Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 28
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 28
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
زرنش کی شادی میں بس ایک ہفتہ ہی رہ گیا تھا ۔۔۔۔ سارے کام کی ذمہ داری شزا پر آ چکی تھی ۔۔۔ شبو نے مایوں کے نام پر زرنش کو ایک الگ کمرے میں بیٹھنے کا مشورہ دیا تھا ۔۔۔۔ شزا نے زرنش کے سسرال والوں کے تمام جوڑو کو پیک کر کے اٹیچی الگ رکھ دیا ۔تھا۔۔۔ تھک ہار کر وہ اپنے کمرے میں جانے کا ہی سوچ رہی تھی ۔۔۔۔ جب شبو نے ایک نیا شوشا چھوڑا تھا
” آج سے زرنش عرفان کے کمرے میں ہی رہے گی ۔۔۔
اپنی شادی تک کمرے سے باہر نہیں آئے گی ۔۔۔۔ ” بے ساختہ تو عرفان بھی شبو کو دیکھنے لگا ۔۔۔
اپنے کمرے میں سونے اٹھنے بیٹھنے کی آزادی ہوتی ہے ۔۔۔۔ پھر اپنی ہر چیز موجود ہوتی ہے ۔۔۔۔ اگر زرنش وہاں بیٹھ جاتی تو شزا کو بھی رات ۔۔۔
” کل سے مہمان آنے شروع ہو جائیں گئے ۔۔۔۔ زرنش کا سب کے سامنے جانا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ جتنے لوگ دیکھیں گئے اتنا ہی روپ نہیں چڑھے گا اور بینش اور زرنش کا کمرے سے گزر کر اماں جی کا کمرہ آتا اور مہمانوں کا اماں جی کے کمرے میں آنا جانا لگارہنا ہے ۔۔۔۔ ” شبو نے وضاحت دیتے ہی فوراسے حکم بھی جاری کر دیا تھا شہزاد بھی وہیں موجود تھا شزا نے اسوقت تو کچھ نہیں کہا لیکن جا کر اپنے کمرے میں لیٹ گئ ۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی عرفان کمرے میں داخل ہوا تھا
” شزا تم آج سے ڈرائنگ روم میں بستر زمین پر ڈال کر سو جاؤں بس ایک ہفتے کی تو بات ہے زرنش کی شادی ہو جائے تو ۔۔۔۔” عرفان کی بات پر وہ اٹھ کر بیٹھ گئ
” عرفان یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔ میں کم از کم اپنا کمرہ تو بہرحال خالی نہیں کر سکتی ۔۔۔ کیا اپنی ہر ضرورت کی چیز لینے کے لئے مجھے اپنے ہی کمرے میں زرنش کی اجازت لیکر آنا پڑے گا ۔۔۔ پورا دن کاموں سے تھک ہار کر میں آرام کرنے کے لئے بھی پورے گھر میں خالی جگہ تلاش کرتی پھیرو گی ۔؟۔۔ کم از کم کبھی تو جائز بات پر بھی میرا ساتھ دیدیا کریں ” شزا زچ سی ہو گئ تھی۔۔۔
” اتنی بڑی بات بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ جتنا تم ایشو بنا رہی ہو ۔۔۔ ” عرفان نے اپنی ہی بات اوپر رکھی تھی ۔۔۔ شزا بس اسے دیکھتی ہی رہ گئ ۔۔۔۔ اتنے جتن اور کوشش کے بعد بھی عرفان اب بھی اسکا نہیں تھا ۔۔۔۔ اب بھی ماں اور بہن کی بات اسکے لئے حرف آخر تھی
” میں کہیں نہیں جا رہی ۔۔۔ جا کر کہہ دیں شبو آپاں سے ۔۔۔ اپنا گھر پاس ہوتے ہوئے بھی وہ ہر وقت یہیں موجود ہوتی ہیں ۔۔۔ ایک کمرہ تو انکے لئے مخصوص رہتا ہے اتنا ہی بہن کا خیال ہے تو اپنا کمرہ دیدیں ” شزا نے صاف انکار کیا اور دوبارہ سے لیٹ گئ ۔۔۔
” عجیب احمق ہو تم ۔۔۔ ارے کچھ ہی سالوں کی بات ہے ۔۔۔ تھوڑا سا صبر کر لو لو تو حالات بدل جائیں گئے ۔۔۔ زرنش اپنے گھر کی ہونے جا رہی ہے ۔۔۔ ایک سال تک بینش اور فرقان کی شادی بھی ہو جائے گی ۔۔۔۔ پھر خود با خود تمہاری ذمہ داریاں بٹ جائیں گئیں ۔۔۔۔ سدا دن ایک سے تو نہیں رہتے ۔۔۔۔ “
” یہی آپکی باتیں سن کر۔۔۔۔ میں پورا دن کاموں میں جتی رہتی ہوں ۔کہ وقت بدل جائے گالیکن
نہیں وقت خود نہیں بدلتا جب تک ہم خود اسے بدلنا نا چاہیں جب تک آپ خود کو نہیں بدلیں گئے عرفان میرا وقت کبھی نہیں بدلے گا ۔۔۔ میں اپنا کمرہ ہر گز نہیں دے سکتی ۔۔۔۔ ” شزا اپنی موقف پر قائم تھی جب کمرے کا دروازہ کھٹکا تھا ۔۔۔
