Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kya Kahe Gy Episode 39
Rate this Novel
Log Kya Kahe Gy Episode 39
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
نکاح کے بعد سب ہی آہستہ آہستہ جا چکے تھے ۔۔۔۔
آخر میں وصی اور زونیرہ ہی رہ گئے تھے ۔۔۔۔
” اچھا ہمہیں اجازت دو ۔۔۔ ” وصی نے نوفل سے صرف ہاتھ ملایا تھا جو خفا خفا سا لگ رہا تھا ۔۔۔
” ہاں یاد آیا تم مجھ سے کچھ کہنا چاہ رہے تھے ۔۔۔
کیا کہنا تھا بولو ” وصی نے نوفل کو یوں گھورا جیسے کچا چبا جائے گا ۔۔۔ جس وقت وہ بات کرنا چاہ رہا تھا تب تو کچھ سنا نہیں اور اب پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔
” نہیں ۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔۔ ” وصی نے دانت کچکچاتے ہوئے غصہ ضبط کیا ۔۔۔
” او کے ٹھیک ہے پھر ” نوفل کا انداز ویسا ہی تھا لا پروا سا ۔۔۔
” وہ زونیرہ اندر ہے ۔۔شاید۔ ” وصی نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا
” ہاں بھابھی کے پاس ہوں گئیں میں بلا دیتا ہوں ” یہ کہہ کر نوفل پلٹ کر اندر لاونج میں جانے لگا جب وصی نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا تھا ۔۔۔ نوفل نے پلٹ کر اسے سوالیہ انداز میں دیکھا
” تمہارا اب نکاح ہو چکا ہے مائرہ بھابھی سے ۔۔۔ اگر تمہیں یاد ہو تو ؟ ” وصی نے جتاتے ہوئے کہا
” ہاں تو ؟” نوفل اب بھی نا فہم تھا پھر کچھ عادت بھی تھی بھابھی کہنے کی
” نکاح کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں نوفل ۔۔۔۔ باقی سب کو تو تم نے شاید مزاق سمجھ لیا ہے لیکن کم از کم مائرہ بھابھی کو بھابھی اب مت کہنا ۔۔۔۔ ” وصی کے انداز میں افسوس بھی تھااور غصہ بھی
“اووپس ” نوفل کو جیسے کچھ یاد آیا تھا ۔۔۔ کھسیاتے ہوئے ماتھے پر ہاتھ پھیرنے لگا
” سو سوری ۔۔۔ اب کیا کرو ۔۔۔ عادت ہے ۔۔۔ لیکن بھابھی نا کہو ؟ ۔۔۔ تو کیا کہو ۔۔۔۔ نام نہیں لے سکتا۔۔۔۔ وہ سنے گئیں بھئ نہیں ” نوفل نے اسی سے مشورہ مانگنا چاہا جو اسے تپے ہوئے دیکھ رہا تھا
” وہ میں نہیں جانتا ۔۔۔ کیونکہ تم بہت سمجھدار ہو ۔۔۔۔ ہر چیز کا حل بس دو منٹ میں تو نکال لیتے ہو اس کا حل بھی نکال لینا ۔۔۔ ” وصی نے جلے ہوئے انداز سے کہا تھا۔۔۔ نوفل اسے غور سے دیکھنے لگا
” یہ تم اتنے جلے بھنے سے کیوں لگ رہے ہو
مجھے ۔۔۔۔ اب تو بہت بڑا مسلہ حل ہو گیا ہے ۔۔۔۔ لوگوں کے منہ بھی بند ہو گئے ہیں ۔۔۔ ” نوفل اب بھی وصی کی بات نہیں سمجھ رہا تھا ۔۔۔ نوفل کی بات پر وصی پیج وتاب کھا کر رہ گیا۔۔۔۔۔ لوگوں کے علاؤہ بھی انسان کی اپنی بھی کوئی زندگی ہوتی ہے ۔۔۔۔
اسی اثنا میں زونیرہ بھی باہر آ گئ تھی ۔۔۔۔ وہ بھی حد درجہ سنجیدہ تھی ۔۔۔ وصی نوفل سے مزید بات کرنا ہی نہیں چاہتا تھا
” چلیں وصی “
“ہاں چلو ۔” زونیرہ کو یہ کہہ کر نوفل سے بھی جازت لے کر وصی باہر نکل گیا آدھا سفر دونوں کا خاموشی سے کٹا تھا ۔۔ دونوں کی سوچ ایک ہی ۔محور پر گھوم رہی تھی اور وہ تھی نوفل اور مائرہ کا نکاح
” وصی کیا ایسے ہوتی ہے شادی ۔۔۔؟ زونیرہ نے ہی بات شروع کی
” شادی نہیں نکاح ” وصی نے جل کر جواب دیا
