Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 49

491.6K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 49

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

((مائرہ اینڈ نوفل اسپشل اپیسوڈ))

مائرہ عائزہ اور منزا کے کمرے میں ہی موجود تھی ان سے اسکول کے پہلے دن کے بابت میں پوچھ رہی تھی کہ دن کیسا گزرا ٹیچرز کیسی تھیں دوست کیسے تھے ۔۔۔ جب منزا کو عائزہ کا نوفل کو بابا کہنا یاد آیا تھا

“مما کیا چاچو ہمارے بابا بن گئے ہیں ؟ منزا کے سوال پر عائزہ ضرور گھبرا گئ تھی ۔۔۔۔ کیونکہ پہلے بھی دلہن کا پوچھنے پر ماں سے ڈانٹ پڑی تھی ۔۔۔۔ اور اب بھی پڑھ سکتی تھی

” نہیں منی ۔۔۔ وہ چچا ہیں ۔۔۔ بابا تو اللہ میاں کے پاس جا چکے ہیں “

” پھر عائزہ چاچو کو بابا کیوں کہہ رہی تھی ” منزا کی بات سن کر مائرہ نے بے یقینی سے عائزہ کو دیکھا تھا جو گھبرا کر نظریں چرانے لگی تھی

” عائزہ منی کیا کہ رہی ہے ؟ تم چاچو کو بابا کہتی ہو “؟ مائرہ کے سوال پر وہ گردن جھکا گئ تھی

” ادھر آؤں عائزہ میرے سامنے آ کر کھڑی ہو “, مائرہ کے سخت لہجے پر وہ بیڈ سے اٹھ کر مائرہ کے سامنے کھڑی ہو گئ

” کیاسن رہی ہوں میں ۔۔۔۔ ہوتا کیا جارہا ہے تمہیں ۔۔۔ کیسے کیسے سوال کرنے لگی ہو ۔۔۔۔ اور اب یہ ۔۔۔۔ کیوں کہا تم نے اپنے چاچو کو بابا “

” مما مجھے انہیں بابا کہنا اچھا لگتا ہے ۔۔۔۔ ” عائزہ کے جواب پر مائرہ تلملا کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔

زریاب کی جگہ تو وہ کسی قیمت پر کسی بھی دوسرے کو دینے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔ پھر عائزہ نے کیسے چچا کو دیدی تھی ۔۔۔ بے اختیار اس کا ہاتھ عائزہ پر اٹھا تھا اندر کا سارا غصہ عائزہ کے نازک گال پر چھپ چکا تھا ۔۔۔ اتنا زور سے مارنے کا مائرہ کا ارادہ تو نہیں تھا لیکن بس بے ساختہ مار بیٹھی تھی ۔۔۔۔

اسکے بعد جو رد عمل نوفل نے اختیار کیا تھا ۔۔۔۔ پہلی بار لگا تھا کہ وہ ۔۔۔ وہ نوفل نہیں ہے جو اس کی ہر بار چپ چاپ سنتا رہتا تھا ۔۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی ہر بات مان لیتا تھا ۔۔ آج جو اس کا روپ دیکھا تھا پہلی بار اس سے خوف سا محسوس ہوا تھا ۔۔۔ پہلی بار اس کے سامنے کچھ بول نہیں پائی تھی ۔۔۔ اسکے کمرے سے باہر نکلتے ہی آنکھیں کھولیں سانس بری طرح سے خوف کے مارے پھول رہا تھا ۔۔۔۔

عائزہ روتے ہوئے اسے معافی مانگ رہی تھی

” مما مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔ ایم سوری ” مائرہ وہیں دیوار کے ساتھ ہی جھکتی ہوئی نیچے بیٹھ گئ ۔۔۔۔ ولی اس کے پاس آ کر اسکے آنسوں صاف کرنے لگا ۔۔۔۔

” چاچو گندے ہیں مما ۔۔۔۔۔ آپ کو ڈانٹتے ہیں ” ولی مائرہ کے ساتھ لگ گیا تھا منزا اور عائزہ بھی رو رہیں تھیں ۔۔۔ آنسوں مائرہ کے بہنے لگے تھے ۔۔۔۔

نوفل کی ڈانٹ برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔ پھر روتے ہوئے بچے بھی دیکھے نہیں جا رہے تھے ۔۔۔۔ اس لئے ہاتھ بڑھا کر عائزہ اور منزا کو بھی گلے سے لگا لیا ۔۔۔۔ لیکن لبوں سے کچھ نہیں بولی تھی ۔۔۔۔

اگلے روز ناشتے کے وقت دونوں ہی چپ تھے اپنی اپنی جگہ غصے میں بیٹھے تھے ۔۔۔۔ نوفل نے ٹھیک سے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا اور بچوں کو اسکول چھوڑ کر آفس میں چلا گیا تھا ۔۔۔ لیکن شام تک غصے کا اثر زائل ہو چکا تھا ۔۔۔۔ شام کو اچھے خوشگور موڈ میں گھر میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔

لیکن مائرہ کا موڈ ہنوز تھا ۔۔۔۔

بس خاموشی سے اسکے کام کر رہی تھی۔ چائے بنا کر کپ اس کے سامنے رکھے ٹیبل پر پٹخ کر رکھا تھا ۔۔۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ڈنر پر بھی ماتھے پر سلوٹیں ڈالے خاموشی سے کھانا کھاتی رہی ۔۔۔ رات کے فکس دو بجے وہ نیچے کے پورشن میں پہنچ جاتی تھی ۔۔ جس کمرے میں زریاب کی تصویر لگی تھی وہاں جا کر دروازہ بند کر دیتی تھی ۔۔۔۔ کبھی ایک گھنٹہ کبھی دو گھنٹے وہ اسی کمرے میں رہتی تھی ۔۔۔۔

اگلے روز اتوار تھا چھٹی تھی نوفل نیچے لاونج میں صوفے پر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا ۔۔ دو بجے ٹی بس بند کر کے وہ اور جانے کا سوچ ہی رہا تھا جب مائرہ کو کمرے میں جاتے دیکھا تھا ۔۔۔۔ دروازہ بند ہو کر لاک ہوا تھا ۔۔۔۔ نوفل نے ٹی وی بند کیا

پہلے سوچا اوپر جا کر سو جائے لیکن ناجانے کیوں جا نہیں پایا ۔تھا۔۔۔ دیکھنا چاہتا تھا کہ مائرہ کتنہ دیر کمرے میں گزارتی ہے ۔۔۔۔ اس لئے وہی۔ بیٹھا رہا ۔۔۔ دو گھنٹے بعد وہ کمرے سے آنسوں پونچتے ہوئے باہر نکلی تھی ۔۔ نوفل کو سامنے صوفے پر بیٹھا دیکھ کر فورا سے اوپر کا زینہ چڑ گئ ۔۔۔ کئ دن سے اس سے بات نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔ اگر وہ بات کرتا بھی تھا تو وہ۔ جواب نہیں۔ دے رہی تھی ۔۔۔

اگلے حالانکہ چھٹی نہیں لیکن وہ دو بجے تک لاونج میں ہی بیٹھا رہا ۔۔۔۔ مائرہ بڑی پابندی سے پورے دو بجے ہی نیچے اترتی تھی ۔۔۔۔ پھر کبھی ایک گھنٹہ تو دو گھنٹے وہ کمرے میں ہی رہتی تھی ۔۔۔۔ چار پانچ دن سے وہ یہی نوٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔

شام کو جب آفس سے واپس آیا تو سیدھا کچن میں گیا ۔۔۔۔مائرہ اسکی چائے کے لئے پانی اسٹو پر رکھ چکی تھی ساتھ ہی ڈنر بھی تیار کر رہی تھی