” شزا زرنش ہو گی چلو اٹھو۔۔۔ میں انکار نہیں سنو گا ” عرفان اب بھی اس سے ہی اپنی بات منوا رہا تھا جیسے شزا کی بات اس کی نظر میں بے وقعت سی تھی ۔۔۔۔ ہاتھ پکڑ کر اس نے شزا کو اٹھایا تھا ۔۔۔ شزا نے غصے سے اپنا تکیہ اور لحاف اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔ ڈرائنگ روم میں پہلے سے میٹرس بچھا ہوا تھا وہ آکر لیٹ گئ ۔۔۔۔ دیور بھی اپنے کمروں سے باہر تھے کیونکہ انکے کمرے میں شبو اپنے میاں کے ساتھ قیام پزیر تھی ۔۔۔۔ تینوں دیور صوفوں ہر لیٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔ بینش زرنش کے ساتھ اسکے کمرے میں تھی ۔۔۔ عرفان نے کمرے ایک کونے میں اس کا میٹریس بچھایا تھا،اور دوسرے کونے میں اپنا ۔۔۔ لیکن یوں دیوروں کی موجودگی میں وہ اکیلی ہی وہاں لیٹی تھی ۔۔۔ پوری رات ٹھیک سے سو نہیں پائی تھی ۔۔۔۔عرفان کو لیٹتے ہی سو چکا تھا ۔۔۔۔شزا کی بار بار آنکھ کھل جاتی تھی کبھی پاؤں سے لحاف اتر جاتا تھا تو کبھی چہرے سے ۔۔۔۔
” پتہ عرفان کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ میرا یوں سونا مناسب نہیں ہے ۔۔۔۔۔ بے شک یہ تینوں میرے بھائیوں جیسے ہیں لیکن حقیقی بھائی تو نہیں ہے ۔۔۔ پھر سگے بھائیوں کے سامنے بھی میں اکیلی یوں نہیں سو سکتی ۔۔۔۔ یہ تو کوئی طریقے کار نہیں ہے ۔۔۔۔ صبح سویرے ہی اسکی آنکھ لگی تھی جب پیٹ پر پاوں کی زور کی ضرب نے اسے بلبلانے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔۔تڑپ کر آنکھ کھلی تھی سامنے اماں جی کھڑی تھی اپنے پاؤں سے اسکے پیٹ پر ضرب لگائی تھی
” اٹھو کب تک یوں نحوست پھیلائے رکھو گی ۔۔۔ ناشتہ بناؤ اٹھ کر ۔۔۔۔ ” شزا کراہ کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔
ایسے تو کوئی اپنے ملازموں کے ساتھ بھی سلوک نہیں کرتا ۔۔۔۔۔ فرقان کی آنکھ پہلے ہی کھل چکی تھی اٹھنے کے بارے میں سوچ رہا تھا جب ماں کی کارستانی اسکی نظروں سے گزری تھی
وہ اٹھتے ہی پیٹ پکڑ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔ عرفان سمیت سب اٹھ کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔
” کیا ہوا ہے کیوں ڈرامے بازی کر رہی ہو ” اماں جی اسکے رونے پر غصے سے اسے آنکھیں دیکھاتے ہوئے بولیں ۔۔۔ عرفان اٹھ کر شزا کے پاس آیا تھا تینوں دیور بھی اٹھ کر صوفے پر بیٹھ گئے
” تمہیں کیا ہوا ہے “,
” عرفان میرے پیٹ میں بہت درد ہو رہا ہے ۔۔۔ اماں جی نے بہت زور سے پاؤں مارا ہے ۔۔۔ ” اماں جی یہ سن کر صاف مکریں تھیں ۔۔۔۔
” ارے کیسی جھوٹی لڑکی ہو تم ۔۔۔ عرفان اس کی ڈرامے بازیاں اب مجھ سے برداشت نہیں ہوں گئیں ۔۔۔۔ کام نا کرنے کے بہانے بن نے آ رہی ہے “
” شزا کے واقع ضرب بہت زور سے لگی تھی … درد کے مارے وہ دہری سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔اماں جی کے رویے سے فرقان کو ضرور غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔ ایک غیر انسانی سلوک تھا ۔۔۔
” اماں جی یہ کیا طریقہ ہے ۔۔۔۔ ایک تو آپ لوگوں نے انہیں انکے کمرے سے باہر نکال دیااوپر سے یوں اٹھاتے ہیں کسی کو ۔۔۔۔میں خود دیکھا آپ کو ٹھوکر مارتے ہوئے ۔۔۔۔ اگر شبو آپاں ۔۔۔ زرنش اور بینش ہوتیں تو کیا آپ انہیں بھی ٹھوکر مارتیں ” فرقان کی صاف گوئی پر وہ کچھ گھبرائیں تھیں ۔۔۔ لیکن یک دم ہی سنبھل گئیں
” کیا بکواس کر رہے تم ۔۔۔۔ ارے کم بخت ماں پر جھوٹا الزام لگاتا ہے ۔۔۔۔ ” فرقان نے انکے غصے کو نظر انداز کیا اور عرفان سے بولا