” وصی مجھے نوفل بھائی کی بات اچھی نہیں لگی ۔۔۔۔ دل ہی دل میں بھی یہی چاہتی تھی کہ وہ مائرہ بھابھی سے شادی کریں اور اب سے نہیں بہت پہلے سے جب عفیرہ سے انکی شادی بھی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ شاید اس لئے کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہیں اور نوفل بھائی تمہارے دوست ہیں ۔۔ ۔۔۔لیکن آج نکاح کے نام پر ہوا ہے وہ کیا ہے ۔۔۔ ؟ سہارا ہی دینا تھا تو ویسے دیتے جیسے دینے کا حق ہے ۔۔۔ ایک نام کا احسان کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔ آپ سمجھاتے کیوں نہیں انہیں ” زونیرہ کو یہی افسوس کھائے جا رہا تھا ۔۔۔ وصی نے ایک نظر زونیرہ پر ڈالی
” سمجھایا ہی تو تھا ۔۔۔ نکاح کا بھی میں نے ہی کہا تھا اس سے ۔۔۔ لیکن مجھے نہیں پتہ تھا ایک نمبر کا گدھا نکلے گا یہ نوفل ۔۔۔۔ یہ تو
میں جانتا تھا کہ اگر نوفل کی عقل میں یہ بات آ گئ تو مائرہ۔ بھابھی کو وہ قائل کر لے گا ۔۔۔۔ لیکن
وہ میری بات کو یوں سمجھے گا ۔۔۔ مجھے اندازہ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ “وصی کو بار بار نوفل ہر غصہ آ رہا تھا
” تو کیا اب یہ تیسری شادی بھی کریں گئے وصی ؟ ” زونیرہ کایہ سوچ کر دل دھلا تھا
” الو کا پٹھا۔۔۔۔ نا جانے اور کیا کیا کرے گا ۔۔۔ اس کی زندگی میں چین نام کی چیز ہی نہیں ہے ۔۔۔ ” وصی جو نا کہتا وہ کم تھا جتنا اسے نوفل پر غصہ تھا
” مائرہ بھابھی کی زندگی میں تو پھر سے مشکالات آ جائیں گئیں۔ اور وہ بھی ۔۔۔ کون سا کم تھیں ۔۔۔ وعدہ لے رہیں تھیں کہ نوفل بھائی دوسری شادی ضرور کریں ۔۔۔۔۔ وصی جب مائرہ بھابھی نے تم سے حلالہ کے عفیرہ سے نکاح کرنے کا کہا میری تو جان ہی نکل گئ تھی ۔۔۔ مطلب کوئی۔ بھی بیوی کیسے برداشت کر سکتی ہے یہ سب ۔۔۔۔ ” وصی نے زونیرہ کو پریشان حال دیکھا تو خود کو کچھ پر سکون کر کے بولا
” یار یہ عام سی شادی تو ہے نہیں تھی ۔۔۔۔ خود سوچو
ان دونوں کا پہلے کچھ اور رشتہ تھا ۔۔۔۔ اور اب بھی نکاح کرنے کی سب سے بڑی وجہ ایک دوسرے کی چاہت نہیں ہے۔۔۔ بس یہ ہے کہ
لوگ کیا کہیں گئے “
” اور اس شادی کا انجام کیا ہو گا ” زونیرہ نے وصی کی جانب دیکھ کر پوچھا
” کچھ بھی نہیں ہو گا سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ نکاح کی طاقت کاانداہ نہیں ہے ان کو ۔۔۔۔ جس دن صرف نوفل کو بھی ہو گیا نا
تو مائرہ بھابھی کو وہ خود منا لے گا ۔۔۔۔ بڑی بات نہیں ہے ۔۔۔ ان کی آپس انڈرسنڈنگ بہت ذیادہ ہے زونی ۔۔۔ زریاب بھائی کی شادی کے بعد سے میں انہیں ایسے ہی دیکھتا آ رہا ہوں ۔۔۔۔ سوچ بہت ملتی ہے دونوں کی ۔۔۔ لڑتے بھی خوب تھے لیکن لائف کو گزارنے کا نظریہ بھی تقریبا ایک جیسا رکھتے تھے ۔۔۔ پھر نوفل ہمیشہ سے مائرہ بھابھی کو اپنی باتوں سے قائل کر ہی لیتا تھا ۔۔۔ وہ شروع میں اگر۔ بھڑک بھی جاتیں تھیں تو۔ بعد میں نوفل کی بات مان۔ بھی جاتی تھیں اور اب بھی دیکھ لو اگر یہی نکاح کامشورہ میں یا تم مائرہ بھابھی کو دیتے تو وہ کبھی بھی نہیں مانتیں نوفل نے بی شک غلط ہی کیا لیکن منا تو لیا نا انہیں ۔۔۔۔ اصل مسلہ نوفل کا ہے ۔۔۔۔ اللہ کرے ایک بار اس کے دل میں اس رشتے کی اہمیت آ جائے ۔۔۔۔ کیونکہ نوفل کو کوئی نہیں سمجھا سکتا ۔۔۔ میں بھی نہیں ۔۔۔۔ ” وصی نے کندھے اچکا کر کہا تھا ۔۔۔۔