” رات کے ڈنر میں کیا بنا رہیں۔ ہیں ” نوفل کے سوال پر وہ چپ ہی رہی تھی ۔۔۔

” آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں میں ” نوفل نے اسے بے نیاز دیکھ کر دوبارہ سے پوچھا لیکن وہ یوں اپنے کاموں میں مصروف تھی جیسے وہ وہاں موجود ہی نا ہو وہ اسکے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا

” مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہیں ہیں آپ ۔۔۔ ” اتنے دن وہ اس سے کسی بات کا جواب نہیں دے رہی ۔۔۔ نوفل کو کہاں عادت تھی اس سے بات کیے بنا رہ سکے لیکن وہ اب بھی خاموش تھی نوفل نے ہی دل کڑا کر کے کہا

” او کے ایم سوری ۔۔۔۔ لیکن اس بار میں غلط نہیں تھا ۔۔۔۔ ” نوفل نے ہی معذرت کر کے صلح میں پہل کی تھی لیکن وہ خاموش ہی رہی چائے کپ میں ڈال کر کپ وہی۔ شلف پر رہنے دیا ۔۔۔ ڈنر بھی بن گیا تھا اس لئے چولہا بند کیا اور کچن سے باہر چلی گئ ۔۔۔ وہ اسکے روکھے رویے سے پریشان ہوا تھا

” مجھ سے دو منٹ بات کرنا گوارا نہیں ہے انہیں اور بھائی سے۔۔۔ بھائی سے دو دو گھنٹے بات کرتی ہیں ۔۔۔۔ اتنا غیر اہم ہوں میں انکے لئے ۔۔۔ میری پروا کیوں نہیں ہے انہیں ۔۔۔۔ ” اپنا جی جلاتا ہوا وہ کمرے میں چلا گیا رات کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔

رات کے پونے دو بجے کا وقت تھا جب مائرہ کے نمبر پر نوفل کی کال آئی تھی ۔۔۔۔ موندی آنکھوں سے اس نے نمبر دیکھ کر فون اٹھایا تھا

“میرا انہیلر کہاں رکھا ہے آپ نے ۔۔۔۔ ” آواز میں بے چینی سی تھی

” سائیڈ ٹیبل کے پہلے دراز میں ہوتا ہے نوفل وہیں دیکھو ” وہ اب نیند میں بول رہی اصل آنکھ تو اسکی فکس دو بجے کھلتی تھی ۔۔۔۔ بنا کسی الارم کے ۔۔ جب زریاب سے ملاقات کاوقت ہوتا تھا ۔۔۔۔

” نہیں ہے یہاں ۔۔۔ آ کر ڈھونڈ کر دیں مجھے ۔۔ میرا سانس بہت رک رہا ہے ۔۔۔۔ طعبیت ٹھیک نہیں ہے میری ۔۔۔۔ جلدی سے آئیں میرے کمرے میں ۔۔۔ انہیلر ڈھونڈ کر دیں مجھے ۔۔۔۔ ” نوفل نے فون بند کر دیا تھا ۔۔۔ مائرہ کی پوری آنکھیں کھل گئیں تھیں لحاف جھٹ سے خود سے اتر کر بیٹھ گئ تھی

” طعبیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔بکیا ہو گیا ہے اسے ” فکر مندی سے وہ فورا سے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ جلدی سے خود پر چادر اوڑھی اور کمرے سے نکل کر نوفل کے کمرے کے پاس آ کر اس نے کمرے کا نیب گھومایا تھا دروازہ لاک نہیں تھا ۔۔۔۔ وہ اندر آئی تو نوفل دراز پورا بیڈ پر الٹ کر عجلت سے انہیلر ہی ڈھونڈ رہا تھا مائرہ ہو دیکھ کر بولا

” یہاں نہیں ہے ۔۔۔ کہاں رکھا آپ نے ” نوفل کی بے چینی دیکھ کر وہ بھی پریشان ہوئی تھی جلدی سے اس کے پاس آ کر دوسرا دراز کھول کر دیکھنے لگی ۔۔۔۔ دو چار چیزیں ہٹانے پر ہی اسے انہیلر مل گیا تھا ۔۔۔۔ جس طرح سے وہ کھنچ کر با مشکل سانس لے رہا تھا ۔۔۔ جان پر تو مائرہ کے بھی بن گئ تھی ۔۔۔ جلدی سے انہیلر کو ہلا کر اسے کھول کر نوفل ہاتھ میں دیا تھا ۔۔۔

دو پف لیتے ہی نوفل نے آنکھیں بند کر لیں تھی اور اب منہ بند کر کے لمبے لمبے سانس بھر رہا تھا ۔۔۔۔

” اچانک سے کیسے سانس بگڑ گیا تمہارا نوفل ۔۔۔۔ ؟” اب وہ اس کے پاس بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔فکرمندی سے پوچھ رہی تھی

لیکن وہ اب بھی اپنا بگڑا ہوا سانس بحال کر رہا تھا ۔۔۔۔ جو ٹریس لینے سے بگڑا تھا ۔۔۔۔ کافی دن سے وہ اس سے بات نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔

رشتے کی نوعیت پر وہ آنکھیں پھیرے بیٹھی تھی لیکن نوفل نہیں ۔۔۔۔

نوفل کو زریاب سے نا جلن تھی نا ہی حسد ۔۔۔۔ بھائی تھا اس کا ۔۔۔ بے تحاشہ محبت وہ بھی اس سے کرتا تھا ۔۔۔۔ لیکن مائرہ کا اسے نظر انداز کر کے زریاب سے بات کرنا نوفل سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔

جو جا چکا تھا اس کی اتنی فکر تھی کہ ۔۔۔ دن بھر کی مصروفیت کے باوجود رات کا ایک حصہ وہ اسی کے نام کر دیتی تھی ۔۔ اور جو سامنے تھا اسے بری طرح سے نظر انداز کیے ہوئے تھی ۔۔۔۔

دس منٹ لگے تھے نوفل کو خود کو سنبھالنے میں ۔۔۔۔اس کے چہرے پر تکلیف رقم تھی جو مائرہ کی نظروں سے اوجھل نہیں تھی

” تم نے ضرور کچھ الٹا سیدھا کھایا ہو گا نوفل ۔۔۔ کھٹی چیزیں منع ہیں تمہیں ۔۔۔ لیکن تم باز نہیں آتے ہو۔۔۔۔ ضرور ایسا کچھ کھایا ہے ” مائرہ اب بیڈ پر بکھری چیزیں دوبارہ سے دراز میں رکھتے ہوئے بول رہی تھی نوفل نے آنکھیں کھول کر اسے اسے دیکھا ۔۔۔

” کبھی کبھی کسی کی بے اعتنائی بھی ناقابل برداشت ہو جائے تو سانس گھٹنے لگتا ہے ۔۔۔ لیکن کسی کو میری کیا پروا ہے ۔۔۔۔ ” نوفل کی ذو معنی بات پر مائرہ کے ہاتھ رکے تھے ۔۔۔ یاد آیا تھا کہ وہ تواس سے بات نہیں کر رہی تھی ناراض تھی۔۔۔ مائرہ نے دراز میں ساری چیزیں ترتیب سے رکھیں دراز بند کیا نوفل اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر جانے کے ارادے سے کھڑی ہوئی تھی لیکن نوفل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔

” ادھر بیٹھے میرے پاس ۔۔۔۔ ” غیر متوقع سی بات تھی اس سے پہلے کہ وہ اسکی بات پر توجہ دیتی ۔۔۔ دیوار پر لگی گھڑی دو بجنے کا الارم بجانے لگی تھی ۔۔۔۔