” عرفان بھائی آپ کو نظر نہیں آتا ۔۔۔۔ کیسے بے حس ہیں آپ بھی ۔۔۔ ” فرقان کا صبر کا پیمانہ لب ریز ہوا تھا ۔۔۔۔ شزا رو رہی تھی ۔۔۔۔ عرفان خاموشی سے اسے سہارا دے کر کمرے تک لے گیا ۔۔۔۔ کمرے کے دروازے پر دستک دی ۔۔۔ بینش نے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔۔ زرنش بھی اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
” باہر جاؤں تم لوگ شزا کی طعبیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ وہ یہی آرام کرے گی ” عرفان نے دھیمے لہجے سے بہنوں سے کہا لیکن وہ یہی
سمھیں کہ شزا نے انہیں کمرے سے نکالنے کے لئے بہانہ کیا ہے ۔۔۔۔۔ اس لئے منہ کے زوایے بگاڑتی ہوئیں کمرے سے باہر نکلیں۔۔
شبو جب اٹھ کر کمرے سے باہر آئی تو زرنش اور بینش نے ساری کہانی اپنے انداز سے اسے سنائی
” دیکھ لو آپاں ۔۔۔ کام سے بچنے کا اور کمرے ہے ۔ہمہیں نکالنے کا کیسا بہانہ تراشا ہے بھابھی نے ۔۔۔۔ عرفان بھائی تو یوں اسے نخرے اٹھاتا کے جیسے ۔۔ بڑی کوئی اسکی نسل بڑھائے کے قابل ہے یہ نواب زادی ” زرنش دل جلائے بولی ۔۔۔۔
” ٹھہرو ذرا،اس عرفان کا تو میں دماغ درست کرتی ہوں ” شبو لال بھبوکا بنی ڈرائنگ روم داخل ہوئی تھی جہاں اماں جی چاروں بیٹوں اور داماد کے سامنے شزا کے برائیاں زور وشور سے کر رہیں تھیں
” ارے یہ ہوتے ہیں گھر میں آئی بہو کے طور طریقے نند کی شادی سر پر ہے کل سب مہمان یہاں جمع ہو جائیں گئے اور بجائے کچن سنبھالنے کے محترمہ بستر سنبھالے بیٹھیں ہیں ۔۔۔ ” اماں جی ہی کم نا تھیں کے شبو بیگم بھی انکے برابر آ کر بیٹھ گئیں
” عرفان ذرا یہ تو بتاؤں مجھے ۔۔۔ یہ کیا تمہاری بیوی میرا کمرہ ۔۔ میرا کمرے کی رٹ لگائے رکھتی ہے ۔۔ پیچھے باپ سے سے لیکر آئی ہے کمرہ ۔۔۔۔ ” شبو کی۔ چرب زبانی پر عرفان تو کچھ نہیں بولا البتہ فرقان بول پڑا
” گستاخی معاف شبو آپاں ۔۔۔ کمرہ تو آپ بھی شہزاد بھائی کے گھر ۔۔۔ یہاں اٹھا کر نہیں لے کر گئیں ۔۔۔۔ اور حق توآپ ایسے ہی جماتیں ہیں ۔۔۔۔ انکے گھر کی چابی آپ شہزاد بھائی کو دینے کے بجائے اپنے پلو سے باندھے پھرتی ہیں ۔۔۔۔ وہ بچارے تو نا گھر کے ہیں نا گھاٹ کے ” فرقان نے بس
آدھی ضرب الامثال دی تھی ۔۔۔۔ باقی سمجھدادادوں کے لئے اشارتاً چھوڑ دی تھی شہزاد نے پہلو بدل کر رہ گیا تھا ۔۔۔ ماتھے پر بل۔ بھی ڈال لئے شبو تو تلملا کر رہ گئ
” مطلب کیا ہے تمہارا ” شبو کی توپوں کارخ اب فرقان کی طرف تھا ۔۔۔۔
” ارے آپاں جی جب بیٹی اپنے گھر کی ہو جاتی ہے تو اپنا گھر سنبھالتی ہے ۔۔۔۔ روز روز بیٹی میکے آئے اور داماد بھی وہی۔ کا ہو کر رہ جائے تو ۔۔۔ لوگ تو یہیں مثال دیتے ہیں ۔۔۔۔ آپ اگر چار گھر چھوڑ کر اپنے کرایے کے گھر تشریف لے جائیں تو ۔۔۔۔ زرنش کی فرسودہ مایوں کی رسم بھی آپ کے کیے گئے قول کے مطابق ادا ہونے آسانی ہو جائے گی ۔۔۔۔
اور یہ بھلا مناسب لگتا ہے کہ اپنا کمرہ ہونے کے باوجود بھابھی یہاں ہم سب دیوروں کی موجودگی میں کونے میں سو کر وقت گزاریں ۔۔۔ معاف کیجیے گا آپاں ۔۔۔ بہن بھائی بھی جوان ہو جائیں توایک کمرے میں سونے سے احتیاط ہی کرتے ہیں ۔۔۔۔
وہ پھر بھابھی ہیں انہیں انکے کمرے میں رہنے دیں ۔۔۔۔ ” فرقان نے تو بنا تامل کے شبو کے ساتھ ساتھ شہزاد کو بھی سنا دیا تھا ۔۔۔۔ شہزاد اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔ تھوڑی دیر کے لئے غیرت جاگی تھی
” شبو مجھے گھر کی چابی دو ۔۔۔۔ تم چاہے یہاں رہو یا جہاں چاہے رہو ۔۔۔ میں اپنے گھر ہی رہا کروں گا ۔۔۔ ” شہزاد کے بدلتے تیور دیکھ کر شبو نے فرقان کو قہر بھری نظروں سے گھورا تھا