*****…….
مائرہ اسی ہلکے رنگ کے لباس میں تھی جو دو دن سے اسے بدلنے کی فرصت نہیں ملی تھی ۔۔۔۔
وہی سفید چادر اب بھی سر پر موجود تھی ۔۔۔ جو بیوگی کے نام پر لوگوں نے نصیب میں لکھ دی تھی
اب بھی رو رہی تھی ۔۔۔ نکاح کے لئے زبردستی نہیں کی گئ تھی لیکن۔ کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ جس کا انتخاب کیا جاتا
زریاب کی یاد نے شدت اختیار کی تھی ۔۔۔ سامنے لگی اسکی تصویر دیکھتے ہی آنسوں کے گرنے میں تیزی آئی تھی زریاب کے پہلو میں لگااپنا وجود بے معنی سا لگا تھا ۔۔۔۔ نظر تصویر کے دوسری جانب اٹھی تو نوفل اسکے ساتھ ہاتھ پھیلائے مسکراتے ہوئے کھڑا تھا ۔۔۔۔ ولیمے کی تقریب پر کھینچی جانے والی اس تصویر نے پہلی بار اسے شش وپنج میں مبتلہ کیا تھا ۔۔۔۔ اسے لگا سامنے لگے فریم کی تصاویر میں جان سی ڈل چکی ہو ۔۔۔۔ زریاب کی مسکراہٹ غائب ہوئی ہو ۔۔۔ اور بڑی شکوہ کناں نظروں سے مائرہ کو دیکھ رہا ہو پھر اپنے ساتھ لگی مائرہ کو خود سے ذراسا پیچھے دھکیلا ہو اور وہ توازن کھو کر گرتے ہوئے نوفل کے پہلو سے جا لگی ہو ۔۔ ایک زور کا جھٹکا مائرہ کو لگا تھا ۔۔۔ تصور نے دھکیل کر حال میں بری زور سے پھنکا تھا ۔۔۔۔۔ مائرہ کا تنفس بری طرح سے بگڑا تھا ۔۔۔ چہرے پر بد حواسی سی چھائی تھی یک دم یہ لگا کہ شاید جلد بازی میں کچھ غلط کر بیٹھی ہے ۔۔۔۔ پھر یہ لگا کہ شاید زریاب کو برا لگ گیا ہے ۔۔۔۔ فورا سے اٹھ کر بھاگ کر اس فریم کے پاس آئی تھی
زریاب کی تصویر ہر ہاتھ رکھنے لگی ۔۔۔ بلک بلک کر رونے لگی ۔۔۔
” میں مجبور تھی زریاب ۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔ لیکن مجھ سے ناراض مت ہوں ۔۔۔ میں آپکی ناراضگی نہیں سہہ سکتی ” ابھی زریاب کی تصویر دیکھتے ہوئے تو رہی تھی ۔۔۔ جب موبائل کی رنگ ٹیون بجنے لگی ۔۔۔۔ اپنے آنسوں پونچ کر مائرہ وہاں سے ہٹ کر بیڈ کے پاس آ گئ فون عفیرہ کا تھا ۔۔۔ مائرہ اب یہ سوچ رہی تھی کہ عفیرہ سے بات کیا کرے ۔۔۔۔ صبح جب عفیرہ سے بات کر رہی تب تک سوچا بھی نہیں نوفل اور عفیرہ کے لئے راہیں ہموار کرنے کے چکر میں رات تک وہ خود نوفل کی بیوی بن جائے گی ۔۔۔۔ اب یہ سوچ رہی تھی کہ عفیرہ کو جواب کیا دے ۔۔۔۔ فون اٹھائے بھی یا نہیں۔ ۔۔۔۔ کافی دیر کال بیل۔ جاتی رہی ۔۔۔ پھر بند ہو گئ ۔۔۔۔
پھر سے بیل بجنے لگی ۔۔۔۔ اس نے فون اٹھا لیا یہ سوچ رہی تھی کہ کہہ دے گی کہ فون نہیں مان رہا ۔۔۔
” ہیلو ۔۔۔۔ “
” بھابھی آپ نے فون ہی نہیں کیا مجھے کچھ بتایا نہیں۔ نوفل کو منا لیا آپ نے ؟ “
” عفیرہ وہ۔ نہیں مان رہا ۔۔۔۔ “
