پرچون والا ۔۔۔۔ ورکشاپ والا ۔۔۔ یا دودھ والا ۔۔۔ شکر ہے زیان کے لئے اعتراض نہیں اٹھایا ابا نے ” عفیرہ منہ میں بڑ بڑائی بالوں کو کیچر سے مقید کیا ۔۔۔ اور ڈوپٹہ گلے میں لیا
آئنے میں خود پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اپنی تیاری سے مطمئن ہو کر اس نے پرس بازو پر لٹکایا
” اماں میں شام کو واپس لوٹو گی زیان کے ساتھ شاپنگ پر جانا ہے ۔۔۔۔ ” عفیرہ کی بات سن کر عابدہ بیگم کا پتہ کھلا تھا
” ہاں ہاں جم جم جاؤں ۔۔۔ ” عفیرہ کمرے سے نکلنے لگی تو ہر بار کی طرح عابدہ بیگم کی پکار پر پھر سے رکنا پڑا
” ایک جوڑا میرے لئے بھی خرید لینا تیرے ابا نے تو صاف منع کر دیا ہے ۔۔۔ کہ شادی پر بڑا خرچہ ہونا کے اس لئے پرانے جوڑے پہن کر گزارا کرو ” عابدہ بیگم کے وہی رونے تھے ۔۔۔ الماری کپڑوں سے لباب بھری رہتی تھی لیکن نیت سدا کی بھولی تھی ۔۔۔
” اچھا اماں لے آؤں گی ” کالا چشمہ آنکھوں میں لگا کر وہ کمرے سے باہر نکلی تھی زیان کے ساتھ اس نے جی بھر کے شاپنگ کی تھی گھر تک اسے اپنی بائیک پر زیان نے ہی چھوڑا تھا لیکن ایک گاڑی انکے گھر کے سامنے پہلے سے کھڑی تھی ۔۔۔ شاید وہ بھی ابھی کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ زیان کی بائیک اس گاڑی سے پیچھے کھڑی تھی عفیرہ نے بائیک سے اتر کر سب سے پہلے گاڑی میں بیٹھے ہینڈسم سے نوجوان کودیکھا تھا جو گاڑی کے سائیڈ ممر سے صاف نظر آ رہا تھا ۔۔۔ اچھا خاصا خوش شکل تھا پھر پندرہ لاکھ تو گاڑی ہی تھی جس میں وہ بیٹھا تھا ۔۔ اپنے ساتھ بیٹھی نوجوان سی سفید کپڑوں میں ملبوس خاتون سے باتوں میں مصروف تھا عفیرہ نے اپنےء شاپنگ بیگ پکڑے اور گھر کی ڈور بیل دی ۔۔۔ دروازہ چھوٹے بھائی نے کھولا تھا وہ اندر داخل ہو گی آج تو گھر کتنے ساتھ ساتھ بھائی بھی صاف ستھرے لباس پہنے ہوئے تھے بھائیوں گاڑی دیکھتے ہی صحن میں شور مچایا تھا
” اماں وہ لوگ آ گئے عبیرہ آپی کارشتہ دیکھنے ۔۔۔ ” شور مچاتا ہوا وہ تواندت چلا گیا لیکن عفیفہ کے دماغ کی گھنٹیاں بج اٹھیں تھیں ۔۔۔۔
فوراسے وہ کمرے میں گئ تھی ۔۔۔۔ عبیرہ خلاف توقع بڑی پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔ پل میں دل بے ایمان ہوا تھا اس نوجوان کے سامنے زیان ہیج سا لگنے لگا تھا۔۔۔۔اسکی گاڑی کے سامنے زیان کی بائیک بری لگنے لگی تھی ۔۔۔۔۔
“عبیرہ کہ قسمت مجھ سے اچھی کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ کتنے پاپڑ بیلنے کے بعد جا کر زیان میرے جال میں پھنسا تھا کتنے جتن کیے ہیں میں اور تو اور اسکی بدتمیزیاں بھی برداشت کیں ہیں ۔۔۔ اور یہ عبیرہ گھر بیٹھے کیسے کسی گاڑی والے کی بیوی بننے جا رہی ہے اس کے ٹھاٹ ہی الگ ہو جائیں گئے ۔۔۔ مجھے کون پوچھے گا ۔۔۔ زیان کے پاس ہے ہی کیا ۔۔۔ نااچھی شکل نا نوکری ۔۔۔ ٫” سوچ کے نظریات بڑی جلدی بدلے تھے ۔۔۔ لالچ کی دیوی جوش میں آئی تھی ۔۔۔ پہلے تو وہ سجی سنوری عبیرہ پاس آئی ۔۔۔
” تو یہ رشتہ کرنے والی ہے اماں تمہارا ۔۔۔ بہت بڑا ظلم ہونے والا ہے عبیرہ ۔۔۔میری مان توانکے سامنے ہی مت جا ” عبیرہ بہن کی بات سن کر گھبرائی تھی
” کیوں اپیہ کیا برائی ہے رشتے میں ۔۔ اماں تو کہہ رہی تھی اپنا گھر ہے لڑکے کا ۔۔ گاڑی ہے نوکری بھی اچھی کرتا ہے آفس جاتا ہے
” باقی کی بات عبیرہ کے منہ سے سن کر عفیرہ کے منہ پانی بھر آیا تھا ۔۔۔
” لڑکا ” وہ استزائیہ ہسنے لگی