” پڑ گئ تمہارے کلیجے میں ٹھنڈ ۔۔۔۔ ارے بھاڑ میں جائے آپ لوگوں کی شادی ۔۔۔۔ میں ہی پاگل ہوں جو اپنا گھر بار چھوڑ کر بہن کی محبت میں چلی آتی ہوں ۔۔۔ آپ لوگوں کے سو جھملیے گھر کے سنبھال رہی ہوں ۔۔۔۔ اور میرے ہی میاں کو دھوبی کا بنا کے رکھ دیا ہے آپ لوگوں نے ۔۔۔ چلو۔ جی میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں ” شبو بھی ٹسوے بہاتی ہوئی کھڑی ہو گئ
” جائیں تمہارے دشمن ۔۔۔۔ تمہارے باپ کا گھر ہے جب چاہو جم جم آؤ نے چاہو رہو ۔۔۔ یہ لوگ کون ہوتے ہیں کچھ کہنے والے ۔۔۔۔ چل فرقان معافی مانگ بہن اور بہنوئی سے ۔۔ ورنہ عاق کر دونگی تجھے جائیداد سے ۔۔۔ روتے پھرنا گلیوں میں ” اماں جی کی بات سن کر فرقان غصے سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
” اماں جی جہاں آپ جیسی مائیں ہوتیں ہیں وہاں بہوئیں تو ہر گز نہیں بس سکتیں ۔۔۔ زرنش کے بعد بینش کی بے شک سے رشتہ ڈھونڈ لیں لیکن میں شادی ہر گز نہیں کروں گا ۔۔۔۔ کسی کی بیٹی کی بد دعا نہیں لینی مجھے ” اماں جی کو یہ کہہ وہ شبواور شہزاد کے سامنے کھڑا ہو گیاغصے سے بڑی بہن کو دیکھا پھر غصے سے ہی زور سے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مار کر معافی کے انداز کھڑا ہو بولا اور سر بھی جھکا لیا
” معاف دیں مجھے ۔۔۔۔ ” معافی بھی اس نے یوں مانگی جیسے اپنی خار نکالی ہو
اور کمرے سے باہر نکل گیا
“شہزاد بھائی آپ اسکی باتوں کا برا نا منائیں بد تمیز سا ہو گیا ہے ۔۔۔
میں معذرت کرتا ہوں آپ سے آپ غصہ تھوک دیں اور آپاں آپ بھی۔۔۔۔ اور جب تک چاہیں یہاں رہیں
ہم بھلا کون ہوتے ہیں منع کرنے والے ” عرفان نے ہی
صلح جوئی سے معاملہ سلجھایا تھا ۔۔۔۔
*/******
بدر صبح دوسرے کمرے سے باہر نکلا تھا اسکی والدہ اسے دوسرے کمرے سے باہر نکلتے دیکھ کر پریشان سی ہوئیں تھیں ۔۔
” تم اس کمرے میں ۔۔۔ ؟ دلہن کہاں ہے ” اپنی والدہ کے سوال کا جواب دئیے بنا ہی وہ گھر سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
” کیسا عجیب شخص ہے۔۔۔ پتہ نہیں اسے کیا ہوا ہے ۔۔ جو یوں منہ پھلائے باہر چلا گیا ۔۔۔ ارے وہ رمشہ کیاسوچ رہی ہو گئ کیسے بے مروت لوگ ہیں ۔۔۔” ماں کو بہو کی فکر ستائی تھی
وہ رمشہ کے کمرے میں دستک دینے لگی ۔۔۔۔ لیکن وہ گہری نیند میں تھی ۔۔۔۔ مسلسل دستک سے بامشکل رمشہ نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔ گھڑی پر نظر ڈالی تو دن کے نو بج رہے تھے ۔۔۔
” اتنی صبح صبح ۔۔۔ کیا مصیبت ہے ” یہ کہہ وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔ غصے سے دروازہ کھولا سامنے ساس کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر بیزار سا ہوئی تھی
” جی فرمائیے ۔۔۔ کیوں صبح صبح دروازہ پیٹ رہیں ہیں ۔۔۔ ” بڑی کوفت سے اور بد تمیزی سے جواب ملا تھا انکی مسکراہٹ چہرے سے غائب ہوئی تھیں ۔۔۔ وہ صبح سے کچن میں نئ نویلی دلہن کے لئے ناشتے کی تیاریوں میں لگیں ہوئیں۔ تھیں ۔۔۔ جسے بڑے چاؤ سے بیا کر لائیں تھیں ۔۔۔ لیکن اس کا یہ روپ دیکھ گم صم سی رہ گئیں تھیں
” بیٹا میں تمہارے لئے ناشتہ بنا رہی تھی ۔۔۔ “
” اتنی صبح صبح ۔۔۔۔ میں اتنی صبح ناشتہ نہیں کرتی ۔۔۔ سونا چاہتی ہوں اس لئے مہربانی فرما کر میرادروازہ مت کھٹکائیے گا ۔۔۔۔ کیا مصبت ہے ۔۔۔۔اپنی مرضی سے سو بھی نہیں سکتے ۔۔۔ ” یہ کہہ رمشہ نے زور سے دروازہ بند کیا تھا ۔۔۔۔ وہ تو ہلکا بکا سی رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔ اتنی بد لحاظ لڑکی تھی ۔۔۔۔۔