” میں یہاں کیوں بیٹھو نوفل ۔۔۔۔ ہاتھ چھوڑو میرا “

” اس لئے کے میری طعبیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔ آپ جانتی ہیں کہ جب میرا دم گھٹتا ہے تو اکیلا نہیں رہ سکتا ہوں میں ۔۔۔ بھائی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتے تھے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر اس نے مائرہ کا ہاتھ کھنچ کر بیڈ پر بیٹھایا تھا ۔۔۔

” کچھ دیر بیٹھ جائیں یہاں ۔۔۔ ” مائرہ کی بے چین نظریں پھر سے گھڑی کی جانب اٹھیں تھیں ۔۔۔ اور نوفل کی اس پر تھیں ۔۔۔ مائرہ نے اپنا لہجہ متوازن رکھ کر اس سے کہا

” نوفل دیکھو میں یہاں بیٹھ نہیں سکتی ہوں ۔۔۔۔ اب ٹھیک ہو تم ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں مزید بہتر ہو جاؤں گئے ” مائرہ نے اسے رسانت سے سمجھانا چاہا لیکن وہ جانتا تھا کہ مائرہ کس بات کی جلدی ہے

” نہیں ہوں میں ٹھیک ۔۔۔۔ پہلے مجھے میرا قصور بتائیں ۔۔۔۔ کیوں آپ مجھ سے بات نہیں کر رہیں ہیں ۔۔۔۔ ” نوفل کہ بات پر اس کے پیشانی کے بل مزید بڑھ گئے تھے

” یہ تم خود سے پوچھو ۔۔۔۔ اور ہاتھ چھوڑو میرا ۔۔۔ “

” ہاں تا کہ بھائی کے پاس جا کر میری شکایتیں لگائیں ۔۔۔۔ دو دو گھنٹے آپ بھائی سے میری شکایتیں لگاتی ہیں ؟۔۔۔ کیا جواب ملتا ہے آپ کو ۔۔۔۔ ؟ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔ ایک بار میرے شکوے۔ مجھ سے کر کے دیکھیں ۔۔۔ تا کہ میں آپ کو وجہ بتا سکوں ۔۔۔ ” نوفل کی بات پر وہ متعجب سی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس نے کہا زریاب سے کبھی کسی تیسرے کی بات کی تھی ۔۔۔۔

” تمہاری شکایتیں کیوں لگاو گی نوفل ۔۔۔۔ میں زریاب سے بات کرنے جاتی ہوں ۔۔۔ صرف اپنی باتیں کرتی ہوں ۔۔۔ تمہیں ڈسکس نہیں کرتی ۔۔۔۔۔ انکے پاس جا کر تمہارا خیال تک نہیں آتا ہے مجھے ۔۔۔۔ بلکہ کسی کا بھی خیال نہیں آتا ” نوفل کو یہ بات بھی اندر کہیں چبھ سی رہی تھی ۔۔۔۔۔

جی چاہا کہ اس سے کہے کہ کسی روز اس سے بھی یونہی بات کرے ۔۔۔ سب کو بھول کر ۔۔۔۔ صرف اسی سے اسی کی باتیں کرے ۔۔۔۔ لیکن کہہ نہیں پایا تھا ۔۔۔۔

” کبھی اپنی اس تصوراتی دنیا سے نکل کر بھی دیکھ لیا کریں ۔۔۔۔۔ بہت سے لوگوں کی زندگیاں جڑ چکی ہیں آپ کے ساتھ ۔۔۔۔ جنہیں آپ کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ ” نوفل اسے بس ذو معنی باتوں سے ہی سمجھا سکتا تھا ۔۔۔

” تم ہو نا نوفل ۔۔۔۔ سب سنبھالنے کے لئے ۔۔۔ میری بھلا کیا اہمیت ہے ” مائرہ کی ناراضگی اب بھی ہنوز تھی البتہ لہجہ نرم پڑ چکا تھا ۔۔۔ نوفل سمجھ گیا کہ اسے نوفل کا حق جمانا پسند نہیں آیا تھا

” آپ بنا وجہ جانے کچھ بھی کیوں سوچ لیتی ہیں ۔۔۔ جانتی ہیں کراچی کیوں چھوڑا ہے میں نے ؟ بچوں کی وجہ سے ؟ عائزہ کی کلاس کے بچے اسے اس احساس کمتری میں مبتلہ کر رہے تھے کہ جیسے یتیم ہونا ایک حقارت ہے ۔۔۔ اتنی سی ہے وہ اور پتہ کیسی کیسی باتیں برادشت کر رہی تھی ۔۔۔۔

اس لئے یہاں اسکول میں جاتے ہوئے گھبرا رہی تھی ۔۔۔ کہ پھر اسے یتیم سمجھ کر لوگ اسے ترس کھائیں ہوئی نظروں سے نا دیکھیں ۔۔۔۔ اس لئے میں ہی اسے کہا تھا کسی سے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ وہ مجھے بابا کہے گی تو کوئی اسے سے سوال نہیں کرے گا ۔۔۔ ہاں اگر چاچو کیے گی تو سںب اس سے پوچھیں گئے کہ اس کے بابا کہاں ہیں ۔۔۔ میں پھر سے اسے اسی اذیت میں مبتلہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ اتنی بڑی بات تو نہیں جس پر آپ نے اتنی زور سے مارا تھا آپ جانتی ہیں کہ عائزہ کے معاملے میں میں بے اختیار ہو جاتا ہوں ۔۔۔ مجھ سے برداشت ہی نہیں ہوتا ہے ” مائرہ خاموشی سے اسکی بات سن رہی تھی

” اس نے مجھ سے ایسا کبھی نہیں کہا ۔۔ ” مائرہ نے دھیمے لہجے سے کہا

” آپ نے کبھی پوچھنے کی کوشش ہی کی ؟ ۔۔۔۔ اور بچپن سے وہ اپنی ہر بات مجھ سے شیئر کرتی آ رہی ہے ۔۔۔۔ اس لئے مجھ سے کچھ نہیں۔ چھپا سکتی نا اپنے آنسوں نا باتیں ۔۔۔۔ اور آپ بنا وجہ جانے مجھے اتنے دنوں سے نا جانے کون سی سزا دے رہیں ہیں اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ مجھے آپ سے بات کرنے کی عادت ہے ۔۔۔۔ جب تک آپ سے باتیں نا کرو مجھے سکون نہیں ملتا ہے ۔۔۔ لیکن آپ کو پروا ہی کب ہے “

” یہ بات تم مجھے آرام سے بھی کہہ سکتے تھے ۔۔۔ جیسے اب کہہ رہے ہو ۔۔۔ تم نے بہت ذیادہ ڈانٹا تھا مجھے نوفل ۔۔۔ بات بھی سختی سے کی تھی ۔۔۔ تم چھوٹے جو مجھ سے ۔۔۔۔ مجھ پر رعب جماتے ہو تو

مجھے برا لگتا ہے ۔۔۔۔ اس لئے مجھے۔ بھی غصہ آ گیا تھا ۔۔۔۔ پھر میں بھی تو عائزہ کی ہر بات سے انجان تھی ۔۔۔۔ وہ زریاب کی جگہ تمہیں دے گی تو میں کیسے یہ برداشت کر سکتی تھی نوفل ۔۔۔تم خود سوچو ۔۔۔۔ میرے لئے یہ ناقابل برداشت سی بات ہے “

” بھائی کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ہے ۔۔۔۔ میں بھی نہیں لینا چاہتا ناہی کبھی لوں گا ۔۔۔ میری اپنی ایک حیثیت ہے ۔۔۔۔ ایک مقام ہے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔

میں چاہتا مجھے کوئی میری حیثیت اور مقام سے سے مجھے قبول کرے ۔۔۔۔ ” نوفل کی نظروں میں ایک الگ استحقاق سا تھا ذو معنی فقروں سے وہ اسے اپنے رشتے کا احساس دلانا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن سامنے والا نا فہم تھا ۔۔۔ یا پھر سمجھنا چاہتا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔

جو زندگی مائرہ جی رہی تھی وہ اسی تک محدود رہنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

” ہاں یہی بات ہے نوفل ۔۔۔۔ تمہارا ایک الگ مقام ہے تم چچا ہو انکے ۔۔۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ بچے تمہیں کوئی اور حثیت دیں ۔۔۔۔ لیکن تمہاری بات بھی ٹھیک ہے ۔۔۔۔ میں بھی یہ نہیں چاہتی کہ میرے بچے خود ترسی کا شکار ہوں ” نوفل مائرہ سے اپنی بات کر رہا تھا اور وہ اس سے بچوں کی ۔۔۔۔

” تم اب آرام کرو۔۔۔۔ اور اب میرا ہاتھ چھوڑ دو ۔۔۔۔ ولی کمرے میں اکیلا سورہا ہے ” اب تک وہ مائرہ کاہاتھ تھامے ہوا تھا ۔۔۔ لیکن اس بار دل کی ضد تھی کہ وہ اسے زریاب کے کمرے میں جانے نا دے

وہ وہیں اس کے پاس بیٹھی رہے

” ابھی بھی میری طعبیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔ سمجھ میں کیوں نہیں آتا ہے آپ کو ۔۔۔۔ تھوڑی دیر بیٹھیں رہیں یہیں۔ پر ۔۔۔ جب میں سوں جاؤں تو چلی جائیے گا ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ بیڈ پر لیٹ گیا لیکن مائرہ کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا طعبیت تو نوفل کی کافی سنبھل چکی تھی لیکن دل سنبھلنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔ اپنی آنکھیں بند کیے وہ وہ سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔

‘ مجھے پتہ ہے اس وقت ولی سے ذیادہ کہاں جانے کی جلدی ہے آپ کو ۔۔۔۔ ” جانتا تھا کہ وہ بار بار گھڑی دیکھ کیوں رہی ہے کہاں جانے کے لئے اتنی بے چین ۔۔۔ جیسے اس کمرے میں زریاب کی تصویر نا ہو ۔۔ وہ خود موجود ہو ۔۔۔۔۔ کئ دنوں سے وہ خود کو توجہ بھی نہیں دے پایا تھا ۔۔۔۔ شیو بھی بڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔ مائرہ کو کبھی کبھی اس کا یوں ضد کرنا۔۔۔ اگر اچھا نہیں لگتا تھاتو برا بھی نہیں لگتا تھا۔۔۔۔ پھر یہ بھی سچ تھا کہ جب بھی اس کا سانس یوں گھٹتا تھا وہ اکیلا نہیں رہ پاتا تھا

” تم بھی نا نوفل ۔۔۔ کبھی کبھی بچوں کی طرح ضد کرتے ہو ۔۔۔۔ بلکل ولی جیسے ہو ۔۔۔۔ وہ بھی اپنی بات مجھ سے یونہی ضد کر کے منوا ہی لیتا ہے ۔۔۔۔ ” مائرہ کی بات پر اس نے آنکھیں نہیں کھولیں تھیں ۔۔۔ بس مبہم سا مسکرا دیا تھا

” میں ولی پر نہیں ۔۔۔ وہ مجھ پر ہے ۔۔۔۔۔ ” مائرہ کی بات کی تصحیح کرنے لگا ۔۔۔

” ایک ہی بات ہے ۔۔۔۔۔ جلدی سے سو جاؤں اب میں یہیں ہوں پاس کہیں جس رہی ” مائرہ کو ہی ہار ماننی پڑی تھی کچھ دیر وہ وہیں بیٹھی رہی ۔۔۔ نوفل کے ساتھ ایسا پہلے بھی کئ بار زریاب کی زندگی میں بھی ہو چکا تھا ۔۔۔۔ جب بھی اسکی ایسی کیفیت ہوتی تھی ۔۔۔۔ زریاب نوفل کو ایک لمحے کے لئے بھی تنہا نہیں چھوڑتا تھا ۔۔۔۔ نا جانے کیوں نوفل کو ایسی حالت میں یہ لگتا تھا کہ اگر وہ تنہا ہو گا تو نا جانے اس کام گھٹ جائے گا ۔۔۔۔ یا اسے کچھ ہو جائے گا ۔۔۔۔ زریاب کا ہاتھ بھی وہ یونہی پکڑے رکھتا تھا شاید اسے یہ خوف ہوتا تھا کہ اگر وہ ہاتھ چھوڑ دے گا تو زریاب اسے تنہا چھوڑ ۔کر چلا نا جائے ۔۔۔ نوفل نیند میں جا چکا تھا مائرہ کی نظریں اسکے چہرے پر ہی مرکوز تھیں

” عمر سے پہلے کتنی ذمہ داری نبھانی پڑ رہی ہیں اسے ۔۔۔۔ ہر ایک فکر ہے اسے عائزہ کی الگ ۔۔۔ ولی کی الگ منزہ کی بھی میری بھی ۔۔۔۔۔۔ مجھے بھی بنا بات کو جانے آپے سے باہر نہیں ہونا چاہیے تھا نا جانے کیوں عائزہ کو تھپڑ مار دیا ۔۔۔۔ اتنی بڑی تو عائزہ نہیں ہے چھوٹی ہی تو ہے ۔۔۔۔ لوگ بات کرنے پہلے کیوں نہیں سوچتے کہ انکی باتوں کے نشتر سے بچوں کے نازک زہن اور شخصیت کا قدر متاثر ہو سکتی ہے” یہ سوچتے ہی زریاب کی یاد بے اختیار آئی تھی

“۔۔۔۔ زریاب کچھ وقت تو اور رک جاتے ۔۔۔۔۔ کیوں چلے اتنی جلدی ۔۔۔۔؟ ۔۔۔۔ آنکھوں میں نمی لئے اسکی نظر نوفل کے چہرے پر دوبارہ سے جا ٹکیں تھیں اس بار اسے لگا کہ نوفل نہیں زریاب سورہا ہے ۔۔۔۔ چہرے پر ہلکی ہلکی شیو زریاب کے چہرے پر ہی تھی ۔۔۔۔ نوفل نہیں رکھتا تھا کلین شیو ہی رہتا تھا ۔۔۔ لیکن چند دن سے مائرہ کی وجہ سے ڈسٹرب تھا اس لئے خود پر بھر پور توجہ نہیں دے پا رہا تھا ۔۔۔۔

مائرہ کو یک دم جھٹکا سا لگا تھا ۔۔۔۔ نوفل گہری نیند میں جا چکا تھا ۔۔۔ اس لئے اس کے ہاتھ کی گرفت بھی مائرہ کے ہاتھ پر ڈھیلی پڑ چکی تھی ۔۔۔ مائرہ کی دوسری نظر اسکے اس ہاتھ پر پڑی جو مائرہ کے ہاتھ کو تھامے ہوئے تھا ۔۔۔۔ ہاتھ کی بناوٹ بھی بلکل زریاب جیسی لگنے لگی تھی ۔۔۔۔ یا شاید پہلی بار اس نے نوفل کے ہاتھ کو اتنی توجہ سے دیکھا تھا ۔۔۔۔

زریاب کے ساتھ گزرے لمحے اسے جیسے جکڑنے لگے تھے

” آپ کے ہاتھ اتنے خوبصورت کیوں ہیں زریاب؟ مائرہ اکثر اس کے کندھے پر سر ٹکائے زریاب کا ہاتھ تھامے بڑے غور سے دیکھتی تھی ۔۔۔ چہرے کی رنگت کی طرح اس کے ہاتھوں کی رنگت بھی سفید تھی ۔۔۔ ہاتھ بھاری اور بھدے سے نہیں تھے جیسا عام مردوں کے ہوتء ہیں انگلیاں قدرے پتلی اور لمبی تھی ۔۔۔ اور ہاتھ کی بناوٹ میں خوبصورتی سی تھی