” کیسے نہیں مان رہے ۔۔۔۔ آپ نوفل سے قسم لے لیں ۔۔۔ وعدہ لے لیں بھابھی ۔۔۔ پھر آپ کے لئے بھی تو مسلہ ہے ۔۔۔۔ اسے سے کہیں کہ آپ کیسے ایک گھر میں اسکے ساتھ رہ سکتی ہیں ۔۔۔ ” عفیرہ کی ساری تاویلیں اب بے معنی اور بے کار سی تھیں ۔۔۔
” عفیرہ میں ۔۔۔۔ اب اسے کیا سمجھاؤں ۔۔۔ ” مائرہ سمجھ نہیں پا رہی تھی عفیرہ کو ٹالنے کیسے جب کمرے کا دروازہ کھلا تھا عائزہ اور منزہ نوفل کے ساتھ اندر داخل ہوئیں تھی مائرہ وہی۔ چپ سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔
” فون پر کون ہے ” عفیرہ کا نام وہ کمرے سے باہر ہی سن چکا تھا ۔۔
” وہ ۔۔۔ کوئی نہیں ” مائرہ نے نظریں چراتے ہوئے بات بدلی تھی ۔۔۔ نوفل اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔ بڑے آرام سے اس کے ہاتھ سے فون پکڑا اور اپنے کان سے لگا لیا نوفل کی آواز عفیرہ بھی سن چکی تھی
” بھابھی میں فون رکھ رہی ہوں اور کل ہر حال میں آپ کچھ بھی کریں نوفل کو قسم دیں یاوعدہ لیں لیکن کل آپ اسے مجھ سے شادی کے لئے راضی کریں گئیں ۔۔۔ میں انکار نہیں سنو گی “
” کیوں ۔۔۔ تمہارا غلام ہوں میں جو تم چاہوں گی نوفل سے کروا لو گی ۔۔۔ ” نوفل کی آواز سن کر عفیرہ کی چلتی زبان بند ہوئی تھی
” نوفل مجھے معاف کر دیں ” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی
” میں نے تمہیں معاف کیا ۔۔۔ اب تو مجھے معاف کر دو ۔۔۔ اور سمجھ لو کہ نوفل کوئی ہے ہی نہیں ۔۔۔۔ رہ گئ میری شادی کی بات تو ۔۔۔ وہ تم سے کبھی نہیں کروں گا ۔۔۔۔ کیونکہ وہ میں کر چکا ہوں ” نوفل کی بات پر جہاں عفیرہ دنگ رہ گئ تھی ۔۔ وہاں مائرہ بھی متذبذب سی ہوئی تھی کہ کہیں یہ نا کہہ دے کے مائرہ سے نکاح کر چکا ہے ۔۔۔
” ابھی کچھ دیر پہلے ہی میں نے نکاح کیا ہے ۔۔۔۔ ہو گئ تسلی ۔۔۔ تم کیا سمجھتی تھی میں تمہارا روگ پالے زندگی گزار دونگا ۔۔۔۔ مجھے ذراافسوس نہیں ہے اپنے فیصلے پر ۔۔۔۔ کل تک تحریری طلاق نامہ اور تمہارے سارے زیورات تمہارے گھر پہنچ جائیں گئے ۔۔۔ ولی جب تک تم چاہو رکھ سکتی ہو اس کا خرچہ میں تمہیں ہو ماہ بھیج دونگا ” نوفل کی باتوں نے عفیرہ کے منہ پر ذلت تھپڑ مارا تھا وہ یہ سوچے بیٹھی تھی کہ نوفل مان جائے گا ۔۔۔۔ اس سے نکاح بھی کر لے گا آخر اپنے بیٹے کی ماں کو کیسے چھوڑ سکتا ہے ۔۔۔ لیکن وہ تو بیٹے کو بھی چھوڑنے کو تیار تھا
” ہاں تو مجھے کیا پروا ہے ۔۔۔ میں کون سا مرے جا رہی ہوں آپ پر ۔۔۔۔ میں بھی عفیرہ ہوں ساری زندگی میں بھی آپ کے بچے کو پال کر برباد ہر گز نہیں کروں گی ۔۔۔ کل میرا سارا سامان دے جانا اور اپنابیٹا واپس لے جانا ۔۔۔۔ میں ولی کو بلکل نہیں پالوں گی ۔۔۔ ” یہ کہہ کر عفیرہ فون رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ نوفل نے اس کا بنبر بلاک کیا اور موبائل مائرہ کو واپس پکڑا دیا ۔۔۔۔