*******……
کچھ ہی دیر میں زونیرہ کمرے میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔ کھانے کے لئے عفیرہ کو بلانے لگی ۔۔۔۔ عائزہ نوفل کے پاس ہی بیٹھی تھی ۔۔۔ یہ اسکی عادت تھی یا چچا سے دلی محبت جب تک وہ گھر پر ہوتا ۔۔۔ وہ نوفل کے ساتھ ساتھ ہی رہتی تھی ۔۔۔ ٹی وی اسکے ساتھ بیٹھ کر دیکھتی تھی ۔۔۔ پڑھتے وقت بھی کوئی مشکل پیش آتی تو مائرہ کے بجائے نوفل سے پوچھتی تھی ۔۔۔۔ رات کو اس سے باتیں کرتی رہتی تھی کبھی اسکول کی کبھی دوستوں کی ۔۔۔ کبھی منزہ کی ۔۔۔۔ گو کے ہر بات اسی سے شیر کرتی تھی ۔۔۔۔ اب بھی بار بار عفیرہ کے بے فکر چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جو چودی کر کے بھی پریشان نہیں تھی ۔۔۔۔ بلکہ مطمئن تھی ۔۔۔۔ کھانے کے بعد زونیرہ مائرہ اور عفیرہ کو پھر سے کمرے میں لے آئی ۔۔۔
” بھابھی میں اس بار لپ اسٹک کے نئے شیڈ لائی ہوں دیکھاتی ہوں آپ کو ۔۔۔۔ بہت ڈفرنٹ سے ہیں اور پتہ مجھے کچھ سستے بھی مل گئے تھے۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر زونیرہ ڈرسنگ سے اپنی لپ اسٹک ڈھونڈنے لگی لیکن مطلوبہ لپ اسٹک تو عفیرہ کے پرس میں جا چکیں تھیں ملتی کیسے ۔۔۔۔ زونیرہ نے ڈرسنگ اچھی طرح سے دیکھ لیا لیکن لپ اسٹک نہیں ملیں ۔۔۔
” کہاں چلیں گئیں ابھی تو یہیں تھیں ” زونیرہ پریشان ہوئی تھی اندر عفیرہ بھی گھبرا گئ تھی ۔۔۔۔ لیکن چہرے سے مطمئن تھی۔۔۔
پھر زونیرہ نے باری باری ڈرسنگ کے سارے دراز کھنگال ڈالے لیکن لپ اسٹک نہیں ملیں ۔۔۔
” چھوڑو بھی زونی ۔۔۔۔ بعد میں دیکھا دینا ۔۔۔۔ تم کہیں رکھ کر بھول گئ ہو گئ “
‘ سرے نہیں بھابھی ۔۔۔۔ میں ابھی تو لگائی ہے ۔۔۔ یہ وصی کے کام ہیں ۔۔۔ پوچھتی ہوں اس سے کہ کہاں رکھیں ہیں وصی نوفل کے ساتھ باہر بیٹھا باتوں میں مصروف تھا عائزہ اور منزہ بھی وہیں تھیں جب زونیرہ نے وصی سے دریافت کیا
” کیا ہو گیاتمہیں ۔۔۔۔ میں کیوں اٹھانے لگا تمہارا کاسمیٹک ۔۔۔ میرا ان چیزوں سے کیاواسطہ ۔۔۔۔ “
” وصی میں نے ابھی لگائی تھی اور اب مل نہیں رہیں۔ ہیں جہاں ہو سکتی ہیں ۔۔۔ ” زونیرہ پریشان ہوئی تھی ابھی کل ہی وہ لیکر آئی تھی ۔۔۔
” آنٹی وہ آپ کی لپ اسٹک چاچی کے پاس ہیں انہوں نے اپنے پرس میں رکھیں تھیں ” عائزہ نے فورا بتایا تھا ۔۔۔۔ لپ اسٹک کھو جانے سے زیادہ شوکڈ باہر بیٹھے تینوں نفوسوں کو لپ اسٹک مل جانے پر ہوا تھا ۔۔۔۔
” عائزہ یوں نہیں کہتے ۔۔۔ بری بات ہے میں ہی رکھ کر شاید بھول گئ ہوں گی ” زونیرہ کچھ بے یقین ڈی ہوئی تھی ۔۔۔۔ ایسی حرکت کون سی لڑکی کر سکتی ہے ۔۔۔۔
” نہیں آنٹی میں سچ کہہ رہی ہوں میں خود انہیں آپ کی لپ اسٹک اور پرفیوم پرس میں ڈالتے دیکھا ہے ۔۔۔۔ چاچو میں سچ کہہ رہی ہوں آپ انکا پرس دیکھ لو ” جس یقین سے وہ بات کر رہی تھی۔۔۔ نوفل کو یقین سا ہونے لگا تھا ۔۔۔ اور اگر یہ حرکت عفیفہ نے کی تھی تو شرمندگی کا مقام تھا ۔۔۔ نوفل کو وہ ویسے ہی اپنی حرکتوں کی وجہ سے ناپسند سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔ اور اب یہ حرکت ؟ وہ اٹھ کر کھڑا ہوا اور سیدھا وصی کے کمرے میں چلا گیا
” وصی نے پہلے عائزہ کی طرف دیکھا ۔۔۔ بچی تھی اس لئے اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔ اور بات اب ہاتھ سے نکل چکی تھی ۔۔۔ زونیرہ اور وصی بھی نوفل کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔ نوفل سیدھا عفیرہ کے پاس گیا اور اس کا پرس اس کی گود سے پکڑا اور کھول کر بیڈ پر الٹ دیا ۔۔۔ وہ منع ہی کرتی رہ گئ لیکن نوفل نے ایک نہیں سنی تھی ۔۔۔ پل بھر میں زونیرہ کی ساری چیزیں اس کے پرس سے برآمد ہو چکیں تھیں ۔۔۔۔ عفیرہ کاسب رنگ اڑا تھا ۔۔۔ پھر سنبھل کر بولی