” پچاس سالہ بڈھا ہے وہ ۔۔۔ ابھی دیکھ کر آ رہی ہوں اسے ۔۔۔ ہاں گاڑی البتہ مہنگی ہے ۔۔۔لیکن اسکی بیوی کم اور بیٹی زیادہ لگو گی ۔۔۔ ” عبیرہ یہ سن کر کھڑی ہو گئ پریشانی میں انگلیاں چٹخنے لگی
” اپیہ سب ہو گا ۔۔۔ امان تو پہلے ہی پیسہ دیکھتی ہے
۔۔ مجھے زبردستی انکے سامنے بیٹھا دے گی ۔۔۔ پھر وہ لوگ جہیز سے منع کر رہے ہیں ۔۔۔ بس شادی جلدی چاہیے “
” یہ ساری باتیں سن سن کر عفیرہ کے اندر سکون کی بانسری سی بج رہی تھی “
” تو جا کر منہ دھو اور یہاں بیٹھ۔۔۔ بس اماں لاکھ تجھ سے کہے تو اندر مت جانا ۔۔۔ تیری جگہ اندر میں جاتی ہوں دیکھ کیسے دو منٹ میں رشتے والوں کی چھٹی کروا کر آتی ہوں ” عفیرہ اپنی کوشش میں کامیاب ہو گئ تھی ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں عابدہ بیگم جب اندر آئیں عبیرہ منہ دھوئے بیٹھی تھی اندر جانے سے بھی صاف انکار کر دیا
” باولی ہو گئ بد بخت ایسی خوش نصیبی کب روز روز چل یوں۔ہم جیسوں کے گھر میں آتی ہے “
” نہیں اماں مجھے یہاں شادی نہیں کرنی ۔۔ بس ” عبیرہ نے صاف انکار کیا تھا ۔۔۔
” ارے اندر آئے بیٹھے ہیں وہ ۔۔۔ کیسے منع کر دو اچھا چل میری بچی بس جا کر دس منٹ بیٹھ جا باقی باتیں بعد میں تیری سن لوں گی ” عابدہ بیگم نے اسکی منت کی لیکن وہ نہیں مانی
” اماں بس بیٹھنا ہے تو ٹھیک میں بیٹھ جاتی ہوں ۔۔۔ “
” تو ۔۔۔ تو کس لئے رشتہ اس کا آیا ہے ” عابدہ بیگم نے حیرت کا اظہار کیا تھا
” ہاں تو وہ انکار کر رہی ہے جا نہیں رہی تو میں چلی جاتی ہوں باقی بعد میں دیکھ لیں گئے ” عفیفہ نے انجان بنتے ہوئے کندھے اچکائےے تھے
” اوراگر انہوں نے تجھے پسند کر لیا پھر ؟ “عابدہ بیگم نے تیوری چڑھا کر پوچھا “
” یہ باتیں بعد میں سوچنے کی ہیں ابھی تو چلو ” یہ کہہ کر عفیفرہ نے ڈوپٹہ سر پر اوڑھا ۔۔۔۔ اور ماں کے ساتھ اندر داخل ہو گئ سامنے صرف دو خواتین ہی تھیں ۔۔۔۔ ایک وہ جو اس لڑکےچسے بات کر رہی تھی دوسری بزرگ خاتون تھی ۔۔۔ عفیرہ بڑے ادب طریقے سے انکے سامنے بیٹھی تھی ۔۔۔۔ سوالوں کے جواب بھی ٹھیک دے رہی تھی
” ہمہیں آپ کی عبیرہ پسند ہے ” دونوں خواتین نے باہم مشورے سے جواب دیا تھا
” عبیرہ نہیں ۔۔ عفیرہ ۔۔ ۔میرا نام عفیرہ ہے “
” لیکن ہمیں تو عبیرہ نام بتایا گیا تھا ” مائرہ نے جیسے یاد کرتے ہوئے پوچھا
” عفیرہ کہا ہو گا،اپ کوسننے میں غلطی ہوئی ہو گی ۔۔۔۔ “
” ہاں بیٹا ہوسکتا ہے عفیفرہ ہی کہا ہو “
” ہمہں شادی جلدی چاہیے آپ کو ساری وجہ رشتے والی نے بتا دی ہو گئ ۔۔۔ “سیدہ نے عابدہ بیگم سے کہا وہ تو گم صم سی بیٹھی عفیرہ کو دیکھ رہیں تھیں جو بڑی مطمئن خوش باش نظر آ رہی تھی ۔۔۔
” میں اس کے اباسے بات کر لوں ” عابدہ بیگم کا دماغ ہی تو چکرا گیا تھا ۔۔۔
” انہوں نے تونوفل سے ملاقات کر لی ہے اور انہیں کوئی اعتراض بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ ” مائرہ نے جواب دیا
” اماں جب اباکوعراض نہیں ہے تو پھر ٹھیک کے نا ” عفیرہ نے برابر بیٹھی ماں کو دھیرے سے کہا عابدہ بیگم تو یوں تھی بیٹی کے سامنے سدھ بدھ کھو بیٹھی ہوں ۔۔۔۔
مائرہ نے پرس سے انگوٹھی نکالی اور اٹھ عفیفہ کے برابر میں بیٹھ گئ ۔۔۔ لیکن اس کے ہاتھ میں لے سے انگوٹھی موجود تھی ۔۔۔ ایک نظر مائرہ نے اسکی طرف سوالیہ انداز سے دیکھا ۔۔۔
” یہ تو یونہی آرٹیفشل ہے ‘ ” عفیرہ نے زیان کے نامی انگوٹھی اتارنے میں چند سکینڈ بھی نہیں لگائے تھے۔۔۔ نوفل کے نام کی سنکوٹھی کاوزنںاج اتنا زیادہ تھا کہ زیان کی محبت تک دل سے اترنے لگی تھی ۔۔۔