” کیا مطلب ہے ۔۔۔ میں خوبصورت نہیں ہوں بس میرے ہاتھ خوبصورت ہیں ” زریاب نے گود میں رکھا لیپ ٹاپ بند کر کے سائیڈ پر رکھتے ہوئے مائرہ سے پوچھا

” وہ تو آپ ہیں ۔۔۔ بہت سے مرد خوبصورت ہوتے ہیں زریاب لیکن انکے ہاتھ موٹے سے ہوتے ہیں ۔۔۔ لیکن آپ کے ایسے نہیں ” زریاب کے ہاتھ کے ساتھ اپنا ہاتھ جوتے ہوئے کہنے لگی

” یہ دیکھیں ۔۔۔ میرے اور آپ کے ہاتھ میں ذیادہ فرق نہیں ہے ۔” وہ مسکرانے لگا تھا

” تم بھی نا مائرہ پاگل ہو شاید ۔۔۔ اتنے غور سے میرے ہاتھوں کا دیکھتی ہو میں نے پہلے کبھی اتناغور ہی نہیں کیا کہ میرے ہاتھ دیکھنے میں کیسے ہیں ” زریاب نے شدت محبت سے مائرہ کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں پر لگایا تھا مائرہ نے مسکرا کر ایک ابرو اٹھا کر کہا

” یہ میرے عشق کی انتہا ہے جناب ۔۔۔ کہ میں محبوب کے ہاتھوں کی بھی دیوانی ہوں”

نوفل کا ہاتھ کھل چکا تھا ۔۔۔ مائرہ کا ہاتھ اب آذاد تھا وہ نوفل کے کھلے ہاتھ دیکھ رہی تھی مگر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ہٹا نہیں پائی ۔۔۔ کسی اور ہی ٹرانس میں تھی ۔۔۔ اس کا ہاتھ تھام کر بڑے غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

بلکل زریاب جیسا ہاتھ تھا ۔۔۔ بس رنگت بہت سفید نہیں تھی ۔۔۔ یک دم اپنی کیفت سے باہر آئی تھی

گھبرا کر اس کا چھوڑ کر وہ کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔ اس کے کمرے کادروازہ کھلا ہوا ہی تھا ۔۔۔ وہ وہیں سے پلٹ گئ نیچے زریاب کے کمرے میں جانے کے بجائے اپنے کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔ بیڈ پر ولی بے خبر سو رہا تھا اس کے برابر میں جا کر لیٹ گئ ۔۔۔

” یہ نوفل بھی نا جانے کیوں زریاب کی پرچھائی لگنے لگا ہے ۔۔۔۔ کبھی ۔ اتنی مشابہت سی ہونے لگتی کہ نظر دھوکہ کھا جاتی ہے ۔۔۔۔ توبہ ہے۔۔۔” اپنے ذہن کو جھٹک کر وہ ولی کے برابر لیٹ گئ

لیکن اب اکثر ایسا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ نوفل نے اس بار شیو نہیں کروائی تھی ۔۔۔۔ کچھ اپنے پروجیکٹ میں اتنا مصروف تھا کہ فرصت نہیں مل رہی تھی ۔۔۔ پھر عائزہ کی فرمائش بھی تھی کہ شیو میں وہ زریاب جیسا ذیادہ لگتا ہے ۔۔۔ اس لئے نوفل عائزہ کی بات نہیں ٹال نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔

بہت دنوں بعد اس نے آفس کی چھٹی کی تھی ۔۔۔ پورا دن بچوں کے ساتھ گزارا تھا ۔۔۔۔ شام کو اچانک ہونے والی بارش نے خوشی میں چار چاند لگا دیے تھے ۔۔۔۔

نوفل سمیت تینوں بچے بارش میں نہانے چلے گئے تھے ۔۔۔۔ چھوٹے سے لان میں پانی ڈالنے والا پائپ بھی موجود تھا ۔جس سے مائرہ پودوں میں اور لسن میں پانی دیتی تھی ۔۔ عائزہ نے نل کھول کر پائپ سے سے منزااور ولی کو نہلانا شروع کر دیا تھا ۔۔۔ تینوں بہت خوش تھے ۔۔۔ نوفل نے پائپ پکڑ کر عائزہ پر پانی برسانا شروع کر دیا تھا ۔۔۔ بس مائرہ دور کھڑی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔ بس زریاب کی یادیں تھیں جو ہر موقع پر اسے خود سے بیگانہ کر دیتیں تھیں

جب بھی بارش ہوتی تھی مائرہ ہی دونوں بچیوں کے ساتھ بارش میں نہاتی تھی وہ بس دور کھڑا ہی اسے دیکھتا رہتا تھا ۔۔۔ ایک بار وہ اسکا ہاتھ تھامے اسے بارش میں لے آئی تھی

” مائرہ یہ کیا بچپنا ہے ۔۔۔ ” وہ اس سے ہاتھ چھڑواتے ہوئے بولا

” زریاب بارش ہو رہی ہے ۔۔۔۔ آپ کیا دور کھڑے رہتے ہیں زندگی کے ہر لمحے کو انجوائے کرنا چاہیے “

” تو کیا کروں بچوں کی طرح نہاؤ ۔۔۔ میری کوئی عمر تھوڑی ہے ۔۔۔۔ بچوں کی طرح نہانے کی ؟”

” کیوں آپ بڈھے ہو گئے ہیں کیا ۔۔۔ کتنے بور ہیں آپ زریاب ۔۔۔۔ “

” میں ایسا ہی ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ ” مائرہ سے ہاتھ چھڑوا وہ دوبارہ اندر کی طرف جانے لگا تھا جب مائرہ نے عائزہ اور منزا کو اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔ وہ بھاگتی ہوئی زریاب کے پاس گئیں تھیں دونوں نے دائیں جا کر اسکے ہاتھ تھام لئے تھے ۔”

” بابا پلیز آئیں نا ۔۔ بہت مزا آ رہا ہے ۔۔۔ “

دونوں بچیوں نے جب اس کی ایک نہیں سنی تواسے واپس مائرہ کے پاس آنا ہی پڑا تھا جو اسے فہماشی نظروں سے دیکھ رہی تھی

” میری بات کی اہمیت نہیں تھی آپ کے نزدیک اپنی بیٹیوں کے کہنے آ گئے ہیں “

” تم اب پرانی ہو چکی ہو ۔۔۔۔ اس لئے تمہاری اہمیت کم ہو چکی ہے ۔۔۔ میری دو شہزادیاں نئ نئ ہیں اب انہیں تو انکار نہیں کر سکتا ۔۔۔ ” وہ دونوں بچیوں کو گود میں لے چکا تھا ۔۔۔۔ مائرہ کی خفگی سے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ وہ ہسنے لگا تھا ۔۔۔

” میں جا رہی ہوں زریاب ۔۔۔ اب اپنی بیٹیوں کے ساتھ ہی اکیلے ہی انجوائے کیجے “

” ہاں جاؤں اور جا کر گرما گرم پکوڑے بناؤ ۔۔۔ بارش میں پکوڑے اور چائے کا مزہ ہی الگ آتا ہے ” زریاب کی فرمائش پر وہ اندر چلی گئ تھی ۔۔۔

کتنے حسین دن تھے جو بس یادیں بن گئے تھے

سامنے تینوں بچے نوفل کے ساتھ بے تحاشہ خوش تھے ۔۔۔ مائرہ اندر چلی گئ ۔۔۔۔

اسکی ساری خوشیاں زریاب کے ساتھ ہی تھیں اسکے ساتھ ہی ختم بھی ہو چکیں تھیں ۔۔۔۔۔ پھر خیال آیا کہ پکوڑے تو نوفل اور بچے بھی شوق سے کھاتے ہیں اس لئے کچن میں آ کر پکوڑوں کی تیاری کرنے لگی ۔۔۔ جب بارش سے بھیگا ہوا نوفل کچن میں آیا تھا ۔۔۔