” یہ سب میرے پرس میں کس نے ڈال دیں ” وہ یوں انجان بنی جیسے اسے کچھ خبر ہی نا ہو
” شرم نہیں آتی تمہیں ۔۔۔ اس قسم کی گھٹیا حرکت کرتے ہوئے ؟ ” نوفل کا تو غصے سے برا حال تھا ۔۔۔۔
” جانے دو نوفل ” وصی اس کے قریب آ گیا ۔۔۔۔
” کیا مطلب ہے نوفل میں بھلا ایسا کیوں کروں گی ” عفیرہ نظریں چرا رہی تھی ۔۔۔ ماتھے پر نمودار ہوتے پیسنے بھی پونچ رہی تھی لیکن اپنے موقف پر قائم تھی
” عائزہ نے خود دیکھا ہے تمہیں یہ سب چراتے ہوئے ۔۔۔۔ کس چیز کی کمی ہے تمہیں جو تم اس قسم کی اوچھی حرکتوں سے بھی باز نہیں آتی ۔۔۔۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔ ” نوفل جتنا افسوس کرتا کم تھا ۔۔۔۔
” ہاں تو عائزہ نے ہی رکھیں ہوں گی اور الزام مجھ پر لگا رہی ہے ۔۔۔ کیسی جھوٹی اور بے تم بچی ہے ” عفیرہ بوکھلا تو اچھی خاصی گئ تھی لیکن نام عائزہ پر لگانے لگی ۔۔۔ مائرہ اب تک یہی سمجھ نہیں پارہی جو کچھ اسکے سامنے ہو رہا تھا ۔۔۔۔ ارے ایسا کب کوئی عورت کرتی ہے کہ دعوت کھانے آئے اور چیزیں چرا کر پرس میں رکھ لے ۔۔۔۔
اور پھر عائزہ پر چوری کا الزام ؟۔۔۔۔۔ آج تک اسکی بچیوں نے کبھی کسی چیز کو خود سے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا کجا چیز اٹھا کر پرس میں رکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
” اوہ شٹ اپ ۔۔۔ خبردار جو میرے بچوں پر کوئی بھی الزام لگایا تو ۔۔۔۔ ” وہ غصے سےخانلھہں دیکھاتے ہوئے انگلی اٹھا کر بولا
” تو کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔۔ میں چور ہوں ارے بچی ہے اور بچے ایسی حرکتیں کر لیتے ہیں ۔۔۔ چیزیں اٹھا کر پرس میں ڈال سکتے ہیں ۔۔۔ آپ نے مجھ پر الزام بھی کیسے لگایا ” ایک تو چوری اس پر سینہ زوری ۔۔ والی مثال تھی ۔۔۔۔ وہ نوفل پر ہی برس پڑی
” شٹ اپ عفیرہ” وہ چلا کر بولا تو عفیرہ کو چپ ہونا پڑا پڑا ۔۔۔
” تمہیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں میرے بچوں کو ایسی عادت ہر گز نہیں ہے ۔۔۔ اپنی غلطی ماننے کے بجائے تو زبان چلا رہی ہو میرے سامنے ” جس قدر اس کا لہجہ بلند ہوا تھا زونیرہ تو اپنی ہی چیزوں کے بارے میں پوچھ کر پچھتائی تھی اس پر وصی کی گھورتی نظریں بھی زونیرہ پر تھی ۔۔۔ اچھا خاصا تماشہ سا لگ گیا تھا ۔۔۔
مائرہ اس بار کچھ نہیں بولی ۔۔۔ کیونکہ بات اسکی تربیت پر آ گئ تھی ۔۔۔۔۔ اس لئے عفیفہ کی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی بیٹی کو جھوٹا نہیں کیا ۔۔۔۔
نوفل کے لئے ہمسفر کا انتخاب کرنے میں بہت بڑی غلطی کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔ عفیرہ بد لحاظ ۔۔۔ بد زبانی تو تھی ہی ۔۔۔ اور اب چور بھی ۔۔۔۔۔
” اچھا نوفل اب چھوڑو بھی۔ اس بات کو ” وصی نے ہی نوفل کو پیچھے کیا تھا
” ایم رئیلی سوری وصی ۔۔۔ بہت شرمندہ تم سے ۔۔۔۔ مجھے ذرا بھی اندا،ہ ہوتا تو کبھی اڈے تمہارے گھر لاتا ہی نہیں ” نوفل نادم سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ کہیں منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوٹا اس نے ۔۔۔