” اب آپ کو کال نہیں آئے گی اسکی ۔۔۔۔ “
یہ کہہ کر نوفل کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔
جب وہ وصی کوالودع کر کے واپس لاونج میں آیا تھا تو دونوں بچیاں خاموشی سے صوفے پر بیٹھیں تھیں ۔۔۔
” تم دونوں یہاں کیوں بیٹھی ہو ۔۔۔ جاؤں آرام کرو ۔۔ سونا نہیں ہے “
” چاچو ولی یاد آ رہا ہے وہ کب واپس آئے گا ” عائزہ نے پوچھا تھا
” ا جائے گا ۔۔۔ اب تمارے یوں اداس رہنے سے تو واپس نہیں آ جائے گا ۔۔۔ چلو آؤں لیٹو اپنے کمرے میں ” نوفل ان دونوں کا ہاتھ تھامے کمرے کے دروازے پر پہنچا تھا جب مائرہ کے منہ سے عفیرہ سن کر قدم وہیں۔ رکے تھے ۔۔۔ وہ عفیرہ سے بات کر رہی تھی ۔۔۔۔ اس لئے اندر چلا آیا ورنہ عائزہ اور منزہ کو کمرے تک چھوڑ کر واپس اپنے کمرے میں جانے کاارادہ تھا ۔۔۔ عفیرہ کی آس امیدوں پر پانی پھیر کر اب وہ واپس جا چکا تھا اگلے روز وصی کے ہاتھ اس نے عفیفہ کا سارا سامان بھیجوا دیا تھا ۔۔۔ اور ولی کو عفیرہ واپس۔ کر چکی تھی ۔۔۔
جب ولی گھر پہنچا تب بھی رو رہا تھا ۔۔۔ مائرہ کے ساتھ ساتھ دونوں بچیاں بھی لپکتی ہوئی ولی کی طرف بڑھیں تھیں ۔۔مما مما کہتے ہوئے وہ مائرہ کے سینے سے لگ کر رونے لگا تھا
“چچی گندی ہے ۔۔۔۔ مجھے منہ پر مارا تھا مما ۔۔۔۔ میں رویا تھا ۔۔۔۔ مجھے مارا تھا ۔۔۔۔ چچی گندی ہے ” روتے روتے وہ مائرہ کے سینے سے لگا شکوے کر رہا تھا ۔۔۔ جسم میں اب بھی بخار کی تپش تھی ۔۔۔۔ ناک بہہ رہی گندے کپڑے دو دن سے وہی پہنے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ مائرہ نے کافی دیر اسے سینے سے لگائے رکھا ۔۔۔۔ اس کی ساری شکایتیں سنتی رہی ۔۔۔۔ یہ سوچنا اب تکلیف نہیں دے رہا تھا کہ ایک سگی ماں ہوتے ہوئے عفیرہ نے۔ کس دل سے اپنے جگر کا گوشہ واپس بھیج دیا تھا ۔۔۔۔ کیونکہ جو کچھ نوفل کے منہ سے عفیرہ کے بارے میں سن چکی تھی ۔۔۔ ایسی خود پسند عورت کے جب اپناشوہر اپنا گھر ہی اہمیت نہیں رکھتا تھا تو بچہ کیا اہمیت رکھ سکتا تھا ۔۔۔۔ مائرہ نے اسے پہلے تو چپ کروایا پھر منہ ہاتھ دھلوا کر کپڑے پہنائے ۔۔۔۔ اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا وہ چپ ہو گیا تھاعائزہ منزا کے چہرے ولی کو دیکھ کر کھل گئے تھے ۔۔۔۔
ولی اتنا اداس تھا دونوں بہنوں سے کے بار بار ان کا منہ چوم رہا تھا ۔۔۔ وہ بھی اسکے پاس سے اٹھنے کو تیار نہیں تھیں ۔۔۔ شام کو جب نوفل آفس سے گھر لوٹا تو ولی کا کملایا ہوا چہرہ دیکھ دل دکھا تھا ۔۔۔ وہ بھی باپ کے ساتھ لگ کر پھر سے عفیرہ کی شکایتیں لگانے لگا ۔۔۔ نوفل سن کر اشتعال میں آیا تھا پتہ ہوتا کہ ایک دن اس کے بچے کا عفیرہ سگی ماں ہو کر یہ سلوک کرے گی تو کبھی واپس ہی نا بھیجتا ۔۔۔۔۔