” اتنے حسین اور رومنٹک موسم میں آپ کچن میں کیا کر رہی۔ ہیں ۔۔۔ چلیں باہر آئیں ” نوفل نے اس کے ہاتھ سے پکوڑوں کے آمیزے کا باول پکڑ کر شلف پر رکھا ۔۔۔ اور اس کا ہاتھ پکڑ کر چاہے لے جانے لگا

” نوفل مجھے نہیں جانا ہے ہاتھ۔ چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔۔ ” لیکن نوفل نے اسکی ایک نہیں سنی تھی ۔۔۔۔ اسے بارش میں بچوں کے ساتھ کھڑا کر دیا تھا ۔۔۔ تینوں بچے خوشی سے ناچنے لگے تھے ۔۔۔

” اب آپ یہاں بچوں کاخیال رکھیں میں بس اب چینج کرو گا ۔۔ اس سے ذیادہ میں نہیں بارش میں نہا سکتا ۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ اندر چلا گیا تھا جانتا تھا کہ مائرہ اسکی موجودگی میں بچوں کے ساتھ کبھی بھی انجوائے نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔

عائزہ اور منزا سے ذیادہ ولی ناچ رہا تھا ۔۔۔۔

مائرہ بھی کچھ پل سب کچھ بھلا کر بچوں کے ساتھ ہسنے بولنے لگی تھی ۔۔۔۔ نوفل کپڑے تبدیل کر کے کچن میں آگیا تھا ۔۔۔۔ ایک کراہی اس نے اسٹو پر رکھی ۔۔۔ اور آئل ڈالنے لگا ارادہ تو یہی تھا کہ پکوڑے وہ خود بنا لے ۔۔۔۔ لیکن کچن سے باہر لان کی طرف کھلتی کھڑی سے جو نظارہ اس کی نظروں میں سما گیا تھا ۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں کو کوئی حسین خواب سا لگ رہا تھا ۔۔۔ عائزہ اب پائپ سے مائرہ پر پانی پھنک رہی تھی ۔۔۔ بچوں کے ساتھ بہت عرصے بعد وہ اسے یوں کھلکھلا کر ہنستے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ زریاب کے جانے بعد نوفل نے صرف اسکی سسکیاں سنی تھی ۔۔۔

یا کبھی مسکرا دیتی تھی ۔۔۔ یوں کھلکھلا کر ہنسا تو شاید بھول گئ تھی ۔۔۔ کچھ دیر وہ اسے مبہوت ہو کر دیکھنے لگا ولی کو دونوں بازوں سے پکڑ کر وہ گول گھما رہی تھی ۔۔۔ چادر سر سے اتر صرف گلے تھی ۔۔۔ پہلی بار نوفل کی نظر اسکے بالوں کی لمبی چوٹی پر پڑی تھی ۔۔۔۔ ہاتھ باندھے وہ ہر چیز سے بے خبر بس اسے ہی دیکھ رہا تھا جو اسکی اپنی ہو کر بھی غیروں کی طرح تھی

” چلو اب بس بھی کرو عائزہ ۔۔۔ بہت نہا لیا تم لوگوں نے ۔۔۔ وہ کچھ دیر بعد ہی مائرہ بچوں کو اندر لے آئی تھی ۔۔۔ آئل کے کڑکڑانے کی آواز پر وہ ہوش میں دنیا میں لوٹا تھا ۔۔۔۔ دل مسرور سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔

اگر یہ یونہی ہنستی مسکراتی رہیں تو زندگی میں رنگ تو خود ہی بھر جائیں گئے ۔۔۔ ابھی وہ پکوڑے کے لئے آمیزہ کڑاہی میں ڈالنے ہی والا تھا جب ماہرہ

لباس بدل کر کچن میں آ چکی تھی ۔۔۔ اسے کچن میں دیکھ کر متحیر ضرور ہوئی تھی

” تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔ “

” دیکھ نہیں رہیں پکوڑے بنانے کی نا کام کوشش کر رہا ہوں ایک ہاتھ بیسن میں ڈالے وہ یہ پریشان تھا کہ گرم آئل میں اسے کس انداز سے ڈالے جو پکوڑے کی شکل بن جائے ۔۔۔ مائرہ اس کے پاس آ گئ اور اس سے باول بھی پکڑ لیا

” جس کا کام اسی کو ساجھے ۔۔۔میں بنا لوں گی پکوڑے تم جاؤں یہاں سے ” اس بار مائرہ کا ڈوپٹہ اس کے سر بے نیازی سے ہی رکھا ہوا تھا ۔۔۔

” آج کچن میں مل کر کام کرتے ہیں ۔۔۔ آپ پکوڑے بنائیں چائے میں بناتا ہوں ۔۔۔ ” نوفل نے چائے کی کیتلی دوسرے اسٹو پر رکھی تھی ۔۔۔ مائرہ پکوڑے بنانے لگی جب ڈوپٹہ سر سے سرک کر اتر چکا تھا ۔۔۔۔ ہاتھ بیسن کے آمیزے سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔ نوفل کی نظریں مائرہ پر ہی تھیں ۔۔۔ پہلی بار اس کی نظروں سے وہ کچھ الجھی تھی ۔۔۔

” آپ کا ڈوپٹہ سر سے اتر گیا ہے ” نوفل نے نظروں سے ہی اس کے سر کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔

وہ بری طرح سے سٹپٹائی تھی ۔۔۔

” وہ میں ۔۔” ۔ بال گیلے تھے اس لئے اس نے چٹیا نہیں بنائی تھی ۔۔۔ سمجھ نہیں پا رہی کرے کیا ایک ہاتھ میں بیسن کا باول تھا دوسرا ہاتھ میں بیسن کے آمیزے سے بھرا ہوا تھا۔۔۔

” میں ۔۔۔ پہنا دیتا ہوں ۔۔۔ آپ کے ہاتھ بیسن سے بھرے ہیں ۔۔۔ ” دل کی بے اختیار خواہش تھی جسے وہ پوری کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ لیکن مائرہ دو قدم پیچھے ہٹی تھی

” نہیں نوفل ۔۔۔ میں خود ۔۔۔۔ ” ۔”

” ارے آپ کیسے کریں گئ ۔۔۔ میں پہنا دیتا ہوں ۔۔۔ کوئی بڑی بات نہیں ہے ” نوفل تو پھر لمحہ بھی برباد نہیں کیا تھا ۔۔۔ ڈوپٹہ اس کے سر پر پہنانے میں ۔۔۔ نظریں صرف اس کے چہرے پر ٹکی ہوئیں تھیں ۔۔۔ دل کی خواہش تھی کہ بڑی فرصت سے اسے دیکھے ۔۔۔ لیکن وہ حد درجہ نروس تھی ۔۔۔۔

اچھی طرح سے ڈوپٹہ اسے اوڑھا کر وہ چائے بنانے لگا ۔۔۔

وہ بھی پکوڑے بنانے لگی تھی ۔۔۔ نوفل کے دل کی بے تابیاں عروج پر تھیں ۔۔۔ بسر بار نظریں اسی پر جا کر ٹہر جاتیں تھیں ۔۔۔

” بہت اچھا لگا مجھے آپ نے بارش میں بچوں کے ساتھ خوب مزے کیے ہیں ” مائرہ کا پکوڑے ڈالتے ہوئے ہاتھ رکا تھا ۔۔

استفہامیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی ۔۔

” وہ یہاں سے ” نوفل اسکی نظروں کے سوال کو سمجھ کر کچن کی کھڑکی طرف اشارہ کرنے لگا جو لان کی طرف کھلتی تھی ۔۔۔