” اوہ نہیں یار بس ختم کرو اس بات کو ۔۔۔۔” وصی نے نوفل کی خفت مٹانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ نا عفیرہ نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا ۔۔۔ نا معذرت کی تھی ۔۔۔۔ گاڑی میں بھی منہ پھلائے بیٹھی رہی ۔۔۔۔ گھر آ کر بھی سیدھا کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ نوفل لاونج کے صوفے پر سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ دن با دن جیسے جیسے عفیرہ کے کردار کے جوہر نوفل پر کھل رہے تھے عفیرہ اسکے دل سے اتر کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔
” تم فکر مت کرو ۔۔۔ ٹھیک ہو جائے گی ” مائرہ نے دھیرے سے کہا نوفل نے سراٹھا کر اسے دیکھا
” جانے دیں بھابھی ایسی لڑکیاں کبھی نہیں سدھرتیں ۔۔۔۔ کب سے میں اسکی حرکتیں۔ بتداٹ کر رہا ہوں ۔۔۔۔ لیکن آج تو ۔۔۔۔۔۔ ” وہ ضبط سے گزر رہا تھا اپنے مزاج کے بر خلاف عفیرہ کو برداشت کر رہا ۔۔۔ لیکن چوری ؟ نا قابل یقین سی بات تھی ۔۔۔۔
” مجھ سے غلطی ہو گئ نوفل ۔۔۔۔ تمہارے لئے غلط لڑکی کا انتخاب کر بیٹھی ” مائرہ خود خفت
ہاں مبتلہ ہوئی تھی
” آپ کا کیاقصور ہے ۔۔۔۔ بد قسمتی اگر قسمت میں لکھی جا چکی ہو تو ۔۔۔ مل کر رہتی ہے ۔۔۔۔۔ کسی کا کوئی قصور نہیں ہوتا ۔۔۔۔ آپ کا کوئی قصور۔ نہیں ہے ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
مائرہ اپنے اندر سبکی سی محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
نوفل کو ایک محبت کرنے والے ہمسفر کی ضرورت تھی جس سے اپنے غم اور خوشی کو شیر کر سکتا لیکن عفیرہ۔۔۔۔ اسکی بڑھتی ہوئی مشکلات میں ایک اور آزمائش ثابت ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ مائرہ نے گہری سانس لی اور۔ بچیوں کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ عفیرہ کمرے میں جاتے ہی سونے کے لئے لیٹ گئ ۔۔۔ پتہ تھا کہ نوفل آتے ہی اس پر برس پڑے گا ۔۔۔۔ لیکن خلاف توقع وہ چپ تھا ۔۔۔۔ چند دن ہی گزرے تھے ۔۔۔ عفیرہ اب بار بار عائزہ کو گھورنے لگی تھی ۔۔۔ جب کبھی اسے اکیلا پاتی تو ڈانٹ بھی دیتی ۔۔۔۔
” اب یہ بھی اپنے چچا کو بتا کر لڑائی کروا دینا ہماری ۔۔۔۔ فسادی ہو تم ۔۔۔ اتنی سی ہو کر کیسی کیسی چالیں چلنی آتی ہیں تمہیں ۔۔۔۔ ہنہ” اپنے غصے کا اظہار وہ جتنا عائزہ سے کر سکتی تھی کر رہی تھی ۔۔۔۔ عائزہ نے چچا کو بچی سے لڑتے دیکھا تھااس لئے اب اس سے کم ہی کچھ بتاتی تھی ۔۔۔۔ کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ نوفل نے عائزہ کواپنے کمرے سے موبائل لانے کے لئے کہا ۔۔۔ نوفل کا موبائل۔ ڈرسنگ ٹیبل پر رکھا تھا اور ڈرسنگ پر میک اپ اور پرفیومز بھی بہت بے ترتیبی سے رکھے ہوئے تھے ۔۔۔عفیرہ بیڈ پر بیٹھی سے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔ عائزہ اب اس سے گھبرانے لگی تھی ۔۔اس لئے جلدی سے موبائل پکڑ کر کمرے سے نکلنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ لیکن اس جلد بازی میں موبائل کے پکڑتے ہی ایک پرفیوم کی بوتل اس سے نیچے گر کر ٹوٹ گئ ۔۔۔ عفیرہ کو تو موقع مل گیا
” یہ کیا کیا تم نے ۔۔۔ اندھی ہو کیا ۔۔۔ ” عفیرہ چنگھارتے ہوئے بولی اور ایک تھپڑ کس سے عائزہ کے منہ پر مار دیا ۔۔۔۔ وہ تڑپ کر رہ گئ تھی ۔۔۔ نازک سے گال پر انگلیاں چھپ کر رہ گئیں تھیں ۔۔۔
وہ چلا ہی اٹھی تھی ۔۔۔ آج تک کبھی سخت ہاتھ اسے کسی نے نہیں لگایا تھا ۔۔۔۔ تھپڑ کاتو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ زریاب کی موجودگی میں مائرہ کبھی عائزہ کو غصے سے آنکھیں بھی دیکھاتی تو وہ فورا سے ٹوک دیتا تھا