چند ہی دنوں میں ولی اپنے گھر کا ماحول واپس پا کر عفیرہ کو بھول بھال گیا تھا
*****…..
عفیرہ کی طلاق کی خبر اب چھپانی مشکل تھی ۔۔۔۔
اس لئے عابدہ بیگم نے نوفل پر دوسری عورت کے ساتھ غلط تعلقات کا چھوٹا بہانا بتا کر عفیرہ کی عزت رکھنی چاہی تھی
“بھیا ہم کیسے ایسے مرد کے ساتھ بچی کو رکھتے ۔۔۔ جو روز دوسری عورت کے پاس جائے ۔۔۔۔ دو سال میری بچی نے بڑے صبر سے گزارے ہیں اس کے ساتھ کہ شاید سدھر جائے ۔۔۔ لیکن کہاں ۔۔۔
مار پیٹ کرنے لگا تھا اب تو وہ میری عفیرہ پر ۔۔۔۔ ” عابدہ بیگم جو کہتی وہ کم تھا۔۔۔ لیکن محلے والیاں بھی عفیرہ کی فطرت سے واقف تھیں
” معاف کرنا عابدہ مگر زبان تو تیری عفی کی بھی گز لمبی تھی۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ کیسے لچھن تھے عفی کے ۔۔۔۔ مرد کا ہاتھ بھی تب ہی اٹھتا ہے جب عورت کی زبان بے قابو ہونے کی عادی ہو ۔۔۔۔ ایسے ہی تو کہا جاتا کہ ایک چپ سو سکھ ۔۔۔۔ ” عابدی بیگم کی باتوں پر کسی نے بھروسہ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
یہ خبر جب عبیرہ اور اماں جی کے گھر پہنچی تو شبو کو موقع مل گیا ۔۔۔ کب سے فرقان کے منہ سے عبیرہ کی تعریفیں سنتی آ رہی تھی ۔۔۔۔ ماں کے ہاتھ سے خرچہ کیا گیا تھاشبو کی مفت چوریاں بھی بند ہو چکیں تھیں ۔۔۔۔
پیسے فرقان عبیرہ کے ہاتھ میں بھی نہیں رکھتا تھا سمجھو تو عبیرہ صرف نام کی حکمران تھیں ۔۔۔ سارے گھر کا کرتا دھرتا اس وقت فرقان تھا ۔۔۔۔
” عبیرہ تم تو رہنے ہی دو ۔۔۔۔ تمہاری بہن کے بارے میں ہم تو کچھ اور ہی سن رہے ہیں ۔۔۔۔ سنا ہے اپنی تیز طرار زبان کی وجہ سے یہ تمغہ ملا ہے ۔۔۔۔ ” روتی ہوئی عبیرہ نظریں چرا گئ تھی ۔۔۔ کیونکہ پتہ تھا کہ بہن ہی قصوروار تھی شبو پھر ماں سے کہنے لگی
” اماں میں تو کہتی ہوں اپنے ہاتھ میں دوبارہ سے اپنے گھر کی بھاگ دوڑ ۔۔۔۔ بہنیں تو ایک دوسرے کا پرتو ہوتی ہیں ۔۔۔ کیا پتہ کل کلاں کو عبیرہ زبان کی تیزی دیکھائے اور بہن کے نقش قدم پر چل نکلے ۔۔۔۔۔ ” شبو کی بات پر خاموش اور سنجیدہ سے کھڑا فرقان بول پڑا
” ایسا کیا کیا ہے عبیرہ نے آپاں ۔۔۔۔ اور کہاں لکھا ہے کہ اگر طلاق ایک بہن کو ہو جائے تو ۔۔۔ دوسری بہن اسکے کے لئے کی سزا بھگتے گی وہ بھی بنا کسی قصور کے ۔۔۔۔” فرقان کی بات سن کر شبو ترکی با ترکی جواب دینے لگی
” رہنے دو میاں ۔۔۔۔ ایک زمانہ دیکھا ہے ہم نے ۔۔۔۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ۔۔۔۔۔ اب اپنی بیوی کا میکے جانا کم کروا ورنہ دیکھوں کیسی آگ لگائے گی یہ بھی اس گھر میں ۔۔۔ جیسی اس کی بڑی بہن نے اپنے سسرال میں لگائی تھی ۔۔۔ مرد ذات ہے ۔۔۔ کہاں غصے میں قابو رہتا ہے ۔۔۔ہو گئ نا طلاق۔ ” شبو کی بات سن کر فرقان چلتا ہوا اس کے سامنے کھڑا ہو گیا
” پھر توآپ بھی اپنا گھر بسانے کی کوشش کریں آپاں ۔۔۔۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ۔۔۔ یہ نا ہو کہ کل کو زرنش اور بینش بھی اپنی گھر گرستی چھوٹ چھاڑ میکے آ بیٹھیں ۔۔۔۔ ” فرقان نے شبو کی بات اسی کے انداز سے اسکے منہ پر ماری تھی۔۔۔۔
” تم سے بات کرنا فضول ہے ۔۔۔۔ مت سمجھوں ہمارا کیا ہے ۔۔۔ جو چاہے کرو ۔۔۔۔ ” شبو پر جب بات آئی تو کترا کر کنارہ کرنے لگی
” آج کے بعد میں یہ نا دیکھوں کہ کوئی عبیرہ کو اسکی بہن کا طعنہ دیتا نظر آئے ۔۔۔ ہمارے معاشرے کا المیہ بن گیا ہے ۔۔۔ طلاق اگر ایک بہن کو ہو جائے تو طعنے دوسری بہنوں کو اپنے سسرال والوں سے تا عمر سننے پڑتے ہیں وہ بھی بنا کسی قصور کے ۔۔۔۔ ” فرقان کے با رعب لہجے پر سب ہی چپ ہو گئے تھے ۔۔۔