” یہاں سے یونہی بس نظر پڑ گئ تھی میری ۔۔۔۔ “, نوفل کی بات پر مائرہ کی پیشانی پر شکنیں پڑی تھیں

” وہ ۔۔۔ آپ کو یوں ہنستے ہوئے دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا تھا مجھے ۔۔۔ ایسے ہی ہنستی رہا کرے ۔۔۔ ” کیتلی میں دودھ ڈالتے ہوئے وہ بول رہا تھا

” یہ ۔۔۔ ایک ۔۔ غیر اخلاقی حرکت ہے ۔۔۔ ” مائرہ نے فرائی پکوڑے نکال کر ڈش میں رکھتے ہوئے کہا

نوفل نے اپنا پورارخ اسکی طرف کر لیا

” بھائی کے بعد میں نے آپ کو ہمیشہ روتے ہوئے دیکھا ہے ۔۔۔ آج پہلی بار یوں ہنستے ہوئے دیکھا ہے ۔۔۔ یہ کوئی غیر اخلاقی حرکت نہیں ہے ۔۔۔ میرا تو حق بنتا تھا کہ اپنی مائرہ کو یوں کھلکھلاتے ہوئے دیکھوں ۔۔۔ جسے میں نے سسکیاں بھرتے ہوئے بہت بار دیکھا ہے ” مائرہ اسکی باتوں پر جتنا حیران ہوتی اتنا کم تھا

” یہ کیا بول رہے تم ۔۔۔ ہوش میں تو ہو نا ۔۔۔ ابھی کے ابھی نکلو یہاں سے باہر نوفل ۔۔۔ ” مائرہ نے آنکھیں دیکھاتے ہوئے اسے کہا

” کیوں کچھ غلط کہہ دیا میں نے ۔۔۔ آپ کو ہنستے دیکھ کر دلی خوشی ہوئی تھی مجھے شاید منہ سے کچھ غلط نکل گیا ہے ۔۔۔ ” نوفل اپنی بات کہہ کر گڑبڑا گیا تھا اس پر مائرہ کے ہاتھ میں پکڑی کفگیر دیکھ کر بوکھلایا تھا کیا خبر اسی سے مارنا نا شروع کر دے ۔۔۔۔

” تم ایک منٹ سے پہلے باہر نکلو یہاں سے ” نوفل نے مائرہ کے ہاتھ میں پکڑی کفگیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

” اسے تو پیچھے رکھا کریں جنگیز خان کے خاندان سے تعلق ہے کیا آپ گا ۔۔۔ ہو وقت حالت جنگ میں رہتی ہیں ” وہ ایک ایک الٹے قدم کچن سے باہر کی جانب لیتے ہوئے بول رہا تھا ۔”

” ہاں اسی کے خاندان سے تعلق ہے ۔۔۔ جتنا تم مجھ سے اوٹ پٹانگ بولتے ہو نوفل ۔۔۔ کسی اور سے کہو گئے تو جوتے مارے گی تمہیں “, مائرہ کو لگا کہ وہ بے اختیار ہی بنا سوچے سمجھے جو منہ میں آیا ہے کہہ گیا ہے ۔۔۔ جیسے پہلے بھی بے فضول بہت کچھ کہہ جاتا تھا ۔۔۔۔

وہ کچن سے باہر چلا گیا

” کچھ بھی ۔۔۔ کچھ بھی کہہ جاتا ہے یہ ۔۔۔۔ “اپنی مائرہ ” ” مائرہ اس کے لفظوں پر بے یقین سی تھی

” وہ باہر کھڑا سن کر ہنس رہا تھا

” میری ہی تو ہیں آپ مائرہ جی ۔۔۔ اس بار نوفل نے بہت سوچ کر کہا ہے ۔۔۔۔ ” دل ہی دل میں وہ شاد مان سا ہوا تھا ۔۔۔

لیکن یہ خوشی بھی عارضی سی ثابت ہوئی تھی ۔۔۔

مائرہ اپنی روٹین پر واپس آ چکی تھی ۔۔۔ جو وقت مائرہ کازریاب کے کمرے میں گزرتا تھا ۔۔۔ نا جانے کیوں نوفل جلے پاؤں کی بلی بنے بے چین رہتا تھا ۔۔۔ پہلے پہل تو برداشت کرتا رہا لیکن پھر ایک مصمم ارادہ کر کے اس نے زریاب کا کمرہ لاک کر کے چابی چھپا دی تھی ۔۔۔۔

دوسری طرف مائرہ کو نوفل میں زریاب کی جھلک سی دیکھنے لگی تھی ۔۔۔ کبھی وہ بے اختیار ہنستا تو لگتا تھا کہ زریاب ہنس رہا ہے ۔۔۔ کبھی بات کرتا تو اسکی آواز زریاب کی آواز جیسی سنانی دیتی تھی ۔۔۔۔ دل کی حالت اسکی بھی بدلنے لگی تھی ۔۔۔

کئ بار وہ سامنے یوں اچانک سے ا جاتا تو مائرہ کو پہلی نظر میں زریاب کا شبہ ہونے لگتا تھا ۔۔۔۔ کچھ پل وہ بھی بے اختیاری اسے دیکھتی تھی لیکن پل میں چہرہ بدل کر پھر سے نوفل میں بدل جاتا تھا ۔۔۔ پھر خود پر ہی ملامت کرنے لگتی تھی ۔۔۔

رات کو دو بجے وہ لان میں ہی بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا جب مائرہ نیچے زریاب کے کمرے میں جانے کے لئے آئی تھی لیکن کمرہ لاک تھا ۔۔۔ پھر چابی بھی دروازے سے غائب تھی ۔۔

” نوفل کمرے کی چابی کہاں ہے ” مائرہ کہ پکار پر اس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا

” مجھے نہیں معلوم شاید ولی کے ہاتھ میں تھی ۔۔۔ ادھر ادھر کہیں رکھ دی ہو گئ اس نے ۔۔۔۔ ” نوفل کا انداز معدافعانہ تھا ۔۔۔

مائرہ پریشانی کے عالم میں اوپر جانے لگی تھی جب نوفل کی پکار پر رکنا پڑا ۔۔

” اب آپ اٹھ ہی گئی ہیں تو چائے ہی بنا دیں ” مائرہ اوپر کے بجائے کچن میں چلی گئ ایک کپ چائے بنا کر اس کے سامنے رکھ دیا وہ جو لیٹ کر ٹی وی دیکھ رہا تھا ٹی وی آف کر کے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

” اتنی ساری چائے ۔۔۔ مجھ کہاں پی جائے گی ۔۔۔ آدھا کپ آپ پی لیں ۔۔۔”

” نوفل تمہں نے کہا تھا میں تو اس وقت چائے پینے کی عادی نہیں ہوں ۔۔۔ اگر اسوقت چائے پیو گی تو رات بھر جاگتی رہو گئ ۔۔۔ “

” میں بھی اتنی زیادہ چائے نہیں پی سکتا ۔۔۔ اس لئے تھوڑی سے توآپ کو پینی پڑے گی ۔۔ میں آپ کے لئے کپ لیکر آتا ہوں ۔۔۔۔ ” نوفل کچن میں کپ لینے چلا گیا تھا مجبورا مائرہ کو صوفے پر بیٹھنا پڑا ۔۔۔۔

نوفل نے آدھی چائے دوسرے کپ میں ڈال کر اسکی طرف بڑھا دی مائرہ نے کپ پکڑ لیا نظریں بار بار زریاب کے کمرے کے دروازے کی جانب اٹھ رہیں تھیں

” بہت یاد آ رہی ہے بھائی کی ” مائرہ کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے اسی نے بات شروع کی تھی