” مائرہ ۔۔۔۔ میری شہزادی بیٹیوں کو گھورا مت کرو ۔۔۔۔ میری جان بستی ہے ان میں ۔۔۔ پتہ ہے بیٹیاں دنیا میں صرف پیار ہی لینے آتی ہیں ۔۔۔ صرف پیار کی حقدار ہوتی ہیں غصے کی نہیں ۔۔۔۔۔ ” عائزہ بھی ماں کے سامنے سے ہٹ کر باپ کی گود میں جا بیٹھتی تھی ۔۔۔۔ زریاب کو یوں انہیں چھوتا تھا جیسے کسی نازک سے گلاب کو چھوتے ہیں ۔۔۔ کہ کہیں زور سے پکڑنے پر پھول ٹوٹ کر بکھر نا جائے ۔۔۔۔
یہی حال نوفل کا تھا۔۔۔۔۔ زریاب کے بعد سے تو اسکی محبت دونوں بچیوں کے لئے مزید بڑھ چکی تھی ۔۔۔۔ اپنے سینے سے لگائے رکھتا تھا انہیں ۔۔۔۔
گھر ۔میں جتناوقت وہ ہوتا۔ عائزہ منزہ اسکے ساتھ چپکی رہتی تھیں ۔۔۔۔۔ دن بھر ساری باتیں جب تک نوفل سے کر نا لیتی چین نہیں آتا تھا انہیں ۔۔۔ اور نا نوفل کو اس کی باتیں سنے بغیر نیند آتی تھی ۔۔۔۔ کچھ عفیرہ کا مزاج ایسا تھا کہ وہ عفیرہ کے پاس بیٹھنے کے بجائے وہ بچوں میں وقت گزارنے کو ترجعی دیتا تھا ۔۔۔۔
عائزہ کے چلا کر رونے کی آواز سن کر نوفل اور مائرہ دونوں کی لاونج میں بیٹھے چونک گئے تھے ۔۔۔ بے ساختہ ہی دونوں کمرے میں داخل ہوئے تھے
” اتنا مہنگا پرفیوم توڑ کے رکھ دیا تم نے ۔۔۔ جانتی ہو پانچ ہزار کا میں نے مری سے خریدا تھا ۔۔۔۔ اب کیا پیسے کیا تمہارا باپ بھرے گا ۔۔۔۔ ” عفیرہ اسکا بازو دبوچے غصے سے غرائی تھی ۔۔۔ نوفل کو تو جو آگ لگی سو لگی مائرہ بھی دھک سے رہ گئ تھی ۔۔۔۔۔ کیا زبان تھی اس لڑکی کی ۔۔۔ اس کا باپ ہوتا تو کیا یوں ہاتھ اٹھانے ہمت بھی کر۔ سکتی تھی وہ ؟…. مائرہ کا دل کسی نے مٹھی میں لیکر مسلا تھا نوفل تو گویاغصے سے ہوش ہی کھو بیٹھا تھا ۔۔۔۔ عائزہ تو رہی تھی ۔۔۔ ہچکیاں سی بندھ گئیں تھیں۔ نوفل نے اس کے پاس پہنچ کر عفیرہ کا بازو پکڑ کر دبوچ کر بری طرح جھنجھوڑ کتنے رکھ دیا تھا ۔۔۔ عائزہ بھاگ کر مائرہ کے ساتھ جا لگی تھی۔۔۔ عائزہ کے گال پر چھپی انگلیاں وہ دیکھ کر پاگل سا ہو گیا تھا
” ۔۔۔ ہاتھ کیسے اٹھایا تم نے ۔۔۔۔ تمہارے باپ کے پیسوں سے آئیں ہیں یہ چیزیں ۔۔۔۔ کس بات کا گھمنڈ ہے تمہیں ۔۔۔ ” یہ کہہ کر نوفل نے ڈرسنگ سے ایک پرفیوم کی بوتل پکڑی اور کھنچ کر زمین پر مار کر توڑ دی ۔۔۔ عفیرہ کے حلق سے چیخ برآمد ہوئی تھی ۔۔۔۔
” ہاتھ کیسے اٹھایا تم نے ۔۔۔۔ میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے والی تم ہوتی کون ہو” چلا کر وہ بولا تھا پھر ایک اور پرفیوم کی بوتل پکڑی اور وہ بھی کھنچ کر زمین پر پٹخی تھی ۔۔۔ عفیرہ اسقدر ڈر گئ تھی کہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔ سرخ آنکھیں لئے وہ اسے دیکھ رہا تھا آج اسے بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا
” ن۔۔نو۔۔ فل” بوکھلاہٹ کے مارے عفیرہ کی آواز نہیں نکل رہی تھی ۔۔ مائرہ اسکے پاس آنے لگی تو جا بجا جانچ بکھیرے پڑے تھے ۔۔۔
” نوفل کیا کر رہے ہو تم ۔۔۔ چھوڑو اسے ” مائرہ تو یہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ نوفل کے اندھے دھن غصےکو روکے کیسے ۔۔۔ غصے سے بھپرے ہوئے وہ مائرہ پر بھی چلایا تھا
” چپ ہو جائیں آپ ۔۔۔ ہر بار آپ مجھے روک دیتیں ہیں ۔۔۔۔ لیکن آج نہیں آج تو میں اسے ویسے ہی نہیں چھوڑو گا جان سے ہی مار ڈالو گا ۔۔۔۔۔اس کی ہمت کیسے ہوئی عائزہ پر ہاتھ اٹھانے کی ” یہ سن کر عفیرہ کی جان لبوں پر آئی تھی۔۔۔۔
” بھابھی آپ باہر جائیں اور کمرے کا دروازہ بند کر دیں ۔۔۔۔ یا آج یہ نہیں یا میں نہیں” نوفل نے غصے سے بھبک کر کہا تھا ۔۔۔ عفیرہ کو پل بھر کے لئے لگا کہ ۔۔۔۔ آج وہ نہیں بچے گی