******…….
رمشہ کی ضد کا نتیجہ تھا کہ بدر کی والدہ نے ہی ہار مان لی تھی ۔۔۔۔ اور اپنا گھر چھوڑے اچھی سوسائٹی میں چھوٹے سے فلیٹ میں شفٹ ہو گئے تھے ۔۔۔ رمشہ بہت خوش تھی ۔۔۔ وہاں رمشہ کی دوستیں آئے دن آنے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔ اور وہ بھی انکے ساتھ شادی سے پہلے والی روش اختیار کر چکی تھی ۔۔۔ کٹی پارٹی میں جانا ۔۔۔ ریسٹورنٹ میں اکثر کھانا کھانے چلے جانا ۔۔۔۔ اب تو وہ اپنے پرانے کولیگ سے ملنا بھی شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔ وہیں سے ایک کولیگ سے رمشہ کو معلوم ہوا کہ نوفل نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے ۔۔۔۔ بس یہ نہیں پتہ تھا کہ مائرہ سے نکاح بھی کر چکا ہے ۔۔۔۔
رمشہ کا دل مسرور سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔
” مجھے تو پہلے ہی پتہ تھا ۔۔۔ مجھے جلانے کے لئے نوفل نے شادی تو کر لی تھی لیکن مجھے بھلانا اس کے بس کی بات نہیں تھی کبھی تو دیکھوں دوسال ہی رکھ پایا ہے اسے ۔۔۔۔ اب بھی وہ مجھے چاہتا ہے ۔۔۔۔” ثنا کے منہ سے یہ خبر رمشہ کے لئے خوشیوں کا پیش خیمہ تھی ۔۔۔۔۔
” لیکن تمہاری تو شادی ہو چکی ہے ۔۔۔ رمشہ “
” ہاں میں نے بھی ناجانے کیوں امی کی باتوں میں آ گئ ۔۔۔ بدر کسی اینگل سے میرے ساتھ نہیں جچتا ۔۔۔۔۔ ثنا بس میرا ایک کام کر دو ۔۔۔ باس سے بات کروں کے میں دوبارہ سے جاب کرنا چاہتی ہوں ” رمشہ کا دل نوفل کے بارے میں سوچ کر گدگدایا تھا ۔۔۔۔۔
” لیکن تمہارا نوفل سے بریک اپ ہو چکا ہے رمشہ ۔۔ وہ کیوں تمہاری طرف لوٹے گا ۔۔۔۔ “
” یہ تمہارا مسلہ نہیں ہے ۔۔۔ تم بس باس سے پوچھ کر مجھے بتاؤں ” رمشہ کے اندر تو جیسے بہاریں لوٹ آئیں تھیں
******…….
شزا جب فجر پڑھنے کے بعد صحن میں لگے پودوں کو پانی دے کر چھت پر گئ تو زیان پہلے سے وہاں موجود تھا ۔۔۔۔
شزا کو دیکھ کر مسکرانے لگا ۔۔۔ پنجرہ صاف ستھرا تھا ۔۔۔ دانہ اور پانی بھی وہ ڈال چکا تھا ۔۔۔ لیکن طوطوں کی چہچہاہٹ شزا کو دیکھ کر شروع ہوئی تھی ۔۔۔۔
شزا تیز قدم اٹھاتے ہوئے وہاں پہنچی تھی ۔۔۔۔ زیان کو نظر انداز کرتے ہوئے طوطوں سے کھانے کا کہنے لگی ۔۔۔۔ شاید وہ شزا کی اجازت دینے کے منتظر تھے ۔۔۔ اپنا دانہ کھانے لگے
” واہ کیا جادو کیا ہے تم نے ان پر ۔۔۔۔ کب سے میں انکی منتیں کر رہا ہوں لیکن انہوں پانی تک نہیں پیا ۔۔۔۔ اور تمہارے آتے ہی ۔۔۔۔”
” زیان کیا آپ یہاں سے جاسکتے ہیں ؟” شزا نے زیان کی بات مکمل سنی ہی نہیں تھی ۔۔۔
” کیوں “
“میں کچھ وقت یہاں اکیلے گزارنا چاہتی ہوں “
” تم دن کے چوبیس گھنٹے اکیلے ہی تو گزارتی ہو ۔۔۔ ” زیان کے طنز پر شزا نے برجستہ اسے دیکھا تھا
” میں آپ کی لائف مداخلت نہیں کرتی ہوں ۔۔۔ بہتر ہے کہ آپ بھی میری زندگی میں دخل اندازی نا دیں تو بہتر ہے ” شزا کا لہجہ تلخ ہوا تھا
” شزا زندگی یوں تو نہیں گزرتی ۔۔۔۔ بند کمرے میں رہ کر ” زیان نے اسے رسانیت سے سمجھانا چاہا
” میری کٹ رہی ہے ۔۔۔ “
” مجھے اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔ ” زیان کی بات سن کر شزا نے اسے گھور کر دیکھا تھا
” میں نے آپ کو ایسا کوئی حق نہیں دیا کہ آپ میرے بارے یوں کہیں “
” تم میری کزن ہو ۔۔۔۔ یوں دنیا سے کٹ کے تنہا رہو گی تو میں انسانیت کے ناطے تم سے پوچھ سکتا ہوں “
” آپ اپنی انسانی ہمدردی کسی اور کو جا کر دیکھائیں ۔۔۔ “
” شزا ” اس سے پہلے کے زیان مزید کچھ کہتا شزا تیزی سے چھت سے نیچے اتر گئ ۔۔۔۔