” وہ بھولتے ہی کب ہیں ۔۔۔ ہر لمحہ ۔۔ ہر وقت بس وہی تو یاد رہتے ہیں ” مائرہ کی نظروں کے سامنے زریاب کا چہرہ سمایا تھا ۔۔۔ ۔”

” ہممم ۔۔۔ مجھے بھی بھائی بہت یاد آتے ہیں ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ کیا کریں ۔۔۔ جہاں وہ جا چکے ہیں وہاں سے کوئی بھی لوٹ کر واپس کبھی نہیں آتا ۔۔۔ “, ایک اٹل حقیقت تھی جو نوفل اسکے اندر اتارنا چاہتا تھا

” دنیا کی نظر میں وہ جس چکے ہوں گئے نوفل لیکن میرے لئے تو اب بھی یہیں ہیں اس کمرے میں ۔۔۔ میں اب بھی ان کے ساتھ جیتی ہوں ۔۔۔

میں نے زریاب سے محبت نہیں کی شاہد عشق کیا ہے ۔۔۔۔ ” مائرہ آنکھوں میں نمی سے اتری تھی چائے کا آخری گھونٹ اس نے آنسوں کے ساتھ اپنے اندر لیا تھا ۔۔۔ کپ نوفل کا خی ہو چکا تھا ۔۔ اس سے پہلے کے وہ اٹھ جاتی ۔۔

” آج بھائی کی باتیں مجھ سے کر لیں ۔۔۔ ہم الگ الگ تو کئ بار بھائی کو یاد کرتے ہیں آج مل کر لیتے ہیں ۔۔۔بڑا دل چاہتا ہے میرا کہ کسی سے بھائی ڈھیروں باتیں کیا کرو ۔۔۔۔ ” موضوع ایسا چھڑ چکا تھا کہ مائرہ وہ چھوڑ کر جا ہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔

” ہاں تو مجھ سے کر لیا کرو ۔۔۔ زریاب کی باتیں تو میں رات بھر بھی سن سکتی ہوں ۔۔۔۔ “

” آپ کو پتہ بھائی میرے سب سے بہترین دوست تھے ۔۔۔۔ میری کوئی بات سن سے چھپی ہوئی نہیں تھی نا ہی مجھ سے مخفی تھا کہ وہ آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں ۔۔۔ “, مائرہ کے سامنے زریاب جیسے آ کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔

“, میں نے بھی تو ٹوٹ کر چاہا ہے انہیں ۔۔۔ تم نہیں جانتے نوفل ۔۔۔ میں اب بھی انکے ساتھ ہوتی ہوں خوابوں میں خیالوں ۔۔۔ ہم اب ساتھ ہوتے ہیں ۔۔۔۔

سچ بتاؤں تمہیں میں نے کئ بار انہیں محسوس کیا ہے ۔۔۔ انکی دھڑکنوں کو اپنے کانوں سے سنا ہے ۔۔۔ کبھی کبھی وہ ہوا بنکر غائب ہو جاتے ہیں اور کبھی کبھی ایک وجود کی طرح سے میرے سامنے کھڑے ہوتے ہیں انکالمس تک میں محسوس کرتی ہوں ۔”۔۔ مائرہ اب حقیقت سے تصور میں جانے لگی تھی سامنے بیٹھے شخص کا چہرہ زریاب کے چہرے میں مدغم سا ہونے لگا تھا وہ سب تصور میں پہنچ چکی تھی ۔۔۔ سامنے نوفل نہیں زریاب تھا ۔۔ چہرے کے نقوش مکمل طور پر زریاب کا روپ لے چکے تھے ۔۔۔ اور آنکھوں کی کالی رنگت اب بدل کر کھلتی براؤن ہو چکی تھی

وہ بنا آنکھ چپکائے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

” زریاب آپ ” دھڑکنیں کسی اور کہہ پر چل نکلیں تھیں ۔۔۔۔

“ہاں میں ۔۔۔۔ “

بے یقین سی ہوئی تھی ۔۔۔۔ بھول بیٹھی تھی کہ کچھ دیر پہلے کہاں تھی جس سے بات کر رہی تھی یاد تھا تو یہ ۔۔۔اس وقت زریاب سامنے بیٹھا ہے ۔۔۔

” آپ سچ میرے سامنے ہیں ۔۔۔۔ غائب تو نہیں ہوں گئے نا ۔۔۔ ” وہ بے اعتبار ڈی تھی ۔۔۔ زریاب نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

لیکن وہ اب بھی بے یقین تھی اس لئے چھو کر اسے اسے محسوس کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ اپنے ہاتھ کو اس نے زریاب کے چہرے پر رکھا تھا چہرہ غائب نہیں ہوا تھا اس بار اسکی آنکھوں میں آنسوں نہیں تھے وہ رو نہیں رہا تھا ۔۔۔ نا شکایت کر رہا تھا ۔۔۔

” وہ کسی کی مورت کی مانند سکی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی ۔۔۔ آج اسے زریاب کی آنکھیں کانچ کی طرح نہیں لگ رہی۔ تھی ۔۔۔ ایک حقیقت کا روپ تھا ۔۔۔ جسے وہ محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔ بے ساختہ اس کے گلے لگ گئ تھی۔۔۔۔

” بہت محبت کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔۔۔ کیوں چھوڑ کر چلے تھے مجھے ” ” مائرہ کی اس کے گرد گرفت مضبوط ہوئی تھی اس بار زریاب نے بھی اسے اپنے حصار میں لینے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔۔۔

ورنہ ہر بار مائرہ بھی اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتی تھی اور وہ بدلے میں یا ہوا میں تحلیل ہو جاتا تھا ۔۔۔ یا بھی اس سے دامن بچاتا ہوا دور ہٹ جاتا تھا ۔۔۔

” مجھے نہیں رہنا اس مطلبی دنیا میں زریاب ۔۔۔ آج مجھے بھی اپنے ساتھ لے جائیں ہر بار مجھ سے ہاتھ چھڑا کر چلے جاتے ہیں ۔۔۔ کیوں ۔۔۔ کیوں ۔۔۔ جانتے ہیں نا میں کتنا چاہتی ہوں آپ کو ۔۔۔

” میں بھی آپ کو بہت چاہنے لگا ہوں ۔۔۔ “

” پھر وعدہ کریں کہ مجھے چھوڑ کر نہیں جائیں گئے “

” نہیں جاؤں گا کہیں بھی ۔۔۔۔۔ہمیشہ آپ کے ساتھ رہو گا ۔۔۔ نوفل آپ کوزریاب بھائی کی طرح چھوڑ کر کبھی کہیں نہیں جائے گا ” نوفل کا نام سن کر بڑی زور کا جھٹکا سا لگا تھا مائرہ کو ۔۔۔ اب بھی وہ کسی کے حصار میں مقید تھی ۔۔۔ ذہن یک دم سے تصور سے حقیقت میں آیا تھا ۔۔۔ کیونکہ تصور میں صرف مائرہ اور زریاب ہوتے تھے ۔۔ نوفل کہیں نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ پھر آج کیسے ۔۔۔۔ اپنے اندر سنائی دینے والی دھڑکنیں اجنبی سے لگیں تھیں ۔۔۔ کسی کرنٹ کی مانند وہ پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔ سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر سانس لینا بھی بھول گئ تھی ۔۔۔ وہ اب بھی اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ مائرہ کے حواس گم ہوئے تھے ۔۔۔

” نوفل ۔۔۔۔ ” یہ کہتے ہی اپنا ہاتھ بے ساختہ اپنے منہ پر رکھا تھا انجانے میں کیا بیٹھی تھی جس سے کر بیٹھی تھی ۔۔۔ فورا سے وہاں سے اٹھ کر تیزی سے اوپر کا زینہ چڑھ گئ تھی