اسکے بعد اس نے چھت پر جانا بھی چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔ پندرہ دن سے وہ چھت پر نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ پرندے بھی اداس سے ہو چکے تھے ٹھیک سے کھا پی نہیں رہے تھے ۔۔۔ نا ہی زیان کی سنگت سے مانوس ہو پارہے تھے ۔۔۔ شام کے وقت زیان نے شزا کے کمرے کے دروازے پر دستک دی دروازہ کھلا تووہ سامنے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔ زیان نے بنا کچھ کہے سنے اس کا ہاتھ پکڑا اور اوپر چھت پر لے گیا ۔۔۔۔ پرندے پھر سے بچانے لگے ۔۔
” کیا بدتمیزی ہے یہ زیان ۔۔۔۔ میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔۔۔ ” شزا یہ شکر رہی تھی کہ اس وقت صحن کوئی موجود نہیں تھا اگر اسکی کوئی بھابھی اسے یوں دیکھ لیتی تو نا جانے کیا سوچتی ۔۔۔ زیان نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔
” میں اب تمہیں ڈسٹرب نہیں کروں گا ۔۔۔۔ لیکن تم ان پرندوں کے ساتھ ظلم مت کرو۔۔۔ پندرہ دن سے انہوں نے ٹھیک سے کچھ نہیں کھایا ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ چھت سے نیچے اتر گیا تھا ۔۔۔۔ شزا اب اپنا وہ ہاتھ دیکھ رہی تھی جو کچھ دیر پہلے زیان کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔۔
آٹھ سال پہلے اس نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے منگنی کی انگوٹھی پہنائی تھی ۔۔۔ اس وقت شزا کو اسکے ہاتھ میں اپنا ہاتھ بہت اچھا لگا تھا ۔۔۔۔ لیکن آج اس کا یوں ہاتھ پکڑنا برا لگ رہا تھا ۔۔۔۔
اگلے روز وہ خود زیان کے کمرے میں آئی تھی
” زیان مجھے آپ سے بات کرنی ہے ؟” لہجہ سب بھی سخت تھا
” اندر آ جاؤں بیٹھو ۔۔۔ کہو کیا کہنا ہے ” زیان سامنے صوفے پر بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر بزی تھا جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی
” نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں ” شزا دروازے کی دہلیز پر ہی کھڑی رہی مجبورا زیان کو بمہی اٹھ کر اسکے پاس آنا پڑا ۔۔۔۔
” میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا ” شزا کی آنکھوں میں نمی تھی
” میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا تم سے ” شزا کا رویہ زیان کی سمجھ سے باہر تھا
” میں اپنے کردار پر ایک بہت بڑے الزام سے طلاق پا چکی ہوں ۔۔۔ وہ بھی بنا کسی قصور کے ۔۔۔۔ بھابھیاں لاکھ اچھی سہی لیکن انکی شک بھری نظریں مجھ سے برداشت نہیں ہوتیں ۔۔۔ شاید انہیں لگتا ہے کہ میرا واقع اپنے دیور سے کوئی تعلق تھا جبھی مجھے عرفان نے چھوڑ دیا ۔۔۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے مجھے بند کمرے میں بیٹھنے کا شوق ہے ؟ نہیں
مجھ سے لوگوں کی تمسخرانہ نظریں برداشت نہیں ہوتیں ۔۔۔ آپ تو میرا ہاتھ پکڑ کر بنا کچھ سوچے سمجھے مجھے چھت پر لے گئے ۔۔۔۔ اگر میری بھابھیاں یا امی ۔۔۔ یا چچی کوئی دیکھ لیتا تو کیا سمجھتا ۔۔۔۔ یہ سوچا ہے آپ نے ۔۔۔۔ ؟ کیوں مجھ پر لگے جھوٹے گھٹیا الزام پر سچ کی مہر لگانا چاہتے ہیں آپ۔ ” شزا کا تیز و تند لہجہ بہتے آنسوں دیکھ وہ چپ سا رہ گیا تھا بنا سوچے سمجھے اپنا اٹھایا گیا قدم غلط لگ رہا تھا شزا پھر اسے سامنے ہاتھ جوڑ دیے
” میرے پاس صرف تھوڑی سی عزت ہی بچی ہے ۔۔۔۔ باقی میرا دامن ہر چیز سے خالی ہے ۔۔۔ خدارا جو میرے پاس رہ گیا ہے اسے قائم رہنے دیں ۔۔۔ دور رہیں مجھ سے ” یہ کہہ کر شزا وہاں سے چلی گئ
